Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 2

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 2

–**–**–

#دوسری_چوٹی_قسط2
ہفتہ 23 جولائی 2005ء
چودہ ہزار فی کس کا پیکج ہے ۔ آٹھ دن کا ٹور ،تمام انتظامات کمیٹی کے زمے ۔۔۔۔ واو یار زبردست ” زوار بھائی کے آفس سے نکلتے ہوئے نشاء بہت خوش تھی
۔”لگتا ہے بارش ہونے والی ہے ” سڑک کنارے بہت آہستہ چلتے ہوئے پریشے نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا ۔ وہ دن کے تین بجے کا عمل تھا مگر سیاہ بادلوں سے دھکے آسمان نے جولائی کی دوپہر کو ٹھنڈی شام میں تبدیل کردیا تھا ۔وہ ورکنگ ڈے تھا ،شاید اسی لیے سڑک پر رش نا ہونے کے برابر تھا ، ورنہ مری جیسے گنجان آباد علاقے میں سڑک پر ادھر ادھر بس اکا دکا لوگوں کا پھر نا خاصی غیر معمولی بات تھی ۔
پریشے اور نشاء باتیں کرتے ہوئے ۔آہستہ آہستہ بلند ہوتی سڑک پر چل رہی تھییں وہ جس جگہ پر تھیں
صفحہ نمبر 28
وہاں نشیب تھا ،سڑک ان کے سامنے اوپر بلند ہوتی ہوئی اس حد تک چلی جاتی تھی کے دوسری سمت سے انے والی کا پہلے سر اور پھر آہستہ آہستہ دھڑ نمایاں ہوتا تھا ۔ وہ دراصل کسی پہاڑی کی چوٹی تھی جس کو کاٹ کر سڑک بنا دی گئی تھی۔
سڑک کی دائیں جانب کھائی تھی جس سے بچنے کے لیے پتھروں کے چھوٹے چھوٹے تکڑوں کی ایک باڑ سی بنی تھی ، وہ دونوں ان سفید بلاکس کے ساتھ چل رہی تھیں ۔
” تھک گئی ہو ” نشاء نے اسے چونے سے ڈھکے پتھر کے اس سفید بلاک پر کھائی کی جانب پشت کر کے بیٹھتے دیکھا تو پوچھ لیا ۔
“نہیں ••••••بس یونہی “وہ گہٹنوں پر کہنیاں نکاے، ٹھوڑی کے نیچے ہتھیلی جماےء بلند ہوتی سڑک کو گردن اونچی کرکے بہت اداسی سے دیکھنے لگی ۔ بارش سے چند لمہے پہلے کا موسم اسے ہمیشہ افسردہ کردیا کرتا تھا۔
“کہیں اور بیٹھ جاو پری ! یہاں سے زرا پیچہےہوئی تو گر پڑوگی ” نشاء نے بہت فکرمندی سے اسے یوں اتنی خطرناک جگہ پر بیٹھے دیکھ کر کہا تھا ۔ اس کا ہلکا گلابی اور سفید امتزاج والا لان کا سوٹ سفید پتھر کے بلاک کا حصہ لگ رہا تھا۔
“نہیں گرتی” وہ لاپروائی سے گردن موڑ کر پیچہے دکہائی دینے والی سر سبز پہاڑیاں دیکہنے لگی ۔ مارگلہ کی پہاڑیوں پر اس روز بادل اترے ہوے تھے۔ پانی سے لدے بھاری ، سرمئ بادلوں نہ پھر یکا یک انہوں نے اپنا بوجھہ بارش کہ قطروں کی صورت نیچے گرانا شروع
(کردیا ۔پریشے نے بے اختیار اپنی دونوں بانہیں سامنے پہیلادیں ، بارش کے ننھے ننھے قطرے اس کی ہتہلیاں بہگونے لگے تھے ۔ اسی لمہے اس کی سماعتوں میں کسی گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز گونجی ۔
اس نے ہتھلیاں نیچے گرادیں اور کسی خواب کی سی کیفیت میں سر اٹھا کر بلند ہوتی سڑک کو دیکھا ۔ اس بلندی سے پیچھے کا منظر اس کی نگاہوں سے اوجھل تھا ۔ ٹاپوں کی آواز وہیں سے آرہی تھی ۔
وہ یک ٹک بلندی کی جانب جاتی سڑک کو دیکھے گئی ، پہاڑی کی دوسری جانب سے کوئی گھوڑا دوڑاتا ہوا اس طرف آرہا تھا۔ ہر گزرتے لمہے گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز بلند ہوتی جارہی تھی ۔ اسے لگا وہ سڑک کے بلند حصے سے نگہاہیں ہٹا نہیں سکے گی ، وقت جیسے وہیں ٹہر سا گیا تھا۔ لمہے تھم گئے تھے ۔ بارش کے قطرے فضا میں رک گئے تھے ۔ ہر طرف خاموشی تھی ۔
صفحہ نمبر 29
آنے والے کا سر پہلے نمایاں ہوا تھا ،وہ گھوڑے کی باگ تھامے اسے بہت مہارت سے سڑک پر دوراتا نشیب کی سمت آرہا تھا۔ اس کا گھوڑا سفید تھا ، چونے کے پتھر
بلاکس سے بھی زتیادہ سفید اور چمک دار ۔۔۔ وہ اسی طرف آرہا تھا۔ اس کی نظریں اپنے گہوڑے پر تھیں ۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھے گئی۔
اتنی دور سے بھی وہ دیکھ سکتی تھی کہ گھوڑے سوار کی آنکہوں کا رنگ ہلکا تھا، ہلکا اور بہت چمکدار۔ اس کی رنگت سنہری مائل سرخ و سفید تھی ، ناک
کھڑی اور یونانی طرز کی تھی۔ مغرور بحد مغرور ناک۔
اس نے آدھی آستینوں والی نیلی شرٹ کے اوپر بغیر بازوں والی سفید لیدر جیکٹ، جس کی بہت ساری جیبیں تھیں ، پہن رکھی تھی۔ گردن کے گرد خوبصورت سرخ رنگ کا مفلر بندھا تھا ۔ جیکٹ اور مفلر ہلکے میٹریل کے تھے ؛ جن کا مقصد سردی سے بچاو نہیں
بلکے یونہی فیشن اور سٹائل تھا ۔ برستی بارش میں اس کے بھورے بال ماتھے پر چپکے ہوئے تھے مگر وہ جیسے ہر چیز سے بے نیاز اپنے سفید گھوڑے کی جانب متوجہ تھا۔
اس نے اپنا گھوڑا ان دونوں کے قریب سفید بلاکس کے ساتھہ روک دیا اور گردن ترچھی کر کے عقب میں موجود پہاڑیوں کو دیکہنے لگا۔ وہ پیچھے والے منظر سے جیسے غیر مطمئن سا تھا۔ سسے شاید گھوڑا کہڑا کرنے کی کوئی صحیح جگہ نہیں مل رہی تھی ۔
بارش رک چکی تھی ہوا پھر سے چلنے لگی تھی۔ پری کے گیلے بال اس کے چہرے کو چھو رے تھے۔ مگر وہ تو اس شخص سے نگاہیں ہٹا ہی نہیں پا رہی تھی
وہ اب ایک جگہ گھوڑا کھڑا کرکے مطمئن سا ہوگیا تھا۔ تب ہی گردن میں لٹکتے کور سے کیمرہ باہر نکالا اور چہرے کا رخ ان دونوں کی جانب کیا۔
” بات سنو! ” اس نے پریشے کو براہ راست مخاطب کیا تھا ۔ اس پل جیسے کوہی طلسم سا ٹوٹا۔ سہر خواب خیال سب کچھہ ختم ہوگیا تھا۔وہ جیسے اب ہوش میں آئی اور چونک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
“جی” اس نے اپنے ازلی پر اعتماد انداز میں سنجیدگی سے جواب دیا۔ اسے خود پر حیرت ہوئی تھی کہ وہ اتنی بے خود اور مسھور کیوں ہوگئی تھی؟
گھوڑے سوار نے اپنا کیمرہ اس کی جانب بڑھایا۔ ” کیا تم میری ایک تصویر اتار سکتی ہو” وہ شستہ انگریزی میں اس سے مخاطب تھا۔اس کا سر خود بخود اثبات میں ہل گیا۔ اس نے کیمرہ تھام لیا۔
” سنو پکچر یوں کیھنچنا کہ یے گھوڑا اور پیچھے والے پہاڑ اچھی طرح آئیں” وہ جو اتنی دیر سے
صفحہ نمبر 30
غالبا اس تصویر کے لیے ہی گھوڑا مناسب جگہ پر کھڑا کر رہا تھا،اب بہت مہزب انداز میں ہدایت دیتے ہوئے بولا۔
اس نے کیمرے کو دیکہا، بلکل ویسا ہی اولمپکس کا ڈیجیٹل کیمرہ وہ بھی استعمال کرتی تھی اس نے (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) کیمرہ چہرے کے سامنے لا کر اس کی ایل ای ڈی اسکرین کو دیکھا اور پھر ریڈی کہے بغیر تصویر کھینچ لی۔صد
” تمہارا شکریہ۔مگر کیا یہ پہاڑ ائے تھے؟،بغیر ریڈی کہے تصویر کہینچنے پر اس اجنبی گھوڑے سوار کو قدرے بے چینی ہوئی تھی”،اس نے ایک نظر اس کی شہد رنگ آنکہوں میں دیکہا اور پہر سر ہلا دیا ۔ ” ہاں بہت (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں) خوبصورت تصویر آئی ہے “،نشاء نے پریشے کے ہاتھہ میں کیمرے کی اسکرین پر موجود تصویر کو دیکہ کر کہا تو اسے خیال آیا کہ نشاء بھی وہاں موجود تھی۔
“ویسے یے تمہارا گھوڑا ہے”؟ نشاء نے ہی اگلی بات کی۔
“نہیں یے میں نے کرائے پر ایک آدمی سے لیا ہے۔ اصولا۔ اسے گھوڑے کی باگ تھامے میرے ہمراہ چلنا چاہیے تھا، مگر میں اس کو بھگا کر یہاں لے آیا ” وہ شکل سے بہت مغرور لگتا تھا اس وقت بہت بے تکلفی کے ساتھ
انگریزی میں بات کر رہا تھا
انگریزی؟ پری نے غور سے اسے دیکہا۔ وہ انگریزی کیوں بول رہا تھا؟ اسے غورسے دیکہنے پر احساس ہوا کہ گھوڑے پر سوار وہ بھورے بالوں اور گوری رنگت واکا خوبصورت مرد پاکستانی نہیں، کوئی غیر ملکی تھا۔ وہ اس کی شناخت کے متعلق صہیح اندازا نہیں کر سکی تھی۔
“تم دونوں ایک منٹ ٹھرو،میں اس آدمی کو اس کا گھوڑا واپس کر آوں “اس نے پہر مہارت سے گھوڑا موڑا اور اس ے بلند ہوتی سڑک کی طرف بھگا کر کے گیا۔
“کتنا گڈ لکنگ تھا یار” نشاء اس خے جاتے ہی بے حد ستائشی انداز میں بولی۔ “پتا نہیں” وہ سر جھٹک کر دائیں جانب کھڑے اونچے پہاڑوں کو دیکہنے لگی۔ بادل غائب ہورے تھے۔۔
“اوہ نشاء !وہ اپنا کیمرہ مجھے دے گیا ہے” ایک دم اسے ہاتھہ میں پکڑے کیمرے کا خیال آیا ،وہ پریشان سی ہوگئی۔
“واپس آئے تو دے دینا”
حالاں کہ وہ اس کے واپس آنے سے پہلے پہلے نکلنا ) چاہتی تھی، مگر ہاتھ میں پکڑا کیمرہ
صفحہ نمبر 31
اس کا انتظار کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔
چند منٹ بعد ہی وہ انہیں بل کھاتی سڑک پر سے نیچے اترتے ہوئے اپنی جانب آتا دکھائی دیا۔ گھاڑے پر سوار ہونے کی وجہ سے اس کا قد کاٹھہ انہیں ٹھیک سے نظر نہیں آیا تھا مگر جیسے ہی وہ ان کے قریب آیا، اسے احساس ہوا کہ وہ اس سے خاصا لمبا تھا۔
“وہ سمجھہ رہا تھا، میں اس کا گھوڑا لے کر بھاگ لیا ہوں۔
ان کے قریب آکر وہ ہنستے ہوئے بتا رہا تھا۔
ہنستے ہوئے اس کی شہد رنگ آنکہیں چھوٹی ہو جا تی تھیں ۔ وہ اندازا نہ کر سکی کہ وہ ہنستے ہوئے زیادہ پر کشش لگتا ہے یا لب بھنچے۔
“تم اتنے خطرناک طریقے سے رائیڈنگ کیوں کر رہے تھے؟” نشاء کو بزرگی جھاڑنے کا شوق تھا سو اس لاپروائی پر اس کو ڈانٹنا اس نے اپنا فرض سمجھا۔
“میڈم! میں پانچ سال کی عمر سے رائیڈنگ کر رہا ہوں اوت گھوڑوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں”اس نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا۔ وہ اور نشاء سڑک کے کنارے آہستہ آہستہ چہل قدمی کرنے لگے، پریشے وہیں کھڑی رہی۔دفعتہ اسے کیمرے کا خیال آیا۔
“سنو” ان دونوں نے مڑ کر پیچہے دیکہا۔۔
” تمہارا کیمرہ” اس نے قدرے زور سے کیمرہ اس کے ہاتھ میں تھمایا۔وہ مسکرا کر رہ گیا۔
“شکریہ!”
“سنو تمہیں یوں اپنا اتنا قیمتی کیمرہ دے کر نہیں جانا چاہیے تھا۔ میں اگر لے کر بھاگ جاتی تو؟”
وہ پہر مسکرایا ” مجھہ پتا تھا تم ایسا نہ کرتیں” سینے پر ہاتھ باندھے وہ اس کے عین سامنے آکھڑا ہوا۔
“اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو تمہارا کیمرہ لے کر بھاگ چکا ہوتا “
” تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو میں کیمرہ ہرگز نہ دیتا” وہ مسکراہٹ دبائے بہت سنجیدگی سی بولا۔
“ہونہہ” وہ اس کے اس انداز پر سر جھٹک کر سڑک کے دوسری جانب پھیلی دکانوں کی قطار کو دیکہنے لگی۔ وہاں رش اب بڑھتا جا رہا تھا۔
نشاء نے اس “بدتمیزی” پر اسے گھورا بھی ،مگر وہ اسے دیکھہ بھی نہیں رہی تھی۔
صفحہ نمبر 32
گھڑ سوار نے گردن جھکا کر کیمرے کی اسکرین پر نگاہ ڈالی اور زیر لب مسکرایا۔
“اچھی تصویر کھینچنے کا شکریہ” تصویر دیکہ کر اس نے سر اٹھاتے ہوئے کہا اور کیمرہ کو کور میں ڈال دیا۔ وہ پھر مغرور نظر آنے کی اداکاری کرتی جواب دیئے بنا دکانوں کو دیکھتی رہی۔
“تم اس تصویر کا کیا کروگے؟” اس کی بے رخی کے اثر کو کم کرنے کے لیے نشاء نے بہت دوستانہ انداز میں اسے مخاطب کیا۔
“میں بیس برس بعد ایک سفرنامہ لکھوں گا،اس کے فرنٹ پر یہ تصویر لگاوں گا”
“اور اس تصویر کا کیپشن کیا ہوگا؟” نشاء نے دلچسپی سے پوچھا۔
“میں اس کے نیچے لکھوں گا” اس کوہ پیما کی تصویر، جوراکاپوشی سر کرنے جارہا تھس” وہ فخر سے بتا رہا تھا۔
پریشے نے تیزی سے گردن گھما کر اسے دیکھا۔اسے جھٹکا سا لگا تھا۔”تم تم راکاپوشی سیر کرنے جا رہے ہو؟” بے اختیار پوچھ لینے کے بعد اسے یاد آیا کہ۔۔۔۔ اس کو تو خود کو لا تعلق ظاہر کرنا تھا،اسے پچھتاوا سا ہوا۔
“ہاں۔۔!” پریشے کی بے ساختگی پر اس نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی۔
“خیر راکاپوشی سر کرنا کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔ ایورسٹ یا کے ٹو سر کرنا اسل کامیابی ہے” کہہ کر وہ پہر سے دکانوں کو دیکہنے لگی۔
“ویسے کل ہم لوگ ایک ٹور کمپنی کے ساتھہ کالام جارہے ہیں” نشاء کے بتانے پر گھڑسوار نے آنکہیں سکوڑ کر مال روڈ کی طرف دیکھا۔ سن شائن ٹریولز کافی سامنے تھا۔اس نے ایک لمھے کو سوچا پہر بولا۔
“میں بھی کل کالام جا رہا ہوں ،سن شائن ٹریولز کے ساتھ تم کس کے ساتھ جا رہی ہو؟”
“واقعی؟تم تو ہمارے ساتھ جارہے ہو!” نشاء کو اس “اتفاق” سے ازحد خوشی ہوئی تھی۔ اور پریشے کو کچھہ شک سا ہوا تھا۔
“یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ویسے تمہارے دوست بھی جارہے ہے کیا؟” مسکراہٹ لبوں پے دبائے، اس نے بہت معصومیت سے پوچھا۔پریشے نے رخ قدرے مزید موڑلیا۔
“ہاں مگر تمہیں کیسے پتا یہ میری دوست ہے؟”
“بہت آسان ۔۔۔وہ خوبصورت ہے۔” اس کے سنجیدہ انداز پر نشاء ہنس پڑی جب ک
صفحہ نمبر 33
پریشے کے ماتھے پر نا گواری کی شکن ابھری تھی۔
“میں نشاء ہوں ۔ نشاء سعید اور یہ میری کزن کم دوسwت ہے، ڈاکٹر پریشے جہانزیب۔”
“پاری شے”؟ اس نے اپنے یورپی لب و لحجے میں اس کا نام دہرایا۔
“پاری شے نہیں ، پری۔۔۔۔شے”
“میرے نام کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہو،نشاء؟” خود کو یوں موضوع گفتگو بنتے دیکھ کر وہ تنگ ا کر اردو میں بولی۔
“یہ مینرز کے خلاف ہے۔ تم دونوں کو میری موجودگی میں اپنی زبان میں بات نہیں کرنی چاہیے”۔
وہ مسلسل پریشے خو دیکہہ رہا تھا۔ ایک تو کمبخت بلا کا ہینڈسم تھا،اوپر سے اتنے خوبصورت انداز میں آنکھیں سکیٹر دیکھتا تھا، وہ خوامخواہ کنفیوز ہونے لگی۔
“مطلب کیا ہوا تمہاری کزن کے نام کا”؟
“پری چہرہ لڑکی۔ یہ ایران کی ایک شہزادی کا نام تھا۔اس لیے تو میں اس کو پری کہتی ہوں”۔
“تمہاری کزن پر سوٹ بھی کرتا ہے۔پری مطلب فیری؟ ہماری زباں میں بھی فیری کو پری کہا جاتا ہے”۔
“تم نے اپنا تعارف نہیں کرایا”۔
“اوہ سوری!میں افق ارسلان ہوں۔ ترکی سے آیا ہوں۔ ویسے پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہوں مگر ساتھ ساتھ ایک تجربہ کار کلائمبر بھی ہوں۔ تمہارے پاکستان میں دنیا کے سب سے خوبصورت پہاڑ ،راکاپوشی کے لیے آیا ہوں”۔
اس نے جھک کر اپنا تعارف کروایا “اور تم لوگ کیا کرتی ہو؟”
“نشاء !ہمیں دیر ہورہی ہے۔میں گاڑی کی طرف جارہی ہوں چلنا ہے تو چلو”
قدرے غصے سے کہہ کر وہ کھٹ کھٹ کرتی گاڑی کی طرف آگئی۔ عجلت میں افق ارسلان کو خدا حافظ کہہ کر نشاء دوڑتے قدموں کے ساتھ اس تک پہنچی تھی۔
“تمہارا مسئلہ کیا ہے نشی؟ نہ جان نہ پہچان، خوامخواہ کسی اجنبی وہ بھی گورے کے ساتھ یوں سرراہ گپیں لگانے کا مقصد؟” ڈرئیونگ سیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ نشاء پر برس پڑی تھی۔ چند گز کے فاصلے پر وہ ترک سیاح ان سفید چوکور بلاکس کے ساتھ ابھی تک کھڑا تھا۔ دفعتآ اس نے پری کو دیکہ کر ہاتھ ہلایا۔ جسے اس نے نظر انداز کردیا۔
صفحہ نمبر 34
“بھائی میرا مسلمان بھائی ہے،ایک برادر اسلامی ملک سے آیا ہے۔ہمارا مہمان ہے۔میرا اسلامی فریضہ ہے کہ میں میزبانی نبھائوں۔”
“اچھی طرح جانتی ہوں میں تمہیں ۔مسلمان لڑکی!۔گاڑی واپس اسلام آباد کے رستھ ڈالتے ہوئے اس نے دانت پیسے تھے۔” کیا ہم اب کسی اور ٹور کمپنی کے ساتھ نہ چلے جائیں؟
“اس بات کا تو زکر ہی مت کرنا۔اگر ہم اس ٹور کمپنی کے ساتھ نہیں جائیں گے ،تو پہر ہم نہیں جائینگے!” نشاء نے بڑے اطمینان سے فیصلہ سنا دیا۔
وہ خاموشی سے ڈرائیونگ کرتی رہی ۔ آٹھ دن ندا آپا کے ساتھ یا آٹھ دن اس ترک سیاہ کے ساتھ؟ اس کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچا تھا کیوں کی ندا آپا کے ساتھ آٹھ دن گزارنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
وہ نشاء کو ڈراپ کرکے گھر آئی تو فون بج رہا تھا۔ اس نے کریڈل پر دھرا ریسیور اٹھایا “ہیلو”
“تم اپنی کزن کے ساتھ کہاں جارہی ہو؟” ناگوار سا باز پرس کرنے لہجہ تھا سیف کا۔
“کالام اور بھی لوگ جا رہے ہیں۔”
“ماموں نے مجھ سے پوچھے بغیر تمہیں کیسے اکیلے جانے کی اجازت دے دی؟ کیا اب ہمارے خاندان کی لڑکیاں دور افتادہ علاقوں میں باپ بھائی کے ساتھ سڑکیں ٹاپتی پھریں گی؟”
وہ اس سے واضع طور پر ناراض تھا۔
“پاپا نے مجھ اجازت دے دی ہے سیف !” کہیں ایک نیا مسئلہ نہ کھڑا ہوجائے ، اس خیال نے اسے تھکا دیا تھا۔
“مگر میں کہہ رہا ہوں کہ تم یوں نہیں جاوگی۔تم اپنی کزن کو منع کردو۔”
تحکم بھرا انداز۔ وہ بے بسی سے لب کاٹ کر رہ گئی۔
“ہم اسکول میں بھی تو ٹورز کے ساتھ چلے جاتے تھے،ایک قابل اعتماد ٹریول ایجنسی کے ساتھ۔۔۔۔”
“یہ یو کے نہیں ہے پریشے !” اس کا انداز دو ٹوک تھا۔
“بس تم اپنی کزن کو منع کردو”۔
“اچھا” پریشے نے فون رکھ دیا۔ چند لمحے آزردگی سے فون کو دیکہتی رہی پہر نشاء کا نمبر ملایا۔
“میری آواز سنے بغیر چین نہیں آرہا،جو گھر پہنچتے ہی فون کھڑ کا رہی ہو؟”
“نشاء ! میں کالام نہ جاوں تو
صفحہ نمبر 35
نشاء ایک لمحہ کو چپ سی ہوگئی۔
“پری”
وہ کچھ دیر بعد بولی۔
“وہ ایک اچھا انسان ہے، تم اس کے ساتھ ان کمفرٹیبل فیل نہیں کروگی ۔
“بلیومی پری”!
“نہیں نشاء !سیف نے منع کیا ہے۔”
“واٹ دی ہیل ؟” اس کا پارہ ہائی ہوگیا تھا۔
“وہ ہوتا کون ہے تمہیں منع کرنے والا؟میں تو ابھی تک تمہاری منگنی کو قبول نہیں کر سکی۔تم دونوں ایک دوسرے کے لیے ہو ہی نہیں ، لیکن تم نے شاید شادی سے پہلے ہی اس کی غلامی قبول کر لی ہے۔ ٹھیک ہے ،فائن!میں یونہی تمہارے لیے ہلکان ہوتی ہوں ۔ جہنم میں جائو تم،جہنم میں جائے سیف،جہنم میں جائے افق ارسلان،”۔
ایک پژمردہ مسکراہٹ پریشے کے لبوں پر بکھر گئی۔
“میں نے اس کی غلامی نہیں قبول کی اور سنو ،میں نے پروگرام بھی کینسل نہیں کیا، لیکن اگر تم نے میرے نام کے ساتھ افق کا نام پہر لیا تو میں پروگرام کینسل کر ہی دوگی۔”
مزید کچھ کہے بغیر اس نے فون رکھ دیا۔
اسے سیف کے غصے کی پرواہ نہ تھی۔ کالام سے واپسی کے بعد اس کی شادی ہو ہی جانی تھی، دل نہ تب مر ہی جانا تھا اور شاید سیف جیسے انسان کے ساتھ زندگی کی شروعات کرنے کے بعد اسے کسی کی بھی پرواہ نہ رہے۔ نہ دکھ کی،نہ خوشی کی شاید تب وہ بے حس ہو جائے،مگر اس بے حسی کے دور کا آغاز سے قبل صرف آتھ دن، وہ زندگی کے ساتھ گزارنا چہاتی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: