Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 12

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 12

–**–**–

پیاس کی شدت فضاء کو گہری نیند سے کھینچ لائی تھی ۔۔
کھلے بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بناتے ہوئے اس نے آس پاس نظریں دوڑائی تھیں ۔۔
شاہان کمرے میں کہیں موجود نہیں تھا ۔۔
ذہن میں اچانک ہی چنگاری سی جلی تھی ۔۔
“ہونگے تہہ خانے میں ۔۔
اور یہاں کیا کام کرنا ہوگا انہیں ۔۔”
بھرائے دل کے ساتھ سوچتے ہوئے فضاء نے چند ایک گہری گہری سانسیں لے کر اپنے اندر اٹھتے اشتعال کو دبایا تھا ۔۔
لیکن اندر لگی آگ بھڑکتی ہی جا رہی تھی ۔۔
جس پر دو گلاس پانی کے بھی بےاثر رہے تھے ۔۔
گلاس بیڈ کی سائڈ ٹیبل پر پٹخ کر اس نے سر بھی پٹخنے والے تکیے پر ڈالا تھا اور دوبارہ سونے کی کوشش کی تھی لیکن اس بار نیند کی دیوی اس پر مہربان نہیں ہوئی تھی ۔۔
کچھ دیر تک کروٹیں بدلتے رہنے کے بعد وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی اور سلیپرز پہن کر کمرے سے باہر نکل آئی ۔۔
پورا گردیزی ولا ہلکی ہلکی زرد روشنی میں گھرا بڑا خوابناک لگ رہا تھا ۔۔
احتیاط سے سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ محتاط نظروں سے اِدھر اُدھر بھی دیکھ رہی تھی ۔۔
نیم اندھیرے میں اسٹور روم تک پہنچنا کافی مشکل ثابت ہوا تھا ۔۔
لیکن وہ یہ مشکل کام کر چکی تھی ۔۔
بری طرح دھڑکتے دل کے ساتھ فضاء نے دروازے کے ہینڈل کو پکڑ کر گھمایا تھا ۔۔
لیکن دروازہ نہیں کھل سکا ۔۔
دروازہ شائد اسی کی وجہ سے لاک کر دیا گیا تھا ۔۔
ہاتھ پیچھے کر کے فضاء نے ایسی غضبناک نظروں سے دروازے کو دیکھا ۔۔
جیسے نظروں کے وار سے ہی دروازے کو اڑا دے گی ۔۔
ابھی گھورنے کا یہ سلسلہ جاری تھا جب کسی کی موجودگی محسوس کر کے وہ گھبرا کر پلٹی تھی ۔۔
پشت دروازے سے چپکائے وہ پل بھر میں سفید پڑ گئی تھی ۔۔
لیکن شاہان کی آواز اور لمس پہچان کر وہ دھیرے دھیرے پرسکون ہونا شروع ہوگئی ۔۔
لائونج میں چھائی ہلکی ہلکی زرد روشنی کے باوجود بھی فضاء شاہان کو واضع دیکھ نہیں پا رہی تھی کیونکہ شاہان نے اپنے موبائل کی تیز روشنی فضاء کے چہرے کی طرف کر رکھی تھی ۔۔
اپنا ہاتھ چہرے کے آگے کر کے فضاء نے شاہان کو گھرکنے کے لیئے لب وا کیئے ہی تھے ۔۔
کہ نظرین شاہان کے موبائل اسکرین پر چمکتی تصویر پر جم کر رہ گئیں ۔۔
شاہان جو فضاء کا بازو سہلاتے ہوئے اسے اسٹور روم آنے پر ڈپٹ رہا تھا اس کے چہرے کے نافہم تاثرات پر چونک سا گیا ۔۔
اگلے ہی پل اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا تھا ۔۔
تیزی سے فون کو پشت کے پیچھے کرتے ہوئے شاہان نے اپنا دوسرا ہاتھ بھی فضاء کے بازو سے ہٹا لیا تھا ۔۔
نظریں چراتے ہوئے وہ دو قدم پیچھے ہوگیا تھا ۔۔
شاہان کو یاد نہیں پڑتا تھا کہ وہ زندگی میں کب اس قدر شرمندہ ہوا تھا ۔۔؟
بلکہ وہ شائد کبھی بھی شرمندہ نہیں ہوا تھا ۔۔
یہ پہلی بار کی شرمندگی تھی اور بےانتہا تھی ۔۔
“تت ۔۔ تم ۔۔
آئو ۔۔ آئو نا کمرے میں چلو شاباش ۔۔
آئو فضاء چلو ۔۔
فضاء ۔۔!”
ہکلاتے ہوئے شاہان بہت مشکل سے بول پا رہا تھا ۔۔
اور آواز بھی بہت دھیمی تھی ۔۔
وہ شائد اتنا زیادہ شرمندہ نہ ہوتا اگر جو فضاء کے چہرے پر زلزلے کے سے تاثرات نہ ہوتے ۔۔
وہ اندر سے جیسے بلکل ٹوٹ پھوٹ گئی تھی ۔۔
اپنے قدموں پر کھڑے رہنے کی بھی ہمت اب فضاء میں نہیں رہی تھی ۔۔
دروازے سے پشت لگائے لگائے وہ بیٹھتی چلی گئی تھی ۔۔
شاہان بھی ہارا ہوا سا اس کے سامنے ایک گھٹنا ٹیک کر بیٹھ گیا ۔۔
کتنی ہی دیر گزر گئی تھی یونہی بیٹھے بیٹھے ۔۔
شاہان کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا ۔۔
اور فضاء تو گویا سکتے میں چلی گئی تھی ۔۔
ہاں وہ بہت پہلے ہی شاہان کے پیشے کی حقیقت جان گئی تھی ۔۔
اندر سے ٹوٹ بھی گئی تھی ۔۔
اپنا چہرے تک کی دشمن بن۔ گئی تھی ۔۔
لیکن آج سارا ستم دل پر ٹوٹا تھا ۔۔
سچائی جاننے کے بعد وہ افسردہ تھی لیکن دل کو اندر ہی اندر ایک ناز بھی رہتا تھا کہ شاہان اس سے محبت کرتا ہے ۔۔
سو یوں ڈائریکٹ شاہان کو ایک گناہ میں مگن دیکھنا بہت زیادہ تکلیف دہ تھا ۔۔
“فضاء ۔۔”
بالآخر شاہان نے ہی ہمت کر کے اسے پکارا تھا ۔۔
فضاء نے خالی خالی نظروں سے شاہان کی طرف دیکھا ۔۔
کچھ پل دیکھتی رہی ۔۔
اور اگلے ہی پل اس کا ضبط ٹوٹا تھا ۔۔
چہرا دونوں ہاتھوں سے چھپائے وہ گھٹی گھٹی آواز میں روئے چلی جا رہی تھی ۔۔
شاہان پشیمان سا اسے سینے سے لگانا چاہتا تھا لیکن فضاء نے دونوں ہاتھوں سے اسے پیچھے کی طرف دھکیل دیا اور خود اٹھ کر جنونی انداز میں اسٹور روم کا دروازہ دھڑدھڑانے لگی ۔۔
کبھی ہینڈل پکڑ کر گھمانے لگی ۔۔
“نیچے بہت اندھیرا ہے ۔۔
قبر جیسا اندھیرا ۔۔
آپ جب تہہ خانے میں جاتے ہیں آپ کو ایسا محسوس نہیں ہوتا جیسے آپ اپنی قبر میں اتر رہے ہوں ۔۔؟
مجھے تو ایسا ہی لگا تھا ۔۔
آپ کو نہیں لگتا ۔۔؟
کیوں نہیں لگتا ۔۔؟
آپ اتنے بےحس کیوں ہیں ۔۔؟
آپ اور آپ کے چاچو دونوں ۔۔
کیوں کرتے ہیں آپ لوگ ایسا ۔۔؟
کیوں کیوں کیوں ۔۔؟
مجھے صرف جواب چاہیے کیوں ۔۔؟
آخر کیوں ۔۔؟
جتنا ۔۔
جتنا پیسہ حاصل کرلیا ہے کیا کافی نہیں ہے ۔۔؟
پیسے کی اتنی ہوس کیوں ہے ۔۔؟
اتنا پیسہ ہے آپ کے پاس ۔۔
اتنا سارا ۔۔
پلیز ان لڑکیوں کو جانے دیں ۔۔
معاف کردیں ۔۔
نادان تھیں ۔۔
آپ نے گنہگار بننے پر مجبور کر دیا ہے ۔۔
پلیز معاف کردیں ان کی نادانی ۔۔
مجھے بھی معاف کردیں ۔۔
جانے دیں پلیز ۔۔
نہیں رہنا آپ کے ساتھ ۔۔
نہیں رہنا ۔۔
یہ جو گندی لڑکی آپ کو اتنی گندی تصویریں بھیج رہی تھی پلیز اس سے شادی کر لیں اور ہم سب کو جانے دیں ۔۔
جانے دیں پلیز ۔۔
آپ حد سے زیادہ گندے ہیں ۔۔
بہت زیادہ برے ہیں ۔۔
مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ ۔۔”
چیختے چیختے کب وہ لڑکھڑا کر شاہان کے بازئوں میں گری تھی اسے پتہ نہیں چلا تھا ۔۔
وہ نیم بیہوشی میں مسلسل اپنی اور ان لڑکیوں کی رہائی مانگ رہی تھی ۔۔
چہرا مکمل طور پر آنسئوں سے بھیگ گیا تھا ۔۔
یہاں تک کہ شاہان نے اسے لا کر بیڈ پر لٹا دیا تھا ۔۔
تب بھی فضاء یہی بڑبڑاتے ہوئے ہاتھ کا بےجان سا مکا بنائے شاہان کے شانے پر مارے جا رہی تھی ۔۔
شاہان نے اسے لحاف اوڑھایا تھا ۔۔
پھر ادھ کھلی بھیگی آنکھوں کو اپنے ہاتھ سے نرمی سے مکمل بند کر دیا تھا ۔۔
اور مکے کی صورت ہوائوں سے لڑتا ہاتھ پکڑ کر اس کے پہلو میں رکھ دیا تھا ۔۔
وہیں بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ کر شاہان بغور فضاء کے روئے روئے سوجے سوجے چہرے کو دیکھنے لگا ۔۔
شاہان کے خود بھی سمجھ نہیں آتا تھا وہ اچانک اس لڑکی سے اتنی محبت کیوں کرنے لگا تھا ۔۔؟
اس کے سامنے وہ شرمندہ بھی ہوتا تھا ۔۔
اس کے سامنے وہ “ہار” بھی جاتا تھا ۔۔
اس کی تکلیف پر تکلیف کیوں ہوتی تھی ۔۔؟
اس کے دور جانے کا خیال دھڑکن روک کیوں دیتا تھا ۔۔؟
کیا واقعی یہ سب فضاء کی دعائوں کی وجہ سے ہوا ہے ۔۔؟
اگر فضاء کی دعا واقعی اتنی پراثر ہوتی ہے ۔۔
تو اگر فضاء نے دعائوں میں اس سے رہائی مانگ لی ۔۔
تو وہ کیا کرے گا ۔۔؟
جتنی محبت اس کے دل میں بھر دی گئی تھی ۔۔
جدا ہو کر تو وہ شائد جی بھی نہیں پائے گا ۔۔
فضاء کے چھوڑ جانے کے خیال کے آتے ہی پہلے کی طرح شاہان کا دل رک سا گیا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرمی کی شدت میں کافی کمی واقع ہو چکی تھی ۔۔
اور آج تو موٹے موٹے سرمئی بادل بھی منڈلاتے پھر رہے تھے ۔۔
لیکن شزا نہیں چاہتی تھی کہ آج بارش ہو ۔۔
ایک تو کمروں کی چھت ٹپکنے لگتی تھی ۔۔
پھر صحن میں پانی بھی جمع ہو جاتا تھا ۔۔
ساری رات رات بھاگ دوڑ میں گزر جانی تھی ۔۔
آسمان پر ایک سرسری نظر ڈال کر شزا نے کلائی میں بندھی گھڑی دیکھی تھی ۔۔
بس کے آنے میں کچھ ہی وقت رہتا تھا ۔۔
ٹھنڈی سانس بھر کر جب اس نے اطراف میں نظریں دوڑائیں تب ایک منظر نے اسے بری طرح ٹھٹھکا دیا تھا ۔۔
وہ شاہان ہی تھا ۔۔
اس کا انداز بہت خوشگوار لگ رہا تھا ۔۔
جبکہ اس سے چپکی کھڑی موڈرن سی لڑکی کا بس نہیں چل رہا تھا اس کی گود میں ہی چڑھ جائے ۔۔
شزا کا دل ناخوشگواری کے احساس سے زور سے دھڑکا تھا ۔۔
شزا نے آگے پیچھے نظریں دسڑائیں کے شائد وہ غلط سمجھ رہی ہو ۔۔
کہیں فضاء بھی موجود ہو ۔۔
لیکن ایسا کچھ دیکھنا نصیب نہ ہوا جس سے دل کو کچھ حوصلہ ہوتا ۔۔
شاہان نے اس لڑکی کے لیئے فرنٹ ڈور کھولا تھا اور وہ بڑے حق سے بال جھٹکتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی ۔۔
شاہان نے بھی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔۔
اور اگلے ہی پل گاڑی اپنے سفر پر روانہ ہوچکی تھی ۔۔
شزا ہونٹ سکیڑے ناگوار نظروں سے نظروں سے اوجھل ہوتی گاڑی کو گھورتی رہی پھر غصے سے بڑبڑائی ۔۔
“اچھا بھئی ۔۔
میری معصوم بہن کو گھر میں چھوڑے دن دہاڑے ڈیٹیں ماری جا رہی ہیں ۔۔
بتائوں گی میں فضاء کو ۔۔
ہنہہ ۔۔”
شزا نے صرف یہ کہا نہیں تھا ۔۔
بلکہ گھر پہنچتے کے ساتھ ہی کتابوں سے بھرا بیگ صوفے پر پھینکا اور عظمی بیگم کی “ارے ارے” ان سنی کیئے پڑوس میں چل دی ۔۔
جن کا فون وہ لوگ ضرورتاً استعمال کر لیا کرتے تھے ۔۔
“ہیلو ۔۔؟”
فضاء کی کمزور سی آواز ابھری ۔۔
شزا اپنا مدعا بھول کر پریشانی سے اس کی طبیعت پوچھنے لگی ۔۔
“ہاں ٹھیک ہوں ۔۔
بس زکام ہوگیا ہے ۔۔
اس لیئے آواز ایسی ہو رہی ہے ۔۔”
اس جھوٹ میں سچ کی بھی آمیزش تھی ۔۔
اسے واقعی زکام ہوگیا تھا ۔۔
“کہیں شاہان بھائی نے تمہیں کوئی تکلیف تو نہیں پہنچائی ۔۔؟”
کچھ دیر پہلے دیکھا منظر شزا کی نظروں کے سامنے گھوما ۔۔
فضاء کا دل چاہا طویل سانس خارج کرے اور دل میں جمع بوجھ بہن سے شیئر کر لے ۔۔
لیکن نہیں ۔۔
یہ ایسا بوجھ تھا جسے وہ کسی کو بتا تک نہیں سکتی تھی ۔۔
“یہ تم شاہان کی طرف سے اتنی مشکوک کیوں رہتی ہو ۔۔؟”
فضاء نے ہنسی میں بات اڑانی چاہی ۔۔
“کیونکہ کچھ دیر پہلے میں نے ایسا ایک منظر دیکھا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے مشکوک ہونا پڑ رہا ہے ۔۔”
“ایسا کیا دیکھ لیا ۔۔؟”
فضاء کا دل زور سے دھڑکا ۔۔
شاہان کی دھمکیاں آس پاس گونجنے لگیں ۔۔
“پتہ نہیں کس چڑیل کے ساتھ چپکے تھے ۔۔
بلکہ نہیں ۔۔
چڑیل ان کے ساتھ چپکی تھی ۔۔
شائد مجھے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو ۔۔
تم ان سے لڑنا مت ۔۔
لیکن نظر رکھا کرو ان پر ۔۔
ایسے کہ ان کی نظر میں نہ آئو ۔۔
سمجھ رہی ہو نا میری باتیں ۔۔؟”
شزا بڑی بی کی طرح ہاتھ نچا نچا کر بولتی اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
جس نے اندازہ لگانے میں دیر نہیں کی تھی کہ شاہان یقیناً کسی نئی چڑیا کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔
شائد وہ لڑکی وہی ہو ۔۔
جس نے رات کو شاہان کو اپنی عریاں تصاویر بھیجی تھیں ۔۔!
ابھی تک فضاء کے ذہن سے وہ بیہودہ تصاویر چھٹی نہیں تھیں ۔۔
فضاء کا دل پھر سے متلانے لگا ۔۔
ایک پل کی ہمدردی کے بعد فضاء کو وہ لڑکی بھی زہر لگنے لگی تھی ۔۔
“تمہیں غلط فہمی ہی ہوئی ہوگی شزا ۔۔
جس کلاس سے شاہان کا تعلق ہے وہاں ایسی بےتکلفیاں عام ہیں ۔۔”
دھیمی آواز میں کہتے ہوئے فضاء نے کمرے میں داخل ہوتے شاہان کو دیکھا تھا ۔۔
جو دونوں بازو پھیلائے گرم جوشی سے اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔
رات والے واقعہ کے بعد وہ دونوں اب جا کر روبرو ہوئے تھے ۔۔
آج فضاء دیر تک سوتی رہی تھی اور شاہان صبح سویرے سے ہی “کام” پر نکلا ہوا تھا ۔۔
فضاء کی سرد نظریں نظرانداز کر کے اسے اپنے سینے میں بھینچ کر شاہان نے ازلی ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا تھا ۔۔
“ہاں وقعی ۔۔
اتنے ہائی اسٹینڈرڈ کے لوگوں میں ایسی بےتکلفیاں عام ہوتی ہیں ۔۔
شائد اسی لیئے ان لوگوں میں طلاقیں بھی عام ہوتی ہیں ۔۔”
شزا فضاء کی بہن تھی آخر ۔۔
بےساختگی میں کچھ زیادہ ہی کہہ گئی تھی ۔۔
اور پھر شرمندہ بھی ہوگئی تھی ۔۔
“میرا مطلب یہ ہے کہ ۔۔”
“اٹس اوکے شزا ۔۔
میں جانتی ہوں تمہارا کوئی غلط مطلب نہیں تھا ۔۔
تمہاری باقی باتوں کا مطلب بھی سمجھ رہی ہوں میں ۔۔
ڈونٹ وری ۔۔
نہ ایسا کچھ ہے نہ ہوگا ۔۔
میں بہت خوش ہوں ۔۔”
آخری بات پر فضاء کی آواز میں نمی گھل گئی تھی ۔۔
لیکن ساتھ ہی زوردار کھانسی بھی آئی تھی ۔۔
جس نے اس کا بھرم رکھ لیا تھا ۔۔
ایک دو اور باتوں کے بعد انہوں نے رابطہ منقطع کیا تھا ۔۔
اور سامنے صوفے پر پھیل کر بیٹھا شاہان جو منتظر تھا اس کے فارغ ہونے کا ۔۔
اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔
“چلو فارم ہائوس چلتے ہیں ۔۔
میرا کام ختم ہوگیا ہے ۔۔
جلدی سے ضروری سامان پیک کر لو ۔۔
باقی کل تک آجائے گا ۔۔”
فضاء کا دل چاہا آگے سے کوئی الٹا جواب دے ۔۔
لیکن الٹے جواب کا مطلب بحث کو جنم دینا تھا ۔۔
اور اس وقت اس میں کسی قسم کی بحث کی ہمت نہیں تھی ۔۔
ہاتھ میں پکڑا موبائل بیڈ پر رکھ کر وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی ۔۔
جبکہ شاہان نے اس کے جاتے کے ساتھ ہی اس کا فون اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل کر کال رکارڈنگ سننے لگا ۔۔
شاہان نے فضاء کو نہیں بتایا تھا کہ اس نے فضاء کے فون میں کال رکارڈنگ کی سیٹنگ کی ہوئی ہے ۔۔
ایسا شاہان نے صرف اپنے دل میں پنپتے خوف کے زیراثر کیا تھا ۔۔
کال کی شروعات ہی ایسی باتوں سے ہوئی تھی کہ وہ پوری رکارڈنگ سننے پر مجبور ہوگیا تھا ۔۔
اور رکرڈنگ سننے کے بعد اس کے چہرے کے نقوش تن سے گئے تھے ۔۔
فون واپس اس کی جگہ پر رکھتے ہوئے شاہان کے چہرے پر عجیب سے تاثرات تھے ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: