Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 7

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 7

–**–**–

#پانچویں_چوٹی_تیسرا آخری_حصہ
قسط 7
وہ جو کچھ کہنے لگا تھا، یک دم رک گیا۔ اس کی آنکھوں میں پہلے حیرت در آئی پھر الجھن اور بالا آخر واضح بے یقینی۔
پل بھر کو ماہوڈھنڈ کے کنارے اس وسیع و عریض سبزہ زار میں سکوت سا چھا گیا۔ اونچے الاؤ سے چنگاریاں نکل کر فضا میں گم ہو رہی تھیں۔
“آپ۔ ۔۔انگجیڈ ہیں؟ “واٹر ورکس کو بھول کر بے یقینی سے ارسہ اسے دیکھ رہی تھی۔
“ہاں، تین سال سے” اس کے دل سے کوئی نا دیدہ بوجھ ہٹ گیا تھا، مگر پھر افق کا زرد چہرہ دیکھ کر اسے اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا۔
“اوہ اچھا” وہ سمبھل گیا اور پھر اپنی نگاہیں ہاتھ میں پکڑی ڈبیا پر مرکوز کیے جیسے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔ پھیکی رنگت پھیکی مسکراہٹ۔
“مبارک ہو، تم نے۔۔۔۔تم نے کبھی بتایا نہیں۔۔۔۔تو۔۔تمہاری شادی ہو رہی ہے۔ ۔۔۔ہوں گڈ۔۔۔۔۔تو کیا کرتا ہے۔ وہ؟ “وہ رکا”وہ۔۔۔سیف؟ “وہ اپنے لہجے میں کچھ ٹوٹنے کا کرب نہ چھپاسکا تھا۔
“بزنس”
“آہاں!ویری نائس”افق نے ڈبیا رکھ دی اسے شاید بھول چکا تھا ک اس کی باری تھی۔ الاؤ کے اس پار نشا سر جھکائے بیٹھی تھی۔ وہ اداس تھی، پریشے سمجھ سکتی تھی مگر اس کو ہر صورت میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی اگر تھی تو ختم کرنی تھی۔
لکڑیوں میں سے بار بار چیخنے کی آواز آرہی تھی۔
“چلیں، گیم دوبارہ شروع کریں” ارسہ کی لہجہ بھجا بھجا سا تھا۔
“کل کھیل لیں گے، اب سوتے ہیں” نشا نے افق کی مشکل آسان کردی۔ وہ غالبآ وہاں سے ہٹنا چاہ رہا تھا۔
نشا کے کہنے پر کارڈ رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ واٹر ورکس کا کارڈ سب کے سامنے ہی تھا، مگر کسی نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے گھاس پر رکھی اپنی “ہیل ٹو طیب اردگان” والی کیپ اٹھائی اور ان سے دور جھیل کی طرف چلا گیا۔
“صبح آبشار پر میں نے۔ ۔۔آئی ایم سوری پری آپی۔ ۔۔وہ میرے منہ سے یونہی، غلطی سے نکل گیا تھا۔ میں نے صرف مزاق کیا تھا، مجھے نہیں علم تھا کے او انگجڈ ہیں۔ ورنہ۔۔۔ آئی ایم سو سوری پری آپی۔ ۔
صفحہ نمبر 100
تزبزب اور شرمندگی اس کے لہجے سے ٹپک رہی تھی۔
“اٹس اوکے ارسہ! میں نے برا نہیں مانا ۔تم یہ گیم سمیٹ لو”
“تھنکس” بے دلی سے گیم سمیٹ کر ارسہ اپنے خیمے کی طرف چلی گئی۔ پریشے نے گردن موڑ کر افق کو دیکھا۔ وہ جھیل کے کنارے، سر جھکائے جیبوں میں ہاتھ ڈالے خاموشی سے آہستہ چل رہا تھا۔
صبح وہ کتنا خوش تھا اور اب بھی اس کے ساتھ مل کر بے ایمانی کرتے ہوئے وہ کتنا ہشاش بشاش لگ رہا تھا،پھر ایک لفظ “منگیتر” سن کر یوں اس کے چہرے کی مسکراہٹ کیوں غائب ہوگئی تھی؟ پریشے نے گہری سانس لے کر گردن سیدھی کی۔ نشاء شا کی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ وہ نظریں چراتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
رات قطرہ قطرہ بھیگ رہی تھی اور کشمیر سے انے والی تیز سرد ہوائیں ان کے خیمے کے کپڑے کو پہڑ پہڑا رہی تھیں۔ وہ اپنے سلیپنگ بیگ میں چت لیٹی خیمے کی چھت کو گھور رہی تھی۔
“پری” باہر سے کسی نے اسے پکارا تھا۔ وہ یک لخت اٹھ بیٹھی، پکارنے والا افق تھا۔ اس نے سلیپنگ بیگ کھولا قریب پڑا ہیٹ اٹھا کر سر پر رکھا اور خیمے کی زپ کھول کر باہر نکل آئی۔
“مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ سوچا کچھ دیر اکٹھے واک کرتے ہیں”
وہ کچھ کہے بنا افق کے ساتھ گھاس پر چلنے لگی۔ وہ دونوں ایک ہی انداز میں سر جھکائے گھوم رہے تھے۔ پریشے نے ہاتھ سینے پر باندھ رکھے تھے جب ک اس کے ہاتھ جیبوں میں تھے۔
“کیسا ہے وہ؟ تمہارا منگیتر” ؟ چلتے چلتے بغیر تھمید کے افق نے سوال کیا۔ اس کے لہجے میں عجیب بے بسی اور شکست خوردی تھی۔ “اچھا ہے” ؟
“سیف؟ ” اس نے پل بھر کو سوچا “امیر ہے، ہنڈسم ہے، ویل مینرڈ ہے، مجھے سے بہت محبت کرتا ہے”
وہ چلتے۔ چلتے جھیل کے کنارے تک پہنچ گئے تھے۔ رات کے اس پھر وہاں چھائی خاموشی کو ان پہاڑوں سے جنگلی جانوروں کے بولنے کی آواز چیر رہی تھی۔
“مگر تم۔ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ میں نے پوچھا تھا، وہ اچھا ہے؟
“اچھا”بہت عجیب ہوتا ہے ۔افق! ایک ظالم و جابر بادشاہ اپنی راعایا کے لیے جتنا برا ہوتا ہے۔
صفحہ نمبر 101
اپنی اولاد کے لیے اتنا ہی اچھا ہوتا ہے پھر ہم اسے کیا کہیں؟ برا یا اچھا؟ یہ لفظ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ اس لیے شاید میں تمہیں یہ نہ بتا سکوں ک وہ اچھا ہے یا نہیں، البتہ پسند نا پسند کی بات اور ہوتی ہے۔ “
وہ جھیل کے کنارے گھاس پر بیٹھ گیا تھا۔ پریشے بھی اس کے بائیں طرف، اس سے ذرا پیچھے گھاس پر گھٹنوں کے گرد بازؤں کا حلقہ بنا کر ان پر تھوڑی ٹکائے بیٹھ گئی۔ برفیلی ،تیز ہوا اس کا ہیٹ اڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔
“تم اسے پسند کرتی ہو؟ “وہ سامنے چاندنی میں نہائی جھیل کو دیکھ رہا تھا۔
“وہ میری پھوپھو کا بیٹا ہے، پاپا کو بہت پسند ہے، انہوں نے منگنی سے پہلے میری مرضی نہیں پوچھی تھی۔ پھوپھو نے رشتہ مانگا، انہوں نے فورآ ہاں کردی۔تم ہمارے ہاں کی “رشتوں کی بلیک میلنگ”کو نہیں جانتے۔ پاکستان میں رسم و رواج ترکی سے بہت مختلف ہیں۔ یہاں اگر رشتہ مانگنے پر کسی پھوپھی، چچا یا مامو کو انکار کر دیا جاۓ تو وہ آنا میں آکر خون کے رشتے تک توڑ ڈالتے ہیں۔ پھوپھو کو میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔ وہ پاپا کی اکلوتی بہن ہیں، پاپا کا واحد خونی رشتہ جو اس دنیا میں ہیں۔ میں اس وقت شاید انکار بھی کر
دیتی مگر جب سیف کا رشتہ آیا تھا تو وہ ملی طور پر
اتنا مستہکم ہو چکا تھا کے پاپا سے تعلق توڑ لیتا ملی مدد کے لحاظ سے کوئی گھاٹے کا سودا نہ ہوتا، پھر وہ پاپا کو بہت پسند ہے اور میں پاپا کو دکھ نہیں دینا چاتی تھی” ۔
وہ گردن اٹھا کر آسمان کو دیکھنے لگی۔ وہاں ہر سو جگمگاتے تارے بکھرے تھے۔ جمادی الثانی کی آخری تاریخوں کا ہر پل گھٹتا چاند پوری جھیل کو چمکا رہا تھا۔
“تمہیں کبھی نہیں لگا ک تمہاری زندگی میں کبھی نہ کبھی کوئی ایسا آئے گا جو تم سے محبت کرتا ہوگا، جس کو دیکھ کر تمہیں یہ لگے گا ک یہی ہے جس کا ساتھ تمہیں عمر بھر کے لیے چاہیے؟ “
پریشے نے مغموم مسکراہٹ کے ساتھ اس کی چوڑی پشت اور جھکے سر کو دیکھا۔
“بعض لوگ زندگی میں بہت دیر سے ملتے ہیں، افق ارسلان! اتنی دیر سے ک ہم چاہیں بھی تو انھیں اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنا سکتے”
“تو جو لوگ زندگی میں بہت دیر سے ملتے ہیں، ان کو آپ اپنی ترجیحات میں کس مقام پر رکھتی ہیں، ڈاکٹر پریشے جہاں زیب؟ “
صفحہ نمبر 102
پری نے چونک کر اسے دیکھا، گردن اس کی طرف موڑے سختی سے لب بہینچے وہ اسے دیکھ رہا تھا۔ شکوہ کرتی خفا آنکھیں، طنزیہ لہجہ۔۔۔۔۔وہ گہری سانس بھر کر رہ گئی۔
“میرے نزدیک ہر فرد کی اہمیت۔ ۔۔۔۔”تیز ہوا کا جھونکا اس کا ہیٹ اڑا کر لے گیا۔ وہ بات روک کر اٹھ کر کھڑی ہوئی۔ “میرا ہیٹ! “
چند قدم دور جا کر اس نے گھاس اور پڑا ہیٹ اٹھایا۔ وہ بھی اٹھ کر اس کے قریب اگیا۔
“چلو خیر۔ جانے دو تم منگنی شدہ ہو تو کیا ہوا،ہمارے درمیان ایک اور تعلق تو ہے ہی۔
وہ چونکی، “وہ کیا؟ ” اس کا دل زور سے دھڑکا تھا۔
“ہم اچھے دوست تو ہیں نا” وہ ایک دم پھر سے پرانا افق ارسلان لگنے لگا تھا۔ وہی پرانا ہنس مکھ اور اپنا اپنا سا۔
“ہاں، وہ تو ہیں۔ وہ کھل کر مسکرا دی۔
“تو پھر تم اس اچھے دوست کے ساتھ راکاپوشی آرہی ہو نا ؟” وہ پھر سے پرانے موڈ میں اگیا تھا۔
وہ دونوں ماہوڈھنڈ جی چمکتے پانیوں کے کنارے ٹہلنے لگے۔
“یہ میرے لیے نا ممکن ہے۔ مجھے پاپا کبھی اجازت نہیں دیں گے” ۔
“وہ بہت کنزرویٹو ہیں کیا؟ “
“نہیں۔ یہ بات نہیں ہے۔ اس لحاظ سے تو وہ بہت لبرل ہیں”
“اچھا۔ ۔۔۔پھر؟ “
“چار سال پہلے میں”سپانتک” کی ایکسپیڈیشن پر گئی تھی۔ بنیادی طور پر ملٹری ایکسپیڈیشن تھی، پاکستان نیوی کی۔ میں ایکسپیڈیشن ڈاکٹر کے طور پر یوں ہی ساتھ فٹ ہوگئی تھی۔ وہ بتا کر کے ہنسی، “بہت منتیں کی تھیں نذیر صابر کی، انہوں نے ہی ایڈجسٹ کرایا تھا مجھے پاک نیوی کے ساتھ۔ ہم نے بڑے کم وقت میں سپانتک کو سر بھی کر لیا مگر واپسی پر، چوٹی سے چند فٹ دور سے گر گئی۔ میرا بایاں کندھا بری طرح زخمی ہوگیا۔ اس کے بعد پاپا نے میری کوہ پیمائی اور پابندی لگا دی۔ وہ۔ میرا اسکردو سے اگے، قراقرم کا پہلا تجربہ تھا۔ میں اور کرنا چاہتی تھی پر پاپا اجازت نہیں دیتے۔ وہ ڈرتے ہیں ک میں گر نہ پڑوں “
“میں تمہارے ساتھ ہوں گا تو تم کیوں گروگی؟ “بہت اپنائیت سے افق نے کہا ۔
صفحہ نمبر 103
“یہ بات تم میرے پاپا کو نہیں سمجھا سکتے”
“کوشش تو کر سکتا ہوں”
“نن۔۔نہیں۔ ۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے” وہ گھبرا کر تیزی سے بولی۔ پھر فورآ اپنی کفیت کو چھپا کر وضاحت کرنے والے انداز میں کہا، “وہ۔ نہیں مانیں گے، اس قصے کو چھوڑ دو” ۔
“اچھا۔ٹھیک۔ اور اگر زیادہ پرسنل نہیں ہو رہا تو ایک بات پوچھوں؟ “
“پوچھو”
“تم نے کبھی بتایا نہیں۔ تم کہاں رہتی ہو مری میں؟ “
“ہم نے شاید اپنے اپنے بارے میں ایک دوسرے کو کچھ بھی نہیں بتایا افق! “وہ مسکرا کر بولی۔
“شاید۔ ۔مگر تم کہاں رہتی ہو؟ “
یہ وہ سوال تھا، ،جس کا وہ جواب نہیں دینا چاہتی تھی۔ پرسوں شام وہ اپنی تمام کشتیاں جلا کر واپس جانا چاہتی تھی ک جلی ہوئی کشتیوں پر سواری کر کے افق ارسلان اس تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔
“میں اس ملک اور ان ہی پہاڑوں میں رہتی ہوں۔ قراقرم کے پہاڑ ہی میرا گھر ہیں” وہ سمجھ گیا ک وہ نہیں بتانا چاہ رہی، سو مسکرا کر بولا،
“ہاں، میں نے سن رکھا تھا ک قراقرم کے پہاڑوں پر پریاں اتر تی ہیں”
“اور تم نے اس روز یہ بات جینیک یقین سے بھی کہی تھی ناں؟ “۔
“میں اس بات سے بے خبر تھا ک تم پیچھے بیٹھی ہو”
“مگر میں پری نہیں ہوں” اس نے اداسی سے ہاتھ میں پکڑے ہیٹ پر کھلے سرخ گلاب کو دیکھا۔
“تم پری ہو” ؟
“نہیں” اس نے نفی میں گردن ہلائی، “نام سے کوئی پری نہیں بن جاتا_ میرا صرف نام پری ہے”
“جانتی ہو پری !جب میں نے تمہیں پہلی دفعہ دیکھا تھا تو مجھے کیا لگا تھا؟ یوں جیسے قراقرم کے پر بتوں سے رستہ بھول کر مرگلہ کی اس پہاڑ پر برستی بارش میں پناہ لینے والی کوئی معصوم سی خوف زدہ سی پری ہو۔۔۔۔۔”۔
“میں نے عرصہ ہوا خوابوں کی دنیا میں رہنا چھوڑ دیا ہے۔ ٹوٹے خواب بہت اذیت دیتے ہیں۔ افق!
صفحہ نمبر 104
وہ خاموش رہا، پھر چند ثانیے بعد آسمان کو دیکھ کر بولا، “رات بہت گہری ہو چکی ہے اب سونا چائیے “
“تم جاؤ، میں ابھی جھیل کے۔ کنارے بیٹھنا چاہتی ہوں” وہ اس سے دور جھیل ک کنارے پر بیٹھ گئی، جوتے اتار کر ایک طرف رکھے اور ماہوڈھنڈ کے سیاہ نظر انے والی جھیل جس پر چاندنی کی تہ چڑھی تھی، پاؤں لٹکا دیے۔
وہ اپنے خیمے کی طرف بڑھ گیا۔ البتہ خیمے کی زپ کھولنے سے پہلے ایک لمحے کو اس نے پیچھے موڑ کر ضرور دیکھا تھا، جہاں وہ پانی میں پاؤں لٹکائے، چاند کی۔ میٹھی چاندنی کے خاموش گیت سن رہی تھی۔
ہفتہ ،30جولائی 2005ء
گھوڑے کی تیز دوڑتی ٹاپوں کی آواز پر اس نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ دور خیموں کے قریب سے گھوڑا دوڑاتا اس کی طرف آرہا تھا۔ وہ وہیں بیٹھی تھی جہاں رات کو افق نے اسے آخری بار دیکھا تھا۔ دور افق پر ایک نئی صبح طلوع ہو رہی تھی۔ جھیل کا پانی سبزی مائل لگ رہا تھا، ابھی تک سورج کی کرنوں نے اس پر اپنا رقص شروع نہیں کیا تھا۔
“تم ادھر کیا کر رہی ہو؟ “گھوڑا اس کے قریب لے جاکر افق نے رفتار کم کردی۔
“زندگی میں پہلی دفعہ ہار نے کی سزا پوری کر رہی ہوں، مگر یا تو ماہوڈھنڈ کی مچھلیاں بہت ہوشیار ہیں، یا پھر میری قسمت بہت خراب ہے
صفحہ نمبر 106
اس نے ہاتھ میں فشنگ راڈ پکڑ رکھی تھی۔
“اوہ خدایا۔ تم رات بھر یہی کرتی رہی ہو کیا؟ “شہد رنگ آنکھوں میں حیرت در آئی۔
“سوئی نہیں ہو کیا”
“کسی دانشور نے کہا تھا، سونا وقت کا ضیاع ہے” وہ کیا کہتی کے رات بھر نیند ہی نہیں آئی تھی۔
“بہت معذرت، مگر میں تمہیں بتانا بھول گیا ک آج کل ماہوڈھنڈ میں مچھلیاں نہیں ہوتی۔ گھوڑے کی لگام تھامے، آنکھوں میں شوخی لیے وہ مسکرا رہا تھا، وہ ابھی تک گھوڑے پر بیٹھا تھا۔
“کیا” وہ چلا کر کھڑی ہوئی، گود میں رکھا ہیٹ نیچے گھاس پر گر پڑا۔
“تم۔ نے مجھے غلط ڈیئر کیوں دیا؟ “
“مجھے بھی اسی دانشور نے بتایا تھا ک وقت ضائع کروانے کے اور بہت طریقے ہوتے ہیں۔ وہ ہنسا۔
“بہتر۔ اب تم نئی راڈ خریدنا” غصہ اتنا شدید تھا کے اس نے افق کی راڈ اٹھا کر جھیل کی طرف اچھال دی، راڈ نے ایک غوطہ کھایا اور پھر پانی میں ڈوب گئی۔
“میں یہ راڈ دریا سے ٹروٹ کا شکار کرنے کے لیے لایا تھا مگر تم نے خود کو ٹرراؤٹ کھانے سے محروم کر لیا ہے”
“میں ٹرراؤٹ کھاۓ بغیر بھی ایک اچھی زندگی گزار رہی ہوں” وہ ہیٹ سر پر رکھ کر چل پڑی۔
“سنو قراقرم کی پری”!۔
پریشے کے قدم زنجیر ہوئے تھے، اس نے پلٹ کر گھوڑے پر بیٹھے افق کو دیکھا۔
“تمہارے ساتھ ایک یادگار تصویر کھینچوانے کو دل چاہ رہا ہے؟ “
“نہیں” ! وہ دو قدم مزید اگے چل دی۔
“مگر میرا دل چاہ رہا ہے” وہ جست لگا کر گھوڑے سے اترا اور بھاگ کر اس کی طرف آیا۔ تیزی سے ہاتھ بڑا کر اس نے اس کا ہیٹ اتار دیا۔
“کیا ہے” ؟وہ ایڑیوں کے بل گھومی۔افق نے اپنی کیپ اس کے سر پر رکھی۔
“تم یہ پہنو”اپنی جیکٹ،گھڑی اور مفلر اس نے پریشے کو تھمادیےاور اس سے اسکی گھڑی لے لی۔
“تم کرنا کیا چاہ رہے ہو” ؟
صفحہ نمبر 107
“مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی میں ہمارے آخری دن میں نے اور جینیک نے ایک دوسرے کی ٹوپییاں،جیکٹیں، ٹائیاں، گہڑیاں اور سن گلاسز پھن کر تصویر کہنچوائی تھی۔ بہت یادگار ہے” اس نے افق کی چیزیں پہن کر اس کو اپنا ہیٹ پہنے دیکھا اور بے اختیار ہنس دی۔
“ہم مضہکہ لگ رہے ہیں، افق! “۔
“ہم نہیں،صرف تم! “مسکراتے ہوئے اسے چھڑا کر، اس نے دور کھڑے امیر حسن کو آواز دی وہ پاس آیا تو اشاروں سے تصویر کہنچنا سکھا کر اپنا پولا رائیڈ کیمرہ اس کے ہاتھ میں تھمایا۔
تصویر کے لیے دونوں گھوڑے کے ساتھ کھڑے ہوگئے، افق نے ایک ہاتھ سے گھوڑے کی لگام تھام لی۔
“تصویر بن کر آئے تو لکھ دینا کے گھوڑا میرے دائیں طرف ہے” پچھلی بات کا بدلہ اتار کر وہ خود ہی ہنس دی، اسی لمحے گھوڑے والے نے بٹن دبا دیا۔ فلیش چمکی اور چند ہی لمحوں بعد تصویر بھر نکل کر آگئی۔
“ایک فوٹو گرافر کی حثیت سے تمہارا مستقبل بہت روشن ہے مسٹر” !اس۔ کے یوں ریڈی نہ کہنے پر وہ تصویر جھاڑتے ہوئے بہت جل کر بولا تھا۔ امیر حسن ٹکر ٹکر اس۔ کا چہرہ دیکھنے لگا۔
“یہ شکریہ کہہ رہا ہے” اپنی ہنسی روک کر اسنے اسے بتایا۔
“خیر، اس کا قصور نہیں، تم سارے پاکستانی ریڈی کہے بغیر تصویر کہینچتے ہو” تصویر جھاڑتے ہوئے وہ مسکرایا۔
پری کو یاد آیا، مری میں اس نے بھی ریڈی کہے بغیر تصویر کہینچی تھی۔
“ہم بہت سے کام ریڈی کہے بغیر کرتے ہیں۔ خیر تصویر دکھاؤ “۔
اس نے تصویر افق کے ہاتھ سے لی۔ وہ ہنس رہی تھی، ہنستے ہوئے وہ گردن کو قدرے پیچھے پھینک دیتی تھی۔ ہنسی روکنے کو اس۔ نے منہ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا، کلائی میں موجود سیاہ گھڑی کے ڈائل کا اہرام چمک رہا تھا۔ افق گھوڑے کی لگام تھامے گردن موڑ کر اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے سر پر موجود ہیٹ جس کا گلاب اب مرجھا سا گیا تھا، اس کو بلکل کاؤ بوائے کی طرح دکھا تھا۔
“اچھی ہے” اس نے تصویر واپس کردی۔
“تم رکھنا چاہتی ہو؟ “
“نہیں” وہ اپنی تمام کشتیاں جلا کر جانا چاہتی تھی۔
صفحہ نمبر 108
“بہت اچھا” افق نے تصویر جیکٹ کی جیب میں ڈال لی، جو پریشے اسے دوسری چیزوں کے ساتھ واپس کر چکی تھی۔
“رائیڈنگ کروگی” ؟
“نہیں،مجھے گھوڑوں سے ڈر لگتا ہے” وہ فورن پیچھے ہٹی۔
“ایک بہادر کوہ پیما کو گھوڑے سے ڈر نہیں لگنا چاہیے”
“بلکل ایسے ہی، ایک بہادر کوہ پیما کو برے خواب سے بھی نہیں ڈرنا چاہیے” وہ سوچ کر بولی۔
“بیٹھ جاؤ۔ یہ بہت اچھا گھوڑا ہے، خوبصورت عورتوں کا احترام کرتا ہے” وہ اسکی بات کو نظرانداز کر گیا۔
“شکریہ، مگر میں تو لڑکی ہوں” ۔
“اچھا اوپر بیٹھو ناں، ایک پاؤں ادھر رکاب پر رکھو۔ ۔۔رکھو تو سہی”اسکے اصرار پر قدرے ہچکچاتے ہوئے وہ اگے بڑھی اور پاؤں رکاب میں ڈالا۔
“اوکے،اب دیاں ہاتھ میرے کندھے پر رکھو اور بیان پیٹھ پر”
“کس کی پیٹھ پر” ؟وہ چڑھتے چڑھتے رکی۔
“گھوڑے کی پیٹھ، مادام!وہ تحمل سے مسکراہٹ دبائے بولا۔
“اچھا” وہ شرمندہ سی ہنسی ،پھر قدرے ڈرتے ہوئے، اس کے کندھے کا سہارا لے کر گھوڑے پر بیٹھ گئی۔
“ڈرو نہیں، میں نے کہا نا یہ خوبصورت عورتوں کا احترام کرتا ہے” اس کی ڈری ہوئی صورت دیکھ کر وہ بظاہر سنجیدگی سے بولا۔
“مجھے زمین پر پٹخنا اس کے احترام کے دائرے میں آتا ہے یا نہیں؟ “وہ اپنی تمام کوشش کے باوجود گھوڑے سے سخت خوف زدہ تھی۔
“یہ تو میں نے اس سے نہیں پوچھا، خیر تم یہ باگ پکڑو اور اس طرح کروگی تو یہ چل پڑیگا۔
پریشے نے ہڑ بڑا کر اسے دکھا، “کیا مطلب؟تم نہیں بیٹھو گے؟ “
“نہیں۔فکر مت کرو، یہ تمہیں نہیں گرائے گا”
“نہیں نہیں، مجھے اتارو۔ مجھے نہیں بیٹھنا اس پر۔ “وہ گھبرا گئی تھی۔
صفحہ نمبر 109
“کم ان پریشے ڈیئر،یہ زیادہ سے زیادہ تمہیں ماہوڈھنڈ میں پھینک دے گا؟ تو پھینک دے۔۔۔میں تمہارے پیچھے پانی میں چھلانگ لگا دوں گا” ۔
“مگر تم تو کہہ رہے تھے کے تمہیں سوئمنگ نہیں آتی”
“ہاں مگر مجھے ایک پری کے پیچھے جھیل میں ڈوبنا تو آتا ہے ناں” وہ اس کی حالت۔ سے محفوظ ہو رہا تھا۔
“پلیز مجھے نیچے اتارو۔ یہ مجھے گرا دے گا” وہ رو دینے کے قریب تھی۔
“یہ اچھا گھوڑا ہے، خوبصورت عورتوں کا۔۔۔۔”فقرہ اس کے لبوں میں تھا جب بے حد گھبراہٹ میں پری نے گھوڑے سے اترنا چاہا، گھوڑا یک دم کسی گولی کی طرح تیز رفتار سے بھگا تھا۔
“افق” وہ چلائی تھی۔
“اوہ گاڈ۔۔۔پری،اسے روکو۔ ۔نیچے مت اترو”وہ جو اتنی دیر سے مزاق کر رہا تھا، گھوڑے کو بھاگتا دیکھ کر بوکھلا گیا۔ مگر وہ اس سے زیادہ بوکھلائی ہوئی تھی، سو لگام چھوڑ کر نیچے چالانگ لگا دی، اس کا بایاں پاؤں رکاب میں پھنس گیا اور وہ تیورا کر گھاس پر گری۔ کھینچ کر پاؤں رکاب سے آزاد کریا مگر اس کا بایاں ہاتھ ایک پتھر سے ٹکرا کر معمولی سا زخمی ہوگیا تھا۔ وہ بمشکل سیدھی ہوئی۔ اس کا ہیٹ اڑتا ہوا دور ماہوڈھنڈ میں جا گرا تھا اور اب نیلے سبزی مائل پانی کی سطع پر تیر رہا تھا۔
“پری۔ ۔۔تم ٹھیک ہو” ؟ وہ بھگتا ہوا اس تک آیا تھا اور پنجوں کے بل اس کے مقابل بیٹھ گیا۔
“میں مزاق کر رہا تھا آئی ایم سوری۔ مگر تمہیں کس نے کہا تھا ک تم لگام کھینچ دو” ؟
“تم نے ہی کہا تھا” اس نے شکوہ کرتے ہوئے بڑی بڑی آنکھیں اٹھائیں، جن میں آنسوں بہہ رہے تھے۔
“میں تو بس یونہی۔۔۔”وہ سخت شرمندہ تھا۔
“ادھر دکھاؤ، ہاتھ کو کیا ہوا ہے” ؟افق نے اس کا ہاتھ تھام لیا، جس میں انگلیوں کے نیچے، ہتھیلی پر رگڑنے سے ایک معمولی سا کٹ اگیا تھا جس سے بمشکل خون کی دو تین بونڈیں ٹپکی تھیں مگر وہ پریشان ہوگیا تھا۔
“کیا بہت درد ہو رہا ہے” ؟وہ جواب دیے بنا سر جھکائے اپنے زخمی ہاتھ کو دیکھتی رہی۔ آنسوں اس کی پلکوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے تھے۔
“اچھا دیکھو رو تو مت، میں دوا لے کر آتا ہوں ٹھیک؟ “
صفحہ نمبر 110
وہ اسے کیسے بتاتی ک وہ اس معمولی خراش پر نہیں رو رہی، رات بھر سے اندر جمع ہوئے آنسوں کو کسی صورت تو راستہ ملنا ہی تھا۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا، پریشے نے دائیں ہاتھ کی پشت سے آنسوں۔ صاف کیے” بس سنی پلاسٹ لے آؤ”
وہ جاتے جاتے پلٹا”کیا؟ “
“پلاسٹک والا بینڈیج”
“اچھا یو مین سانیتا بانت ؟ابھی لایا” وہ سمجھ کر اپنے خیمے میں چلا گیا۔ شاید ترکی میں سنی پلاسٹ کو سانیتا بانت کہتے ہو گے۔
وہ وہیں گھاس پر بیٹھی اپنی قسمت کی لکیروں کے درمیان لگے کٹ کو دیکھتی رہی۔وہ سنی پلاسٹ لے کر واپس بھی اگیا۔
“اب خبردار،رونا نہیں ہے” اس کے ہاتھ اور سنی پلاسٹ کی طرز کا بینڈیج لگا کر وہ پری کو ڈانٹتے ہوئے بولا،
“اتنی پیاری آنکھوں۔ کو رو رو کر سرخ کر ڈالا ہے تم نے”
اس نے چونک کر نم آنکھوں سے اپنے ساتھ گھاس پر بیٹھے افق کو دکھا براہراست اس ند اسے خوبصورت کہا تھا، اس کے دل میں جیسے کوئی نرم احساس جگا تھا۔
“اب درد ہو رہا ہے” ؟ وہ نرمی سے پوچھ رہا تھا۔ وہ کہنا چاہتی تھی کے ہاں، درد تو بہت ہے اذیت دیتا درد اس کے دل میں ہو رہا ہے، مگر اس نے گردن کو نفی میں جنبش دی۔
“گڈ۔اب اپنی آنکھیں صاف کرو۔ اپنی چیخہوں سے تم نے نشا اور ارسہ کو اٹھا ہی دیا ہوگا۔ ابھی آکر پوچھیں گی ک میں نے ایک منگنی شدہ لڑکی کو کیا کہہ ڈالا ک وہ یوں رو رہی ہے” ۔
وہ بھیگی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی، “تم نے تو کہا تبا یہ گھوڑا خوبصورت عورتوں کا احترام کرتا ہے” ؟
“ہاں مگر تم تو لڑکی ہو ناں! “وہ بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ پریشے نے تاسف سے ماہوڈہند کو دکھا سبزی مائل نیلے پانی پر اس کا ہیٹ تیر رہا تھا، افق نے اسکی نگاہوں کا تعاقب کیا۔
“جانے دو۔ تم نیا لے سکتی ہو”
“اونہوں” ۔اس نے اداسی سے نفی میں گردن ہلائی۔ “نئے ہیٹ پر ایسا باسی سرخ گلاب لگا ہوگا جس کی پتیاں کنارے سے سیاہ ہو کر مرجھائی ہوں گی”
صفحہ نمبر 111
“صہیح کہہ رہی۔ ہو۔ بعض چیزیں کھو جائیں تو پھر نہیں ملتیں، ان۔ کا نعم البدل بھی نہیں ملتا اور بعض انسان بھی۔ چلو خیموں کی طرف چلتے ہیں” ۔
وہ ساتھ ساتھ گھاس پر چلنے لگے، وہ ننگے پاؤں تھی جب ک افق کے پاؤں میں جرابیں تھیں۔
“تمہارا ڈیر ابھی تک نامکمل ہے”
“جانتا ہوں اور میں تمہیں اب کوئی مشکل dare دو گا”
“مگر وہ راکاپوشی کر کرنے سے متعلق نہیں ہوگا” اس نے متنبہ کیا۔
“اوکے، اب سنو۔ نشا کہہ رہی تھی اس کے بھائی کے کسی دوست کا باپ کسی انٹیلی جینس ایجنسی کا چیف ہے” ؟
“ہاں ہے پھر؟”
“تم اسے کہو، اپنے صدر سے کہہ کر مجھے گوورمنٹ اف پاکستان کی طرف سے کوئی صدارتی ایوارڈ دلوادے”۔وہ بچوں کے انداز میں ضد کر رہا تھا۔
اسے ہنسی آگئی۔ “تمہیں ہماری گوورمنٹ کی طرف سے ایوارڈ لینے کا شوق کیوں ہے” ؟
“میں بیس سال بعد اپنے سفرنامے میں لکھنا چاہتا ہوں ک جب میں اسلامی دنیا کے سب سے طاقت ور ملک میں گیا تو اس۔ کے “پادشاہ” نے میری خوب آؤ بھگت کی وغیرہ وغیرہ۔ سمجھا کرو نا شو آف”۔
“خیر حسیب کے دوست کا باپ ایک سرکاری ملازم ہی ہے، رچرڈ آر میٹج نہیں جو اس کی بات مان لی جاۓ گی” .
افق ہنس پڑا۔”کیا خوب بات کہی۔ عراق امریکا جنگ میں امریکا ہماری منتیں کرتا رہا تھا مگر ترکی نے اور طیب اردگان، نے اپنی سر زمین استعمال کرنے کی ۔ اجازت نہیں دی” ۔وہ دونوں گھاس پر چلتے ہوئے اردگان، مشرف اور افغان جنگ کی باتیں کرتے رہے۔ خیموں کے بجاۓ جھیل کی طرف آئے تھے۔ سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا فجر کا وقت تھا۔
“میں نے نماز نہیں پڑھی، تم تھرو، میں وضو کرلوں”۔
وہ جھیل کے پانی کے قریب چلا گیا اور گھاس پر پنجوں کے بل بیٹھ کر چلتے صاف پانی سے ہاتھ دھونے لگا۔
وہ اسکے ساتھ کھڑی مسکراتے ہوئے اسے وضو کرتے دیکھنے لگی۔ بازو کہنیوں تک دھو کر
پہنچایا۔)

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: