Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 10

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 10

–**–**–

نہ جانے کتنے گھنٹوں سے ہاسپٹل کے کاریڈور میں بیٹھا شاہان سکتے کی کیفیت میں لگ رہا تھا ۔۔
اس کے کپڑوں پر لگے خون کو سب فضاء کا خون ہی سمجھ رہے تھے ۔۔
اس لیئے کسی نے کوئی ری ایکٹ نہیں دیا تھا ۔۔
اس کی غیر مرئی نقطے کو گھورتی پھیلی آنکھوں میں نمی کی ہلکی سی تہہ چمک رہی تھی ۔۔
دونوں ہاتھوں کا شکنجہ بنائے وہ ہارا ہوا لگ رہا تھا ۔۔
سب کچھ ہارا ہوا لٹا پٹا سا ۔۔
جب ڈاکٹر کے باہر آنے پر اس کے مردہ وجود میں گویا جان پڑ گئی تھی ۔۔
“ڈاکٹر ۔۔؟”
نچلا لب کچلتے ہوئے وہ اضطراب میں گھرا اتنا ہی بول سکا ۔۔
اور پھر ڈاکٹر نے جو فضاء کی کنڈیشن بتائی وہ پرسکون بھی ہوگیا تھا اور شدید غصہ بھی ۔۔
فضاء کی پیشانی ۔۔ ناک ۔۔
بائیں آنکھ کا پپوٹا اور نچلا ہونٹ شدید زخمی ہوئے تھے ۔۔
لیکن خوش قسمتی سے اس کی بینائی بچ گئی تھی ۔۔
چہرے پر کافی نشان پڑگئے تھے ۔۔
جو معمولی سرجری کے ذریعے ٹھیک ہو سکتے تھے ۔۔
تاہم بلکل معدوم ہونے میں کافی وقت لگنا تھا ۔۔
اس وقت سب سے اہم خبر یہ تھی کہ وہ ٹھیک تھی ۔۔
صحیح سلامت تھی ۔۔
وہ اسے دیکھ سکتا تھا ۔۔
چھو سکتا تھا ۔۔
باتیں کر سکتا تھا ۔۔
لیکن سوال یہ اٹھتا تھا کیا فضاء اب اسے دیکھنا چھونا یا باتیں کرنا گوارا کر سکتی تھی ۔۔
بوجھل دل لیئے شاہان بینچ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا ۔۔
“یہ تم نے ٹھیک نہیں کیا فضاء ۔۔
بلکل ٹھیک نہیں کیا ۔۔
بات کلیئر ہونے سے پہلے خود کا اتنا نقصان کر لیا ۔۔
اگر کوئی بڑا نقصان ہوجاتا تو ۔۔
تم جذباتی ہو مجھے اندازہ تھا ۔۔
لیکن اتنی ۔۔
ڈیم اٹ ۔۔”
بیٹھے بیٹھے پیر زمین پر مار کر شاہان بالوں میں تیز تیز انگلیاں چلاتے ہوئے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔
ورنہ اس وقت اس کی کنپٹیوں سے گویا آگ نکل رہی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“لاش کو نمٹا دیا ہے ۔۔
اس طرف سے مطمئین ہوجائو ۔۔
فضاء بھی ٹھیک ہے ۔۔
باقی سب بھی ٹھیک ہوجائے گا انشااللہ ۔۔”
یامین گردیزی شاہان کو تمام تفصیلات بتا کر آخر میں بولے تھے ۔۔
مقصد آتش فشاں بنے شاہان کو پرسکون کرنا تھا ۔۔
جواباً شاہان ہنکار بھر کر رہ گیا ۔۔
“فضاء کی ماں کو اس بارے میں انفارم کیا ۔۔”
شاہان کے مزاج کو دیکھتے ہوئے یامین گردیزی اس وقت بہت سنبھل سنبھل کر بول رہے تھے ۔۔
“ہاں ۔۔”
بیزاری سے جواب دیتے ہوئے شاہان نے چونک کر ہوش کی طرف لوٹتی فضاء کو دیکھا تھا ۔۔
فضاء سے اپنی آنکھیں کھولنی مشکل ہو رہی تھیں ۔۔
وہ چہرہ دائیں بائیں کرتی کراہ رہی تھی ۔۔
شاہان نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے بالوں میں پھیرنا شروع کر دیا ۔۔
“فضاء انہیں کچھ بتا نہ دے ۔۔”
یامین گردیزی کی تشویش ناک آواز ابھری ۔۔
“پہلی بات تو یہ کہ فضاء انہیں کچھ نہیں بتائے گی ۔۔”
شاہان فضاء کے چہرے کے قریب چہرہ کر کے ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا ۔۔
فضاء کی بائیں آنکھ پر تو پٹی تھی ۔۔
فضاء نے خوفزدہ ہو کر دائیں آنکھ بمشکل کھول کر شاہان کو دیکھا تھا ۔۔
اس کے دیکھنے پر شاہان ہلکا سا مسکرا دیا ۔۔
دو دن بعد وہ مکمل ہوش میں آ رہی تھی ۔۔
دل و دماغ بلکل فریش ہوگئے تھے ۔۔
شاہان اپنا ہاتھ فضاء کے سر سے ہٹا کر آنکھ سے بہتے آنسئوں کو نرمی سے صاف کرنے لگا اور مزید گویا ہوا ۔۔
“اور اگر فضاء سب بتا بھی دیتی ہے تو فضاء کی فیملی کر کیا لے گی چاچو ۔۔؟
بھلا ہمارے معاشرے میں ایک بآختیار مرد کے آگے بےبس بےسہارا عورتو کا ساتھ کون دے گا ۔۔؟
چاہے عدالتیں ہوں یا چاہے میڈیا ہو ۔۔
سب امیروں کی لونڈیاں ہیں ۔۔
اور پولیس کا جو سرپرست ہے وہ ہمارا شاگرد ہے ۔۔
ایسے میں کون سنے گا ان کی بات ۔۔؟”
دائیں ابرو اٹھا کر شاہان نے فضاء کی طرف جتاتی نظروں سے دیکھا تھا ۔۔
وہ مخاطب یامین گردیزی سے تھا لیکن سنانا اسے مقصود تھا جو اس کے اشاروں کو اچھی طرح سمجھ بھی رہی تھی ۔۔
“اچھا میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں چاچو ۔۔”
رابطہ منقطع کر کے شاہان نے فون جیب میں ڈال لیا اور سیدھا کھڑا ہو کر پشت پر ہاتھ باندھے سنجیدہ نظروں سے اسے گھورنے لگا ۔۔
“مجھے تمہاری تکلیف سے تکلیف ہوئی ہے فضاء ۔۔
اور میں خود کو تکلیف پہنچانے والوں کو کبھی معاف نہیں کرتا ۔۔
لیکن میں تمہیں معاف کرتا ہوں ۔۔
کیونکہ تم مجھے بہت پیاری ہوگئی ہو ۔۔”
پلکیں جھپکے بغیر ایک ٹک فضاء کے زخم آلود چہرے کو تکتے ہوئے شاہان ٹھہر ٹھہر کر گویا ہوا تھا ۔۔
“تم جو جان گئی ہو ۔۔
ہاں وہ سچ ہے ۔۔
لیکن اس سے بڑا سچ یہ ہے کہ تم میرے نکاح میں ہو اور میں تمہیں چاہتا ہوں ۔۔
تمہاری عزت میری عزت ہے ۔۔
اس کی حفاظت تم سے زیادہ میں خود پر فرض سمجھتا ہوں ۔۔
میں چاہتا ہوں فضاء ۔۔
تم نے وہاں جو دیکھا جو سنا جو سہا ۔۔
تم سب بھول جائو ۔۔
صرف اتنا یاد رکھو کہ تم میری بیوی ہو ۔۔
میری عزت بھی ہو اور آفکورس محبت بھی ۔۔”
شاہان اسٹول گھسیٹ کر اس پر بیٹھ گیا اور پھر سے فضاء کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا ۔۔
تاکہ وہ کچھ پرسکون ہوجائے ۔۔
“میں تمہیں دوبارہ کبھی گردیزی ولا لے کر نہیں جائوں گا ۔۔
فارم ہائوس ہے ۔۔
بہت پیارا سا ۔۔
ہم وہاں رہیں گے ساتھ ساتھ ہنسی خوشی پہلے کی طرح ۔۔
اوکے ۔۔؟”
وہ یوں بات کر رہا تھا جیسے سامنے کوئی چھوٹا بچہ ہو جو کسی معمولی سی بات کو دل پر لیئے روٹھا بیٹھا ہو ۔۔
فضاء لب سختی سے بھینچے بھیگی قہر بار نظر سے شاہان کو گھورے جا رہی تھی ۔۔
شاہان ذرا شرمندہ نہیں تھا اپنی حقیقت کے کھل جانے پر ۔۔
نہ کوئی وضاحت نہ دل ہلکا کرنے کو کوئی وعدہ ۔۔
جھوٹا ہی سہی ۔۔
لیکن نہیں ۔۔!!
“ابھی تمہاری امی آئیں گی ۔۔
تمہیں انہیں بتانا ہے کہ تم گلاس ٹیبل پر گر گئی تھیں ۔۔
اوکے ۔۔؟
فضاء میں پوچھ رہا ہوں ۔۔
اوکے ۔۔؟
سمجھ گئیں ۔۔؟”
شاہان اس کی مسلسل چپ پر جھنجلا گیا تھا ۔۔
“سارا معاشرہ ہوگا آپ کے ساتھ ۔۔
لیکن میرے فیملی میرا ساتھ ضرور دے گی ۔۔
مجھے کسی اور کا ساتھ چاہیے بھی نہیں ۔۔
میں امی کو سب کچھ بتائوں گی ۔۔
میں ان کے ساتھ چلی جائوں گی ۔۔
کم از کم مجھے آپ کے ۔۔”
“شٹ آپ ۔۔”
فضاء کی بات درمیان میں کاٹ کر شاہان بھینچی آواز میں بھڑکا تھا ۔۔
“میں اتنی دیر سے کیا کہہ رہا ہوں سمجھ نہیں آ رہا تمہارے ۔۔؟
جو ہوا اسے بھول جائو ۔۔”
“اتنی بڑی اور کڑوی حقیقت کیسے بھول جائوں ۔۔”
فضاء چیخنا چاہتی تھی لیکن اس میں اتنی ہمت نہیں تھی ابھی ۔۔
“کچھ نہ ممکن نہیں ہوتا ۔۔
بس سوچنا اور کڑھنا چھوڑ دو ۔۔اس سب کو بھولنے کی کوشش کرو ۔۔
کبھی میری محبت اور رویئے میں کوئی کمی بیشی دیکھو تو ضرور گلہ کرنا ۔۔
لیکن ۔۔”
“میں امی کو سب کچھ بتائوں گی اور ان کے ساتھ جائوں گی ۔۔
آپ کیا کر لیں گے ہاں ۔۔؟
کیا کر کیا لیں گے آپ ۔۔
کتنے ۔۔
کتنے گھٹیا ہیں آپ ۔۔
ذرا شرمندگی تک نہیں ۔۔؟
آپ مجھے اپنی عزت کہتے ہیں ۔۔
پھر میرے ساتھ جو کچھ ہوا کیا اس نے آپ کو احساس نہیں دلایا کہ آپ جو کر رہے ہیں غلط کر رہے ہیں ۔۔
گناہ کر رہے ہیں آپ ۔۔”
“نادان چھوٹی بچیاں ہیں وہ کہ میں ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے آیا اور وہ معصوم سی کچھ سمجھے بغیر چلی آئیں ۔۔
مائے فٹ ۔۔
وہ یہی سب ڈیزرو کرتی ہیں ۔۔
ان کی فکر چھوڑ دو ۔۔
وہ خود اپنی مرضی سے آئی ہیں یار ۔۔”
شاہان کی پیشانی کی رگ بری طرح پھڑک رہی تھی ۔۔
چہرہ غصے اور ضبط سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔
“وہ آپ کی محبت میں چلی آئی تھیں شاہان ۔۔
جب محبت ہوتی ہے تب انسان اپنی مرضی کرنا بھول جاتا ہے ۔۔”
فضاء شاہان کے روکنے کے باوجود اٹھ بیٹھی تھی ۔۔
اور تکیے سے ٹیک لگائے گہری گہری سانسیں لیتے ہوئے بولی تھی ۔۔
اس کا چہرہ آنسئوں سے بھیگ گیا تھا ۔۔
“ہاہا ۔۔
عورتیں اپنی ہوس کا محبت کا نام دے کر خود کو دھوکا دیتی ہیں ۔۔
اور سمجھتی ہیں باقی سب بھی عقل سے پیدل ہیں ۔۔
تم بھی عورت ذات ہو ۔۔
ان کی ہوس اور بیوقوفی کو محبت کا نام دے کر انہیں جسٹیفائی کر رہی ہو ۔۔
اگر تمہیں یہ کر کے اچھا فیل ہوتا ہے تو ضرور کرو ۔۔”
“آپ کے سمجھ کیوں نہیں آ رہی ۔۔
آپ انسان نہیں ہیں حیوان ہیں ۔۔
میں نہیں رہنا چاہتی آپ کے ساتھ ۔۔”
“پھر وہی فضول ضد ۔۔”
اپنی ہتھیلی پر مکا مار کر شاہان غرایا تھا ۔۔
“تمہاری ماں تو کیا ۔۔
تمہارا باپ بھی قبر سے نکل کر تمہیں مجھ سے دور نہیں کر سکتا جب تک میں خود نہ چاہوں ۔۔”
شاہان کا لہجہ رعونت آمیز تھا ۔۔
“میں اپنی جان لے لوں گی ۔۔
میں اپنی جان لے لوں گی جان لے لوں جان لے لوں گی ۔۔
ختم کر لوں گی خود کو ۔۔
سنا آپ نے ۔۔
آپ ضد پر ہیں تو میں بھی کم ضدی نہیں ہوں ۔۔
آپ جیسے گنہگار انسان کے ساتھ زندگی گزارنے سے ۔۔”
“شزا ۔۔
شزا نام ہے نا تمہاری بہن کا ۔۔؟
رائٹ ۔۔؟
کافی پیارا نام ہے ۔۔
اور وہ اپنے نام سے بھی زیادہ پیاری ہے ۔۔
جلنا مت ۔۔
مجھے تو سب سے پیاری تم ہی ہو ۔۔
ہاہا ۔۔”
فضاء کی بات گویا بلکل ان سنی کیئے شاہان ہلکے پھلکے پرمزح انداز میں پوچھتا فضاء کا رنگ فق کر گیا تھا ۔۔
وہ جو بولتے بولتے بہت جنونی ہوگئی تھی ۔۔
شاہان کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے سراسیمہ سی اسے دیکھنے لگی ۔۔
“چاچو بھی شزا کے بارے میں بات کر رہے تھے ۔۔
لیکن شزا تمہاری بہن ہے اور تمہیں عزیز بھی ۔۔
سو میں نے ارادہ کینسل کر دیا تھا ۔۔
لیکن اب ۔۔
سوچ لو فضاء ڈارلنگ ۔۔
تم جتنے قدم مجھ سے دور جائوگی ۔۔
بدنامی تمہاری بہن کی طرف اتنے ہی قدم بڑھائے گی ۔۔
تم خود کو نقصان پہنچائوگی تو میں تمہاری ماں اور بہن پر زندگی حرام کردوں گا ۔۔
بلکہ زندگی نہیں ۔۔
عزت کی زندگی ۔۔!
سمجھ رہی ہو نا ۔۔؟
یاد رکھنا فضاء ۔۔
مجھے کسی سے کوئی ہمدردی نہیں ۔۔
تمہاری بہن کو نقصان پہنچاتے ہوئے مجھے بلکل افسوس نہیں ہوگا ۔۔”
“آپ میری سوچ سے بڑھ کر گھٹیا ہیں ۔۔”
بےبسی کی انتہا پر پہنچی فضاء پھنکاری تھی ۔۔
“بلکل ہوں ۔۔
کوئی شک نہیں ۔۔
ابھی آنٹی آئیں گی ۔۔
ان سے جو بھی بات کرنا میرا گھٹیا پن ذہن میں رکھ کر کرنا ۔۔”
مزے سے شانے اچکا کر کہتے ہوئے شاہان ٹیبل کی طرف بڑھ گیا جس پر فروٹس رکھے تھے ۔۔
“سیب کھائوگی ۔۔؟
بلکل کھائوگی ۔۔
تمہیں کھانے ہی پڑیں گے ۔۔”
خود ہی سوال جواب کر کے شاہان نفاست سے سیب کاٹنے لگا جبکہ فضاء بےیقینی سے اس کا بےپروہ انداز دیکھ رہی تھی ۔۔
وہ واقعی بہت گھٹیا تھا ۔۔
کیا اس جیسی عام سی لڑکی ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہے ۔۔
ساری زندگی ۔۔؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہان سینے پر بازو لپیٹے سنجیدہ نظروں سے فضاء کو گھور رہا تھا جو عظمی بیگم کے سینے سے لگی خاموش آنسو بہائے جا رہی تھی ۔۔
درمیان میں سسکیاں بھی جاری تھیں ۔۔
شاہان یہاں سے جانا چاہتا تھا ۔۔
اسے اس ایموشنل سین سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔۔
لیکن اس طرف سے مطمئین ہو کر جانا چاہتا تھا ۔۔
وہ جاننا چاہتا تھا کہ فضاء اس کی باتیں سمجھ گئی ہے یا نہیں ۔۔
“ایسے کیسے ٹیبل پر گر گئی تم ۔۔؟
مجھے تو سمجھ ہی نہیں آ رہا کچھ ۔۔
چوٹیں بھی صرف چہرے پر آئی ہیں ۔۔”
بغور شاہان کی طرف دیکھتے ہوئے شزا نے فضاء سے پوچھا تھا ۔۔
انداز میں کچھ تو ایسا تھا جو شاہان نے بھی چونک کر پھر گھور کر شزا کو دیکھا تھا ۔۔
عظمی بیگم کے شانے سے سر اٹھا کر فضاء نے ایک نظر شزا کو دیکھا ۔۔
دل چاہا کہ سارے راز کھول دے ۔۔
اور بھاگ جائے اس شخص سے بہت دور ۔۔
لیکن شاہان کی باتوں کو جھٹلایا بھی نہیں جا سکتا تھا ۔۔
وہ ککس حد تک جا سکتا تھا ۔۔
تہہ خانے کا حال دیکھ کر انداازہ لگانا مشکل نہیں تھا ۔۔
“جج جسم میں بھی کافی چھوٹے موٹے زخم آئے ہیں ۔۔
لیکن چہرہ سیدھا ٹیبل سے ٹکرا گیا ۔۔
اچانک ہی گری تھی ۔۔
کچھ سمجھ نہیں آیا کیا بچائوں کیسے بچائوں ۔۔”
آنسئوں سے بوجھل آواز میں بولتے ہوئے وہ پھر عظمی بیگم کے شانے میں منہ دے کر پھپھک کر رونے لگی ۔۔
شاہان کے دماغ سے جیسے ایک بھاری بوجھ سرکا تھا ۔۔
ہلکا پھلکا سا ہو کر وہ عظمی بیگم سے ایکسیوز کرتے ہوئے کمرے سے نکل گیا تھا ۔۔
“فضاء ۔۔”
عظمی بیگم شاہان کے جانے کے بعد کچھ پرسکون ہوگئی تھیں ۔۔
اب وہ آرام سے دل ہلکا کر سکتی تھی ۔۔
“جی امی ۔۔؟”
“واقعی تم ٹیبل پر گری تھیں ۔۔؟
مجھے سچ بتائو بیٹا ۔۔
تمہاری شادی ہوگئی ہے لیکن میں اب بھی تمہاری ماں ہوں ۔۔
جیسے تم شادی سے پہلے اپنی چھوٹی چھوٹی پرابلمز مجھ سے شیئر کرتی تھیں ۔۔
اب بھی کر سکتی ہو ۔۔
مجھے بتائو کیا ہوا تھا ۔۔؟
کیا شاہان نے ۔۔؟”
“نہیں امی جیسا آپ سوچ رہی ہیں ویسا کچھ نہیں ہے ۔۔”
فضاء جو بھیگی نظروں سے اپنی ماں کا فکرمند چہرہ دیکھے جا رہی تھی ۔۔
شاہان کا ذکر آنے پر گھبرا کر فوراً ٹوک گئی تھی ۔۔
“میرا پیر کارپٹ میں اٹک گیا تھا اور پھر میں گر گئی ۔۔”
“تو پھر اس طرح مسلسل کیوں رو رہی ہو ۔۔؟
میرا دل بیٹھ رہا ہے ۔۔”
عظمی بیگم نے شزا سے اشارے سے پانی کا گلاس مانگتے ہوئے پوچھا ۔۔
اور اس سے پانی کا گلاس لے کر فضاء کے لبوں سے لگا دیا ۔۔
وہ صحرائی پیاسے کی طرح سارا پانی پی گئی ۔۔
اور کچھ سنبھل بھی گئی ۔۔
“میرا چہرہ خراب ہوگیا نا سارا ۔۔
اس لیئے ۔۔”
“کوئی نہیں ۔۔
اتنا بھی خراب نہیں ہوا ۔۔
کیوں شزا ۔۔؟
شاہان کہہ رہا تھا ہلکی سی سرجری ہوگی ۔۔
پھر سب بلکل ٹھیک ہوجائے گا ۔۔
اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آنکھ بچ گئی ۔۔
ورنہ بڑا مسئلہ ہوجاتا ۔۔
بس اب رونا بند کرو اور پریشان مت ہو ۔۔
میری بیٹی ابھی بھی بہت پیاری لگ رہی ہے ۔۔”
عظمی بیگم اس کی طبیعت کے پیش نظر بچوں کی طرح پچکار رہی تھیں ۔۔
شزا بھی اس کا سر تھپک رہی تھی ۔۔
جبکہ ذرا سا دروازہ کھولے ان کی باتیں سنتا شاہان اپنی موجودگی کا احساس دلائے بغیر دروازہ بند کرتا پیچھے ہوگیا ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: