Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 14

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 14

–**–**–

چھ ماہ ۔۔!
ان کی شادی کو چھ ماہ ہوچکے تھے ۔۔
ایک نئے شادی شدہ جوڑے کے لیئے چھ ماہ کچھ زیادہ تو نہیں ہوتے ۔۔
لیکن فضاء ان چھ ماہ میں سخت اذیت کا شکار رہی تھی ۔۔
یہ چھ ماہ چھ صدیوں کی طرح کاٹے تھے اس نے ۔۔
شاہان کے محبت کے دعوے ایک طرف ۔۔
اس کی فضول قسم کی مصروفیات ایک طرف ۔۔!
وہ اکثر راتوں کو باہر رہتا ۔۔
گھر میں موجود رہتا تب لیپ ٹاپ یا موبائل پر لگا رہتا ۔۔
اکثر تو رات گئے بستر سے اٹھ کر وہ موبائل لیئے کمرے سے باہر نکل جاتا ۔۔
اور پیچھے فضاء اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹنے میں جت جاتی ۔۔
وہ سمجھ سکتی تھی کہ شاہان کا “بزنس” اس سے بہت سا وقت مانگتا ہے ۔۔
جتنا وہ وقت دے گا ۔۔
اتنی جلدی وہ کامیابی حاصل کرلے گا ۔۔
فضاء نے ان چھ مہینوں میں شاہان کو نظرانداز کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی ۔۔
زبان کے وار بھی ان گنت کر ڈالے تھے ۔۔
بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ فضاء نے جب جب اس سے بات کی تھی ۔۔
کوئی ایسی ہی بات کی تھی جو شاہان کا رنگ پھیکا کر دیتی تھی ۔۔
پھر بھی اس پر اثر کسی بات کا نہیں ہوتا تھا ۔۔
وہ اپنے نام کا ایک ہی ڈھیٹ تھا ۔۔
اور اب حال یہ تھا کہ فضاء شاہان سے نفرت کر کر کے تھک گئی تھی ۔۔
پھر شاہان اکیلا قصوروار نہیں لگتا تھا ۔۔
فضاء کو وہ لڑکیاں بھی برابر قصووار لگ رہی تھیں ۔۔
وہ لڑکیاں کوئی دودھ پیتی ننھی کاکیاں تو نہیں تھیں ۔۔
پھر شاہان اس کے دل میں بڑی شان سے جمان بھی تھا ۔۔
ایسے میں اس جیسی سادہ دل لڑکی کے لیئے اب مشکل ہو رہا تھا یوں نفرت کرتے رہنا ۔۔!
آپ کسی سے نفرت کا بھرپور مظاہرہ کریں اور سامنے والا کوئی ری ایکشن دے تب تو ٹھیک ہے ۔۔
لیکن اگر سامنے والا شخص حد درجہ ڈھیٹ ہو ۔۔
اور آپ پر اپنی محبتیں نچھاور کرتا رہے تو ۔۔
نفرت تو شائد قائم رہ جائے ۔۔
لیکن اس نفرت کا برملا اظہار کرتے ہوئے ایک جھجک سی آڑے آجاتی ہے ۔۔
یہی فضاء کے ساتھ بھی ہو رہا تھا ۔۔
اب اس کی نفرت میں وہ پہلے سا دم خم نہیں رہا تھا ۔۔
وجہ شائد شاہان کی وہ مہربانیاں رہی ہوں جو ایک ہفتہ پہلے عظمی بیگم نے اس کے سامنے بیان کی تھیں ۔۔
“شاہان نے شزا کا ایڈمیشن میڈیکل کالج میں کروا دیا تھا ۔۔
اور فیس وغیرہ سمیت ہر ذمہ داری اپنے سر لے لی تھی ۔۔
فضاء جانتی تھی کہ ڈاکٹر ننا فضاء کا کتنا بڑا خواب تھا ۔۔!
اور یہی نہیں ۔۔
ان کے گھر کے تمام خراب نل ۔۔
ٹوٹی چھت سمیت تمام چھوٹے چھوٹے مسائل بھی حل کروا دیئے تھے ۔۔
جو عظمی بیگم کے لیئے بڑی بڑی مشکلات کھڑی کر دیتے تھے ۔۔
یہ سب کر کے شاہان نے صحیح معنوں میں عظمی بیگم کا دل جیت لیا تھا ۔۔
اسٹینڈر کے فرق کی وجہ سے جو خدشے ان کے دل میں رہتے تھے اب بلکل ختم ہوچکے تھے ۔۔
وہ اب بہت خوش رہنے لگی تھیں ۔۔
فضاء کو اتنے چاہنے والے ۔۔
پروہ کرنے والے جیون ساتھی کے ساتھ “عیش” کرتے دیکھ کر انہیں اپنی تمام محنت کا صلہ ملتا محسوس ہوتا ۔۔
اب وہ اتنی خوش تھیں ۔۔
اتنی خوش تھیں ۔۔
کہ اپنی خوشی میں انہیں فضاء کا خاموش خاموش انداز نظر ہی نہیں آتھا تھا ۔۔
ہنسی کا مصنوعی پن وہ چھان نہیں پاتی تھیں ۔۔
“اچھا ہوا نہیں نہیں محسوس ہوتی میری خاموشی ۔۔
یہی تو میں چاہتی ہوں کہ امی اور شزا میری اذیت سے لاعلم اور خوش رہیں ۔۔”
صوفے پر سکڑ سمٹ کر بیٹھی وہ ان ہی الجھنوں میں گھری تھی ۔۔
جن سے اب مشکل سے ہی نکلتی تھی ۔۔
“ایہہ ۔۔”
لگتا ہے سوچ سوچ کر میرا دماغ پھٹ جائے گا ۔۔”
بالوں میں انگلیاں پھنسا کر اس نے بال ہلکے سے نوچ ڈالے تھے ۔۔
پھر نظریں گیلری کی طرف ڈالیں ۔۔
شام ہونے کو تھی ۔۔
شاہان کسی بھی وقت آ سکتا تھا ۔۔
بیزار سے انداز میں صوفے پر ٹانگیں پسارتے ہوئے فضاء نے گاڑی رکنے کی آواز سنی تھی ۔۔
یعنی شاہان آ چکا تھا ۔۔
پھر سے ایک چخ چخ ۔۔!
“اف ۔۔
مجھ میں بلکل ہمت نہیں ۔۔”
بڑبڑاتے ہوئے وہ جلدی سے اٹھ کر بستر میں گھس گئی ۔۔
نیند آنے میں کونسی دیر لگنی تھی ۔۔
جب تک شاہان کمرے میں آیا ۔۔
وہ غنودگی میں جا چکی تھی ۔۔
ٹینشن میں فضاء کو زیادہ اچھی نیند آتی تھی ۔۔
نہ جاگے گی ۔۔
نہ سوچے گی ۔۔
نہ کڑھے گی ۔۔
اس وقت بھی اس کی گھنی سیاہ پلکیں ایک دوسرے میں ملی چلی جا رہی تھیں جب شاہان نے جھٹکے سے اس پر سے کمبل ہٹایا تھا ۔۔
پٹ سے آنکھیں کھول کر فضاء نے اسے سوالیا نظروں سے گھورا تھا ۔۔
لیکن سیاہ تھری پیس سوٹ میں ذرا سا جھکا کھڑا وہ کچھ اس طرح مسکرا رہا تھا کہ فضاء کے دل نے ایک بیٹ مس کر دی تھی ۔۔
“سارا دن سوتی کیوں رہتی ہو ۔۔؟”
“آپ بھی تو ساری رات جاگتے ہیں میں کچھ کہتی ہوں ۔۔؟”
وہ جو سوچ رہی تھی کہ اب شاہان سے مزید کوئی الٹی سیدھی بات کر کے اپنا خون نہیں جلائے گی ۔۔
شاہان کو سامنے دیکھ کر اپنے فیصلے پر دو منٹ بھی قائم نہیں رہ سکی تھی ۔۔
شاہان کا چہرہ ہر بار کی طرح لمحہ بھر کو بجھا تھا ۔۔
لیکن پھر وہی اس کی مشہور زمانہ ڈھٹائی ۔۔!
“اٹھو ۔۔”
فضاء کے دونوں ہاتھ تھامے وہ ضدی انداز میں بولا تھا ۔۔
فضاء کے پاس اور چارہ ہی کیا تھا ۔۔؟
مارے باندھے وہ اٹھ کر شاہان کے ساتھ چل پڑی تھی ۔۔
اور اس وقت فضاء کی آنکھوں میں کچھ الجھن نمایاں ہوئی تھی جب وہ اسے لے کر گاڑی تک چلا آیا تھا ۔۔
لیکن فضاء نے اپنی الجھن اس پر ظاہر نہیں کی اور خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔
سارا سفر دونوں نے خاموشی اختیار کیئے رکھی تھی ۔۔
شاہان نے کئی بار ترچھی نظر فضاء پر ڈال کر اس کے تاثرات جانچے تھے ۔۔
فضاء کے چہرے پر سوائے خاموشی کے کچھ بھی نہیں تھا ۔۔
حیرت انگیز طور پر بیزاری بھی نہیں ۔۔!
سر جھٹک کر شاہان نے اپنی تمام توجہ ڈرائیونگ کی جانب مبذول کر لی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہم یہاں کس سے ملنے آئے ہیں ۔۔؟”
اس خوبصورت عمارت میں بنے فلیٹ کے قریب پہنچ کر فضاء نے اس سے پوچھا تھا ۔۔
“میں اپنی پرانی فضاء سے ملنے آیا ہوں ۔۔
بہت یاد آتی ہے مجھے ۔۔
دعا کرنا وہ مل جائے ۔۔”
فضاء کی بڑی بڑی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے شاہان التجائیہ انداز میں پھیکا سا مسکرا کر بولا تھا ۔۔
جواباً فضاء اسے دیکھ کر رہ گئی ۔۔
شاہان نے فلیٹ کا دروازہ کھولا تو اندر سے گلاب کے پھولوں کی خوشبو نے طبیعت پر خوشگوار اثر چھوڑا تھا ۔۔
دروازہ کھول کر وہ خود اندر نہیں گیا تھا اور فضاء کو پہلے اندر جانے کا اشارہ دیا تھا ۔۔
اندر کی تمام لائٹس بند ہونے کی وجہ سے فضاء کچھ دیکھ نہیں سکی تھی ۔۔
لیکن نازک سی سینڈلز پہنے ہونے کے باوجود قدموں کے نیچے گلاب کی پتیاں محسوس کر سکتی تھی ۔۔
گم صم سی کھڑی وہ اس دلفریب مہک کو اپنی سانسوں میں اتارتی اندھیرے میں نظریں دوڑا رہی تھی ۔۔
جب اندھیرے کمرے میں کوئی جگنوں سا چمکا تھا ۔۔
فضاء چونک کر مڑی ۔۔
شاہان ہاتھ میں کیک پر موم بتیاں سجائے گمبھیر آواز میں “ہیپی برتھڈے” گاتا ہوا اس کے قریب چلا آرہا تھا ۔۔
فضاء دنگ سی اسے دیکھے چلی جا رہی تھی ۔۔
جو اس کے لیئے ایک بلکل ہی مختلف شخص بن جایا کرتا تھا ۔۔
محبت کی بارشیں برساتا ہوا ۔۔
مہربان سا ۔۔
قربان سا ۔۔
فضاء جو غصہ اور نفرت کا اظہار کرتے کرتے اب بری طرح تھک گئی تھی ۔۔
بوجھل سے قدم اٹھاتی درمیان میں رہ جانے والا کچھ فاصلہ سمیٹ کر شاہان کے کشادہ سینے سی لگ گئی ۔۔
شاہان جو اب بھی فضاء سے کسی تیکھی بات کی امید رکھے ہوئے تھا ۔۔
اس کی مہینوں بعد کی گئی اس عنایت پر ساکن رہ گیا تھا ۔۔
شاہان اپنے حقوق وصولنے جانتا تھا ۔۔
فضاء کے احتجاج کو نظرانداز کیئے وہ اپنے تمام حقوق بغیر شرمندہ ہوئے حاصل کر لیا کرتا تھا ۔۔
وہ قربتیں اسے وقتی سرور تو دیتی تھیں ۔۔
لیکن پھر وہ تمام عرصہ خالی خالی سا ۔۔
خفا خفا سا رہا کرتا تھا ۔۔
اور اب فضاء کا خود سے اس طرح قریب آنا اس کے اندر تک کو شانت کرگیا تھا ۔۔
جسم کا خون جو ہر وقت ابلتا رہتا تھا ۔۔
وہ ٹھنڈی میٹھی لہروں کی طرح رگوں میں روڑتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔
ایک ہاتھ میں کیک پکڑے شاہان نے دوسرے ہاتھ سے فضاء کو خود میں مزید سمو لیا تھا ۔۔
“مجھے میری فضا لوٹانے کا شکریہ ۔۔”
بہت دیر بعد شاہان کی گمبھیر آواز کمرے میں گونجی تھی ۔۔
اپنے خاموش آنسئوں سے شاہان کی شرٹ بھگوتی فضاء گہری سانس بھر کر شاہان سے الگ ہوئی تھی ۔۔
آنسئوں سے تر گلابی چہرہ صاف کرتے ہوئے اب وہ کافی خجل لگ رہی تھی ۔۔
بغور فضاء کے پرسوز چہرے کو دیکھتے ہوئے شاہان نے کمرے کی بتیاں جلائی تھیں ۔۔
پھر کیک وہاں رکھی چھوٹی سی پھولوں سے سجی گول میز پر رکھ کر اس کی جانب گھوما تھا ۔۔
ماحول کی گمبھیرتا کو کم کرنے کے لیئے اسے اور کچھ نہیں سوجھا تو کیک کا ذکر چھیڑ دیا ۔۔
“کیک کاٹیں ۔۔؟”
دونوں ہاتھوں سے چہرہ صاف کرتے ہوئے فضاء نے سر اثبات میں ہلایا اور میز کی طرف بڑھ گئی ۔۔
جب وہ چھوٹی تھی تب تو اپنی سالگرہ پر خوب شور مچاتی تھی ۔۔
گیفٹ میں یہ چاہیے ۔۔
وہ چاہیے ۔۔
ایسا کیک ۔۔
ویسا کیک ۔۔
لیکن ٹین ایج میں دخل ہونے تک وہ حالات کو کافی حد تک سمجھ گئی تھی ۔۔
جب ہی کوئی فرمائشی پروگرام بھی شروع نہیں کرتی تھی ۔۔
یوں ان کے گھر میں سالگرہ منانا بلکل ہی بند ہوگیا ۔۔
عرصے بیت گئے تھے وہ اپنا برتھڈے بلکل بھلائے بیٹھی تھی ۔۔
یہی وجہ تھی اس وقت اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آج اس کی سالگرہ ہے ۔۔
اور وہ صحیح معنوں میں سرپرائز ہوگئی تھی ۔۔
اور ایموشنل بھی ۔۔
کیک کاٹنے کے بعد شاہان نے اس کی طرف ایک فائل بڑھائی تھی جسے فضاء نے الجھتے ہوئے تھام لیا تھا ۔۔
فضاء کی آنکھوں میں لکھا سوال پڑھ کر شاہان نے اسے خود فائل کھول کر دیکھنے کو کہا تھا ۔۔
اور جب فضاء نے فائل کھولی تب اسے جھٹکا سا لگا تھا ۔۔
وہ اسی لگژری فلیٹ کے کاغذات تھے ۔۔
اور شاہان فلیٹ اس کے نام کر چکا تھا ۔۔
لیکن فضاء کو اس فلیٹ کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔۔
اس بات کا اظہار بھی فضاء نے فوراً کردیا تھا ۔۔
“جب رہنا مجھے آپ کے ساتھ ہی ہے تو اس فلیٹ کی کیا ضرورت ہے ۔۔؟”
“رہنا تو خیر تمہیں واقعی آخری سانس تک میرے ساتھ ہے ۔۔
لیکن کوئی تحفہ تو دینا تھا نا تمہیں ۔۔
یہ فلیٹ میں نے کچھ دن پہلے ہی لیا تھا ۔۔
پھر تمہاری برتھڈے کا معلوم ہوا ۔۔
تب اس سے بہتر مجھے کوئی گفٹ نہیں لگا ۔۔
جویلری وغیرہ تو آتی رہتی ہے ۔۔
ویسے دینے کو تو جان بھی دے دوں ۔۔
لیکن اگر تمہیں کچھ اور بھی چاہیے تو بتائو ۔۔”
فضاء کا ہاتھ تھامے اس کی کلائی میں موجود کنگن سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے ۔۔
وہ واقعی سب وار دینے کو تیار نظر آ رہا تھا ۔۔
اس سے پہلے فضاء شاہان سے کوئی مشکل سا وعدہ لیتی ۔۔
ٹیبل پر رکھا شاہان کا فون گنگنا اٹھا ۔۔
یہ شاہان کا وہی فون تھا جو وہ فضاء کو چھونے بھی نہیں دیتا تھا ۔۔
اس فون میں وہ تمام کانٹیکٹ موجود تھے ۔۔
جو فضاء کی جان جلاتے تھے ۔۔
اس وقت بھی وہ جھٹکے سے اپنے ہاتھ چھڑوا کر رخ موڑ کر کھڑی ہوگئی تھی ۔۔
شاہان نے بےبسی سے اسے دیکھا ۔۔
لیکن کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا اور فون ٹیبل سے اٹھا کر سائڈ چلا گیا ۔۔
شدید غصے سے کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے فضاء نے جلتی نظروں سے شاہان کو دیکھا تھا جو بہت دھیمی آواز میں مخاطب تھا ۔۔
شاہان کے چہرے کے تاثرات چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ وہ کیا باتیں کر رہا تھا ۔۔
دس منٹ تک تو فضاء ضبط کرتی رہی لیکن پھر کیک اٹھا کر شاہان کی پشت پر مارنا چاہا ۔۔
لیکن عین اسی وقت شاہان دوبارہ اس کی طرف مڑا تھا ۔۔
اور کیک اس کے چہرے پر لگ گیا تھا ۔۔
ایک پل کو فضاء ٹھٹھکی ۔۔
لیکن اگلے ہی پل تن فن کرتی کچھ سوچے سمجھے بغیر ایک کمرے میں گھس گئی ۔۔
پیچھے چاکلیٹی ہیرو جیسا دکھنے والا شاہان چاکلیٹ کریم سے لتھڑا چہرہ لیئے حق دق رہ گیا تھا ۔۔
وہ فون پر موجود ہستی سے الوداعی کلمات ادا کر کے ہی فارغ ہوا تھا ۔۔
اس لیئے خاموشی سے موبائل جیب میں ڈال کر جیب سے رومال نکال کر چہرہ تھپتھپاتے ہوئے باتھروم کی طرف بڑھ گیا ۔۔
شاہان کے چہرے کے تاثرات بلکل تنے ہوئے تھے ۔۔
اسے فضاء کا یہ عمل بلکل پسند نہیں آیا تھا ۔۔
لیکن اگر وہ فضاء کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھتا تو اسے یہ عمل اتنا برا بھی نہ لگتا ۔۔
کوئی بھی بیوی اتنے خوبصورت موقعے پر درمیان میں کوئی مداخلت برداشت نہیں کرتی ۔۔
یہاں تو معاملہ کچھ زیادہ ہی تکلیف دہ تھا ۔۔
اس کا شوہر سائڈ ہو کر کھڑا اس کے سامنے کسی بیوقوف سی لڑکی سے محبت بھری باتیں کر رہا تھا ۔۔
کون سی بیوی برداشت کر سکتی تھی یہ سب ۔۔!
فضاء جیسے جذباتی بیوی تو ہرگز نہیں کر سکتی تھی ۔۔
جس کمرے میں فضاء موجود تھی ۔۔
اس کمرے کے دروازے کو گھورتے ہوئے شاہان نے ٹیبل اٹھا کر زور سے زمین پر ماری تھی ۔۔
اندر بیٹھی فضاء کا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: