Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 19

M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 19

–**–**–

#تیرھویں_چوٹی_سکینڈلاسٹ
#قسط19
ہفتہ آٹھ اکتوبر 2005
سفید دودھ سے ی برف پر دراڑیں پڑ رہی تھی دراڑ کے نیچے برف سلیب ہو کر بشیب میں گرنے لگی۔ہر سو برفیلی سفید دھول میں افق کئ گم تھا وہ چلا کر افق کو پکار رہی تھی
وہ کئ نہیں تھا اردگرد کے پہاڑوں سے قہقہے تھے
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی
اس کا جسم پسینے سے شرابور تھا ۔اس نے بے یقینی کے عالم میں چہرے کو چھوا۔وہ بستر پر تھی راگاپوشی میں نہیں تھی اپنی آرام گاہ میں تھی
256
اس نے چہرے کو دوپٹے سے صاف کیا چند منٹ لگے خود کو نارمل کرنے میں وہ خوف زدہ کرنے والے خواب اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے ۔
اس نے گھڑی پر نگاہ دوڑائی پونے نو ہونے والے تھے
او خدا مجھے تو آٹھ بجے تک ہسپتال پہنچنا تھا وہ تیزی سے واش روم کی طرف بھاگی منہ پر پانی کے چھینٹے مارے بالوں میں کیچر لگائے الٹے سیدھے جوتے پہنے پانچ منٹ میں باہر آ گئی ممانی اور نشاء سامنے نظر آ رہی تھی ماموں شاید آفس جا چکے تھے
اس نے دیکھا ٹیبل پر ناشتہ نہیں اس نے جلدی سے فریج سے دودھ کا ڈبہ نکال کر منہ سے لگایا ہی تھا کہ اسے یاد آیا آج تو روزہ ہے
اسے خود پر ہنسی بھی آئی اور شرمندگی بھی اس نے واپس فریج رکھ ہی رہی تھی زمین زور سے ہلی۔
اس کے ہاتھ سے جوس دودھ کا ڈبہ گر گیا اس نے لڑکھڑاتے ہوئے قریبی میز کو مضبوطی سے تھام لیا زمین نے زور دار جھٹکے دیے اور سکونت چھا گئی
مجھے خواب اور چکر بہت آنے لگے ہیں خود کو کوسنے لگی پیکٹ اٹھا کر فریج میں رکھا۔پرس اٹھا کر نکل گئی ۔
اس کا جواب دیر سے آنے پر ڈاکٹر واسطی کے سوال کے جواب سوچ رہا تھا ۔
ہسپتال میں معمول معمول کا تھا وہ تیزی سے سامنے آنے والے ڈاکٹر واسطی کی طرف بڑھی
وہ سر میں آنے ہی والی تھی کہ میری کار۔۔۔۔
ٹھیک ہے آپ جلدی سے ایمرجنسی میں جائیں وہ جلدی میں بول کر اگے بڑھ گئے وہ حیران سر نے ڈانٹا نہیں
وہ مٹری تو سامنے ٹی وی سکرین پر نظر پڑی
257
کی نیوز فلیش تھی جس سے اسے علم ہوا کہ چند منٹ قبل اس کا سر نہی چکرایا تھا-
*……….*……….*
ایک حشر برپا تھا-اسے نہی معلوم تھا کہ وہ کتنے گھنٹوں سے مریضوں میں گھری تھی-ایک ٹانگ ایمرجنسی میں تھی تو دوسری جنرل وارﮈ میں-زخمیوں کو لانے کاسلسلہ کئی گھنٹوں تک تھا بلکہ اب توکشمیر سے بھی زخمی لاۓ جا رہے تھے-راولپنﮈی,اسلام آباد کے تمام ہسپتال بھرے ہوۓ تھے-ہر چند منٹ بعد سٹریچر پر زخمی لاۓ جا رہے تھے-کوئی خون میں لت پت,کوئی جسمانی اعضاء سے مہروم تو کسی کا چہرہ مسنح ہو کر سیاہ ہو چکا تھا,عجب منظر تھا-
یہ صرف مارگلہ ٹاورز تک محدود نہی رہا تھا ,بلکہ کشمیر کے چناروں تک یہ قیامت خیز حلاکت ہو گئی تھی-مانسہرہ,ایپٹ آباد,باغ,وادی نیلم,وادی جہلم,گڑھی ﮈوپٹہ,گڑھی ہدیکل,بانا,کا ﮈھاکا,اور ایسے نام والے بہت سے شہر اور گاؤں جو آدھے پاکستان نے زندگی بھر تھے-سیاستدان اور وزیر تو مارگلہ ٹاورز کے ملبے پر کھڑے ہو کر تقریر کر کے اور فوٹو بنوا رہے تھے-مگر ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافز تھی-جانے کتنی دیر بعد وہ زرا جو ک.ر سیدھی کرنے کو کمرے میں ایک طرف رکھے صوفے پر جا کر بیٹھی تو قریب بیٹھے کسی ﮈاکٹر کا فقرہ کانوں میں ٹکراۓ-
یہ سب ہمارے گناہوں کی سزا ہے-
اس کا یکدم پارہ ہائی ہو گیا-گناہوں کی سزا ہے تو اللہ سے معافی مانگیں-اور اپنی اصلاح بجاۓ ادھر بیٹھ کر دوسروں کو نصیحت کر نے کے -تبدیلی ہمیشہ میں سے شروع ہوتی ہے,تم سے نہیں-غصے سے کہہ کر وہ اٹھی اور تیز تیز قدموں سے چلتی راہداری کا موڑ مڑتے ہوۓ کسی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی-
سوری میں…………اسی بگڑے موﮈ میں سوری کرتے کرتے وہ رک کر اس نو عمر لڑکے کو دیکھنے لگی جس سے وہ ٹکرانے والی تھی-بہت جانی پہچانی شکل تھی-
ﮈاکٹر پریشے,کیسی ہیں آپ?اس نے آستینیں کہنی تک چڑھا رہی تھیں اور غالبا مریض کو مارگلہ ٹاورز سے لانے میں رضا کا رانہ طور پر مدد کر رہا تھا-
ٹھیک ہوں تم وہی ہو نہ جس کے ابا
258
جی جس کے ابا کے بارے میں آپ نے پیش گوئی کی تھی کہ انہیں ترقی ملے گی,جب کہ وہ پچھلے ہفتے ریٹائر ہو گۓ ہیں-وہ مسکرا کر بولا-
تو مجھے تو حسیب نے کہا تھا-وہی بڑا امپریس تھا جنرل صاحب سے,میں تو نہی تھی-ظاہر ہے,ان جیسا ہینﮈسم کو کمانﮈر پنﮈی کو کبھی نہی ملا-
اچھا ہٹو راستے سے -وہ رکھائی سے کہ کر اس کے ایک طرف سے نکل کر آگے بڑھ گئی-وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگا,اس وقت تک جب تک وہ راہداری کے اخری سرے سے آگے غائب نہ ہو گئی اور پھر سر جھٹک کر خود بھی مخالف سمت کو ہولیا-
*……….*……….*
بدھ,12اکتوبر2005ء
کچھ پتا چلا تمہارے کزن کا,فرح?ہسپتال جانے کے لیے تیار ہوتے ہوۓ اس نے فون کان سے لگاۓ پوچھا-فرح اس کی کولیگ ﮈاکڑر تھی اور 18 اکتوبر کے زلزلے کے بعد اکٹھے کام کرنے کے باعث دونوں میں اچھی خاصی دوستی بھی ہو گئی تھی-
نہیں یار,ان کا اپارٹمنٹ دوسرے فلور پر تھا اور مارگلہ ٹاورز کے دوسرے فلور پر تو آٹھ فلور ز گر پڑے ہیں-اچھا,میں نے تمہیں فون اس لیے کیا تھا کہ مظفرآباد میں پیرا میﮈیکل اسٹاف کی ضرورت ہے-میں نے دو لینٹیر کر دیا ہے-تم چلو گی?
نہیں میں ادھر ھی ٹھیک ہوں-ویسے تم جاؤ گی کیسے?
آرمی ہیلیکاپڑر پر اور کیسے?روﮈز تو ابھی تک بلاک ہیں-لینﮈ سلائﮈنگ بھی خاصی ہوئی ہے-چلو پھر بات ہوگی-
پریشے نے الودائی کلمات کہہ کر فون رکھ دیا اور جلدی جلدی تیار ہو کر باہر نکل گئی-رات تین بجے وہ آکر سوئی تھی,سو آج دیر سے آنکھ کھلی تھی-
اسلام علیکم پھپھو!ماموں!آپ ابھی تک آفس نہی گئے?پھپھو بھی ماموں کے ہمراہ لاونچ میں ہی بیٹھی تھیں-وہ بہ یک وقت دونوں کو مخاطب کر کے بولی-
بس نکلنے لگا ہوں-تم نے سحری نہی کی?
بس اٹھ نہی سکی مگر نیت کر لی تھی-وہ اپنی ازلی لاپرواہی سے بولی-ماموں واقعی جانے ہی والے تھے سو اٹھ کر چلے گئے-وہ مروتا کچھ دیر کے لیے پھپھو کے پاس جا کہ بیٹھ گئی-
259
تو ظاہر ہے اب بھائی کی وجہ سے لیٹ ہی کریں گے مگر تیاری تو بہرحال کرنی ہے۔
“میں پٹیالہ والوں سے دونوں سیٹ اٹھانے جا رہی ہوں’ تم بھی ساتھ چلو۔ پھر آگے مہندی کا پسند کرنا ہے ‘ وہ تم خود ہی پسند کرنا ۔اب مجھے کیا پتا آج کل کی لڑکیوں کی پسند کا۔” وہ حیرت سے منہ کھولے انھیں دیکھنے لگی۔
“میں تمھیں لینے ہی آئی تھی۔” انھونے وضاحت کی۔
“کس کے لیے پھپھو! ملک پر آفت ٹوٹی ہوئی ہے لوگ مر رہے ہیں اور آپ لوگوں کو مہندی کے جوڑے کی پڑی ہوئی ہے۔؟” اسے سخت صدمہ پہنچا تھا۔
“وہ تو ٹھیک ہے مگر زلزلہ ہم تو نہیں لائے۔ یہ دکھ سکھ رو چکتے ہی رہتے ہیں۔ اب ان کے لیے اپنی خوشیاں بھی حرام کرلیں۔” پھہھو کو اس کی بات پسند نہیں آئی تھی۔
“دکھ سکھ چلتے نہیں رہتے دکھ تو آتے ہیں اور ٹہرجاتے ہیں۔ جانے کتنے بوڑھ اور بچے اس زلزلے میں جان ہار گئے۔ فرض کریں ‘ ہم تب بھی خوشیاں مناتے اگر ان مرنے والوں میں ‘ میں یا سیف ہوتے؟”
“خدا نہ کرے سیف کیوں ہوتا؟” وہ دہل کر بولیں۔
پریشے انھیں دیکھ کر رہ گئی۔ انھوں نے صرف سیف کا نام لیا تھا۔ انھیں صرف سیف پیارا تھا۔یہ نہیں “خدا نہ کرے تم اور سیف کیون ہوتے؟” وہ کسی گنتی میں بھی نہ تھی۔
“کم از کم پاپا کا کفن تو میلا ہونے دیا ہوتا پھپھو!” وہ پیزی سے کہہ کر باہر۔ نکل آئی اور پھر کتنی دیر کمرے کے دروازے کے ساتھ کھڑی خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
وہ شاید اس دنیا میں کسی کے لئے اہم نہیں تھی’ سوائے اس شخص کے جو اسے قراقرم کی پریکہتا تھا جس نے محبت بھی کی تھی اور اظہار بھی کیا تھا۔
ہسپتال کے سارے راستے وہ روتی آئی تھی اور پھر ہسپتال پہنچ کر اس نے فورا ڈاکٹر فرح کو ڑھونڈا۔
“تم مظفرآباد جا رہی ہو ناں؟ تو پھر مجھے بھی ساتھ لے چلو۔” اس نے فرح کو ملتے ہی اس کے ساتھ جانے کا فیصلہ سنا دیا۔ جو وہ سارے راستے کرتی آئی تھی۔
“ٹھیک ہے پھر ابھی چلو” فرح نے مصروف سے انداز میں کہا اور آگے کو بڑھ گئی۔
وہ۔۔۔ وی آج پھر ۔۔۔ ایک دفعہ ان پہاڑوں میں واپس جارہی تھی جن کی شکل نہ۔۔۔
260
دیکھنے کی قسم اس نے کھائی تھی ۔تین ماہ قبل بھی وہ پھپھو اور ندا آپا کے لگائے زخموں سے نجات کے لئے پہاڑ آ گئی تھی ۔
آج پھر اس نے فرار حاصل کرنے کا وہی طریقہ سوچا تھا ۔
______________________
جمعہ 14اکتوبر 2005مظفر آباد
وہی بارشوں کا موسم
وہی سردیوں کی شامیں
وہ دلربا گھاٹیں
وہ سانس لیتی خوشبو
وہی موڑ مڑاتی سڑکیں
وہی پر سکون جگہ ہے
ہے فرق بس زرا سا
وہ گزشتہ موسم میں میر ہمنوا تھا
جانے وہ اب کہاں ہے ۔
جانے وہ کہاں ہے
(پیار مرتا نہیں خاموش ہوجاتا ہے پیج سے مکمل ناول حاصل کریں)
وہ ایک سکول کی عمارت کے نیچے کھڑی تھی ۔اس کے پشت پر سبزہ زار جس کے آخری کنارے پر کھڑے ہیلی کاپٹر
کے پروں کی گڑگڑاہٹ اس حاطے میں موجود بیسویں لوگوں کو کان پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کر رہی تھی
چھت کے ٹوٹے ٹکروں کے نیچے جانے کتنے بچے زندہ تھے ۔ریسکیو رضا کار اور فوجی مسلسل سکول کا ملبہ ہٹا کر بچے نکال رہے تھے
وہ دور کھڑی خوموشی سے دیکھ رہی تھی کیچر میں لگے بال ہوا میں اڑ رہے تھے ۔کسی ب
بچے کو سٹریچر پر ڈال کر دو فوجی جوان کیمپ لے جا رہے تھے ۔
261
موڑ کر اسٹریچر پر موجود معصوم بچے کو دیکھتی رہی۔
ہلی کاپٹر کی جانب سے کیموفلاج یونیفارم میں ملبوس ایک آرمی آفیسر تیزی سے دو جوانوں کو آواز دے رہا تھا۔
میں نے کہا تھا کہ دس سے بیس کلو والے پیکٹ بنانے ہیں’ ایزی ڈراپ کے لیے مگر انھوں نے۔۔ بولتے بولتے وی یک لخت رک کر پریشے کو دیکھنے لگا۔ پریشے نے ایک سرسری نگاہ اس پر ڈالی اور واپس منہ عمارت کی جانب موڑ لیا۔ اسے کیپٹن کا انتظار تھا جس کے ساتھ اس کو میڈیکل کیمپ جانا تھا۔
تھوڑی دیر بعد اسے احساس ہوا کہ وہ سمارٹ سا آفیسر ابھی بھی اسے ہی ریکھ رہا ہے۔اس نے مڑ کر دیکھا۔وہ اب پری کی جانب اشارہ کر کے کیپٹن سے کچھ پوچھ رہا تھا۔ کیپٹن چند لمحوں بعد وہ وہاں سے چلاگیا۔ وہ آفیسر پھر سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ پریشے کے لیے قطعا” انجان تھا۔ وہ اگر کسی آرمی والے کو جانتی بھی تھی تو وہ وہی تھے’ جنھوں نے اسے راکاپوشی سے ریسکیو کیا تھا۔ وہ ان آفیسران میں سے نہیں تھا۔
جب کیپٹن بشیر آیا تو وی اس کے ہمراہ وہاں سے جانے لگی۔
کیپٹن بشیر سے اس کا تعارف وہیں مظفرآباد میں ہوا تھا۔ وہ بہت سادہ’ موودب اور انچا لمبا تھا۔ اس کا باپ فوج میں صوبےدار رہا تھا۔ وہ اپنے گاوں کا تیسرا لڑکا تھا جو فوج میں گیا تھا اور اس بات پر بے حد فخر تھا۔
پریشے وہاں آرمی کے فیلڈ ہسپتال میں ہی رہ رہی تھی۔ بشیر اس دوران اس کی پر ممکن مدد کرتا تھا۔ اتفاق سے اسے ایک دن پریشے نے اپنا “لیزان آفیسر” کہا تو ڈاکٹر فرح نہت حیرت سے بولی۔
“کیا مطلب؟”
“کچھ نہیں’ یہ ماونٹین کلائیمبرز اور پاکستان آرمی کا آپس کا مزاق ہے۔” وپ ہنس کر بوکی تھی اور پھر کام میں مگن ہوگئی۔ اس سے زیادہ وہ کسی سے فری نہیں ہوتی تھی۔
“سنو کیپٹن بشیر! یہ آدمی میرے بارے میں کیا کہہ رہا تھا؟” اس کے ہمراہ چلتے ہوئے پریشے نے پوچھا ۔
“آپ کا نام وغیرہ پوچھ رہے تھے۔ میں نے بتا دیا۔”
“اچھا۔”( جانے کون تھا) اس نے لاپرواہی سے شانے اچکائے۔
262
“ویسے میڈم میں نہیں جانتایہ کون تھے ۔ایوی ایشن کے تھے شاید اور۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے۔اٹس اوکے۔”لمبی وضاحت سے بچنے کےلئے وہ بولی تو کیپٹن بشیرفورا”خاموش ہوگیا۔
یہ سویلین ڈاکڑر بہت موڈی تھی،وہ اندازہ کرچکاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمعہ،21اکتوبر،2005
“کتنا خراب ہو رہاہےزخم، او گاڈ!”وہ بڑبڑاتے ہوئے بچی کی پٹی کھولنے لگی۔اس کا گھر مسمار ہوگیا تھا-وہ 8اکتوبر کو ہی نکالی گئ تھی،مگر ابتادئی طبی امداد کے طور پر اس کا زخم چائے کی پتی سے بند کیا گیا،جو اب اسے خراب کر رہی تھی۔
ادھر باغ میں بھی سب کوگوں کے زخم اسی طرح بند کیے گئے تھے۔جو بےحد نقصان دے تھے،خیر اور کرتےبھی کیا۔وہ اب زخم صاف کرتے ہوئے افسوس کررہی تھی۔
وہ کل ہی باغ سے واپس آئی تھی۔وہاں روز تقریبا”ڈیڑھ سو مریض دیکھتی تھی،جو چھے چھے کلومیٹرسفر کرکے کیمپ تک پہنچتے تھے۔جانے کتنے دنوں سےاسکی نیند پوری نہیں ہوئی تھی۔
وہ اس وقت مظفرآباد کے نیلم سٹیڈیم میں نصب فیلڈ ہسپتال کے ایک خیمے میں تھی۔اس کے سامنے اور اس کےدائیں طرف چند اور مریض بھی بیٹھے تھے
دفعتا”کیپٹن بشیرخیمے کا کپڑاہٹاکر اندر آیا۔
“میڈم! ویکسین آگئی ہے۔”اسنے پیکٹ اس کی میز پر رکھا-پریشے نے سر اٹھا کر اس کی طرف حیرت سے دیکھا۔
“اتنی جلدی؟ابھی تو کہا تھا-“
“یہ دراصل یونسف کے جو ڈاکٹرزتھے،وہ لائے ہیں-ساتھ میں ہائی انرجی بسکٹ بھی ہیں۔”
“اچھااوراس اسکول کا پورا ملبہ ہٹا-“
“تقریبا”برٹش ٹیم آئی ہوئی ہے-“
“ہوں-“وہ سر جھٹک کر کام میں مصروف ہوگئی-برٹشر،یونیسف،جانے کتنے غیر ملکی آئے ہوئے تھے-
ایک دم اس نے چونک کر سر اٹھایا-“کیپٹن بشیر!”وہ جانے لگا تھا اسکی آواز پر جاتے جاتے پلٹا-
263
“یس میڈم؟”
آپ نے کہہ بہت سے غیر ملکی آئے ہوئے ہیں-ترکی سےکوئی نہیں آیا؟”اس کے بظاہر سرسری سا پوچھا –
“جی آیا تھا – “
وہ حیرت سے ایک پل کو ساکن ہوگئی –
“کون؟”وہ سانس روکے اس کے جواب کی منتظر تھی –
“میڈم طیب اردگان آیا تھا،شوکت عزیز کے ساتھ کل پورے علاقے کا دورہ کیا-“
اس کے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے – “اچھا -“وہ پھر سے بچی کے زخم پر جھک گئی-
کیپٹن بشیر نے باہر جانےکے لیے خیمے کا پردہ اٹھایا – تب پریشے نے پھر اسے پکارا،”سنو کیپٹن”
وہ خیمے کا کپڑا ہاتھ میں لیے،رک کراس کی بات سننے لگا –
“اگر ترکی سے کوئی آئےتو مجھے بتانا – “جانے کس امید پر اس نے کہہ ڈالا-
“کسی نے آناہے کیا؟”
“نہیں، آنا تو نہیں ہے-آنا تو کسی نے نہیں ہے-“وہ اداسی سے سر جھٹک کر بچی کی پٹی کرنے لگی-
کیپٹن بشیر کچھ نہ سمجھتے ہوئے باہر نکل گیا-خیمے کا کپڑا اس کے پیچھے ہلتا رہ گیا”
……………
پیر 22اکتوبر 2005ء
فیلڈ ہسپتال سے کچھ دور وہ ایک پتھر پر خاموشی سے بیٹھی خنک ہوا کی سرسراہٹ سن رہی تھی –
اس نے سفید اوور آل پہن رکھا تھا، بال کیچر میں مقید تھے، پاوں میں سفیداور ہلکے گلابی جوگرز تھے –
جن کے رنگ اب پھیکے پڑگئے تھے – اس کی زندگی کی طرح –
آج بارش سے کچھ دیر پہلے کا موسم تھا اور وہ ہمیشہ کی طرح اداس ہوگئی تھی – آج
سارا دن وقفے وقفے سےآفٹرشاکس(درمیانے درجے کے زلزلے ) آتے رہے تھے – سامنے
کھڑا پہاڑتو ایک جھٹکے کے دوران حقیقتا”دو ٹکڑوں میں ٹوٹنے کو تھا -آج اس کی چوٹی برف بھی پڑی تھی – وہ اس ڈھلتی شام میں وہاں تنہا بیٹھی گنگنارہی تھی –
264
” ہم لیلی ہیں ہم مجنوں ہیں۔ “
یہ گیت افق بیس کیمپ میں ہنزوکثرپورٹرز کو سناتا تھا۔ اور اوپرجب وہ برفانی غار میں تھا تب بھی وہ تھک کر یہی گنگناتا تھا۔
وہ اسے بھولا ہی کب تھا۔ وہ تو ہر پل’ ہر لمحہ اس کے ساتھ ہوتا تھا۔ وہ کہیں برف دیکھتی تو برفانی غار میں چت لیٹا افق اسے یاد آجاتا۔ وہ بارش دیکھتی تو وائٹ پیلس کی سیڑھیوں پر بیٹھا موروں کو یہی لیلی مجنوں والا ترک گیت سناتا افق یاد آجاتا۔ وہ خواب میں آکر ازے کہتا۔
“پری کیوں پریشان ہو؟ مجھے درد نہیں ہورہا۔” اور وہ جانتی تھی اسے درد ہورہا ہے۔ کبھی وہ کہتا۔” میرے ساتھ چلو میں تمہیں ترکی لے جاوں گا۔” اور وہ نیند میں رونے لگتی۔
اس نے اپنے ہاتھ پر اس جگہ دیکھا’ جہاں تین ماہ قبل ماہوڈھنڈ کے کنارے افق نے سانتیا بانت لگایا تھا۔ اب وہ معمولی خراش وہاں نہیں تھی۔ مگر درد اندر ہی اندر” درد” بہت ہوتا تھا۔ ج یہ درد شدت اختیار کر لیتا تو وہ رو دیا کرتی تھی۔ ” افق۔۔۔ واپس لوٹ آو۔۔۔ میرا زخم۔۔۔ مجھے سانیتابانت لگادو۔۔۔ اسی بہانے ہی لوٹ آو۔
وہ اب بھیاس کے ساتھ تھا’ اس کے بہت اندر کہیں موجود تھا۔ اس کے ساتھ سانس لیتا تھا۔ اس کے ساتھ ہنستا تھا’ اس کے ساتھ روتا تھا۔
اس کے خیالات میں مخل ہونے والی آواز بھاری بوٹوں کی دھمک تھی۔ جو اسے اپنی پشت پر سنائی دی تھی۔
اس نے پلٹ کر دیکھا۔ یہ وہی اس روز والا آرمی آفیسر تھا جو اسے گھور رہا تھا۔ کھلتی رنگت’ گیرے نقوش’ کافی ہینڈسم سا میجر کے رینک کا آفیسر تھا۔
آ”پ ڈاکٹر پریشے جہاںزیب ہیں ۔؟” وہ آٹھ کھڑی ہوئی۔
“یہ بات آپ اس روز کیپٹن بشیر سے معلوم کر چکے ہیں۔” وہ رکھائی سے بولی۔
“معلوم نہیں’ کنفرم کیا تھا۔ آپ نے مجھے پہنچانا میں میجر عاصم روف ہوں۔ میں نے ہی ارسلان کو راکاپوشی سے ریسکیو کیا تھا۔
“اوہ۔”اس کے ماتھے سے بل غائب ہوگئے۔ “اچھا۔” پھر وہی یادیں۔” خدایا یہ دومانی میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتا۔” اصل میں میجر صاحب ! میں نے آپ کو سرسری سا ایک دو دفعہ ہی ریکھا تھا۔
اسی لیے پہچان نہیں پائی۔”وہ مروتا” کہنے لگی۔
“اٹس اوکے میم۔! مجھے آپ سے ملنا تھا۔ آپ سی ایم ایچ میں بے ہوش تھیں اور جس دن ہوش آیا مجھے اسی صبح سی او نے فاروڈ ایریاز میں بھیچ ریا۔میں ان فیکٹ تین دن وہاں موسم خراب ہونے کی وجہ سے اپنے ہیلی کاپٹر کے ساتھ پہنس کر رہ گیا’ جب واپس آیا تو آپ جا چکی تھیں۔”
“میں چلتی ہوں’ مجھے کچھ مریض دیکھنے ہیں۔ ٹھینکس اینی ویز۔” اسے اس کی تفصیلات سےکوئی دلچسپی نہیں تھی۔ سو رسمی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی پلٹ کر جانے لگی۔
میم میرے پاس آپ کی ایک امانت تھی۔ افق ارسلان نے یہ آپ کے لیے دیا تھا کہ آپ کو ہوش آئے تو دے دوں۔”
وہ بے حد تیزی سے میجر عاصم کی جانب گھومی تھی۔
“کیا۔۔۔ کیا دیا تھا افق نے؟”اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی۔
“اس روز آپ کو دیکھا تو یہ میرے پاس نہیں تھا’ ورنہ دی دیتا۔ کل اسلام آباد گیا تھا تو لے آیا ۔” اس نے والٹ سے ایک چہوٹا سا خط کا لفافہ نکال کر پریشے کی جانب بڑھایا جسے اس نے تیزی سے پکڑا۔
لفافے کے کونے میں سبز رنگ کا آرمی کا کوئی نشان بنا تھا اور اوپر گلگت کنٹونمنٹ کا ایڈریس لکھا تھا جسے وہ جی ایچ کیو سے آیا ہو۔
“یہ لفافہ اس نے مجھ سے لیا تھا۔” اس کے لفافہ الٹ پلٹکر دیکھنے پر میجر عاصم نے وضاحت کی۔
پریشے نے کپکپاتے ہاتھوں سے وہ چھوٹی سی وہ ٹیپ اتاری۔میجر عاعم اتنا مہزب تھا کہ پریشے کو یقین تھا ‘ افق کے ٹیپ لگانے کے بعد وہی پہلی دفعہ اسے کھول رہی ہے۔
لفافے کے اندر ٹشو میں لپٹی تصویر تھی۔
دور تک پھیلا سبزہ’ دائیں طرف جھیل’ بائیں طرف گھوڑا’ گھوڑے کے ساتھ پریشے اور پریشے کے اس طرف افق ۔ وہ ہنستے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔سیاہ گھڑی کے ڈائل کا اہرام چمک رہا تھا۔تصویر کے نیچے لکھا تھا۔” گھوڑا’ پریشے کے دائیں طرف ہے۔”
اس نے تصویر کو پلٹا پیچھے سفید کاغز چپکا کر ہاتھ سے دبز روشنائی سے انگریزی میں لکھا تھا’ زندگی کے سفر میں بچھڑنے سے پہلے۔۔۔
266
ملن کے آخری شام کے ڈھلنے سے پہلے
اور ایک دوسرے کی سانسوں اور
دھڑکنوں کی آخری آواز سے پہلے
جس کے بعد تم میری دنیا سے دور چلے جاؤ گے
تمہیں مجھ سے وعدہ کرنا ہو گا
کہ اس رات کے انے والی ہر صبع
ٹھنڈی ہوا اور بارش کے بعد گلی مٹی
پہاڑوں پر دودھ سی برف دیکھ کر
تم مجھے یاد کرنا
کہ میرا تم پر تمارا مجھ پر قرض ہے
اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے
اسے یاد تھا برف کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے افق بیٹھا تھا ۔
تمہیں بھی مجھ سے وعدہ کرنا ہے پھر اس نے گہرے کرب سے آنکھیں موند لی کچھ نے بولا بھی تھا اس میں بولنے کی وعدہ لینے کی سکت بھی نہیں ہے
آر یو اوکے ڈاکٹر پریشے؟؟
اس کی پروایس دینے ڈاکٹر عاصم انر آیا اس نے روتے دیکھ کر تشویش سے پوچھا
267
کب دی یہ اس نے آپ کو.؟ ہتھیلی کی پشت سے آنسو صاف کر کے وہ زبردستی مسکرائی ۔
جب آپ سے ملنے ہسپتال آیا تھا ۔آپ بے ہوش تھیں وہ کمرے سے باہر آیا مجھ سے لفافہ پن پنسل اور کاغذ مانگا
پھر اس نے پاکٹ سے تصویر نکالی اس کی پشت پر کچھ لکھا ٹیشو میں لپیٹا لفافے میں ڈال کر مجھے دیا اور آپ کو خود دینے کی تاکید کی تھی ورنہ میں کام سے اسکردو گیا ڈاکٹر خالد یا کسی کو دے کر آپ تک پہنچا سکتا تھا میں نے پارسل بھی نہیں کیا حالانکہ میرے پاس آپ کا اڑریس موجود تھا آپ کو کال بھی کی میسج بھی کیا مگر کسی غلطی فہمی کی بنا پر آپ نے بات نہیں سنی پھر پنڈی سے انا ہی نہیں ہوا اور ملاقات نہیں ہوئی آج اتفاق س آپ مل گئی بہت معزرت دیر لگ گئی ۔
مجھے آپ کی کال کا بالکل یاد نہیں تھینک یو سو میچ ڈاکٹر عاصم
وہ خوش دلی سے مسکرایا مائی پلیزر میم
اس نے دوبارہ ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ کیوں رو رہی تھی وہی ڈیسنٹ آرمی مین
آپ کی وائف بچے ٹھیک ہیں پریشے نے اخلاقاً پوچھا
جی مہوش بالکل ٹھیک ہے بچے بھی پنڈی ہوتے ہیں وہ پھر مسکرا کر چلا گیا ۔
وہ وہی کھڑی سوچنے لگی کیا افق کو وعدیاد کرنے کی ضرورت تھی کیا وہ اسے بھول سکتی تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: