Kehnda Ay Zamana Menu Bigra Novel By Fatima Niazi – Episode 2

0
کہندا اے زمانہ مینو بگڑا از فاطمہ نیازی – قسط نمبر 2

–**–**–

سنی اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھا تھا…کچھ خاموش اور کھویا سا اردگرد سے بلکل بے نیاز تھا..
“بھائی تیکھی حسینہ آرہی ہے…!!”لڑکوں میں سے ایک نے اس کے کندھے پر ٹہوکا دے کر کہا اسنے ہڑبڑا کر اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا..اگلے ہی لمحے اس کا خون کھول اٹھا..اسنے آؤ دیکھا نہ تاؤ قریب رکھا اسٹیل کا گلاس اس کے سر پر دے مارا وہ ہلکی سی چیخ مار کر اپنا سر پکڑ کر نیچے کی طرف جھکا..تمام لڑکوں کو سانپ سونگھ گیا
“آج کے بعد اگر تم میں سے کسی نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا یہ اس کا نام بھی اپنی زبان پر لائے…خبیثوں لاشیں بچھادوں گا سب کی یہاں…!!غرا کر کہتا وہ وہاں سے اٹھ گیا….
حیرام تیز قدموں سے چلتی جارہی تھی دفعتا اسے محسوس ہںوا کہ کوئی اس کے پیچھے آرہا ہے اسنے پلٹ کر دیکھا …تقریبا دس قدم کے فاصلے پر سنی اس کے پیچھے چل رہا تھا حیرام زرا سا چونکی اور سنجیدہ نگاہ ڈال کر دوبارہ چلنے لگی…
بس اسٹاپ آچکا تھا وہ خاموشی سے بس کے انتظار میں کھڑی تھی تب ہی ایک اڈھیر عمر مرد اس کے برابر میں آکھڑا ہںوا …گاہے بگاہے نگاہ حیرام پر ڈال کر کبھی آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھنے لگتا…زرا فاصلے پر کھڑے سنی سے یہ منظر برداشت نہ ہںوا تو وہ قدم قدم چلتا حیرام کے پاس آکھڑا ہںوا اب بیچ میں سنی تھا دائیں طرف حیرام اور بائیں طرف وہ اڈھیر عمر مرد…سنی نے ایک تیز نگاہ اس مرد پر ڈالی …
“انکل جی…!!سائیڈ پکڑو جاکے وہاں جاکر بس کا انتظار کرو…!!!”اسنے ہاتھ کے اشارے سے اسے دور جانے کا اشارہ کیا
حیرام نے پرطیش نگاہ اس پر ڈالی..
“کیا مسئلہ ہے سنی…؟؟”
“میرا نام ارحان ہے…ارحان عمر…!!”
وہ معصویت سے مسکرایا
“آپ آفس جارہی ہیں؟؟”
“جی بلکل لیکن تم کیوں میری چوکیداری کر رہے ہںو؟؟”
“صبح کے وقت راستے سنسان ہںوتے ہیں سوچا آپ کو بس اسٹاپ تک چھوڑ آؤں..!!!
“کوئی ضرورت نہیں ہے میرے بارے میں اتنا سوچنے کی…!!”
“میِں تو سوچوں گا کیا کریں گی آپ؟؟”وہ مسکرایا
“میں…میں پولیس کو انفارم کردوں گی…!!”وہ غصیلے لہجے میں بولی
“میں کچھ کر تو نہیں رہا..آپ کو تنگ کیا؟؟؟نہیں نا..لیکن پھربھی آپ اپنا شوق پورا کرلیں..پولیس بھی اپنی ہے اور آپ بھی…!!”آخری جملہ کہتے ہںوئے وہ مسکرایا…
“وہاٹ ربش…!!تبھی اس شام پولیس سے بچ کر بھاگ رہے تھے…!!”
“ہاں وہ تو میں بھاگ رہا تھا..کیوں کہ میرے پاس کسی کی امانت تھی اور وہ میں پولیس کے ہاتھ لگنے نہیں دے سکتا تھا…”
“وہاٹ ایور…!!”
“آپ نے اتنی پیار سے پٹی کی تھی میری میرا تو دل ہی نہیں چاہ رہا تھا اسے کھولوں…!!”وہ نرمی سے مسکرایا
“انسانیت کا خیال کرتے ہںوئے اس دن بینڈج کردی تھی اس بات کو اپنے سر پر سوار کرنے کی ضرورت نہیں…!!”
“میں نے کیا ہی نہیں ہے سر پر سوار…آپ اپنے آپ ہی میرے حواسوں پر سوار رہنے لگیں ..!!”
“بکواس مت کرو…اور جاؤ یہاں سے…!وہ منہ بنا کر بولی
“جارہاہںوں شام کو لینے آؤں گا…
سامنے سے بس آتے دیکھ اسنے کہا
وہاٹ ربش..لینے آؤں گا…”وہ بڑبڑاتی ہںوئی بس میں سوار ہںوگئی…
********
سنی اپنے دوسرے فلیٹ میں موجود تھا جو موسی نگر کی کھولی سے نسبتا کافی بڑا تھا ..
وہ سامنے درجنوں ہتھیار پھیلائے بیٹھا تھا…ہاتھ میں سیاہ ریولور تھا جسے وہ ایک کپڑے سے صاف کر رہا تھا
قریب ہی سارے لڑکے بیٹھے تھے …صدو صوفےپرنیم دراز تھا..
“بھائی معاف کردو…!!”ایک لڑکا لجاجت سے بولا
“میرے کو معلوم نئ تھا نا بھائی کہ وہ اپنی بھابھی ہے..
“بھابھی ہیں…!!!”سنی نے اسے گھورا
“جی .جی بھائی بھابھی ہیں…!”وہ فورا بوکھلا کر بولا
“معاف کر رہا ہںوں کیوں کہ تجھے پتا نہیں تھا…!!”
“اور تو بتا کہاں ہے تیری بھابھی کا دفتر…؟؟”اسنےایک لڑکے کی طرف دیکھ کر کہا
لڑکے نے ایک پرچی اسکی طرف بڑھادی
“شاباش…اب پتا کرو کون ہے ان کا چاچا صاحب…میری ذندگی کو مشکل میں ڈالاہںوا ہے..ایسا سبق دوں گا کہ اپنا حصہ بھی چھوڑ کر بھاگے گا سالا…!!”وہ چبا چبا کر بولا…
***********
وہ سرجھکائے کھڑا تھا …قریب ہی علی ناک پر ہاتھ رکھے کھڑا حیرت و غصے کے ملے جلے تاثرات لیے اسے گھور رہا تھا
,”تم نے علی پر ہاتھ کیوں اٹھایا؟؟؟تمہاری ہمت بھی کیسے ہںوئی؟؟؟”وہ درشتی سے بولی
“اس نے آپ کا ہاتھ کیوں پکڑا ہںوا تھا …؟؟”وہ دوبارہ خونی نگاہںوں سے علی کو گھورنے لگا
“بکواس بند کرو ارحان…
سنی نے دوبارہ نظریں جھکا لیں
” میں تمہارا منہ توڑ دوں گی ہںوتے کون ہںو تم ایسے ایکٹ کرنے والے…ایک ہفتہ ہںوا نہیں تمہیں مجھ سے ملے…یہ میرا بچپن کا دوست ہے اسکول فرینڈ کے بعد کالج یونی اور اب آفس ہم ساتھ ہیں…ہی از مائی بیسٹ فرینڈ..تم کون ہںوتےہںو یہ کہنے اور اس پر ہاتھ اٹھانے والے…!”
حیرام کا بس نہیں چل رہا تھا اس کو گولی دے مارے
“دیکھو ارحان بہت ہںوا اب بس…اوکے..اور یہ بتاؤ تمہیں کس نے کہا تھا یہاں آنے کے لیے…!؟؟؟”
“میں آپ کو لینے آیا ہںوں..!”
“افف…مجھے نہیں جاناہے تمہارے ساتھ…!
“آپ کو میرےساتھ ہی جانا ہںوگا…میں چار گھنٹے سے یہاں آپ کا انتظار کر رہا ہںوں…!!”
“اوہ خدایا..!!”حیرام نے اپنا سر پکڑ لیا علی بھی سن نگاہںوں سے اس عجیب شخص کو گھور رہا تھا کچھ بولنے کی ہمت ناک پر پڑنے والے گھونسے نے چھین لی تھی…وہ فطرتا ہی دبو تھا…
“میں ابھی گھر نہیں جاؤں گی پہلے وکیل کے پاس جانا ہے..سو تم جاؤ ..!”
“آپ وکیل کے پاس مت جائیں میں دیکھ لوں گا..
کیا..کیا مطلب…اوہ ایکسیوزمی یہ ہمارا فیملی میٹر ہے اس میں دخل اندازی کی کوشش بھی مت کرنا خون پی جاؤں گی میں تمہارا…!وہ دانت پیس کر بولی
“اتنا غصہ مت کریں حیرام…میں پیار سے بات کر رہا ہںوں نا….!”وہ نرمی سے بولا
حیرام نے گہری سانس لے کر تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہا
دیکھو ارحان وہ میرے چاچو ہیں..یہ ہمارے گھر کا مسئلہ ہے…!”
“اوکے آپ کے گھر کا مسئلہ ہے ..میں کچھ نہیں کروں گا..لیکن آپ اس کو سمجھا دیں آج کے بعد آپ کے قریب بھی نظر نہ آئے
“شٹ اپ وہ دوست ہے میرا..!
“تو ختم کریں دوستی..!!
اور تو…ذندگی پیاری ہے نا..؟؟آئیندہ ساتھ نظر نہ آناورنہ …”وہ غراتے ہںوئے کہتا دوبارہ اس پر جھپٹنے لگا تھا حیرام نے فورا اسکی کہونی دبوچ کر اسے پیچھے دھکیلنا چاہا
“اسٹاپ اٹ ارحان…!”
ارحان نے اپنی کہونی پر اسکی گرفت دیکھی تنے اعصاب ڈھیلے چھوڑ دیے نرمی سے اپنی کہونی چھڑواتا وہ پیچھے ہٹ گیا
“نہیں کر رہا کچھ…چلیں آپ میرے ساتھ…!
“نہیں کوئی ضرورت نہیں میں تمہارے ساتھ تمہاری اس خطرناک قسم کی بائیک پر نہیں بیٹھونگی …!”
“اسلیے میں جیپ لے کر آیاہںوں..چلیے آجائیے..!!اسکےہاتھ سے فائل اور پرس لے کر وہ پارکنگ کی جانب بڑھ گیا حیرام چند لمحے ہکا بکا کھڑی رہی پر الوداعی اور شرمندہ نگاہ علی پر ڈال کر اس کے پیچھے چل دی…!!”
*******
“کیا ملتا ہے یہ سب کرکے…!!!”حیرام نے غصیلی نگاہںوں سے اسے دیکھتے ہںوئے پوچھا..
وہ پرسکون سا جیپ ڈرائیوکر رہا تھا
“کچھ بھی نہیں…!”وہ لاپرواہی سے بولا
” گناہںوں کا ڈھیر بنارہے ہںو ذندگی کو…کتنے لوگوں کی بددعائیں تمہارے ساتھ ہیں…ساری ذندگی بد دعاؤں کے سہارے جینے کا ارادہ ہے..؟
“چھوڑ دوں گا سب کچھ…اگرآپ میری ذندگی میں آجائیں..
“ایکسکیوزمی یہ سب چھوڑ کر تم مجھ پر احسان نہیں کروگے…خود پر کروگے…”
“نہیں کرنا مجھے خود پر احسان …ایسے ہی ٹھیک ہںوں..!!”
“تمہاری مرضی تمہاری ذندگی ہے..لیکن یہ پہلی اور آخری دفعہ تھا تم آج کے بعد میرے کسی معاملے میں انٹر فیئر نہیں کروگے..اور نہ ہی مجھ میں..انٹرفیئر شو کروگے..آئی ایم ناٹ یور ٹائپ آف گرل..!!!”
“میں نہیں مانتا یہ سب ٹائپ وائپ میں آپ سے دور نہیں جاؤں گا…ہر اس جگہ پہنچ جاؤں گا جہاں آپ ہںونگی…میں نے کہیں لوگوں کی عزتوں کے ساتھ مذاق کیا ہے. ..اور اب مجھے دڑ ہے کوئی میری عزت کے ساتھ کچھ نہ کرے..میِں آپ کو اکیلا چھوڑنے سے ڈرتاہںوں…میری عزت ہیں آپ…!!!”
حیرام سن نگاہںوں سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی..!!!
**********
وہ چار دفعہ جیل شدہ …علاقے کا بدنام ترین گنڈہ بدمعاش اور تم ….اففف کہا تھا نا میں نے ہمدردیوں کے بھوت کو اتارو اپنے سر سے..!!”
“ممی وہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا…میرے سامنے نگاہیں نہیں اٹھاتا وہ…”
“کیوں چاچی لگتی ہںو اس کی جو نقصان نہیں پہنچائے گا کتنی لڑکیوں کی ذندگی برباد کردی ہے اسنے….!!!”
“ممی ٹرسٹ می وہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا…اسنے آمنہ بیگم کو تسلی دی وہ بڑبڑاتی ہںوئی وہاں سے چل دیں…!!!
********
حیرام پلنگ پر بیٹھی کسی کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی ایک پیر سیدھا کر کے کشن پر رکھا ہںوا تھا…پیر پر پٹی بندھی تھی…
وہ کتاب کے مطالعی میں پوری طرح منہمک تھی جب اس کا فون بجنے لگا..انجان نمبر تھا..اسنے فون کاٹ کے سائلنٹ پر کردیا اور سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا..چند منٹ ہی گزرے تھے جب دھپ کی آواز آئی اسے محسوس ہںوا کہ کوئی بالکنی میں کودا ہے …اس ک دل دھک سے رہ گیا..اسنے فورا گلدان اٹھالیا…
کمرے کا دروازہ چرچر کرتی آواز سے کھلا اور سنی اندر داخل ہںوا…
تم….!!
حیرام کا پارہ اسے دیکھتے ہی آسمان کو چھونے لگا…
“کب سے کال کر رہا ہںوں..آپ کے پیر پر چوٹ لگی ہے…میں گیا ہںوا تھا کام سے..ابھی آیاہںوں تھوڑی دیر پہلے…مجھے پتا چلا کہ آپ کے پاؤں پر بائیک چڑھادی اس اندھے نے…ابھی جلا کر آیا ہںوں اس کی کھٹارا..آپ کو درد ورد تو نہیں ہںورہا دکھائیں…!!
وہ بوکھلایا ہںوا بے حد فکرمندی سے کہہ رہا تھا..
“رات کے ڈھائی بجے..بالکنی سے کود کر..تم میرے پیر کا ذخم دیکھنے آئے ہںو صبح تک کا انتظار نہیں کرسکتے تھے..اور بائیک کیوں جلائی اس کی…نفسیاتی ہںو کیا…کب سدھروگے…تم…..!!!!”وہ غصے سے کہتی بمشکل اپنی آواز کو بلند ہںونے سے روک رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا اس پاگل شخص کامنہ نوچ لے…
سنی خاموشی سے اسے دیکھتا رہا
“میں نے آپ کو بتادیا کہ آپ غصے میں اچھی لگتی ہیں اس کا یہ مطلب تو نہیں نا کہ آپ ہر وقت مجھ پر غصہ ہی کریں…!”وہ نہایت ہی معصومیت سے بولا..
شدید غصے کے باعث بھی وہ اپنا قہقہہ نہیں روک پائی…وہ بھی مسکرایا
حیرام اگلے لمحے ہی فورا سنجیدہ ہںوگئی
“آپ میری کالز کیوں نہیں اٹھارہی تھیں..!!”
“میں اجنبیوں کی کالز نہیں اٹھاتی…!”وہ سردمہری سے بولی
سنی کا چہرہ تاریک ہںوگیا اسنے اگلے لمحے ہی خود کو کمپوز کیا اور مسکرادیا
“آپ صبح آفس مت جائیے گا..اپنا خیال رکھیے گا..تکیلف ذیادہ ہںوتو مجھے بتائیے گا میں ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں گا…”آہستگی اور نرمی سے کہتا وہ پلٹ گیا…
حیرام کے زہن میں اسکا تاریک چہرہ تازہ ہںوا و اس کے اجنبی کہنے پر ہںوا تھا حیرام نے گہری سانس لی
“وہ اسی قابل ہے…!!”سوچتی ہںوئی وہ سونے کے لیے لیٹ گئی…
*********
شام کا پہر تھا سنی اپنے ساتھیوں سمیت اپنے مخصوص تخت پر بیٹھا شطرنج کھیل رہا تھا..تب ہی اسے حیرام گلی میں داخل ہںوتی دکھائی دی اسنے نرم نگاہںوں سے اسے دیکھا..
“صدام بھابھی آرہی ہیں جا پیچھے دیکھنا کوئی تنگ یا چھیڑخانی نہ کرے…!”
“جی بھائی…!”صدام تیزی سے اٹھ گیا…
باقی لڑکوں کے مقابلے میِں وہ صدام کو زیادہ اہمیت دیتا تھا اس پر بھروسہ بھی بہت تھا…
حیرام ان کے قریب پہنچی جب ایک نوجوان لڑکا ان کے قریب سے گزرتا حیرام کو پرشوخ نگاہںوں سے دیکھتا ہںونٹوں کو سیٹی کے انداز میں گول کرتا خباثت سے ہلکا سا مسکراتا آگے نکل گیا حیرام بے خبر سی آگے بڑھ گئی
سنی فورا اپنی جگہ سے اٹھا اور اس لڑکے کو گردن سے دبوچ کر زمین پر پٹخ دیا …بے دریغ گھونسوں اور لاتوں کی بارش شروع کردی…اس پر جنون سا سوار تھا…
حیرام جو زرا دور جاچکی تھی لڑکے کی چیخوں پر پلٹی ..
“اف میرے خدایا…!”
تیزی سے اس جانب بڑھی..
کہیں جان سے ہی نہ ماردے اس کو…
“اے چھوڑو اسے..”حیرام نے اس پرے دھکیلنا چاہا
“میں نہیں چھوڑوں گا…میں نہیں چھوڑوں گا اس کی ہمت بھی کیسے ہںوئی اس کی اتنی جرت ….
وہ دوبارہ اس پر پل پڑا
,”ارحان…!!”حیرام نے اسے پوری قوت سے پیچھے دھکیلا اور ذناٹے دار تھپڑ اس کے چہرے پر دے مارا
“کیا حیوانیت ہے …!!”
“پستول کدھر ہے صدام…؟؟”وہ غرایا…
“اسٹاپ اٹ ارحان…!!!”ایک اور تھپڑ پڑا تھا
سب پھٹی نگاہںوں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے..جسنے ساری زندگی کی کسی کی تیڑھی نگاہ برداشت نہیں کی تھی وہ سربازار لڑکی سے تھپڑ کھا رہا تھا…
“جائیں آپ .. !!!صدام…!!”اسنے صدام کو اشارہ کیا
“چلیں میں آپ کو گھر…”صدام نے اسکی طرف دیکھ کر کہا
“شٹ اپ…!”وہ اسکی بات کاٹ کر درشتی سے بولی اور زہرآلود نگاہ سنی پر ڈالتی آگے بڑھ گئی.
“اے مانی…!!اٹھوالو اس خبیث کو..عبرت کا نشان بنادو…ہر ایک کو سبق مل جانا چاہیے..کہ ارحان عمر کی عزت پر نگاہ ڈالنے کا کیا انجام ہںوتا ہے…پھر کوئی اسے دیکھنے کی ہمت ہی نہیں کرے گا جب ان کو پتا چلے گا کہ وہ ایک وحشی کا عشق ہے..!!!”وہ سفاکیت سے بولا
“سنی بھائی معاف کردو…بھائی جانے دو سنی بھائی…”لڑکا بری طرح گڑگڑارہا تھا…
“واہ لڑکے واہ..اور تم لوگ جو ہماری عزت کے ساتھ کھیلے تھے…وہ کیا تھا…؟؟اس کا حساب…!!”ایک بزرگ طنز سے بولے
“ہاہاہا اس کا حساب تو چاچا تم لوگوں نے لے لیا تھا نا…یہ اس ناکردہ جرم کی سزا کا ہی تو اثر ہے …جو سنی کی شکل میں ایک عزاب کی طرح تم سب پر نازل ہے.. اور رہی بات عزتوں کی تو ہڈی پھیکوگے تو کتا آئے گا ہی.. یہ بھی خوب ر ہی ہماری ستائشی نظروں کے جواب میں مسکراکر داد وصول کرنے کے بعد کہتی ہیں یہ مرد خراب ہے…واہ ..واہ..”وہ تلخی سے کہتا کھولی کی سیڑھیوں کی طرف بڑھا
جی بابا جی…آج تک ہم میں سے کسی نے بھی علاقے کی کسی شریف زادی کو نہیں چھیڑا..قسم ل لیں…!!!
“لڑکی شریف ہے یہ نہیں یہ اس کا اور اس کے خدا کا معاملہ ہے …چاہے لڑکی اچھی ہںو یا بری تم لوگوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کسی کو چھیڑنے کا …”وہ بزرگ پھر بولے..
“چھوڑ صدام…!ان شریفوں کے منہ مت لگ ان کا بس چلے تو اپنے سارے برے کاموں کا زمہ بھی ہم جیسوں پہ لگادیں…اور تم سب بھی سن لو…آج کے بعد علاقے کی کسی بھی لڑکی چاہے وہ بنا ڈوپٹے کے نکلتی ہںو یا سات پردوں میں کسی آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا یا کوئی جملہ پھینکا…سالوں آنکھیں نکال کر ذبان کاٹ دوں گا سب کی..اور بٹھادوں گا…چوک پہ بھکاری بنا کر….سن لیا ….!!!
“جی بھائی…!”سب نے یک زبان ہںوکر بولا
سنی اپنی کھولی میں جاگھسا..
بھیڑ چھٹنے لگی سب مختلف باتیں کرتے وہاں سے جانے لگے…
*******
حیرام اپنے کمرے میں موجود تھی..سامنے لیپ ٹاپ کھلا پڑا تھا..جب بالکنی کی دروازے پر دستک ہںوئی…اس دن کے بعد سے اسنے دروازہ بند رکھنا شروع کر دیا تھا…
“حیرام…!!”سنی کی آواز آئی
“جاؤ یہاں سے…!!”حیرام نے زرا بلند آواز سے کہا
“میں جانے کے لیے نہیں آیا…گیٹ کھولیں…!”
“میں نہیں کھول رہی جاؤ یہاں سے..!”
“آپ گیٹ کھول رہی ہیں یا نہیں…؟؟”
“نہیں دفعہ ہںوجاؤ ایک منٹ کے اندر…!!!”وہ غصے سے بولی
دوسری طرف خاموشی چھاگئی دستک بھی بند ہںوچکی تھی حیرام نے سکون کی سانس لی اور دوبارہ لیپ ٹاپ پر جھک گئی
چند منٹ ہی گزرے تھے جب ٹک کی آواز سے لاک ٹوٹا گیٹ کھلا اور سنی اندر داخل ہںوا
حیرام ہکا بکا سی اسے دیکھ رہی تھی
“یہ…یہ لاک توڑ دیا تم نے…!!!”وہ صدمے میں گری بولی
“سوری…!!”یہ لفظ کہتے ہںوئے اس کے چہرے پر زرا شرمندگی نہ تھی
حیرام غصیلی نظروں سے اسے دیکھنے لگی
“سوری کہا نا ….اب ایسے تو نہ دیکھیں..ڈر لگتا ہے…!!”
حیرام نے سر جھٹکا اور اپنے بالوں کو لپیٹنے لگی
“یہ …آپ نے اپنے بال کیوں کاٹے ؟؟؟”وہ صدمے سے اسکے بالوں کو دیکھتا ہںوا بولا
“کیا مطلب..؟؟”
“کیا مطلب کا کیا مطلب ہںوتا ہے..مجھے آپ کے لمبے بال پسند ہیں آج کے بعد آپ اپنے بال نہیں کاٹیں گی…!!”
“یہ تم مجھ پرحکم چلارہے ہںو…؟؟؟”وہ تپ گئی
“جی چلارہا ہںوں …کیا کریں گی پولیس کو انفارم کریں گی؟؟”وہ اسے گھور کر بولا..اور اسکی طرف بڑھا حیرام نے غصے سے سر جھٹکا اور لیپ ٹاپ پر مصروف ہںوگئی سنی پلنگ کی پائینتی کے پاس کھڑا تھا
“خیر بولو کیوں آئے ہںو؟؟”
“دو دن سے آپ کو نہیں دیکھا..مس کر رہا تھا…!!”
حیرام نے کوئی جواب نہ دیا..وہ مصروف سی نگاہیں لیپ ٹاپ پر جمائے ہںوئی تھی
“حیرام…!!”
“بولو…!!”
“میں آپ کی بہت عزت کرتا ہںوں..”
حیرام نے نگاہ لیپ ٹاپ سے ہٹا کر اسے دیکھا
“اتنی کہ مجھے اپنی محبت کا اظہار کرنے میں ہچکچاہٹ ہںوتی ہے…کہ کہیں میرے منہ سے کچھ ایسا نہ نکل جائے جس سے آپکی عزت پر حرف آنے کا خطرہ ہںو…!!!
“اظہار کی ضرورت ہے بھی نہی…!!!تمہاری ایک ایک آہٹ تمہاری جنونیت کا پتا دیتی ہے..اور یہ جنونیت میرے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے…!!”وہ سنجیدگی سے بولی..
“میِں یہاں بیٹھ جاؤں…؟؟”سنی نے سوالیہ نگاہ اس پر ڈالی
“بیٹھ جاؤ میرے منع کرنے سے کونسا تم منع ہںوجاؤگے…!!!”
سنی پلنگ کے ایک سرے پر بیٹھ گیا
حیرام لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہںوئی
“بولو بھی کیا بولنا ہے…!!؟”کافی دیر تک وہ کچھ نہ بولاتو حیرام نے سوالیہ نگاہںوں سے اس کی طرف دیکھا
“کچھ نہیں بولناآپ اپنا کام کریں …!!!”
“تو یہاں کیوں بیٹھے ہںو…؟؟”
“کچھ نہیں کروں گا نا کہا نا…بس دیکھ رہا ہںوں آپ کو تھوڑی دیر بعد چلاجاؤں گا…تنگ تو نہیں کررہا…!!!”
حیرام نے گہری سانس لے کر اسکی طرف دیکھا
“ارحان..!!تم خود کو بے وجہ مشکل میں ڈال رہے ہںو…!!میری ذندگی میں اور دل میں تمہاری کوئی گنجائش نہیں …ہم بلکل الگ دنیا کے باسی ہیں..”
“ہم نہیں ہیں الگ دنیا کے باسی ہم ایک دنیا کے ہیں اس دنیانے اس دنیا کے لوگوں نے مجھے الگ بنایا ہمارا مزاج الگ ہے ہمارا ماحول الگ ہے…آپ بہت اچھی ہیں میں بہت برا ہںوں..میں اتنا برا نہیں تھا..مجھے ان لوگوں نے ایسا بنایامیں تیرہ سال کا تھا جب گاؤں کے سردار نے گھر سمیت گھر والوں کو جلا دیاجب میں یہاں آیا تو بہت معصوم تھا گاؤں کا باسی شہر کے ماحول سے غیر آشنا ڈرا سہما سا ارحان جو ہر وقت ماں کے دامن سے چمٹارہتا تھا وہ اس وقت تنہا تھا یہاں کے ہر گھر کی چاکری کی میں نے …ان سب کا غلام تھا محلے کے کسی گھر کا کھانابچ جاتا تو مجھے دے دیا جاتا کبھی کسی چبوترے پر سوجاتا توکبھی محلے کے اوباش مردوں کی حوس کا نشانہ بنتا رہتا ساری رات…سب کا پنچنگ بیگ تھا جس کا دل جو چاہتا میرے ساتھ وہ سلوک کیا جاتا میں سب برداشت کرتا رہا ..میں واقعی بہت معصوم تھا حیرام…!!!”
حیرام پھٹی نگاہںوں سے اسے دیکھ رہی تھی
سنی سرجھکائے بیٹھا شایدآنسو پینے کی کوشش کر رہا تھا…!!!
“پھر!!؟؟”حیرام سے مذید صبر نہ ہںوا تو اس کی خاموشی سے اکتا کر وہ بولی
“ایک دن بھٹی صاحب…کی بیٹی منشا نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا کہہ رہی تھی پنکھا کام نہیں کررہا…میں اوپر آیا…میں بیس سال کا تھا اسنے مجھے کہا کہ مجھ سے محبت کرتی ہے…میں نے اسے دھتکاردیا ..کیوں کہ مجھے میری اوقات کا پتا تھا…میں چاہتا تو خوشی سے اس کے ساتھ رشتہ بنا سکتا تھا وقت گزاری کر سکتا تھا لیکن نہیں آٹھ سال سے اس علاقے کا نمک کھا رہا تھا ..چاہے کالا سڑا ہںوا ہی سہی…سب لڑکیوں کی عزت میرے لیے میری عزت تھی..میرے انکار پر اسنے مجھ پر زیادتی اور چوری کا الزام لگا دیا…اور چیخنا چلانا شروع کر دیا…پورے محلے کے لوگوں نے مل کر مجھے بہت مارا…بہت برا مارا جانے کتنی ہڈیاں ٹوٹ گئیں تھیں..سڑک پر پڑا تڑپتا رہا تھا آخر چار گھنٹے بعد پولیس کے حوالے کر دیا گیا..ٹوٹی ہںوئی ہڈیوں کا سرمہ پولیس نے الگ بنایا…فیصلہ سنایا گیا دو سال کے لیے جیل ہںوگئی…جیل میں مجھے بہت سے لوگ ملے…اور احساس ہںوا…کہ بدنام اور برے لوگ ذیادہ سکھ سے رہتے ہیں اس دنیا میں اور تب میں نے اپنے اندر بھردی شیطانیت..میں شیطان بن گیا..سزا ختم ہںونے تک میں سنی بن چکاتھا اب پولیس کی بھی ہمت نہیں کہ مجھ پر آنکھ ڈال سکے یہ جو عزت اور نیل نامی کا ٹیگ لگائے پھرتے ہیں اعوانوں میں…ان کی بڑی بڑی چوریوں کا حصے دار ہںوں اب..مجھے بہت کچھ ملا ہے…بدنامی ..بد دعائیں..بدکرداری بدزبانی ..اور یوں مجھے جانے بغیر سب مجھے جانتے ہیں..مجھ سے خوف کھاتے ہیں میرے سامنے چوں تک نہیں کرتے اور مجھ سے دل کھول کر نفرت کرتے ہیں پر مجھے رتی برابر پرواہ نہیں..”وہ خاموش ہںوا..
“چھوڑ دویہ سب عزت کی ذندگی جینا شروع کرو…”
“کروں گا جب آپ میری ہںوجائیں گی…!!”
ضروری ہے میرے لیے چھوڑو…اپنے لیے نہیں چھوڑ سکتے..؟؟”وہ غصے سے بولی
“نہیں آپ کے لیے چھوڑسکتا ہںوں صرف اپنے لیے نہیں…!”
“اوکے تو جاؤجو کرناہے کرو…میری بھلا سے….!!!وہ غصے سے بولی
“غصے میں آپ کی ناک سرخ ہںوجاتی ہے..اور جب آپ یہ چھوٹی سی بلی جیسی ناک چڑھالیتی ہیں نا تو بہت پیاری لگتی ہیں…بلی…!!!”
“یہ بلی تمہارا منہ نوچ کر تمہارا چہرہ بگاڑ دے یہاں سے اٹھ کر چلے جاؤ..!!”
“بیٹھنے دیں نا…!!”
“جاؤ…!!”
“پلیز…!!”
“جاؤارحان…!”وہ سردمہری سے بولی
“اوکے جارہا ہںوں….ناراض تو نہیں ہیں…؟؟”
“نہیں جاؤ..!!”وہ نرمی سے بولی
“آپ بہت اچھی ہیں…!!”وہ مسکرایا معصومیت بھری مسکان تھی
“حیرام…!”
“”ہاں ہاں میں نے سن لیا میں بہت اچھی ہںوں..اب جاؤ…!”
“اپناخیال رکھیے گا…!!”
“اوکے..!!”
“بائے..بلی…!!”وہ ہلکا سا مسکرایا
وہ بھی ہلکا سا مسکرائی
اسکے اس طرح مسکرانے پر سنی کی مسکان مذید گہری ہںوئی چند لمحے نرمی سے اسے دیکھتا رہا پھرباہر کی جانب بڑھ گیا ……
*********
حیرام اپنے دفتر سے نکلی تو سامنے ہی سنی جیپ سے ٹیک لگائے کھڑا نظر آیا حیرام کے ساتھ علی بھی تھا …
“یہ بدمعاش پھر چلا آیا تم اس کے خلاف کوئی سیریس ایکشن کیوں نہیں لیتی ؟؟”علی نے غصیلی نگاہ سے سنی کو دیکھتے ہںوئے سرگوشی کی
“یہ چلغوزے کا چھلکا پھر میری ریمو کے پاس چلا آیا …کرتاہںوں اس کا بھی میں بندوبست…!!”سنی نے دانت کچکچاتے ہںوئے دل ہی دل میں کہا…اور خطرناک نگاہںوں سے علی کو گھورنے لگا
“جسٹ لیو ہم…اوکے بائے سی یو…!”حیرام لاپرواہی سے کہتی مخالف سمت میں چل پڑی..
“حیرام ….!!!”سنی اسکے پیچھے چلتا اسے پکار رہا تھا
“کیا ہے..؟”وہ پلٹ کر غصے سے بولی
“ایسے بات مت کریں…!”وہ منہ بسور کر بچوں کی طرح بولا
حیرام نے بمشکل امڈ کر آتی ہنسی کو روکا
“میں یہاں چار گھنٹوں سے آپ کا انتظار کر رہا ہںوں اور آپ ہیں کہ یوں ہی چلی جارہی ہیں..!”
“کیوں آئے ہںو کس نے کہا ہے انتظار کے لیے؟؟”
“موسم ٹھیک نہیں لگ رہا مجھے ڈر تھا کہ آپ بارش میں کہیں پھنس نہ جائیں…!”
حیرام نے گہری سانس لے کر اسے دیکھا
تب ہی ہلکی بارش کی بوندیں گرنے لگیں
“دیکھا میں نے کہا تھا نا …!”سنی نے کہتے ہںوئے اپنی جیکٹ اتاری اور اسکے اوپر تان لی حیرام اسے دیکھ کر رہ گئی
“چلیں حیرام…!!”وہ بولا
حیرام نا چاہتے ہںوئے بھی اسکی جیپ کی طرف بڑھ گئی وہ ساتھ ساتھ جیکٹ پکڑے چل رہا تھا
“ہٹالو جیکٹ اتنی بھی تیز بارش نہیں ہے..!”حیرام نے کہا
سنی جیکٹ تانا رہا یہاں تک کے وہ گاڑی میں جابیٹھی…
“یہ لڑکا اب بھی آپ سے بات کرتا ہے؟”
“تو؟؟اب بھی سے کیا مطلب میں نے علی سے بات کرنا چھوڑا ہی کب تھا ہم کالج کے زمانےسے ساتھ ہیں دوست ہے وہ میرا کولیگ ہے…!!!”
“مجھے نہیں پسند..!”وہ غصے پر قابو پاتا بولا
“دنیا تمہاری پسند نا پسند پر نہیں چلتی ..تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا اپنی پسند زبردستی مجھ پر عائد کرنے کا..سنا تم نے…!
“میں چلاؤں گا اپنی مرضی…زبردستی اپنی پسند آپ پر عائد کروں گا…آپ نہیں کریں گی اس لڑکے سے بات..ختم کردیں دوستی..صرف میری ہیں آپ میرے علاوہ کوئی آپ سے بات نہیں کرے گا نامیں کرنے دوں گا…!!!”وہ جنونی اداز میں اسٹئیرنگ پر ہاتھ مار کر بولا
بکواس بند کرو..!میں نہ تم سے محبت کرتی ہںوں نہ مجھے تمہارے ہںونے یا نہ ہںونے سے کوئی فرق پڑھتا ہے نا اس بات سے فرق پڑھتا ہے کہ تمہیں کیا پسند ہے اور کیا نہیں..یہ میری ذندگی ہے اسے کیسے جینا ہے یہ میرا مسئلہ ہے میری مرضی ہے اور اس پر تمہارا کوئی حق نہیں ہے…!”وہ غرائی
“اوکے اوکے سوری…ریلیکس ہںوجائیں آئی ایم سوری….!!!”سنی نے بمشکل خود پر قابو پایا وہاسے یوں ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا حیرام نے تیز نگاہ اسپر ڈالی اور سر جھٹک کر دوسری طرف دیکھنے لگی..!!
“لوگ کہتے ہیں عشق صرف ابتداء میں اچھا ہںوتا ہے..لیکن عشق تو عشق ہے …ابتداء کیا انتہاء کیا…یہ ایک ایسی لکیر ہںوتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہںوتی..اس بات سے فرق نہیں پڑھتا کہ محبوب تمہاراہے یا نہیں تم سے محبت کرتا ہے یہ نہیں تمہیں اس سے محبت کرنی ہںوتی ہے اسی کا رہنا ہںوتا ہے تمہیں صرف چاہنے سے غرض ہںونی چاہیے پھر اگر تمہارا عشق سچاہے تو وہ ساری دنیا گھوم کر تمہارے پاس آئے گا ..حیرام لاپرواہی بے رخی کے باوجود وفا پر قائم رہنا عشق ہے اور آپ کو سید ارحان عمر دین شاہ ہمیشہ یہی کھڑا ملے گا …!!!”
حیرام پھٹی نگاہںوں سے اسے دیکھ رہی تھی…

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: