Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 1

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 1

–**–**–

“مم مجھے جانے دیں ۔۔
پلیز مجھے جانے دیں ۔۔
میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے ۔۔
کیوں کر رہے ہیں آپ ایسے ۔۔
آپ تو مجھ سے پیار کرتے تھے نا ۔۔
پلیز اس طرح مت کریں ۔۔
میں اپنا گھر بار سب چھوڑ کر یہاں آئی ہوں ۔۔
صرف آپ کے لیئے ۔۔
آپ کی محبت میں ۔۔
آپ میرے ساتھ اس طرح نہیں کر سکتے ۔۔
آپ سن رہے ہیں ۔۔
چھوڑیں مجھے پلیز چھوڑیں ۔۔
کہاں لے جا رہے ہیں ۔۔
پلیز چھوڑیں ۔۔
چھوڑیں ۔۔
آپ کو اللہ کا واسطہ ہے پلیز چھوڑ دیں مجھے ۔۔
پلیز ۔۔”
اس چھوٹی سی سولہ سترہ سالہ لڑکی کی چیخ و پکار بلکل ان سنی کرتے ہوئے وہ بے دردی سے اس کی دودھیا کلائی جکڑے اپنے ساتھ کھینچتا ہوا لے جا رہا تھا ۔۔
لائونج میں صوفے پر سکون سے لیٹے موبائل فون پر مصروف یامین گردیزی نے ایک ناگوار نظر اس شور مچاتی لڑکی پر ڈالی ۔۔
پھر چلائے ۔۔
“کیا تماشہ لگا رکھا ہے ۔۔
جس پیار کے لیئے تم ساری کشتیاں جلا کر آئی ہو ۔۔
وہ “پیار” ہی دیگا وہ تمہیں ۔۔!
پھر اتنا چیخ کیوں رہی ہو ہنی ۔۔؟”
ناگواری سے کہتے کہتے وہ آخر میں خباثت سے مسکرائے ۔۔
اس چھوٹی سی لڑکی نے سہمی نظروں سے یامین یزدانی کی طرف دیکھا پھر اس شہزادوں سی آن بان رکھنے والے شخص کو ۔۔
جس کی چار دنوں کی محبت میں پاگل ہو کر وہ اپنے ماں باپ کی عزت مٹی میں ملاتی رات کے اندھیرے میں اس کے پاس چلی آئی تھی ۔۔
یہ سوچ کر ۔۔
کہ وہ اسے اپنی عزت بنائے گا ۔۔
کمال بیوقوفی تھی نا ۔۔؟
شاہان گردیزی ۔۔
جس کی شخصیت ایک ہی نظر میں جادو سا چلا دیتی ہے ۔۔
وہ جادو گولا گنڈا کھاتی الہڑ سی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی گوہر پر بھی چلا تھا ۔۔
اور خوب چلا تھا ۔۔
اس کے گمبھیر لہجے میں کی گئی سحر زدہ باتوں ۔۔
اور دل لبھانے والے وعدوں میں آ کر اپنے بابا کی شہزادی اس محل کی شہزادی بننے کا خواب سجائے ساری حدیں توڑتی یہاں چلی آئی تھی ۔۔
کتنی بڑی حماقت کر بیٹھی تھی وہ ۔۔
اسے اب احساس ہوا تھا ۔۔
لیکن اب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔۔
منتیں رائگاں جاتی دیکھ کر اب وہ بددعائوں پر اتر آئی تھی ۔۔
ساتھ ساتھ دوسرے ہاتھ کے مکے بھی شاہان گردیزی کی مضبوط چوڑی پشت پر مسلسل مار رہی تھی ۔۔
اس کے نازک ہاتھوں کا کیا اثر ہونا تھا شاہان پر بھلا ۔۔؟
اپنے کمرے میں لا کر شاہان نے اسے جھٹکے سے بیڈ پر گرایا تھا ۔۔
پھر دروازہ بند کر کے وہ جن تاثرات کے ساتھ پلٹا تھا ۔۔
ان تاثرات نے اس چھوئی موئی سی بیوفوق لڑکی کی روح فنا کر دی تھی ۔۔
شاہان کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ لڑکی پوری قوت سے چلائی تھی لیکن اس کی چیخیں سننے والا وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔
بلکہ یہ کہنا بہتر ہے اس کی چیخیں سننے والا تو تھا ۔۔
اس کی چیخ میں چھپے درد کو سننے والا کوئی نہیں تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندہ لاش کی طرح وہ شاہان گردیزی اور یامین گردیزی کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی ۔۔
بلکہ شاہان اسے کلائی سے پکڑے گھسیٹ رہا تھا ۔۔
یہ گردیزی ولا کا کوئی خفیہ کمرہ تھا جو اسٹور روم کی تہہ میں بنا ہوا تھا ۔۔
اس کمرے کے دائیں بائیں برابر برابر میں دو دو جیلیں سی بنی تھی ۔۔
کل ملا کر وہ چار جیل نما کمرے تھے ۔۔
ان کمروں میں انسانیت بیٹھی دہاڑیں مار مار کر رو رہی تھی ۔۔
خوبصورت چہروں لیکن ویران آنکھوں والی کتنی ہی حسین و جمیل لڑکیاں اس کی طرح حیوانیت تلے رندھ چکی تھیں ۔۔
ان کی کہانیاں بھی یقیناً گوہر نامی اس سولہ سالہ لڑکی کی کہانی سے جدا نہیں تھیں ۔۔
چھوٹے سے محلے کی بڑے بڑے خواب دیکھنے والی ماں کی آنکھ کا تارا اور باپ کی لاڈلی موم کی گڑیا جیسی گوہر ۔۔
جو کل تک خود کو اس دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی تصور کرتی تھی ۔۔
اپنے نصیب کو سب سے جدا اور اونچا قرار دے رہی تھی ۔۔
تہہ خانے کی اس جیل میں داخل ہوتی گھٹنوں کے بل گر کر دہاڑیں مار کر رونے لگی ۔۔
واپسی کے لیئے قدم بڑھاتے یامین گردیزی اور شاہان گردیزی نے چونک کر اسے دیکھا ۔۔
پھر شانے اچکا کر بے پروائی سے آگے بڑھ گئے ۔۔
دونوں کے وجہہ لیکن سرد چہروں پر رحم کی ہلکی سی رمق بھی نہیں تھی ۔۔
ہو بھی کیسے سکتی تھی ۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سویمنگ پول سے نکل کر ملازم سے ٹاول لے کر خود کو خشک کرتے ہوئے یامین گردیزی کے سامنے والی کرسی پر جا بیٹھا اور عدم دلچسپی سے ان کی باتیں سننے لگا ۔۔
جو فون کان سے لگائے خوش اخلاقی کے بنے بنائے ریکارڈ توڑتے نظر آ رہے تھے ۔۔
“ارے بہن جی میں آپ سے پہلے ہی کہہ چکا ہوں ۔۔
جہیز وغیرہ ہمیں چاہیے ہی نہیں ۔۔
فضا بیٹی تو خود ایسا نایاب ہیرا ہے ۔۔”
ترنگ میں بولتے بولتے ایک پل کو رک کر یامین گردیزی نے شاہان کی طرف دیکھ کر آنکھ ماری ۔۔
شاہان کے لبوں پر پل بھر کو مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی تھی ۔۔
جبکہ یامین گردیزی پھر سے فون کال کی طرف متوجہ ہوگئے تھے ۔۔
“بس فضا اس مکان کو آ کر گھر بنادے ۔۔
میرے نالائق بھتیجے کو سنبھالے ۔۔
مجھ سے اب نہیں سنبھلتا یہ چھ فٹ کا بچہ بھئی ۔۔
ہاہاہاہا ۔۔
جی جی بہن جی اب مزید دیری نہیں کرنی ۔۔
اللہ کا دیا سب کچھ ہے ہمارے پاس ۔۔
آپ اس دنیا دکھاوے کی فکر چھوڑیں ۔۔
آپ خود کو زحمت ہی دیں گی فقط اور کچھ نہیں ۔۔
کیونکہ فضا بیٹی کے سوا ہم کچھ نہیں لینے والے ۔۔”
شاہان نے کوفت سے کنپٹیاں دبائی تھیں ۔۔
پھر ٹیبل پر رول پڑا نیوز پیپر اٹھا کر توجہ نیوز پیپر کی جانب مبزول کرلی ۔۔
تھوڑی بہت اور بات چیت کے بعد یامین گردیزی نے فون بند کر کے ٹیبل پر پھینکنے کے انداز میں رکھا ۔۔
“سر درد کر کے رکھ دیا اس بہن جی نے تو ۔۔”
شاہان نے ان کے بولنے پر ایک سرسری سی نظر ان پر ڈالی تھی ۔۔
کہا کچھ نہیں تھا ۔۔
“شادی کے دن قریب آ رہے ہیں ۔۔
آگے کی پلاننگ کیا ہے ۔۔؟”
انہوں نے تیوری چڑھا کر پوچھتے ہوئے شاہان کے ہاتھوں سے نیوز پیپر چھین کر ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔
“سمپل پلاننگ ہے ۔۔
ہنی مون کا بول کر مری لے جائوں گا ۔۔
وہاں خاور شیخ کے حوالے کردینا ہے اسے ۔۔”
بیزاری سے مختصر لفظوں میں پلاننگ بتا کر اس نے پھر اخبار اٹھا لیا ۔۔
“اس شیخ سے قیمت ذرا بھاری وصولنا ۔۔
فضا کافی خوبصورت ہے ۔۔
اس شیخ کے بڑھاپے میں عیش ہوجائیں گے ۔۔”
“مجھے سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔”
یامین گردیزی کی بات کے درمیان ہی وہ درشتگی سے گویا ہوا ۔۔
پھر اپنے گنگناتے فون کی طرف متوجہ ہوا ۔۔
“درد سری ۔۔”
اسکرین پر جگمگاتے نام کو دیکھ کر پہلے تو وہ جھنجلایا ۔۔
پھر کال ریسیو کر کے دلکشی سے مسکرایا ۔۔
“ہیلو سویٹ ہارٹ ۔۔؟
کچھ نہیں بیب ایسے ہی فری تھا ۔۔
آفکورس آئی مس یو مائی ڈارلنگ ۔۔
بیب ۔۔
کوئی تھی بھی تو تم سے ملنے کے بعد ماضی بن گئی ۔۔
تم میرا حال ہو ۔۔
اور تم ہی میرا مستقبل بھی ہو ۔۔
اسی طرح شک کرتی رہوگی میری محبت پر ۔۔ ؟
یقین نہیں کروگی تو کیسے چلے گا ۔۔”
شاہان ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر اپنا روز کا ڈرامہ شروع کر چکا تھا ۔۔
یامین گردیزی سر جھٹک کر مسکراہٹ دباتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر سویمنگ پول کی طرف بڑھ گئے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹے سے گھر میں مہمان ہی مہمان بھرے تھے ۔۔
صحیح معنوں میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی ۔۔
شزا بولائی بولائی اِدھر سے اُدھر چکراتی پھر رہی تھی ۔۔
ایک مصروفیت ختم ہوتی دوسری شروع ہوجاتی ۔۔
اس بیچاری نے تو یہ سوچا تھا کہ گھر کی پہلی شادی ہے ۔۔
وہ دلہن کی اکلوتی چھوٹی بہن ہے ۔۔
خوب ٹور شور دکھائے گی ۔۔
لیکن وہ تو فقط سجی سنوری ملازمہ بنی ہوئی تھی ۔۔
کوئی قریبی کزنز تھیں نہیں ۔۔
جو تھیں وہ عمر میں بہت چھوٹی یا بہت بڑی تھیں ۔۔
نہ کوئی بے تکلفی ہی تھی ان سے ۔۔
محلے سے آنے والی لڑکیاں سمٹی بیٹھی کھانا کھلنے کی منتظر تھیں ۔۔
کسی سے اس کی یا فضا کی خاص دوستی نہیں تھی ۔۔
ان دونوں بہنوں کو ایک دوسرے کے ہوتے ہوئے کسی اور سے دوستی کی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی ۔۔
عظمی بیگم کے ساتھ مل کر کام نبٹاتے ہوئے وہ بوکھلائی پھر رہی تھی ۔۔
یونہی کام کاج میں مگن اسے احساس ہی نہیں ہوا تھا ۔۔
کہ دو آنکھیں کب سے اس کے سانچے میں ڈھلے وجود کا طواف کر رہی ہیں ۔۔
یامین گردیزی نے مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے ترچھی نظروں سے شاہان کو دیکھا جو مروتاً مسکراتے ہوئے فضا کی کسی خالہ سے محو گفتگو تھا ۔۔
اس کی کشادہ پیشانی کا بل اس کی کوفت کا ثبوت تھا ۔۔
کچھ سوچ کر انہوں نے فضا کی خالہ سے معذرت کرتے ہوئے شاہان کے کان میں منہ دے کر اس کی توجہ شزا کی جانب مبزول کروائی تھی ۔۔
“اس کے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔؟”
شاہان نے ایک اچٹتی لیکن گہری نظر اپنے دوپٹے سے الجھتی کامنی سی شزا پر ڈالی پھر سپاٹ چہرے کے ساتھ دھیمے سے بڑبڑایا ۔۔
“پہلے فضا بی بی تو ٹھکانے لگیں ۔۔”
“ارے ایک ہفتے کے اندر اس کا پتہ صاف ہوجائے گا ۔۔”
یامین گردیزی نے نچلا ہونٹ انگوٹھے سے مسلتے ہوئے گہری نظروں سے پھر سے شزا کو دیکھا ۔۔
جبکہ شاہان نے بگڑ کر انہیں کہنی ماری ۔۔
“اس وقت اپنے رویئے اور نظروں پر کنٹرول رکھیئے چاچو ۔۔
یہ نہ ہو کہ شزا تو دور ۔۔
فضا سے بھی ہاتھ دھونے پڑجائیں ۔۔”
“یاہ ۔۔
سوری ۔۔”
یامین گردیزی فوراً جامے میں آ کر معتبر سے بن کر بیٹھ گئے ۔۔
جبکہ شاہان موبائل کی طرف متوجہ ہوگیا ۔۔
بیش قیمت سیاہ شیروانی میں ملبوس بے نیاز سے بیٹھے شاہان کی وجاہت و شخصیت سے مرعوب ہوتے ہوئے عفت خالہ نے اپنی نظریں اس پر سے ہٹا کر پہلو میں کھڑی عظمی بیگم پر ٹکادیں جو فون پر کسی کو ہدایات دے رہی تھیں ۔۔
جب عظمی بیگم فارغ ہوئیں تب عفت بیگم گلا کھنکھار کر گویا ہوئیں ۔۔
“عظمی ۔۔!”
“جی آپا ۔۔؟”
“اتنی مختصر بارات ۔۔
بس یہ آٹھ لوگ ۔۔؟”
سب خیریت ہے نا ۔۔؟
مطلب اپنی فضا کو ساری دنیا کے سامنے اپنائے گا ۔۔
یا چھپ چھپا کر رکھے گا ۔۔
ایسی بے رونقی توبہ ۔۔”
ان کی بات پر عظمی بیگم کا دل رک سا گیا ۔۔
کانٹوں سے بھری زندگی میں کبھی ان کے کسی اپنے نے ان کی خیریت جاننے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔
دو بچیوں کے ساتھ وہ جوانی میں بیوگی کی چادر اوڑھے ۔۔
گِدھوں سے بھرے معاشرے میں کیسے گزارہ کر رہی ہیں ۔۔؟
وہ سب لوگ اس شادی میں شرکت کرنے ان کے غریب خانے بھی ہرگز آنے کی زحمت نہ کرتے اگر جو فضا کی شادی معروف بزنس ٹائیکون سے نہ ہو رہی ہوتی ۔۔!
سب کی حیرت بجا تھی ۔۔
بھلا ایک انٹر پاس ۔۔
اس چھوٹے سے محلے میں رہنے والی درزن فضا طارق کے بھاگ اس بزنس ٹائیکون شاہان گردیزی سے کیسے جا ملے ۔۔؟
صرف اسی بات کے تحجس میں وہ سب عرصے بعد عظمی بیگم کے غریب خانے پر تشریف لائے تھے ۔۔
“یامین بھائی یہ بات پہلے ہی کہہ چکے ہیں ۔۔
شاہان زیادہ گھلتا ملتا نہیں ہے ۔۔
انتہائی ذاتی تقریب میں بس ان گنے چنے کچھ قریبی دوستوں کو ہی مدعو کرتا ہے ۔۔”
عظمی بیگم نے سمجھانے کی اپنی سی کوشش کری ۔۔
“پھر بھی عظمی ۔۔
اتنی مختصر ۔۔؟
یہ کوئی عام تقریب نہیں ہے اس کی اپنی شادی ہے ۔۔
یہ تین عورتیں یہ چار مرد ۔۔
بس ۔۔؟”
عفت بیگم کا منہ ہنوز بنا ہی رہا ۔۔
کچھ توقف کے بعد مزید گویا ہوئیں ۔۔
“مجھے لگ رہا ہے عظمی تم نے لالچ میں آ کر جلدی کی ۔۔
ان بڑے لوگوں کا تمہیں پتا نہیں ۔۔
کچھ وقت بعد ہماری فضا کو فارغ کر کے کسی رئیس لڑکی سے دھوم دھام سے شادی کر لے گا ۔۔
پھر تم ۔۔”
“بس آپا ۔۔”
عظمی بیگم نے ہاتھ اٹھا کر درشتگی سے انہیں ٹوک دیا ۔۔
“میری بچی کی زندگی کا اتنا بڑا دن ہے ۔۔
آپ دعائیں نہیں دے سکتیں تو ایسی دل ہولانے والی باتیں بھی مت کریں ۔۔
میں نے عبید بھائی سے کہا تھا شاہان کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیئے ۔۔
اللہ کے کرم سے اچھی خبریں ہی ملی ہیں ۔۔
باقی جو میری فضا کا نصیب ۔۔!”
آخر میں عظمی بیگم کی آواز رندھ گئی ۔۔
عفت بیگم ہنکار بھرتی پھر سے شاہان کی طرف متوجہ ہوئیں ۔۔
جو شکل صورت سے ہی نہیں اپنے ہر ہر انداز سے بھی کسی ریاست کا شہزادہ معلوم ہو رہا تھا ۔۔
عفت بیگم فطرتاً حاسد تھیں ۔۔
اس وقت بھی اپنے ٹکلے اور موٹے موٹے دامادوں کا موازنہ شاہان گردیزی سے کرتے ہوئے ان کا خون جل جل کر آدھا ہو چکا تھا ۔۔
کچھ دیر بعد بالآخر نکاح کی گھڑی بھی خوش اسلوبی سے نمٹ گئی ۔۔
پھر کھانا کھا لینے کے بعد دلہن کا لانے کا شوشا اٹھا ۔۔
شاہان نے فضا کی تصویر تو دیکھ رکھی تھی ۔۔
تاہم روبرو دیکھنا پہلی بار نصیب ہوا تھا ۔۔
کچھ دلچسپی اس کے چہرے پر بھی جھلکی تھی ۔۔
کہ جس لڑکی کی تصویر ہی اس قدر دلکش تھی ۔۔
وہ حقیقت میں کیسی ہوگی ۔۔؟
شاہان کی منتظر نظریں کمرے کے دروازے پر ہی جمی تھیں ۔۔
جب برائون چادر میں چھپی فضا کئی لڑکیوں کے جھرمٹ میں سہج سہج چلتی چلی آئی ۔۔
شاہان کے پہلو میں فضا کو بٹھانے کے بعد جب فضا کی چادر اتاری گئی تب ایک پل کو شاہان کی نظریں ہی نہیں دھڑکن بھی ساکت رہ گئی تھی ۔۔
لیکن اگلے ہی پل وہ خود کو سنبھال چکا تھا ۔۔
اس کے ساکت ہونے کی وجہ فضا کا حسن نہیں تھا ۔۔
اس سے زیادہ حسن تو اس نے گردیزی ولا کے تہہ خانے میں چھپا رکھا تھا ۔۔
لیکن کچھ تو تھا فضا نامی اس لڑکی کے چہرے پر ۔۔
جکڑ لینے والا ۔۔!
“بارات” کے ساتھ آئے تمام لوگوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے کچھ بات کی تھی ۔۔
وہ سب ہی فضا کو دیکھ کر مطمئین لگ رہے تھے ۔۔
یامین گردیزی نے سب سے نظریں بچا کر فضا کی تصویر کھینچ کر خاور شیخ کو سینڈ کردی ۔۔
“آپ کی امانت شیخ صاحب ۔۔”
“ماشااللہ ۔۔
کیا پیس ڈھونڈا ہے ۔۔
میں تو پلک جھپکنا ہی بھول گیا تھا ۔۔”
تھوڑی دیر بعد خاور شیخ کا جواب آیا جسے پڑھ کر یامین گردیزی مکروہ انداز میں ہنس پڑے ۔۔
دل ہی دل میں خاور شیخ کو ایک گندی گالی دے کر وہ بھی تصویریں کھنچوانے صوفے پر جا بیٹھے جہاں فضا کے ماموں وغیرہ انہیں بلوا رہے تھے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی کا سفر دو گھنٹے سے جاری تھا ۔۔
شہر کی حدود سے نکل کر اب وہ لوگ گردیزی ولا پہنچنے کے قریب تھے ۔۔
گاڑی میں چار نفوس کے ہوتے ہوئے بھی اس قدر خاموشی تھی ۔۔
اس پر سگرٹ کی ناگوار بدبو ۔۔
جب سے سفر شروع ہوا تھا ۔۔
شاہان کتنی ہی سگرٹیں پھونک چکا تھا ۔۔
کتنی ہی بار فضا کا دل چاہا کہ اسے ٹوک دے ۔۔
لیکن ایک تو وہ نئی نئی دلہن تھی ۔۔
پھر ڈرائیور اور یامین گردیزی بھی گاڑی میں موجود تھے ۔۔
وہ صرف ایسا سوچ ہی سکتی تھی ۔۔
اوپر سے سب کا رویہ بھی اس قدر خشک تھا ۔۔
فضا کو رونا آ رہا تھا ۔۔
شادی کی تقریب کے دوران چہکتے رہنے والے یامین گردیزی گاڑی میں بیٹھتے کے ساتھ ہی بلکل اجنبی ہوگئے تھے ۔۔
فضا بیٹی فضا بیٹی کا راگ الاپنے والے یامین گردیزی نے ایک بار بھی اپنی “فضا بیٹی” کو حوصلہ دینے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔
وہ اپنے گھر والوں سے بچھڑی تھی ۔۔
نئی نئی مشرقی دلہن تھی ۔۔
ان لوگوں کے پتھر دلوں میں کیا اس کے احساسات کا کوئی احساس نہیں جاگا تھا ۔۔؟
اسے پیاس لگ رہی تھی ۔۔
اور اب برداشت سے باہر تھا صبر کرنا ۔۔
لرزتی بھیگی پلکوں کو اٹھا کر فضا نے کافی فاصلہ رکھ کر اجنبی بنے بیٹھے اپنے شریک حیات کی طرف دیکھا ۔۔
بلاشبہ اس نے بھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے کے ساتھ ہی شاہان گردیزی جیسے ہی کسی شہزادے کے خواب سجائے تھے ۔۔
لیکن وہ شہزادہ اتنا کھڑوس نہیں تھا ۔۔
گہری سانس بھر کر اس نے خود کو بولنے کے لیئے تیار کیا ۔۔
پھر آخر کار گاڑی میں گھنٹوں سے چھائی سرد خاموشی کو فضا کی مدھم سی بھیگی آواز نے توڑ دیا ۔۔
“مجھے پانی چاہیے ۔۔”
یامین گردیزی نے چونک کر گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا ۔۔
حتی کے ڈرائیور نے بھی بیک ویومرر سے اس پر نظر ڈالی تھی ۔۔
لیکن جس سے وہ مخاطب تھی اس نے ایک اچٹتی نظر ڈالنی بھی ضروری نہیں سمجھی تھی ۔۔
وہ یونہی سگرٹ کے کش لگاتا کھڑکی سے نظر آتے رات کے اندھیرے میں ڈوبے راستوں پر نظریں جمائے رہا ۔۔
فضا کا دل یوں نظرانداز کیئے جانے پر دھک سے رہ گیا تھا ۔۔
جبکہ آنکھوں میں جمع آنسو لڑھیوں کی صورت گال پر گرنے لگے ۔۔
یامین گردیزی نے پہلے تو گہری نظروں سے فضا کو سر سے پیر تک دیکھا ۔۔
پھر پانی کی بوتل اٹھا کر اس کی طرف بڑھا دی ۔۔
فضا کا دل اتنا بوجھل ہو رہا تھا کہ اس سے شکریہ بھی نہیں کہا گیا ۔۔
بغیر کچھ کہے جب اس نے بوتل لینے کے لیئے ہاتھ بڑھایا تب اس کی انگلیاں یامین گردیزی کی انگلیوں سے مس ہوگئیں ۔۔
فضا کو جیسے کرنٹ لگا تھا ۔۔
بوتل پکڑ کر اس نے تیزی سے ہاتھ پیچھے کر لیا ۔۔
بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں پر کنٹرول کرتے ہوئے اس نے پانی کی بوتل لبوں سے لگا لی ۔۔
“مجھے ایسا کیوں لگا کہ یامین چاچو نے جان بوجھ کر انگلیاں مس کی تھیں ۔۔”
وہ دل ہی دل میں نہ جانے کب تک الجھتی رہتی ۔۔
کہ بھاری ہوتے دماغ نے اسے مزید کچھ سوچنے سمجھنے سے روک دیا ۔۔
اپنی سوچوں میں گم شاہان پہلی بار فضا کی طرف مکمل متوجہ ہوا تھا ۔۔
کیونکہ ہوش و خرد سے بیگانہ فضا کا سر اس کے شانے پر لڑھکتا آیا تھا ۔۔
“آپ نے اسے کونسا پانی دیا ہے ۔۔؟”
“جو دینا چاہیے تھا ۔۔
نہیں تو کونسا بہانہ بناتے تم آج کی رات دلہے میاں ۔۔؟”
اپنی دائیں آنکھ دبا کر انہوں نے کمینگی سے پوچھا ۔۔
ساتھ ہی ہنس بھی پڑے ۔۔
ڈرائیور بھی ان کے ساتھ بے تکلفی سے قہقہ لگا کر ہنس پڑا ۔۔
اور گویا ہوا ۔۔
“ویسے صاحب جی ۔۔
یہ والا مال بہت زبردست ہے ۔۔”
“ہے نا ۔۔؟
پتا ہے خرم ۔۔
یہ والی خالص میری پسند ہے ۔۔
ایک نظر میں فدا ہوگیا ۔۔
پہلے تو سوچا بھتیجے کی جگہ اپنا رشتہ بھیج دیتا ہوں ۔۔
پھر سوچا میں بڈھا ہوں ۔۔
کہیں انکار ہی نہ ہوجائے ۔۔
ایویں اتنا قیمتی ہیرا ہاتھ سے نکل جاتا ۔۔”
ان کی باتیں عدم دلچسپی سے سنتے ہوئے شاہان نے گردن موڑ کر فضا کی طرف بغور دیکھا ۔۔
خیال آیا کہ اس کا سر شانے سے ہٹا دے ۔۔
لیکن پھر سر جھٹک کر اگلی سگرٹ نکالنے لگا ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: