Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 3

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 3

–**–**–

#تیسری_چوٹی_قسط3
اتوار،24 جولائی 2005ء
پاپا کی ڈھیر ساری دعائیں لے کر وہ گھر کی گیٹ سے باہر ٹور کمپنی کی بس میں آگئی۔
ان کا گائیڈ کم ڈرائیور،ظفر اس کا سامان لوڈ کرکے ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا۔
بس میں اسئ چار انجان چہرے دکہائی دیئے تھے۔
وہ ایک نسبتآ پچھلی سیٹ پر کھڑ کی کی طرف بیٹہہ گئی۔نشاء یا وہ ترک سیاح ابھی تک نہیں آئے تھے۔
کھلے شیشے سے آتی ٹھٹندی ہوا اس کی آنکہوں کو بند کر رہی تھی۔
اس نے شیشہ بند کردیا اور
لیزئر میں کٹے سیاہ بالوں کو اونچی پونی ٹیل میں باندھا۔
دفعتآ اسے دوسرے مسافروں کا خیال ایا
اس نے ایک سرسری نگاہ ان پر ڈالی۔
اس کے بائیں طرف نشستوں کی قطار میں اس کے برابر ایک کم عمر لڑکی بیٹہی تھی۔ عمر بمشکل بیس اکیس برس ہوگئی۔۔
صفحہ نمبر 37
کندھوں سے اوپر آتے کھلے بال،جو ماتھ پر بینڈز کی صورت میں کٹے تھے اور گوری رنگت۔
وہ محویت سے سڑک کے کنارے بھاگتے درختوں کو دیکہ رہی تھی۔ اس نے سفید ٹراوزر اور گھٹنوں تک کرتا پہن اکھا تھا اور پاوں میں سینڈل تھے۔
دوسرے مسافروں میں پچاس پچپن سالہ ایک انکل تھے ۔ غالبآ کوئی ریٹائرڈ افسر یا کوئی امیر بزنس مین وہ خاصے وجہیہ تھے اور سب سے اگلی سیٹ پر براجمان تھے۔
ان کے علاوہ ایک جوڑا تھا۔ بیوی قدرے کرخت اور نک چڑھی سی لگی البتہ میاں “بیبا” سا تھا۔ پریشے کو قیافہ شناسی سے گہری دلچسپی تھی۔
“صبح چھے بجے کوئی وقت ہے جانے کا؟ مجھے سونے بھی نہیں دیا۔” نشاء اس کے مقابل آکر بیٹھی تو بس جو نشاء کو پک کرنے رکی تھی،پھر چل پڑی۔
” سو جاوء لمبا سفر ہے۔” اس نے نشاء کی خوابیدہ آنکہیں دیکہ کر کہا۔
ظفر نے اپنا آخری مسافر ایک اعلی درجے سے اتھایا۔تھا ۔ وہ بس میں داخل ہوا اور پریشے کی توقعات کے برعکس ان دونوں کی جانب آنے بجائے “ریٹائرڈ” صاحب کے ساتھ والی خالی نشست پر بیٹھ گیا۔ اس نے تو گردن کو جنبش دے کر ان دونوں کی طرف دیکھا تک نہ تھا۔
چوں کہ وہ ان سے کافی آگے بیٹھا ہوا تھا اور وہ بھی بائیں قطار میں ،سو وہ اس کا محض دایاں کندھا،بازو اور سر ہی پیچھے سے دیکھ سکتی تھی۔لائٹ براون شرٹ ،سفید پینٹ،وہی کل والی سلیو لیس ہلکی سی ٹورسٹ جیکٹ ،گردن میں لٹکتا مفلر ، پاوں میں جوگرز ،وہ بہت اچھا لگ رہا تھا۔
ہاں،اج اس کے سر پر پی کیپ بھی تھی۔ وہ کچھ دیر اسے دیکہتی رہی پہر نشاء کی طرح سو گئی۔
کوئی دو گھنٹے بعد اس کی انکھ کھلی۔ وہ لوگ ابھی
تک حالت سفر مین تھے۔ نشاء جاگ چکی تھی۔
اس نے چور نظروں سے افق کو دیکھا،وہ اپنے سیل فون کے بٹنز سے کھیل رہا تھا۔
“سنو پری!تمہیں یہ شخص اچھا نہیں لگا؟”
“نہیں اور میں اس کا ذکر نہیں کرنا چاہتی”۔ وہ کھڑکی کے باہر دیکہنے لگی.
“مگر میں کرنا چاہتی ہوں”۔ نشاء بضد تھی۔
“ٹھیک ہے پہر جاکر اسی کے پاس بیٹھ جاو”۔
بقیہ سارا راستہ خاموشی سے کٹا۔ دن چڑھے بس پشاور کی حدود میں داخل ہوئی سڑکوں پر خاصا رش تھا ۔اپنے جوبن پر چمکتا سورج شہر کو جھلسا رہا تھا
صفحہ نمبر 38
“کتنی گرمی ہے یہاں حالاں کہ پشاور پہاڑوں پر واقع ہے۔۔ یار اس سے ٹھنڈا تو اسلام آباد تھا۔” نشاء کو اپنا شہر یاد آیا۔
ٹور کمپنی نے پہلے سے ایک متوسط درجے کے ہوٹل میں ان کی بکنگ کروا رکھی تھی ۔
ہوٹل کے باہر تنگ سی سڑک پر بے تحاشا رش تھا۔ سڑک کے اچھے خاصے حصے پر ریڑھیوں کا قبضہ تھا۔ گاڑی ایک ڈھلوان پر چڑھ کر ہوٹل کے پارکنگ ایریا تک آئی۔ وہاں گاڑیوں کی لمبی قطار تھی۔
“ناٹ بیڈ” بس سے نکل کر نشاء نے تبصرہ کیا۔ پری ہوٹل کی بلند عمارت کو دیکہنے لگی۔
ترک سیاح ان دونوں سے فاصلے پر کھڑا سفید جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ، آنکہیں سکیڑے اطراف کا جائزہ لے رہا تھا۔وہ اپنی طرف متوجہ پاکر مسکرایا،پریشے نے نگہاون کا رخ بدل لیا۔
“ہیلو گرلز،کیسی ہو تم دونوں؟”وہ ان کے قریب چلا آیا۔
“اوہ تو آپ ہمیں پہنچاتے ہیں؟” نشاء کو اس کا پورا راستہ انہیں لفٹ نہ دینا بہت کھٹکا تھا۔ شکوہ کیے بغیر نہ رہ سکی۔ وہ جوابآ ہنس پڑا۔
“میں نے سوچا صبع صبع نیند سے بے حال ہوتے لاگوں کو نہ جگایا جائے،ذرا کہیں پہنچ جائیں تو آرام سے گپ شپ کرتے رہیں گے۔” وہ مسکراہٹ دبائے سنجیدگی سے بولا۔
پریشے ان دونوں کو چھوڑ کر اس ٹین ایج لڑکی کے پیچھے چلتے ہوئے سیڑیاں چڑھنے لگی۔
246 نمبر کمرے میں پہنچ کر ظفر نے چابی اس کے حوالے کی۔ وہ ٹرپل بیڈروم اس کو نشاء اور اس لڑکی کے ساتھ شیئر کرنا تھا۔
“اوکے ،شام کو ملاقات ہوگی۔” افق ان دونوں سے یہ کہہ کر ساتھ والے کمرہ میں چلا گیا۔ میاں بیوی سامنے والے کمرے میں چلے گئے۔
“میں ڈاکٹر پریشے جہاں زیب ہوں”۔ کمرے میں آکر اپنے لبوں پہ مسکراہٹ سجا کر اس نے اس لڑکی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
“میں ارسہ بخاری ہوں ۔ ویسے آپ کا نام بہت پیارا ہے پریشے !” وہ رکی اور تصیح کر کے
صفحہ نمبر 39
بولی “پریشے آپی!
“آپی”؟ ان دونوں نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے قدرے حیرت سے اسے دیکہا۔
“دراصل میں پاکستانی کزنز کو اگر بغیر آپی باجی کہے بلاوں تو دادو “انگریز”کہہ کر ٹوکتی ہیں،
سو میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کسی پاکستانی لڑکی کو آپی باجی کہے بغیر نہیں بلانا”
وہ دونوں ہنس پڑیں۔
کھانا انہوں نے ساتھ ہی کھایا تب تک تعارف کا سلسلہ مکمل ہو چکا تھا۔
ارسہ کا تعلق لاہور سے تھا،مگر وہ پلی بڑھی انگل
ینڈ میں تھی ۔ اردو لکھ اور پڑھ لیتی تھی مگر بولتی بہت بہت مشکل سے تھی۔اس کے پاس اس کم عمری میں بھی ایک اچھا الپائن ریکارڈ تھا وہ زیادہ تر یورپی الپس سر کر چکی تھی،اس کے علاوہ تبت میں اس نے shishapangmaاور chooyu کو سر کیا تھا۔
“تو تم افق کے ساتھ راکاپوشی جارہی ہو؟” نشاء کو وہ معصوم اور زہین سی لڑکی بہت اچھی لگی تھی۔
“ہاں! “اس نے سر ہلا دیا۔ “رکاپوشی میرے ناول کی سیٹنگ ہے ۔ اوہ میں بتانا بھول گئی، میں رائیٹر بھی ہوں۔ دو ناول لکھ چکی ہوں ، یہ میرا تیسرا ناول ہے۔ “
“اتنی سی عمر میں دو ناول؟” پریشے کے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
ارسہ ہنس پڑی ۔”محمد بن قاسم نے سترہ سال کی عمر میں سندھ فتح کیا تھا،میں نے تو اس عمر میں صرف پہلا ناول لکھا تھا یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔”
“اچھا تو تمہارے ناول کی سٹوری کیا ہے؟ ” اسے دلچسپی ہوئی۔
“ایک کوہ پیما ہیروئن کی راکاپوشی سر کرنے کی رومانوی داستان “وہ مزے سے بولی۔ نشاء سونے کے لے لیٹ چکی تھی۔
“اینڈ ہیپی کروگے یا ٹریجک ؟”
ٹریجک کیوں کے ٹریجک اینڈ یادگار ہوتا ہے۔ ویسے آپ نہیں آئیں گی راکاپوشی ؟ آپ بتا رہی تھیں ک آپ بھی کلامبر ہیں “
“ہاں، میں کمبریا کے ٹو اسکول، لیک ڈسٹرکٹ سے سات ہفتے کے کورسز کیے تھے، مگر میں راکاپوشی نہیں آؤگی ک مجھے اپنے فادر کی پرمشن نہیں ہے۔
صفحہ نمبر 40
“کمبریا کے ٹو سے ؟ واہ ،ائی ایم امپریسڈ! “
“اور سوئس الپس کے علاوہ ،میں نے سپانتک (spantik) کو بھی سر کر رکھا ہے ۔
وہ مسکراتے ہوئے بتانے لگی ۔
“اوہ ویسے آپ آتیں تو مزا آتا ۔افق بھائی بہت اچھے ہیں۔ میری ان سے ملاقات فلاایٹ کے دوران ہوئے تھی وہ مصر سے آرہے تھے اور میں انگلنڈ سے۔ “
“اب سوتے ہیں “۔اس سے پہلے کے وہ “افق نامہ ” شروع کرتی ، پریشے نے اس کی بات کاٹ دی۔ ارسہ تابعداری سے بستر پر لیٹ گئی ۔
جلدی ہی اسے نیند نے ان گھیرا۔ پھر وہ شام تک سوتی رہی ارسہ اور نشاء صبح تڑکے، ہی اٹھ گی تھیں اور با آواز بلند گپیں ہانکتے ہوئے انہونے اسے بھی جگا ڈالا تھا ۔ مگر وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے سوتی بنی رہی۔
دفتعآ دروازے پر دستک ہوئی پریشے کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔ اس نے آنکھوں پر سے بازو نہیں ہٹایا مگر وہ جانتی تھی کے باہر کون تھا۔ وہ دستک نہیں ،افق ارسلان کی خوشبو پہچانتی تھی۔
“اندر آ سکتا ہوں اچھی لڑکیوں ؟” اس کا شرارت سے کہنکتا لہجہ پریشے کی سماعت سے ٹکریا ۔ اس کی آنکھوں پر بازو نہ ہوتا تو وہ شاید اس کی پلکوں کا ارتعاش دیکھ لیتا ۔
“لگتا ہے اچھی لڑکیوں کے بگیر دل نہیں لگ رہا ۔ آؤ بیٹھو۔” وہ اتنا مہزب ، شائستہ ہنس مکہہ تھا کے نشاء اور ارسہ فورآ اس کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں اور اسے کرسی پیش کی ۔
“یونہی سمجھ لو “وہ پریشے کے بیڈ سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ کرسی اور بیڈ کی پانپتی کے درمیان فاصلہ خاصا کم تھا۔ جگہ تانگ تھی، وہ بیٹھ تو گیا مگر اس کے جوگرز بیڈ کا سرا کو چھو رہے تھے۔
“میں اس سفر کو یادگار بنانا چاہتا ہوں اور بطور ایک اچھے سیاح، میں کوئی لمحہ فارغ نہیں بیٹھنا چاہتا۔ سو پھر تم لوگ بتاؤ شام کیا پروگرام ہے؟ ” اسے محسوس ہورہا تھا کے بولتے ہوئے بھی نظر بھٹک کر افق کی ناگاہیں اسی کے چہرے پر پڑ رہی تھیں جو اس نے اپنے سفید بازو کی اوٹ میں آنکھوں کو چھپا رکھا تھا۔ کمبل گردن تک لے رکھا تھا، صرف چہرے کا نچلا حصہ کھلا تھا۔
“پری اٹھ جاۓ تو کوئی پروگرام بناتے ہیں” ۔
“تمہاری دوست بہت زیادہ سوتی ہے کیا” ؟ اس۔ کے انداز سے پریشے کو لگا ، وہ جان گیا ہے کے وہ سو نھ رہی ۔
صفحہ نمبر 41
“نہیں آج بس ذرا تھک گئی۔ تم اپنا پروگرام بتاؤ۔ “
“میں آج تمہارے پشاور کے بازار، یہی کینٹ اور صدر وغیرہ کھنگالنے کا سوچ رہا ہوں۔ باقی ایورسٹ اٹریکشن کل دیکھو گا۔”
“تو پھر ہم تینوں بھی آپ کے ساتھ چلتے ہیں افق بھائی ! احمر صاحب اور افتخار فیملی کی مرضی وہ جہاں بھی جایں یا پھر ان سے پوچھ لیں ؟”ارسہ متذبذب تھی۔
“وہ کپل بہت ریزور ہے، وہ یقینن ہم سے گھلنا ملنا پسند نہیں کریں گے ۔ احمر صاحب تو آدھا گھنٹہ ہوا کہیں چلے بھی گے ہیں پھر ہم چاروں ساتھ چلتے ہیں مگر۔ ۔۔۔،
وہ ایک لمحے کو روکا، پری کے کان کھڑے ہوگئے ۔
“مگر کیا” ؟
“مگر ہو سکتا ہے تمہاری دوست کو۔ کوئی اعتراض ہو”
“ارے نہیں۔ وہ بہت نائس اور سویٹ ہے۔ اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا” ،
“ویسے نشاء!مجھے بہت خشی ہوئی تھے۔ جب تم نے مجھے بتایا تھا کے تمہاری دوست میری بہت تعریف کر رہی تھی” ،
پریشے نے ایک جھٹکے سے کمبل اٹھارہ اور تیزی سے سیدھی ہوئی ۔
“میں نے ایسا کب کہا تھا؟ “
افق کا فھقهہ بے اختیار بلند ہوا، اسے اپنی حماقت پر شرمندگی ہوئی ۔ نشاء اور ارسہ قدرے حیران تھی
“انھیں ابھی “لطیفہ” سمجھ میں نہیں آیا تھا۔
“تم اٹھ گیں ؟ میں سمجھی سو رہی ہو” ،
“میرے سر پر جو تم لوگ گول میز کانفرنس کر رہے ہو، میں بھلا کیسے سکوں سے سو سکتی تھی”
شرمندگی چھپانے کو اس نے غصے کا سہارا لیا اور بستر سے نیچے اتر گئی ۔ ڈریسنگ روم جانے کے راستے میں افق کی لمبی ٹانگیں حائل تھیں۔ اسے قریب آتا دیکھ کر اس نے پیر سمیٹ لیے۔ وہ پیر پٹختے ہوئے اس تنگ جگہ سے گزری ۔
“سوری پری! ” میں مذاق کر رہا تھا۔ “
وہ بے مشکل ہنسی کنٹرول کرتے معذرت کرنے لگا مگر وہ جھنجھلاتی ہوئی زور زور سے الماری کے پٹ کھول بند کرتی رہی۔
“اچھی لڑکیو ! ،تیار ہو کر لابی میں آجاؤ ۔تمہارے پاس صرف پندرہ ہیں۔ ” وہ جانے کے
صفحہ نمبر 42
لیے اٹھ کھڑا ہوا تو پری نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا، اس نے لباس تبدیل کر لیا تھا۔ شرٹ کی استینیں ادھی،مگر رنگ سیاہ تھا ۔ اور اوپر سفید ٹوریسٹ جیکٹ ،گردن کے گرد بلکل سرخ مفلر ۔
“رائیٹ باس، ! ارسہ نے تابعداری دکھائی۔ وہ مسکراتے ہوئے ایک نگاہ پریشے پر ڈالی اور باہر نکل گیا۔ وہ “اف” کہتے ہوئے کلکس کر رہ گئی۔
ان پندرہ منٹ میں پریشے نے کوئی دو سو دفعہ ان دونو کو “ضرور پروگرام بنانا تھا تم نے اس کے ساتھ ؟” سنیا تھا۔ نشاء ڈھیٹ بنی سنتی رہی ،ارسہ کو البتہ حیرت ہوئے تھی ۔
“یہ پریشے آپی کی کوئی لڑائی ہوئی ہے افق بھائی سے؟ ! وہ تو اتنے کئیرنگ اور سویٹ ہیں ۔
“یہ ایک صدیوں کی داستان ہے، تمہیں ایک شام میں سمجھ نہیں آسکتی ۔”نشاء نے آہ بھر کر کہا ۔
ہیئر برش کرتے پریشے کے ہاتھ ایک لمحے کو تھمے تھے۔ وہ اندر سے کانپ کر رہ گئی تھے ۔ پلٹ کر شاک کی نظر نشاء پر ڈالی اور دوسری اپنی انگلی میں موجود انگوتھی پر ۔ نشاء نے لاپروئی سے کاندھہ اچکا دیے۔ ارسہ کے سر کے اوپر سے سب کچھ گزر گیا تھا۔
وہ پیر پٹخ کر باتھروم میں چلی گئی۔ نشاء کی بات وہ عمومآ مانا نہیں کرتی تھی ،مگر اب اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ تھا ۔ نشاء اور ارسہ چلی جاتی تو اس نے بھلا کیا قصور کیا تھا۔ جو وہ اکیلی چھوٹے سے کمرے میں بیٹھی رہتی؟ یوں بھی افق کے ساتھ مارکیٹ جانا اسے برا نہیں لگ رہا تھا ۔البتہ یوں ظاہر کرنا وہ اپنا فرض سمجھتی تھی ۔
پارکنگ ایریا میں کھڑی ٹور کمپنی کی بس کے ساتھ ٹیک لگاۓ کھڑا افق ان کا انتظار کر رہا تھا ۔انھیں دیکھ کر سیدھا ہوگیا۔ ایک استقبالیہ مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احتاط کر لیا تھا۔ پی کیپ ابھی بھی اس کے سر پر تھی۔
“کینٹ چلتے ہیں، یہاں سے بہت قریب ہے۔ “ان کا رہنمائی کرتے ہوئے وہ ہوٹل سے پارکنگ ایریا سے نیچے سڑک تک جاتی دھلان سے اتر رہا تھا۔
“تم ترکی سے اے ہو یا صوبہء سرحد سے؟ ” نشاء کو اس کا پشاور اور ارد گرد کی معلومات حیران کرتے تھیں ۔
وہ بے اختیار ہنس پڑا ۔”بس پچھلی دافع ادھر آیا تھا تو خاصے دن یہاں گزارے تھے ۔ اس لیے آئیڈیا ہوگیا ہے۔ “
صفحہ نمبر 43
“پچھلی دافع کب اے تھے ؟”
“دو۔ سال پہلے” وہ لوگ ڈھالان اتر کر نیچے سڑک پر آچکے تھے ۔ سڑک اچھی خاصی کھلی تھی
مگر پھلوں کی ریڑھیون اور خوانچہ فروشوں کی باہمی تعاون سے اب بہت تانگ ہو چکی تھی۔ اس جگہ ہوٹلز تھے یا پی سی او ۔
“دو سال پہلے کیا سیرو سیاحت کے لیے اے تھے” ؟
ریڑیوں سے دونوں طرف سے گہری سڑک پر راستہ بنا کر چلنا بہت مشکل تھا، پھر بھی وہ بہت دھیان سے ان دونوں کی گفتگو سن رہی تھی۔
“ہاں سیرو سیاحت کے لیے اور۔ ۔۔”بولتے بولتے وہ یک دم خاموش ہوگیا ۔
“اور ۔۔بس کچھ کم تھا۔ “وہ صاف ٹال گیا تھا۔ نشاء اخلاقیات سے اتنے تو اگاہ تھی کے اگر وہ ٹال رہا تھا تو وہ اس کام کی تفصیل نہ پوچھتی ۔
افق نے ٹیکسی روکی ۔ ٹیکسی والا انگریزی سے نابلد تھا۔ سو کریہ کا معملا نشاء نے ہی طے کیا۔
کئینٹ کی خوبصورت دکانوں کے باہر آہستگی سے چلتے ہوئے وہ چاروں خاصی دیر تک شوپنگ کرتے رہے۔ پھر ارسہ ان کو چھوڑ کر سعید بک بینک کی طرف چلی گئی۔ وہ تینوں ایک جیولری شاپ میں داخل ہوگئے۔
یہ اتفاق ہی تھا کے جب نشاء مختلف ایرینگز دیکھ رہی تھی تو اپنی ڈھیلی پونی کو کستے ہوئے پریشے کے بالوں کا جکڑا ربر بینڈ ٹوٹ گیا۔ اس کے بال کسی ابشار کی طرح کمر پر گر گے۔
“نشی تمہارے پاس کوئی کیچر ہے۔ اپنے لمبے لیزر میں کٹے بالوں کو سمبھالتی وہ پریشانی سے نشاء سے بولی۔
“اپنا خردیتے تمہے موت پڑتی ہے۔ ؟” وہ بہت مصروف تھی ،سو کھٹ سے بولی۔
“دافع ہو جاؤ ” وہ بڑ بڑاتے ہوئے سامنے شوکس پر پڑی باسکٹ میں رکھے کیچرز اور پونیاں دیکھنے لگی۔
“یہ کیسا ہے۔ ؟
اس نے چونک کر سر اٹھیا ۔ افق ہاتھ۔ میں ایک کیچر لیے اسے دیکھا رہا تھا۔ اس نے نظریں جھکا کر کیچر کو دیکھا۔ وہ سلور کلر کا تھا، اس کے ایک طرف گول بڑا سا فیروزی رنگ کا پتھر جب کے دوسری طرف سبز اور نیلا دورنگا پتھر جڑا تھا۔
صفحہ نمبر 44
“اچھا ہے” اس نے خوبصورت کیچر لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔ اق نے وہ اس کی ہاتھ پر رکھنا چاہا، پکڑتے پکڑتے وہ زمین پر گرپڑا۔ وہ گھبرا کر جھکی اور کیچر اٹھا لیا۔ اس کے دو رنگے پھول کے درمیان ضرب لگنے سے ایک ہلکی سے سیدھی لکیر پڑ گئی تھی۔
“ٹوٹ تو نہیں گیا” ؟وہ پوچھ رہا تھا، اس نے نفی میں گردن کو جنبش دی پھر اسے نظر انداز کر کے سیلز مین سے قیمت پوچھی ۔
“دو سو پچاس روپے”
افق نے پیسے دکان دار کی طرف بڑھاے ۔
“سوری، یہ میں خود خریدوں گی” اس۔ نے دبی آواز میں اسے ٹوکا۔
“میں اس لالچ میں تمہیں یہ گفت کر رہا ہوں۔ کے کل تم بھی مجھے کوئی چیز گفت کرو گی ۔”
“میں گفٹس نہ لیتی ہوں نہ دیتی ہوں۔ ” اس نے پرس سے پیسے نکالے ۔
“مگر میں دیتا بھی ہوں اور لینا بھی پسند کرتا ہوں”۔ وہ بضد تھا اسے نظر انداز کرتے ہوئے اس نے پیسے سیلز مین کو تھمائے ۔
خاکی لفافے میں پیک کیا گیا کیچر نکل کر بالوں میں لگیا اور نشاء کی طرف آگئی ۔
ارسہ کے انے اور نشاء کی شاپنگ مکمل ہو جانے کے بعد وہ لوگ باہر نکل اے ۔
باہر اندھیرا پھیل رہا تھا۔ شاپس کے اندر اور باہر روشنیاں جاگمگانے لگی تھیں۔ سٹریٹ لائٹس اور سائن بورڈ۔ روشن تھے ۔
“رات کے کھانے کے لیے تم لوگوں کو پشاور کے بہترین ریسٹورنٹ لے چلوں؟ ” وہ ان کے دایں طرف، جیب میں ہاتھ ڈالے سامنے دیکھتے ہوئے چل رہا تھا۔ وہ اسکے جانب دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔
“پی سی ؟” ارسہ نے جہٹ سے پوچھا۔
“نہیں میں بدمزہ ،باسی اور پہیکہے کھانوں سے لطف اندوز نہیں ہوتا۔ میں تمہے ایک بہترین ریسٹورنٹ لے۔ کر جا رہا ہوں”
شہر کی تنگ و ترک گلیوں سے ٹیکسی میں گزرتے ہوئے انھیں وہ ایک اسی تنگ گلی میں لے آیا ،جہاں بے تہاشا تیسرے درجے کے ریسٹورنٹ بنے ہوئے تھے۔ فضا میں ہر طرف مزے کی خوشبو پھیلی
صفحہ نمبر 45
وہ انھیں نمک منڈی لے۔ آیا تھا۔ پریشے کو حیرت ہوئی،وہ اسکے ملک کو اس سے زیادہ جانتا تھا۔
نمک منڈی نمک والی کڑھائی کھا کر جب وہ لوگ وہاں سے نکلے، تو نشاء نے بے اختیار پوچھ لیا۔
“تم اگر ان جگہوں پر اتنی دافع گھوم چکے ہو تو اب پھر کیوں ادھر اے ہو؟ “
“یہی تو میں کہہ رہی تھی۔ اچھے بھلے ہم جولائی میں ہی راکاپوشی کلایمب شروع کر دیتے
خامخوواہ ادھر انے کی کیا ضرورت تھی۔ پتا نہیں افق بھائ کو اچانک ان علاقوں کا وزٹ کرنے کا خیال کیوں اگیا اور مجھے بھی گھسیٹ لاۓ۔” ارسہ بے اختیار بول اٹھی۔ افق نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اپنے ہوٹل کے کمرے میں واپس اکر نشاء پھر رطب الانسان تھی۔
“میں نے اتنا سوفٹ،نیس اور اچھا انسان زندگی میں پہلی دافع دیکھا ہے۔
“اور۔ نہیں تو کیا۔ جتنی معلومات ان علاقوں کے متلعق انھیں ہیں، میرا خیال ہے وہ ایک بہت کامیاب سفر نامہ نگار بن سکتے ہیں”
“رہنے دو ارسہ ” وہ جو ٹی وی ٹرالی کے قریب کھڑی بوتل منہ سے لگاۓ پانی پی رہی تھی،
قدرے چڑ کر بوتل منہ سے ہٹا کر بولی، “یہ مگربی دنیا کے لوگ ہمارے ملک مے آکر معلومات اس لیے اکہتھی نہیں کرتے کے علمی دنیا کو ہمارا سوفٹ امیج دیکھایں ،بلکے اگر تم ان گوروں کے سفر نامے اٹھا کر پڑھو تو تمہیں علم ہو۔ کے یہ لوگ ہمارے بارے میں کیا کیا زہر اگلتے ہیں۔ ہمیں جاہل پسمندہ اور گیر ترقی یافتہ کہتے ہیں۔ تمہارے یہ افق ارسلان بھی ترکی جا کر یہی کام کرگے ۔سفر نامہ لکھ کر عالمی برادری کو یہ بتایں گے کے ہمارا ملک کتنا قدامت پسند،غریب اور سہولیات سے نا بلد ہے، یہاں کتنی گندگی اور بدنظمی ہے۔ یہ سارے ایک جیسے ہوتے ہیں ،پرو پیگنڈا کرنے والے” ۔
بوتل رکھ کر وہ پلٹی تو ساکت رہ گئی۔ افق لب بہینچھ دروازے کے بیچ کھڑا تھا۔ وہ یقیننا ٹیکسی کا کرایا ادا کرکے انھیں شب بخیر کہنے آیا تھا۔ اور چوں کے وہ ارسہ کے لیے انگلش میں بات کر رہی تھی تو نہ سن لینے کا۔ تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
وہ یک دم تیز تیز قدم اٹھاتا راہداری سے واپس پلٹ گیا۔
نشاء اور ارسہ نے بے بسی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ اس کی ناراضگی وہ محسوس کر چکی تھیں ۔
احساس تو اسے بھی تھا۔ اندر سے وہ بہت پیشمان اور بچیں بھی تھی مگر خاموشی سے لیٹ گئی ۔
صفحہ نمبر 46
“تمہارے پیسے” !نشاء نے اس کے سائیڈ ٹیبل پر 250 روپے رکھے تو اس نے تکیہ چہرے سے ہٹایا ۔
“کون سے پیسے” ؟ وہ اس جیولری والے نے واپس کے تھے ۔ کہہ رہا تھا تم نے اسے دیے ہیں۔
تم اس وقت ارسہ سے بات کر رہی تھیں،میں دینا بھول گئی۔
اس کے انداز میں ہلکی سی خفگی تھی۔
وہ۔ کچھ۔ دیر تو بول ہی نہ سکی۔ کیچر جو اس نے بہت استہقاق سے لگا رکہا تھا، اس کی قیمت ادا اس شخص نے کی تھی جس کی وہ چند منٹ پہلے بے عزتی کر چکی تھی ۔ اس کا دل چاہا کے وہ دہائی سو روپے اسی وقت اس کے منہ پر مر بھی آتی مگر اس نے احمر صاحب کے ساتھ کمرا شیر کیا تھا۔ اور پھر جو کچھ وہ کر چکی تھی سو اب مجبوری تھی۔ وہ خاموشی سے سونے کے لیے لیٹ گئی۔ پیسے اس نے پرس میں رکھ لیے، جتنا وہ اس سے دور بھاگنے کی کوشیش کرتی، وہ اتنا اس کے راستے میں آ جاتا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: