Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 13

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 13

–**–**–

فضاء کا ہاتھ پکڑے شاہان اسے اپنے فارم ہائوس کا کونا کونا دکھا چکا تھا ۔۔
یہ فارم ہائوس گردیزی ولا کے مقابلے میں کافی چھوٹا تھا ۔۔
لیکن خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا ۔۔
فضاء کو یوں بھی نیچر زیادہ متاثر کرتی تھی ۔۔
سو پھول پودوں اور مصنوعی ندی سے سجا یہ فارم ہائوس اسے کچھ وقت کے لیئے ساری ٹینشن بھولنے پر مجبور کر گیا تھا ۔۔
اس کے چہرے پر پھیلی ہلکی سی مسکان اور آنکھوں سے واضع ہوتی ستائش نے شاہان کو اندر سے اور بھی ہلکا پھلکا کر دیا تھا ۔۔
اس وقت وہ دونوں چھوٹے سے پھولوں بھرے لان میں بیٹھے تھے ۔۔
فضاء اب بھی مسمرائز سی لان کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔
جبکہ شاہان چائے کے سپ لیتے ہوئے ایک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا ۔۔
موسم جیسے ہی سرمئی لباس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔
اس وقت تو وہ مسکرا بھی رہی تھی ۔۔
لیکن اس کے باوجود چہرے پر ایک افسردگی چھائی محسوس ہو رہی تھی ۔۔
یہ بھی شائد شاہان کے دل کا چور تھا جو اسے کسی کل چین نہیں لینے دے رہا تھا ۔۔
فضاء سے جڑی چھوٹی سے چھوٹی بات کو لے کر وہ حساس ہو رہا تھا ۔۔
اور اپنے دل کی گھٹن میں اضافہ کیئے جا رہا تھا ۔۔
اب تو شاہان کو ایسا لگنے لگا تھا جیسے اللہ نے اسے یہ نرالی سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہو ۔۔
کہ وہ ایک عورت کی محبت میں اپنے دل اور دماغ کا سکون گنوا دے ۔۔
یہ اگر واقعی اس کی سزا تھی تو بہت خطرناک تھی ۔۔
جب سکون ہی نہ ہو تو دولت شہرت وجاہت ۔۔
کچھ بھی مزہ نہیں دیتا ۔۔
شاہان کو یہ سب کچھ چاہیے تھا ۔۔
بےحساب چاہیے تھا ۔۔
اور ان کو انجوائے کرنے کے لیئے سکون سب سے پہلے چاہیے تھا ۔۔
چائے کا کپ درمیان میں رکھی چھوٹی سی سفید ٹیبل پر دھر کر شاہان نے کوئی پیار بھری بات کرنی چاہی تھی ۔۔
لیکن وہی دل کا خوف ۔۔
لبوں سے نہ چاہتے ہوئے بھی شزا کی کال کا احوال نکل گیا ۔۔
فضاء نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا تھا ۔۔
بلکہ گھورا تھا ۔۔
جو کہہ رہا تھا کہ اگر شزا نے یہ باتیں عظمی بیگم سے کرنے کی غلطی کی ۔۔
یا ان دونوں کے درمیان آنے کی کوشش کی تو وہ اسے موت سے بدتر زندگی دے گا ۔۔!
شاہان کی بات جیسے ہی ختم ہوئی فضاء جھٹکے سے اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔
غصے کی زیادتی سے اس کا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا ۔۔
“وہ میری بہن ہے ۔۔
میرے بھلے کے لیئے اسے جو بہتر لگے گا وہ کرے گی ۔۔
وہ کر سکتی ہے ۔۔
وہ مجھ سے پیار کرتی ہے ۔۔
میرا بھلا چاہتی ہے ۔۔
آپ کی طرح نہیں کہ بھلے ہی یہ نام نہاد محبت دم گھونٹ دے ۔۔
دور نہیں جانے دیں گے ۔۔
آئندہ میں آپ کے گندے منہ سے اپنی بہن کا نام نہ سنوں ۔۔
سنا آپ نے ۔۔
بھول کر بھی اس پر ایک میلی نگاہ ڈالنے کی غلطی مت کیجیئے گا ۔۔
میں اپنا وعدہ نبھائوں گی ۔۔
اپنی زبان نہیں کھولوں گی ۔۔
چاہے اس بوجھ سے میرے دل کی دھڑکن رک جائے ۔۔
میں کسی سے کچھ نہیں بولوں گی ۔۔
کبھی نلیں بولوں گی ۔۔
لیکن آپ بھی یاد رکھیئے گا ۔۔
میری امی یا بہن کا ذکر آئندہ اپنی اس گندی زبان سے مت کیجیئے گا ۔۔
میں خود کو ختم کر لوں گی آپ کی آنکھوں کے سامنے ۔۔
بڑی محبت کا دم بھرتے ہیں نا ۔۔
تو آئندہ میری امی اور بہن کا ذکر بھی مت کیجیئے گا ۔۔
مت کیجیئے گا ۔۔!
ورنہ انجام کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے ۔۔”
آسمان پر جمع شدہ سرمئی بادلوں نے فضاء کے ساتھ ہی گرجنا شروع کر دیا تھا ۔۔
اور اب دونوں ساتھ میں برس بھی رہے تھے ۔۔
موٹی موٹی بوندیں چند لمحوں بعد ہی موسلا دھار بارش کی شکل اختیار کرگئی تھیں ۔۔
فضاء کو یاد آیا اسے بارش کتنی پسند تھی ۔۔
جب جب بارش ہوتی اور ان کے گھر کے مخصوص مسائل سر اٹھاتے ۔۔
تب عظمی بیگم اور شزا کمروں کا سامان اِدھر اُدھر کرنے میں ہلکان ہوجاتیں اور وہ مزے سے پائنچے چڑھائے ۔۔
گھر کا دروازہ کھولے مگر پردہ گرائے جھاڑو سے پانی باہر نکالتے ہوئے بارش میں بھیگنے کا شوق بھی پورا کر لیتی تھی ۔۔
کام سے فراغت کے بعد اس کے ہاتھ اور پیروں کی حالت عجیب و غریب ہوجاتی اور کمر اور گردن بری طرح درد کرنے لگتے ۔۔
لیکن وہ پھر بھی خوش رہتی تھی ۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے ہزاروں مسائل اسے رلاتے نہیں تھے ۔۔
لیکن اب اس کے پاس بارش صحیح معنوں میں انجوائے کرنے کا موقع تھا ۔۔
لیکن صرف ایک وجہ ۔۔
ایک شخص ۔۔
جس نے اس کا موڈ غارت کر دیا تھا ۔۔
اسے رلا دیا تھا ۔۔
وہ بلکل خوش نہیں تھی ۔۔
بارش کی بوندیں نوکیلی کیلوں کی طرح جسم پر لگ رہی تھیں ۔۔
فضاء کو یہ سوچ کر خوف آیا کہ کیا وہ ساری زندگی ایسے ہی جلتی کڑھتی روتی سسکتی گزار دے گی ۔۔؟
ہاتھوں کے پیالے سے چہرا نکال کر فضاء نے شاہان کی طرف افسوس سے دیکھا ۔۔
پھر دوڑتی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔۔
پیچھے بت بنا شاہان کرسی پر ہارا ہوا سا بیٹھا بارش میں بھیگتا رہ گیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے نہیں پتہ تھا تم جیسی سویٹ لڑکی کسی سے اتنی نفرت بھی کر سکتی تھی ۔۔”
باتھ لے کر ٹرائوزر اور شرٹ پہنے ۔۔
گردن میں ٹال لٹکائے بالوں کو مسلتے ہوئے جب وہ باہر آیا تب اس سے یوں مخاطب ہوا جیسے کچھ دیر پہلے کوئی ناخوشگوار بات ہوئی ہی نہ ہوئی ہو ۔۔
لیکن سوال چڑانے والا تھا ۔۔
فضاء نے کوفت سے شاہان کی طرف دیکھا پھر جواب بھی منہ توڑ دیا ۔۔
“کسی سے نہیں صرف آپ سے ۔۔”
بالوں میں برش پھیرتا شاہان کا ہاتھ کچھ سست ہوا ۔۔
“لیکن کیا پتہ دنیا میں مجھ سے بھی زیادہ نفرت کے قابل لوگ موجود ہوں ۔۔”
برش ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر وہ پلٹ کر فضاء کی آنکھوں آنکھیں ڈال کر بولا ۔۔
“یقیناً ہونگے ۔۔
لیکن میرا پالا تو آپ سے ہی پڑا ہے نا ۔۔”
جان چھڑانے والے انداز میں کہہ کر فضاء نے کمبل درست کیا اور لیٹ گئی ۔۔
“تم لیٹوگی تو سو جائوگی ۔۔
پہلے ڈنر کرلو ۔۔
بس ریڈی ہوتا ہوگا ۔۔”
شاہان نے رات کے آٹھ بجاتی گھڑی کو دیکھا ۔۔
“میرا دل نہیں چاہ رہا ۔۔”
فضاء نیم غنودگی میں بڑبڑائی ۔۔
شاہان سر ہلا کر رہ گیا ۔۔
پھر انٹرکام کا زریعے ملازمہ کو کھانا ڈائننگ ٹیبل پر نہ لگانے کی تاکید کی ۔۔
ٹاول باتھروم میں رکھ کر آیا ۔۔
اور لیپ ٹاپ اٹھا کر فضاء کے پہلو میں جگہ سنبھال لی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہان لائونج میں بیٹھا ٹیوی پر کوئی فلم عدم دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔۔
یا یوں کہہ لیں کہ نظریں ٹیوی پر جمی تھیں لیکن ذہن مختلف سوچوں میں گھرا ہوا تھا ۔۔
جب ملازم نے اسے یامین گردیزی کی آمد کی اطلاع دی تھی ۔۔
“تو انہیں اندر آنے کو کہو نا ۔۔”
شاہان کی پیشانی شکن آلود ہوگئی تھی ۔۔
“سر ان کے ساتھ کوئی خاص مہمان بھی ہیں ۔۔
اس لیئے انہوں نے اندر آنے سے منع کردیا ہے ۔۔”
ملازم کی اس اطلاع پر شاہان ٹھٹھک کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
“واٹ دا ہیل ۔۔
کوئی خاص مہمان تھا تو چاچو اسے یہاں کیوں لائے ۔۔
مجھے گھر بلوانا تھا نا ۔۔”
بڑبڑاتے ہوئے جب وہ باہر آیا تب یامین گردیزی کو کافی دور فون پر باتوں مگن پایا ۔۔
لب بھینچے اس نے مہمان کی تلاش میں یہاں وہاں نظریں دوڑائی تھیں ۔۔
تب لان میں رکھی کرسی پر بیٹھے مختار میمن نے اسے ایک پل کو ساکت کر دیا تھا ۔۔
وہ بختیار میمن کا بڑا بھائی تھا ۔۔
اور شاہان اور یامین گردیزی کا بہت اچھا ساتھی بھی تھا اور ان کے “بزنس” کی دوبئی میں صدارت بھی کرتا تھا ۔۔
شاہان نے گہری سانس خارج کر کے خود کو پرسکون کیا اور دو قدم آگے بڑھائے تھے ۔۔
لیکن پھر رک کر مختار میمن کی اٹھی نظروں کے تعاقب میں اپنی نظریں دوڑائی تھیں ۔۔
اگلے ہی پل شاہان کا وجیہہ چہرہ غیض و غضب سے سرخ پڑ گیا تھا ۔۔
فضاء کمرے کی گیلری سے پشت لگائے کوئی کتاب پڑھنے میں مگن تھی ۔۔
سنہری دھوپ اس کے وجود کو بھی سنہرا کر رہی تھی ۔۔
ایک پل کو دل چاہا جا کر مختار کی آنکھیں نکال دے ۔۔
لیکن پھر سر جھٹک کر قدم واپس اندر کی طرف موڑ لیئے ۔۔
اور کمرے میں داخل ہوتے کے ساتھ ہی اس نے ہاتھ سے کھینچ کر فضاء کو گیلری سے نکالا گھا ۔۔
انداز شدید جارحانہ تھا ۔۔
دوسری طرف فضاء اس افتاد پر ہڑبڑا گئی تھی ۔۔
“کیا بات ہے ۔۔؟”
فضاء ہاتھ چھڑوا کر خفگی سے بولی ۔۔
“گیلری میں مت جائو جب تک میں نہ کہوں ۔۔
لان میں بھی مت آنا ۔۔
میرے کچھ گیسٹس آئے ہیں ۔۔”
“آپ کے مہان گیسٹس یہاں بھی آگئے ۔۔؟
یہاں بھی کوئی راز چھپا رکھا ہے کیا آپ نے ۔۔؟”
شاہان کی بات کے درمیان ہی فضاء چنگھاڑی تھی ۔۔
“میں تم سے اس وقت کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا ۔۔
جتنا کہا ہے اتنا کرو ۔۔”
شاہان نے ہنوز نرمی کا مظاہرہ کیا تھا ۔۔
“نہیں کروں گی ۔۔
میں ابھی اس گیسٹ سے جا کر ملوں گی اور ہائے ہیلو کروں گی ۔۔”
“کر کے دکھائو ۔۔
ٹانگوں پر واپس سلامت آنا تو کہنا ۔۔”
“ہاں ابھی کر دکھاتی ہوں ۔۔
اب اپنی نام نہاد عزت پر آئی تو ۔۔۔۔”
فضاء غصے میں کہتی ہوئی سچ مچ کمرے کے دروازے کی طرف بڑھنے لگی ۔۔
جب شاہان نے اسے پکڑ کر باتھروم میں بند کر دیا اور اس کی صدائیں ان سنی کرتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تو مطلب بختیار تم لوگوں سے ملنے آیا ہی نہیں ۔۔”
رسمی باتوں کے بعد مختار میمن نے ان کے سامنے بختیار کی گمشدگی کا قصہ چھیڑ دیا تھا ۔۔
مختار میمن کا چہرہ اس کی اندرونی پریشانی کا واضع اظہار کر رہا تھا ۔۔
یامین گردیزی تو بغلیں جھانکتے رہے تھے جبکہ شاہان نے تاثرات پر کمال کنٹرول رکھتے ہوئے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا تھا ۔۔
“بس آخری بار شاہان کے ولیمے پر بات ہوئی تھی ۔۔
میں نے اسے گھر انوائٹ بھی کیا تھا ۔۔
اور اس نے حامی بھی بھرلی تھی ۔۔
لیکن اس کے بعد سے کوئی بات نہیں ہوئی ۔۔
میں سمجھا شائد پھر کوئی مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے اور وہ امریکہ یا دوبئی چلا گیا ہے ۔۔”
یامین گردیزی بھی شاہان کو سپورٹ کرنے کے لیئے درمیان میں بولے تھے ۔۔
مختار میمن سر ہلا کر رہ گیا ۔۔
پھر اچانک چونک کر اٹھا ۔۔
“ارے ہاں شاہ ۔۔
شادی مبارک بہت بہت ۔۔
میں بڑا خوش ہوا تمہاری شادی کا سن کر ۔۔
بہت بہت مبارک ہو ۔۔
تحفہ ادھار رہا ۔۔
پہلے پتہ ہوتا تو لیتا آتا ۔۔
راستے میں بتایا یامین نے ۔۔”
شاہان بھی ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اٹھ کر مختار میمن سے بغل گیر ہوا تھا ۔۔
“پھر میں چلتا ہوں ۔۔
دعا کرنا دونوں ۔۔
کہیں خفیہ ایجنسی والوں کے ہتھے نہ چڑھ گیا ہو ۔۔”
شاہان اور یامین گردیزی نے اچٹتی سی نظر سے ایک دوسرے کو دیکھا اور مختار میمن کا شانہ تھپتھپا دیا ۔۔
یامین گردیزی آنکھوں ہی آنکھوں میں شاہان کو کوئی اشارہ دیتے مختار میمن کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے ۔۔
سینے پر بازو لپیٹے شاہان خوف زدہ تو نہیں لیکن پریشانی کا شکار ضرور تھا ۔۔
مختار میمن بظاہر جتنا ملنسار تھا اندر سے اتنا ہی ظالم تھا ۔۔
اور اپنے اکلوتے چھوٹے بھائی کو بہت چاہتا بھی تھا ۔۔
مختار میمن یقیناً ایڑی چوٹی کا زور لگا دینے والا تھا بختیار کی کھوج میں ۔۔
شاہان جانتا تھا بختیار کی موت کے معاملے میں اب اسے بہت احتیاط برتنی تھی ۔۔
اس کے گھر میں کام کرنے والے ملازم لوگ یقیناً اس کے ساتھ مخلص تھے ۔۔
لیکن پیسہ بہت بری چیز ہے ۔۔
سگوں کو لڑا دیتا ہے ۔۔
پھر ملازم کو غداری پر نہیں اکسا سکتا ۔۔؟
گردیزی ولا کا کوئی ملازم زبان نہ کھول دے اس لیئے ان کی برین واشنگ شاہان کو ضروری لگنے لگی تھی ۔۔
گہری سانس بھر کر شاہان رخ گھر کے اندر کی طرف موڑ گیا ۔۔
اور جب کمرے میں پہنچ کر اس نے باتھروم کا درواز کھولا تب فضاء غصے سے لال بھبوکا چہرہ لیئے پیر پٹختی ہوئی باتھروم سے باہر نکلی تھی ۔۔
“نفرت ہے مجھے آپ سے ۔۔!”
“کوئی نئی بات کرو ۔۔”
فضاء جس قدر چلا کر بولی تھی ۔۔
شاہان اتنے ہی پرسکون انداز میں گویا ہوا تھا ۔۔
“اللہ کرے آپ کی دس بیٹیاں ہوں ۔۔”
فضاء سر سے پیر تک سلگ رہی تھی ۔۔
ایسا لگتا تھا وہ کسی بھی وقت حلق پھاڑ کر رونا شروع کر دے گی ۔۔
“اچھی طرح سوچ لو ۔۔
دس ۔۔؟؟؟؟
نیپیاں بدل بدل کر ادھ موئی ہوجائوگی ۔۔”
شاہان کا انداز بڑا سنجیدہ تھا ۔۔
جیسے کوئی عالمی مسئلہ ڈسکس کر رہا ہو ۔۔”
“اف ۔۔!!!”
ناک تک عاجز آ کر فضاء پیر پٹختے ہوئے کمرے سے نکل گئی جبکہ شاہان مزید چڑانے کو پیچھے سے بولا تھا ۔۔
“ارے جواب تو دیتی جائو ۔۔
دس ۔۔؟
سنبھال سکو گی ۔۔؟”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: