Kehkashan Si Rehguzar Novel By Rubab Naqvi – Last Episode 8

0

کہکشاں سی رہگزر از رباب نقوی – آخری قسط نمبر 8

–**–**–

 

شور شرابے کی آواز پر وہ جو کسی خوش گمانی کا شکار ہوتی کمرے سے بھاگتی گیلری میں آئی تھی ۔۔۔۔ نیچے ارباز کی درگت بنتے دیکھ کے منہ بنا کے رہ گئی ۔۔۔۔۔۔
“نکل !!!! میرے گھر سے نکل تو نا لائق’احسان فراموش’گدھا ۔۔۔۔۔۔۔ تو نکلے گا یا میں اتاروں جوتی” ؟
“ابا بیوی کے سامنے” ۔۔۔۔
“بیوی کے سامنے باپ سے مار کھاتے شرم آ رہی ہے ۔۔۔۔ اور مجھے جو اتنوں میں شرمندہ کرا کر رکھ دیا تو نے”
“مین مانتا ہوں” ۔۔۔۔۔۔۔
“مانے گا تو تیرا باپ بھی “
“میں معافی “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے معافی مانگنے سے کیا لوگ باتیں بنانا چھوڑ دیں گے ؟
ابا ایک مہینہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مہینہ ہو گیا یا ایک صدی بیت جائے ۔۔۔۔ میں نے تیری شکل نہ دیکھنی ہے نہ دیکھوں گا ۔۔۔
اب وہ جوتی لیئے ارباز کے پیچھے بھاگتے اس بیچارے کو بات مکمل کرنے کا موقعہ بھی نہیں دے رہے تھے ۔۔۔۔ تاک تاک کے نشانے لیتے وہ اس کی پشت لال کر چکے تھے ۔۔۔ اور ساتھ ساتھ بھاگتا معاز ان کے حکم پر انہیں ان کی جوتی اٹھا اٹھا کر پکڑاتا رہتا ۔۔۔۔
“ابا ۔۔۔۔ ابا میری بات تو سنیں ابا!”
ہونق کھڑی عینی کو ہوش آ ہی گیا ۔۔۔۔ سبحان سعید کے سامنے آتی وہ انہیں رک جانے پر مجبور کر گئی تھی
ہاتھ میں پکڑی چپل زمین پر پھینک کر انہوں نے غصے سے پیر میں اڑس لی تھی
حیرت سے یہ ممظر دیکھتی خولہ نیچے اترتی آئی تھی ۔۔۔
نظریں جویریہ بیگم اور معاز کے چہروں پر پڑیں تو اور بھی حیران ہوئی
دونوں ہی ہنسی روکنے کے چکر میں بیحال تھے
“ارباز کی کوئی غلطی نہیں ہے ۔۔ سارا قصور میرا تھا
میں اس کے پیچھے پڑی تھی ۔۔ وہ صرف میرا ایک دوست کی طرح خیال رکھتا تھا ۔۔۔ میں ہی الٹا سیدھا سوچنے لگی تھی ۔۔۔
شادی والی رات میں نے سوسائڈ کی کوشش کی تھی ۔۔۔ ثبوت کے طور ہر اپنی پٹی بندھی کلائی آگے کر دی
اگر ارباز نہ آتا تو میں مر جاتی ۔۔۔ جو ہوا میری وجہ سے ہوا
ارباز سے دور کرنے کے علاوہ آپ مجھے جو بھی سزا دیں گے وہ مجھے قبول ہے ۔۔۔”
ان کے مزاج کو دیکھتے ہوئے وہ سارا ماجرا ایک ہی سانس میں سنا گئی تھی
کچھ پل خاموشی سے ان کے چہرے جانچنے کے بعد وہ گویا ہوئے تھے
“ارباز سے الگ کرنے کے علاوہ جو بھی سزا “؟
“جی “!
عینی چہکی تھی جبکہ ارباز چوکننا ہوا تھا
” تو پھر دونو ایک ساتھ میرے گھر سے نکل جائو اور مجھے آئندہ کبھی شکل مت دکھانا”
آخری جملہ بطور خاص بیٹے کو دیکھ کے ادا کیا تھا ۔۔۔
“یہ کیسی معافی ہوئی “؟ وہ ٹھنکا
“جیسی میری مرضی” ۔۔۔
“ابا ! اب تو سب ٹھیک ہو گیا ہے
لوگوں کا تو کام ہے بولنا۔۔ “
“کیا خاک ٹھیک ہو گیا ہے ؟ اس بچی کو دیکھو !”
سب کی منڈیاں اپنی طرف مڑتی دیکھ کر وہ سٹپٹا گئی
“ایک تجھ نالائق نے جو کیا وہ کم تھا جو اب وہ دوسرا نالائق بھی بچی کا تماشہ بنانے پر تلا ہے
اس کا سوچا کبھی
یہ اونچے گھرانے کی بچی ۔۔۔۔
اسے کیسی شرمندگی اٹھانی پڑی ہوگی جب اپنے شوہر کو معمولی ویٹر” ۔۔۔۔
“یوں مت کہیں انکل” ۔۔۔ وہ تڑپ اٹھی تھی
آنکھوں سے پھر اک جھڑی سی نکلی تھی
“وہ ایسا ہے کہ اس کے ساتھ لمحہ بھر کو چلنے والوں کو بھی خود پر فخر ہوتا ہوگا” ۔۔۔
پچھلی طرف سے اندر داخل ہوتا داود ساکت رہ گیا تھا
“میں ہی نا شکری کرتی رہی تھی
میں اس اونچے گھر کی نچلے درجے کی باسی تھی
اس نے اپنے چھوٹے سے گھر اور بہت بڑے دل میں مجھے سب سے اونچی مسند پہ بٹھایا تھا ۔۔۔
مگر میں احساس کمتری کی ماری ۔۔۔ یقیناً اتنی عزت اتنی محبت کے قابل نہیں تھی “۔۔۔
جزبات کی رو میں بہتی وہ جانے اور بھی کتنے خوبصورت اظہار کر جاتی لیکن گم صم سی ہو کر وہ کسی احساس میں گھری چونک کے مڑی تھی ۔۔۔۔
وہ جو گھر کی پچھلی طرف سے داخل ہوا تھا اور اب دھڑکتے دل کے ساتھ دیوار کے عقب میں چھپا چہرہ نکالے اس کی باتیں سن رہا تھا اس کے مڑنے پر بڑا پیارا سا مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔
“کبھی منہ پر بھی ایسے اظہار کر دیا کرو “۔۔۔
سکتے میں آتی وہ اس پر سے نظریں نظریں نہیں ہٹا سکی تھی ۔۔۔
خولہ کے اس طرح یک ٹک دیکھنے پر اس بار اس نے پوز مارنے کی غلطی نہیں کی تھی بلکہ زرا جھک کر ہاتھ لہرا کر بڑی ادا سے “آداب” کیا تھا
“آداب کے بچے!”
جویریہ بیگم بھاگتی آئی تھیں اور اس کے قریب پہنچ کر اس کے گال پر تھپڑ رسید کر دیا ۔۔۔۔ “ایسے کوئی کرتا ہے ؟ نا اتا نہ پتا ۔۔۔ منہ اٹھایا اور چل دیے ۔۔ پتہ ہے حالات کیسے ہیں ؟ کیسے کیسے وہم دل میں اٹھ رہے تھے ۔۔۔۔ کچھ کرنے کے نہیں رہے تھے ۔۔۔ جان آدھی کر کے رکھ دی تھی ہماری” ۔۔۔
اب وہ اپنا منہ ہاتھوں میں چھپائے سسکنے لگی تھیں ۔۔۔
“اماں “!
بری طرح شرمندہ ہوتے داود نے ان کے ہاتھوں کو تھامنا چاہا تھا مگر نتیجتاً دوسرے گال پر بھی تھپڑ کھا بیٹھا ۔۔۔۔
مگر اس بار تھپڑ لگاتے ساتھ ہی وہ اس کے سینے سے لگ گئی تھیں ۔۔۔۔
“یوں بھی کوئی کرتا ہے ؟
کہاں گیا تھا تو” ؟
اس کی پیشانی چومتے ہوئے انہوں نے گلو گیر لہجے میں پوچھا تھا ۔۔۔
“معاز کے دوست کے گھر ٹھہرا تھا” ۔۔۔
ایک نظر سیڑھیوں سے اوپر جاتی خولہ کو دیکھ کر اس نے کہا تھا
“یہ تو سارا دن ساتھ ہوتا تھا میرے”
۔۔۔
اس بار سب کی منڈیاں معاز کی طرف گھومیں ۔۔۔ حیرت سی حیرت تھی ۔۔۔
لیکن جویریہ بیگم نے صرف منڈی گھمانے پر اکتفا نہیں کیا تھا ۔۔۔ اڑا کر چپل بھی رسید کی تھی ۔۔۔ ماں کی چپل کا نشان کبھی خطا ہوا ہے ؟ سو معاز کندھے پر پڑنے والی چپل پر چلا بھی نہیں سکا تھا کہ دوسری بھی اڑی آئی ۔۔۔ اب معاز چپل کھا رہا تھا جویریہ بیگم پیچھے پیچھے بھاگتی مار رہی تھیں اور ارباز بغیر ان کے کہے ہی چپل اٹھا اٹھا کر دینے کا فریضہ نبھا رہا تھا
“اے لڑکے تم کہاں جا رہے ہو ؟”
حیرت سے سارا منظر ملاحظہ کرتے سبحان سعید نے جو اسے دبے قدموں اوپر جاتے دیکھا تو چونکے
“اپنی بیوی کو منانے” سینا پھلا کر کہتا وہ ترنگ میں اس بار دھڑ دھڑ سیڑھیاں چڑھتا اوپر بھاگا تھا ۔۔۔
جبکہ سبحان سعید سر جھٹکتے اب ان سب پر دہاڑے تھے ۔۔۔
“کیا تماشہ ہے” ؟
سب اپنی جگہ ساکت ہوئے تھے ۔۔
“معاز کی ماں تم جائو ۔۔۔ اور زبردست سے ڈنر کا انتظام کرو ۔۔۔ ان کے دماغ میں ٹھکانے لگاتا ہوں” ۔۔۔
دونوں بھائیوں نے سہم کے ایک دوسرے کو دیکھا تھا جبکہ عینی منمنائی تھی ۔۔۔ “یہ تو بتا دیں ابا ۔۔ آپ نے معاف کر دیا” ؟
“خولہ داود کو معاف کر دے تو میں بھی تم لوگوں کو معاف کر دوں گا” ۔۔۔
ہاتھ پشت پر باندھتے انہوں نے فیصلہ سنایا تھا ۔۔۔
جبکہ خولہ کی باتیں یاد آنے پر وہ دونوں میاں بیوی مطمئین ہوگئے تھے ۔۔۔ وہ کب ناراض تھی ۔۔۔ وہ تو خود شرمندہ سی داود کی منتظر بیٹھی تھی ۔۔۔
جبکہ کچن میں خادمائوں کے ساتھ مصروف جویریہ بیگم کی پھرتی اور خوشی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی ۔۔۔ چند دنوں کی ایکسٹرا پریشانیوں کے بعد ساری زندگی کی پریشانیاں ختم ہوتی لگ رہی تھیں ۔۔۔
“داود کو چکن پلائو پسند ہے ۔۔ ارباز کو آلو قیمہ ۔۔۔ اور معاز !! اس کمینے کا تو قیمہ میں خود بنائوں گی” ۔۔۔
********
“کوئی ناراض ہے” ؟
کمرے میں داخل ہوتا وہ ڈرتے ڈرتے بولا تھا
“جی ۔۔۔ آپ” !
لٹکے منہ کے ساتھ وہ منمنائی تھی ۔۔۔۔
“میری اتنی مجال ہے” ؟
اس سے جڑ کر بیٹھتے ہوئے اس نے لہجے میں مظلومیت بھری تھی ۔۔۔
“آپ کی تو اتنی مجال ہے کہ آپ مجھے اکیلے گھر میں چھوڑ کر چلتے بنے” ۔۔۔
“اور تم اتنی بد گمان ہو کہ ایک بار دروازے سے جھانک کر بھی نہیں دیکھا اور کنڈی لگا لی ۔۔۔ ساری رات باہر کھڑا جمتا رہا میں ۔۔۔ شائد تم میری شکل نہیں دیکھنا چاہتیں ۔۔۔ صبح بات کر لوں گا ۔۔۔ یہ سوچ کر میں نے بھی دستک نہیں دی ۔۔
اس انکشاف پر وہ دنگ ہوئی تھی
“مگر اس صبح ۔۔۔ معاز کہ رہا تھا ۔۔ آپ نے رات کو اسے میسج کیا تھا کے میں جویریہ آنٹی کے گھر چلی جائوں ۔۔۔ آپ میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے ۔۔۔ مصیبت کی طرح نازل ہوئی ہوں میں آپکی زندگی میں” ۔۔۔۔
دوپٹے سے ناک رگڑتی وہ پھر وہ لمحہ یاد کرتی رونے کو ہو گئی تھی ۔۔۔
یہ سب کہا تھا اس کمینے نے ؟
داود کی آنکھیں پھیل گئی تھیں ۔۔۔
خولہ نے زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔
“اس صبح وہ کسی کام سے گھر آیا تھا ۔۔۔ مجھے باہر بیٹھا دیکھ کے وجہ پوچھی جو میں نے بتا دی ۔۔
پھر ہم نے یہ پلان بنایا کے میں ہفتہ بھر غائب رہوں گا ۔۔ پھر ہم دیکھیں گے تمہیں میں یاد آتا ہوں یا تم خوشیاں مناتی ہو ۔۔۔ اماں کو اس لیئے نہیں بتایا کہ وہ بہت ایموشنل ہیں ۔۔۔ تمہیں روتا دیکھ کے فوراً سچ بتا دیتیں ۔۔۔ ہاں عمارہ آنٹی اور کنور اور خاور کو سب پتا تھا ۔۔۔ تاکہ وہ کسی غلط فہمی کا شکار ہو کر تمہیں یہاں سے لے نہ جائیں “۔۔۔
انکشاف در انکشاف ۔۔
وہ دنگ رہ گئی
“واقعی” ؟
” واقعی”
“اس رات آپ سردی میں باہر کھڑے رہے ۔۔۔ مجھے معاف کر دیں” ۔۔
“میری وجہ سے تمہیں شرمندگی اٹھانی پڑی ۔۔ تم بھی مجھے معاف کر دو ۔۔”
اس بات پر معافی مت مانگیں ۔۔ جس بات پر غلطی میری ہے ۔۔۔ ورنہ مجھے اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوگا ۔۔
میں نا شکری ہوں ۔۔ آپ نے ٹھیک کہا تھا ۔۔۔ جو حاصل ہے اس پر شکر نہیں کرتی ۔۔۔ دوسروں سے حسد کرتی ہوں بس ۔۔۔۔ یہ عادت جانے میں کچھ وقت لگے گا ۔۔ میں شکر کرنا سیکھ جائوں گی ۔۔ تب تک شائد میں پھر آپکی دل آزاری کر بیٹھوں ۔۔ آپ آئندہ مجھے ڈانٹ دیجیئے گا ۔۔۔ تھپڑ کی بھی اجازت ہے اگر بد تمیزی زیادہ ہو ۔۔۔ مگر ایسی سزا مت دیجئے گا “
۔۔۔ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے سر اس کے سینے سے لگائے وہ منتی انداز میں بول رہی تھی ۔۔ اس کے بالوں میں نرمی سے ہاتھ چلاتا داود خود کو اس دنیا کا خوش قسمت ترین شخص سمجھ رہا تھا
*******
ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی جویریہ بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا ایک ایک کے منہ میں اپنے ہاتھوں سے نوالے ٹھونسیں ۔۔۔
ان کے خوشی سے چمکتے شہرے کو دیکھتے سنحان سعید زیر لب مسکرائے تھے ۔۔۔
“ابھی ارباز کے ولیمے کی بھی تیاری کرنی ہے” ۔۔
سبحان سعید اپنے آپ سے بولے ۔۔۔ عینی خود میں سمٹی ۔۔۔۔
“سارا بری کا سامان رکھا ہے اور ولیمے کا جوڑا وہی گولڈن والا ۔۔۔ اتنا خوب۔۔۔۔۔۔”
“ایک منٹ ایک منٹ” ۔۔۔ ارباز ہاتھ اٹھا کر انہیں روک گیا ۔۔۔
“وہ خولہ کی نیت سے آیا تھا ۔۔۔ وہ خولہ کو ہی دیں اس پر “۔۔۔۔۔۔۔۔
“ایک منٹ ایک منٹ “۔۔۔ اس بار داود نے ارباز کی بات کاٹی ۔۔۔ “وہ تمہاری دلہن کی نیت سے آیا تھا ۔۔۔ اس پر عینی کا ہی حق ہے” ۔۔!
“آپس میں لڑنے مت لگنا “۔۔۔ جویریہ بیگم کو خوف ہوا ۔۔ “نا تم لینے کو تیار ہو نا تم ۔۔۔ اتنا قیمتی سامان ہے ! کیا کروں میں اس کا” ؟
“میری والی کے لیئے رکھ لیں” ۔۔ معاز چہکا
“تمہاری والی کب آئے گی”
جویریہ بیگم ہنسیں ۔۔
“کیا مطلب کب آئے گی ؟ آپ اجازت دیں ۔۔ ابھی آ جائے گی” ۔۔
کہتے کے ساتھ ہی اس نے زبان دانتوں تلے دبا کر کینہ توز نظروں سے خود کو گھورتے باپ کو دیکھا تھا ۔۔
“کون ہے وہ “؟
“میں بتاتا ہوں “!
“میں بتاتا ہوں” ۔۔
داود اور ارباز ایک ساتھ بولے تھے ۔۔۔ پھر چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔۔۔
“وہ سعدیہ “!
“وہ حمیرا” ۔۔
اس بار دونوں نے پھر ساتھ بولا مگر پھر چونک کر معاز کو بھی دیکھا تھا جس کا سر ہی نہیں اٹھ رہا تھا ۔۔
“کون سعدیہ کون حمیرا ؟ میں نے اسے پڑوس والوں کی دانیہ کے ساتھ موٹر سائکل پر اڑتے دیکھا ہے” ۔۔۔ جویریہ بیگم کے حیرت سے کہنے پر خولہ اور عینی نے مسکراہٹ دبا کر اپنے چھوٹے سے دیور کو دیکھا تھا ۔۔۔
“سب سے بڑے پر اسی کے نکلے ہیں ۔۔ مگر انویزبل ہیں” ۔۔۔ سبحان سعید کے تبصرے پر سب ہی کی رکی ہنسی پھوٹ پڑی تھی ۔۔
*******
سبحان سعید نے اس جو بات کہی تھی ۔۔ وہ اس پر بہت خوش تھا ۔۔۔ گنگناتا ہوا وہ کچن میں چلا آیا جہاں جویریہ بیگم ملازمین کے ساتھ کچن سمیٹ رہی تھیں ۔۔۔
“جویریہ آںٹی “۔۔۔
اب خود سے انہیں کہتے ہوئے وہ جھجک رہا تھا ۔۔۔
“ہاں” ؟
“کافی پینی ہے ؟ میں بس بنا رہی ہوں” ۔۔۔
وہ اس کی عادت سے واقف بولی تھیں ۔۔۔۔
“تھینک یو ۔۔۔ دراصل مجھے کچھ اور کہنا ہے” ۔۔۔
“ہاں ہاں کہو “؟
انہوں نے ملازمین کو جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔
“آپ کو پتہ ہے میرا ان فیکٹریوں کو سنبھالنے میں دل نہیں لگتا ۔۔۔ اسی لیئے میں نے بینک جوائن کیا “۔۔
“ہاں” !
وہ اس بے وقت سی بات پے حیران ہوئیں ۔۔
“معاز بہت چھوٹا ہے ۔۔۔ یوں بھی اس کا دھیان ایکٹنگ کی طرف ہے ۔۔۔ اور ابا میں ہمت نہیں رہی ۔۔۔ اس بھاگ دوڑ کی ۔۔۔۔۔۔۔
تو آپ داود سے کہیں شرافت سے فیکٹریوں کی زمہ داری اٹھائے اور اس گھر میں تشریف لے آئے ۔۔۔”
شروع شروع میں اٹک اٹک کر بولتا وہ آخر میں روانی سے کہتا کچن سے نکل گیا ۔۔
حیران کھڑی وہ سمجھی نہ سمجھی کے دور سے گزر رہی تھیں ۔۔۔ جب اس نے پھر کچن میں جھانکا ۔۔۔۔
“اور اگر وہ اکڑ دکھائے تو اسے یاد دلا دیجئے گا ۔۔،
میرے آگے اس کی نا کبھی پہلے چلی ہے نہ اب چلے گی”
“یا اللہ !! آپکا جتنا شکر ادا کروں کم ہے” ۔۔۔۔۔ بات سمجھ کر شدید خوشی کے احساس میں گھری وہ شکرانے کے نفل ادا کرنے بھاگی تھیں ۔۔۔۔
کب سوچا تھا آج کا سورج اس گھر میں اتنی خوشیاں لے کر طلوع ہوا ہے ۔۔۔۔
********
دکانیں بند ہونے کا سلسلہ چل نکلا تھا ۔۔۔۔ شلٹر گرنے لگے تھے ۔۔۔
جس کے باعث روڈ کچھ زیادہ ہی اندھیرے میں ڈوبے تھے ۔۔۔۔۔
“ایک بات کہوں” ؟
گردن زرا پیچھے کو کرتا وہ کچھ اونچی آواز میں بولا تھا ۔۔۔۔
“کہیے “؟
وہ بھی اس کے کان میں چیخی تھی ۔۔۔۔۔
“کہ دوں” ؟
“کہ دیں ۔۔”
“سوچ لو” ؟
“سوچ لیا”!
“بڑا مرد” ہونے کا تانہ تو نہیں مارو گی “؟ ۔۔۔۔
“یہ وعدہ میں نہیں کرتی”
وہ ہنسی تھی ۔۔۔
“پھر رہنے دو!”
“اچھا اچھا نہیں کہوں گی میں یہ سچ “!!
انداز چڑانے والا تھا ۔۔۔۔
“کلی ! آئی لو یو “!!!!!
پل میں اس کا نک نیم ایجاد کرتا وہ حلق کے بل چلایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
کئی آتی جاتے لوگوں نے ٹھٹھک کے اس ہواؤں کہ دوش پر اڑتی موٹر سائکل کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
کھلتے چہرے کے ساتھ وہ پھر اس کے کان میں منہ کر کے چلائی تھی ۔۔۔۔ “بہت فضول ہیں آپ “۔۔۔۔۔
“یقیناً ہوں ۔۔۔ محبت بھی کی ہے تو اپنی بیوی سے” ۔۔۔۔۔
بے ساختہ ہنستے ہوئے اس نے ان گلیوں کو دیکھا تھا ۔۔۔ وہی اندھیرے میں ڈوبی بدبودار کچرے سے بھری گلیاں ۔۔۔
مگر اس وقت وہ خود کو داود کی سنگت میں کہکشائوں میں اڑتا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔ یہ شخص کتنا خاص ہے ۔۔۔۔۔ ایسی رہگزر بھی اس کی سنگت میں کہکشائوں سی لگتی ہے ۔۔۔۔۔
چمکتی نظروں سے خولہ نے اس کی چوڑی پشت کو دیکھا تھا
“داود “!!
گھر قریب آتا جا رہا تھا وہ دھیرے سے بولی تھی ۔۔۔ سنسان راستے کی وجہ سے آرام سے سن سکا تھا ۔۔۔۔
“ہاں” ۔۔۔۔ ؟
“آئی لو یو ٹو “۔۔۔۔۔
مدھم سے اظہار میں جزبات بہت تھے ۔۔۔
رکتی موٹر سائکل سے اترتی وہ منتظر نظروں سے اسے دیکھنے لگی تھی ۔۔ جو خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
“آپ نے کچھ کہا نہیں” ۔۔۔
“اس لیئے کیونکہ !! یہ صرف کہنے کا وقت نہیں ہے” ۔۔۔۔۔
وہ بائک سے اتر کے اب دروازہ کھولنے لگا تھا جبکہ خولہ کو کچھ وقت لگا تھا اس کی بات سمجھنے میں ۔۔۔۔ اور پھر وہ اس کی پشت ہر مکے رسید کرنا شروع کر چکی تھی ۔۔۔
“کتنے بیشرم ہیں آپ “!!
جواب میں داود کے جناتی قہقے نے گھر کے اداس ہوتے در و دیوار کو بھی زندگی سی بھر دی تھی ۔۔۔۔
“ابھی تمہیں پتا ہی کتنا ہے” !!
وہ باز نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ وہ بھی ہنستی چلی گئی تھی ۔

 

Read More:  Jo Tu Mera Humdard Hai by Filza Arshad – Episode 4

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: