Karakoram Ka Taj Mahal Nimra Ahmed Urdu Novels

Karakoram Ka Taj Mahal Novel By Nimra Ahmed – Episode 9

Written by Peerzada M Mohin
قراقرم کا تاج محل از نمرہ احمد – قسط نمبر 9

–**–**–

#ساتویں_چوٹی_حصہ_اول
قسط 9
پیر، 8 آگسٹ 2005ء
“کدھر پھنسا دیا ہے اپنے پریشے آپا؟ میں تو پتا نہیں کتنا رومانٹک سفر سوچ کر آیا تھا کہ ہنزہ پہنچ کر چار پانچ پورٹرز لیں گے،سامان گدھوں پر اور پھر آئگا جگلت کے دریا کے کنارے سفر کرنے کے بعد تغافری کا بیس کیمپ،خوبصورت دریا،جنگل سبزہ ہی سبزہ،وہ جیسے عمار نے بتایا تھا۔آللہ بھلا کرے آپ کا،آپ ہمیں رومانٹک قسم کے راکاپوشی کے ویسٹ فیس ک بجائے،کدھر برف زاروں میں لے آئی ہیں،اتنی برف اور اتنے کریوس ہیں ادھر۔یہاں تو گدھے بھی نہیں آتے،ہم تو پھر انسان ہیں”۔
“خیر تمہارے انسان ہونے پر مجھے شک ہے،حسیب!”شاہراہ قراقرم سے راکاپوشی کہ شمالی مغربی رخ کا فاصلہ دو دن کی پیدل مسافت پر تھا اور پچھلے دو دن میں حسیب یہ بات کوئی چھے سو بار دفعہ کہہ چکا تھا۔سو بے حد تنگ آکر نشاء نے جواب دیا۔
“یہ اتنا خطرناک علاقہ ہے،اس ایکسپیڈیشن ٹیم کی مت ماری گئی ہے جو راکا پوشی نارتھ ویسٹ پر سے سر کرنا چاہتی ہے؟اس راستے سے کوئی بھی چوٹی تک نہیں پہنچ سکا”۔
“وہ سب ایک گلیشیئل وادی میں آگے پیچھے ایک قطار میں ریے تھے۔پریشے نشاء اور حسیب سے پیچھے اس کا دوست اور ان سے پیچھے اٹھائیس پورٹر تھے،جو انہوں نے ہہنزہ سے ہی لیے تھے۔
“حسیب!تمہیں تکلیف کیا ہے؟تمہارا “بوجھ”تو پورٹرز نے اٹھایا ہوا ہے”۔حسیب کی مسلسل چلتی زبان پر پریشے غصے سے بولی۔دو دن پورٹرز کے ساتھ رہ کر وہ بھی سامان اور کندھے پر اٹھائے رک سیک کو”بوجھ”بولنے لگی تھی
صفحہ نمبر 122
پورٹرز پاکستان میں وہی کام کرتے ہیں،جو نیپال میں شرپا کرتے کیں۔سیزن میں جب سیاحوں کی آمدورفت عروج پر ہوتی ہے،یہ پورٹر ان کا سامان اٹھاتے ہیں اور انہیں ان کی منزل تک پہنچادیتے ہیں۔نشاء نے اتنے سارے پورترز لینے پر دو دن پہلے پریشے کو حیرت سے کہا تھا۔
“ان پر اتنے پیسے خرچ کرنے کہ بجائے ہم ان کے بغیر چلے جاتے ہیں۔۔۔کیا فرق پڑے گا؟”۔
“فرق تو کوئی نہیں پڑے گا،بس ہم دو دن تو کیا دو مہینوں میں بھی راکا پوشی نہیں پہنچ سکیں گے”۔
پچھلے دو دن سے وہ پیدل ان برفیلی وادیوں میں سفر کر رہے تھے۔یہ وہ علاقہ تھے،جہاں آپ فاصلے کو کلومیٹر ،میٹر ،یا میل سے نہیں ،دنوں ہفتوں اور مہینوں سے ناپتے ہیں۔
پریشے نے دو دن پہلے جب پیدل سفر شروع کیا تھا تو اسے اسلامآباد ،کراچی،لیک ڈسٹرکٹ ،سب بھول گیا تھا۔یوں لگتا تھا جیسے وہ سینکڑوں سال پہلے وقت میں پیچھے صلے گئے ہوں،جب انسان پیدل پتھروں اور برف پر سفر کیا کرتے تھا۔
“ویسے مجھے لگتا ہے،ہم سا پاگل کوئی نہیں ہوگا،جو گھروں کا سکون چھوڑ کر پہاڑوں میں ٹریکنگ پر نکل جاتے ہیں اور آپا جیسا پاگل بھی کوئی نہیں ہوگا،جو پہاڑوں کو سر کرنا چاہتی ہیں”۔
“اب کتنا فاصلہ رہ گیا ہے؟”وہ حسیب کے مزاق کو نظر انداز کر کے عقب میں اس تنگ راستے پر چلتے پورٹرز کے سردار سے پوچھنے لگی۔
“بس میڈم،آدھہ گھنٹہ اور!”پورٹرز کے سردار نے پورٹرز کے دستور کے مطابق بولا۔
“پچھلے 12 گھنٹوں سے یہ بلڈی چیپ “آدھہ گھنٹہ اور”کہہ رہا ہے”عقب میں کوئی انگریزی میں بڑ بڑایا۔
پریشے نے گردن پھیر کر دیکھا۔حسیب کا وہی دوست ایک برفانی نالے ک کنارے کھڑا ہوا بڑ بڑا رہا تھا۔وہ کوئی سخت بات کہنا چاہتی تھی،مگر سامنے سے آتے افراد دیکھ کر ان کی طرف ہوگئی
صفحہ نمبر 123
وہاں گلشئیر پر ان کے سامنے سے ایک ٹیم آرہی تھی۔پریشے اپنی ٹریکنگ اسٹک کی مدد سے چلتی،تیز قزمی سے ان تک جا پہنچی۔یوں لگتا تھا جیسے سالوں بعد ان تنہا ،سنسان وادیوں میں کسی انسان کو دیکھا ہو۔
“السلام علیکم۔پاکستانی؟”ان کے چہروں سے ظاہر تھا،پھر بھی قریب پہنچنے پر اس نے پوچھا،وہ پانچ تھے،ان کے پاس کوئی سامان نہیں تھا،ان سے کئی گز پیچھے ان کے پورٹرز کی جوج آرہی تھی۔
“جی میڈم۔پاکستانی الحمد اللہ!”وہ خاصا تھکا ہوا لگ رہا تھا،پھر بھی بہت رووب مگر تحمل سے بولا۔وہ اس کی کٹنگ سے ہی پہچان گئی تھی کہ فوجی تھا۔باقی بھی آرمی کے تھے،وہ گلاسز اور مفلر کی وجہ سے اس کا چہرہ ٹھیک سے نہیں دیکھ سکی تھی۔
“بیس کیمپ سے آرہے ہیں آپ؟وہاں موسم کیسا تھا؟”
“موسم؟”تازہ دم پانچویں ساتھی نے ہنس کر سر جھٹکا اور آگے بڑھ گیا۔لیڈر، جس کا نام میجر اطہر تھا،کہنے لگا۔
“موسم کی مت پوچھیں،مس!ہم پاکستانی آرمی کی ملٹری ایکسپیڈیشن کر رہے تھے،راکاپوشی کے اوپر پانچ ہزار میٹر کی بلندی پر خیموں میں قید ہو کر موسم کے ٹھیک ہونے کا انتظار کر رتے رہے۔آٹھویں دن ہار مان کر نیچے اتر آئے۔جس دن بیس کیمپ پہنچے،موسم بلکل ٹھیک ہوگیا۔اس کی بات پر پریشے ہنس پڑی۔
“اب کون کون ہے بیس کیمپ میں؟”اس نے میجر اطہر سے پوچھا۔
“البر تو کی ٹیم ہے مگر وہ بھی ہمت ہار کر جانے لگے ہیں،اس کے علاوہ دو پاگل موجود ہیں”۔
“افق ارسلان کی ٹیم؟”اس کا دل زور سے دھڑکا۔اس نے ایک نظر میجر اطہر کی پشت پر دیکھا سیاہ قراقرم کے پہاڑوں کی اوٹ سے جھانکتے “بگ وائٹ ماونٹین”راکاپوشی پر ڈالی۔وہ قریب ہی تھا۔
“جی وہی،یہ میجر عاصم،جو ابھی آگے گیا ہے،افق ارسلان کا دوست بھی ہے اور لیزان آفیسر بھی۔ارسلان کو کچھ چاہیے تھا،اس کے لیے ہی ہنزہ جا رہا ہے”۔پریشے نے پلٹ کر دیکھا،میجر عاصم خاصا دور جا چکا تھا۔
صفحہ نمبر 124
وہ پاک آرمی کی ملٹری ایکسپیڈیشن ٹیم کو خدا حافظ کہہ کر اپنی ٹیم کے ساتھ چلنے لگی۔نگر اور ہنزہ کے دریاوں کو وہ کافی پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ہنزہ کے دریا کے پانی سے اس نے سونے کے ذرات ڈھونڈنے کی کوشش کی،مگر اسے بکامی ہوئی۔اس نے سن رکھا تھا ک سکندر اعظم کی فوج کی نسل جس وادی میں آباد ہے،(ہنزہ کی وادی )وہاں کے دریائے ہنزہ سے سونا نکلتا ہے۔
“اف کتنا لمبا راستہ ہے نا!حکومت کو چاہیے،راکاپوشی تک سڑک بنادے،بندہ آرام سے پہنچ تو جائے”۔حسیب کا دوست،جس کا نام وہ پھر بھول چکی تھی،کہہ رہا تھا۔
“ہاں تا کہ مری کی طرح ہر بندہ منہ اٹھائے چلا آئے؟نہیں بیٹا،راکاپوشی کا حسن خراج مانگتا ہے،اس کو ایک نظر دیکھنے کے لیے پیدل میلوں کی مسافتیں طے کرنی پڑتی ہیں”۔
“ثابت ہوا ک بندہ “پربتوں کی دیوی”راکاپوشی کو دیکھ کر عقلمند ہوجاتا ہے،مثلآ حسیب جس نے زندگی بھر کبھی عقلمندی کی بات نہیں کی،مگر بیس کیمپ پہنچتے ہی۔۔”
وہ آگے سن نہ سکی،کیوں کہ بیس کیمپ کے قریب پہنچ کر اس نے اپنا رک سیک برف پر پھینکا وہ اپنی ٹیم سے آگے بھاگ پڑی۔ اس کے سامنے پربتوں کی دیوی اپنے تمام تر حسن کے ساتھ کھڑی تھی،مگر اسے اس کی تلاش تھی جس کے لیے وہ یہاں آئی تھی۔
برف سے ڈھکے راکاپوشی کے قدموں میں پتھروں کے moraine پر بالکونی کی صورت ایک بیس کیمپ تھا۔ہر طرف نیلے،پیلئ اور سرخ خیمے لگے تھے۔بیس کیمپ سے 100 میٹر نیچے ایک دیو قامت بے ترتیب گلشئیر تھا۔یہ تمام “برو”کا گلشئیر تھا اور برو کا گلشئیر پر افق ارسلان اور البر تو کی ٹیم بیس کیمپ ٹھیک اس جگہ لگیا تھا،جہاں 1979ء میں ایک پولش (polish) پاکستانی ٹیم نے نصب کیا تھا۔اس پر اگلے دن ہی راکاپوآی سے برف کی ایک دیوار گر گئی تھی۔برفشار (avalanche) سے پیدا ہونے والی ہواہوں سے ہی تمام خیموں کی میخیں اکھڑ گئی تھیں۔پریشے برو کے خطرناک گلشئیر پر اپنے ہلکے،واٹر پروف،تریکنگ بوٹس کی مدد سے بھاگتی خیموں کی طرف ائی۔وہاں درجنوں خیمے نصب تھے۔
“افق ارسلان کہاں ہے؟” دھڑکتے دل سے اس نے سامنے سے آتے اطالوی سے پوچھا۔
صفحہ نمبر 125
“ان دی میس ٹینٹ۔دی لاسٹ ون! “وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتا کر عجلت میں اگے بڑھ گیا۔ وہ دوڑتی ہوئی آخری نیلے خیمے کے قریب آئی؛باہر رک کر اس نے اپنا تنفس درست کیا سر سے اونی ٹوپی اتار کر پونی ٹھیک سے باندھی ؛پھر ٹوپی پہنی، سن گلاسز اتار کر اپنی جیکٹ کی جیب میں رکھے اور خود کو نارمل کرتے اور اندرونی خوشی چھپاتے ہوئے خیمے کی زپ سے اندر جھانکا۔
وہ میس ٹینٹ کے اندر کرسی پر بیٹھا تھا، اس کی پشت پریشے کی جانب تھی۔دمانی سے آتی سرد ہوا کے تھپیڑوں کے باعث خیمے کا کپڑا پھڑ پھڑا رہا تھا۔ وہ اندر آگئی۔
“کیسے ہو افق؟ “اس ک عقب میں بازو باندھے ،اس ن افق سے پوچھا۔ اس نے چونک کر گردن گھمائی اور اسے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
“ایم فائن”۔اس کی توقع کے بر عکس وہ حیران نہیں ہوا تھا، اس کے چہرے کے تاثر ایسے تھے، جیسے وہ کسی گہری سوچ سے چونکا تھا اور پھر دوبارہ اس میں کھو گیا تھا۔ وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ وہ کیسا ہے، اس نے اتنے دن کیسے گزارے۔ اس کا انتظار کیا یا نہیں اور اس کا سرپرائز کیسا لگا! مگر کچھ بھی پوچھنے سے پہلے اس کی نظر افق ک ہاتھ میں پکڑی ایک چھوٹی سی پاسپورٹ سائز تصویر پر پڑی۔
“یہ کیا ہے؟ “پچھلے دو دن سے اس نے اپنی اور افق کی۔ جو گفتگو تصور کی تھی، وہ بلکل بھی نہیں ہوئی تھی۔ وہ جو بہت سی باتیں بتانا اور پوچھنا چاہتی تھی، اب اچہنبے سے اس تصویر کو دیکھ رہی تھی۔
“یہ ؟”افق ن گردن جھکا کر تصویر کو دیکھا، زخمی انداز میں مسکرایا اور تصویر اس کی جانب بڑھا دی۔
“یہ حنادے ہے”۔
“کون حنا دے؟ “اس نے تصویر کے لیے ہاتھ بڑھایا، جس میں ایک سنہری بالوں اور خوبصورت آنکھوں والی لڑکی مسکرا رہی تھی۔
“حنادے۔۔۔۔۔میری بیوی”۔
تصویر تھامنے کو بڑھا پریشے کا ہاتھ نیچے گر گیا۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھتی دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔
“بیوی؟”
قراقرم کے سارے پہاڑ اس ک سر پر گرے تھے۔
وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس نے اپنی حیرت،صدمہ کچھ بھی چھپانے کی سعی نہیں کی تھی۔ کسی نے جیسے اس کے قدموں تلے زمین کھینچ لی تھی۔اور وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے تکے جا رہی تھی۔
صفحہ نمبر 126
ہاں، یہ اس کی پکچر یونہی نکال لی تھی۔ خیر، تم کب آئین؟ “تصویر واپس والٹ میں رکھ کر جیب میں ڈالتے ہوئے افق کا انداز بہت نارمل تھا۔
“ابھی” اس کا لہجہ ایک دم روکھا سا ہوگیا تھا۔ اس نے گردن دوسری جانب پھیرلی۔
“مجھے علم تھا، تم ضرور آؤگی۔میں نے تمہارا انتظار کیا اور دیکھ لو، بے جا انتظار نہیں کیا”۔وہ مسکرایا۔
کوئی دھوکا کھا جاۓ تو دھوکا دینے والا ایسے ہی مسکراتا ہے۔ پریشے کا نسوانی وقار بری طرح مجروح ہوا تھا۔
“ٹھرو میں اپنی باقی ٹیم کو دیکھ آؤں” افق نے اس کا خشک اور رکھائی بھرا انداز نوٹ نہیں کیا۔وہ اسے چھوڑ کر قدرے بے دلی سے باہر آگئی۔ وہ بھی اس کے پیچھے اگیا۔
“یہ تمہاری سپورٹ ٹیم ہے، ٹریکرز ہیں یا یہ بھی کلائمب کریں گے؟”
“ٹریکرز ہیں” وہ اس سے دور ہٹ کر پتھروں پر چلتے ہوئے نیچے کی سمت سے انے والی اپنی ٹیم کے افراد تک آئی۔ وہ سب پر جوش سے ہو کر اپنے رک سیک اتار کر نیچے برف پر پھینک رہے تھے اور رکاپوشی کی حسین چوٹی کو گھوم پھر کر دیکھ رہے تھے۔ صرف وہ تھی جس کی دلچسپی وہاں موجود ہر شے سے ختم ہوگئی تھی۔
دور ایک پتھر پر ارسہ بیٹھی ہوئی۔ تھی۔ اس نے گھٹنوں پر کاگز رکھے تھے اور ان پر کچھ لکھ رہی تھی۔ شور ہلچل اور ٹریکرز کی آوازیں سن کر اس نے سر اٹھایا۔ پریشے کو سامنے دیکھ کر وہ سارے کاگز وہاں چھوڑ کر بھاگتے ہوئے اس کی جانب آئی۔
“پریشے آپی!آپ ادھر؟ اوہ گاڈ،مجھے یقین نہیں آرہا “وہ خوشی کے مارے اس سے لپٹ گئی۔ پھر الگ ہوکر اسے کندھوں سے تھام۔ کر خوشی سے مخمور لہجے میں بولی، “یقین کریں آج صبح ہی میں آپ کے متعلق سوچ رہی تھی۔ بہت اچھا کیا جو آپ آگئیں۔ ویسے اتنی۔ جلدی کلائمنگ پرمٹ کیسے بنا آپ کا؟ “
“کم آن ،میں پاکستانی ہوں، مجھے کلائمنگ پرمٹ کی ضرورت نہیں ہے” اپنی آواز میں بشاشت پیدا کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے وہ پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔ بیس کیمپ کے ہنگامے ٹریکرز کی آمد کے بائث جاگ اٹھے تھے۔ چند پورٹرز خیمے لگا رہے تھے، لڑکے ان کی مدد کرنے لگے۔ پریشے نے اپنے ساتھ ایک کک “شفالی” بھی لائی تھی، جو چولہہ لگا کر چپاتیاں پکانے لگا تھا۔
(پیار مرتا نہیں خاموش ہو جاتا ہے پیج سے مکمل ناول حاصل کریں)
صفحہ نمبر 127
۔paulo Alberto(پالوالبر تو) کی اطلوی ٹیم بھی ان کے قریب آگئی تھی۔ البرتو انگریزی سے نابلد تھا، باقی اطالویوں میں سے ایک کو تھوڑی بہت انگریزی آتی تھی۔ وہ سب کو بتا رہا تھا ک کل صبح اس کی ٹیم واپس جارہی ہے۔ اور وہ رکا پوشی کو چھوڑ کر بلتو رو کی کسی چوٹی کو سر کر نے جارہے ہیں۔
پریشے نے پورٹرز کی مزدوری کی تمام رقم “سردار” پورٹر کے ہاتھ میں رکھ دی اور اپنے خیمے میں چلی آئی۔ پورٹرز کا دستور تھا ک ہمیشہ رقم سردار کو ملتی تھی، پھر وہ اگے اس کو۔ تمام پورٹرز میں تقسیم کرتا تھا۔
اپنے خیمے میں آکر اس نے میٹ بچھا کر سلیپنگ بیگ رکھا اور اس میں لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی سماعتوں سے باہر ہونے والا شور و غل اور فھقهوں کی آوازیں ٹکرا رہی تھیں مگر اس کا ذہن کہیں اور تھا۔
حنا دے۔۔۔۔افق کی بیوی۔ ۔۔وہ شادی شدہ تھا۔کسی اور کا پابند تھا تو پھر اسے کیوں قراقرم کے تاج محل پر بلایا تھا؟ وہ غلط سمجھی تھی اسے؟ اس نے دھوکا کھایا تھا؟ جانے کب اسے نیند نے آ گھیرا۔ افق اسے رات کے کھانے پر بلانے آیا تھا۔ مگر سو تا خیال۔ کر۔ کے واپس چلا گیا۔
منگل،9 اگست 2005ءء
ہر سو گہری دھند چھائی تھی۔ وہ کسی بادل کے وسط میں پھانسی تھی دھند میں اسے اس۔ کے ساتھ کوئی دکھائی دیا۔ سبز آنکھوں اور سنہری بالوں والی۔ لڑکی۔ وہ پریشے کو دیکھ کر تمسخر سے مسکرائی۔ پھر زور سے چلانے لگی۔ “افق میرا ہے صرف میرا ہے” اسے لگا اس کی آواز سے اس کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔ نہایت طیش میں آکر وہ اگے بڑھی اور دونوں ہاتھوں سے زور سے حنادے کو دھکا دیا۔ وہ چیختی ،زور زور سے چلاتے ہوئے اس برفیلی چوٹی سے نیچے لڑھک گئی۔ اگلے ہی پل کسی چوٹی سی گڑیا کی منند اس کا جسم نیچے کھائی میں گر رہا تھا، وہ بلند آواز میں چیخ رہی تھی، اتنی بلند گڑگڑاہٹ نما آواز کہ اس کو لگا وہ بھری ہو جاۓ گی۔ ہوا کو اری کی طرح چیرتی بھاری گڑگڑاہٹ۔۔۔
صفحہ نمبر 128
ہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ اس کا سانس تیز تیز چل رہا تھا اور چہرہ پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔ اس نے بے اختیار اپنے چہرے کو چھوا اور گھبراہٹ میں ادھر ادھر دیکھا۔ وہ اپنے خیمے میں تھی۔ یہ سب ایک بھایانک خواب تھا مگر وہ آواز ابھی تک سنائی دے رہی۔ تھی۔ ہوا کے زور سے اس کے خیمے کا گور نیکس پھڑ پھڑا رہا تھا۔ وہ تیزی سے زپ کھول کر باہر آئی۔
ہنزہ کے دریا کے ساتھ واقع کریم آباد گاؤں پر صبح طلوع ہو رہی تھی۔ نیلا۔ ہٹ سنہری روشنی سے رکاپوشی کا دودھ کی طرح سفید اور اطراف کے سیاہ دیو ہیکل پہاڑ چمک اٹھے تھے۔
پریشے نے ارد گرد دیکھا۔ سامنے ہی خالی قطعے پر پاکستان آرمی کا سبز ہیلی کاپٹر لینڈ کر رہا تھا۔ اس۔ کے گھومتے پروں کی تیز ہوا سے اطراف کے تمام خیموں کے گورٹیکس پھڑ پھڑا رہے تھے۔
دور نصب نیلے خیمے کے سامنے کھڑے افق ارسلان نے شنا سا انداز میں ہیلی کاپٹر کی جانب ہاتھ ہلایا۔ وہ سیاہ فلیس جیکٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس ،گرے اونی ٹوپی سے سر ڈھکے مسکراتے ہوئے پائلٹ کو۔ دیکھ رہا تھا۔
ہیلی کاپٹر کے پر سست ہے چکے تھے۔کھلے دروازے سے پستہ قد پھیکے نقوش کے حمل سیاہ اتر رہے تھے۔ ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کا چہرہ اسے دور سے ٹھیک طرح دکھائی نہیں دیا تھا، نہ اسے دیکھنے کا شوق تھا۔ وہ اپنے کھلے بال انگلیوں سے سنوارتی، آنکھیں ملتی ان سے دور ہٹتی گئی۔ اس کا ذہن حنادے اور اپنے خواب کے درمیان پھنسا تھا۔ یہاں نرم گدلی برف کے درمیان ایک برفانی نالہ بہ رہا تھا۔ سورج کے چمکنے کے باعث نالے کا آدھا پانی پگھل چکا تھا اور اس میں برف کے بڑے بڑے ٹکرے تیر رہے تھے۔ نالے کے اس طرف حسیب کا دوست بیٹھا تھا۔
“یہ ہیلی کاپٹر پر کون آیا ہے، پری آپا ؟”
وہ اپنے خیالات سے چونکی ،پھر ناگوار شکنیں ماتھے پر ابھریں۔”جسٹ ڈونٹ کال می آپا،پہلے آپا اور بہن جیسے رشتوں کا احترام سیکھو اور پھر یہ لفظ کہو” اپنے نئے ٹراؤزر اور جیکٹ کی پرواہ نا کرتے ہوئے وہ وہیں گدلی برف پر بیٹھ گئی۔
“آپ مجھے سے ہر وقت خفا کیوں رہتی ہیں؟ “
“مجھے زہر لگتے ہیں تمہارے جیسے لاابالی قسم کے نوجوان ،جو لڑکیوں کو دیکھ کر سیٹی بجاتے ہوں۔ ۔”وہ رخ پھیر کر پہاڑوں پر بنی قدرتی چراہ گاہوں کو دیکھنے لگی۔البر تو کے ٹیم ممبرز اور اس کے پورٹرز سامان کندھوں پر اٹھاۓ، چیونٹیوں کی طرح ایک ہی قطار میں چلتے ہوئے بیس کیمپ سے واپس نیچے جارہے تھے۔
صفحہ نمبر 129
“یہ عمر ایسی ہوتی ہے۔ سب اس عمر میں ایسے ہی ہوتے ہیں”
“سب نہیں ہوتے۔ محمد بن قاسم نے اس عمر میں سندھ فتح کیا تھا”
“وہ تو۔ میں نے بھی کر لینا تھا اگر یہ تلواروں کا دور ہوتا!”وہ لاپروائی سے ہنسا۔
“شٹ اپ!”اس۔ نے اسے جھاڑدیا، “آیندہ مجھے آپا مت کہنا” ۔وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسے ناشتہ کرنا تھا، بال بندہ کر کان بھی دھکنے تھے کیوں کہ ہلکی ہلکی برفیلی ہوا اس کے کانوں میں گھس رہی تھی۔ وہ جانے کے لیے مڑی،تب اسے خیال آیا۔
“سنو، تمہارا نام کیا ہے؟ “وہ پھر بھول گئی تھی۔
نالے ک اس پار برف پر بیٹھا لڑکا مسکرایا، “مصعب عمر”
“فائن” وہ سر جھٹک کر بیس کیمپ کی جانب بڑھ گئی۔
بیس کیمپ جاگ رہا تھا۔ ناشتے کی خوشبو، چھل پھل ،پورٹرز کی واپسی، پستہ قد سیاہ کی آمد۔ وہ۔ کچن ٹینٹ کی طرف جاتے جاتے رک کر افق کو دیکھنے لگی جو ہیلی کاپٹر کے دروازے کے قریب کھڑا ہنس ہنس کر اندر بیٹھے پائلٹ سے بات کر رہا تھا۔ کچھ سوچ کر وہ ان ک قریب چلی آئی۔
“ایکسکیوزمی افسر! یہ کون لوگ ہیں؟ “افق کو یکسر نظرانداز کر کے اس نے پائلٹ سے سوال کیا۔
“یہ۔ کچھ امیر و کبیر جاپانی سیاہ ہیں، جو رکاپوشی کے N W supr (شمالی مغربی رج) پر فوٹو گرافی کرنے کے لیے دو دن پیدل چل کر بیس کیمپ انے کے بجائے پاکستانی آرمی کا ہیلی کاپٹر افورڈ کر سکتے ہیں” مسکراتے ہوئے افق نے جواب دیا۔
“کیا واقعی تو ماز ہو مر کو نانگا پر بت سے اپ لوگ نکال لیں گے؟ “دوبارہ پائلٹ کو مخاطب کیا۔اس نے۔ یوں ظاہر کیا جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں۔
ان دونوں تو ماز ہو مر نانگا پر بت پر پھنسا ہوا تھا۔
“میم! اس میں بے یقینی کی کوئی بات نہیں ہے۔ پاکستان آرمی کے پہاڑوں پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز دنیا بھر میں مہشور ہیں۔ تو ماز ہو مر کو ہم انشاء اللہ جلدی ہی نکال لیں گے” پروفیشنل مگر آہستہ لب و لہجے میں افسر نے جواب دیا۔ اس کا چہرہ سیاہ گلاسز اور کیپ کے باعث واضح نہ تھا۔
“پری!یہ میرا دوست ہے۔ میجر عاصم اور عاصم ،یہ میری ساتھی کلائمبر ہیں، ڈاکٹر پریشے جہاں زیب”
صفحہ نمبر 130
نائس ٹو میٹ یو ڈاکٹر! آپکو کل بیس کیمپ کے راستے میں دیکھا تھا”۔
“جی،مگر بیس کیمپ ٹو ہنزہ سے دو دن دور ہے۔ اپ اتنی جلدی واپس جا کر ادھر کیسے پہنچ لئے؟ اور میجر اطہر کہہ رہے تھے آپ ترک ٹیم کے لیزان افسر ہیں۔ حالاں کہ لیزان افسر کا قانون تو پچھلے سال نومبر میں ختم ہوگیا تھا، بلتو روکے”
“میں ہیلی سے پہنچ گیا تھا اور ارسلان کا لیزان افسر دو سال پہلے بلتورو میں تھا اب ان جاپانیوں کو لانا تھا، ساتھ ارسلان کی۔ کچھ چیزیں بھی بغیر فیس لیے لے آیا ہوں” وہ ہنسا۔
“اچھا” وہ افق کو بغیر لفٹ کراۓ وہاں سے ہٹ گئی۔
ناشتے کے بعد وہ اس کے پاس آیا۔ وہ اپنے خیمے کے باہر پتھروں پر بیٹھی تھی۔
“تم نے آج اور کل ٹھیک سے ریسٹ کیا؟ “وہ اپنائیت اور فکرمندی سے کہتا اس کے ساتھ پتھروں پر بیٹھ گیا یوں ک دونوں کے سامنے رکاپوشی کا پہاڑی سلسلہ تھا۔
“ہوں” اس نے نظر بھی اس کی جانب نہ اٹھائی۔
“آج ہم 4800 میٹر تک جائیں گے۔ رکا کا موسم بہتر ہو رہا ہے۔ ہمیں آج Accelimatization شروع کر دینی چاہیے”۔
“بہتر”
“تم اتنی فکر مند تھیں ک تمہیں اجازت نہیں ملے گی اور دیکھو، ذرا لگن سے تم نے ریکویسٹ کی اور تمہارے پاپا۔ نے فورن تمہیں۔ ۔۔۔۔۔”
“میں چینج کر لوں” وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ بولتے بولتے رک گیا، پھر سر ہلا کر کہا،”ٹھیک ہے میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں” ۔
(ہونہہ۔انتظار تو میں نے کیا تھا) وہ اسے نظر انداز کیے اپنے نارنجی خیمے میں۔ چلی آئی۔
گھنٹے بعد وہ فرید اور افق کے ہمراہ ہاتھ میں آئس ایکس لیے رکاپوشی کے قدموں پر چڑھنے لگی۔ اسے Accelimatization کی شدید ضرورت تھی۔اسے اپنے جسم اور پھیپھڑوں کو کم اکسیجن اور سطح سمندر سے زیادہ بلندی کا عادی بنانا تھا، مگر ابھی اس کا ذہن نئی حقیقتوں کو قبول نہیں کر پا رہا تھا۔
صفحہ نمبر 131
وہ سارا راستہ خاموش رہی۔ افق بولتا اور اس کو ڈھالان کا راستہ سمجھاتا رہا۔
رکاپوشی سر کرنے کے تین روٹ تھے، جنوب مشرقی فیس، جو،”جو گلت گوہ” کے گلشئر سر کر ک جاتا تھا، طویل مگر آسان ترین تھا۔ دوسرا مغربی فیس(پسان گلشیئر) اور پھر تھا،نارتھ،ویسٹ رج (N W ridge) دنیا کا طویل ترین رج جو آج تک کوئی سر نہیں کر سکا تھا۔ افق کی ٹیم یہی کرنے ادھر آئی تھی۔
دو پھر تک کیمپ ون میں پہنچ کر افق اور فرید نے تمام سامان خیموں میں بہرنا شروع کیا۔ اس نے اس پر ڈالی جو پوری مستعدی سے سامان نکال رہا تھا۔ اس کے سر پر گرے اونی ٹوپی پر سفید بنائی سے “rakaposhi 2005ء” لکھا تھا۔ وہ رخ پھیر کر اطراف کا جائزہ لینے لگی۔
وسیع برفیلا میدان، تین شوخ رنگوں کے خیمے ارد گرد کہیں کہیں سے گدلی برف ،جو فلموں کے بر عکس صاف ستھری نہیں تھی۔ بیس کیمپ سے کیمپ ون تک برف کم تھی ،کیمپ ون سے اوپر رکاپوشی کی بلندیاں برف سے ڈھکی ہوئی تھیں۔
پریشے نے گلشیئر گلاسز آنکھوں پر چڑہائے اور گردن پوری طرح اٹھا کر چوٹی کو دیکھا۔ پہاڑ کی “گردن” سے اوپر برف سے ڈھکی چوٹی کے گرد بادلوں کا ہالہ تھا، ایسے کے دھند اور بالوں میں گم تھی۔ اوپر آسمان نیلا اور صاف تھا، مگر چوٹی دھند میں لپٹی تھی اور یہی اس کی سب سے بڑی خوبصورتی تھی۔ اسی باعث اسے دنیا بھر کے پہاڑوں میں خوبصورت پہاڑ کہا جاتا تھا۔ چوٹی سے نیچے پہاڑ کئی ہزار میٹر تک ایک خاص زاوے سے نیچے اتا تھا۔جیسے کسی نے سانچے میں ڈھال کر مہارت سے بنایا ہو۔ دنیا کا۔ کوئی پہاڑ ایسی انوکھی اور منفرد ساخت نہیں رکھتا۔ یہ خصوصیت صرف دمانی کو حاصل ہے۔
رکاپوشی کا مطلب ہنز و کثر زبان میں “چمکتی دیوار”ہے
اور دمانی ،”دھند کی۔ ماں” کو کہتے ہیں۔
وہ واقعی دھند کی۔ ماں تھی۔
واپسی کا۔ سفر، کمر پر خالی رک سیک کے باعث آسان تھا۔ وہ افق کے اگے اگے اتر رہی تھی۔ اس کا جوتا کاٹ رہا تھا، جس کے باعث اسے چلنے میں وقت کا سامنا تھا۔
صفحہ نمبر 132
“جس طرح پیپر کبھی نئے پین سے حل نہیں کرتے، اسے طرح کوہ پیمائی یا کوہ نوردی (ٹریکنگ) کا آغاز نئے جوتے سے کبھی نہیں کرتے” اس کی ذہنی رو سے بے خبر وہ اس کے عقب میں کہہ رہا تھا، “تم نے غالبآ نئے ٹریکنگ بوٹس لیے ہیں اور۔ ۔۔۔”
“مجھے پتا ہے” ۔اس نے اتنے درشتی سے اس کی۔ بات کٹی کہ وہ خاموش ہوگیا۔ پریشے نے اپنی رفتار تیز کردی۔ افق نے اس کے رویے کو ماحول کی تبدیلی پر مہمول کیا۔
سورج ڈوب چکا تھا۔بیس کیمپ کے رنگ برنگے خیموں میں واضح کمی اچکی تھی۔ اطلوی جاتے جاتے اپنا کچرہ بھی سمیٹ کر نہیں گئے تھے۔ خالی بوتلیں، کین، بے کار سامان ان کی خیموں کی جگہ بکھرا پڑا تھا۔سرمئی اندھیرا پہاڑ کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔ خیموں کے اندر روشنیاں جل اٹھی تھیں۔ وہ تیز قدموں سے کچن ٹینٹ میں آئی۔
شفالی چپاتیاں پکا رہا تھا۔ نشاء اور ارسہ قریب ہی پلاسٹک چیئرز پر بیٹھی تھیں۔
“ارسہ باجی! آپ اپنی کتاب میں یہ ضرور لکھنا کہ یہ گورا لوگ دال چاول اور چپاتی کو مکس کر کے کیسے مزے سے کھاتا ہے۔ پھر کہہ رہا ہوتا ہے”نو کارب ،نو فیٹ،چپاتی از دی بیسٹ! “شفالی ارسہ کو مشوارہ دیتے ہوئے البر تو کی کسی اطلوی ٹیم ممبر کی نکل اتار رہا تھا۔ پریشے ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی اور سپورٹس ڈرنک اٹھا کر منہ سے لگا لی۔
“ارسہ!تم اتنا رومنٹک ناول اس پہاڑ کے بارے میں کیسے لکھ سکتی ہو؟ اس بلندی پر تمہاری کرداروں کی کلفی جمی ہوگی، ،نا کہ وہ رومانس جھاڑ رہے ہوں گے” ۔
نشاء ہنستے ہوئے کہہ رہی تھی، دفعتآ پریشے کو خاموش دیکھ کر سنجیدہ ہوئی۔
“تمہیں کیا ہوا ہے؟ “
“کچھ نہیں” وہ ڈرنک کا۔ گھونٹ لیتی رہی۔
“میں جا رہی ہوں ادھر سے۔ ایک تو لوگ بھی ناں،جدہر رائیٹر دیکھتے ہیں، مشورہ دینا شروع کر دیتے ہیں” ارسہ کافی دیر سے تانگ آئی بیٹھی تھی، بلا آخر اٹھ کر چلی گئی۔ شفالی۔ کسی کام سے باہر گیا تو نشاءنے کہا،
“تم نے خمکھا اتنا ہوا بنا رکھا تھا ک انکل اجازت نہیں دیگے، بلکل نہیں دیگے، مگر انہونے اتنی جلدی اجازت دے دی، مجھے۔ تو یقین نہیں آیا تھا،”۔
“یقین؟ یقین تو مجھ بھی نہیں آیا تھا” اس کی نگاہوں کے سامنے حنادے کی تصویر گھوم رہی تھی۔
صفحہ نمبر 133
“پری اگر ممی اور پاپا، انکل سے بات کریں تو سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ میں ممی کو جا کر سب؟آخر ماؤں سے کیا پردہ ہوتا ہے”
پری چونکی، “کیا بتادوں ؟”
“جو۔ تمہارے اور افق کے درمیان ہے”
“ہمارے درمیان کیا “ہے؟ اس نے الٹا سوال کیا۔
نشا نے ۔ بغور اسے دیکھا،”پری کیا ہوا ہے؟ “
“نہیں۔تم بتاؤ۔ ہمارے درمیان کیا ہے؟ “اس نے خالی بوتل میز پر رکھ دی۔
“تمہارے درمیان۔۔۔تم دونوں۔ ۔۔۔”نشاءالجھی۔وہ۔ زور۔ سے۔ ہنس دی۔
“ہمارے درمیان کچھ بھی نہیں ہے۔ تم پاگل ہو نشی”وہ اٹھی اور خیمے سے باہر نکل آئی۔ نشاء اس کی بہت اچھی دوست تھی۔ مگر ہر۔ بات بتانے کی۔ نہیں ہوتی۔ وہ۔ نشا کو نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ شادی شدہ تھا۔ اگر بتا دیتی تو نشا اس کا چہرہ پڑھ کر جان جاتی کہ اس کے دل میں کیا ہے۔ اس کی نسوانی غرور اور انا مجروح ہوتی، سو اس نے نشا کو کچھ نہیں بتایا۔
وہ۔ سر جھکاے اپنے خیمے کی طرف بڑھنے لگی۔ راستے میں اسے وہ برفانی نالہ نظر آیا، جس کے کنارے وہ صبح مصعب کے ساتھ بیٹھی تھی۔ صبح اس میں پانی تیر رہا تھا، مگر رات کو درجہ ہرارت گرنے کے باعث اب وہ مکمل برف ہو چکا تھا۔ وہ ہر چند گھنٹوں بعد روپ بدل لیتا تھا۔
“بلکل افق کی طرح۔ ہونہہ “اس نے سر جھٹکا اور اپنے قدم خیمے کی طرف تیز کر دیے۔
بدھ، 10 اگست 2005ء
بیس کیمپ میں آج پورٹرز نے بہت اچھا ناشتا دیا تھا۔ دلیہ،انڈے، چپاتی، جوس اور پنیر، جس کے باعث اگلی صبح وہ کیمپ ون تک فرید اور افق کے ساتھ چڑھ رہی تھی،تو اس کی طبعیت بوجھل سی تھی۔ افق اس سے اگے تھا اور مسلسل اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کابھ اس کے جوتوں کے متعلق پوچھتا تو کبھی کھانسی کے بارے میں، کیوں کہ وہ مسلسل کھانس رہی تھی۔
“تم احمت کو دیکھا لیتیں تو اچھا تھا” اس نے بیس کیمپ مینجر اور ڈاکٹر احمت دوران کا نام لیا۔ وہ جواب دیے بنا سر جھکائے اپنے “سکی پولز” کی مدد سے برف پر چلتی رہی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11 Episode 12 Episode 13 Episode 14 Episode 15 Episode 16 Episode 17 Episode 18 Episode 19 Episode 20 Episode 21 Episode 22 Last Episode 23

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: