Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 4

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 4

–**–**–

#چوتھی_چوٹی_قسط4
پیر،25 جولائی 2005ء
پوری رات بے چین و مضطرب رہنے کے باعث وہ ٹھیک سے سو نہیں سکی تھی، صبح خاصی دیر سے آنکہ کھلی۔ دن چڑھ چکا تھا، اے سی کی ٹھنڈک کے باوجود سورج کی شعاعیں جو کھڑکیوں کے پیچھے سے جہانک رہی۔ تھیں، تپش پیدا کر رہی تھیں۔ اس نے کسل مندی سے کروٹ بدلہ نشاء اور ارسہ کہیں جانے کے لیے تیار ہو رہی تھیں۔
“مجھے چھوڑ کر جارہے ہو تم لوگ؟ “”بگیر کسی “صبح بخیر “کے اس نے لیٹے لیٹے ہی دونوں کو مخاطب کیا۔
صفحہ نمبر 48
“صبح سے ایک سو دس آوازیں دے چکی ہوں کے اٹھ جاؤ، مگر تم پتا نہیں کون سے اصطراب میں سو رہی تھیں۔ ابھی ارسہ
تم پر پانی پھینکنے لگی تھی۔ “وہاں سے بھی جواب تر سے آیا تھا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
شہلا افتخار کو شاپنگ کے لیے جاناں تھا، ان کی بہن کی شادی عید کے بعد تھی تو وہ اس کو گفت کرنے کے لیے کوئی کراکری یا الیکٹرانک کا سامان خریدنا چاہتی تھی۔ نشاء کو بتایا تو اس نے فورن ساتھ چلنے کی ہامی بھرلی۔
جب وہ سب باہر نکلے تو پریشے کی متلاشی ناگہایں افق کی تلاشی میں ادھر ادھر بھٹک رہی تھی کے اسے بے اختیار اسے اپنی رات والی حرکت یاد آئی تھی۔
“شرمندگی ورمندگی نہیں ہے مجھے، بلکے ابھی تو مجھے وہ کیچر بھی اس کے منہ پر مارنا ہے پر ملے تو نا”!وہ شاید خود کو تسلی دے رہی تھی۔
“سنو ارسہ !کون کون جارہا ہے حیات آباد ؟” بہت لاپروہی سے ٹیکسی کی طرف جاتے ہوئے اس نے ارسہ کو مخاطب کیا۔
“ہم سب”
اب اس “ہم سب” میں وہ شامل تھا یا نہیں۔ وہ پوچھ نہیں سکتی تھی۔ ارسہ اور نشا کے ارادے بتانے والے نہیں تھے۔ سو وہ خاموش ہی رہی ۔ گرمی زوروں کی تھی اوپر سے شیلا اور نشا کی دکان داروں سے بحث سن کر ہی وہ اکتا گئی۔ شہلا کو ایک ڈنر سیٹ پسند آیا مگر وہ آٹھ ہزار کا تھا۔
“کچھ رایت کرو بھائی !، میں کوئی پہلی دافع آرہی ہوں تمہاری دکان پر.؟
ابھی راستے میں ہی تو افتخار صاحب نے بتایا تھا کے وہ اور شہلا حیات آباد دوسری دافع اے تھے۔
” باجی!ام سے قسم لے لو یہ ڈنر سیٹ آپکو پوری مارکیٹ میں اس سے کم کوئی بھی نہیں لیا خالص جاپان کا مال ہے اور باکی لوگ مارکیٹ میں چے نا (چائنا)کا مال رکھتا ہے ۔ وہ اٹھارہ انیس سالہ گورا چٹا لڑکا تھا، چہرے پر چوٹی داڑھی تھی۔
سہلا نے ڈنر سیٹ چھے ہزار مے خریدا ۔ دوسری دکان پر وہی ڈنر سیٹ تین ہزار میں مل رہا تھا ۔
صفحہ نمبر 49
مگر پریشے کو یقین تھا کے وہ ڈنر سیٹ چار پانچ سو سے زیادہ نہیں ہوگا۔ آخر چائنا اور افگانستان سے انے والا اسمگل شدہ مال تھا۔
وہ حیات آباد کے پٹھانوں اور سکھ دکانداروں سے خاصی بور ہوئی تھی۔ شام کو جب وہ واپس آئی تب تک افق کا کوئی اتا پتا نہ تھا۔ وہ انتظار کرتی رہی کہ ارسہ اور نشاء اس کے بارے میں منہ سے کچھ پھوٹیں گی مگر وہ تو شاید اسے بھول بھی چکی تھیں۔
بی حد تھکاوٹ کے باوجود بھی پری سو نہ سکی۔ اگر وہ ناراض تھا تو وہ اسے منانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی۔ مگر وہ ایک دافع نظر تو اے ۔کدھر چلا گیا تھا؟ شاید واپس؟ یہ خیال ہی بہت تکلیف دہ تھا۔ اگر وہ واپس چلا گیا تو وہ ادھر کیا کر رہی تھی؟ اسکو بھی واپس چلے جانا چاہیے ۔
“تو کیا وہ صرف افق کے لیے یہاں تک آئی تھی؟ ” اس خیال نے اسے بچیں کردیا تھا۔
“نہیں میں تو ندا آپا سے۔ ۔۔۔” اسکی دلیل بہت کمزور تھی۔
رات کو نشاء اور ارسہ اسے پشاور کے مشور ” جلیل کے چپل کباب” کھلانے لے گئیں ۔افق کا کوئی پتا نہ تھا۔ اس پر ایک بے نام سی اداسی طاری تھی وہ جو ایک دن بعد ہی بیچ راستے میں چھوڑ کر چلا گیا تھا، وہ اس کا خوابوں کا شہزادہ کیسے ہوسکتا تھا؟
جلیل کے اوپن ایئر ریستورنٹ میں سبز گھاس پر رکھی کرسی پر بیٹھی وہ یہی سوچ رہی تھی ۔لان کی طرز کے سبز گھاس سے ڈھکے قطعہء اراضی کے چاروں طرف سفید باڑ لگی تھی۔ رات کا وقت تھا،
روشنی کے لیے باہر ایک دو ٹیوب لائٹس لگی تھیں اور یہ مدھم مدھم سی روشنی بہت اچھی لگ رہی تھی۔
“تمہیں کچھ اور لینا ہے تو بتادو! “نشاء نے اسکی راہے مانگی اسنے چونک کر نشاء اور وردی ویٹر کو دیکھا پھر نفی میں سر ہلا دیا۔ وہ تو ٹھیک سے سن بھی نہ پائی تھی کے ارسہ اور نشاء نے کیا آرڈر کیا تھا، سجی اور شاید چپل کباب۔ ۔۔ اس کا دماگ تو سیف اور افق کے درمیان پھنسا تھا۔
“معاف کرنا لڑکیوں ! میں ہر گز دیر سے نہیں آنا چاہتا تھا، مگر مجھے راستے میں ایک دلچسپ آدمی جو کسی زمانے کا پورٹر تھا۔ اس سے باتیں کرتے ہوئے وقت ۔ گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا “بہت معذرت” ۔(مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
نہایت عجلت میں ہمیشہ کی طرح بشاش لہجے میں کہتے ہوئے اس دراز قد اور ستواں ناک والے ترک سیاہ نے ارسہ کے ساتھ والی کرسی سبھالی ۔ایک لمحے کو تو پریشے کا دل اچھل کر حلق میں اگیا۔
صفحہ نمبر 50
دوسرے ہی لمحے وہ شانت ہوگئی۔ اسے یوں لگا جیسے اس کا کوئی گمشدہ حصہ واپس مل گیا ہو۔
وہ اگیا تھا، وہ اسے چھوڑ کر نہیں گیا تھا، یہ احساس ہی اسے سکوں دینے کے لیے کافی تھا ۔وہ اتنے پر سکوں ہوگئی تھی کے اسے خود پر حیرت ہوئی۔
“اچھا۔ ۔۔۔وہ کیا کہہ رہا تھا؟ ” ارسہ نے بہت دلچسپی سے پوچھا۔ وہ اسے بیٹھے تھے کے پریشے کے بایں طرف نشاء اور سامنے افق تھا اور نشاء کے سامنے ارسہ بیٹھی تھی۔
افق مسکراتے ہوئے اسے وہ باتیں بتانے لگا، جو اسے اس پورٹر سے معلوم ہوئی تھیں ایک دافع بھی اسنے نظر اٹھا کر پریشے کو نہیں دیکھا تھا۔
“اور نشاء تمہارا دن کیسا گزرا۔ “کارخانہ بازار” میں دماگ تو خالی ہوگیا ہوگا اب تک اسنے رخ سیدھا کر کے نشاء کو مخاطب کیا۔ پریشے کو وہ مکمل طور پر نظرانداز کر رہا تھا۔
“بہت تھکا دینے والا ایک آدمی پندرہ ہزار کا قآلین بیچ رہا تھا، میں نے جان چھڑانے کے لیے پندرہ سو میں دے دو اور کیا تم یقین کروگے ،وہ بولا کے ہاں لے لو! میرے خدایا ۔”
افق لبوں پر ہلکی مسکراہٹ لیے بہت دھیان سے سن رہا تھا۔ خود کو یوں نظرانداز ہوتا دیکھ وہ اپنے ناخونوں سے کھیلنے لگے، اس کے انداز میں اضطراب تھا ۔
وہ بات کرتا تھا وہ رکھائی برتتی تھی ۔اب وہ دور ہو رہا تھا تو وہ بہت بے چین تھی ۔ اگر چہ بظاہر بے نیاز تھی۔
ویٹر ہاتھ میں پکڑی بڑی سی ٹرے لیے انکی میز پر پہنچا تو اسنے چہرہ اونچا کیا ۔نظر سیدھی افق پر پڑی ۔وہ ویٹر کی طرف متوجہ تھا۔ گرے شرٹ کی استینیں کہنیوں تک فولڈ کر رکھی تھی ۔کیپ میں بھورے بال چھپ گے تھے۔
“میں نے تمہیں جلیل ریسٹورنٹ کا اس لیے کہا تھا کیوں کے ان کے چپلی کباب کے ساتھ ان کے نان زیادہ پسند ہیں۔ “سفید بے حد سفید ،آنسو کی شکل کے نان پلیٹ میں نکالتے وہ مسلسل بول رہا تھا۔ اس کی بات سے ظاھر ہوتا تھا کے یہ سارا پروگرام ان تینوں کا طے شدہ تھا وہی لا علم تھی۔
صفحہ نمبر 51
پریشے کے قدموں کے قریب ایک سفید بلی چکراتی پھر رہی تھی۔ اسے دیکھ کر اسے اپنی بلی یاد آگئی، ساتھ ساتھ روشن اور سنی کا رویہ یاد آیا۔ اس نے تھوڑا سا کباب توڑ کر نیچے گھاس پر پھینکا، بلی نے جھٹ سے منہ میں ڈال لیا، وہ مسکرا دی ۔اب وہ ایک نوالہ خود لیتی اور ایک بلی کو دیتی۔ وہ افق کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کر رہی تھی،
“میں پچھلی دافع ادھر آئی تھی تو جلیل بھی آئی تھی مگر وہ یہ والا نہیں تھا۔ “ارسہ کہہرہی تھی۔
” یہاں ایک سے زیادہ جلیل ہیں۔ بہرحال یہ جلیل اوریجنل ہے۔ “وہ واقعی ان کے ملک کو بہت زیادہ جانتا تھا۔
“ویسے افق بھائی! آپ کو دیکھ کر لگتا نہیں ہے کے آپ اتنا کھاتے ہے ایک کوہ پیما کے لیے یہ خاصی عجیب بات ہے۔ “
“دیکھو، میرا زندگی کا فلسفہ یہ ہے کے دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو کھا کر مرتے ہیں اور دوسرے وہ بگیر کھاۓ مرتے ہیں۔ مارنا سب نے ہے، سو بہتر ہے کے کھاکر مراجاۓ”
وہ سر جھکاے بلی کو کباب کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کھلا رہی تھی۔
“ویسے آپ نے سارا دن کیا کیا ؟ہمارے بگیر بور تو ہوئے ہوں گے ناں ؟”
“قطعآ نہیں۔ میں میوزیم اور دیگر ٹورسٹ! ٹریکشنز دیکھ آیا ہوں اور میں نے خوب مزہ کیا، جو آزادی تنہائی میں ہوتی ہے، وہ یقین جانو دو لڑکیوں کے ساتھ ہر گز نہیں مل سکتی۔ “
اس نے تین کے بجاۓ دو لڑکیاں کہا تھا، اس کے دل کو تکلیف ہوئی تھی۔
“آپ نے چاول وغیرہ لے لیے؟ “
“ہاں”
“اور مچھلی بھی؟ “
“اوہ ہو ارسہ ۔۔۔۔۔ میں بچہ نہیں ہوں۔ پچھلے چودہ سال سے کوہ پیمای کر رہا ہوں۔ “وہ بے اختیار ہنسا تھا۔ ” میں نے فوڈ سپلائی بلکل درست رکھی ہے۔ انشاءاللّه ہم رکاپوشی کی چوٹی پر بھوک سے نہیں مریں گے۔ “
ویٹر بل لے آیا تھا، افق نے بل خود ادا کیا۔ وہ ان کے ہمراہ ہوتا تو ریسٹورنٹ کا بل، ٹیکسی کا بل ٹپ وگیرہ خود دیتا تھا۔ نشاء نے بہت دافع ٹوکنے کی کوشش کی، مگر اس معاملے میں وہ خاصی آنا۔
صفحہ نمبر 52
والا تھا۔ اب بھی اسنے سو روپے ٹپ رکھی تو ویٹر حیران سا ہو گیا۔
“یہ کیا ہے سر” ؟
“رکھ لو نیور مائنڈ ! ” وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔بلی جس کا پیٹ آدھا چپل کباب کھا کر بھی نہیں بھرا تھا۔ پریشے کے قدموں کے ساتھ لوٹنے لگی۔ وہ البتہ اچھنبے سے ویٹر کی حیرانی کو دیکھ رہی تھی۔ یہ بعد میں علم ہوا تھا کے پشاور میں ٹپ یا بخشش کا کوئی رواج نے تھا۔
وہ پرس اٹھا کر دو قدم آگے بڑھی تو بلی نے بے اختیار میاؤں کی آواز نکالی اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا، افق میز کے پیچھے سے نکل کر آرہا تھا۔ افق نے اسکی ناگہاوں کے تعاقب سے بلی کو دیکھا۔
“اوہ ہاو سویٹ! “جھک کر اس نے بایاں بازو بڑھایا اور بلی کو اٹھالیا۔ اب وہ اس کی سر پر ہاتھ پھیرے پیار کر رہا تھا۔ ٹیوب لائٹ کی دور سے آتی مدھم روشنی اور چاند کی چاندنی اس کے چہرے کے نقوش کو بہت خوبصورت بنا رہی تھی۔
بلی نے اس کے پیار کا خاصا برا منایا۔ وہ ایک دم چھلانگ لگا کر پریشے کے قدموں میں آگئی ۔اس نے چونک کر قدموں میں لوٹتی بلی کو دیکھا پھر گردن اٹھا کر افق کو، وہ بلی پر ایک نگاہ ڈالتا سائیڈ سے نکل گیاتھا
اسے بے اختیار رونا سا آیا ۔وہ ایسا کیوں کر رہا تھا؟ اتنے بے رخی کیوں کر رہا تھا۔ ؟
جھک کر اس نے بلی کی سفید، نرم کھال پر چمکارنے والے انداز میں ہاتھ پھیرا ۔اسی کھال کو ابھی افق نے چھوا تھا۔ اس کی لمس کے تمازت اسے محسوس ہوئی تھی، اس نے ہاتھ کھینچ لیا اور تیزی سے بھاگتی ہوئی ریسٹورنٹ سے باہر نکل آئی، جہاں وہ سب کھڑے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ افق البتہ ایک چھوٹے سے بچے کی جانب متوجہ تھا، جو بھیک مانگ رہا تھا، اس کا لباس ابتر اور پاؤں ننگے تھے۔
“یہ لو اور ان سے شوز خریدنا “افق نے پانچ سو کا نوٹ بچے کے طرف بڑھایا ۔ بچے نے فورن جھپٹ لیا اور
اور تیزی سے وہاں سے بھاگ گیا کے کہیں وہ واپس نا مانگ لے۔ افق بے چینی فکرمندی سے اسے بھاگتے دیکھتا رہا پھر اس نے بے اختیار سر جھٹکا ۔
صفحہ نمبر 53
“کاش میں ان پہاڑوں میں بسنے والے بچوں کے لیے کچھ کر سکوں”
وہ خاموشی سے لب کاٹتی، سر جھکائے ٹیکسی میں بیٹھ گئی ۔
منگل ،26جولائی 2005ء
ہوٹل کی لابی میں استقبالیہ دسک کے سامنے دیوار کے ساتھ چند صوفے رکھے تھے۔ وہ ایک صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی اخبار دیکھ رہی تھی۔
سر خیوں پر ناگاہیں دوڑاتے ہوئے وہ باقی لوگوں کے نیچے اترنے کا انتظار کر رہی تھی۔ ظفر پہلے ہی باہر بس کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس کے علاوہ ابھی تک سب اوپر تھے۔
“انٹرنیشنل کال ریلیز ہے” انگریزی لب و لہجہ اس کی سماعت سے ٹکرایا۔ اخبار پڑھتے پڑھتے اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ اس کی جانب کمرے کے استقلیہ ڈسک پر کہنی رکھے قدرے جھک کر استقالیہ کلارک سے کہہ رہا تھا ۔اس کی گردن کے پچھلے حصے میں اس سرخ مفلر دکھائی دے رہا تھا، بھورے بالوں پر پی کیپ بھی تھی۔ اس نے شاید ابھی تک پریشے کو نہیں دیکھا تھا۔
اسے بے اختیار اس کا رات والا مگرور اور بے رخی بھرے انداز یاد اگیا۔ اس نے نظریں جھکالیں۔
افق نے ڈسک کلارک کو ایک لمبا چوڑا نمبر بتایا،کلارک نے سلسلے ملنے پر ریسیور افق کو تھمادیا ۔
“سلام و الیکم آنے” اپنے مخصوص ترک لب و لہجے میں وہ اپنی زبان میں بہت پر جوش انداز میں بات کر رہا تھا۔ آخر میں اس نے “گلے گلے آنے” کہہ کر ریسیور رکھ دیا۔
“ایک کال اور کرنی ہے” اس نے دوبارہ ایک اور لمبا چوڑا نمبر ملایا۔
“مرحبا ،از دس تو ماز ؟آئی ایم ارسلان۔ کین آئی سپیک ٹو مسٹر جینیک یقین پلیز؟ ” وہ کسی “جینیک یقین” سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔
مطلوبہ شخص شاید لائن پر اگیا تھا ،وہ یک دم بہت بے تکلف انداز میں بات کرنے لگا۔
انگریزی کے چند جملوں کے باعث وہ اتنا سمجھ چکی تھی۔ کے مخاطب سے اس خاصی بے تکلفی تھی اور وہ اس کو اپنے پشاور سے سوات جانے کے بارے میں اگاہ کر رہا تھا۔ دوسری جانب سے کسی نے کچھ کہا تو وہ بے اختیار ہنس پڑا اور بولا “میں بچپن میں قصے کہانیوں میں جو بات پڑھی تھی، وہ آج سچ ہوگئی ہے۔ یقین کرو، قراقرم کے پہاڑوں پر واقعی پریاں اترتی ہیں”
صفحہ نمبر 54
پریشے کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا تھا،اس کے ہاتھوں پر نمی در آئی تھی۔اس نے گھبرا کر چہرہ بلکل جھکا کر اخبار اگے کر لیا۔وہ یقینآ اس کی موجودگی سے بے خبر، اب اپنی مادری زبان میں الوداعی کلمات ادا کر رہا تھا۔گلے گلے کہہ کر اس نے ریسیور رکھا، پیسے ادا کیے،بقیہ رقم بٹوے میں ڈالی اور بٹوہ جیب میں رکہتے ہوئے پلٹا ہی تھا کے اسے وہاں بیٹھے دیکہہ کر ٹھٹکا۔پریشے نے اپنا چہرہ جھکایا ہوا تھا کہ وہ اس کے چہرے کی اڑی اڑی رنگت نہیں دیکہہ سکتا تھا۔وہ بس ایک لمہے کو وہاں رکا اور پہر باہر نکل گیا۔(
اس نے اخبار میز پر رکھہ دیا اور اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ یہ اس کے ساتھ کیا ہورہا تھا وہ جیسے اس کی بے رخی اور بے اعتنائی سمجھ رہی تھی، وہ سوائے ایک مصنوعی خول کے کچھ نہ تھا؟ وہ خود کو مسلسل تین دن سے اس کے متعلق کیوں سوچے جارہی تھی۔وہ ایک منگنی شدہ لڑکی تھی،حالاں کے منگنی کوئی شرعی تعلق نہ تھا پہر بھی اسے لگتا تھا کے اسے سیف کے علاوہ کسی کے متعلق نہیں سوچنا چاہیں ۔ وہ اسی لیے اسے خود سے دور رکھ رہی تھی، وہ دراصل خود سے لڑ رہی تھی۔پچہلے تین دن سے اسے سکون چاہیے،وہ اسی لیے اسے خود سے دور رکھ رہی تھی،وہ درصل خود سے لڑ رہی تھی۔پچلے تین دن سے جاری اس اعصابی جنگ مین وہ تھکنے لگی تھی۔
وہ کب بس میں بیٹھی بس کب چلی،اسے کچھ ہوش نہ تھا۔اس نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر انکہیں موند لیں۔
زندگی کی سچائیاں اور حقیقتیں کتنی تلخ ہوتی ہیں۔وہ قفس میں قید اور اپنی مرضی سے سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔نومبر میں اس کی شادی سیف جیسے ناپسندیدہ سخص سے ہو جائے گی۔وہ کس طرح اپنی زندگی گزارے گی اس سطہی انسان کے ساتھ؟ وہ اس کے لیے نہیں بنا تھا وہ اسکے لیے بنایا ہی نہیں گیا تھا۔
اس لمحے جب ٹور کمپنی کی بس صاف ستھری،کشادہ سڑک پر دوڑتی ہوئی پشاور کے حدود سے باہر نکل رہی تھی تو پریشے کے ذہن میں بس ایک ہی فقرہ کی بازگشت گونج رہی تھی۔
“قراقرم کے پہاڑوں پر پریاں اترتی ہیں”
وہ بند آنکہوں سے مسکرائی۔اس کی مسکراہٹ بہت سوگوار تھی۔
“قراقرم کے پہاڑوں پر پریاں اڑتی ہیں افق ارسلان،مگر وہ سیف الملوک تک محدود ہوجاتی ہیں۔پردیسی کوہ پیمائوں کے لیے پریاں نہیں ہوتیں”۔
صفحہ نمبر 55
اسنے آنکہیں کھول کر دائیں جانب دیکھا۔ اس کے ساتھ نشاء بیٹھی تھی۔ نشاء کے دائیں جانب برابر والی قطار میں افق ترچھا ہو کر بیٹھا نشاء سے باتیں کر رہا تھا۔ وہ خاصا خوشگوار موڈ میں تھا۔ پریشے کو جاگتے دیکھ کر اس نے ایک دوستانہ مسکراہٹ اس کی جانب اچھلی ۔
“ہماری گفتگو سے تم ڈسٹرب تو نہیں ہورہی۔ “کل رات والی akr ،بے نیازی، بے اعتنائی، سب غایب تھا۔ وہ واقعی اس کو نہیں سمجھ پائی تھی۔
“نہیں” مختصرآ کہہ کر اس نے رخ کھڑ کی کی طرف پھر لیا ۔شاید وہ بھی خود سے لڑتے لڑتے عاجز آچکا تھا یا پھر شاید کل رات والا رویہ محض اس کو پرسوں رات والی تقریر کے جواب میں نارضگی کا اظہار تھا۔ یا پھر شاید وہ سب کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ اس کے متلق کوئی احساس ہی نہیں رکھتا تھا ۔
اس کا ذہن منفی انداز میں سوچنے لگا تھا۔
“میں غلط سوچ رہی ہوں” وہ نشا اور ارسہ سے بات کرتا ہے، مجھسے نہیں پھر میں نے کیسے فرض کر لیا کے وہ میرے متلق کوئی خاصا جزبہ رکھتا ہے؟ وہ تو نگر نگر پھر نے والا ایک مسافر ہے جو دنیا کے سب سے حسیں پہاڑ کو سر کرنے کا عزم لیے میرے دیس آیا ہے اور چند دن ان خوبصورت وادیوں ،چشمو،اور پہاڑوں کے درمیان بتا کر اسے یہاں سے چلے جانا ہے۔ وہ جانے کے لیے ہی تی آیا ہے پھر میں اتنی جذباتی کیوں ہورہی ہوں؟ مجھے اس کے ساتھ نارمل رویہ اختیار کرنا چاہیے “
وہ اس کا ہم سفر تھا، وہ کیوں خواہ مکھوا کی خود سے جنگ لڑ رہی تھی؟ افق کو تو واپس ترکی جا کر یہ بھی یاد نے رہے کے مارگلہ کے پہاڑوں پر جب بادل اترے ہوئے تھے۔ تو گھوڑا دوڑاتے ہوئے بیچ سڑک پر اسے کوئی لڑکی ملی تھی۔ سیاہ تو بہت کٹھور ہوتا ہے، خوبصورت ماناظر پلکوں میں جذب کر کے اپنے دیس لوٹ جاتا ہے، پھر پلٹ کر نہیں اتا۔ تو وہ کیوں اپنے اندر کوئی جذبہ پالنے لگی تھی؟
اس کا دل قدرے ہلکا ہوا تھا۔ کوئی پریشانی جیسے ختم ہوگئی تھی۔ اگر اس کے اندر کوئی جذبہ پنپ بھی رہا تھا تو اس نے قطرے جتنے جذبے کو سختی سے سیپ میں بند کر کر اپنے دل کے وسیع سمندر میں دفن کر دیا ۔
56
“گاڑی کا انجن قدرے گرم ہوگیا ہے۔ میں نے سوچا اس میں پانی ڈال لوں، آپ تب تک آس پاس گھوم پھر لیں”
گاڑی اچانک روک کر ظفر نے وضاحت دی۔
وہ دوسرے مسافروں کے ہمراہ بس سے باہر نکلی تو اسے احساس ہوا کے بس کافی دیر سے مرگلہ کے پہاڑوں پر چڑھ چکی تھی۔ اس وقت بھی وہ در گئی کے سرخ ور بھورے خشک پہاڑوں بہت اونچے تھے۔ سڑک کشادہ تھی، دائیں جانب کھائی ور بائیں جانب پہاڑ تھے۔
ظفر بس کا تیل پانی چیک کرنے لگا افتخار صاحب ور سہلا قریب موجود کھوکھ کے طرف کولڈ ڈرنک کا کارنر تھا، وہاں چلے گے۔ احمر انکل تصویر کھینچنے لگے افق بھی تصویر بنا رہا تھا۔
وہاں سڑک خالی ہی تھی۔ چند منٹ بعد کوئی ٹرک یا کار گزر جاتی تھی۔ سبھا ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا۔ موسم پشاور کی نسبت خوشگواڑ تھا۔
“سنو پریشے” وہ پہاڑ کے دہانے پر ایک سرخ پتھر پر اپنے قیمتی سوٹ کی پرواہ نا کرتے ہوئے خاموش بیٹھی تھی، جب افق نے اسے آواز دی۔ اس نے سر اٹھا کر افق کو دیکھا ۔وہ کیمرے گلے میں ڈال کر اسی کی طرف آرہا تھا۔
وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ “سن رہی ہوں، تم بولو” خود سے اعصابی ترک کرکے ور مصنوعی خول اتار کے وہ خاصی ہلکی ہوگئی تھی۔
“تم شرط لگاؤ گی میرے ساتھ” ؟وہ کل سے مختلف اصلی والا افق لگ رہا تھا۔
“بلکل! کیوں کے مجھے پتا ہے میں جیت جاؤں گی” وہ پچھلے تین دن سے مختلف بلکل اصلی والی پریشے تھی۔
“اوہ !اتنی خود پسندی ؟”وہ مسکرایا۔
“خود پسندی نہیں، خود اعتمادی کہو”
“فائن! تم پلیز ایک شرط لگاؤ گی؟ “افق کا انداز ایسا تھا جیسے وہ بچپن سے دوست رہے ہو۔
“ہاں اب بتا بھی دو”
“وہ اوپر جاہڑی دیکھ رہی ہو، وہ تقریبآ یہاں سے چالیس فٹ اونچی ہے۔ تم میرے ساتھ ایک ریس لگاؤ، دیکھتے ہیں اوپر پہلے کون پہنچتا ہے” ،افق نے ہاتھ سے اوپر جہاڑی کی طرف اشارہ کر کر کے کہا۔ ۔۔
صفحہ نمبر 57
“ایک مخلصانہ مشورہ دوں؟ اگر تم اسی وقت یہاں سے نیچےچھلانگ لگا دو یقین کرو بہت جلدی اوپر پہنچو گے۔ “
“وری فنی !میں ارسہ اور نشاء کو بلاتا ہوں، وہ ججز ہوں گی” وہ پلٹ کر ان دونوں کو بلانے چلا گیا۔
“جو جیتے گا اسے کیا ملے گا؟ “ان تینوں کے واپس آنے پر پری نے پوچھا۔ نشاء کو اسکے رویہ کی تبدیلی پر خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
“مرسیڈیز بینز “
“نہیں تبت کا ریٹرن ٹکٹ” ارسہ فورن بولی۔
“پوری دنیا امریکا،انگلینڈ جانے کی خوائش کرتی ہے، لیکن تم کوہ پیما تبت سے اگے مت بڑھنا” نشاء ان لوگوں مے سے تھی، جن کو کوہ پیما کے متلعق علم کلف ہیںگر اور وارٹکل لمٹ جیسی فلموں تک محدود تھا، البتہ تبت کو وہ تبت سنو کریم کے حوالے سے تھوڑا زیادہ جانتی تھی۔
“اچھا خاموش رہو تم دونوں_ میں بتاتا ہوں جو ہارے گا اسے جیتنے والے کا ڈیئر (dare) پورا کرنا ہوگا ٹھیک ؟”
“ٹھیک تو میرا dare پورا کرنے کے لیے تیار رہنا” وہ عتماد سے مسکرای ۔
“دیکھتے ہیں میڈم “اسکا انداز بھی بہت چیلنجنگ تھا۔
“اب شروع کرو، اس سے پہلے کے دوسری ٹرافک آئے اور لوگ تمہارے اس بچکانہ ایڈونچر کو دیکھیں”
پھر ان پہاڑوں پر پہلا ایڈونچر شروع ہوا۔
وہ خاصی پر عتماد تھی، مگر چار سال سے وہ پہاڑوں پر نہیں چڑھی تھی، ناتیجنآ وہ قدرے سست تھی اور ان خاردار کانٹوں اور جہاڑیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے بہت تیزی سے اپنے مطلوبہ ہدف تک پہنچ گیا تھا۔ وہ چند فٹ ہی پیچھے رہ گئی تھی۔
“میں جیت چکا ہوں” جہاڑی کو چھو کر وہ ناہموار ڈھالان میں سے راستہ بناتا اس کے قریب آیا۔ شکست کے احساس سے اس کے اندر کوہ پیما لڑکی خاصی بری طرح مجروح ہوئی تھی۔
“میں مشکل راستے سے آرہی تھی جب کے جس جگہ سے تم چڑھے تھے، وہ مقامی لوگوں کا بنایا گیا ہموار راستہ ہے اور اس سے چڑنا خاصا آسان ہے۔ “
صفحہ نمبر 58
“میڈم ،جب زندگی ایک آسان راستہ دے رہی ہو تو کٹھن راستوں سے سفر نہیں کیا کرتے ہماری منزل ایک ہی تھی تو راستہ بھی میرے والا ہی چنتی! “
پریشے نے شانے اچکادیے “میں ہار مانتی ہوں۔ بہرحل تم شاعری اچھی کر لیٹے ہو۔ وہ اپنے جوگرز نیچے والے پتھر پر رکھ کر اترنے لگی۔ اترائی چڑہائی کی نسبت زیادہ مشکل تھی۔
“شکریہ اور تمہیں میرا ڈیئر تو پورا کرنا پڑے گا وہ اس کے عقب میں اتر رہا تھا۔
“بہتر ہے کے وہ آپ سوات پہنچ کر ہی بتائیں ،کیوں کے ظفر بلا رہا ہے” ۔ارسہ نے ان کو ظفر کی طرف اشارہ کرت ہوئے کہا۔
“سوات کتنی دور ہوگا یہاں سے” ؟ اپنی قمیس کے دامن سے چپکا ایک کانٹا الگ کرتے ہوئے پریشے نے پوچھا۔
“دو گھنٹے” جواب افق کی جانب سے آیا تھا۔ وہ اف کر کے رہ گئی۔ وہ ہر جگہ کا جاغرافیہ جان چکا تھا۔
“کبھی میں ترکی آئی ناں تو تمہارے ملک کے چپے چپے کا نام نام حفظ کر کے تمہیں بھی امپریس کروگی “
بس کی طرف جاتے ہوئے وہ بولی۔ افق اس کے آگے تھا اس کا ہاتھ دروازے پر تھا، اس کے بات سن کر وہ ٹہٹک کر پلٹآ۔
“کب آؤ گی ترکی؟ ” اس کے لہجے میں خوشی اور آنکھوں میں امید تھی۔ وہ ہنس پڑی ۔
“میں مزاق کر رہی تھی” ۔
“اچھا” وہ اسے راستہ دینے کو پیچھے ہوا، وہ دروازے کے ساتھ لگی راڈ پکڑ کر اندر چڑھ گئی اسی وقت وہ بہت مدھم آواز میں بولا۔ (
“سنو ہنستے ہوئے اچھی لگتی ہو ۔ہنستی رہا کرو!”
پریشے کے چہرے سے یک دم مسکراہٹ غائب ہوگئی۔ اس کی بھنویں تن گئیں۔ وہ تیزی سے اپنی جگہ پر بیٹھی اور سختی سے لب بھینچے کہڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ وہ اس کے موڈ کی خرابی کو دیکھ نا سکا تھا۔
تقریبن ساڑھے دس کے قریب وہ لوگ ان پہاڑوں تک پہنچ چکے تھے، جن کے دامن میں وادی سوات کا خوبصورت دریا، دریائے سوات بہتا تھا۔
صفحہ نمبر 59
“یہ انسانی فطرت ہے کے پانی کے قریب جا کر وہ خود کو بہت ہشاش بشاش محسوس کرتا ہے۔
اکثر جب ہم دریا کے قریب ہوتے ہیں تو خود کو بہت تازہ دم محسوس کرتے ہن ” آواز بہت اجنبی تھی۔ پریشے نے تعجب سے سر گھما کر پیچھے دیکھا کے یہ بات کس نے کہی ہے۔ اسے حیرت ہوئی کیوں کے یہ افتخار صاحب تھے ۔
“یہ بولتے بھی ہیں؟ میں تو سمجھتی تھی گھونگے ہیں” نشاء نے بہت متعجب انداز میں اس کے کان کے قریب سر گوشی کی۔ اس کے لبوں سے ہنسی کا فووار چھوٹا تھا۔
سب نے ۔۔۔۔ یہاں تک کے ڈرائیو کرتے ظفر نے بھی اسے کی طرف دیکھا تھا۔ وہ ہنسی کنٹرول کرنے کی کوشش کے باوجود ہنستی چلی جارہی تھی۔ افق اس کو یوں بچوں کی طرح ہنستے دیکھ کر مسکرایا۔
اس کی ہنسی تھم گئی، وہ سختی سے لب بہینچ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
“نشاء!اپنی دوست سے کہو اس کی کھڑکی کے باہر خشک پہاڑ ہیں، دریا تو بائین طرف بہ رہا ہے۔ وہ کس کو دیکھ رہی ہے؟ “وہ نشاء کے ساتھ والی نشست پر تھا، اس کی اور نشاء کی نشست کے بیچ درمیانی راستہ تھا۔ وہ ایک جوگر اگلی نشست پر اور دوسرا درمیانی راستے میں رکھے قدرے جھک کر آہستہ سے نشاء سے بولا،
“پری !تمہاری کھڑ کی کے باہر خشک پہاڑ ہیں، دریا تو بائیں طرف بہ رہا ہے تم کس کو دیکھ رہی ہو؟ “
“پہاڑوں کو” !اس نے چہرہ موڑے بگیر سنجیدگی سے کہا ۔
“لگتا ہے ڈاکٹر کا موڈ پھر سے خراب ھوگیا ہے۔ ویسے اس کو یہ دورے دن میں کتنی دافع پڑھتے ہن؟ “
“جتنی دافع کوئی عامیانہ انداز میں میری تعریف کرے” کھٹ سے جواب آیا تھا۔
“اوہ !”وہ سمجھ گیا تھا۔
“میں تو بس دل رکھنے کو کہہ رہا تھا تا کے تم ہنستی رہو اور اتنی غصے والی کھڑی اکھڑی سے شکل ہر وقت نہ بنائے رکھو۔ تمہیں برا لگا؟ “
“ہاں” وہ ابھی تک کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔
افق نے بے مشکل مسکراہٹ لبوں تک روکی تھی۔
“بہت معذرت میں آیندہ اسے جھوٹ بولنے کی ہمت نہیں کرو گا”
“تمہارے حق میں یہی ٹھیک رہے گا” ۔
صفحہ نمبر 60
“بہتر! اب اس طرف دیکھ لو۔ دریا بہت خوبصورت لگ رہا ہے۔ “
اس نے گردن کو بائیں جانب جبںش دی، افق مسکراہٹ چھپانے کو چہرہ اپنی دوسری جانب موڑ چکا تھا۔ اس نے افق کی کھڑکی کے کھلے شیشے کے پار نگاہ دوڑائی۔ اور پھر نگاہ ہٹانا بھول گئی۔
سبز سے ڈھکے سبز پہاڑوں کے درمیان، سڑک سے کوئی سو میٹر نیچے، بل کھاتا ۔اس کا پاٹ کسی ندی سے تھوڑا سا ہی زیادہ چوڑا تھا۔ پانی۔ بہت نیلا تھا۔ جس کے اوپر جھاگ پتھروں سے ٹکرانے کے باعث پیدا ہورہے تھے۔ اس میں رکھے دیو قامت پتھروں سے ٹکراتے پانی کا شور بہت بلند تھا۔ سوات اور کلام میں یہ شور آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔
دریا کے دونوں طرف کے پہاڑ سر سبز تھے جن پر مقامی لوگوں نے فصلیں اگا رکھی تھی۔
پہاڑوں کی ڈھالان ہموار نہیں ہوتی، فصلیں بھو سیڑیوں کی شکل میں اگائی گئی تھیں۔ یوں بھی ہوتا تھا کے جیسے چوٹی تک جانے کے لیے بے شمار سبز زینے سے بنےتھے۔
کبل سے گزر کر جس وقت بس مینگورہ میں داخل ہوئی وہ اپنی اور افق کی گوفتگو بھلا چکی تھی دراصل وہ نیلا دریا اتنا خوبصورت تھا کے وہ اس پر سے نگاہ ہو نہ ہٹا پارہی تھی۔
پھر بس شہر میں داخل ہوئی۔ سرینہ ہوٹل، سید و شریف کی عمارت کے قریب سے ٹرن لے کر بس “مرغزار” کی جانب روانہ ہوگئی جہاں کے فائیو سٹار ہوٹل میں ان کی بکنگ تھی۔
“ظفر! وہ ہوٹل رائل پلس کہاں گیا” ؟افق کھڑکی سے باہر متلاشی نظروں سے کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔
“سر! وہ جو والی سوات کا محل تھا” ؟
“ہاں وہی” ۔
“وہ تو اب کوئی ٹیوشن اکادمی بن چکا ہے” ظفر کے انداز سے لگ رہا تھا کے اسے والیء سوات کا یہ اقدام پسند نہیں آیا۔
“ویسے سر! قسم سے وہ بہت خوبصورت ہوٹل تھا”
“ہاں وہ بہت خوبصورت تھا۔ میں دو سال پہلے ادھر آیا تھا تو ایک دن رہا تھا وہاں ،ٹیوشن سینٹر بنا کر والیء سوات نے اچھا نہیں کیا” ۔
پری نے چونک کر افسوس سے سر ہلا تے افق کو دیکھا۔
صفحہ نمبر 61
پرسوں جب نشاء نے اس سے برس قبل پاکستان آنے کے متعلق استفار کیا تھا تو وہ ٹال گیا تھا۔ وہ دو سال پہلے یہاں کیوں آیا ؟ایسا کون سا کم تھا جس کے متعلق وہ نہیں بتاتا تھا؟ اسے الجھن کے ساتھ ساتھ تجسس بھی ہوا تھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ ” وہ الجھن کے عالم میں افق کو دیکھ رہی تھی تو اسنے مسکرا کر ٹوکا۔
“کچھ نہیں” ۔وہ سر جھٹک کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
مرغزار جانے والا راستہ شہر سے دور ہٹ کر خاصا سنسان اور پر سکون سا تھا۔ دور دور تک ان کی بس کے علاوہ کوئی گاڑی نہیں تھی۔ ہر طرف اتنا سکوت اور ویرانہ سا تھا کے پریشے کو لگا ظفر راستہ بھول گیا ہے۔ وہ یقینن کسی انجان وادی میں بھٹک رہے ہیں، مگر ہر کلو میٹر بعد “وائٹ پلس اتنے کلو میٹر دور” کا بورڈ اس کے دل کو تسلی دیتا تھا۔
“ہوٹل منجمنٹ کے نقطہ نظر سے وائٹ پلس کی لوکیشن زبردست ہے۔ آبادی سے بہت دور اس مرغزار میں واحد یہ ہوٹل ہے کے جب ٹورسٹ کئی کلو میٹر سفر کر کے تھکا ہر ہوٹل تک پہنچتا ہے تو ۔۔۔۔۔ظفر ایک منٹ گاڑی روکو” وہ ہوٹل کی لوکیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے اچانک سیدھا ہو کر بولا۔
ظفر نے گاڑی رو کی افق نے اپنا بند شیشہ نیچے کر لیا۔
باہر ایک سرخ رنگت اور سنہری بالوں والا بچہ کھڑا تھا۔ اس کا۔ لباس میلا تھا، پاؤں میں جوتا بھی نہ تھا۔ اس۔ نے لمبے پتلے تنکوں پر انجیر اور اخروٹ لگا رکھے تھے۔ اخروٹ سبز اور کچے تھے۔
“اس سے کہو سو روپے کے دے دے “افق نے ایک سرخ نوٹ شیشے سے باہر بچے کی طرف بڑھایا۔ احمر صاحب نے ترجمانی کی۔
“یہ سب تو چالیس روپے کی ہے۔ “بچہ بولا تھا۔ احمر صاحب نے افق کو بتایا۔
“تو پھر یہ ساری دے دو” !
“تم ساری لے لے گا تو ام شام تک تمہارا سر بچے گا؟ “بچہ سارے انجیر دینے پر راضی نے تھا۔
احمر صاحب ترجمانی کر رہے تھے۔
“اوہو، تو دے دو اور باقی پیسے تم رکھ لو”
“افق!وہ ایسے نہیں رکھے گا۔ تم اس سے صرف بیس روپے کی انجیر خرید سکتے ہو”
صفحہ نمبر 62
“اچھا” افق نے دس کے دو نوٹ باہر بچے کو دے دیے ۔اس نے دو ٹہنیان اس کی طرف بڑہائیں۔
بس پھر سے چل پڑی تھی۔ پریشے جانتی تھی کے افق کو انجیر کھانے کا کوئی شوق نہ تھا، وہ صرف بچے کی مدد کرنا چاہتا تھا اور تھوڑی دیر بعد ہی وہ باقی لوگوں میں انجیر بانٹ رہا تھا۔
“تم خود بھی کھاؤ نا! “
“میں پھل وغیرہ نہیں کھاتا” اس نے لاپروائی سے شانے جھٹکے۔
ظفر نے بس روک دی۔ بس سے بھر نکلتے ہوئے اس نے بالوں میں لگے کیچڑ کو جھٹکا۔ اسے احساس ہوا کے کیچر کا دو رنگا پتھر قدرے ڈھیلا ہو چکا تھا۔ بس ایک بار کیچر گرنے پر پھر وہ الگ ہوجاتا۔
اس نے وہ افق کو واپس کرنے کا سوچا تھا مگر جانے کیوں اس کا دل ہی نہیں چاہا تھا کے وہ واپس کرے۔ اب وہ اسے اپنے پاس رکھنا چاہتی تھی ہمیشہ کے لیے۔
وہاں ایک کھلا سا پارکنگ لاٹ بنا تھا، جس کے آخر میں خاصی چوڑی سیڑحیان تھی۔
پارکنگ لاٹ کے بائیں جانب ڈھالان تھی۔ وہاں چند فٹ نشیب میں تین چار دکانیں تھیں۔ جہاں سواتی شالیں لٹکی دیکھائی دے رہی تھیں۔ دکانوں کی بائیں طرف پہاڑ ختم ہو جاتا تھا اور چشمہ بہ رہا تھا۔ بہتے پانی کی آواز اسے بہت پسند تھی۔
سیڑیوں کے اختتام پر دور تک پھیلا سبز لان تھا جس میں سنگ مر مر کے بینچ کرسی اور میز رکھی تھیں۔ لان کے اختتام پر سفید رنگ کا محل تھا، دودھ کی طرح سفید اور خوبصورت کے اس پر نگاہ نہ ٹھہڑتی۔ لان کی دائیں طرف سیدھی پتھریلی روش تھی۔
“پری ! یہ ہوٹل میں نہ دیکھ رکھا ہے۔ وہ ڈرامہ “موم کا چہرہ” یہیں تو شوٹ ہوا۔ تھا نشاء ن آہستہ سے اسے بتایا۔
شحلا اور افتخار کو اس روش کی دائیں جانب بنے کمروں میں سے ایک مل گیا تھا باقی سب کو دوسری منزل پر کمرہ ملا تھا
“مجھے نہیں رہنا دوسری منزل پر نانگا پر بت سر کرنا آسان ہ
صفحہ نمبر 63
“دوسری منزل چڑھنا بہت مشکل “افق ن یہ سنتے ہی کی اسے دوسری منزل پر رہنا ہوگا، منہ بنایا تھا مگر کسی نے اس کی بت کو اہمیت نہ دی۔
وائٹ پلس کی وہ سفید عمارت دراصل اس کی پہلی منزل تھی۔ پتھریلی روش کے بائیں جانب جہاں چند کمرے اور دکانیں تھیں، ان کے اگے طویل سیڑحیان پہاڑ کے اوپر لے جاتی تھیں، جہاں دوسری منزل تھی۔ وائٹ پلس کی چاروں منزلیں اس طرح مختلف بلندیوں مگر ایک ہی پہاڑ پر اوپر تلے بنی تھیں۔
وہ سیڑیاں واقعی مشکل تھیں۔ یہ احساس اسے انہیں عبور کرتے ہوئے ہی ہوگیا تھا۔ نیچے بہتے جھرنے کا شور ابھی تک اس کی سماعت سے ٹکرا رہا تھا۔ اس نے ارادہ کر لیا کے وہ شام کو اس جھرنے تک ضرور جاۓ گی۔
“دور سے دیکھنے میں یہ طویل سیڑیاں جتنی خوبصورت لگتی ہیں۔ انھیں چڑھنے لگو تو اتنی ہی تھکاتی ہیں۔ اف اللہ !” سیڑیاں نیچے اترتے ہوئے اس نے بے اختیار جہنجھلا کر دائیں طرف نسب پنجرے پر ہاتھ مرا تو اندر بیٹھا خوبصورت مور سہم کر پیچھے ہوا۔
“سوری” اسے بے اختیار شرمندگی ہوئی۔ اس کے اگے سیڑیان اترتے افق نے سر گھما کر اسے دیکھا اور پھر ہولے سے مسکرایا۔ پھر مسکراہٹ چھپانے کو رخ اگے پھیر کر نیچے اترنے لگا۔ اس نے اس کی مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی، وہ بہت مسحور سی ہو کر اس خوبصورت مور کو دیکھ رہی تھی۔
ان سیڑیوں کے دائیں اور بائیں جانب بہت بڑے بڑے پنجرے بنے تھے جیسے چڑیا گھر میں ہوتے ہیں۔ ان پنجروں میں مختلف پرندے ،مور اور بندر مقید تھے۔ اسے افسوس ہوا تھا کے اس نے اتنے خوبصورت مور کو ڈرا دیا تھا۔
“رک کیوں گئی ہو؟ چلو” !نشاء نے پلٹ کر اسے دیکھا، وہ سر جھٹک کر سیڑیاں اترنے لگی۔ وہ چاروں نیچے جھرنے پر جارہے تھے۔
پتھریلی روش جہاں ختم ہوتی اور جہاں سے پارکنگ لاٹ میں جانے کے لیے چند بے حد چوڑے زینے بنے تھے، اس جگہ پر ناشپتی کا ایک درخت تھا، جس کے تنے کے ساتھ کرسی پر ایک بوڑھا سیکورٹی گارڈ بیٹھا تھا۔
صفحہ نمبر 64
“یہاں سے ناشپتی نہیں توڑ سکتے؟ “اس نے بڑی حسرت سے درخت کو دیکھا۔
افق دھیرے سے مسکرایا، “وہاں جھرنے کے اوپر دائیں طرف کے پہاڑ پر چڑہتے ہوئے اگے جنگل ہے وہاں جنگلی ناشپتی کے بہت سارے درخت ہیں۔ وہاں سے توڑ لینا، اس درخت کو تو یہ آدمی تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگانے دے گا” اس کی آواز میں تھکاوٹ تھی۔
“تم ادھر ہی پیدا ہوئے تھے یا یہ انفارمیشن ہم پر اپنے علم کا رعب جھاڑنے کو دیتے ہو؟
“نہیں ،دراصل میں جینیک ،جنگلی ناشپتی بہت شوق سے کھاتا ہے۔ پچھلی دفعہ وہ میرے ساتھ آیا تھا تو وہاں چشمے کے اوپر ہم نے ناشپتی کے درخت دریافت کیے تھے ۔
“جینیک کون؟ “ارسہ اور نشاء نے پارکنگ لاٹ احاطہ عبور کرتے ہوئے بہ یک ساتھ پوچھا تھا۔
“میرا دوست، جینیک یقین۔ (jenk yakin )”اس کی آواز قدرے پژ مردہ سی ہوگئی آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں، شاید سفر کے باعث تھک گیا تھا۔
جھرنے کا لکڑی کا پل عبور کر کے وہ دوسرے پہاڑ پر مقامی لوگوں کے بنائے گے کچے راستے پر اوپر چڑنے لگے۔ راستہ بہت کچا تھا، پریشے کے جوگرز پر مٹی لگ رہی تھی، اس نے ہاتھ سینے پر باندھ رکھے تھے اور سر جھکا ہوا تھا۔ افق جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کے برابر میں مگر چند قدم کا فاصلہ رکھے چل رہا تھا۔
“وہ رہے ناشپتی کے درخت “۔افق کی آواز پر اس نے چلتے ہوئے سر اٹھا کر اوپر دیکھا وہاں درختوں کے جھنڈ تھے۔ اسے سامنے پڑا پتھر دکھائی نہیں دیا، اس کا پاؤں پتھر سے ہلکا سا ٹکرآیا اور وہ جھٹکا کھا کر لڑ کھڑائی۔ افق نے تیزی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔
وہ لڑھکنے نہیں لگی تھی، بلکے ہلکی سی لڑکھڑائی ہی تھی۔ مگر وہ سمجھا تھا کے وہ پہاڑ پر سے گر رہی ہے۔ اس لیے اس نے فوری ردعمل کے تحت اس کا ہاتھ پکڑ کر سہارا اور پھر فورن ہاتھ چھوڑ دیا۔ ارسہ اور نشاء ان سی کافی اگے جا چکی تھیں۔
وہ چلنے کے بجاۓ رک کر اسے دیکھنے لگی۔ وہ قدرے وضاحت دینے والے انداز میں بولا
“سوری، میں سمجھا تم گرنے لگی ہو” ۔
“تمہارا داماغ درست ہے؟ “وہ اس کے سامنے کھڑی اسے گھور رہی تھی۔
صفحہ نمبر 65
“پری۔۔۔۔۔۔میں” ۔
اس نے افق کی بات سنے بگیر تیزی سی اس کی کلائی تھامی۔
“تمہیں بخار ہے، اتنا تیز بخار ہاتھ دیکھو، کتنا گرم ہورہا ہے اور نبض دیکھو کیسے دوڑ رہی ہے اور تم بجاۓ ریسٹ کرنے کے ہائیکنگ کرنے نکلے ہوئے ہو، ہاں! “اسے اس لاپروہ انسان پر بہت غصہ آیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: