Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 5

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 5

–**–**–

#پانچویں_چوٹی_حصہ_اول
قسط 5
بدھ 27 جولائی 2005ء
وہ کمرے کا دروازہ کھول کر باہر بر آمدے میں آگئی۔ برآمدہ کافی طویل تھا اور ہر کمرے کے دروازے جی دونوں اطراف خوشنما پھولوں کے گملے رکھے تھے۔ بر آمدے کے اگے سفید ستوں سے بنے تھے، وہ ایک ستون سے ٹیک لگاۓ سامنے کا منظر دیکھنے لگی۔
قدرتی گرین گھاس سے ڈھکے مستطیل لان کے دہانے پر لگی جھاڑیوں کی باڑ کے ارد گرد ہی چھوٹا بندر چکراتا پھر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ادھ کھایا، چھوٹا سبز سیب تھا۔ وہ فجر کا۔ وقت تھا۔ ہر طرف گھیرا نیلاہٹ بھرا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ دور جنگل سے جانوروں کے بولنے کی آوازیں ماحول پر چھایا سکون چیر رہی تھی۔
صفحہ نمبر 70
رات خوب بارش ہوئی تھی، برآمدے کی مخروطی چھت سے پانی تپک رہا تھا۔
تب ہی اس کی نگاہ گیلی گھاس پر پڑی ،جہاں ایک طرف سی کیاری میں جاۓ نماز بچہاے افق ارسلان نماز پڑھ رہا تھا۔ اس نے نیلی جینز کے پائنچے اوپر فولد کیے تھے۔ جسم پر جیکٹ اور مفلر نہ تھا البتہ اس نے پی کیپ الٹی کر کے سر دھانپ رکھا تھا۔
سینے پر ہاتھ باندھے ،سر جھکاے کھڑا وہ بہت اچھا لگ رہا تھا وہ گھاس پر آگئی، جوگرز کے بجاۓ نرم چپل پہنے کے باعث گیلی گھاس اس کے پیروں کو گیلا کرنے لگی تھی وہ سیڑیاں اترنے لگی۔
سیڑھیوں۔ کے دائیں طرف پنجرے میں مقید مور جاگے ہوئے تھے۔ نیلے اور سبز رنگ مور اپنے بدصورت پاؤں کے ساتھ ناچ رہا تھا۔ سفید مورنی کونے میں بیٹھی ناچ دیکھ رہی تھی۔
وہ ستائش سے رک کر انھیں دیکھنے لگی۔ اس کی موجودگی کا احساس کرکے مور رک گیا تھا اسی لمحے اسے مور اور خود میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔ تھا وہ اتنا حسین مور اپنی خوبصورتی کے باعث تمام عمر کے لیے اس پینجرے میں مقید کردیا گیا تھا، بلکل ایسے جیسے خود اس نی خوبصورتی اور دولت نے اسکے قدموں میں سیف کے نام کی زنجیر ڈالی تھی۔ کاش وہ اس وقت تھوڑی سی ہمت کر کے پاپا کو۔ منع کر دیتی۔
سیف کے متلعق سوچ کر ہی وہ اداس ہوگئی تھی۔ اس سمے اسے نیلے اندھیرے میں اس وقت مرغزاز بہت اداس لگا تھا اور جب وہ نیچے جھرنے کے پل تک آئی تو اسے سامنے والے درخت پر بیٹھی وہ چڑیا بھی بہت اداس گیت گاتی محسوس ہوئی تھی۔
وہ اس وقت پہاڑ پر بنے بل کھاتے کچے راستے پر چڑھ کر اوپر ناشپتی اور سیبوں کے درختوں تک پہنچ گئی تھی۔ ،جب اس نے اپنے عقب میں پکار سنی۔
اس نے گردن گھما کر پیچھے دیکھا۔ افق پل پر چلتا ہوا اس تک آرہا تھا اسکے پاؤں میں جوگرز اور گردن میں مفلر تھا، الٹی پی کیپ اب سیدھی ہو چکی تھی۔
وہ رک کر اس کا انتظار کرنے لگی۔
صفحہ نمبر 71
“تم ادھر کیا کر رہی ہو؟ “وہ چند قدم نشیب میں تھا۔
“تمہارا انتظار۔ مجھے علم تھا تم میرے پیچھے جھرنے تک ضرور آؤ گے۔ وہ سوچ کر بولی۔ “میرا ناشپتی کھانے کو دل چاہ رہا تھا” وہ اب اس کے قریب آ چکا تھا۔
وہ دونوں ساتھ ساتھ اوپر چڑھنے لگے۔ گھیرا نیلا اندھیرا قدرے ہلکا ہوا تھا۔
“تم میری وجہ سے کل نہیں کھا سکی تھیں نا؟ “افق نے بغیر کسی شرمندگی کے کہہ کر اسے ایک نظر دیکھا۔ وہ سرخ اور گلابی امتزاج کے شلوار قمیص میں ملبوس تھی، دوپٹہ گردن کے گرد لپٹا تھا اور بال اونچی پونی ٹیل میں باندھے تھے۔ اس پر اونچی پونی بہت اچھی لگتی تھی۔
“ہاں! “
وہ چڑھتے چڑھتے اب پہاڑ کے اوپر پہنچ گے تھے، اب بہت چھوٹا اور وائٹ پلس بہت دور دکھائی دے رہا تھا۔ وہ جگہ ناہموار تھی، بہت سے درخت اونچے نیچے ڈھالان پر اگے تھے۔ وہ ایک درخت پر چلی آئی۔
“کھاؤ گے؟ “ایک ناشپتی توڑ کر اس نے دوپٹے سے خوب رگڑ کر صاف کی یہ اس کا یہ اس کا سیبوں اور ناشپتیوں کو صاف کرنے کا اپنا طریقہ تھا اور افق کی طرف بڑہائی ۔
اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ نفی میں سر ہلادیا۔
“میں پھل نہیں کھاتا”
“کیوں؟ “پری نے حیرت سے بڑھا ہوا ہاتھ نیچے گرا دیا۔
“یونھی ۔اچھے نہیں لگتے” وہ ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
“کھایا کرو، ان میں فائبرز ہوتے ہیں، معدے کے لیے اچھے ہوتے ہیں” وہ ڈاکٹروں کے مخصوص انداز میں کہتی اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔ “اور سنو ،تمہاری طبیت کسی ہے؟ “
“خود دیکھ لو” افق نے اپنی کلائی اس کی جانب بڑھائی ۔سنجیدہ لہجے کے پیچھے شرارت تھی۔ اس نے بس ایک سیکنڈ کو نبض پکڑی، پھر چھوڑدی۔
“ابھی تک بخار ہے، مگر کل کی نسبت ہلکا ہے۔ “افق نے ہاتھ پیچھے کر لیا۔
دور نیلے آسمان پر نارنجی سورج طلوع ہونے کو بے تاب تھا مگر گھرے سیاہ بادل اسے راستہ نہیں دے رہے تھے۔
“تم نے آج مور کو ناچتے دیکھا تھا، پری؟ “اس کی نگائیں آسمان پر چھاے بادلوں پر تھی۔
صفحہ نمبر 72
وہ خاموش رہی۔
“میں جب بھی ادھر آتا ہوں، یہ مور مجھے پہچان کر اپنا ناچ ضرور دیکھا تے ہیں۔ جن کو سیاح صرف لطف اندوزی کا سامان سمجھتے ہیں، وہ ہمارے جانے کے بعد ہمیں کرتے ہیں ہمیں پکارتے ہیں۔ تمہیں نہیں لگتا پری کے وائٹ پلس کی سیڑیوں کے ساتھ نصب پنجرے میں بند مور ہمارے جانے کے بعد ہمیں یاد کرے گا۔ اس جھرنے کا تیز بہتا پانی، پانی میں رکھے پتھر اور اس کے قریب لگے درخت پر وہ اداس گیت گاتی چڑیا ہمیں یاد کرے گی؟ سیاح سمجھ نھیں پاتا ورنہ وہ قدموں کے نشان تو صدیوں ان پتھروں مرغزاروں اور ان کچے راستوں اور ثبت رہتے ہیں۔
“کل شام تمہیں کیا ہوگیا تھا، افق؟ “وہ خاموش ہوا تو اس نے پوچھا۔ سوال اتنا غیر متقوا تھا کے افق نے چونک کے اسے دیکھا۔
“کل شام؟”
“ہاں۔ ۔۔کل۔ ۔۔شام! “پری نے آہستہ سے اپنی آواز دھورائی۔ ۔
“تم نے اپنی ناشپتی نہیں کھائی” ۔
“بات مت بدلو”_
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ “بارش ہونے والی ہے، چلو واپس چلتے ہیں” کھڑے ہو کر اس بے ہاتھوں سے پینٹ جھاڑی،ایک سرخ رنگ کا کیڑا اس کے گھٹنے سے نیچے پتھرالی زمین پر گرا۔
“تم جاؤ۔ میں بعد میں آجاؤ گی” پریشے نے خفگی سے منہ پھیر لیا۔
جھرنے کے بہتے پانی نے دیکھا تھا کے وہ دونوں اس پل ایک بر پھر اجنبی ہوگئے تھے۔
وہ کچھ کہے بنا وہاں سے چلا گیا وہ پھر ویسا ہوگیا تھا، جیسا کل شام تھا، جیسے جلیل کے ریسٹورنٹ میں تھا۔ اجنبی، ناشنا سا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
پھر کتنی ہی دائر وہ بغیر کھائی ناشپتی ہاتھ میں لیے وہاں بیٹھی بیتے لمحوں کا شمار کرتی رہی تھی یہاں تک کے سیاہ بادل برسنے لگے۔ تب وہ اٹھی اور پہاڑ کی ڈھالاں سے اترنے لگی۔
وہ پری کو سیڑیوں پر موروں کے پنجرے کے قریب کھڑا تیز بارش میں بھیگتا ہوا دیکھا تھا۔ وہ بہت اداسی سے ترک زبان میں ان موروں کو کوئی گیت سنا رہا تھا، سبز اور نیلے پنہکھ فیلاے مور ناچ رہا تھا۔ افق کے سر پر پی کیپ نہیں تھی۔ بارش نے اسکا پورا جسم بھگو ڈالا تھا۔
صفحہ نمبر 73
اسے یوں بارش میں دیکھ کھڑا دیکھ کر اسے بہت غصہ آیا تھا۔
” کیوں کھڑے ہو تم ادھر ؟جاؤ اپنے کمرے میں۔ کتنی مرتبہ کہوں تم سے یہ بت؟ سمجھ میں نھیں آتی تمہیں؟ ابھی تمہارا بھی نہیں اترا ۔جاؤں جا کر آرام کرو
وہ غصے سے بلند آواز میں چلائی تھی۔ سر پر ٹرے رکھ کر بارش کے پانی سے بچتے اس ویٹر نے جو تیزی سے سیڑیاں پہلانگتے ہوئے اتر رہا تھا، حیرت سے گردن پھیر کر ایک لمحے کو اسے دیکھا ضرور تھا،جو خود بارش میں بھیگتی اسے ڈانٹ رہی تھی۔
“تمہیں کوئی حق حاصل نہیں مجھ پر حکم چلانے کا! “وہ بھی جوابا چلایا تھا۔ ایک لمحے کو وہ چھپ سی ہوگئی۔ واقعی کہاں حق رکھتی تھی وہ ایک اجنبی پر؟
“ٹھیک ہے پھر مرو اس بارش میں”۔
وہ تیزی سے سڑیاں پہلانگتی اوپر آگئی۔ لان میں تین بندر اٹکہیلیاں کر رہے تھے۔ لان کو بھاگتے ہوئے عبور کرتے اس نے راستے میں پڑی منرل واٹر کی خالی بوتل اٹھا کر میز پر چڑھے بندر کو زور سے ماری، بندر سہم کر جھاڑیوں کے پیچھے گم ہوگیا۔ ہ بارش میں بھیگتی کمرے تک آئی تھی۔ ایک بارش سوات کے پہاڑوں پر ہو رہی تھی، ایک اس کی آنکھوں سے برس رہی تھی۔ وہ خود پر کمبل تان کر پوری دنیا سے چھپ کر رونے لگی۔ ارسہ اور نشاء پر سکون سو رہی تھیں۔
باہر موسلا دھار بارش میں چوڑی سیڑیوں کے درمیان موروں کے پینجرے کے ساتھ کھڑا افق ارسلان ابھی ٹک بھیگ رہا تھا۔
وہ تمام دن کمرے میں رہی تھی پھر جب دن ڈھل گیا اور افق پر سیاہی پھیلنے لگی تو وہ ٹی وی کے اگے سے ہٹی ،جس پر پی ٹی وی اور جیو کے سوائے کوئی چنیل نہیں آتا تھا۔ اس نے رات کا کھانا بھینہیں کھایا، پھر نشاء اسے زبردستی اٹھا کر وائٹ پلس کے باہر بنی) دکانوں تک لے آئی ۔اس کو سواتی شالوں اور قیمتی پتھروں کی شاپنگ کا کوئی شوق نہیں تھا، مگر محض نشاء کا ساتھ دینے کو وہ کافی دیر تک وہاں سرکھپاتی رہی۔
دونوں واپس آئیں تو وائٹ پلس کی سفید عمارت کے سامنے پھیلے وسیع و عریض لان کے وسط میں دائرے کی صورت میں احمر صاحب، شہلا ،آفتخار ،ارسہ اور افق بیٹھے تھے۔ افق کے پیچھے سنگ مر مر کی سفید بینچ تھی۔
صفحہ نمبر 74
جس سے ٹیک لگاۓ وہ ایسے بیٹھا تھا کے دائیں ٹانگ گھاس پر پھیلا رکھی تھی بایاں گھٹنا سیدھا کھڑا تھا۔ وہ خاموشی سے سر جھکائے گھاس کے تنکے نوچ رہا تھا۔ اس کی پی کیپ اس کے سر پر تھی۔ (
احمر صاحب اور باقی افراد کسی بحث محو تھے۔ نشاء بھی شامل ہوگئی ۔صرف اور وہ اور افق خاموش تھے۔ وہاں وائٹ پلس کے برآمدے سے انے والی روشنی اور چاند کی چاندنی کے کے الوہ دوسری کوئی لائٹ نہیں تھی جس کے باعثاس کا چہرہ ٹھیک سے نہیں دیکھ سکی تھی۔ مگر وہ اسے صبح کی نسبت بہتر لگا تھا ۔
“اتا ترک کے بارے میں تمہارا کیا خیال ھے، افق؟ “احمر انکل بحث کو مشرف سے اتا ترک ٹک لے گے تھے، ان کے پکارنے پر اس کی گھاس نوچتی انگلیاں رکیں، اس نے چہرہ اونچا کیا تو چمکتی چاندنی نے اس کے چہرے کے خدو خال کو قدرے واضح کیا تھا۔ نقاہت اور بیماری واضح تھی۔
“اتا ترک؟ “اس نے دہرآیا پھر شانے اچکادیے۔
“وہ ترکوں کا۔ باپ تھا”
“باپ کبھی بچے کی غلط رہنمائی کرتا” احمر صاحب سے پہلے ہی پریشے تیزی سے بولی۔ وہ خفیف سا مسکرایا۔
“تم ٹھیک کہہ رہی ہو میں اردگان کا حامی ہوں۔ “اسنے اپنی پی کیپ کی جانب کچھ اشارہ کیا ض جیسے وہ سمجھ نہ سکی۔
“ویسے میں نے سنا ہے تمہارا ڈکٹیٹر اتا ترک کو آئیڈیالائز کرتا ہے اور روانی سے ترک زبان بولتا ہے؟ “قدرے توقف سے اس نے سوال کیا ۔”وہ اس لیے کے ہمارے ڈکٹیٹر کو اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے” نشا ڈکٹیٹر کے ذکر سے چڑ گئی۔
“نشا یہ ڈکٹیٹر پادشاہ (padshah) ہوتے ہیں۔ پادشاہوں سے بھی زیادہ اختیار ہوتے ہیں ان کے پاس۔ ویسے میں نے سنا ہے کہ تمہارا پادشاہ ۔۔۔۔یورپ اور امریکا سے انے والوں کی بہت قدر کرتا ہے۔ مجھے تو اسنے آج تک نہیں پوچھا۔ شاید اس لیے کے میں مسلمان ہوں؟ “
“فکر مت کرو۔ تم رکاپوشی سر کر لو، تمہیں کوئی ایوارڈ دلوا ہی دیں گے! “نشا نے کہا۔
“کون سا ایوارڈ؟ نشان حیدر؟ “وہ دلچسپی سے بولا۔ ۔
صفحہ نمبر 75
“نہیں نہیں۔وہ تو شہید ہونے کے بعد ملتا ہے اور ملٹری عزاز ہے۔ خیر تم پہلے کوئی پاکستانی پہاڑ سر گو کرو قومی عزاز کے بارے میں بعد میں سوچیں گے” ۔
وہ بدمزہ سا ہو کر پیچھے ہوا۔ “میں گیشر بروم ٹو، براڈ پیک اور نانگا پر بت سر کر چکا ہوں۔
تمہارے صدر نے مجھے کبھی نہیں بلایا۔ اب تو میں نے امید لگانا بھی چھوڑ دی ہے” وہ بہت مصنوعی افسوس سے کہہ رہا تھا۔
“تم نے نانگا پر بت سر کیا ھے؟ دی کلر ماؤنٹین؟”پریشے چونکی تھی۔
“ہاں” ؛وہ کیپ ٹھیک کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
“میں چلتا ہوں، آپ لوگ باتیں کریں”۔
پری کی نگاہوں نے لان عبور کر کے سیریان چڑتے افق کا دور تک تعاقب کیا تھا، آج وہ موروں کے پنجرے کے پاس نہیں روکا تھا تھا۔
محفل جاری تھی جب وہ وہاں سے اٹھ کر اوپر آگئی۔ وہ افق کو تلاش کر رہی تھی۔ وہ مستطیل لان میں نہیں تھا، نہ ہی اپنے کمرے کے آگے بنے برآمدے میں، وہ تو اپنے کمرے میں بھی نہیں تھا۔ لان میں اس رات بندر بھی نہیں تھے۔
وہ تیسری منزل پر آگئی۔ ایک نگاہ میں اس نے اطراف کا جائزہ لیا۔
چوکور احاطے کے دائیں طرف کونے میں اگے جا کر ایک بالکونی بنی تھی۔ اسے وہاں افق کی جھلک دیکھائی دی۔ وہ وہیں آگئی۔
وہ بالکونی پورانے وقتوں کے محلوں کی طرز پر بنی تھی۔ اس کی ریلنگ اونچی تھی جس پر کہنیاں ٹکاے وہ قدرے جھک کر نیچے جہرنے کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اس کے عقب میں آکر کھڑی ہوگئی۔ اس کی کیپ کا پچھلا حصہ اس کے سامنے تھا، اس پر سفید مر کر سے کسی نے ہاتھ سے لکھ رکھا تھا،
۔ Hail to tayyip erdogan اس نے یہ فقرہ پہلی بار نوٹ کیا تھا۔
افق اپنے گردپیش سے بے خبر دھیمی آواز میں کچھ گنگنا رہا تھا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
“سون اکشام استورین ۔۔۔۔انجے بانا سوزویر۔ ۔۔”
یک دم کسی کی موجودگی کا احساس کر کے اس نے پلٹ کر پیچھے دیکھا۔
“تمہاری کیپ پر طیب کے بے غلط لکھے ہیں، طیب کے آخر میں “B” آتا ہے، تم نے “P” لکھا رکھا ہے۔ “اس کے خود کو سولیہ نظروں سے گھورنے پر جو اس کے منہ میں آیا وہ بول پڑی
صفحہ نمبر 76
“میں نے نہیں لکھا۔ “چہرہ واپس جھرنے کی طرف موڑ کر وہ بے نیازی سے بولا، یہ جینیک کی کیپ ہے اس نے لکھا ہے۔ ترک زبان میں “B” کی جگہ “P” استمال ہوتا ھے یہ اس نے انگریزی میں اس لیے لکھا ہے کے وہاں ترک میں لوگ انگریزی سے نابلد ہیں۔ اور وہاں کی ملٹری ،اردگان کو پسند نہیں کرتی۔ “
“مگر تمہاری انگریزی تو بہت اچھی ہے” وہ اس کی طرح ریلنگ پر کہنیان ٹکاے کھڑی ہو گئی۔ فرق یہ تھا کے وہ سامنے دیکھ رہا تھا اور وہ اسے۔
“میں بچپن میں کافی عرصہ امریکا میں رہا ہوں، شاید اس کا اثر ہو”
“اچھا تم نے جینیک کی کیپ کیوں لے رکھی ہے” ؟
“میں مصر جا رہا تھا تو انقرہ کے ایئرپورٹ پر یونہی مزاق میں، میں نے اس کے کیپ چھینی اور اس نے میری۔ بس پھر بعد میں واپس ہی نہیں کر سکا” ۔وہ رکا اور قدرے توقف سے بولا۔
“ہم دونوں انجنیر ہیں اور سائٹ پر جاتے ہوۓ کیپ لیتے ہیں کہ دھوپ ہوتی ہے، تو بس عادت پڑگئی ہے۔
“اور یہ مفلر؟” اس نے گردن میں موجود مفلر کی طرف اشارہ کیا۔ افق نے گردن جھکا اسے دیکھا۔
“یہ مفلر نہیں ہے۔ یہ ترکی کا جھنڈا ہے”
“اوہ! ” وہ حیران ہوئی، میں تو اسے مفلر سمجھی تھی” ۔
“میں اسے رکاپوشی پر لہرانے کو لایا ہوں۔ “وہ پھر سے اندھیرے میں دیکھنے لگا تھا۔ وہ اس کی جانب دیکھنے سے دانستہ گریز ترچھی کر کے اسے دیکھا۔
“تم ابھی کیا گا رہے تھے؟ “
“کچھ نہیں۔ ۔۔ہمارا ایک لکھاری ہے احمت اومت، اس نے لکھی تھی۔ ایک نظم ہے۔ ۔۔۔۔۔پھر وہ رخ پھیر کر ریلنگ سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا اور دونوں بازو سینے پر باندھ لیے۔
“کیا۔ مطلب ہے اس کا؟ “
افق اس کا مطلب سمجھانے لگا۔
“مجھے سناؤ نا۔ ویسے ہی جیسے تم ابھی گنگارہے تھے۔ “وہ ضد کر رہی تھی۔ چند لمحے خاموش رہا
صفحہ نمبر 77
پھر وہ بہت مدھم آواز میں گنگنانے لگا۔
“سون اکشام استودیں۔۔۔۔انجے بانا سوزویر۔ ۔۔”
“زندگی کے سفر میں بکھرنے سے
ملن کی آخری شام کے ڈھالنے سے
اور ایک دوسرے کی ساں
دھڑکنوں کی آخری آواز سننے سے
کہ جس کے بعد تم میری دنیا سے دور چلے جاؤگے
تمہیں مجھے سے
ایک وعدہ کرنا ہوگا
کہ جب بھی سورج طلوع
اور انا طولیا کی گلیوں میں روشنی
کے قطروں کی طرح گرے گی
اور ارا رات کے جامنی پہاڑوں پر جمی برف پگہلے گی۔
اور پھر جب اس برف میں دبی داستان مر مرا کے
پانیوں میں بہ جاۓ گی۔
تب تمہیں مجھے سے ایک وعدہ نبھانا ہوگا
کے اس رات کے بعد اپنی زندگی میں انے والی
ہر صبح کی ٹھنڈی ہوا
اور ہر بارش کے بعد گیلی مٹی
اور جامنی پہاڑوں پر دودھ کی سی
جمی برف کو دیکھ کر (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
تم مجھے یاد کرنا
کے یہ میرا تم پر
اور تمہارا مجھے پر
قرض ہے
وہ اسی مدھم سر میں ریلنگ سے ٹیک لگاۓ، آنکھیں موندے گنگنا رہا تھا اور وہ اس کے لہجے میں اس کی آواز میں کھوئی ہوئی تھی۔
دفتا بادل گرجے تو افق چونک کر رک گیا اور گردن اٹھا کر سیاہ تاریک آسمان کو دیکھنے لگا۔
“چلو چلتے ہیں، بارش ہونے لگی ہے” وہ چل پڑا۔ پری اس سے پیچھے، اس کے جوتوں کے نشانات پر جو گھاس میں گم ہو رہے تھے، پاؤں رکھتی چلنے لگی۔
نیچے، اپنے کمرے کی چوکہٹ پر پہنچ کر، دروازہ بند کرنے سے پہلے افق نے ایک لمحے کو رک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ آئی ایم سوری۔ ۔۔۔آئی ایم سوری فار ایوری تھنگ۔ “صبح والے واقع کے متعلق دھیمے سے کہہ کر اس نے دروازہ بند کردیا۔ وہ بے اختیار مسکرا دی۔
جمرات ،28جولائی 2005ء
سوات کے پہاڑوں پر ٹھنڈی، پر نم اور بادلوں سے ڈھکی صبح اتری ہوئی تھی۔ سورج ابھی پوری طرح طلوح نہیں ہوا تھا، کل کی طرح آج بھی بادلوں نے آسمان کو اپنی راجدہانی بنایا ہوا تھا۔ مگر آج ان کا رنگ ہلکا تھا۔
“خدا کرے آج بارش نہ ہو” اپنے کمرے سے باہر برآمدے میں آتے ہوئے اس نے دل ہی دل میں بے اختیار دعا مانگی تھی۔ آج انھیں سوات سے کالم جانا تھا۔ کالام تھا تو ضلع سوات تہصیل ہی مگر پھر بھی لوگ مینگورہ اور سید و شریف کو ہی سوات بولتے تھے۔
برآمدے سے باہر لان کے وسط میں جس جگہ کل وہ نماز پڑھ رہا تھا، آج بھی ادھر ہی بیٹھا تھا پر آج وہ نماز نہیں پڑھ رہا تھا۔ اس نے کیپ الٹی کر کے پہن رکھی تھی، پاؤں میں جرابیں تھیں اور جینز کے پائنچے اوپر تہ کیے ہوئے تھے اور آنکھیں بند کیے وہ بلکل گو تم بدھا کے انداز میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے یوگا کر رہا تھا۔
وہ دبے قدموں سے چلتی اس کے عاقب میں آئی جوتے ایک طرف اتارے اور اس کے پیچھے دائیں طرف اسی بدھا والے انداز میں التی پالتی کر کے بیٹھ گئی۔
افق نے آنکھیں کھولیں اور ہاتھوں کی پوزیشن بدلنے ہی لگا تھا کے کسی احساس کے تحت سر پیچھے کر کے دیکھا۔پریشے کو اپنے پیچھے یوگا کے انداز میں بیٹھے دیکھ کر اسکی آنکھوں
صفحہ نمبر 79
میں خوشگوار حیرت در آئی ۔
“صبح بخیر۔۔۔یوگا؟ “اس نے یک لفظی استفسار کیا۔
“صبح بخیر۔ ۔۔۔ہاں، یوگا! “
وہ گھاس پر لیٹ گیا، بازو سر کے پیچھے کر کے پاؤں کیاری کی اینٹوں تک لمبے کیے اور فلور پوز کرتے ہوئےپوری قوت سے اینٹوں کو دھکیلا۔
“کب سے کر رہی ہو یوگا” ؟
“دو منٹ پہلے سے” وہ اپنے جواب پر خود ہی ہنس پڑی ۔
“واقعی؟ “گھٹنے کو لیٹے لیٹے سینے تک لے جاتے ہوئے افق نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“نہیں۔ ۔میں سولہ سال کی عمر سے یوگا کر رہی ہوں”
“تب ہی تم اپنی عمر سے کم دکھائی دیتی ہو” وہ اب بائیں گھٹنے کو آہستہ آہستہ اوپر نیچے کر رہا تھا۔
“شکریہ۔ ۔۔۔میں کتنے سال کی دکھائی دیتی ہوں؟ “
“سولہ سال کی! “
“میرا خیال ہے اب تم جھوٹ بول رہے ہو”
“جھوٹ نہیں، مبالغہ آرائی ۔”وہ ہولے سے ہنسا” تم اکیس بائیس برس کی عمر کی لگتی ہو۔ اس سے زیادہ نہیں” وہ یوگا چھوڑ کر لان میں رکھی سفید کرسی پر جا بیٹھی۔
“کیا ناراض ہوگئیں؟” وہ ماؤنٹین پوز کرنے کے لیے کھڑا ہوگیا تھا۔
“اونہوں” اس نے نفی میں گردن ہلائی،
“میں ہفتے میں تین دن یوگا کرتے ہوں، آج وہ دن نہیں ہیں”
وہ سر ہلا کر خاموشی سے یوگا کرتا رہا۔ کتنی ہی دیر خاموشی چھائی رہی۔ دور جنگل سے جانوروں کے بولنے کی آوازیں وقفے وقفے بعد سنائی دے رہی تھیں۔
“کتنے بجے جانا ہے کالام؟ “وہ اس سے کوئی بات کرنا چاہتی تھی، سو یہی پوچھ لیا۔
“ظفر نے آٹھ بجے کہا تھا” اپنی مشق ختم کر کے اس نے گھاس پر رکھی کیپ، جو اس نے لیٹنے سے پہلے اتار دی تھی، اٹھا کر سر پر رکھی اور میز پر پڑی گھڑی اپنی بائیں کلائی میں پہننے لگا ۔
صفحہ نمبر 80
“تم کتنی دفعہ ان علاقوں میں آچکے ہو؟ “
“دو مرتبہ پہلے آیا تھا، ایک بار تب جب گیشر بروم ٹو سر کرنے آیا تھا اور دوسری بار دو سال پہلے” وہ گھاس پر بیٹھا جوگرز پہن رہا تھا۔
“دو سال پہلے کیوں آئے تھے؟
“یونھی”وہ سر جھکاے جوگرز کے تسمے بند کرتا رہا۔ پریشے جواب کے انتظار میں اس کے ہاتھوں پر نگاہیں مرکوز کیے رہی، بائیں کلائی میں پہنی گھڑی کو آج پہلی دفعہ اس نے غور سے دیکھا تھا۔ اس کے سیاہ چمکتے ڈائل کے درمیاں میں ہیروں کا چھوٹا سا اہرام بنا تھا۔
“اچھی ہے نا میری گھڑی؟ سکندریہ سے لی تھی۔ مصری اپنا ٹریڈ مارک ہر چیز میں بہت اچھے سے ڈالتے ہیں” وہ ہنس کر کہتا ہوا پینٹ جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔
“یہ ہمارے وائٹ پلس میں آخری دو گھنٹے ہیں آؤ یہاں گھومتے پھرتے ہیں”وہ اسکے ہمراہ سیڑیون کی طرف چلی آئی۔
“تم نے وہ کمرہ دیکھا ہے پہلی منزل، جسے رائل سویٹ کہتے ہیں، وہ سیڑیوں سے اترتے ہوئے۔ اس کو اس تین سو سال قدیم وائٹ پلس کی تاریخ بتانے لگا اس نے بے اختیار جماہی روکی۔
“یہ ہوٹل پہلے والیء سوات کا محل تھا پھر۔ ۔۔”وہ سیڑیاں اترتے ہوئے اسے بہت کچھ بتا رہا تھا۔ وہ بور ہونے لگی تھی۔ اسے وائٹ پلس کی تاریخ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر محض جس کا دل رکھنے کو وہ سنتی رہی۔
موروں کا پنجرہ پیچھے چھوڑ کر وہ نیچے روش پر آئے تو وہ بڑا سالان خاموشی میں ڈوبا تھا۔ لان کے اختتام پر ناشپتی کا درخت تھا، جس کے ساتھ کرسی ڈالے بوڑھا سیکیورٹی گارڈ بیٹھا تھا۔
“تم کیا ہر سال یونھی سیر و سیاحت کے لیے نکل جاتے ہو؟ “وہ دونوں چلتے چلتے لان کی ایک طرف بنے نیلی ٹائلز والے فوارے کی منڈیر پر بیٹھ گے۔
“ہر سال؟ میں تو سال کے دس مہینے نگر نگر پھرتا ہوں۔ میں پیدائشی سیاہ ہوں۔ مجھے ہر جگہ ایکسپلور (دریافت )کرنے کا شوق ہے۔ اس کل گھوم پھر کر دیکھنے کا شوق ہے۔ سیاحت زندگی بدل ڈالتی ہے۔ آپ ایک دفعہ پہاڑوں پر نکل جائیں تو واپسی پر آپ ویسے نہیں ہوتے۔
صفحہ نمبر 81
آپ بدل جاتے ہیں پہاڑوں کا سفر انسان کو بدل ڈالتا ہے۔ اس کے بعد “the life is never same again .
میمز نے کہا ths، اگر عالمی لیڈرز چند دن کسی پہاڑ پر اکٹھے چڑتے گزار دیں، تو دنیا کے تمام معملات اور مسائل حل ہوسکتے ہیں اور اگر دو اچھے کوہ پیما بھی چند دن رکاپوشیپر ساتھ گزاردیں تو یقین کرو ان کے بھی سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ “افق نر بڑی سنجیدگی اور معصومیت سے کہا تھا وہ مسکرا دی۔
“ہوسکتا ہے مسائل بڑھ جائیں”
“کم آن۔ تم ایک کلائمبر ہو، تمہیں دنیا کا سب سے خوبصورت پہاڑ دیکھنا چاہیے”
“میں نے تصویر میں دیکھ رکھا ہے” “تمہیں اسے سر کرنا چاہیے”!
“وہ میں خیالوں اور خوابوں میں کئی دفعہ کر چکی ہوں”
“مگر تمہیں “میرے” ساتھ سر کرنا چاہیے۔ اس نے “میرے” پر زور دیا۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
“نا ممکن ہے کیوں کے پاپا مجھے قراقرم کی شکل دوبارہ نہیں دیکھنے دیں گے، میں انھیں اچھی طرح جانتی ہوں۔ یہ گارڈ کہاں جا رہا ہے؟ “اس کے اصرار سے بچنے کی خاطر اس نے اس کی توجہ بوڑھے گارڈ کی طرف دلائی ،جو کسی کام سے ہوٹل کی عمارت کی طرف جا رہا تھا۔ افق نے گردن پھیر کر اسے دیکھا۔ “اس کو شاید کسی نے بلایا ہے۔ “
“تم نے کبھی چوری کی ہے؟ “افق نے گردن واپس گھما کر آنکھیں سکیڑ کر مشکوک نظروں سے اسے دیکھا ۔”نہیں” !
“میں نے بھی نہیں کی مگر اب دل کر رہا ہے”
“چوری کرنے کا” ؟
“نہیں تم سے کروانے کا” اس نے معصومیت سے کہا۔
“مطلب کیا ہے تمہارا” ؟افق نے اسے گھورا ۔
“تم جانتے ہو، تم بہت گڈ لوکنگ ہو”
“میں خوشامد سے متاثر نہیں ہوتا۔ سوری” !
“اور تم ایک بہت اچھے انسان بھی ہو” ۔
صفحہ نمبر 82
“میں سچ سن کر بھی غلط کم نہیں کرتا”
“اور میں دعا کروگی کے تم راکاپوشی سر کر لو۔ اگر تم مجھ اس درخت پر سے ایک ناشپتی لادو تو” !
وہ چند لمحے خاموشی سے اسے گھورتا رہا پھر بولا۔
“بہت بہتر ۔لاتا ہوں” وہ چند قدم فاصلے پر اگے درخت تک گیا اور ہاتھ بڑھا کر ایک شاخ کو اتنی زور سے پکڑا کے اس پے بیٹھی چڑیا سہم کر اڑ گئی۔
“اوہ۔ تم نے اسے ڈرا دیا” پری نے تاسف سے آسمان پر اڑتی چڑیا کو دیکھا۔
شاخ ہاتھ میں پکڑے،افق نے رک کر بغور اسے دیکھا۔ پھر مسکرا دیا۔
“تم میری زندگی میں انے والی پہلی لڑکی ہو، جو چڑیا کی پرواہ اور موروں سے سوری کرتی ہے”
(زندگی میں؟ کیا وہ اس کی زندگی میں آچکی تھی؟)
“ادھر ترکی میں ہوتی ہیں ناشپاتیاں؟”اس نے بے تکا سوال کیا۔
“ترکی میں سب کچھ ہوتا ہے” اس نے ہاتھ بڑھا کر ایک موٹی تازی رسیلی سی ناشپتی توڑی ۔
“اس کو میں مبالغہ آرائی کہوں؟ “
“نہیں، تم اس کو ایک محب وطن ترک کا فخر کہو” وہ مسکراتا ہوا ناشپتی لیے اس کے قریب لے آیا۔
“یورہائنیس، ایک ترک سیاہ کی طرف سے یہ حقیر سا تحفہ قبول فرمایں “اس نے ناشپتی ہتھیلی پر رکھے اس کی طرف بڑھائی۔
“شکریہ، ویسے کیا سارے ترک چوری کے تحفے دیتے ہیں” ؟اس نے اسے چڑاتے ہوئے ناشپتی اٹھالی۔
“کوئی پری مانگے تو دے بھی دیتے ہیں” وہ اس کے ساتھ بیٹھ گیا وہ دونوں فوارے کے کنارے بیٹھے تھے اور ٹانگیں نیچے لٹکا رکھی تھیں۔ (مکمل ناول پڑھنے کے لیے فس بُک پیج ناول ہی ناول لائیک کریں)
“یہ۔ ایک یادگار ناشپتی ہوگی ۔میں شروع کروگی اور تم ختم۔ ٹھیک؟ “پری نے ناشپتی کی ایک بائٹ لی، اس کا ذائقہ منہ میں محسوس کیا اور اگلے ہی پل اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔
“ہنس کیوں رہی ہو؟ “
“یہ ناشپتی نہیں ہے افق! ہمارے ساتھ تو دھوکا ہوگیا۔ یہ تو ببو گوشہ ہے” وہ مسلسل ہنسے جارہی تھی۔
صفحہ نمبر 83
“اور کرو چوریاں ۔دیکھ لیا، یہ ہوتا ہے چوری کا انجام۔ تم ناشپتی سے ملتے جلتے پھل کو ناشپتی سمجھ کر دھوکا کھا گئیں۔ بہت اچھا ہوا” وہ مصنوعی انداز میں ڈانٹ رہا تھا وہ ہنستی جارہی تھی۔
“اچھا سنو، مجھے بھی چکھاوء اور اس کو ختم نہیں کرنا۔ یہ ہم اس فووارے کے پیچھے رکھ دیگے ۔
یہ ایک یادگار ہے۔ کبھی ہم دوبارہ ادھر آئے تو اسے ضرور ڈھونڈیں گے” اس نے ایک بائٹ لے کر آدھا کھاۓ بگو گوشے کو فوارے کے پیچھے کر کے ایک جگہ چھپا دیا اور وہ جو ہنسے جا رہی تھی یک دم رک گئی۔
“کبھی ہم دوبارہ ادھر آئے ۔۔۔؟ہم۔۔۔؟افق نے “ہم” بولا تھا مگر کیوں؟ “
اس نے ایک نگاہ اپنی انگلی میں پہنی انگوٹھی پر ڈالی اور پھر سر جھکا لیا۔ مستقبل کسی آٹھ ہزار میٹر پہاڑ کی چوٹی کی طرح دھند میں لپٹا تھا۔
جمعہ ،29 جولائی 2005ء
“ارسہ تم اپنے ناول میں یہ بھی لکھنا کے جب ہم لوگ ۔۔۔سوری ،میرا مطلب ہے جب تمہارے کردار کلام کی مال روڈ اور پہنچے تو وہاں مری مال روڈ کی طرح رش تھا، پورے پاکستان کی لوفر لڑکے وہاں جمع تھے اور یہ بھی لکھنا کے کلام سے روز صبح نو بجے کرائے کی لینڈ کروزر،جیپیں پجاروز دو مختلف “روٹس”پر جاتی ہیں اور سنو تم یہ بھی لکھنا کے تمہارے کردار آنسو جھیل والے روٹ کے بجاۓ ماہوڈ ھند جھیل والے روٹ پر جارہے تھے، ہماری طرح ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔”
وہ چاروں اگے پیچھے مال روڈ کے کنارے پر چلتے ہوئے دائیں طرف بہتے دریا پر بنے پل کی طرف جا رہے تھے، جس کے دوسری طرف سڑک پر لینڈ کروزر اور پراڈوز کی لمبی قطار کھڑی تھی، ان کرائے کی گاڑیوں کے ماہر ڈرائیور اپنے اپنے مسافروں کا انتظار کر رہے تھے۔
“اگے میں بتاتا ہوں ارسہ! اگے تم لکھنا، ان کے پاؤں کے نیچے سڑک تھی اور سر پر آسمان تھا اور دریا کا پانی بہت شور مچاتا تھا۔ ۔۔”وہ ارسہ کو۔ جس طرح کے مشورے دے رہے تھی، اس انداز میں نکل کرتے ہوئے وہ بولا تو پریشے نے برا سا منہ بنایا۔
صفحہ نمبر 84
“زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔ میں صرف اسے مشوارہ دے رہی تھی۔
“ہاں تو میں بھی مشوارہ ہی دے رہا ہوں۔ “وہ اسے چڑا رہا تھا، وہ خفگی سے سر سب سے تیز چل کے اگے نکل گئی۔
“سنو ارسہ! ایک خبر سناؤ؟ “پیچھے آتے افق نے دانستہ آواز میں محض اسے چڑانے کے غرض سے کہا، پری نے چلتے ہوئے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لیے۔
“ارسہ ،توماز ہومر پاکستان میں ہے”
کانوں پر ہاتھ رکھنے کے باوجود اسے سنائی تو دیا تھا، خبر ہی ایسی تھی کے وہ جھٹکے سے پوری آنکھیں کھول کر اس کو دیکھا۔ “واقعی؟ کدھر؟ کالام میں ہے؟ “
“میں تو ارسہ کو بتا رہا تھا” وہ تپانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
“ہاں تو اسے ہی بتاؤ میں کون سا سن رہی ہوں” اس نے شانے جھٹکے اور اگے نکل گئی۔
“ویسے ارسہ ،وہ نانگا پر بت جا رہا ہے”
“میں نہیں سن رہی” ۔پری نے کانوں پر ہاتھ رکھ کر اتنی بلند آواز میں کہا کے پاس سے گزرتے دو لڑکے رک کر اسے دیکھنے لگے۔
“تم لوگ کیا سڑک کے بیچ میں کھڑے ہو کر ٹین ایجیرز والی حرکتیں کر رہے ہو؟ تینوں کے گھورنے کا اسے احساس ہوا اور پھر پل پار کرنے تک وہ سارا راستہ خاموش رہی۔
وہ اس گرے اور سلوار پیراڈو پر ماہوڈ ہنڈ کے روٹ پر جارہے تھے زیادہ تر گاڑیاں ماہونڈ دھند ہی جارہے تھیں ،آنسوں جھیل کی طرف سیاح بہت کم جاتے تھے۔ کرائے کی ان گاڑیوں کے ڈرائیور پر خطر راستوں پر ڈرائیونگ میں مہارت رکھتے تھے۔ لاہور، کراچی میں گاڑی چلانے والا عام ڈرائیور کالام سے اگے کے ان راستوں پر گاڑی نہیں چلا سکتا تھا۔ ()
وہ پراڈو کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ ڈرائیور اسے پہچان گیا تھا۔ کل شام کالام پہنچتے وقت پریشے ہی تو۔ تھی، جس نے ظفر کے ساتھ اس ڈرائیور سے آج کی سواری کا سودا طے کیا تھا۔ ظفر اسے بارہ سو دینا چاہتا تھا جب کے ڈرائیور پندرہ سو مانگ رہا تھا۔ پریشے کو تین سو روپے ک لیے بحث کرنا صہیح نہیں لگا، اس لیے اس نے معملا خود ہی طے کر دیا تھا۔
وہ پراڈو کے ساتھ کھڑی پل کی جانب دیکھنے لگی، جہاں وہ تینوں اگے پیچھے کھڑے تھے
صفحہ نمبر 85
افق سب سے اگے تھا۔ سیاہ جینز ،مہرون شرٹ، سفید ٹورسٹ جیکٹ، گردن میں سرخ مفلر سر پر پی کیپ، پاؤں میں جوگرز اور کندھے پر بیک بیگ اٹھاۓ چیونگم چباتا وہ اسکی جانب آرہا تھا۔ ملتے رنگوں کے اس امتزاج پر پریشے کو حیرت ہوئی تھی، کیوں کے اس نے خود بھی سیاہ ٹراوززر کے ساتھ مہرون ،کشمیری کڑھائی والا کرتا اور بڑا سا ڈوپٹہ لے رکھا تھا۔ بالوں کو اس نے کیچر میں باندھ رکھے تھے اور پاؤں میں گلابی اور سفید جوگرز تھے۔
افق پراڈو کی اگلی جانب کے وہ تینوں پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھیں۔ وہ ڈرائیونگ سیٹ سے بلکل پیچھے بیٹھی تھی تا کے اسے افق کا چہرہ ٹھیک سے دکھائی دے۔ اسے خود پر بھی حیرت ہوئی کے جب وہ مری میں تھے تو وہ اس سے بات تک نہیں کر رہی تھی۔ اور اب وہ کتنے اچھے دوست بن چکے تھے۔ اس سفر میں اسے پانچ دن بھی نہیں ہوئے تھے اور یوں لگتا تھا کے جسے صدیاں بیت گئی ہوں۔
پراڈو پر خطر راستوں پر دوڑنے لگی تو وہ کھڑکی سے بائیں طرف بہتے نیلے دریا کو دیکھنے کے بجاۓ افق سے پوچھنے لگی،۔
“تمہیں کیسے پتا کے توماز پاکستان آیا ہوا ہے؟ “
“میں اسکا میڈیا ایڈوائزر تو ہوں نہیں، ظاہر ہے اخبار میں ہی پڑھا ہے”
“تم اس سے کبھی ملے ہو؟ “اسے جاننے کا بہت اشتیاق تھا۔
“پریشے جہاں زیب، یہ کلائمبنگ ورلڈ بہت چھوٹی اور گول ہوتی ہے، یہاں درجنوں بار آپ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ میں توماز سے پچھلی بار نانگا پر بت پر ٹکرایا تھا، وہ آرہا تھا اور میں جارہا تھا”کیسا ہے دیکھنے میں؟ اتنا ہی گڈ لوکنگ جتنا تصویروں میں آتا ہے؟ں)
“اب میں اس سے جیلیس ہو رہا ہوں اس لیے پلیز اس موضوع کو بند کرو” وہ مسکین سی صورت بنائے ہاتھ جوڑ کر بولا تو وہ بڑبڑاتی ہوئی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
“ویسے پری” اس نے محض چھیڑنے کی غرض سے اسے پکارا،
“تمہاری گورنمنٹ ان علاقوں میں گیس کیوں نہیں لاتی؟ یہ لوگ دیار کی قیمتی لکڑی کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہی
“گورنمنٹ وردی اتار دے یہ بہت ہے۔ گیس بھی آتی رہے گی” نشاء گورنمنٹ کے ذکر پر بدمزہ ہوگئی تھی۔ وہ ہنس پڑا۔ پریشے خاموش رہی کیوں کے غیر ملکیوں کے سامنے وہ اپنے ملک کی کسی طرح بے عزتی برداشت نہیں کر سکتی تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: