Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 11

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 11

–**–**–

ہاسپٹل سے مکمل فارغ ہونے کے بعد فضاء نے عظمی بیگم کے ساتھ جانے کو ترجیح دی تھی ۔۔
شاہان اس وقت تو چپ ہوگیا تھا اس کی طبیعت کا خیال کرتے ہوئے ۔۔
لیکن جب مہینہ گزرنے کو ہوگیا اور فضاء نے اس کی کال میسجز وغیرہ مکمل اگنور کرنے شروع کردیئے تب شاہان صحیح معنوں میں تپ گیا تھا ۔۔
اور پیشانی پر ان گنت بل لیئے آج فضاء کے گھر موجود تھا ۔۔
دوسری طرف فضاء کے پاس ساری مصیبتوں سے چھٹکارے کا ایک ہی حل تھا ۔۔
“نیند ۔۔!”
اس کی ہمیشہ سے یہی عادت رہی تھی کہ جہاں کسی پریشانی نے سر اٹھایا ۔۔
فضاء نے اپنا سر تکیے پر گرا لیا ۔۔
ہاں جس مسئلہ کا سامنا عظمی بیگم یا شزا کو کرنا پڑتا وہ اس میں ہر ممکن تعاون کرتی تھی ۔۔
لیکن جو مسئلہ صرف اس کے سر ہوتا ۔۔
وہ اس مسئلہ کا یونہی سو کر مقابلہ کیا کرتی تھی ۔۔
اس ایک مہینے میں وہ سارے سال کا سو چکی تھی ۔۔
عظمی بیگم کو اس کی طبیعت کا احساس نہ ہوتا ۔۔
یا فضاء کے سر شادی شدہ ہونے کا اعزاز نہ ہوتا تو عظمی بیگم اسے اب تک کئی جوتیاں رسید کر چکی ہوتیں ۔۔!
اس وقت بھی شاہان کی آمد سے بےخبر وہ بیڈ پر اوندھی پڑی مدھم مدھم سانسیں لیتی زندگی میں آنے والی اس عجیب مصیبت کا سامنہ کر رہی تھی ۔۔
جب شاہان عظمی بیگم سے اجازت لے کر اس کے اور شزا کے مشترکہ کمرے میں چلا آیا تھا ۔۔
پشت پر ہاتھ باندھے شاہان نے ایک اچٹتی نظر سے اس چھوٹے سے کمرے کا جائزہ لیا تھا ۔۔
دو چھوٹی پیٹیا ایک دوسرے پر رکھ کر ان پر کور چڑھایا ہوا تھا جبکہ ساتھ ایک ٹوٹے ہتھے والی پرانی سی کرسی بھی رکھی تھی ۔۔
یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ رائٹنگ ٹیبل کا ایک نیا نمونہ تھا ۔۔
زنگ آلود لوہے کی چھوٹی سی الماری بھی کونے میں پڑی تھی ۔۔
جبکہ سیمنٹ کا فرش اکھڑا ہوا تھا اور دیواروں کا چونا تقریباً جھڑ چکا تھا ۔۔
دیوار پر کیلنڈر اور پرانی سی گھڑی ٹنگی تھی جس کا شیشہ ایک کونے سے ٹوٹا ہوا تھا ۔۔
ایک بیڈ ہی وہاں کچھ قابل قبول حالت میں تھا ۔۔
اور اس پر وہ ظالم حسینہ اسے امتحان میں ڈال کر خود سکون سے سو رہی تھی ۔۔
نا محسوس مسکراہٹ لبوں پر بکھیرے فضاء کے قریب جا کر شاہان جھکا تھا ۔۔
اپنے دونوں ہاتھ اس کے دائیں بائیں ٹکائے شاہان نے اس کے کان میں چمکتی ننھی سی بالی پر لب رکھے تھے ۔۔
فضاء اتنی جلدی اٹھنے والوں میں سے تھی تو نہیں لیکن کوئی عجیب سا احساس تھا جو اسے نیند کی وادی سے کھینچ تان کر لے آیا تھا ۔۔
مندی مندی آنکھیں کھول کر پہلے تو فضاء نے اپنے سامنے نظر آتے اس مضبوط ساخت والے ہاتھ کو دیکھا ۔۔
پھر ہاتھ سے ہوتی ہوئی نظریں شاہان کے چہرے پر چلی گئیں ۔۔
جو اس کے دیکھنے پر مسکرایا تھا ۔۔
“چلو گھر چلیں ۔۔
بہت ہوگیا ۔۔”
فضاء ہنوز نیند کے زیر اثر تھی جب ہی آنکھیں سکیڑے نہ سمجھی سے شاہان کو دیکھتی رہی ۔۔
اور کوئی جواب نہ دیا شاہان کی اس سرگوشیانہ التجا کا ۔۔
پھر جیسے جیسے فضاء کا دماغ چلنا شروع ہوا ۔۔
فضاء کا رنگ اڑتا چلا گیا ۔۔
اور آنکھیں پھیلتی چلی گئیں ۔۔
شاہان نے بغور اس کے چہرے پر چھائی چھائی خوف کی پرچھائیاں دیکھیں ۔۔
پھر اس کی پیشانی چومتا سیدھا کھڑا ہوگیا ۔۔
“اٹھو گھر چلنا ہے نا ۔۔
جلدی سے فریش ہوجائو شاباش ۔۔”
شاہان اسے بازو سے پکڑے بیڈ سے اتارنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔
انداز میں بیت نرمی تھی ۔۔
لیکن اگلے ہی پل اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے جب فضاء نے جھٹکے سے اپنا بازو شاہان سے چھڑوا لیا تھا ۔۔
“لگتا ہے تم میری باتیں بھول گئی ہو ۔۔
میں پھر سے نہیں دہرائوں گا ۔۔
یاد کرنے کی کوشش کرو ۔۔
تمہارے پاس دس منٹ ہیں ۔۔”
بڑا نرم گرم سا وارننگ دیتا لہجہ تھا ۔۔
جس نے فضاء کو روہانسہ کر دیا تھا ۔۔
“میں آپ کے بارے میں کسی کو کبھی کچھ نہیں بتائوں گی ۔۔
میں وعدہ کرتی ہوں ۔۔
پلیز مجھے دہری اذیت نہ دیں ۔۔
میرے لیئے ناممکن ہے آپ جیسے شخص کے ساتھ رہنا ۔۔”
“شزا کے لیئے بھی ناممکن ہوگا اس تہہ خانے میں رہنا ۔۔
رائٹ ۔۔؟
ارے ڈر کیوں رہی ہو ۔۔
یونہی کہہ رہا تھا ۔۔”
جتاتی ہوئی مسکراہٹ لبوں پر سجائے یہ کہتا شاہان فضاء کو دنیا کا سب سے پتھردل شخص لگا تھا ۔۔
“آپ واقعی مجھ سے محبت کرتے ہیں ۔۔؟”
جو شخص کسی کا احساس نہ کرتا ہو وہ کسی سے محبت کیا کرے گا ۔۔؟
ظاہر ہے یقین کرنا مشکل تھا ۔۔
“بہت ۔۔”
شاہان نے فوراً جواب دیا تھا ۔۔
“یہ کیسی محبت کرتے ہیں آپ ۔۔؟”
“فضاء سخت عاجز ہو کر بھرائی آواز میں بولی تھی ۔۔
“پتہ نہیں بھئی کون کون سی ۔۔
کیسی کیسی قسمیں دنیا میں پائی جاتی ہیں ۔۔
میں تو محبت کی ایک ہی قسم سے واقف ہوں ۔۔
ضدی محبت ۔۔!
جو میرے دل میں ہے وہ میرے ساتھ بھی ہو ۔۔”
فضاء کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کرتے ہوئے شاہان بلکل بدلے بدلے دل کو چھوتے لہجے میں بولا تھا ۔۔
لہجے بعض اوقات جھوٹے بھی ہوتے ہیں ۔۔
لیکن آنکھیں جھوٹ نہیں بولتیں ۔۔
اس وقت شاہان کی آنکھیں بھی بہت خوبصورت سچ کہہ رہی تھی ۔۔
فضاء گویا کسی طلسم میں گھری کھڑی تھی ۔۔
شاہان کی آنکھوں میں ایسا ہی کچھ تھا جو فضاء کو گم صم سا کر گیا تھا ۔۔
فضاء کے سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔
وہ خود کو خوش قسمت سمجھے یا اپنی قسمت پر افسوس کرے ۔۔؟
فضاء کے دونوں ہاتھ اپنے ایک ہی ہاتھ میں لیتے ہوئے شاہان نے دوسرے ہاتھ سے اس کے بال کان کے پیچھے کیئے تھے ۔۔
ماحول کی اس بڑھتی فسوں خیزی کو شزا کی اچانک آمد نے شرمندہ کر دیا تھا ۔۔
شزا خود بھی بری طرح شرمندہ ہوتی معذرت کرتے ہوئے الٹے قدموں کمرے سے واپس باہر نکل گئی تھی ۔۔
شاہان نے بیزاری سے سر جھٹک کر دروازے سے نظریں ہٹا کر فضاء کی طرف پھر سے دیکھا جو مرے مرے انداز میں اپنے ہاتھ چھڑوا رہی تھی ۔۔
شائد فضاء کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ وہ جتنی چاہے شدید کوشش کر لے ۔۔
ہاتھ تب ہی چھوٹنے تھے جب شاہان خود چھوڑتا ۔۔
“پھر ۔۔؟
چل رہی ہو نا ۔۔؟”
ہاتھوں پر گرفت کچھ مضبوط کرتے ہوئے شاہان اپنے ازلی فیصلہ کن انداز میں پوچھ رہا تھا ۔۔
“جب فیصلہ آپ کا ہی چلنا ہے تو میرے کچھ کہنے کا فائدہ ۔۔؟”
فضاء کے تلملا کر کہنے پر شاہان چڑانے والے انداز میں مسکرا دیا ۔۔
جبکہ فضاء دانت پر دانت جمائے شاہان کو دیکھ کر رہ گئی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہم یہاں کیوں آئے ہیں ۔۔؟”
گاڑی گردیزی ولا کے سامنے رکنے پر فضاء بوکھلا سی گئی تھی ۔۔
“فارم ہائوس کافی دور ہے ۔۔
لمبا سفر کرنا پڑے گا ۔۔
تم کچھ دیر آرام کرلو ۔۔
مجھے کچھ کام ہے ۔۔”
نظریں چرا کر کہتے ہوئے شاہان اپنی طرف کا دروازہ کھول کر نکل گیا لیکن فضاء پتھرائی ہوئی سیٹ پر جمی رہی ۔۔
گھوم کر اس کی طرف آ کر شاہان نے اس کی طرف کا دروازہ کھولا تھا لیکن فضاء لب بھینچے اکڑی بیٹھی رہی ۔۔
وہ ایسے گھر میں قدم نہیں رکھ سکتی تھی جس کے نیچے کئی آہیں دبی ہوئی تھیں ۔۔
یہ اس جیسی کمزور دل لڑکی کے لیئے ناممکن سی بات تھی ۔۔
“فضاء ۔۔
نیچے اترو ۔۔
ہم کل نکلیں گے فارم ہائوس کے لیئے ۔۔
بس آج تمہیں ۔۔”
“میں نہیں رہوں گی یہاں ۔۔
ایک منٹ کے لیئے بھی نہیں ۔۔”
شاہان کی بات کاٹ کر فضاء انگلی اٹھائے قطیعت سے بولی تھی ۔۔
شاہان کو فضاء کا یہ اکھڑا لہجہ ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا ۔۔
لیکن جبڑے بھینچے ضبط کر گیا ۔۔
“تمہیں لگتا ہے میرے سامنے تمہاری چلے گی ۔۔؟”
گاڑی پر بازو ٹکا کر جھکتے ہوئے شاہان اس کی بھیگی بھیگی آگ اگلتی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا ۔۔
انداز مذاق اڑانے والا تھا ۔۔
جواباً فضاء کچھ پل ویسے ہی بگڑے تاثرات کے ساتھ اسے گھورتی رہی پھر ہاتھ سے اسے پیچھے کرتے ہوئے گاڑی سے اتر گئی ۔۔
اور ایک نظر بھی اس پر ڈالے بغیر ناک کی سیدھ میں چلتی چلی گئی ۔۔
شاہان کے لیئے یہی بہت تھا ۔۔
کوٹ جھٹکتے ہوئے پاس بھاگے آتے ڈرائیور کی طرف کار کی چابی اچھال کر وہ بھی اندر کی طرف بڑھ گیا ۔۔
لیکن اندر ایک نیا تماشہ موجود تھا ۔۔
فضاء لائونج میں بیٹھے یامین گردیزی پر برس رہی تھی اور یامین گردیزی سرخ چہرے کے ساتھ انگلیوں سے کنپٹیاں مسلتے ہوئے ٹیوی پر نظریں جمائے بیٹھے تھے ۔۔
مسلسل ہلتی ٹانگ ان کی برداشت کی انتہا کا اظہار کر رہی تھی ۔۔
“اللہ آپ کو بھی بیٹی دیتا پھر شائد آپ کو احساس ہوتا ۔۔
لیکن نہیں احساس ہوتا تو آپ ایسا کرتے ہی کیوں ۔۔؟
بیٹیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں ۔۔
آپ جو دوسروں کی بیٹیوں کے ساتھ کرتے ہیں وہی آپ اپنی بیٹی کے ساتھ بھی ۔۔”
“شاہان اسے چپ کروائو ۔۔”
اس سے پہلے کہ اپنے ازلی جذباتی انداز میں فضاء کوئی صحیح بات غلط طریقے سے بول جاتی یامین گردیزی کی نظر شاہان پر پڑی اور وہ دہاڑ کر بولے ۔۔
شاہان جو لب بھینے فضاء کی فل رفتار سے چلتی زبان کو دیکھ رہا تھا یامین گردیزی کی دہاڑ پر تیزی سے آگے بڑھا اور فضاء کا بازو جکڑے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا ۔۔
فضاء کی ساری زور آزمائی بیکار گئی تھی ۔۔
اور وہ پھر اس ہی کمرے میں موجود تھی ۔۔
جس سے اسے وحشت ہونے لگی تھی ۔۔
اس کمرے سے کیا ۔۔
پورے گردیزی ولا سے وحشت ہو رہی تھی اسے ۔۔
اس گھر میں رکھی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی ہزار سے کم کی نہیں تھی ۔۔
اور یہ پیسہ شاہان کہاں سے حاصل کرتا تھا ۔۔؟
وہ جب جب اس بات پر غور کرتی تڑپ کر رہ جاتی تھی ۔۔
نہ جانے انجانے میں کتنا حرام وہ کھا چکی تھی ۔۔
اس جسم میں گردش کرتے خون میں کتنا حرام شامل ہو چکا تھا ۔۔
سخت حالات میں وہ لوگ بھوکے بھی رہے تھے لیکن حرام کا ایک لقمہ ان کے معدے میں نہ گیا تھا ۔۔
پھر کیسے وہ اس تلخ حقیقت کو محبت کے دو بولوں کے سامنے فراموش کر دیتی ۔۔؟
بیڈ پر سر جھکائے بیٹھی فضاء کو خود سے بھی نفرت محسوس کر رہی تھی ۔۔
سر درد کرتی سوچوں نے پھر سے حملہ کردیا تھا ۔۔
اس ولا میں ۔۔
شاہان کی سنگت میں ۔۔
ذہنی اذیت سوا ہوگئی تھی ۔۔
“کاش میں کچھ بہادر ہوتی ۔۔
کوئی اسٹینڈ لے سکتی ۔۔
لیکن کیسا اسٹینڈ ۔۔؟
کیا کر سکتی ہوں میں آخر ۔۔؟”
سامنے صوفے پر بیٹھا شاہان بغور فضاء کے چہرے کے اتار چڑھائو دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ سمجھ سکتا تھا اس وقت وہ کس کیفیت کا شکار تھی ۔۔
وہ اسے کچھ وقت دینا چاہتا تھا ۔۔
لیکن کیا پتہ کہ وہ فضاء کو سنبھلنے کا وقت دے اور فضاء ان فاصلوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سے مزید دور ہوتی چلی جائے ۔۔
شاہان صرف اسے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتا تھا ۔۔
بلکہ پہلے جیسی فضاء بھی چاہتا تھا ۔۔
پہلی جیسی لاپروہ بیوقوف سی ۔۔
ہنستی ہنساتی بےساختہ سی ۔۔
“کیا میں پھر سے پہلی والی فضاء حاصل کر سکوں گا ۔۔؟
ہاں کر لوں گا ۔۔
پیار سے نہیں تو دھونس دھمکی سے ۔۔”
اندر ہی اندر جیسے کوئی فیصلہ کر کے شاہان اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔
ہاتھوں کی لکیروں میں الجھی فضاء قریب رکتے سیاہ بوٹ دیکھ کر لب بھینچ گئی تھی ۔۔
ابرئوں کے درمیان ناگواری کی ہلکی سی لائن پڑ گئی تھی ۔۔
اس سے پہلے کے وہ اٹھ کھڑی ہوتی ۔۔
شاہان نے اس کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر اوپر کی طرف اٹھایا تھا ۔۔
فضاء کی آنکھوں میں جمع نمکین پانی اس طرح چہرا اٹھائے جانے کی وجہ سے کناروں سے بہنا شروع ہوگیا تھا ۔۔
شاہان نے افسوس سے اس کی آنسئوں کو دیکھا پھر چہرا ویسے ہی تھامے انگاٹھے کی مدد سے فضاء کی آنکھ کے کنارے صاف کرنے لگا ۔۔
“مت رویا کرو یار ۔۔
تمہیں کیا کہتا ہوں میں ۔۔”
“آپ مجھے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے ۔۔”
شاہان کے نرمی سے کہنے پر وہ چیلنجنگ انداز میں چلائی تھی ۔۔
“ہاں واقعی نہیں کہہ سکتا ۔۔”
شاہان نے فوراً اعتراف کر لیا تھا ۔۔
فضاء بےبسی سے اسے گھورتی رہ گئی جو اس سے فرمائش کر رہا تھا کہ آج رات ڈنر میں فضاء اپنے ہاتھ کی بریانی کھلائے ۔۔
“آپ مجھ سے ایسی امید کیسے رکھ سکتے ہیں ۔۔؟”
فضاء کی حیرت ختم نہیں ہوتی تھی اس ڈھٹائی پر ۔۔
“یہ امید نہیں یہ میری خواہش ہے ۔۔
جسے پورا کرنا تم پر فرض ہے ۔۔
آفٹرآل میں تمہارا مجاذی خدا ہوں ۔۔
جس کی محبت تم نے گھنٹوں جاءنماز پر بیٹھ کر مانگی تھی ۔۔”
“پتہ ہوتا آپ کیسے ہیں تو کبھی نہ مانگتی ۔۔”
“اب تو مانگ چکی ہو ۔۔
اور اللہ نے تمہاری دعائیں قبول بھی کر لی ہیں ۔۔
اب پچھتانے کا فائدہ ۔۔؟”
“آپ مجھے زہر لگتے ہیں اس طرح ڈھٹائی دکھاتے ہوئے ۔۔”
“اچھا اور پیارا کب کب لگا ہوں ذرا یہ بھی بتادو ۔۔”
شاہان تو جیسے فضاء کی ہر بات کا جواب پہلے سے سوچے بیٹھا تھا ۔۔
“مجھے تیز مصالحہ پسند نہیں ۔۔
یاد رکھنا ۔۔”
اچانک پیچھے ہوتے ہوئے شاہان اسے اور تپانے والی بات کر رہا تھا ۔۔
نچلا لب بری طرح کچلتے ہوئے فضاء سخت ناپسندیدگی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
اور شاہان جو اس کے غصیلے لہجے کو نظر انداز کر رہا تھا ۔۔
ان نفرت بھری نظروں کا وار نہ جانے کیوں سہہ نہیں پایا تھا ۔۔
جب ہی فضاء کو بازو سے پکڑ کر اپنے ممقابل کرتے ہوئے بھینچی آواز میں چیخا تھا ۔۔
“کیا چاہتی ہو تم ۔۔؟
ہاں ۔۔؟
کیا چاہتی ہو ۔۔؟
کیوں مجھے غصہ دلانے کی کوشش کر رہی ہو ۔۔؟؟
میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا ۔۔
پلیز مجھے مجبور مت کرو کہ میں کچھ ایسا کروں جس پر بعد میں تمہیں اور مجھے دونوں کو افسوس ہو ۔۔
میری حقیقت جانتی ہو نا تم ۔۔؟
جانتی ہو نا کتنا گھٹیا ہوں میں ۔۔؟
لیکن دیکھو تمہارے ساتھ کتنی نرمی برت رہا ہوں ۔۔
یہ میری ہی دی ہوئی ہمت ہے جو تم اس طرح مجھ سے بات کر رہی ہو ۔۔
ایک ہاتھ پڑے گا اور تیر کی طرح سیدھی ہوجائوگی ۔۔
دل میں بسایا ہے سر پر چڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے میرا ۔۔
یاد رکھنا اور دل کی حد تک ہی رہنا ۔۔
سر پر چڑھنے کی غلطی کی تو بہت بری طرح گرو گی ۔۔”
اپنی بات ختم کر کے شاہان نے جھٹکے سے فضاء کے بےجان ہوتے وجود کو واپس بیڈ پر دھکیل دیا اور کوٹ اتار کر صوفے پر پھینکتے ہوئے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔
لیکن پھر جیسے کچھ یاد آیا تو پلٹ کر استہزایہ انداز میں گویا ہوا ۔۔
“دعائیں مانگو نا تم ۔۔
اپنی رہائی کی ۔۔
تمہاری دعائیں بڑی جلدی قبول ہوتی ہیں ۔۔
ایسے تو میں کیونکہ چھوڑوں گا نہیں ۔۔”
وہ کہہ کر ڈریسنگ روم میں گھس گیا تھا ۔۔
پیچھے فضاء سن سی بیٹھی ڈریسنگ روم کے دروازے کو دیکھتی رہ گئی ۔۔
حقیقت کھلنے کے بعد اس نے اللہ سے شکوے تو بہت کیئے تھے ۔۔
کیا دعا بھی کی تھی ۔۔؟
اسے تو دعائوں پر بڑا یقین تھا ۔۔
پھر وہ کیسے نا امید ہوئے بیٹھی تھی ۔۔؟
جب وہ ساری کائنات کا مالک ۔۔
بدنامی کے اتنے قریب چلے جانے کے باوجود اس کی عزت کی حفاظت کر سکتا ہے ۔۔
ایک ظالم شخص کے دل میں اس کے لیئے محبت کا گوشہ آباد کر سکتا ہے ۔۔؟
تو کیا وہ رب اب اس کی جائز دعائیں قبول نہیں کرے گا ۔۔؟
فضاء نے گھڑی کی طرف دیکھا ۔۔
عصر کی نماز کا وقت ختم ہونے کو تھا ۔۔
وہ وضو کرنے کی غرض سے واشروم میں گھس گئی ۔۔
پھر تازہ دم سی ۔۔
چہرا یقین کی روشنی سے منور کیئے جاءنماز پر کھڑی ہوگئی ۔۔
جب سفید ٹی شرٹ اور گرے ٹرائور پہنے شاہان ڈریسنگ روم سے باہر نکلا ۔۔
تب فضاء کو نماز کی نیت باندھے دیکھ کر اپنی جگہ ساکت رہ گیا تھا ۔۔
دل عجیب سے انداز میں دھڑکا تھا ۔۔
“کیا وہ واقعی رہائی مانگنے والی تھی ۔۔؟”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: