Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 6

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 6

–**–**–

#پانچویں_چوٹی_حصہ_دوم
قسط 6
خامی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس نے دل ہی دل میں دعا کی کے افق یہ موضوع چھوڑ دے ۔چور نظروں سے اسنے ارسہ کو بھی دیکھا۔ ارسہ نے بات سنی ہی نہیں تھی۔ وہ بیتابی سے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کچھ تلاش کر رہی تھی۔
“کیا ہوا ارسہ” ؟
“وہ۔۔۔۔ابھی آتا ہے تو دکھاتی ہوں۔ ۔۔پچھلے سال تو ادھر ہی تھا۔ پتا نہیں کدھر گیا وہ دور تک پھیلے پہاڑی سلسلے کو متلاشی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
“مگر تھا کیا” ؟
“پہاڑ تھا، پتا نہیں کدھر گم ہوگیا ہے” وہ فکرمند سی تھی۔
“لیں۔ ۔۔ان کی سنیں۔ پہاڑ کبھی گم ہوئے ہیں ارسہ میڈم “؟ افق خوب ہنسا تھا۔ ارسہ نے جسے سنا ہی نہیں۔
“مجھے لگتا ہے اس ڈرائیور کی گاڑی کے مالک سے کوئی دشمنی ہے، تب ہی اتنی تیز ڈرائیو کر رہا ہے۔ ابھی پھیہ ادھر ہوا اور ہم گے نیچے” نشا نے پریشے سے انگریزی میں کہا پری نے کھٹ سے وہی بات ڈرائیور سے کہہ دی۔
“باجی !یہ مارہ روز کا روٹ ہے، آپ نہیں گروگی ،اللہ خیر کرے گا” وہ جھنپ کر بولا ۔
“آپ” ایسے کہہ رہا ہے جیسے ہم اکیلے گریں گے، خود بھی تو ساتھ ہی گرے گا نا نشا زیر لب بڑبڑائی۔ اسے اتنے پر خطر راستے سے بہت خوف آرہا تھا
افق تصویریں بنا رہا تھا، ارسہ ابھی تک پریشانی سے کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔ پریشے نے راستہ دیکھتے ہوئے پوچھا “کتنا فاصلہ رہ گیا ہے” ؟
“گھنٹے تک اشوویلی پہنچ جائیں گے” جواب افق نے دیا تھا۔ وہ آج بہت بول رہا تھا۔ خاصے ہشاش بشاش موڈ میں تھا۔ “پہلے اشوویلی رکیں گے پھر گلشئر پھر آبشار پر اور آخر میں وہ جگہ جہاں ہم آج رات گھاس پر گزاریں گے۔ پری! تم اس ملک میں رہتی ہو اور تم نے ابھی ٹک یہ جگہیں ۔۔۔
“وہ اگیا۔ وہ دیکھو بلکل سامنے۔ “ایک دم ارسہ خوشی سے اچھل پڑی
صفحہ نمبر 87
“شاہگوری؟ادھر؟ کالام میں؟ “پری نے اس کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا، جہاں بلکل سامنے جامنی پہاڑوں کے سلسلے کے درمیان ایک الگ سا برف سے ڈھکا سفید پہاڑ کھڑا تھا۔
“یہ شاہگوری ہے؟ مگر شاہگوری تو سکردوسائیڈ پر ہے ۔۔۔قراقرم کے پہاڑوں میں۔ ۔۔ہے نا افق؟ “اس نے الجھ کر افق کو مخاطب کیا، مگر وہ اپنی گود میں رکھے کیمرے کو دیکھ رہا تھا، اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“یہ شاہگوری نہیں ہے، مگر مقامی لوگ اسے شاہگوری کا چھوٹا بھائی کہتے ہیں۔ بلکل وہی اہرام نما شکل ہے اس کی۔ ویسا ہی دیکھتا ہے ناں؟ “ارسہ بڑی خوشی خوشی بتا رہی تھی۔
“واقعی۔۔۔بلکل ویسا ہی ہے” اس کے لہجے میں فخر اتر آیا تھا۔ آخر شاہگوری ،دنیا کو دوسری بلند ترین چوٹی اس کے ملک میں تھی، وہ فخر کیوں نہ کرتی؟
“ویسے افق شاہگوری کا نام کے ٹو کس نے رکھا تھا؟ “افق اپنے کیمرے میں مصروف تھا، اس نے جواب نہیں دیا۔
“افق !پری نے پھر اسے پکارا
“پتا نہیں، مجھے یہ سیٹ کرنے دو نا” وہ کیمرے پر جھکے بے زاری سی آواز میں بولا۔ پریشے نے بری طرح چونک کر اسے دیکھا۔
“میں بتاتی ہوں پری آپی! جب کپٹیں ٹی جی نے قراقرم کے پہاڑوں کا سروے کیا تھا تو اسنے جس ترتیب سے پہاڑ دیکھے تھے، اسی ترتیب سے ان کا نام رکھ دیا تھا۔ کے ون، کے ٹو ،کے تھری،اور کے فور وغیرہ”،
“کے سے کیا مراد ہے” ؟نشاء نے پوچھا
“۔k is for karakoram وہ مزے سے بولی “ہے نا پری آپی؟ “اس نے تائید چاہی۔
“ہوں” پریشے نے تو اس کی بات ٹھیک سے سنی بھی نہیں تھی۔ وہ تو افق کو دیکھ رہی تھی جو سر جھکائے کیمرے کے بٹنز کو خوامخواہ دبا رہا تھا۔ صاف محسوس ہو رہا تھا کہ اس کا ذہن کہیں اور ہے۔ وہ ایک دم اتنا بیزار اور اکتا کیوں گیا تھا، وہ سمجھ نہیں سکی تھی۔
اشوویلی پہنچنے تک سارا راستہ وہ اور افق خاموش رہے تھے۔ وہ اپنے کیمرے پر جھکا رہا ۔۔۔۔
صفحہ نمبر 88
اور پریشے خالی الذہنی کی کفیت میں کھڑکی سے باہر، نیچے بہتے نیلے دریا کو دیکھتی رہی۔
کبھی کبھی اس کا دل چاہتا تھا کہ افق اس سے کچھ کہے۔ اپنے اور اس کے نا معلوم تعلق کی وضاحت کرے۔ اسے بتاۓ کے وہ اس کے لیے کیا سوچتا ہے۔ وہ جاننا چاہتی تھی کے ان دونوں کے درمیان اگر کچھ ہے تو وہ کیا ہے مگر یہ سب وہ اس سے کہنے سے قاصر تھ
اشو، فلک بوس پہاڑوں کے درمیان بنی ایک چھوٹی سی وادی تھی، جس کے درمیان نیلا دریا بہتا تھا۔ وادی میں سیاہوں کی خاصی گہماگہمی تھی۔ ان کی پراڈو کے ساتھ پجارو اور جیپیوں کا ایک پورا قافلہ کالام سے نکلا تھا، ان میں سے تقریبآ سب ہی گاڑیاں اشو میں رک گئی تھیں۔ باکی پیچھے آرہی تھیں۔
“آؤ۔اس کیبن میں چلتے ہیں” یہ پہلی بات تھی جو ادھر آکر افق نے کی تھی۔ اس نے موڑ کر اسے دیکھا پھر اس کے پیچھے چل دی۔
سڑک کے دائیں طرف نیچے شور مچاتا نیلا دریا بہ رہا تھا۔
وہ جس طرف سے کیبن میں داخل ہوئے وہ کھلی تھی باقی تین طرف بند تھے۔ اور وہ کبین بلکل بلککونی لگ رہا تھا۔
کبین میں دونوں طرف لکڑی کے بنچ اور درمیان میں لکڑی کی بنی میز رکھی تھی۔ وہ ایک طرف کے آخری سرے پر ٹک گئی، تا کہ بائیں طرف بہتا دریا اچھی طرح دیکھ سکے۔ نشا اور ارسہ وہاں سے نہیں آئی تھیں، وہ کولڈ ڈرنک لینے چلی گئی تھیں۔ افق لکڑی کی ریلنگ کو تھامے جھک کر نیچے بہتے دریا کو دیکھ رہا تھا۔
“سنو” !اس نے افق کو پکارا، مگر دیوقامت سرمئی پتھروں سے ٹکراتے نیلے پانی کے شور اتنا تھا کے وہ سن نہ سکا۔ وہ اٹھ کر اس کے قریب آگئی۔
“سنو، تمہارا موڈ کیوں خراب ہوا تھا؟ “لکڑی کی ریلنگ سے پشت ٹکا کر ایسے کھڑی ہوگئی کہ دریا پشت پر اور افق
وہ چونک کر سیدھا ہوا، “میرا موڈ؟ نہیں تو”
صفحہ نمبر 89
“کبھی کبھی تم اتنے اجنبی بن جاتے ہو کہ۔۔۔۔”وہ رک گئی اور گردن پھیر کر پیچھے بہتے دریا کو دیکھنے لگی۔
“کہ”؟وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا۔
“کہ مجھے خوف انے لگتا ہے” نیچے بہتے نیلے پانی اور اس کی سفید جھاگ پر نظریں جمائے وہ سر گوشی میں بولی ۔
“اچھا” ؟وہ ہولے سے ہنس دیا۔
پریشے نے رخ موڑ کر سنجیدگی نگاہوں سے اسے دیکھا۔ “اس روز جلیل کے ریسٹورنٹ میں بھی تم ایسے ہوگئے تھے۔ مجھے دکھانے کو بلی کو پیار کر رھے تھے۔ ہے ناں؟ “
“تمہیں وہ بات ابھی تک یاد ہے؟ “وہ جواب دیے بنا گردن پھیر کر پانی کو دیکھنے لگی۔
“آئی ایم سوری فار ڈیٹ پری، میں۔۔۔۔بس۔ ۔۔پتا نہیں کبھی کبھی مجھے کچھ ہو جاتا ہے” اس نے گردن موڑ کر اسے نہیں دیکھا، وہ یونہی پیچھے بہتے دریا کو دیکھتی رہی۔ چند لمحے خاموشی کے نذر ہوگئے۔
پتھروں سے سر پٹخہتے پانی کے شور کے باوجود اسے بہت خاموشی محسوس ہو رہی تھی۔
“جانتی ہو پری! جب میں نے تمہیں مارگلہ کی پہاڑیوں پر پہلی دفعہ دیکھا تھا تو مجھے کیا لگا ؟مجھے لگا میں واقعی کسی پری کو دیکھ رہا ہوں۔ تم نے وائٹ اور پنک رنگ پہن رکھا تھا، تمہیں یاد ہے؟ میں یوں کبھی بھی اجنبیوں سے فرینک نہیں ہوتا، میری طبیعت کچھ اور ہے۔ موڈی کہہ لو، اکھڑ کہہ لو۔ ۔۔مگر تم سے بات کرنے کو میرا دل چاہا تھا”
کیبن کی دائیں طرف دھوپ اندر انے لگی تھی، سورج کی شعاعیں براہراست پریشے کے چہرے پر پڑ رہی تھیں، وہ اس کے دائیں طرف آکر کھڑا ہوگیا، دھوپ۔ کا راستہ رک گیا تھا۔
“تمہیں دیکھ کر مجھے یوں لگا تھا جیسے میں تمہیں جانتا ہوں، ہزاروں برس سے جانتا ہوں، تم میری ذات کا وہ گمشدہ حصہ ہو، جو ٹوٹ کر الگ ہوگیا تھا۔ ہم دونوں صدیوں پہلے کسی اور دنیا میں بیچہڑے تھے اور اس روز مارگلہ کی پہاڑیوں پر پھر سے مل گئےتمہیں ایسا لگتا ہے پری؟ “بہت یشے نے سر جھکا لیا اپنے جوگرز تلے لکڑی کے تختوں کی درزوں سے اسے جھاگ اڑاتا نیلآ پانی نظر آرہا تھا۔
وہ کتنی ہی دیر اس کے جواب کا انتظار کرتا رہا، وہ کچھ نہ بولی۔ تب ہی اسے ارسہ کی آواز سنائی دی ،وہ افق کو بلا رہی تھی۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ چند گز فاصلے پر کھڑی دور ہی سے بہت
صفحہ نمبر 90
بلند آواز میں اسے کسی ٹریک کا بتا رہی تھی۔ وہ سر ہلا کر پریشے کے دائیں طرف سے ہٹ گیا سورج کی تیز شعاعیں اس کے چہرے سے ٹکرائی تھیں،اسے لگا وہ اس کے جانے سے ایک دم تنہا سی ہو گئی۔ بھری دھوپ میں بلکل تنہا۔
ارسہ کی طرف جاتے افق کی پشت کو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگ گے ان دونوں کا سات دونوں کا ساتھ تھا، دو دن مزید رہ گے تھے، پرسوں انہوں نے واپس لوٹ جانا تھا، پھر راستے اور منزلیں جدا ہو جانی تھیں۔ وہ اپنی شادی کی تیاریوں میں مگن ہو جاۓ گی اور وہ ترک کوہ پیما دنیا کی سب سے حسین چوٹی سر کر کے واپس چلا جاۓ گا اسے تو شاید یاد بھی نہ آئے کے مارگلہ کی پہاڑیوں پر جب بادل نیچے اترے ہوئے تھے، تب اسے بیچ سڑک پر ایک لڑکی ملی تھی وہ بھلا دے گا ک اس لڑکی کے ساتھ اس نے سوات کے مرغزاروں میں نو دن بتاۓ تھے، وہ نو دن جو صدیوں پر بھاری تھے۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی ک وہ مسافر تھا اور وہ جانے کے لیے آیا تھا اور خود اسکی سیف سے تین ماہ بعد شادی ہونے والی تھی، وہ اس مسافر سے محبت کرنے لگی تھی سختی سے آنکھیں رگڑ کر وہ نیچے شور مچاتے دریا کو دیکھنے لگی۔
گلیشیئر پر گاڑی نہیں روکی گئی، ان کے خیال میں یہ وقت ضیاع تھا۔ آبشار تک کے سارے راستے میں گاڑی میں خاموشی چھائی رہی۔ نشا سو رہی تھی۔ ارسہ سٹیفن کنگ کا ناول پڑھ رہی تھی۔ اور افق کھلی کھڑکی پر کہنی جمائے مسلسل باہر دیکھ رہا تھا دریا اس کی طرف تھا جب کے پریشے سامنے پربتوں پر نگاہیں ٹکائے کسی بیتے لمحے کے فسوں میں کھوئی تھی۔
اس کے ذہن میں افق کے الفاظ گردش کر رہے تھے۔
وہ کیا کہنا چاہتا تھا؟ وہ کیا نہیں کہہ رہا تھا؟ کوئی اظھار،کوئی اعتراف،کوئی اقرار؟ یا پھر وہ محض لفظوں سے کھیل رہا تھا اور وہ یک طرفہ محبت کا شکار تھی۔ جس قطرے جتنی محبت کو اس نے سیپ میں بند کردیا تھا، وہ قید رہ کر موتی بن گیا تھا۔ اسے یہ ادراک خاصی دیر سے ہوا تھا۔
وہ آبشار بہت بلندع سے گررہی تھی۔ اس کا منبع پہاڑ کی چوٹی کے قریب تھا، وہاں سے شروح ہو کر وہ کئی سوفٹ نشیب میں سڑک تک آتی تھی اور سڑک کے نیچے سے ہو کر اشو دریا میں
سڑک کے کنارے کولڈڈرنک کارنرز بنے تھے۔ وہاں خاصی گہماگہمی تھی۔ ان کے انے سے پہلے بھی وہاں خاصی بڑی تعداد میں بچے، بوڑھے، نوجوان جوڑے اور فیملیز گھوم پھر رہی تھیں۔ چند لڑکے پتھروں پر چڑھتے ہوئے اوپر آبشار کے منبع تک جا رہے تھے۔ ایک سبز کیپ والا لڑکا سب سے اگے تھا۔
“مجھے یقین نہیں آرہا ک اتنی بڑی آبشار پاکستان میں ہے” نشاء نے ان تینوں کے ہمراہ پتھروں پر اوپر چڑھتے ہوئے بے اختیار کہا تھا۔ وہ پتھر آبشار کے کنارے پر ہی تھے، اتنے خطرناک کے ذرا پاؤں پھسلے اور بندہ پانی میں جاگرے۔ تیز رفتار بہتے پانی میں تو یوں بھی لاش نہیں ملا کرتی۔
“میں نے ہمیشہ خوبصورتی کے بارے میں ناران کا غان کا نام سنا تھا”
“نشا مائنڈ مت کرنا مگر ناران کاغان اتنے خوبصورت نہیں جتنا ان کو کہا جاتا ہے ۔وہاں پہاڑ قدرے خشک ہیں اور واحد خوبصورتی جھیل سیف الملوک ہے، جس پر پریاں اترٹی ہیں۔ ناران کاغان کو اگر کوئی پاکستان کا بہترین تفریہی مقام سمجھتا ہے تو اس نے یقینن کالام اور سوات کا حسن نہیں دیکھااور جگہوں کو کئی بار وزٹ کر چکا ہوں اور میری رائے میں ناران، کاغان، شوگران،یہ سب جگہیں سوات اور کالام سے زیادہ حسین نہیں”
وہ اگے پیچھے سرمئی پتھروں پر چڑھ رہے تھے۔ نشا اور ارسہ کھانے پینے کی جگہ پر رک گئی تھیں، افق کو ایک خالی چارپائی نظر آئی اس نے کسی محنتی مزدور کی طرح وہ چارپائی اپنے کندھے پر اٹھائی اور اوپر چڑھنے لگا۔
“بس یہی رکھ دو” وہ سڑک سے کافی اوپر پتھروں پر چڑھتے ہوئے آگے تھے، افق نے اس کے کہنے پر پتھروں اور پانی کے درمیان چار پائی رکھ دی۔
“گندے بچوں کی طرح جوتے اتار کر پانی میں پاؤں مارنا مجھے ہمشہ سے بہت اچھا لگتا ہے” اس نے ہنستے ہوئے جوگر ،جرابیں اتار کر چارپائی پر رکھیں اور اس پر بیٹھ کر سیاہ ٹراوزر نخنٹوں سے کافی اوپر تہ کر کے اپنے سپید پاؤں ٹھنڈے پانی میں ڈال دیے۔ افق بھی ساتھ بیٹھ گیا مگر اس نے جوگرز نہیں اتارے۔
“تم بھی جوتے اتار دوناں ،اتنا مزہ آرہا ہے” وہ بچوں کی طرح پانی میں اپنے پاؤں سے دائرے بنا رہی تھی، افق نے مسکرا کر سر نفی میں ہلا دیا۔
کم آن افق، جوتے اتار دو۔ پانی اتنا ٹھنڈا ہے، لگتا نہیں یہ جولائی کا مہینہ ہے” افق نے پھر بھی جوتے نہیں اتارے ۔اس کے بجاۓ اس نے قدرے جھک کر ہاتھ پانی میں ڈال دیے تھے۔
“تم جوگرز بھی اتاردو “پری نے تیسری دفعہ اصرار کیا۔
“نہیں ،میں ٹھیک ہوں” وہ گردن اونچی کر کے اوپر پہاڑ سے پہوٹتی آبشار کو دیکھنے لگی اسے حیرت ہوئی تھی وہ ایک اس کی بات فورن مان جاتا تھا، تو اب؟یہاں پر ایک ہوٹل بنایا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے پہلے ان کو اس علاقے کی مٹی کے ٹیسٹس کرانے پڑیں گے اور۔ ۔۔۔۔”
“میں بھول گئی کہ تم انجنیر ہو یاد کروانے کا شکریہ” وہ اسکی بات پر ہنس پڑا۔
“بہت جلدی بھول جاتی ہو، مجھے بھی اتنی جلدی بھول جاؤگی؟ “
“ویسے تم نے کس چیز میں انجنیرنگ کی ہے” ؟وہ اس کا سوال نظر انداز کر کے جھکی ہوئی پانی میں ہاتھ مار رہی تھی۔
“میں جیولوجیکل انجینیر ہوں”
“اوہ۔۔۔پھر ہم پاکستانیوں کے تو کسی کام کے نہیں ہو” گرتے پانی سے جہینٹے اڑ رہے تھے۔
وہ چہرے پر آئے پانی کے چہینٹے صاف کرتے ہوئے سیدھی ہو کر شرارت سے مسکرائی ۔
“کیوں کد پاکستان میں زلزلے نہیں آتے” ۔
“اچھا” ؟
“ہاں۔۔۔آخری زلزالہ 80 سال پہلے کوئٹہ میں آیا تھا، اس سے غالبآ 35ہزار لوگ مر گے تھے۔ پھر اس کے بعد ایسا زلزلہ نہیں آیا۔ اس لیے تم ہمارے تو کسی کم کے نہیں ہو”
“ڈاکٹر صاحبہ ،میری معلومات کے مطابق صرف بلوچستان میں ہی 1935ء کے زلزلہ کے بعد تین زلزلہ آئے تھے”
“میں بڑے زلزلوں کی بات کر رہی ہوں” وہ سر اٹھا کر گرتے پانی کو دیکھنے لگی۔
“میں چند سال پہلے جب پہلی دفعہ ایورسٹ سیر کرنے گیا تھا تو ترکی میں زلزلہ آیا تھا میں ایکسپیڈیشن لیڈ کر رہا تھا اور ہم بالکونی پر تھے، جب مجھے زلزلے کی اطلاع ملی” وہ اوپر آبشار کی چوڑی دھار کو دیکھتے ہوئے یاد کر کے بتا رہا تھا۔
صفحہ نمبر 93
“اوہ۔۔۔تو پھر۔۔۔ بالکونی سے ایورسٹ کی چوٹی تک کا سفر یقینآ تم نے ڈپریشن میں کیا ہوگا” ۔
افق نے گردن پھیر کر سنجیدگی سے پریشے کو دیکھا۔ “میں زلزلے کے متلعق سنتے ہی “بالکونی” سے واپس پلٹ گیا تھا”
“کیا” ؟ اس نے تھیر سے آنکھیں پہاڑ کر اسے دیکھا۔ “ڈونٹ ٹیل می، تم بالکونی سے واپس پلٹ گے تھ، ادھر سے ایورسٹ کی چوٹی کا فاصلہ ہی کتنا تھا بھلا” ۔
“میں چوٹی سے ایک قدم دور بھی ہوتا تو زلزلے کا سن کر واپس چلا جاتا۔ میں ایورسٹ کی فتح کس کے لیے کر رہا تھا؟ اپنے ملک کے لیے ناں؟ تو میرے ہاتھ میں میرے ملک کا جو سرخ جھنڈا تھا، وہ جھنڈا مجھے کہہ رہا تھا کہ تمہارے ایورسٹ سر کر لینے سے ترکی کے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہاں اگر تم واپس پلٹ جاؤ تو شاید بہت سے بے یارو مددگار لوگوں کی کچھ مدد کر سکو اور پھر میں واپس اگیا۔ اس بیحد کامیاب انٹرنیشنل ایکسپیڈیشن کو چھوڑ کر جس میں بیسیوں کوہ پیما شامل تھے ۔ساٹھ تو صرف مقامی sherpas( شرپا) تھے مگر میں ترکی اگیا۔ وہاں بہت بری حالت تھی۔ ہر طرف ملبہ تھا، لاشیں بکھری تھیں۔ اس کے بعد سے مجھے زلزلوں سے بہت خوف سا آتا ہے”
“وہ تحیر سے اسے دیکھ رہی تھی۔ کیا کوئی انسان اتنا نرم دل بھی ہو سکتا ہے ک بالکونی سے ایورسٹ summit کیے بغیر پلٹ جاۓ؟ کیا کوئی کوہ پیما بالکونی سے بھی واپس آسکتا ہے، بغیر کسی جسمانی یا موسمی تاخیر کے؟
“پھر تم ایورسٹ نہیں سر کر سکے؟
“کر لیا تھا، 2001ء میں ۔اور پلیز زیادہ ایکسائیٹڈ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے علاوہ تقریبآ سترہ سو اور لوگ بھی کر چکے ہیں، یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے”
“تم میں بہت عاجزی ہے”
“ان پہاڑوں پر اتنی مار پڑی ہے۔ کہ سارے کس بل نکل گئے ہیں۔ تمہیں دنیا کا کوئی بہت اچھا کوہ پیما مغرور نہیں ملے گا۔ کیوں کے ہم کلائمبرز سے زیادہ کون جان سکتا ہے ک ہم انسان mother nature کی ایک حقیر سی مخلوق ہیں۔ میں اتنی بلندیاں دیکھ چکا ہوں کے اپنا آپ کچھ بھی نہیں لگتا۔
صفحہ نمبر 94
“سوری مگر آپ کے رومانس میں مخل تو نہیں ہوئی” ؟ارسہ اچانک ہی چارپائی کے سامنے آئی تھی۔ پریشے نے ہڑبڑا کر اسے دیکھا۔
“ہاں، بلکل مخل ہوئی ہو” افق نے بات کاٹے جانے پر اسے برا سا منہ بنا کر دیکھا۔
“نہیں۔ ارسہ !ایسی کوئی بات نہیں ہے” وہ گھبرا کر وضاحت دینے والے انداز میں کہہ رہی تھی مگر ارسہ نے تو جیسے سنا ہی نہیں تھا۔ وہ نیچے سے آتے ایک گلابی رخساروں والے بچے کی طرف متوجہ ہو چکی تھی، جو ہیٹ بیچ رہا تھا۔ پریشے نے سر جھکا کر خشک لبوں پر زبان پھیری ۔اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ ۔اس کے ارد گرد کے لوگ کیا واقعی سب کچھ جان گئے تھے؟
“میں کسی لگ رہی ہوں؟ “ارسہ بچے سے ایک ہیٹ لے کر سر پر ٹرائی کر رہی تھی۔
“بلکل ٹائی ٹینک والی کیٹ و نسلٹ !” افق نے مسکرا کر کہا۔
“میں اتنی موٹی لگ رہی ہوں؟ بس رہنے دو، مجھے نہیں چائیے ہیٹ “اس نے فورن ہیٹ اتار کر بچے کو واپس کردی، اس کی گلابی رنگت پر مایوسی چھا گئی، وہ بجھے چہرے کے ساتھ پلٹنے لگا۔
“سنو مجھے تو دکھاؤ ہیٹ! ” پری سے رہا نہ گیا تو بچے کو بلا لیا۔ وہ فورآ پلٹا اور سارے ہیٹ اس کے سامنے رکھ دیے۔
“میں اسے پہن کر کچھ اور تو نہیں لگ رہی؟ ” اس نے ایک سکن کلر کا سادہ ہیٹ خرید لیا تھا۔
“نہیں،بہت اچھا ہیٹ ہے” افق نے مسکرا کر کہا۔
اس نے یہ نہیں کہا تھا ک “تم اچھی لگ رہی ہو” ۔اس نے یل دفعہ غلطی سے اسکے ہنسی کی تعریف کردی تھی، وہ بھی شاید مزاق میں کی تھی۔ وہ کبھی اس کی مغلئی آنکھوں ،رسیلے ہونٹوں یا سیاہ چمک دار بالوں کی تعریف نہیں کرتا تھا۔ شاید اس کو غور سے دیکھتا بھی نہیں تھا۔ وہ ظاہری چیزوں کی پوجا کرنے والوں سے بہت مختلف تھا ۔
“افق ہاتھ پانی میں ڈالے اس ہیٹ والے بچے کی طرف پانی اچھال رہا تھا، بچہ اپنا ہیٹ کا ٹھیلا ایک طرف رکھ آیا تھا اور آبشار کے بلکل کنارے پر اپنی پنڈلیاں ڈالے ایک “گورے” سیاہ کے مزاق کو انجوائے کر رہا تھا، ساتھ ساتھ وہ بھی اس پر پانی اچھال رہا تھا ۔
صفحہ نمبر 95
“مت کرو تم دونوں ،میرے اوپر پانی آرہا ہے” اپنا کڑھائی والا نیا کرتا خراب ہوتے دیکھ کر وہ غصے سے بولی۔
“ہم کھیل رہے ہیں” ۔
“بہتر۔۔۔تم شاید بیس سال پہلے، اپنے بچپن میں چلے گئے ہو، مگر میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ۔میں جا رہی ہوں” وہ کسی صورت پانی اچھالنے سے باز نہیں آرہا تھا، یہ دیکھتے ہوئے وہ اپنے جوگرز ہاتھ میں اٹھاۓ پتھروں سے نیچے اترنے لگی۔
وہ لوگ خاصی دیر آبشار پر بیٹھے رہے، یہاں تک ک سورج ان کے سروں پر اگیا اور آبشار کا پانی سنہری دھوپ میں مزید چمکنے لگا۔ بہت سے ٹورسیٹ آبشار سے جا رہے تھے، کچھ اب آرہے تھے، غرض آبشار پر ہر وقت رونق لگی رہتی تھی۔
دوپہر میں جب وہ وہاں سے روانہ ہوئے تو پریشے اتنی تھک چکی تھی ک گاڑی میں بیٹھتے ہی سو گئی۔ اسے نیند سے نشا نے تب جگایا جب ماہوڈھنڈ آگئی تھی۔
وہ گاڑی سے نکلی تو اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں، مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی نیند تو غائب ہوئی ہی، ساتھ ہی سانس بھی ایک دم رک گیا تھا۔
سامنے تاحد نگاہ سبزہ پھیلا تھا ،جیسے ہزاروں ایکڑ پر پھیلا کوئی لان ہو، سبزے کے اختتام پر اشو دریا کا پانی ایک جگہ اکھٹھا ہو جاتا ٹھا اور وہاں اس کی رفتار نہ ہونے کے برابر تھی، اس جھیل کی صورت اکٹھے ہوئے پانی کو ماہوھنڈ جھیل کہتے تھے۔
جھیل کا پانی سبزی مائل نیلا ٹھا، اس کی سطح پر ڈوبتے سورج کی آخری سنہری پریاں رقص رہی تھیں۔ جھیل کے پیچھے بلند و بالا سبز پہاڑ تھے جنہوں نے پورے علاقے پر سایہ سا کر رکھا ٹھا۔
ان پہاڑوں کے ساتھ ماہوھنڈ کے دائیں طرف دیار کے درختوں کا جھنڈ ٹھا۔ وہ اس سبزہ زار میں واحد درخت تھے، بلکل ایسے جیسے کرسمس ٹریز ہوتے ہیں۔
ٹولیوں کی صورت میں ٹورسٹ دور دور تک گھاس پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک ٹوپی والا پٹھان گھوڑے کی باگ تھامے کھڑا تھا۔اسے دیکھ کر پریشے کو بے اختیار مری والا واقعہ یاد آیا۔ افق نے کیپ سیدھی کرتے ہوئے گھوڑے والے کو اشارے سے اپنے قریب بلایا۔
“اللہ کا، انگلش راجی کا” قریب انے پر اس نے شلوار قمیص میں ملبوص چھوٹی چھوٹی داڑھی والے پٹھان سے پوچھا۔
صفحہ نمبر 96
“نہ۔۔۔ انگلش نہ راجیکا۔ پختو راجی کا؟ “
افق نے مایوسی سے نفی میں گردن ہلا دی۔
“تم پشتو بول رہے ہو؟ “اس نے حیرت سے افق کو دیکھا۔
“ارے نہیں، یہ تو امببیسی والوں نے دو چار لفظ لکھا دیے تھے۔ تم اس سے کہو کے صبح کو یہ گھوڑا لے آئے میں اس پر سواری کرو گا”
پریشے نے یہ جاننے کے بعد کے اس گھوڑے بان، جس کا نام امیر حسن تھا، کو اردو آتی ہے اس تک افق کا پیغام پہنچایا۔ ورنہ پشاور اور اس سے اگے لوگوں کی اکثریت اردو سے نابلد تھی۔
“آج ہمارے ٹرپ کا آخری دن ہے، کل واپسی ہے، سو آج رات ہم کیمپ لگایں گے” گھاس پر ایک ساتھ بیٹھتے ہوئے اپنے بیک بگس کسی بوجھ کی طرح ایک طرف رکھتے ہوئے پریشے نے کہا۔
“اور میرے پاس مناپلی بھی ہے، وہ بھی کھلیں گے۔ بس یہ ٹورسٹ یہاں سے چلے جاۓ پھر یہ پورا سبزہ زار ہمارا ہوگا اور ہاں افق بھائی، آپ نے پریشے آپی کو dare. بھی دینا تھا”
“”اوہ۔۔۔میں ٹو بھول بھی چکا تھا” وہ کہنییوں کے بل گھاس پر نیم دراز تھا، مفلر اس کے چہرے اور کیپ سینے پر رکھی تھی۔ اس کی شرٹ سامنے سے ابھی تک گیلی تھی۔
“تو پھر کیا ہے آپ کا دیر ؟”پری کے لاکھوں گھورنے پر (ک اگر وہ بھول چکا تھا تو تم بھی جانے دو) ارسہ کہہ اٹھی۔
“ایسا ہے پریشے جہاں زیب، آپ کل صبح ہمیں ماہوڈھنڈ سے مچھلیاں پکڑ کر دیں گی۔ جو میں خود لو گا”
“اور ہم بھی کھائیں گے؟ “
“ہاں،بلکل۔ ۔۔”وہ چہرے پر مصنوعی سنجیدگی طاری اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ پری نے شانے اچکادئیے ۔
“پکڑدوں گی، بنسیاں اور کنڈیاں ہیں” ؟
“میرے پاس سب ہے، مادام! “
صفحہ نمبر 97
پھر جب شام کا ہلکا اندھیرا پھیلنے لگا اور سورج کی کرنیں ماہوڈھنڈ کے پانیوں سے روتھ کر روپوش ہونے لگیں اور سیاہوں کی گہماگہمی ماند پڑنے لگی، تو ایسے میں وہ چاروں کھلے آسمان تلے گزارنے والی رات کی تیاری کرنے لگے۔ اپنے بیک پیکس سے کیمپنگ کا سامان ہنستے بولتے باتیں کرتے خیموں کے پولز اور جوائنٹس سیٹ کیے۔ ان پر شیٹ ڈالی، سلیپنگز بچھائے اور خود خیموں کے ایک طرف کھلے آسمان تلے دائرے بنا کر بیٹھ گے ۔درمیان میں امیر حسن کے توسط سے منگوائی لکڑیوں سے آگ جلالی گئی تھی
“میں بینکر ہوں گی۔ بینکر کم پلیئر” ارسہ منا پلی کا بورڈ اور کارڈ وغیرہ سیٹ کرتے ہوئے بولی۔ الاؤ کے ایک طرف وہ اور نشا تھیں۔ دوسری طرف پری اور افق نے مناپلی کا بورڈ درمیان میں ہی آگ کے قریب کسی طرح ایڈجسٹ کر لیا تھا۔
مناپلی جیسی گیم میں گھنٹوں منٹوں کی طرح گزرتے ہیں، دو گھنٹے گزر گئے اور انھیں پتا ہی نہیں چلا۔
“یہ پکاڈلی کس کی ہے؟ ” پریشے کی گوٹ پہلے رنگ کی پکاڈلی پر آئی تھی، اس کے اپنے پاس چار زمینیں تھیں قسمت اتنی خراب ک ہر باری پر وہ افق یا نشا کی کسی زمین پر چڑھ جاتی یا پھر سیدھی جیل جاتی ۔میری ہے” نشا نے مطلوبہ کریا بتایا۔ اس نے منہ بناتے ہوئے چند پاؤنڈز نکل کر اسے تھمائے۔افق نے نظر اٹھا کر اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھا پھر دھیرے سے اپنے کارڈز میں سے آکسفورڈ سٹریٹ کا گرین کارڈ نکال کر اس کے ہاتھ میں پکڑایا، پریشے نے چونک کر اسے دیکھا۔
“رکھ لو ،ابھی نشا اس پر آئے گی تو تم اس سے یہ کرایہ لے لینا” اس نے سر گوشی میں کہا۔ پریشے نے چور نظروں سے الاؤ کے اس پار بیٹھی ارسہ اور نشا کو دیکھا۔ وہ اس کی جانب نہیں دیکھ رہی تھیں۔
“شکریہ” اس نے جھٹ کارڈ رکھ لیا۔
نشا کی گوٹ ریجنٹ سٹریٹ پر آئی ۔ارسہ کی مے فیر پر پھر نشا کی کنگ کراس سٹیشن پر اور وہ افق کی زمینیں تھیں مگر وہ بڑے حق کے ساتھ کریہ وصول کرتی رہی۔
“میرا خیال ہے یہاں کوئی بے ایمانی کر رہا ہے” ادھے گھنٹے بعد ارسہ کو تب احساس ہوا جب وہ واٹر ورکس پر آئی اور پریشے نے کرایہ مانگا ۔
یہ واٹر ورکس اور الیکٹرک کمپنی تو افق بھائی آپ کی تھیں، مجھے اچھی طرح یاد ہے
صفحہ نمبر 98
میں بینکر ہوں” پری نے قدرے بوکھلا کر افق کو دیکھا۔
“اوہو ارسہ! میری کہاں تھیں؟ میری تو صرف الیکٹرک کمپنی تھی”
“پری آپی! ذرا کارڈ نکال کر دکھائیں واٹر ورکس کا” اس کا اندازہ قطعی تھا، پریشے پکڑی جا چکی تھی ک کارڈ افق کے پاس تھا۔
“کیا کرتی ہو ارسہ !پری جھوٹ تھوڑی بول رہی ہے۔ میں نے اپنی گناہ گر آنکھوں سے اسے یہ زمین خریدتے دیکھا ہے”
“گناہ گاروں کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ پری آپی! مجھے کارڈ دیکھائیں”وہ بضد تھی۔
“ارسہ !تمہاری گردن پر کوئی کیڑا چل رہا ہے” افق نے فلمی اور تھرڈ کلاس حربہ آزمایا، جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا۔ ارسہ کارڈز چھوڑ کر گردن جھاڑنے لگی۔
“کیڑا ؟کدھر ہے؟ “
“ابھی تک تمہاری گردن پر بیٹھا ہے کتنا خون پی چکا ہوگا اب تک تمہارا۔ ویسے گروپ کیا ہے؟ “وہ بات کو کہاں سے کہاں لے جا رہا تھا، صرف پریشے کو بچانے کے لیے اس نے ممنونیت سے افق کو دیکھا۔الاؤ کی زرد روشنی اس کے چہرے کے نقوش کو مزید تیکھا بنا رہی تھی۔ (“اے پازیٹو۔ ۔۔۔۔اور نہیں ہے کیڑا” ۔
“اے پازیٹو؟ ہوں۔۔۔میرا او نیگیٹو ہے” وہ یونہی بولا تو مجرموں کی طرح گردن جھکائے بیٹھی پریشے نے چونک کر سر اٹھایا، “سیف کا بھی او نیگیٹو ہے” اس نے بے اختیار زبان دانتوں تلے کرلی، نشا نے ہڑ بڑا کے اسے دیکھا۔
“سیف کون” ؟افق نے تجسس سے نہیں محض ارسہ کی توجہ واٹر ورکس والی بات سے ہٹانے کو پوچھا تھا اور اب وہ پری کے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی ڈائس ہاتھ میں لیے باری کرنے لگا تھا ۔مگر جواب تو پری کو دینا ہی تھا۔ نشا نے خاموش نگاہوں سے التجا کی تھی ک وہ چپ رہے لیکن اس کو ہر صورت افق کو وہ بتانا تھا جو بتانے کا اسے موقع نہیں مل رہا تھا۔
“سیف میرا کزن ہے، پھوپھو کا بیٹا اور میرا۔ ۔”وہ لمحے بھر کو رکی، افق کی ڈائس کھیلتی انگلیاں تھمیں، اس نے گردن اٹھا کر سوالیہ نگاہوں سے پریشے کو دیکھا۔
“اور میرا منگیتر بھی۔ ۔۔تین ماہ بعد میری اس سے شادی ہے” بہت پر اعتماد انداز میں اس نے کہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: