Kehnda Ay Zamana Menu Bigra Novel By Fatima Niazi – Last Episode 3

0
کہندا اے زمانہ مینو بگڑا از فاطمہ نیازی – آخری قسط نمبر 3

–**–**–

سنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنےدو کمروں کے فلیٹ میں موجود تھا …جابجا بوتلیں اور بجھی ہںوئی سگریٹیں بکھری تھیں سنی زمین پر بیٹھا صوفے کے قریب بیٹھا تھا اوپری جسم شرٹ سے مبرا بنیان سے کسرتی بازو جھانک رہے تھی بازوؤں کی نسیں ابھری ہںوئی تھیں …وہ سب اپنے ہنسی مذاق میں مگن تھے دروازہ زور زور سے بجنےلگا سب نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا صدام اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھا اور سوراخ سے باہر جھانکا…
“بھائی ..!بھائی غضب ہںوگیا …سب سمیٹو جلدی جلدی…!!”وہ بھاگتا ہںوا دوبارہ آیا اور تیزی سے ادھر ادھر بکھری بوتلیں اٹھانے لگا …
“ابے کون آگیا …؟؟”سنی نے بیزاری سے پوچھا
“انسپیکٹر کا پٹھا آیا ہے؟؟”کسی لڑکے نے پوچھا
“نہیں نہیں جلدی اٹھاو سب اپنے کھلونے چھپاؤ…!!”وہ بوکھلا یا ہںوا تھا
سب نے آس پاس رکھیں اپنی اپنی بندوقیں جیبوں میں اڑس لیں
“ابے بتا بھی دے کون ہے؟؟”سنی جھنجھلایا
دروازہ مسلسل بج رہا تھا
“بھابھی ہے بھائی بھابھی…!!”
“اوہ خیر سنی تو تو گیا ….!!!!سنی جھٹکا کھا کر اٹھا اور قریب رکھی شرٹ اٹھا اور واش روم کی جانب دوڑ لگادی
اسی دوران صدام نے جاکر گیٹ کھولا
حیرام تن فن کرتی اندر داخل ہںوئی
سب لڑکے سرجھکائے احترام سے اس کے آگے کھڑے تھے
“ارحان کہاں ہے..؟؟”اس کا چہرہ غصے سے لال پیلا ہںورہا تھا
“وہ تو نہیں ہے…!!”
“بھائی سورہا ہے…!!
دولڑکے ایک ساتھ بولے اور پھر بوکھلا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا
“ابے چپ …!!”تیسرے نے دونوں کو گھورا
اور حیرام نے تینوں کو..
“میں نے پوچھا ارحان کہا ہے؟؟”
“بھائی آرہا ہے بھابھی ابھی کچھ دیر پہلے واش روم گیا ہے..!!”صدام بولا
“شٹ اپ…!”بھابھی کہنے پر وہ مذید بگڑی
تب ہی سنی وہاں چلا آیا شرٹ پہنے بکھرے بال اب سلیقے سےپیچھے کی طرف کر رکھے تھے
حیرام نے آگ اگلتی نگاہںوں سے اس کا چہرہ دیکھا اور اس کے قریب جاکر زوردار تھپڑ اس کے منہ پہ دے مارا سب کو سانپ سونگھ گیا سنی سرجھکائے کھڑا تھا
“ادھر دیکھو میری طرف…!!”
سنی نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا تب ہی دوسرا تھپڑ پوری قوت سے اس کے چہرے پر پڑا
اب کے اسنے سرنہ جھکایا نظریں جھکا لیں
دوسرے کے بعد مذیدتین تھپڑ اس کے چہرے پر پوری تیزی سے لگے
“تمہیں منع کیا تھا نا دور رہںو مجھ سے اور میرےمعاملات سے تمہاری ہمت بھی کیسے ہںوئی علی کو اتنی بے دردی سے مارنے کی “
“اسکی طرف داری مت کریں..!!!”وہ دانت پیس کر بولا
“شٹ اپ…!!”ایک اور تھپڑ پڑا
“صدام راڈ لے کر آؤ…!”
صدام ہچکچاتے ہںوئے صوفے کے نیچے سے لوہے کی راڈ اٹھالایا
حیرام بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہںوا …”کیا وہ ان تھپڑوں کابدلہ اس بھارے راڈ سے لے گا…؟”وہ سوچنے لگی
“یہ لیں اس سے ماریں اتنے نازک ہاتھ ہیں دیکھیں کیسے سرخ ہںوگئے ہیں..!!”اسنے لوہے کی راڈ حیرام کی طرف بڑھادی
حیرام کا دل تیزی سے ڈھرک کر ساکت ہںوا اس نے تیز غصیلی نگاہ اس پر ڈالی اور پیچھے اسے دھکیل کر پلٹ گئی
“جا صدام چھوڑ کر آ…!!”حیرام کے گیٹ سے نکلتے ہی اسنے صدام کو حکم دیا ..
گال رگڑتا ہںوا صوفے پر دھپ سے گرا اور ہلکا سا مسکرادیا
“بھائی کیسی چھپیڑیں چیپ کے گئی ہیں بھابھی…!!!
“اس کی خیر ہے یاروں.. زہر بھی پلائے گی تو ہنس کر پ لی لوں گا..ذندگی کے ہاتھوں موت بھی ہنسی خوشی قبول ہے..!!!”
وہ مسکراتے ہںوئے بولا…!!!
*********
“ارحان میرے پیچھے مت آؤ…!!میں چلی جاؤں گی …!!زرا سی نرمی کیا دکھادی تم نے تو حد ہی پار ردی آج کے بعد شکل مت دکھانا اپنی…!!وہ سردمہری سے کہتی تیزی سے چلتی جارہی تھی
“ایسا مت بولیں پلیز …آئی ایم سوری حیرام…!!”
“جاؤ یہاں سے…!!”
“پلیز حیرام میرا سانس نکل جائے گا…!!!”
“نکل جائے میری بھلا سے…!!!”
“آئم سوری…!!”
“دفعہ ہںوجاؤ…!!”
“پلیز…حیرام میِں نہیں رہ پاؤں گا…!!!”
وہ نِظرانداز کرتی آگے بڑھتی گئی
مین روڈ آتے ہی وہ رکشے کے انتظار میں رک گئی
“میرے ساتھ چلیں گی آپ گھر…!!”
“نہیں ہر گز نہیں…میری لاش اٹھاکر گاڑی میں رکھ کر لے جاؤ تو الگ بات ہے جیتے جی تو تمہاری گاڑی میں نہیں بیٹھوں گی..”
“فضول باتیں مت کریں..!!”وہ تڑپ کربولا اور اسکے ہاتھ سے فائل اور پرس چھین لیا
“آپ میرے ساتھ ہی جائیں گی…!!”
“میں تو نہیں جاؤں گی لے جاؤ یہ ہی…!!” سپاٹ لہجے میں کہتے ہںوئے اسنے قریب سے گزرتے رکشے کو روکا اور سوار ہںوگئی
سنی کےچہرے پر ہںوائیاں اڑنے لگیں سن ہںوتے دماغ کو قابو کرتا وہ بمشکل اپنی جیپ تک آیا حیرام کے شدید غصہ اور ناراضی کا احساس روح کھیچ رہا تھا اسنے چکراتے سر کو اسٹئیرنگ پر ٹکادیا ….!!!
********
حیرام کچی نیند میں تھی جب دھپ کی آواز کے ساتھ کوئی بالکنی میں کودا حیرام نےجھٹکے سے آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر بیٹھ گئی
چند منٹ سنی بالکنی کا لاک توڑ کر اندر داخل ہںوا
“کیوں آئے ہںوتم…!!”وہ نفرت سے بولی
“مجھے آپ کے پاس آنے سے کوئی نہیں روک سکتا…!!”وہ سرخ آنکھوں سے اسکی طرف دیکھتا بولا
“بکواس مت کرو…شراب پی کر آئے ہںو؟؟میرے قریب بھی مت آنا…!!!”وہ غصے سے بولی
“شراپ پی کر تو آیا ہںوں پر آپ کو مجھ سے کوئی خطرہ نہیں …میں مرنا پسند کروں گا آپ پر گندی نگاہ ڈالنے سے پہلے …!!!اتنی محبت نہیں کرتا جتنی عزت کرتا ہںوں آئیندہ یہ بات منہ سے مت نکالیے گا اسی وقت اپنے آپ کو گولیوں سے اڑا دوں گا اور آپ تو جانتی ہیں میں اپنے آپ سے بلکل محبت نہیں کرتا .”وہ لڑکھڑاتے لہجے میں بولا
“کیوں آئے ہںو؟؟”اسنے سردمہری سے پوچھا
“میں آپ کو بتانے آیا ہںوں کہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ میری سانسیں ختم ہںورہی ہیں میں کچھ نہیں کر پارہا مجھ سے کچھ بھی نہیں ہںورہا آپکی ناراضی مجھے سکون نہیں لینے دے رہی میری سانسیں ختم ہںورہی ہیں ….!!!!”
“تم صرف دوسروں کی سانسیں ختم کرسکتے ہںو تمہاری سانسیں کبھی ختم نہیں ہںونگی…”وہ نفرت سے بولی
“حیرام…!! میں مانتا ہںوں میں بہت برا ہںوں بہت برا…!انسانیت تو پناہ مانگتی ہی ہے مجھ سے شیطانیت بھی بھوکلا جاتی ہے..کمینہ پن کوٹ کوٹ کر بھرا ہے مجھ میں ..بے غیرت بھی بلا کا ہںوں.. حیوانیت سے خوب بنتی ہے لیکن مس حیرام آپ سے بے پناہ محبت کرتا ہںوں..مجھ سی محبت نہ کرے گا کوئی ٹرسٹ می اور نہ میں کرنے دوں گا کسی کو…!!!!”
“جاؤ..!!”
“میں نہیں جاؤں گا آپ میری طرف دیکھیں…!!”
“نہیں دیکھوں گی…!!!”
“مجھ سے بات کریں غصہ کریں یہ لیں اس سے ماریں یہ خنجر لیں ختم کردیں… مجھ کو بس ایک بار میری طرف دیکھ لیں پلیز میں …میں معافی مانگ رہا ہںوں نا …علی.علی کو بھی سوری کروں گا پلیز ایک بار ….میری طرف دیکھیں…!!٫”وہ سسک پڑا
“مجھے کوئی شوق نہیں تمہارے خون سے اپنے ہاتھ گندے کرنے کا…!!!”
“ٹھیک ہے میں خود کرلوں گا…!!”اسنے خنجر ہاتھ میں لیا
“آپ مجھ سے بات کریں گی یا نہیں؟؟؟”
“نہیِں کروں گی دفعہ ہںوجاؤ…!!”وہ غصے سے بولی
سنی نے ہتھیلی پھیلائی اور اپنی ہتھیلی کو بے دری سے چیردیا خون کا فوارا سا بلند ہںوکر زمین کو سرخ کرنے لگا
حیرام دہل گئی
“کیا آپ مجھ سے بات کر رہی ہیں؟؟”
“نہیں..!”اب کے وہ چلائی
سنی نے پھر ہتھیلی کو گہرائی سےچیرا
ٹپ ٹپ کی آوز کے ساتھ خون کے قطرے تیزی سے زمیں پر گر رہے تھے
“اسٹاپ اٹ..!اسٹاپ اٹ ارحان رکو …ایسا مت کرو…میں…میں کررہی ہںوں بات ..یہ..دو مجھے لاؤ مجھے دے دو..!!!”
سنی کے چہرے پر سکون اتر آیا …وہ معصومیت سے مسکرایا خنجر اسکی طرف بڑھادیا اور خود اس کے گھٹنوں میں جابیٹھا..سنی کا سر حیرام کے گھٹنوں پر تھا حیرام دہشت ذدہ تھی اس جیسا شخص اسنے کبھی نہیں دیکھا تھا…وہ پاگل تھا؟دیوانہ تھا کیا تھا وہ …وہ سمجھ نہیں پارہی تھی ..
اسکی سوچوں سے غافل وہ سر اسکے گھٹنوں پر ٹکائے بلکل پرسکون تھا..حیرام نے اس کا سر اپنے گھٹنوں سے الگ کیا اور اٹھ کر دوائیوں کا ڈبہ لے آئی …وہ اسکے سامنے فرش پر بیٹھی اس کا زخم صاف کر رہی تھی وہ جانتی تھی وہ خود کرے گا نا ڈاکٹر کے پاس جائے گا زخموں کی دوا نہ کرتا تھا تبھی تو ناسور بن گیا تھا…!!
“اب اگر ناراض ہںوئیں تو خنجر سے اپنی گردن کاٹ دوں گا…!!”
حیرام نے سخت نگاہ اس پر ڈالی پر کچھ بھی بولنے سے گریز کیا
“میں آپ کے بغیررہ نہیں پاتا جب تک آپ کی جھڑکیاں نہ سنوں مجھے میرا دن مکمل نہیں لگتا آپ مجھ سے ناراض مت ہںوا کریں…!!”
“اپنی اس جنونیت کو قابو میں رکھو میری ذندگی کو مشکل مت بناؤ کل کو میری شادی ہںوگی…تمہاری یہ نفسیاتی عجیب سو کالڈ محبت میری ذندگی اجیرن کردے گی…!!”وہ سرد مہری سے بولی
“آپ شادی کریں گی؟؟”
“تو کیا نہیں کروں گی؟؟”
“مجھ سے شادی کریں گی..!!؟وہ سر اٹھائے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
“تمہیں لگتا ہے کوئی لڑکی تم سے شادی کرے گی؟؟”
“میں کسی دوسری لڑکی کو نہیں جانتا آپ سےپوچھ رہا ہںوں آپ کریں گی؟؟”
“ہرگز ہرگز ہرگز نہیں ..بلکل بھی نہیں ..”اسنے دوٹوک لہجے میں کہا…!!
“اوہ…!!اس کا چہرہ تاریک ہںوا اسنے اپنی کنپٹی کھجائی اورنفی میں سرہلانے لگا…
“تو پھر…!!تو پھر آپ کسی اور سے بھی شادی نہیں کریں گی میری نہیں تو کسی کی نہیں..!!..
اس کے چہرے پر معصوم مسکان تھی..وہ لب دانتوں میں دبائے معصومیت سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا
“آپ کی طرف دیکھنے والی ہر آنکھ ضائع ہںوگی ..
آپ کو چھونے والا ہاتھ جڑ سے کٹے گا…
آپ کی طرف بڑھنے والے قدموں میں جان نہیں رہے گی…!حیرام صرف ارحان کی ہے ..ارحان کے علاوہ کسی کو اجازت نہیں کہ وہ اسے دیکھے اسے سوچے…!!!”
“یہ..یہ محبت ہے تمہاری..؟تم مجھے تکلیف پہنچا کر سکون محسوس کرتے ہںو؟؟”
“نہیں میں خود بھی ہروقت تکلیف میں رہتا ہںوں اگر آپ میری قسمت میں نہیں ہیں تو پھر دنیا کے کسی شخص کی قسمت میں آپ کا نام نہیں ہںوگا…!!!”
“تم شیطان ہںو …!!!تمہاری اس معصوم مسکراہٹ کے پیچھے کا شیطان مجھے صاف دکھائی دے رہا ہے تم بہت بڑے بول بول رہے ہںو کسی شیطان سے کم نہیں لگ رہے…!!!”
“ہاں میں شیطان ہںوں..!لیکن ماں مجھے معصوم کہتی تھی..پھر ایک دن میں نے چھوٹی سی شرارت کی تھی ماں نے مجھے ایک نام دیا تھا …پتا ہے میری ماں کہتی تھی کہ ارحان ایک معصوم شیطان ہے..!!!”
وہ چند لمحے اسے خاموشی سے دیکھتی رہی پھر اٹھ کر کمرے سے نکل گئی چند لمحے بعد لوٹی تو ہاتھ میِں جوس کا گلاس تھا..
“یہ پی لو..!!”
“نہ…!!”اسنے نفی میں گردن ہلائی
“کیوں.؟؟”
“میرے ہاتھ میِں درد ہے آپ پلائیں…!!”وہ مسکرایا
“ایک ہاتھ میں درد ہے نا دوسرے میں تو نہیں …پینا ہے تو پیو ورنہ جاؤ ویسے بھی بینڈج ہںوچکی ہے..!!”
“اوکے جارہاہںوں..سیدھے ہاتھ میں درد ہے…الٹے ہاتھ سے نہیں پیتا میں…!!گناہ ملتا ہے…!!”وہ جاتے جاتے بولا
حیرام نے سر پکڑلیا
“ڈرامے بازیاں کبھی ختم نہیں ہںوں گی تمہاری..رکو ..!”وہ گلاس لے کر اسکی طرف بڑھی
“وہ جو چار چار بوتلیں شراب کی چڑاتے ہںو لوگوں کی ہڈیاں توڑتے ہںو تب گناہ کا خیال نہیں آتا…!!ت کر کہتے ہںوئے گلاس اس کے لبوں سے لگایا وہ مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتا گھونٹ گھونٹ شربت ہلک میں اتار رہا تھا…!!
@@@@@@@@@
حیرام دفتر سے نکلی تووہ سامنے کھڑا تھا چہرہ سنجیدہ تھا …آگے بڑھ کر فائل اور پرس اس کے ہاتھ سے لیا اورجیپ میں جابیٹھا..
حیرام دل ہی دل میں حیران ہںوئی ..آج وہ مسکرایا نہ تھانہ کوئی بات کی تھی
“عمر چاچا کا انتقال ہںوگیا ہے..ہم سب جارہے ہیں ان کے جنازے میِں تین چار دن میِں یہاں نہیں ہںوں گا…آپ کو چھوڑ کر جانے کا دل نہیں ہے لیکن جانا بھی ضروری ہے اپنا خیال رکھیے گا ٹائم پر کھانا کھائیے گا ذیادہ کام کا بوجھ مت لیجیے گا…!!”وہ نرمی سے کہ رہا تھا
حیرام کچھ نہ بولی
“آپ کچھ کہیں گی نہیں؟؟”
“میں کیوں کہوں گی…؟؟”اسنے لاپرواہی سے کندھے اچکائے
سنی نے گہری سانس لی
“کیا پتا راستے میں موت آجائے یاایکسیڈنٹ ہںوجائے کوئی اچھی دعا ہی دے دیں کہہ دیں کہ مجھے یاد کریں گی جھوٹے منہ ہی سہی ویسے مجھے پتا ہے آپ بلکل یاد نہیں کریں گی…!!!لیکن کریں آپ جو سلوک کرنا ہے یہ عشق کمبخت شکوے گلوں کی اجازت ہی کب دیتا ہے…پر میں آپ سے ہمیشہ محبت کروں گا مجھے فرق نہیں پڑھتا کہ آپ میری محبت کے ساتھ کیا سلوک کریں..!!”
حیرام نے رخ موڑ لیا اور کھڑکی کے باہر دیکھنے لگی..!!!
******
آج کے دن اسے واپس آنا تھا ..حیرام دفتر سے نکلی تو لاشعوری طور پر نگاہںوں نے سنی کی جیپ کو کھوجا…جیپ نا پاکر اس کا چہرہ بجھ گیا وہ سر جھکا کر بس اسٹاپ کی جانب بڑھ گئی …
“چار دن توگزر گئے اسے آجانا چاہیے تھا…!!!”دل ہی دل میں بولی..
گھر کی طرف جاتے ہںوئے راستہ بے حد سنسنان لگا …اسکی نگاہ خالی تخت پر پھسلی..جگہ خالی پاکر قدم تیز کردیے جانے کیوں دل اداس ہںورہاتھا …
گھر پہنچ کر بے چینی کی حالت میں چند لقمے لیے اور اپنے کمرے میں چلی آئی …رات آپہنچی تھی اسکی نگاہیں بالکنی کے دروازے پر ٹکی تھیں کان مخصوص گونج کے منتظر تھے..
رات کو تین چاد دفعہ اٹھ کر بالکنی کا دروازہ چیک کیا تھا …لیکن دل بے چین ہی رہا …!!وہ نہ آیا تھا
صبح اس کا اترا چہرہ دیکھ کر ماں نےسوال کیا…
“کچھ نہیں امی بس سر درد ہے…!!”
“دوائی لے لو…!!”آمنہ فکرمندی سے بولیں
“جی…!!”وہ پھیکی مسکراہٹ لبوں پر سجا کر وہاں سے اٹھ گئی
گلی سے گزرتے ہںوئے نگاہ بے اختیار تخت پر جاٹہری..وہاں کوئی نہ تھا…!!وہ بے حد مایوس ہںوئی اور گہری سانس لے کر آگے بڑھ گئی…!!!
*********
اسے گئے دو ہفتے ہںوچکے تھے ..اس کی غیر موجودگی اسے بری طرح چبھتی تھی وہ سو اندازے لگاتی مسترد کرتی…کبھی اس کی معصومانہ باتیں یاد کر کے ہنس دیتی تو کبھی اس کا دیوانہ پن یاد کر کے نئے سرے سے اس کا غم مناتی …وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مرجھاتی جارہی تھی ماں نے بھی کہی دفعہ اس کی اداسی محسوس کی تھی وہ کام کے بوجھ کا بہانہ کر کے ٹال جاتی…اسکی باتیں آس پاس گونجتی محسوس ہںوتیں … زرا سی آہٹ پر کان کھڑے ہںوجاتے نگاہیں بالکنی کے دروازے پر ٹک جاتیں..بے اختیار اس کی آنکھیں بھیگ جاتیں …اسنے خود سے کچھ نہ کہا تگا نہ سوال کیا تھا …بے بسی کے عالم میِں شب کی تاریکی میں وہ اعتراف کرتی تھی کہ اسے محبت ہںوگئی تھی …اسے اس سے محبت ہںوگئی تھی جسے ایک زمانہ بگڑا کہتا تھا…!!!!
…..
چار ماہ بعد…!!!
******
حیرام عیسی نگر چھوڑ کر جا چکی تھی کیس کا فیصلہ ان کے حق میِں آیا تھا جائیداد سے ان کا حصہ ان کو مل چکاتھا جس کا ایک بڑا حصہ بینک میِں محفوظ کرنے کے بعد کراچی کے پوش علاقے میِں ایک بڑا سا گھر خرید لیا تھا …آمنہ نے کلفٹن کے علاقے میں اپنا بوتیک کھول لیا تھا اب ان کا سارادن وہی گزرتا تھا …جبکہ حیرام گھر میں رہتی تھی اسکی غائب دماغی اور بے قائدگی کی بناہ پر اسے ملازمت سے فارغ کردیا گیا تھا وہ ساردادن اداسی سے گھر میں چکر کاٹتی رہتی …!!!!
….
کوئی کہہ دے گلاب سے میرے…!!
تیری خوشبو اداس ہے آجا…!!
وہ لان میں بیٹھی ویران نگاہںوں سے آسمان میں اڑتے پرندوں کو دیکھ رہی تھی…!!!
“کہا ہںوگا…کیسے ہںوگا..؟مجھے یاد بھی کرتا ہںوگا؟؟کیا وہ میری بے رخی سےبیزار ہںوکر واپس نہ آیا…یہ پھر…اللّہ نہ کرے…میری عمر بھی اسے لگ جائے…اللّہ جہاں بھی ہںو بلکل سلامت ہںو…”اس خیال کے آتے ہی وہ یوں ہی تڑپ جایا کرتی تھی…
اسی وقت آمنہ کی گاڑی اندر داخل ہںوئی وہ اتنی گم تھی کہ ان کی آمد محسوس ہی نہ کرسکی …
انہوں نے گاڑی سے اتر کر تاسف ذدہ نگاہ اس پر ڈالی…اب تو وہ بھی عادی ہںوچکی تھیں اسکے ناسمجھ آنے والی بیماری کی..!!!
ہمیں تو عشق نے نکما کردیا غالب..!!
ورنہ ہم بھی آدمی تھے بڑے کام کے…!!!”
************
“بی بی جی …حیرام بی بی پر تو کسی شے کا سایہ لگتا ہے…کہیں سے دم کیوں نہیں کرواتی؟؟”سکینہ نے چائے پیش کرتے ہںوئے کہا
“کیا مطلب؟؟”
“بی بی جی ان کی حالت پر غور نہیں کیا؟؟اتنی اداس رہتی ہیں نا کسی سے بات کرتی ہیں اور کہیں دفعہ تو جواب ہی نہیں دیتی جتنی بھی آوازیں دے دو…کل میں نے چھت پر ان کو بری طرح روتے دیکھا …!”
“حیرام رو رہی تھی؟؟”اس کی خاموشی اور ادسی سے تو وہ خود بھی واقف تھیں لیکن رونے والی بات بلکل نئی تھی وہ مذید فکر مند ہںوئیں
……
کاش کوئی ایسا جادو ہںوتا جسے کر کے میں اپنی ذندگی سے وہ پانچ ماہ نکال دیتی …کہنے کو تو پانچ ماہ بہت کم ہیں..لیکن ان پانچ مہینوں نے اس میرے وجود پر بہت گہرے مقش چھوڑے ہیں جنھیں میں چاہ کر بھی نہیں نکال پارہی …ارحان نامی آسیب نے میرے وجود پر قبضہ کرلیا تھا اگر اب وہ مجھے آذاد بھی کردے تو میرا وجود ہمیشہ آسیب ذدہ رہے گا…اب کوئی بھی اس وجود کو آباد نہیں کرپائے گا…..!!
اذان کی آواز نے اسے سوچوں کے سمندر سے ساحل پر پٹخ دیا …وہ چونک کر اٹھی اور وضو کرنے چل دی…
وہ جوں ہی نماز کے لیے کھڑی ہںوتی اس کے آنسو بہنے لگتے…وہ پوری نماز روتے ہںوئے ادا کرتی تھی
نماز ختم کرنے کے بعد وہ دوزانو ہںوکر بیٹھی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھادیے…
“یااللّہ میں نے ہمیشہ تیری رضا مانگی ہے…میں بے حد گناہگار ہںوں سیاہ کار ہںوں..وہ میرے حق میِں برا ہے تو میں صبر کرلوں گی …میرے صبر کے اجر میں تو اسے ہمیشہ شاد رکھنا اس کو ہدایت دے کر سیدھے رستے پر چلادے …اس کے گناہںوں کو معاف کردے..اسے لمبی ذندگی عطاکر…اس کا دل نور سے بھردے…اسے اپنا دوست بنالے…میں اپنے لیے کچھ نہیں مانگنا چاہتی لیکن میرے اللّہ میری دعا سن لے …صرف ایک بار اسے میرے سامنے لے آ…پھر …(ہچکی)..پھر…ساری ذندگی…!!(ہچکی)اس کا سوال نہیں کروں گی…!!!وہ ہچکیاں لیتی بری طرح رو رہی تھی کب اس کی ہچکیوں میں کسی اور کی ہچکیاں شامل ہںوئیں اسے پتا ہی نہ چلا…وہ روتی رہی …وہ بھی روتا رہا…دونوں ایک ساتھ ہچکیاں لے رہے تھے…حیرام کو جوں ہی کسی کی موجودگی کا احساس ہںوا اس کا دل رک ساگیا…ہچکیاں تھم گئی …وہ چند منٹ ساکت بیٹھی اس کی ہچکیاں سنتی رہی …اسنے آہستگی سے جائے نماز سنمبھالی…اور پلٹ کر اسے دیکھا
وہ گھٹنوں کے بل زمیں پر بیٹھا سرجھکائے رورہا تھا …وقفے وقفے سے اس کی سسکیاں گونج رہی تھیں
“ہںوگئے چار دن تمہارے…؟؟اب بھی نہ آتے…!!”رونے لے باعث آواز گیلی ہںورہی تھی وہ کہتے ہںوئے پلنگ پر جابیٹھی
ارحان آنسو رگڑتا ہںوا اٹھا اور اس کے گھٹنوں میں جابیٹھا …
“میں پانچ مہینے سے مررہا تھا تڑپ رہا تھا آپ کی ایک جھلک کے لیے…مجھے جنازے سے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا..تمام ثبوتوں کی موجودگی میں…!!!ایک ہفتے پہلے واپس آیا ہںوں ….میرے پیروں تلے زمین نکل گئی جب میں نے بھٹی کا گھر خالی دیکھا ایک ہفتے سے پاگلوں کی طرح آپ کو پورے شہر میں ڈھونڈتا رہا…اور اب جاکر ملی ہیں..!!!
اسنے سر اسکے گھٹنوں سے ٹکادیا…
“اب میِں کہیں بھی نہیں جاؤں گا…مجھے اپنے پاس رہنے دیں پلیز…!!”وہ بے بسی سے بولتا چپ ہںوا…
حیرام نے اس کے بالوں پر نرمی سے ہاتھ پھیرا…!!!
اور ہاتھ اس کے کان کی طرف بڑھایا
ارحان الجھی حیران نگاہںوں سے اسے دیکھ رہا تھا
حیرام نے اس کے کان کا بندہ اتارا…!!
ہاتھ پکڑا..ساری انگوٹھیاں اور بریسلیٹ اتارلیے..!!
پھرہاتھ بڑھایا اور شرٹ کے بٹن بند کرنے لگی
“نہ چاقو..نا خنجر..نا بندوق..نا شراب..نا لڑائی نا جھگڑے نہ گنڈاگردی …!!!”وہ ٹہر ٹہر کر بول رہی تھی
ارحان کی آنکھیں چمکنے لگیں وہ معصومیت سے مسکرانے لگا اور سر اس کے گھٹنوں پر ٹکادیا
“ویسے تم اندر کیسے آئے ..؟؟؟یہاں کی بالکنی تو کافی اونچی ہے…!!”
ارحان نے جھٹکے سے سر اٹھایا اور اسکی طرف معصومیت سے دیکھنے لگا…
“وہ…میں..!!وہ..نا…اسنے نظریں چراتے ہںوئے تھوک نگلا
حیرام کو وہ اس وقت خوف ذدہ سا بچا لگا جو ڈانٹ کے ڈرسے بول نہ رہا ہںو
“بتاؤ…!!!”وہ بظاہر سنجیدگی سے بولی
“وہ چوکیدار تو آنے نہیں دےرہا تھا…میں نے ہلکا سا ہی مارا تھا..وہ گیٹ کے پاس بے ہںوش…میں اسے لےجاؤں گا ڈاکٹر کے پاس…پلیز غصہ مت کیجیے گا…!!!”وہ ہچکچاتے ہںوئے بولا
“تم نا…ارحان…تمہارا کیا کروں میں…!!!!”حیرام نے اس کے بال مٹھی میں دبوچ لیے
“کچھ بھی کرلیں.. آپ کا ہی تو ہںوں…!!”وہ بولا
“شٹ اپ..پاگل..!!”وہ مسکرائی اورمصنوعی خفگی سے بولی
********
وہ مسکراتی ہںوئی بالوں کو اونچی پونی میں قید کر رہی تھی چہرے پر بے حد پرکشش مسکان تھی
سیاہ کاٹن کے کرتے کے ساتھ نیلی جینز پہنے پیروں میں نازک سی سیاہ جوتی تھی ..!!
“حیرام بی بی آپ کہیں جارہی ہیں؟؟”سکینہ نے سوال کیا وہ اس کےکمرے کی صفائی کرنے آئی تھی
“جی آنٹی..!!میں اپنے دوست سے ملنے جارہی ہںوں…کھانا وہی کھالوں گی …امی کو بتادیجیے گا …”اسنے مسکراتے ہںوئے اپنی چادر کندھوں پر ڈالی اور باہرکی جانب بڑھ گئی!!
******
“دوست کون سادوست اس کاتو ایک ہی دوست تھا علی جواب ترکی میں ہے…!!!کس سے ملنے گئی ہے؟؟”
“کیا پتا کوئی نیا دوست بن گیا ہںو…!!”سکینہ نے کہا
“ہںوسکتا ہے پر اتنی جلدی تو وہ کسی پر بھروسہ نہیں کرتی دوست بنانے میں بھی وہ اتنی اچھی نہیں کم ہی لوگ اس کو پسند آتے ہیں..ویسے تمہیں نہیں لگتا سکینہ کے آج کل اس کے چہرے پر رونق سی آگئی ہے..؟؟
“جی میں بھی یہی کہہ رہی تھی…!!”
“چلو اچھا ہے کم از کم اس فیز سے تو باہر نکلی …تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا کچھ نہیں ہںوتے یہ بھوت پریت…!!آمنہ کہتے ہںوئے اٹھیں..!!
*****
حیرام سر جھکائے پارک کی بینچ پر بیٹھی تھی …وہ ایک ہی نقطے کو سوچے چارہی تھی ..کہ اسے محبت ہںوچکی تھی اس شخص سے..جس سے اسے گھن سی آتی تھی …!!!وہ شخص روح میں جذب ہںوچکا تھا سانسوں میں چلتا تھا اس کے نام پر دل ڈھرکتا تھا اس کی بھاری آواز اسے سحر میں جکڑ لیتی تھی …اب اس کے ارد گرد موجود ہںونے سے خوف نہیں آتا تھا وہ قریب ہںوتا تو تحفظ کے حصار میں خود کو پاتی تھی …
“حیرام…!!”اسنے نرمی سے اسے پکارا حیرام کا دل تیزی سے ڈھرکا اسنے سر اٹھا کر اسے دیکھا وہ مسکراتے ہںوئے اسے دیکھ رہا تھا..
“بیٹھو نا کھڑے کیوں ہںو…!!”
وہ اس کے برابر میں اس سے زرافاصلے پر بیٹھ گیا
حیرام نے اس کے حلیے پر ستائشی نگاہ ڈالی
سفید جینز اور ہلکی نیلی شرٹ کی آستینیں کہنیوں سے موڑ رکھی تھیں چہرے پر ہلکی شیو تھی سر پر پی کیپ تھی وہ پیارا لگ رہا تھا
“اچھے لگ رہے ہںو..!!”وہ بولی
ارحان جھینپ گیا مسکراتے ہںوئے ایک فائل اس کی طرف بڑھادی
“یہ کیا ہے…؟”اسنے پوچھتے ہںوئے فائل پکڑی اور اسے کھولنے لگی
…یہ کیا ہے..تم نے ایک دن میں ایم بی اے کرلیا؟؟؟” وہ حیرت سے بولی
“میٹرک کے علاوہ ساری کی ساری جعلی ڈگریاں ہیں..!! وہ اطمینان سے بولا
“افف ارحان کب سدھروگے…؟؟”
“توکیا کرتا آپ نے ہی تو کہا تھا کہ آپ کی ممی کو میری کم تعلیم سے مسئلہ ہںوسکتا ہے..اب آپ فخر سے بتا سکتی ہیں انھیں کہ ان کا داماد ایم بی اے پاس ہے.!!”
“جعلی ڈگریوں کے زریعے ؟”وہ تپ کر بولی
“توکیاہںوا میں نے کون سا وزیر اعظم کا انتخاب لڑناہے جو میری ڈگریوں کی چھان بین ہںوگی صرف آپ کی ممی کو ہی تو راضی کرنا ہے…!!!وہ مطمئن سا مسکرایا
حیرام نے تاسف سے سرہلایا
“اور اگر ممی نے پوچھا کہ تم کام کیا کرتے ہںو پھر ان سے کیا کہوگے؟؟؟”
“یہی کہ میرا بیلجیئم میں ریسٹورینٹ ہے …اور گھر بھی وہی …!!”
“وہاٹ بیلجئیم؟؟”
“جی شادی کے بعد ہم وہیں رہیں گے ریسٹورینٹ کی تعمیر شروع کروادی ہے..!!گھر بھی خرید لیا ہے..!!”
“میں حرام کے پیسے سے نئی ذندگی کا آغاز نہیں کروں گی اور کیا ضرورت ہے اتنی دور گھر لینے کی ہم پاکستان میں بھی رہ سکتے ہیں..!!”
“آپ نے جو کہا تھا سارا پیسہ یتیم خانوں میں جمع کروادیا تھا…یہ پیسہ میرااپنا ہے حرام کا نہیں ہے..!”
“تمہارےپاس کہاں سےآیا؟؟”
“میرے بابا ایک خاندانی زمیندار تھے…وہ سب جو سردار نے قبضہ کرلیا تھا وہ میں نے واپس لے لیا ہے..اور ہم پاکستان میں نہیں رہ سکتے میری جان کو خطرہ ہے ..اچانک تمام کاموں سے ہاتھ کھینچ کر ان کو کڑوڑوں کا نقصان پہنچایا ہے..وہ مجھے ایسے تھوڑی چھوڑدیں گے اب بھی تین لوگوں کو ڈاج دے کر چار جگہ سے حلیہ بدل کر یہاں آیا ہںوں..!!وہ مجھے پکڑنے کے لیے پاگل ہںورہے ہیں..!!خیریہ سب چھوڑیں کھانا کھایا آپ نے ؟؟چلیں کچھ کھالیتے ہیں آپ گاڑی لائیں ہیں؟؟”
حیرام نے اثبات میں سرہلاتے ہںوئے چابی اسکے ہاتھ میں دے دی
“نقاب کرلیں..!!”وہ آس پاس دیکھتے ہںوئے بولا
“کیوں..؟؟”وہ الجھی
“کیوں کہ میں نہیں چاہتا میری عزت کو کوئی دیکھے یہ ڈوپٹے سے چہرہ ڈھک لیں…چلیں آگے آجائیں آپ…!!”وہ بول رہا تھا وہ حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی
“ایسے کیا دیکھ رہی ہیں..؟؟”وہ الجھ کر اس کی طرف دیکھنے لگا
“کچھ نہیں …!!”وہ مسکرادی
عورت کو مرد کی طرف سے ملنے والا سب سے قیمتی تحفہ عزت ہے…!!
…….
حیرام سرجھکائے کھانا کھارہی تھی وہ اسے نرم نگاہںوں سے دیکھ رہاتھا
“ایسے کیا دیکھ رہے ہںو؟؟”
“یہی کہ میری بلی چھوٹے سے بچے کی طرح کھانا کھارہی ہے…!!”اسنے پیار سے کہا
وہ ہنس پڑی
“تم بھی کھاؤ …!!”
“کھارہا ہںوں..!!”وہ اپنی پلیٹ پر جھکا
“تم نے سچ میں سب کچھ چھوڑ دیا ہے؟؟”کسی خدشے کےتحت وہ بولی
“حیرام میں آپ کے سر کی قسم کھا کر کہتا ہںوں کہ تمام غیر قانونی کام چھوڑ دیے ہیں…!!”
حیرام نےمطمئن سی سانس خارج کی
“اور شراب وغیرہ..؟؟”کسی خیال کے آتے ہی اسنے دوبارہ سوال کیا
“ہاں وہ بھی..!!”اسنے نظریں چرائیں
“میری قسم کھا کر کہو نا کہ شراب بھی چھوڑ دی ہے..!!”
“چھوڑ دی ہے نا…!”وہ تنک کر بولا
“تو کھاؤ قسم اور بولو کہ چھوڑدی ہے…!”
“میں نہیں کھارہا…!”وہ چڑ کر بولا اوردوبارہ اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہںوا
حیرام کھلکلا کر ہنس پڑی
ارحان نے خفگی سے اس کی جانب دیکھا
“ایسے کیا دیکھ رہے ہںوہاں؟؟”حیرام بظاہر غصے سے بولی
“کچھ نہیں آئی ایم سوری میں کوشش کررہا ہںوں پینا کم کردی ہے جب تک آپ آئیں گی تب تک مکمل طور پر چھوڑ دوں گا…!!”
“وہ تو چھوڑ ہی دوگے میرے قبضے میں آنے کے بعد…!!!”وہ دھونس جماکربولی
وہ ہنس دیا
“سنڈے کو ممی سے ملوارہی ہںوں میں تم کو…!!”
“اگرانہوں نے مجھے پہچان لیا؟؟”
“انہوں نے تمیں ایک بار ہی دیکھا ہے وہ بھی سرسری سا…اورتمہارا نیا لک بلکل الگ ہے وہ تمہیں بلکل نہیں پہچانیں گی…!!!
“اللّہ کرے ایسا ہی ہںو..!!
®®®®®®®®
وہ دونوں اس وقت ارحان کے فلیٹ میں موجود تھے
یہ پھنسا ڈالناضروری ہے کیا؟؟”وہ منمنایا
“یہ پھندانہیں ٹائی ہے ارحان…!! وہ ٹائی کی ناٹ بناتے ہںوئے بولی
“لیکن میرادم گھٹ رہا ہے اس میں..!!”
“کچھ وقت بعد عادت ہںوجائے گی..!”حیرام نے اس کا اعتراز رد کیا
“ممی کو سب سے پہلے سلام کرنا ہے …کیسے؟؟”
“مجھے پتا ہےنا…!!”
“بتاؤ کیسے…؟؟”حیرام نے اسے گھورا
“اسلام و علیکم آنٹی …ہاؤ آر یو لکنگ گارجیئس…!!”ارحان نے حیرام کے سکھائے گئے لب و لہجے میں کہا
حیرا نےبمشکل مسکراہٹ ضبط کی
“پھر..”؟؟”
“پھر چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بیٹھ جانا ہے ..صرف اسی بات کا جواب دینا ہے جو وہ پوچھیں گی…”اسنے کوئی چوتھی بار یہ سب دہرایا تھا
“گڈ مائی بوائے..!!”حیرام نے اس کی اکتائی ہںوئی شکل کو محبت سے دیکھا اور س کا گال تھپتھپایا
اکتاہٹ فورا غائب ہںوئی چہرے پر اسکی مخصوص مسکراہٹ پھیل گئی چہرے کا ڈمپل نمایا ہںوا
“صدام اور باقی لڑکے کہاں ہیں؟؟”
“صدام کو تو میں نے لاہںور بھیج دیا تعلیم مکمل کرنے باقی لڑکوں میں کچھ سدھر کر کاموں میں لگ گئے اور کچھ نے دوسرے گروہ میں شمولیت اختیار کرلی…”
“ویسے تم بھی دوبارہ تعلیم مکمل کرسکتے ہںو..!!
“نہیں میں ایم بی اے کرچکا ہںوں آگے پڑھنے کا ارادہ نہیں فی الحال…”
“حیرام ہنس پڑی
اسنے آتے ہںوئے ارحان کی فرمائش پر پالک گوشت بنایا تھا اب وہ روٹیاں بنانے کی تیاری کرنے لگی
ارحان کاؤنٹر کے قریب کھڑااسے کام کرتا دیکھ رہا تھا
“ایسے نکموں کی طرح کھڑے ہںوکر مجھے نہ گھورو سیلڈریڈی کرو…شاباش..!”
“پر پیاز میں نہیں کاٹوں گا…!!”اسنے پہلے ہی خبرادار کیا اور فریج سے سبزیاں نکال کردھونے لگا
حیرام نے مسکراتے ہںوئے کنکھیوں سے اسے دیکھا
سادہ دل اور معصوم حرکتیں یہ چھ فٹ ایک انچ کا بچہ اسے بے حد پیارا لگتا تھا…!!!
********
ارحان کی پرکشش شخصیت، معصوم مسکراہٹ اور سادگی بھری باتوں نے دو ملاقاتوں میں ہی آمنہ کا دل جیت لیا تھا اسکی بدلی ہںوئی شخصیت نے ان کو زرا بھی محسوس نہ ہںونے دیا کہ وہ عیسی نگر ا وہی بدنام ترین شیطان ہے جسے عشق نے بدل دیا تھا دھودیا تھا …آمنہ اس کے جانے کے بعد بھی اس کی باتوں پر ہنستی مسکراتی اس کی تعریفیں کرتی تھیں…!
******
نکاح کی تقریب سادہ تھی ..سنہرے اور سرخ لہنگے میں حیرام بے حد خوبصورت نظر آرہی تھی…ارحان بمشکل اس سے نظریں ہٹاپارہا تھا…نگاہیں بار بار اس کے سجے سنورے روپ پر جاٹہرتی …یہ احساس روح پرور تھا کہ یہ سجا سنورا روپ اب ساری ذندگی کےلیے اس کی دنیا کو حسین بنانے والا تھا..لبوں پر خوبصورت مسکان سجائےوہ ہر چند لمحے بعد بے خودی سے اسے تکنے لگتا…ارحان کے اس معصومانہ اظہار مسرت پر حیرام دل ہی دل میں مسکرارہی تھی…!!
******
وہ برسلز کے خوبصورت سے گھر میں رہتے تھے ارحان کا ریسٹوریںنٹ گھر سے چند میل کی دوری پر تھا …
وہ شام کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی
“گڈ ایوننگ مائی لائف…!!!”ارحان نے پیچھے سے آکر اس کے کندھے پر اپنا سر رکھا
“یہ گلاب میرے گلاب کے لیے ایک زہریلے کانٹے کی طرف سے..!!”
“کانٹا کس کو کہا…؟؟”حیرام نے اس کا کان پکڑلیا
ارے..ارے مسٹر جارج کو کہا..ان کے باغیچے سے ہی تو لایا ہںوں مطلب ان کی طرف…!!”
“بس چپ..جس دن ان کو پتا چل گیا نا کہ تم ان کے باغیچے سے روز ایک گلاب توڑ کر لاتے ہںو تو تو تمہیں پوچھیں گے…!!”
“میں بھی ان کو پوچھ لوں گا پھر..”وہ شرارت سے بولا اور اس کے کندھے سے سر ہٹایا
“جاؤ جاکر فریش ہںوجاؤ…!!”حیرام نے کہا
“ہںوجاؤں گا…!!”وہ سنک پررکھے خالی کپ دھونے لگا
“افف چھوڑو حانو.!!پہلے اتنا تھک کر آتے ہںو پھر یہاں لگ جاتے ہںوجاؤ تم میں کرلوں گی…!!!”
“میں تو نہیں تھکا..سارا دن آپ کا نام میری نظروں کے سامنے ہںوتا ہے اور تھکن جاتی رہتی ہے..!!”
“تبھی تم نے ریسٹورینٹ کا نام حیرام پیلس رکھا ہے؟؟”وہ ہنس پڑی
وہ بھی ہنس دیا
“تھینک یو حیرام…!!!”
“وہ کس لیے…!!”حیرام نےپوچھا
ارحان کپ اسٹینڈ پر رکھ کر پلٹا اور اس کے قریب آکر اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے…!!!
“میری ذندگی میں آکر مجھے انسان بنانے کے لیے مجھے میری ذندگی سے محبت کرنا سکھانے کے لیے ..!!آپ میری جنت ہںں…!!!آپ میرا سکون ہںں سارے دن کی تھکن آپ کی ایک جھلک سے مٹ جاتی ہے..میں بہت خوش قسمت ہںوں کہ آپ میری ذندگی میں ہیں…!!”وہ محبت بھرے لہجے میں بولا اور اسکی پیشانی کو چوما…!!!حیرام پرسکون سی مسکرادی
“خوش قسمت تو میں ہںوں کہ جو تم جیسا محبت کرنے والا ہمسفر ملا….!!!”
ضروری نہیں کہ ہمیں ہر رشتہ اور انسان مکمل اور خاص ملے …کچھ عام انسانوں اور رشتوں کو سنوار کر خاص اور مکمل بنایا جائے تو ذندگی اور بھی خوبصورت لگتی ہے…!!!!!

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: