Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 20

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 20

–**–**–

#آخری_چودہویں_چوٹی_حصہ_اول
#قسط20
اور 23 اکتوبر 2005
زلزلے کے متاثر افراد کو انجکشن لگا رہی تھی
فرح ابھی اسلام آباد واپس جا رہی تھی تم چلو گی یا ادھر مزید رہو گی۔؟
تم جا رہی ہو تو میں بھی چلتی ہو تم بائے ائیر جا رہی ہو؟
ہاں ابھی بشیر آ کر بتائے گا کے ہیلی کاپٹر فارغ ہے کے نہیں اسی اثنا میں کیپٹن اندر آیا
میم ابھی ہیلی کاپٹر آنے ہی والا ہے کرنل طارق کچھ لوگوں کو اس میں لا رہے ہیں ۔
269& 270
بس آتے ہی ہوں گے۔”
وہ جھک کر بچے کو ٹیکا لگا رہی تھی۔ پھر بے حرمد فکر مندی سے ساتھ بیٹھیاس کی ماں سے اس کے بارے میں سوالات کرنے لگی’ کیوں کہ اسے تیز بخار تھا۔
کیپٹن بشیر نے ایک لمحے کو سمسوچا کہ وہ ڈاکٹر صاحب کو بتائے کہ جو لوگ کرنل فاروق کے ہیلی کاپٹر پر مظفرآباد آرہے تھے’ وہ ترکی سے آئے تھے’ کیوں کہ ڈاکٹر صاحب نے اسے ترکی دے آنے والے لوگوں کے متعلق پوچھا تھا’ مگر ایک تو وہ اتنی مصروف تھی اور دوسرے اس نے خود ہی کہہ دیا تھا کہ ترکی سے آنا تو کسی نے نہیں ہے اور پھر ڈاکٹر صاحب کو اگر ترکی سے آنے والوں میں کوئی دلچسپی ہوگی تو وہ یقینا” ترک ڈاکٹرز سے ہوگیع۔کیپٹن بشیر بغیر کچھ کہے وہاں سے چلا گیا’ کیوں کہ آنے والے ڈاکٹرز نہیں بلکہ انجینئرز تھے۔
آدھے گھنٹے بعد یہ بشیر ہی تھا جس نے دونوں کو کرنل فاروق کے پہنچنے کی اطلاع دی۔
“آپ سامان وغیرہ پیک کر کے جلدی آجائیں ‘ کیوں کہ کرنل صاحب نے فورا” واپس جانا ہے۔پلیز میڈم دیر مت کیجیئے گا’ کیوں کہ کرنل صاحب کو غصہ پورے یونٹ میں مشہور ہے۔”
“ہاں میں فورا” اپنا سامان اس خیمے سے کے آوں’ جہاں رات ہم سوئے تھے۔” وہ اس خیمے سے نکل آئی۔ اس کا رخ چند گز کے فاصلے پر موجود اس میدان کے سب سے آخری سبز خیمے کی طرف تھا جس میں وہ اور فرح اتنے دن سے تہ رہی تھیں۔
وہاں کھلا سا میدان تھا’ ایک طرف خیمہ بستی تھی اور دوسری جانب خالی قطعہء اراضی پر ہیلی کاپٹر نیچے اتر رہا تھا۔ اس کے پنجے ابھی گھاس سے چند فٹ دور تھے۔
وہ اس آخری خیمے میں چلی آئی۔ جلدی جلدی سامان سمیٹا’ بالوں کو ایک دفعہ پھر اوپر کر کے کیچر میں باندھا۔ کسی چیز کے چٹخنے کی آواز بھی سنائی دی مگر وہ دھیان دیے بغیر شال لپیٹے بیگ کندھے پر ڈالے باہر آگئی۔
فرح اس کے انتظار میں کھڑی تھی۔
“چلو۔”
وی دونوں ساتھ ساتھ ہیلی کاپٹر کی جانب برھنے لگیں۔ جن میں اکثریت فوجی جوانوں کی تھی’ جو ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔
چند گوجی جوان ان مریضوں کو ہیلی کاپٹر میں چڑھا رہے تھےجس کو انہیں سرجری امداد کے لیے اسلام آباد لے کر جانا تھا۔ بشیر نے قریب سے گزرتے جوان کو روک کر ہدایت دی۔ “toki کی ٹیم کو اس آخری خیمے میں لے جاو ابھی وہی خولی ہے۔”
وہ دونوں سر نیچے کیے تیز ہوا سے بچتی آگے پچھے ادر داخل ہوئیں۔ مریض پہنچ چکے تھے’ دروازہ بند ہوگیآ۔اس کے کیچر کے ایک طرف لگا دور نگا پتھر غائب تھا۔
“اب کہاں ڈھونڈو اسے؟” کبھی سستی میں ایلفی سے بھی نہیں جوڑا۔ وہ کپڑے جھاڑنے لگی۔ اندر روشنی خاصی کم تھی۔ اسے پتھر کہیں بھی نظر نہیں آیا۔
“فرح اس کا پتھر گر گیا ہے۔ وہ کونے والے خیمے میں گرا ہوگا’ میں لے آوں؟”
ب”ے وقوف ہیلی اڑنے لگا ہے۔ کرنل فاروق کے غصے کے قصے نہیں سنے؟ خواہ مخواہ ان کو غصہ مت دلاو۔”
” مگر فرح وہ قیمتی پتھر تھا اور۔۔۔”
“لوگوں کو گھر بار لٹ گیا اور تمھیں پتھر کی پڑی ہے؟ ایک پتھر کے لیے کرنک صاحب سے دوبارہ ہیلی کاپٹر اترواو گی؟”فرح بلکل نشاء کی طرح گھرکتی تھی۔وہ خاموشی سے پیچھے ہوکر بیٹھ گئی’ مگر جانے کیوں اس لمحے اس کا دل چاہا کہ وہ کرنل فاروق سے ہیلی اتارنے کی درخواست کرے صرف ایک منٹ کے لیے’ بس وہ اپنا پتھر لے آئے۔
صرف پتھر نہیں اس لمحے اسے مظفرآباد کے شہر خموشہ کی اداس اور سوگوار فضہ میں “کچھ خاص” محسوس ہواتھا۔ کچھ ایسا جو ان پچھلے بہت سارے دنوں میں جو اس نےوہاں گزارے تھے نہیں تھا۔وہ اس وقت ہیلی کاپٹر سے نیچے اترنا چاہتی تھی۔ وہ مطفر آباد چھوڑنا نہیں چاھتی تھی۔مگر محض مروت میں وہ خاموش بیٹھی رہی۔
پریشے اور فرح کو ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر کیپٹن بشیر تیز قدموں سے واپس آیا۔ جس جوان کو اس نے ٹو کی ٹیم کو خیمے میں بیٹھانے کو کہا تھا’ وہ ان تین افراد کے ہمراہ اس آخری خیمے کے قریب ہی کھڑا تھا۔ تینوں افراد کی بشیر کی جانب پیٹھ تھی۔
“وہ ان کے قریب آیا۔”
“اسلام علیکم سر!۔”
تینوں ایک ساتھ پلٹے۔
271
پہلا ترک انجینر اچھی قدوقامت کا مالک تھا ۔بال سیاہ گوری رنگت یورپی نقوش بشیر نے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا ۔آئی ایم کیپٹن بشیر ۔اسکی انگریزی پورے گاؤں میں بہترین تھی ۔
کیپٹن جینک–ترک انجینئر نے گرم جوشی سے ہاتھ تھاما کیپٹن بشیر دوسرے کی جانب بڑھا۔وہ قد میں باقی سب سے چار پانچ انچ چھوٹا تھا ۔بال کھنگریلے اور سنہری مائل تھے سر پر پی کیپ الٹی پہنی ہوئی تھی جس پر سفید مارکر سے کچھ لکھا تھا ۔جینیک اس نے خوشی سے بشیر سے ہاتھ ملایا
اب تیسرے کی جانب بڑھا جو اندھیرے میں تھا اس نے جب سیدھا ہوکر دیکھا اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی
افق حسین ارسلان اس نے اپنا تعارف کروایا اس میں ایسی بات ضرور تھی جس سے کیپٹن بشیر متاثر ہوا۔
شاید بہت ہینڈ سم تھا شاید اسکی شخصیت میں مقناطیسات تھی
آپ کو انجینرنگ کور والوں سے بس تھوڑی دیر میں ملواتا ہوں تب تک آپ تھوڑی دیر آرام کریں وہ جلدی میں کہہ کر واپس پلٹ گیا ۔وہ تینوں پھر خیمے میں گھسے اور زمین پر بیٹھے افق بیٹھتے بیٹھتے رک گیا اور اس کی نگا ایک چھوٹے سے پتھر پر پڑیجھک کر اٹھا اور بغور دیکھنے لگا
اس پتھر کا سائز اس کے انگوٹھے سے دگنا تھا۔اس میں لکیر پڑی تھی اس نے کچھ دیر سوچا اور وہ جیب میں رکھ کر باہر نکل آیا
272
ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے جیسے وہ کسی کو تلاش کر رہا تھا ۔
کچھ چاہئے تھا مسٹر ارسلان؟ کیپٹن بشیر کسی سے بات کر رہا تھا ۔اسے باہر آتا دیکھ کر قریب آیا
نہیں پھر آخری خیمے کی طرف اشارہ کیا یہ فوج کا ہے یہاں کوئی آیا تھا؟
میراخیال ہے سر یہ امداد میں آیا تھا
اچھا زیادہ مسلہ تو نہیں مگر پھر بھی مجھے لگ رہا ہے اس کی شیٹ سردی کو روکنے کے لئے ناکافی ہے
نہیں سر سارے کافی گرم ہیں اور ان میں پیرا شوٹ لائنزز ہیں ۔
مجھے نازک مت سمجھنا کیپٹن مگر پہلے رہنے والوں کو شکایت تو نہیں ہوئی وہ سر سری ساتھا ۔
نہیں جنہیں ٹھرایا انہوں نے زکر بھی نہیں کیا۔
وہ شاید کسی ایسی جگہ کے ہوں انہیں محسوس نہ ہوا ہو
نہیں سر وہ دونوں اسلام آباد کی ڈاکٹر تھی کیپٹن نے زہین میں زور دے کر نفی میں سر ہلایا
پمپز ہسپتال ۔وہ بڑبڑایا اور پھر وہ پتھر نکال کر دیکھا
یہ کس کا ہے مجھے خیمے کے فرش سے ملا۔
یہ تو ڈاکٹر صاحبہ کے کلپ میں تھا میں غور نہیں کرتا مگر ڈھیلا تھا میں نے ان سے کہا بھی تھا کہ گرنے والا ہے قیمتی ہے خیال رکھیں مگر گر گیا۔
وہ ڈاکٹر اب کہاں ہیں اس نے عام سا پوچھا؟
وہ تو بالکل ابھی ہی اسلام آباد چلی گئیں ۔
ترک کے چہرے پر پھلتی مایوسی بشیر کو حیرت ہوئی
273
سر یہ آپ مجھے دے دیں میں اسلام آباد گیا تو انہیں دے دونگا
تم کب جاؤ گے
آج 23ہے میں دو دن بعد 26کو جاؤں گا
مجھے بھی ساتھ لے چلنا میں ان کو خود لوٹا دوں گا یہ قیمتی پتھر میرے پاس امانت رہے گا۔اس نے پتھر جیب میں ڈالا چیرے پر سنجیدگی تھی ۔
عجیب بندہ ہے ابھی اسلام آباد سے آیا اور ابھی جانے کی بات کر رہا ہے اس نے دل میں سوچا
سنا تھا ترکی سے سب سے خاص انجینئر آیا مگر یہ تو ۔۔۔۔پر سانوں کی
سب اپنا کام ختم کر کے سوئے بھی تھے مگر افق بنا سوئے کام میں لگا رہا بشیر کو تو بہت عجیب سا لگا
مرد ہونے کے باوجود کیپٹن بشیر نے اس جیسی خوبصورت آنکھیں نہیں دیکھی تھی ۔
274
کورک کی ہر لڑکی اسے دیکھنے کی خواہش کرتی مگر وہ آدمی جانے کس مٹی کا بنا تھا عورت سے بات کرنا دور سر اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا یہ خاموش سا وہ دو اتنا بولنے والے ان کی دوستی کیسے ہو گئی ۔
اس نے دو دن میں بشیر سے دو بار بات کی جب وہ دینے آیا تھا دوسری بار خیمے کے متعلق
ترکی میں ہر لڑکی کو پیدا ہوتے ہی قیمتی سونے کی چیز دی جاتی جو اس کی قیمتی متاع ہوتی ہے ۔
ترک لڑکی مر سکتی ہے مگر اپنا وہ زیور کسی کو نہیں دیتی کتنی غیریب ہو اسے فروخت نہیں کرتی وہ چند منٹ کے وقفے سے کہنے لگا 28 اکتوبر کو پاکستان زلزلے میں بچوں کے سکول فنڈ جمع ہوئے ایک چھوٹی بچی کا باپ غیریب تھا اس نے اپنی وہ چوڑیاں فنڈ میں دی جو اسے بچپن میں ملی تھی ہم نے وہ متعلقہ افراد تک پہنچا دی۔
ہم پاکستانی ہونے کے ناتے ترک پر فخر ہے ۔
منگل 25اکتوبر 2005
وہ ماموں کے ایک دوست سے ملنے سی ایم ایچ آئی ہوئی تھی صبع کا وقت تھا آسمان صاف تھا بادل ابھی اسلام آباد سے دور تھے
275
وہ تیزی سے جا رہی تھی سڑک کے دونوں طرف دیکھا ایک درخت کے پاس مینیجر نعمان کو دیکھا
انہوں نے کئ دن کمیپ میں ساتھ گزارے تھے اب سی ایم ایچ میں ملنا اتفاق نہیں تھا وہ سی ایم ایچ آیا پریشے کا اس سے ٹکراؤ لازم تھا ۔
کیسے مزاج ہیں ڈاکٹر صاحبہ خریت سی ایم ایچ وہ چند قدموں کی دوری پر تھا اس کے قریب آ گیا ۔
خریت سے ہسپتال کون آتا ہے منیجر صاحب برگیڈیئر باجوہ کی مسسز کی حیادت کو آئی ہوں آپ کب آئے مظفرآباد سے؟
آج ہی صبع صبع پہنچا اور آپ کے سامنے ہوں
کیسی گزر رہی ہے مظفرآباد میں؟
بس میم کام ہو رہا ہے کوشش تو سب کرتے الله سے بہتر کرے گا۔آپ ٹھیک ہیں؟
آئی ایم فین اور کیپٹن بشیر وغیرہ سب ٹھیک ہیں؟
276
الحمدلله سب ٹھیک ہیں۔کچھ فارنزز بھی آئے ہوئے ہیں جو پہلے بھی تھے مگر میں جن سے مل کر آ رہا ہوں ان کے جزبے نے حیران کر دیا۔ وہ بولنے کا شوقین تھا شاید۔
(پیار مرتا نہیں خاموش ہو جاتا ہے پیج سے مکمل ناول حاصل کریں)
مسسز باجوہ کو دوسرے ڈائپانمنٹ تک لے گئے آپ کو انتطار کرنا پڑے گا میں پتہ کرتا ہوں روم آ جائیں تو آپ کو بتا دوں گا۔
ارے منجر نعمان میں خود دیکھ لوں گی آپ خوامخواہ تکلیف نہ کریں ۔صرف اس لیے کے وہ اس کے ساتھ کیمپ میں تھی خیال کر رہا تھا وہ شرمندہ ہو رہی تھی ۔
کوئی بات نہیں آپ بیٹھیں میں دیکھ کر آتا ہوں ۔
نہیں میں ادھر ہوں ۔آج موسم بہت اچھا ہے اس نے سر اٹھا کر دیکھا عین اس کے اوپر بادل کا ٹکڑا روئی کی طرح تیر رہا تھا وہ اداسی میں مسکرائی اور میں ویسے بھی اچھے موسم کی دیوانی ہوں ۔
اچھا پھر میں آتا ہوں دیکھ کر
وہ وہی ٹیک لگائے درخت سے بیتے لمے یاد کرنے لگی
277
جب وہ دونوں ساتھ ساتھ وادیوں اور چشموں میں پھرتے تھے ایسے ہی ایک درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اور ایسی ہی گھاس تھی۔ہم گھٹیا جھاڑتے تھے افق کی پینٹ پر سرخ کیڑا گرا تھا ۔
اس نے آنکھیں موند لی اس کے لب دھیرے دھیرے گنگنانے لگے۔وہ گیت جو کبھی بارش میں بھگتے ہوئے چوڑی سڑک پر افق سنایا کرتا تھا
نہ کچھ کہو ہمیں
اس راہ کے ہم مسافر ہیں
ہم عشق میں پاگل ہیں
نہ کہو کچھ ہمیں
ہم لیلیٰ ہیں ہم مجنوں ہیں
شاید لیلیٰ نے قیس سے اتنی محبت نہیں کی جتنی پری نے اپنے کوہ پیما سے مگر آج بھی تہی داماں تھی
وہ جانے کتنی دیر ترک گیت گاتی رہی کے کسی ہٹ سے آنکھ کھولی۔
منجر سڑک پر کھڑا مسکرا رہا تھا
آپ نے غلط پروفیشن چوز کیا ڈاکٹر صاحبہ آپ تو بہت اچھا گا لیتی ہیں پھر میڈکل میں کیوں آئی؟
نہیں یہ تو بس ایسے ہی۔وہ جھٹ سے اٹھ گئی زرد پتوں کا ڈھیر اس کی گود سے نیچے گرا۔
برگیڈیئر کی وائف روم آ چکی ہیں آپ ان سے مل لیں
278
وہ پھر ایک لخطے کے توقف سے سوچتے ہوئے پوچھنے لگا۔ویسے ڈاکٹر صاحبہ یہ گیت خاضا مشک ہے کیا؟
نہیں تو۔۔اس نے ہنس کر سر جھٹکاچند پتے ٹوٹ کر اور گرے۔آپ یہ پاکستان میں کسی کے منہ سے نہیں سنے گئے ۔
ارے نہیں میڈم یہی گیت کل میں نے افق ارسلان کو گاتے سنا تھا ۔۔وہ ساکت کھڑی منیجر نعمان کو دیکھ رہی تھی
کس کو؟؟؟ اس نے بے یقینی سے پوچھا شاید اس کی سماعت کو دھوکہ ہوا ہے ۔
افق ارسلان کو آپ نہیں جانتی وہ ترک انجینئر ہے ناں اس کی بات کر رہا ہوں ۔
آپ مسسز باجوہ سے مل لیں وہ تو اس دنیا کو بھول گئی
ککو کون سا ترک انجینئر؟؟ اس نے شاید غلط سنا اسے غلط فہمی ہوئی
افق ارسلان نام ہے اس کا
وہ آپ کو کہاں ملا وہ پلک چھپکانا بھول گئی
وہی مظفرآباد میں وہ ریلیف کے لیے ترکی سے آیا ہے وہ کل یہی گا رہا تھا شاید ترک گیت ہے وہ جس طرح اس کا دیکھ رہی تھی وہ الجھ گیا
مگر مگر میں نے تو مظفرآباد میں کوئی ترک انجینئر نہیں دیکھا اس کی آواز پھنسی ہوئی نکل رہی تھی
وہ اسی روز آیا تھا اسی ہیلی کاپٹر میں کرنل طارق کے ہمراہ اسی لیے اب منیجر نعمان کو واضح بے چینی ہو رہی تھی ۔
اسی ہیلی کاپٹر میں وہ دور کھو گئی کے آنے والے لوگوں کو وہ دیکھ نہیں پائی تھی
آر یو اوکے ڈاکٹر جہاں زیب؟
وہ چونکی نہیں وہ اس کا پورا نام کیا ہے؟
279
مینیجر نعمان نے گہری سانس بھری ۔۔افق حسین ارسلان۔اب وہ کچھ سمجھ رہا تھا ۔وہ اسے جانتی تھی اب کنفرم کرنا چاہ رہی تھی ۔
یہ حسن حسین ارسلان کی خون پسینے کی کمائی ہے جیسے ہم یوں کوہ ہمالیہ میں جھونک رہے ہیں ۔
اس کے زہین میں بہت پہلے کا افق کا فقرہ کونجا
افق ارسلان اس نے زیر لب دوہرایا
عجیب بے چینی تھی
منیجر نعمان وہ کیسا دکھائی دیتا ہے؟ وہ کھوئے لہجے میں پوچھنے لگی۔
آ۔۔۔ وہ سوچ کر بتانے لگا۔خاصا لمبا مجھ سے بھی دو انچ لمبا بال براؤن ہیں اور آنکھیں
اور آنکھیں وہ سانس روک کر جواب کا انتظار کرنے لگی۔
کوئی لائٹ کلر تھا
ہنی کلڑ؟
شاید ایسا ہی تھا سوری غور نہیں کیا یہ لڑکیوں کا شعبہ ہے وہ ہنس دیا وہ سوچ میں گم تھی ۔
وہ انجینئر ہے ناں تو سر پر کیپ تو لیتا ہو گا
مینیجر نے اثبات میں سر ہلایا
اس کی کیپ پر کچھ لکھا ہو گا وہ تصدیق کرنا چاہا رہی تھی اس کا دل چیخ چیخ کر گواہی دے رہا تھا وہ اس کا کوہ پیما ہی ہے
نہیں کچھ نہیں لکھا تھا
اچھا اسے مایوسی ہوئی وہ افق کی کیپ پر تو لکھا تھا مگر وہ افق کی کیپ تو نہیں تھی وہ تو ۔۔۔۔
اس کے ساتھ کوئی اور بھی ہو گا دو انجینئر ؟ وہ بے تابی سے بولی ہاں دو انجینئرز اس میں ایک کے سر پر
280
کیپ تھی اس پر وائٹ کلر سے طیب اردگان کے حق میں نعرہ درج تھا ۔جینیک یقین آ گیا اس کو۔
اب کسی شک کی گنجائش نہیں رہی تھی ۔
تیسرا کون ہے ڈاکٹر ہے
وہ بھی انجینئر ہے کین
ان کے ساتھ کوئی ترک ڈاکٹر نہیں ہے؟
میں نے نہیں دیکھا شاید ہو۔آپ جانتی ہیں انہیں اینی پرابلم؟
بہت تحمل سے جواب کے بعد رہ نہیں سکا
میرا کچھ کھو گیا تھا ان پہاڑوں میں وہی ڈھونڈ رہی وہ خود سے بولی
کیا گرا تھا وہ جیم اسٹون جو خیمے میں گرا تھا ؟
پریشے نے چونک کر اسے دیکھا پھر اثبات میں سر ہلا دیا
ہاں وہی
وہ کیپٹن بشیر کے پاس ہے بلکہ انفکٹ ان انجینئر کے ہاس ہے شاید وہ ان کے ساتھ کل آئیں
پتھر کو؟
نہیں اس انجینئر افق ارسلان کو جس نے اپ کا قیمتی پتھر اپنے ہاس رکھ لیا ہے میں بتانا بھول گیا وہ آپ کو مل جائے گا ڈونٹ وری آپ اب مسسز باجوہ سے مل لیں وہ کیا کہہ رہا تھا وہ کچھ سن نہیں پا رہی تھی
وہ جب وہاں سے آ رہی تھی اس محسوس ہو رہا تھا کوئی آیا ہے جو اس کی زندگی تھا وہ بھی اسی جگہ تھا جہاں وہ اس وقت مظفرآباد کھڑی تھی او خدا وہ کیوں چلی آئی تھی وہاں سے
نعمان کیا کہہ رہا تھا وہ کل بشیر کے ساتھ آ رہا مگر کل کو ابھی بہت گھنٹے
281
پڑے ہیں وہ کل کا انتظار نہیں کر سکتی اسے عجیب بے چینی ہونے لگی اسے اسے افق کے پاس جانا ہے ابھی اسی وقت
اس نے سر اٹھا کر دیکھا نعمان کب کا جا چکا تھا وہ تقریبا بھاگتے ہوئے ہسپتال میں داخل ہوئی
ریسپشن میں دو لڑکا لڑکی بیٹھے تھے وہ ان کی جانب لپکی۔
ڈاکٹر نعمان کدھر ہیں؟
رائٹ سائیڈ جائیں لیفٹ میں وہ اور کچھ بھی کہہ رہی تھی مگر پریشے پورا سنے بغیر بھاگی
وہ اگے جا کر دیکھا وہ کسی سے بات کر رہے تھے بھاگ کر ان کے پاس پہنچی
منیجر نعمان وہ پھولی ہوئی سانس سے کہنے لگی منیجر نعمان نے دوسرے کو ہاتھ سے روکا اور بھیج دیا اس کی طرف موڑا
ریلیکس ڈاکٹر صاحبہ مسسز باجوہ نہیں ملی کیا
بھاڑ میں جائیں مسسز باجوہ وہ کہتے کہتے رکی اپنی تنفس بحال کرتے بولی
آج کوئی ہیلی کاپٹر مظفرآباد جا رہا ہے؟
وہ تو روز آتے جاتے ہیں ملبہ ابھی نہیں ہٹایا آپ کو کیا مظفرآباد جانا ہے؟
282
جی پلیز مجھے ابھی جانا ہے
ابھی تو ۔۔وہ سوچ میں پڑ گیا شاید ہمارے کرنل مانسہرہ جا رہے ہیں تو مجھے رستے میں مظفرآباد چھوڑ دیں وہ بے تابی سے بولی
مظفرآباد مانسہرہ کے راستے میں نہیں پڑتا۔آپ کو کوئی ایمرجنسی ہے کیا؟
ہاں وہ میرا پتھر
تو کل وہ لوگ آئیں گے ناں
مگر کل میں دیر ہے میرا پتھر قیمتی تھا چاہئے مجھے
مجھے ابھی ان سے بات کرنی ہے
بات کرنی ہے تو میں ابھی کروا دیتا ہوں
وہ کیسے پریشے کو حیرت ہوئی
غالباً کئ برس پہلے بیل نامی نے ایک چیز ایجاد کی تھی جیسے فون کہتے ہیں ۔
ہاں پتہ ہے مگر وہاں سگنل نہیں تھے ناں اب کچھ آنے لگے نہیں بھی ہو تو آرمی رابطہ تو ہے ناں آپ کی بات کروا دیتا ہوں
وہ چلا گیا پریشے وہی اضطرابی حالت میں انگلیاں مروڑنے لگی
اس کے پر ہوتے اڑ کر مظفرآباد اس وقت پہنچنا چاہتی تھی مجھے اس حال میں اس سے ملنا تھا دیکھنا تھا میں کیوں چلی آئی
پتہ نہیں بیس منٹ کب ہوں گے وہ افق کی آواز سنے گی اس کی روح پیاسی تھی
جانے اب وہ کیسا ہو گا ویسے ہی ہنستا ہو گا اس کا دل بے قراری میں ایسے تھا ابھی باہر آ جائے گا ۔بیس منٹ ہوئے کہ نے وہ اور انتظار نہیں کر سکتی تھی وہ منیجر نعمان کے روم کی طرف آئی جہاں وہ گیا تھا
283
اتنی بے قراری تھی وہ قوائد کو بھلا کر بغیر دستک داخل ہو گئی ۔
منیجر نعمان میز پر رکھے فون کا ریسورکان سے لگائے بات کر رہا تھا ۔
ہاں میں انہیں بلاتا ہوں بلکہ وہ آ ہی گئ۔اس نے ہاتھ سے پریشے کا اشارہ کیا وہ خواب کی کیفیت اس تک چلی آئی۔
آپ نے کس انجینئر سے بات کرنی ہے؟ اس نے ماوتھ پسٹ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
اووفق ارسلان اس کی آواز کپکپائی
ہاں افق ارسلان سے بات کراؤ منیجر نعمان نے ریسیور اس کی جانب بڑھایا اور کمرے سے باہر نکل آیا اور دروازہ بند کر دیا
کتنی دیر وہ سوچ میں تھی اسے کیا افق سے کہنا ہے جانے وہ افق ہے بھی کے نہیں ۔
وہ بولنا چاہا رہی تھی مگر الفاظ لب پر ٹوٹ رہے تھے
دوسری طرف گہری سانس لے رہا تھا پھر اس کو آواز آئی
پا ری شے؟؟
اس لمے پوری کائنات رک گئی تھی
وہ آواز لاکھوں میں شناخت کر سکتی تھی ۔وہ اس کا افق ہی تھا ۔اس کے قدم لڑ کھڑا گے اس نے میز کو مضبوطی سے تھام لیا۔
پری بولو نا میں سن رہا ہوں
وہ بے اختیار رو پڑی
افق۔۔
پری۔۔۔وہ اداسی میں مسکرایا تھا
تم تم ۔۔کہاں ہو افق اس نے مشکل سے میز تھام کر پوچھا آنسو گر رہے تھے
میں ہمالیہ کے آسماں کے نیچے ہوں۔
284
ایک دفعہ پھر ہمالیہ کا آسماں دونوں کے بیچ آ چکا تھا وہ پھر ان پہاڑوں میں آ چکا تھا جہاں سے وہ اسے کھنچ کر لائی تھی ۔
تم رو رہی ہو پری وہ بے چین سا ہو گیا
اس نے جواب نہیں دیا بے آواز روتی رہی۔
پری رو مت آنکھیں صاف کرو وہ بہت دور تھا مگر محسوس کر رہا تھا ۔اس نے پشت سے چہرہ صاف کیا
اب بتاو کیسی ہو جانے کیسے سمجھ چکا تھا اس نے آنکھیں صاف کر لی۔
بہت تہی داماں ہوں میں افق بہت ویران جانے اتنی ویرانی میرا مقدر کیوں بن گئی میں بالکل خالی ہاتھ ہوں میں نے وہ سب بھی کیا جو کسی لیلیٰ ہیر نے نہیں کیا ہو گا سوہنی کا تو گھڑا ٹوٹا تھا میرا سب کچھ دمانی کی دھند میں بکھر گیا پھر بھی منزل نہیں ملی میں نے ۔۔۔۔میں نے تو عشق میں صحرا کا سمندر پار کیا تھا وہ پھر رونے لگی تم ۔۔تم مجھے کیوں چھوڑ کر چلے گئے تھے افق
تم ہی نے کہا تھا بہت آہستہ بولا
میں نے کہا تھا؟
تم نے عہد لیا تھا گلیشیر پر دمانی گواہ ہے تمہیں یاد نہیں؟
میں نے عہد لیا تھا میں نے کہا تھا میں نے تو اور بھی بہت کچھ کہا تھا میں نے تمہیں کیمپ سے چلے جانے کوکہا تھا بات مانی تھی میری صرف یہی بات کیوں ماننا یاد رہا ۔؟
مجھے کیوں چھوڑ گئے میں ہسپتال جاگی تو میں اکیلی تھی آج بھی میں اکیلی ہوں تم نے میرے ہوش آنے کا بھی انتطار نہیں کیا اور چلے گئے
وہ تھکے لہجے میں بولا میں نے اپنی خوشی سے وہ وعدہ نہیں نبھایا تھا
تم نے تو کہا تھا تم رہ لو گی۔
ہاں کہا تھا
پھر میں نہیں رہ سکی آنسو اسکی گردن پر پھیل چکے تھے ۔
پھر خاموشی چھا گئی چند لمحے سرکے ادق نے کہا پری۔
وہ لب سی اسی طرح روتی رہی
پری میں رکنا چاہتا تھا میں صرف اور صرف تمھارے لیے گیا تم نے پاپا کے لیے کہا تھا نا
تمہیں پاپا سے زیادہ تو نہیں تھا نا میں نہیں چاہتا تھا میں ہوش میں آ کر دیکھو اور کچی ڑور ٹوٹ جائے ۔
ہاں تم کیوں رکتے میرا انتظار کرتے میں تمہارے لیے میں تمہارے لیے ہمالیہ کے پہاڑوں سے لڑی تھی ۔تم کیوں لڑتے میرے لئے افق تم نے محبت کی ہوتی تو وہ بچوں کی طرح رو کر دو مہنوں کا غبار نکال رہی تھی
وہ زخمی دل کے ساتھ مسکرایا ہاں واقعی میں نے محبت نہیں کی تھی میں نہیں کر سکا کوشش بہت کی صرف محبت کر سکوں مگر میں نے تم سے محبت نہیں کی تھی پری میں نے تم سے عشق کیا تھا ۔محبت کی ہوتی تو تمہیں باپ کے بارے میں بغاوت پر مجبور کرتا. محبت کی ہوتی واپس نہیں آتا میں نے محبت ہی تو نہیں کی
وہ خاموشی سے سن رہی تھی اسے کہ اس نے محبت نہیں عشق کیا تھا ۔
افق ۔۔وہ کچھ اور نہیں کہہ سکی کہ آنسو پھر امنڈ پڑے
پری تمہارے پاپا
وہ نہیں رہے ۔۔وہ بھی مجھے چھوڑ گئے
میں جانتا ہوں
وہ چونکی تم کیسے جانتے ہو؟
وہ بہت مشہور آدمی تھے تم نے ایک دفعہ ان کا پورا نام بتایا تھا ان کے انتقال کی خبر میں نے پڑھی تھی وہ دو ماہ میں نے بند کمرے میں اخبار پڑھنے کا کام ہی تو کیا۔میں تم سے ان کا افسوس بھی نہیں کر سکا۔
میرے پاس تمارا کوئی نمبر نہیں تھا نہ کوئی تعلق رہ تھا ۔
تعلق تعلق تو تھا افق۔۔
وہ تعلق تو دنیا کے آنے سے پہلے کا تھا
اب اس کے دل کا کچھ بوجھ ہلکا ہوا تھا ۔
پری کچھ دیر میں افق نے پکارا میں آ جاؤں؟
کیا تمہیں اب بھی یہ پوچھنے کی ضرورت ہے
میں کل آ رہا ہوں مجھے ویسے بھی تمہارا پتھر دینا ہے
مجھے پتہ ہے منیجر نعمان نے بتایا کہ پتھر بلکہ جیم سٹون تمہارے پاس ہے وہ اب سھنبل چکی تھی میز کو بھی چھوڑ دیا تھا
جیم سٹون؟؟ وہ دھیرے سے ہنسا
اتنے اچھے فوجی دھوکہ کھا گئے تو تم انہیں مت بتانا کے یہ کیچر پر لگا معمولی سا پتھر تھا
نہیں میں کیوں بتاؤں گا میرے لیے یہ قیمتی ہے جیسے وہ تصویر تھی ۔
منیجر عاصم نے دے دی تھی وہ؟؟
ہاں مل گئی تھی مجھے وی گیت بہت اچھا لگتا تھا جو تم نے بالکونی میں سنایا تھا وہ سر جھکائے میز کاکونا کھورج رہی تھی ۔
میں کل آ رہا ہوں اب رونا نہیں
287
اچھا نہیں روتی۔
افق تم نے آخری دفعہ ہسپتال میں میرے کان میں کیا کہا تھا؟
وہی جو اس تصویر پر لکھا تھا ۔
وہ ہنس دی اچھا پھر کسی خیال میں پوچھنے لگی۔سنو
ہوا بولو
تم کدھر آؤ گے؟
پمر اسلام آباد
نہیں وہاں مت آنا وہ سوچ کر بول رہی تھی ۔
کیوں وہ حیران ہوا
افق تمہیں یاد ہے پہاڑوں کے بیچ مجھے ایک شہزادہ ملا تھا
جب بیچ سڑک شہزادے کو پری ملی تھی وہ مسکرایا
تمہیں یاد ہے مارگلہ کی پہاڑوں پر میں برف میں بیٹھی تھی تم گھوڑا دوڑاتے آئے تھے
ہاں بولا ہی کب ہوں
تو میں چاہتی ہوں ہم وہی ملیں میں پتھر پر تمارا انتظار کروں تم اسی طرح گھوڑا دوڑا کر آؤ میں کہوں کہ تصویر اتار سکتی ہوں پھر میں تمارے کیمرے سے تمہاری تصویر لوں گی ۔ہم اسی جگہ ملیں گے ہم تصور کریں گے تین ماہ ہماری زندگی میں جیسے آئے ہی نہیں۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: