Kehnda Ay Zamana Menu Bigra Novel By Fatima Niazi – Episode 1

0
کہندا اے زمانہ مینو بگڑا از فاطمہ نیازی – قسط نمبر 1

–**–**–

شام کا پہر تھا ..چوڑی اور پررونق گلی میں لوگ اپنے معمول کے کاموں میں مصروف تھے..کہیں دکانیں تھیں ..گلی کے نکڑ پر چائے خانہ تھا جہاں بھیڑ کی انتہا تھی دفتروں اور روزگار سے فارغ ہںوکر مرد دوست یاروں کے ساتھ یہاں بیٹھ کر چائے سے لطف اندوز ہںوتے تھے کچھ میزیں باہر کی جانب رکھیں تھیں قریب ہی ایک بڑا سا چبوترہ تھا جس پر ایک بڑے سے تخت کے گرد کہیں کرسیاں رکھیں تھیں چبوترے کے برابر میں لوہے کا زینہ اوپر کو جارہا تھا جس کا دروازہ اسی وقت کھلا نکل کر باہر آنے والے نے زور دار انگڑائی لی اور طاہرانہ نگاہ گلی میِں ڈالی..
“تو ہے..تیرا یہ سنسار سارا..میں اور میرا پیار سارا..”وہ گنگناتا ہںوا شرٹ کے بٹن بند کرتا نیچے اترا اور تخت کی جانب بڑھتے ہںوئے ایک نگاہ اندر ہںوٹل پر ڈالی..
“اوئے چھوٹے جاکہ صدو کو بلا بولا سنی بھائی نے بلایا ہے. !”
“جاتا ہںوں…”تیرا چودہ سالہ لڑکا سارے کام چھوڑ کر اگلے لمحےہی تیزی سے ہںوٹل سے نکل کر دوسری جانب بڑھا..
ہںوٹل میں کہیں لوگوں نے خائف نگاہ اس پر ڈالی تھی..کچھ نے برا سامنہ بنایا اور دو ایک لوگ تو اٹھنے کی تیاری کرنے لگے لیکن وہ شان بے نیازی سے پیر پسارے چرس بھری سگریٹ کے گہرے کش لے رہا تھا..تب ہی ایک لڑکا وہاں سے گزرا…
“اوئے شامو..آج کل تیری بہن کا فون نہیں آرہا..؟؟کیا بات ہے بھئی ؟؟کہیں شادی وادی تونہیں کردی..!!”وہ لاپرواہی سے بولا تھا
لڑکے کی رنگت سفید پڑی خون کھول اٹھا وہ چہرے کو بے نیازی کا تاثر دیتا تیزی سے آگے بڑھ گیا..
وہ ہنس دیا..
“اور اکرام بھائی کیا حال ہے بچے ٹھیک ہیں؟؟”اب وہ کسی ادھیڑ عمر مرد کی جانب متوجہ تھا چہرے پر شرارتی مسکان ناچ رہی تھی ..لیکن شرارتیں بھی اس کی شیطانیت بھری ہںوتی تھیں تبھی تو اہل علاقہ اس کی دوستی سے بھی خائف ہی رہتے تھے دشمنی تو دور کی بات تھی..!!
وہ ارحان عمردین تھا..ارحان عرف سنی …موسیٰ نگر کا بدنام ترین نام ..خوف و بدمعاشی کی علامت …
سرخ و سفید رنگت تھی مضبوط کسرتی جسم اونچا لمبا قد کاٹھ چاہتا تو بے حد وجہیہ دکھ سکتا تھا لیکن مصنوعی کٹ لگی آئی برو رنگے ہںوئے بال ..عجیب طرز کی فلمی شیو بنائے کانوں میں بالیاں ڈالے ہاتھوں میں بریسلیٹ انگلیوں میں انگھوٹیاں شرٹ سےباہر جھانکتا سانپ کی شکل کا لاکٹ وہ پہلی نظر میں ہی دیکھنے والے کو اپنی شخصیت اور فطرت کا پتا دیتا تھا …
چند منٹ بعد سانولا سا لڑکا چہکتا ہںوا اس کیے قریب آکر بیٹھا..
“کیا بھائی رات سے سارے کدھر غائب ہیں ایک بھی پٹھا نظر نہیں آرہا..؟؟”اسنے باقی اوباش ساتھیوں کے متعلق سوال کیا
“چھوڑ سالوں کو کام پہ لگایا ہے تو بتا کیا خبر ہے وہ پان کا کیبن کھولے بیٹھا ہے اس کوبول ذیادہ چوں چا نہیں کرے پھر بھی کرے تو اپنا انٹرودے دیو سالے کو …!سنی بھائی کو ہلکے میں لے رہا ہے …”اسنے کہتے ہںوئے اس شخص کو غلیظ گالیوں سے نوازا …
“ہاں ہاں بھائی ٹینشن چھوڑو آپ کو ایک خبر دینی ہے یہ بھٹی کے گھر نیا مال آیا ہے ..بہت مست ہے…ہی ہی ہی..وہ کیا بولتے آپ ؟؟ہاں ایک دم آگ ہے آگ..”وہ شیطانیت سے مسکرایا
“ہیں کب کون ہے؟؟نام کیا ہے ؟؟”
“کیا جانوں بھائی کل ہی تو سامان اترا ہے..!”
“تو پتا کرنا سالے یہ کیا آدھی ادھوری خبریں دے کر تو خرچہ پانی مانگنے آجاتا ہے …”سنی منہ بنا کر اپنی جیکٹ میں ہاتھ ڈالا اور ہزار کے کڑکتے دو نوٹ نکال کر اسکی جانب بڑھائے اس لڑکے نے فورا تھام لیے اس کی آنکھیں چمکنے لگیں…!
********
شام کا آخری پہر تھا اندھیرا پھیلنے لگا تھا..
سنی اپنے اوباش ساتھیوں سمیت اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھا تھا…دفعتا اسنے چھوٹے کو پکارا بھیڑ کے باعث وہ سن نہ پایا …بس اتنا تھا کہ اس کا پارہ چڑھ گیا…
“اؤئے چھوٹے ادھر آ کب سے چائے کا بولا ہے اپنے باپوں کے آگے چائے پاپے ڈال رہا ہےتیرے چاچے بھی ادھر بیٹھے ہیں…!”وہ غصے سے ڈھارا..
چھوٹا ہربڑا کر رہ گیا
“معاف کردو سنی بھائی میں بھول گیا تھا…”
“ادھر آشاباش یاد دلاتا ہںوں آجا میرا لال..ادھر آ..”
ہںوٹل کے مالک نے بے بسی سے ادر گرد نگاہ ڈالی سارے لوگ تجسس کے مارے نگاہیں سنی کی جانب کیے اسے دیکھ رہے تھے
معاف کردو سنی بیٹا بچہ ہے بھول جاتا ہے.!”
“علاج کرتا ہںوں نا میں کریم چاچا..بھیجو اس کو زرا..!”
“جا بھائی اب بھگت لے..تجھے سو دفعہ کہا ہے ان کا آردڑ سب سے پہلے پہنچا آیا کر..!”ہںوٹل کا مالک بھی چھوٹے پر گرم ہںونے لگا چھوٹا ڈرتا ڈرتا باہر چبوترے پر ان کے تخت کے پاس آکھڑا ہںوا..
سنی نے زور دار تھپڑ اس کو رسید کیا …
“اگلی دفعہ ایک ہی آواز میں سن لیو اپنے باپ کی..”
چھوٹا لڑکھڑاتا ہںوا چبوترے سے گرا اور کسی کے قدموں میں آپڑا…
“ایکسکیوزمی کیا حیوانیت ہے یہ؟؟”اس کی غصیلی آواز پر کہیں لوگون نے مڑ کر اسے دیکھا تھا..
“بھائی یہی ہے وہ..”وہی سانولا لڑکا اس کے کان میں بولا
سنی کے ہںونٹ سیٹی کے انداز میں گول ہںوئے اور اسنے تفصیلی نگاہ اس پر ڈالی
وہ ڈوپٹہ سر اور چادر کندھوں پرڈالے کھڑی تھی ہات میں چند فائلیں …صاف رنگت تیکھے نقش والی وہ بےحد پرکشش معصوم چہرے اور نازک سے بدن کی لڑکی تھی …
اس کی غصیلی نگاہیں سنی پر جمی تھیں..
“جی میڈم جی کوئی مسئلہ کوئی پریشانی کوئی ٹینشن ہے کیا؟؟”اسنے مسکراتے ہںوئے کٹ لگی ابرو اچکائی..
“اتنے چھوٹے بچے کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے کے بعد آپ پوچھ رہے ہیں کوئی مسئلہ کوئی پریشانی کوئی ٹینشن ..حدہے بدمعاشی کی…”اسنے اپنے پرس سے سنی پلاسٹ نکال کر چھوٹے کی طرف بڑھائی جس کا گال زمین پر رگڑ کی وجہ سے زرا سا چھل گیا تھا…
سنی گہری نگاہ سے اس کا جائزہ لے رہا تھا وہ سنجیدہ اور کاٹ دار نگاہ اس پر ڈال کر آگے بڑھ گئ…
“ہائے صدو..مال تو واقعی بڑا مست ہے…!!”اسنے آنکھ دبائی سب کے سب جناتی قہقہے لگا کر ہنس دیے…!”
چھوٹا آنسو پیتا گال رگڑتا ہںوٹل کے اندرونی حصے میں بڑھ گیا…
********
“کہاں رہ گئی تھی حیرام کب سے فون کر رہی ہںوں..!”جوں ہی وہ گھر میں داخل ہںوئی آمنہ خفگی و فکرمندی کے ملے جلے تاثرات سے بولیں…
“سوری ممی فون آف ہںوگیا تھا بیٹری ڈیڈ تھی..”
“اتنی دیر کیسے لگ گئی؟؟” انہوں نے پھر سوال کیا..
“ٹریفک ہی اتنا تھا وکیل صاحب سے بھی مل کرآئی ہںوں…..”وہ تھکی سی سانس خارج کر کے بولی.
.”ہمم خیال رکھا کرو..مسز بھٹی بتارہی تھیں یہاں ایک سنی نام کا گنڈا ہے جو بدنام زمانہ گینگسٹر ہے..وہ لڑکیوں کے ساتھ ..!
“کم آن ممی..ڈونٹ وری یہ علاقہ متوسط طبقے کا ہے یہاں کے لوگ کم پڑھے لکھے ہیں ڈر کر چپ رہتے ہیں تو ایسے لوگوں کو مذید شہہ ملتی ہے..اور میں نا کم پڑھی لکھی ہںوں نا کسی سے ڈرتی ہںوں اپنے حقوق و فرائض سے بخوبی واقف ہںوں…چلیں آپ کھانا لگائیں میں فریش ہںوکر آتی ہںوں…”وہ لاپرواہی سے کہ کر اندر چلی گئی
آمنہ فکرمند سی کھڑی تھیں…!
*********
سنی اپنے فلیٹ میں موجود تھا سارے دوست یار اس کے ار گرد بیٹھے تھے..وسط میں میز تھی جس پر شراب کی بوتلیں رکھیں تھیں سگریٹ کےڈبے ادھ کھلے کچھ بند..کارپٹ پر بجھی ہںوئیں سگریٹیں پڑھی تھی تیز آواز میں ایک بے ہںودہ ساگانہ بج رہا تھا ..سنی گانے کی آواز پر مست سا سر دھن رہا تھا..اچانک ہی اسے ایک خیال آیا اسنے ریموٹ اٹھا کر گانہ بند کردیا اچانک فضا میں خاموشی چھا گئی لڑکوں نے اسے سوالیہ نگاہںوں سے دیکھا..
“تیکھی حسینہ کا کچھ پتا کیا حرامیوں ..!یا یوں ہی حرام خوری کر رہے ہںو ادھر بیٹھے..؟”
“کیا بھائی آپ بھی نا…اتنا بھی کیا حیرام نام ہے…!ماں آمنہ باپ محسن عباسی تھا مرچکا چچا نے گھر پر قبضہ کیا ہںوا ہے کیس عدالت میں چل رہا ہے اس لیے کچھ مہینوں کے لیے ادھر آئے ہیں اچھے کھاتے پیتے گھر کی ہے انجینئر ہے …!خود کماتی بھی ہے.!”
“واہ جی واہ…جلدہم بھی چکھ لیں گے کیسے ہںوتے ہیں انجینئر صاحبان..ویسے یہ صاحبہ کچھ تیز سی ہے خیر ہم کون سا کم ہیں دیکھ لیں گے …!”اسنے آنکھ دبائی ..سب ہنس دئیے..!
*********
وہ سارے اپنے مخصوص تخت پر بیٹھے تھے..حیرام مضبوط قدموں سے چلتی اپنے گھر کی جانب بڑھ رہی تھی..
“تو کتنی خوبصورت ہے فدا دیدار پہ تیرے…مکمل عشق ہںو میرا زرا سا یہاں بھی دیکھ لے..!”
“کیا بھائی گانے کی واٹ لگادی..!”
“ابے چپ بے تو…!ائے ظالم حسینہ یوں نہ آنکھیں پھیر کے گزرو کچھ ہم پر نظر کرو کچھ ہم بھی کریں گے…!”
آواز حیرام کے کانوں سے ٹکرائی اسنے ناگواری سے ان سب کی طرف دیکھا
“میڈم جی میں ادھر ہںوں..!”سنی نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا اور آنکھ دبائی
“یو بلڈی..حیرام کا خون کھول گیا وہ تیزی سے اس جانب بڑھی اور اگلے ہی لمحے رک گئی کسی خیال کے آتے ہی اسنے ایک خونخوار نگاہ سنی پر ڈالی
“کہیں یہ وہ ہی تو نہیں جس کا زکر ممی کر رہی تھیں..!”
“کیا ہںوا جانم ڈر گئی..؟”سنی شرارت سے بولا
حیرام نے کاٹ دار نگاہ اس پر ڈالی اور آگے بڑھ گئی
……
دوسری صبح اسکے دفترجانے کے وقت وہ گلی میں موجود تھا…اسے دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھا
“ارے واہ ہمت تو بہت ہے سیدھا پولیس کو فون کردیا کہ …ہاہاہا..
کیا کیا پولیس نے؟؟دیکھو تو سہی سلامت یہاں کھڑا ہںوں تمہارے سامنے…!”
“ہٹوآگے سے…!”حیرام غرائی
“لوہٹ گیا…,”وہ مسکراتا ہںوا اس کے سامنے سے ہٹا اور ساتھ ساتھ چلنے لگا..
“اور انجینئر صاحبہ کتنی ایجادات کیں؟؟”
وہ نظرانداز کرتی آگے بڑھتی گئ..
“سنو نا ڈارلنگ تمہارا موبائل نمبر تو دو نا…!”
“جوتی کا دوں؟؟”وہ غصے سے بولی
“لاؤ دے دو تمہارے لیے سینڈل ہی لے آؤں گا..سنا ہے تحفے دینے سے محبت بڑھتی ہے..!”
بس اسٹاپ آگیا تھا وہ وہی رک گئی
“میں ڈراپ کردوں جان؟؟”سنی نے اپنا لاکٹ انگلی پہ لپیٹتے ہںوئے سوال کیا…
“گھٹیا چیپ انسان..دفعہ ہںوجاؤ.!”وہ دانت پیس کر بولی
“اوکے ہںوجاتا ہںوں بائے ڈارلنگ..”ہںوائی بوسہ اس کی طرف اچھال کر وہ پلٹ گیا
حیرام نے سکھ کی سانس لی
“حد ہے یہ پولیس والے بھی ایک نمبر کے کرپٹ اور گھٹیا ہیں..!”وہ بڑبڑانے لگی…
********
حیرام اپنے کمرے کی بالکنی میں میز کے گرد بیٹھی کچھ کام کر رہی تھی سانے لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا قریب ہء چند فائلیں اور چائے کا بھرا کپ رکھا تھا وہ کام میں پوری طرح منہمک تھی جب اچانک ہی کوئی بالکنی میں کودا..اس اچانک آفتاد پر حیرام کی چیخ نکل گئی کودنے والا اندھا دھند کمرے میں بھاگا اور دروازہ اندر سے بند کردیا …حیرام نے حیرت سے بند دروازے کو دیکھا
“اے کون ہے اندر دراوازہ کھولو…”اسنے پوری قوت سے دروازہ بجایا اگے ہی لمحے دروازہ کھلا کودنے والے نفوس نے اسے جھٹکے سے اندر کھینچ لیا حیرام بھوکلا کر رہ گئی
“کیا بدتمیزی ہے،….؟؟”
“کوئی بدتمیزی نہیں ہے چند منٹ کی بات ہے میریے پیچھے پولیس ہے…!”
“اتنا ہی ڈر ہے تو ایسی حرکتیں کرتے کیوں ہںو…!”
“بس بس آواز نہیں …میں چلاجاؤں گا…”سنی نے اپنے ماتھے پر سےخون ایسے جھٹکا جیسے پسینہ ہںو ذمین پر خون کے چھنیٹے آگرے تھے اب بھی تیزی سے خون بہہ رہا تھا …حیرام کا دل نرم پڑا
“بیٹھو ادھر..!”اسنے درشتی سے کہتے اسے دھکیل کر صوفے پر بٹھایا اور خود فرسٹ ایڈ باکس لے آئی سنی حیرت سے اسے دیکنھے لگا
“کیوں کرتے ہںو ایسی حرکتیں کیا ملتا ہے.! مستقبل الگ خراب..ماں باپ الگ بدنام کردار پر داغ الگ ..چلو اپنا نہ سہی اپنے ماں باپ کا ہی خیال کرلو انھوں نے اس دن کے لیے تو نہیں پیدا کیا تھا کہ یوں پولیس سے چھپتے پھرتے لوگوں کے گھروں میں کودتے رہںو…!”وہ مسلسل غصے میں بول رہی تھی..سنی یک ٹک اسے دیکھے جارہا تھا بنا پلکیں جھپکے سانس روکے..!
حیرام نے پٹی باندھنے کی خاطر اسکے ماتھے پر پڑے بال پیچھے کیے سنی کا دل تیزی سے ڈھرک کر ساکت ہںوا اسنے بے اختیار اپنے سینے کو دیکھا نگاہیں پھر اس کے چہرے پر جاٹکیں..
“میں اتنا برا بھی نہیں ہںوں..!”اسنے عجیب سے لہجے میں کہا
حیرام نے تیز نگاہ اس پر ڈالی
شرٹ کے اوپری بٹن اب بھی کھلے تھے ..لاکٹ باہر کو جھانک رہا تھا ..آئی برو پر لگا مصنوعی کٹ عجیب طرز میں کی ہںوئی شیو…کانوں میں بالی.ہاتھوں میں بریسلیٹ …
“حالت دیکھی ہے اپنی …؟جیل سے چھٹے گنڈے لگتے ہںو …!”
وہ معصومیت بھری نگاہںوں سے اسے دیکھتا رہا
“شراب پیتے ہںو؟”
“جی پیتا ہںوں..!”
“ڈرگز گنڈاگردی بھتہ خوری…!”
بھتہ خوری نہیں کرتا..باقی سب کرتا ہںوں…!”وہ شرمندہ ہر گز نہیں نظر آرہا تھا
“بڑے فخر سے بتا رہے ہںو..”وہ منہ بنا کر بولی
“جھوٹ آپ سے کہہ نہیں سکتا..اور شرم تو مجھے آتی ہی نہیں..!”وہ مسکرایا
“کل رات کس کے ہاتھ پیر توڑ کر تھانے کا چکر لگایا تھا…!پورے علاقے میں خوشی سے مٹھائیاں بانٹی جارہی تھیں…!”
“ہاہاہا ضائع ہی گئیں…میں تو ایک گھنٹے بھی تھانے میں نہیں رہا تھا..خیر چھوڑیں نا آپ یہ سب اپنا ہی دوست تھا وہ…آپ بتائیں شادی کریں گی مجھ سے..؟؟”
حیرام حیرت ذدہ رہ گئی
ایک میٹرک پاس گنڈا بدمعاش ہائی کوالیفائیڈ گولڈ میڈلسٹ انجینئیر کو شادی کی پیش کش کر رہا تھا …پرسکون..سا اسکی جانب سوالیہ نگاہںوں سے دیکھ رہا تھا..!
“عمر کیا ہے تمہاری؟؟”
“چھبیس سال…!”
“اور میِں اٹھائیس سال کی ہںوں آج کے بعد نظر آؤں تو آپی کہہ کر گزر جانا..سمجھے؟؟”
ہنہ میِں بائیس کہتا تو آپ چوبیس کہہ دیتی …!اور ضروری تھوڑی ہے عزت صرف بہنوں کو دی جائے میں یوں ہی آپ کی بہت عزت کروں گا ٹرسٹ می …!اور میِں جانتا ہںوں مجھے ٹالنے کے لیے خود کو بڑا ظاہر کر رہی ہیں لیکن سچ میں اگر آپ چالیس کی بھی ہںوں اور میں بیس کا..تب بھی میں آپ سے ہی شادی کروں گا…!”
حیرام ہکا بکا رہ گئی اس کا ہلک تک کڑوا ہںوگیا
“خیر اب تم جاؤ…!”
“تھوڑی دیر رک جاؤں ؟؟”اسنے نہایت عاجزی سے سوال کیا
“جاؤ..!یہاں سے”حیرام نے خوفناک نگاہںوں سے اسے گھورا
“جارہا ہںوں ..جارہاہںوں …غصہ مت کریں…!”وہ فورا اٹھ گیا
“ویسے ایک بات کہوں غصے میں آپ بہت پیاری لگتی ہیں.!”وہ جاتے جاتے مسکرابولا
“اللّہ ہدایت دے تمہیں …!”وہ بڑبڑائی اسکے جاتے ہی وہ دوبارہ بالکنی میں آئی فائلیں چائے میں نہائی ہںوئی تھیں…اس کی چار گھنٹوں کی محنت بیکار ہںوگئی تھی..
“اللّہ پوچھے تمہیں بدمعاش بدقماش انسان…”وہ غصے سے بڑبڑاتی دوبارہ اندر آگئی
***********
کیا ضرورت تھی اس گنڈے بدمعاش کو گھر میں گھسانے کی…تمہارے رحم دلی کا بھوت کا کوئی وقت ہے یا نہیں…!”
“ممی وہ اس وقت صرف ایک انسان تھا جو تکلیف میں تھا وہ جتنا برا ہے یا جو بھی ہے..!یہ اس کا اور اللّہ کا معاملہ ہے ہم اسے سمجھا سکتے ہیں ملامت کرسکتے ہیں لیکن سزا نہیں دے سکتے..!”
“ٹھیک ہے کل کو وہ اپنے گنڈوں کی فوج لے کر آئے گا تو کرتی رہنا مرہم پٹیاں…”وہ غصے سے بڑبڑاتی وہاں سے چلی گئیں..
حیرم گہری سانس لے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: