Kehkashan Si Rehguzar Novel By Rubab Naqvi – Episode 2

0

کہکشاں سی رہگزر از رباب نقوی – قسط نمبر 2

–**–**–

 

گاڑی میں موجود چاروں نفوس اپنی اپنی سوچوں میں غرق تھے ۔۔ ڈرائیو کرتا معاز وقتاً فوقتاً ترحم بھری نظریں فرنٹ مرر سے دلہن پر ڈال لیتا ۔۔۔۔۔۔ جویریہ بیگم مستقل اسے اپنے ساتھ لگائے آہستہ آہستہ اس کے شانوں کو تھپک رہی تھیں ۔۔۔۔۔ سبحان صاحب شرمندگی کے باعث خولہ کی طرف دیکھنے سے مکمل گریز کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
جبکہ خولہ کے دل و دماغ بلکل جامد تھے ۔۔۔۔۔
دفعتاً سیل فون کی چنگھاڑھتی آواز پر سب ہی بدمزہ سے ہو کرجویریہ بیگم کی طرف متوجہ ہوے تھے جو بلاوجہ ہی شرمندہ ہوتی کال ریسیو کر چکی تھیں ۔۔۔۔
“گآڑی روکیے” دوسری طرف موجود داود کی آواز اتنی گرجدار ضرور تھی کہ جویریہ بیگم سے لگی بیٹھی خولہ کا دل بری طرح دہل گیا تھا ۔۔۔۔۔ “کیا؟ کیوں” ؟
“آپکا مقصد پورا ہو گیا نہ ؟ بس اب مجھ سے سوال جواب مت کریں ۔۔۔۔۔ اور میری “دلہن” میرے حوالے کریں” ان کی گاڑی سے آگے اپنی بائک دوڑاتا وہ بری طرح بھننا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
“ارے مگر۔۔۔۔” کچھ سوچ کر جویریہ بیگم چپ سی ہو گئیں اور معاز کو گاڑی روکنے کو کہا ۔۔۔۔
حیران پریشان سا معاز گاڑی روک کر تن فن کرتے داود کو گاڑی کے قریب آتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔
“کِیا بات ہے” ؟ سبحان صاحب نے برا سا منہ بنا کے پوچھا تھا ۔۔۔۔ جواباً داود نے ان سے بھی برا منہ بنا کر انہیں نظر انداز کر کے تپا دیا تھا ۔۔۔۔ “اترو چلو”
“ارے یہ کیا کر رہا ہے” ؟
“اپنی دلہن کو اپنے ساتھ اپنی بائک پہ اپنے گھر لے جا رہا ہوں” ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کرتا وہ ان تینو کو ہکا بکا چھوڑ کر خولہ کا ہا تھ تھامے کچھ فاصلے پر کھڑی اپنی بائک کی طرف بڑھ چکا تھا ۔۔۔۔ جبکہ ہرانساں ہوتی خولہ نے مزاحمت
شروع کر چکی تھی ۔۔۔۔
ٹھٹھک کر رکتا داود اس سہمی ہوئی سی لڑکی کا ہاتھ نرمی سے چھوڑ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔
ہانپتی کانپتی سی دوڑی آتی جویریہ بیگم نے پھر اسے بازئوں کے حلقے میں لے لیا تھا ۔۔۔۔۔
“کھا نہیں جائونگا میں اسے”
“تمہارا کچھ بھروسہ بھی نہیں”
“شادی میری کیوں کروائی ہے جب ساتھ لگا کر آپکو رکھنا تھا ؟”
وہ تو جزبات میں آ کر کچھ بھی کہ گیا تھا جبکہ سیاہ شال میں گم صم کھڑی خولہ کا دل بڑے بے ساختہ انداز میں ایک الگ ہی ردھم پر دھڑک اٹھا ۔۔۔
“اوہ” معاز اور جویریہ بیگم کی معنٰی خیز نظریں ایک دوسرے سے ٹکرائی تھیں ۔۔
“تو سارا غصہ اس بات کا ہے کہ “ساتھ لگا کر” امی نے کیوں رکھا ہے” ؟؟
معاز نے لہک لہک کر کہنے کے بعد ماں کے پیچھے پناہ لی تھی ۔۔۔۔
جبکہ وہ اپنے جملے کی گہرائی کا اندازہ ہونے کے بعد جھینپ گیا تھا ۔۔۔۔ “میں جا رہا ہوں ۔۔۔۔ رکھیئے آپ اپنی بہو رانی کو اپنے کلیجے سے لگا کر” ۔۔۔۔۔
بائک سنبھالتا وہ اسٹارٹ کرنے لگا تھا جب جویریہ بیگم نے جھٹ پٹ خولہ کو گھسیٹ کر اس کے پیچھے بٹھا دیا تھا ۔۔۔۔
یہ سب اتنا اچانک تھا کہ وہ دونو ہی اپنی اپنی جگہ تھم سے گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
بہت سمبھل کر احتاط سے بیٹھنا خولہ !! اس لڑکے کا دماغ بلکل خراب ہے ۔۔۔۔ جتنا میں اسے گاڑی میں بیٹھنے کو کہوں گی یہ اتنا ضد میں آئے گا” ۔۔۔
اس کے لہنگے اور دوپٹے کو سمیٹتی وہ خولہ سے مخاطب تھیں جبکہ نظریں اسی پر تھیں جو سنسان تاریک راستے پر نظریں جمائے بیٹھا تھا ۔۔۔۔
آئتلکرسی پڑھ کر ان پر پھونکتی وہ تب تک انہیں دیکھتی رہیں جب تک وہ نظر آتے رہے ۔۔۔۔۔ ان کے اندھیرے میں اوجھل ہو جانے کے بعد انہوں نے گاڑی کی طرف قدم بڑھائے جہاں بیٹھے سبحان صاحب بری طرح پیچ و تاب کھا رہے تھے ۔۔۔۔۔
“مجھے اب بھی یقین نہیں آ رہا ۔۔۔ ارباز اپنے باپ کو اس طرح بھری برادری میں شرمندہ ہونے کے لیئے کیسے چھوڑ سکتا ہے ۔۔۔۔۔ رشتہ طے ہونے کے بعد سے آج تک کے عرصے میں ایک بار بھی تو ایسا نہیں لگا کہ وہ اس شادی سے نا خوش ہو” ۔۔۔۔۔
ان کے لہجے میں حیرت ہی حیرت تھی ۔۔۔۔۔۔۔
“ہمم ۔۔۔۔۔۔۔ مگر بھابی خالص آپکی پسند تھیں ۔۔۔ ہو سکتا ہے بھائی نے آپکو شرمندہ کروانا چاہا ہو” ۔۔۔۔۔
جواباً وہ ٹھنڈی آہ بھر کے رہ گئیں ۔۔۔۔ وہ لوگ گاڑی کے نزدیک پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔۔ سبحان صاحب اس موضوع کو سنتے کے ساتھ ہی بھڑک اٹھتے اور اس وقت ان میں کسی چخ چخ کی بلکل ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔
گاڑی پھر چل پڑی تھی ۔۔۔ سبحان صاحب پھر اندر ہی اندر ارباز پر بھڑکنے لگے تھے ۔۔۔۔ جویریہ بیگم کو خولہ اور داود کا فکر ستا رہی تھی ۔۔۔ جبکہ معاز ماں باپ کو پریشان دیکھ دیکھ کر پریشان ہو ریا تھا ۔۔۔۔
*******
بے ساختہ ہی اس نے اللہ کا شکر ادا کیا تھا جب وہ سہی سلامت گھر تک پہنچ گئے تھے ۔۔۔۔۔ چھوٹی سی گلی میں بدبو ہی بدبو اندھیرا ہی اندھیرا تھا ۔۔۔۔۔ کہیں کہیں سے آتی روشنی نے گلی کو بلکل اندھیرے میں ڈوبنے سے کافی حد تک بچا لیا تھا ۔۔۔۔۔ گھونگٹ زرا سا اونچا کیئے وہ داود کے اونچے لمبے ہیولے کو دروازہ کھولتا دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ پرانے سے لوہے کے دروازے کی نا خوشگوار آواز دور تک سناٹے کو چیرتی گئی تھی ۔۔۔۔۔
“آ بھی جائیے اب اندر ۔۔۔۔ یا پھول بچھائوں راہ میں آپ کی” ؟
وہ جو خود پر کافی حد تک کنٹرول کر چکی تھی داود کے جلے انداز پر پھر سے آنکھیں نم کر بیٹھی ۔۔۔۔
سکتے کی کیفیت میں وہ اس گھر کو دیکھ رہی تھی جو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو چکا تھا ۔۔۔۔
اس کی نظروں کے آگے سبحان صاحب کا وسیح و عریض گھر آ گیا ۔۔۔
آنکھوں سے ٹپا ٹپ آنسو گرنا شروع ہو گئے ۔۔۔۔
اور وہ جو بلب کی زرد روشنی میںں اس کے مٹے مٹے میکپ اور سجے سنورے بسورتے چہرے کا جائزہ لے رہا تھا ۔۔۔۔ نظریں چراتا جھلایا تھا ۔۔۔
“سنو !! اس گھر کے در و دیوار کے آگے ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہنا ۔۔۔۔ انہیں روتی بسورتی شکلیں پسند نہیں ۔۔۔۔۔ میں بھی ہر حال میں مسکراتا رہا ہوں ۔۔۔۔ تمہیں بھی یہی کرنا ہوگا ۔۔۔۔
اگر اس گھر میں رہنا ہے تو”
“کون یہاں رہنا چاہتا ہے !”
دل ہی دل میں بڑبڑاتی وہ اس وقت صرف تنہائی چاہ رہی تھی ۔۔۔۔
“اس کمرے میں چلی جاؤ’کمرہ یقیناً بیکار ہے لیکن یہی ایک کمرہ اس گھر میں سب سے بہتر ہے” ۔۔۔۔۔
وہ مرے مرے قدموں سے چلتی کمرے کے اندر پہنچی ۔۔۔۔
کچھ دیر تک اس کی پشت تکنے کے بععد وہ دھڑ دھڑ سیڑھیاں چڑھتا چھت پر چلا گیا جبکہ ۔۔۔۔
خولہ نے جھٹ شال اتار کر اس پھٹے پرانے صوفے پر پھینکی تھی ۔۔۔۔
کمر پر دونو ہاتھ ٹکائے وہ صدماتی نظروں سے مختصر سے کمرے میں موجود مختصر سے ژنگ لگے سامان کو گھور رہی تھی ۔۔۔۔
“ایک بار پھر میں پیچھے رہ گئی ۔۔۔۔ سومیہ باجی اجیہ اور حور سے ۔۔۔۔ ایک بار پھر ۔۔۔۔۔ ایک بار پھر ۔۔۔۔۔۔ ان کی باتیں ۔۔۔ تضحیک اڑاتی نظریں ۔۔۔۔ میں ہمیشہ پیچھے کیوں رہ جاتی ہوں ۔۔۔۔ مسٹر ارباز تم تو مجھے کبھی ملو ۔۔۔۔ گنجا نہ کیا تو بولنا ۔۔۔۔ کمینہ ۔۔۔ مزاق بنا کر رکھ دیا سب کے سامنے میرا ۔۔ پہلے ہی کیا تھا میرے پاس فخر کرنے کو ۔۔۔ ایک زرا عزت نفس تھی ۔۔۔ وہ بھی مجروح کر کے رکھ دی ۔۔۔ اللہ تمہیں اس کی سزا ضرور دیگا ۔۔۔۔ انشا اللہ ضرور !!! نہیں کرنی تھی شادی تو مت کرتے الو کے پٹھے ۔۔۔۔ کون سا میں مر رہی تھی ۔۔۔۔ گن پوائنٹ پر بلوائی تھی بارات میں نے ؟ ایک ایک زیور نوچ نوچ کے اتارتی وہ اب ارباز کی اگلی پچھلی نسلوں کو کوس رہی تھی ۔۔۔ میری سہیلیاں اگر اس دڑبے میں آئیں گی تو کیا سوچینگی ۔۔۔ میں اب کبھی کسی سے نہیں ملوں گی ۔۔۔۔ نہیں !! خود کو کس بات کی سزا دوں میں ۔۔
میں چلی جائوں گی یہاں سے ۔۔ کبھی واپس نہیں آئونگی ۔۔۔۔ ہمیشہ کے لیئے چلی جائونگی ۔۔۔ ورنہ یہاں دم گھٹ جائونگی ۔۔۔۔ بس میں صبح ہی چلی جائونگی ۔۔۔ امی آئینگی نہ کل !!! مجھے نہیں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔رہنا یہا”۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈپریشن اور مسلس رونے کی وجہ اس کا سر بھاری ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ خود سے جنگ کرتے کب اس کا ذہن اندھیروں میں ڈوبنے لگا اسے احساس نہیں ہوا ۔۔۔۔ نڈھال سی صوفے پر بیٹھتی وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتی چلی گئی تھی ۔۔۔۔
*********
کتنی ہی دیر سے پلنگ پر آڑھا ترچھا لیٹا دسمبر کی اس سرد ہوا سے بے نیاز وہ سوچوں کے جال میں الجھا تھا ۔۔۔۔۔
کیا ہو چکا ہے ؟ اب آگے کیا ہوگا ؟
جو ہوا کیا وہ ٹھیک ہوا ؟
سوال بہت اٹھ رہے تھے مگر جواب ندارد ۔۔۔۔
“خولہ کچھ کھا نہیں رہی” ۔۔۔۔
ذہن میں ایک آواز گونجی اور وہ چونک کر اٹھ بیٹھا ۔۔۔۔ نکاح کے بعد اس نے کسی کو کہتے سنا تھا لیکن دھیان نہیں دیا تھا کیونکہ اس کا سارا دھیان اپنی پلیٹ میں بنے بریانی کے پہاڑ کی طرف تھا ۔۔۔۔۔۔
تیزی سے اٹھ کر وہ نیچے بھاگا تھا ۔۔۔
مگر اندر سے بند دروازے نے اس کا سارا جزبہِ ہمدردی جھاگ کی مانند بٹھا دیا ۔۔۔۔۔ “بدتمیز دلہن” ۔۔۔۔۔
“سنو! او محترمہ ۔۔۔ دروازہ کھولو ۔۔۔۔ “ٹھک ٹھک ٹھک” ۔۔۔ کوئی کمبل لیحاف ہی پھینک دو باہر ۔۔۔۔ سردی سے مر گیا میں تو ؟۔۔۔ شادی کی پہلی ہی رات بیواہ ہو جائو گی” ۔۔۔۔۔
اگر خولہ جاگ رہی ہوتی تو شائد دروازہ کھول بھی دیتی’لیکن وہ تو خود عالمِ بے ہوشی میں تھی ۔۔۔۔
“صبح سب سے پہلے اس کا دماغ ٹھکانے لگانا ہوگا” ۔۔۔
تلملاتے ہوئے اس نے صحن میں پڑی اکلوتی چارپائی کو گھسیٹ کر کچن کے روازے کے آگے رکھا ۔۔۔۔ چولہا جلا کر آنچ زرا دھیمی کی ۔۔۔۔۔ اور پلنگ پر سکڑ سمٹ کر لیٹ گیا ۔۔۔۔ شکر تھا جیکٹ پہن رکھی تھی ۔۔۔۔ بغلوں میں ہاتھ ڈال کر وہ ایک بقر پھر سے صورتِ حال پر غور و خوض کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔ نیند کی وادیوں میں گم ہونے سے پہلے جو آخری خیال اس کے ذہن میں ابھرا تھا وہ یہ تھا کہ “خولہ بیگم جو اتنی پیاری لگی ہیں یہ نکاح کے دو بولوں کا کمال ہے یا شہر کے سب سے بڑے بیوٹی پارلر کا؟”
********
دکھتے سر کے ساتھ اسے ہلکی ہلکی حرارت بھی محسوس ہو رہی تھی جبکہ الٹی سیدھی حالت میں سونے کی وجہ سے جسم بھی بری طرح دُکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
شانوں سے زرا نیچے آتے کرل ہوئے بالوں میں اب بھی کہیں کہیں پن لگے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
جن پر دھیان دیے بغیر وہ تراش خراش سے مزین دوپٹا سر پر اوڑھتی ہاتھ آپس میں رگڑتی بغور کمرے کا جائزہ لیتی ایک بار پھر احساس کمتری کا شکار ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
ایک سنگل بیڈ ۔۔۔۔۔ پرانا سا ادھڑا ہوا ایک صوفہ ۔۔۔۔ اس کے آگے رکھی بری طرح چکٹی ہوئی ٹیبل ۔۔۔ دیوار گیر الماری جس میں اخبار و جرائد اوپر سے نیچے تک ٹھونسے گئے تھے ۔۔۔۔۔
ایک آئینہ دیوار پر لگا تھا ۔۔
جس کے عین نیچے اوپر تلے رکھی تین چھوٹی پیٹیوں پر چھوٹا سا ٹی وی رکھا تھا اور بس ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!
آدھی سے زیادہ دیواروں سے چونا جھڑ چکا تھا جبکہ باقی بھی اترنے کو بیقرار لگتا تھا ۔۔۔
چھت پر لگے بڑے بڑے جالے الگ ۔۔۔۔
“مجھے آج ہی یہاں سے جانا ہے اور کبھی واپس نہیں آنا ہے” ۔۔۔۔
ایک بار پھر دل میں ارادہ کرتی وہ کمرے سے باہر نکل آئی تھی ۔۔۔۔
پلنگ پر پڑے داود کو نظر انداز کرتی وہ حیران نظروں سے کونے میں لگے جامن کے درخت کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ کل رات اس کی نظر اس پر نہیں پڑی تھی ۔۔۔۔
بھینی بھینی سی خوشبو نے اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔ سکون سے تو وہ بھی نہیں سو سکا تھا ۔۔۔ سردی کی شدت اسے ہر تھوڑی دیر بعد بیدار کر دیتی تھی ۔۔۔۔ مسلسل سکڑے رہنے کی وجہ سے اس کا جسم بھی درد کر رہا تھا ۔۔۔ ٹانگیں سیدھی کرتے ہوئے داود نے مندی مندی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا جو خفا خفا نظروں سے اطراف کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ اس کے چہرے سے ہوتی اس کی نظریں اس کے مہندی رچے ہاتھوں پر آ کر اٹک گئیں جو اس کے چہرے سے زرا ہی فاصلے پر تھا ۔۔۔۔۔ جانے دل میں کیا سمائی کہ بہت نرمی سے وہ اس کا ہاتھ تھام گیا تھا مگر اگلے ہی پل سٹپٹا کر اٹھ بیٹھا تھا جب بری طرح اس کا ہاتھ جھٹک کے خولہ پیچھے ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
“آپ ۔۔۔۔ آپ مجھ سے زیادہ فری ہونے کی کوشش مت کریں ۔۔۔ مجھے بلکل اچھے نہیں لگے آپ” ۔۔۔
اس کی ہلکی براؤن سرخ ہوتی آنکھوں ںسے نظریں چراتی وہ منمنائی تھی ۔۔۔۔
ابرو اچکا کر داود نے پہلے پلنگ اٹھا کر دیوار سے لگا کر کھڑا کیا پھر رات سے جلتا چولھا بند کر کے اس کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔
“اگر میں تمہیں اچھا نہیں لگا تو تمہیں نظر کے چشمے کی اشد ضرورت ہے بیگم” ۔۔
“یہ کیا بول رہے ہیں آپ مجھے ؟ میرا نام خولہ ہے۔”
“مگر تم میری بیگم ہو” ۔۔۔
جواباً ناک کے پھنگ پھیلا کر وہ اسے سر تاپا گھورنے لگی ۔۔۔۔
اس کے یوں دیکھنے پر داود پوز مار کے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
“آپ جیسے “بڑے مرد” پر ایسی بچگانا حرکتیں بلکل سوٹ نہیں کرتیں” ۔۔۔۔
“ٹھک”! !
اپنے ٹوٹتے دل کی آواز اس نے سنی اور جبراً مسکرایا ۔۔۔ اتنا “بڑا مرد” بھی نہیں ہوں میں ۔۔۔۔ تیس سال کا ہوئے صرف ایک ہفتہ ہی ہوا ہے مجھے” ۔۔۔۔
پھٹی نظروں سے اسے دیکھتی خولہ بے یقین تھی ۔۔۔۔
“واقعی ؟ آپ تیس سال کے بوڑھے ہیں” ؟
“ہاں بلکل ویسے ہی جیسے تم پچیس سال کی بچی ہو” !
“ایکسیوزمی ۔۔۔۔ میں ابھی صرف انیس کی ہوں اور جب تک تیس کی نہیں ہو جاتی ۔۔۔ تب تک انیس کی ہی رہوں گی ۔۔۔۔ سمجھے ۔۔۔۔۔ یہ کوئی بات ہے بھلا ۔۔۔۔ ابھی تو میرے ہنسنے کھیلنے کے دن ہیں” ۔۔۔۔
کچھ دیر تک مسکراہٹ دبا کر اسے دیکھنے کے بعد وہ فلق شگاف قہقہ لگا کر ہنس پڑا ۔۔۔۔۔
خجل ہوتی وہ انگلیاں چٹخٹا کر رہ گئی ۔۔۔۔۔۔
“سنو بیگم”
“پلیز مجھے ایسے ویسے مت مخاطب کریں” ۔۔۔۔۔
“مگر تمہارا مجھ سے یہی رشتہ ہے” ۔۔۔۔ داود کو اسے ستانے میں مزہ آ رہا تھا ۔۔۔۔ بڑی دلچسپ صبح اتری تھی اس گھر میں ۔۔۔۔
“نہیں رہے گا یہ رشت”
داود کی مسکراہٹ کچھ مانند ہوئی تھی ۔۔۔۔
“کیوں” ؟
“اس دڑبے کی وجہ سے ۔۔۔۔ جتنے رقبے پر یہ گھر بنا ہے ۔۔۔۔ اس سے زیادہ ہی رقبے پر صرف میرا کمرہ ہی بنا ہوگا” ۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے وہ تمام معاملات کلیئر کر دینا چاہتی تھی ۔۔۔۔ نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ داود نے اس کے لہجے کی مسنوعی رعونیت ملاحظہ کی تھی ۔۔۔
“محل میں ان چاہی بن کر رہنے سے بہتر ہے اس دڑبے میں من چاہی بن کر رہو” ۔۔۔۔۔۔۔
جویریہ بیگم کی مہربانی سے وہ خولہ اور اس کے گھر والوں کی مغل ہائوس میں حیثیت جان چکا تھا ۔۔۔۔۔
(اس کے والد کمال لغاری جلال اور روحیل صاحب کے سگے بھائی نہیں تھے ۔۔۔ پھر بہت کم عمر میں ہی دنیا چھوڑ گئے تھے ۔۔۔۔ سو عمارہ بیگم اور ان کے دونوں بچے انہیں ایک بے وجہ کا بوجھ لگتے تھے) ۔۔۔
بری طرح دھڑکتے دل اور رکتی سانسوں کے ساتھ اس نے دھندلائی نظروں سے ان جگر جگر کرتی آنکھوں میں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔
فاصلہ کم ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ اس کے سرخ ہالے میں دمکتے چہرے کو نظروں کے حصار میں لیئے داود نے اس کی طرف پیش قدمی کی تھی مگر یکدم ہی رک کر نا گوار نظروں سے بجتے دروازے کو گھورا تھا ۔۔۔۔۔۔ برا سا منہ بنا کر وہ دروازہے کی طرف بڑھ گیا تھا جبکہ خولہ کی جیسے جان میں جان آئی تھی ۔۔۔۔۔
“سلام’صبح بخیر’شادی مبارک بھائی صاحب”
چہکتے ہوئے معاز اندر آیا تھا مگر ترچھی نظروں سے گھورتی خولہ کو دیکھ کر اس کی بانچھیں کچھ سکڑی تھیں ۔۔۔
“اسلام علیکم” روٹھے روٹھے انداز میں اس نے معاز کے پیچھے داخل ہوتی جویریہ بیگم کو جواب سلام کیا تھا ۔۔۔۔۔
“کیسی ہو میری بچی” ۔۔۔۔
مروتً سر کو ہلکی جنبش دیتی وہ اگلے ہی لمحے بے مروتی سے رخ موڑ گئی تھی ۔۔۔۔۔
ٹھنڈی سانس بھرتے انہوں نے اشارے سے داود سے خولہ کے بارے میں پوچھا تھا ۔۔۔۔۔
کنپٹی کے پاس انگلی گھما کر وہ انہیں مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا ۔۔۔۔۔
“تمہاری امی اور چاچی وغیرہ آتی ہی ہونگی یہاں ۔۔۔۔ یہ تمہارا سامان لے آئے ہیں ہم ۔۔۔۔۔ فلحال صرف کپڑے جوتے وغیرہ لائے ہیں ۔۔۔ جہیز کا سارا سامان انشااللہ ایک دو دنوں میں شفٹ ہو جائے گا” ۔۔۔۔
“سامان یہاں لا کر کیا خلا میں چھوڑیں گی آپ ؟ جگہ کہاں ہے یہاں” ؟
گالوں پر لڑھکتے آنسو بے دردی سے صاف کرکے اس نے ایک ایک شکائتی نظر ان پر ڈالی اور ایک سوٹ کیس اٹھا کر کمرے میں گھس گئی ۔۔۔۔
پیچھے وہ تینوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے ۔۔۔۔۔
“آہم ۔۔۔۔۔ کچھ پتا چلا ارباز کا” ؟
ناخوشگوار سی خاموشی کو اسی نے توڑا تھا ۔۔۔۔
“نہیں ۔۔۔ کسی کی کال رسیو نہیں کر رہا ۔۔۔۔ بلکہ قب نمبر ہی بند کر کے بیٹھ گیا یے ۔۔۔۔ بس ایک بار معاز کی کال ریسیو کی تھی ۔۔۔۔ “جب حالات بہتر ہو جائی تب میسج کر کے بتا دیں” بس یہی کہا “۔۔۔۔۔
حالات چاہے کتنے بھی بہتر ہو جائیں ۔۔۔ جب وہ منظر عام پر آئے گا اس کے ابا لازمی قیامت اٹھا دیں گے ۔۔۔۔۔
رات سے اب تک مسلسل بھڑک رہے ہیں” ۔۔۔
تھکے تھکے سے انداز میں کہ کر وہ کچن میں گھس گئ تھیں ۔۔۔ جبکہ الجھن بھری نظروں سے کچھ دیر کمرے کے بند دروازے کو دیکھنے کے بعد داود واش بیسن کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔۔۔ جبکہ معاز باقی بیگز گاڑی سے اٹھا لانے کے لیئے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: