Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 15

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 15

–**–**–

شاہان کے غصے کا سوچ کر فضاء خوفزدہ سی ہوگئی تھی ۔۔
یہ سچ تھا کہ شاہان نے کبھی اس پر غصہ نہیں کیا تھا ۔۔
لیکن وہ شاہان کو شدید غصے میں قتل کرتے ہوئے بھی دیکھ چکی تھی ۔۔
وہ غصے میں پاگل جنونی سا ہوجاتا تھا ۔۔
جس ہرگز اچھی بات نہیں تھی ۔۔
پھر ڈرتی کیسے نہیں ۔۔
“دروازہ کھولو فضاء ۔۔
باہر آئو ۔۔”
ہلکی سی دستک دے کر شاہان حکمیہ انداز میں بولا تھا ۔۔
فضاء پیشانی پر سلوٹیں سجائے نچلا لب کچلتی پریشانی نظروں سے دروازے کو گھورنے لگی ۔۔
اسے اندازہ ہوا تھا وہ غصے میں کچھ زیادہ ہی اوور ہوگئی تھی ۔۔
“کم از کم آج کے دن اس موقعے پر مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔
لیکن کیا انہیں آج کے سپیشل دن کسی منحوس ماری کی کال ریسیو کرنی ضروری تھی ۔۔؟
قیامت تو نہ آجاتی اگر شاہان کال اگنور کر دیتے ۔۔”
دل اور دماغ میں جنگ چھڑ چکی تھی ۔۔
شاہان کی کوئی پکار بھی پھر سنائی نہیں دی تھی ۔۔
بلکہ پکار تو کیا ۔۔
کوئی آہٹ بھی اب سنائی نہیں دے رہی تھی ۔۔
یوں لگتا تھا باہر کوئی موجود ہی نہیں تھا ۔۔
“کہیں مجھے چھوڑ کر تو نہیں چلے گئے ۔۔؟”
پریشانی سے اِدھر اُدھر چکراتی وہ بالآخر آدھے گھنٹے بعد کمرے سے خود ہی باہر نکل آئی تھی ۔۔
چھوٹی سی ٹیبل الٹی پڑی ہوئی تھی ۔۔
گلاب کی تمام سجاوٹ بکھیردی گئی تھی ۔۔
صوفے کو بھی شائد غصے میں لات رسید کی گئی تھی ۔۔
وہ اپنی جگہ سے تھوڑا کھسکا ہوا تھا ۔۔
فضاء کو افسوس سا ہوا تھا اپنی جلد بازی پر ۔۔
لیکن سوال یہ اٹھتا تھا ۔۔
کہ شاہان اس وقت کہاں تھا ۔۔؟
اتنا بھی کیا غصہ کہ وہ اسے تنہا ایک انجان جگہ چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔۔
گہری سانس بھر کر وہ پھولوں کی پتیوں کے ڈھیر کے پاس بیٹھ گئی ۔۔
یہ بلاشبہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت برتھڈے سیلیبریشن تھی ۔۔
جو اس کی جلد بازی اور غصے نے برباد کردی تھی ۔۔
“کیا تھا جو میں تھوڑا صبر کرلیتی ۔۔
بہت سڑیل ہوگئی ہوں میں ۔۔
ماننا پڑے گا ۔۔”
خود کو گھرکتے ہوئے فضاء نے پورا فلیٹ چھان مارا تھا ۔۔
شاہان کہیں بھی نہیں تھا ۔۔
افسردہ سا دل لیئے وہ ٹیوی کھول کر بیٹھ گئی ۔۔
اور کر بھی کیا سکتی تھی ۔۔
کال کر کے شاہان سے گلہ تو وہ ہرگز نہیں کرنے والی تھی ۔۔
کچھ غلطی شاہان کی بھی تو تھی ۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لب بھینچے شاہان عظمی بیگم کا پرنور بےجان چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔
شزا ان سے لپٹی بلک بلک کر رو رہی تھی ۔۔
آس پاس ان کے اور بھی جاننے والے موجود تھے ۔۔
کوئی شزا کو دلاسہ دے رہا تھا تو کوئی تھری پیس سوٹ میں مین ٹین کھڑے شاہان کو گھور رہا تھا ۔۔
جبکہ شاہان کے سمجھ نہیں آ رہا تھا ایسی صورتحال میں وہ کیا کرے ۔۔؟
کچھ دیر پہلے ہی وہ فضاء کا دماغ ٹھکانے لگانا چاہتا تھا ۔۔
اس کا خیال تھا اس نے فضاء کے ساتھ بہت نرمی برت لی ۔۔
اب فضاء کا دماغ درست کرنے کا وقت آگیا تھا ۔۔
“کہ جو ہے جیسا ہے قبول کرو اور پہلے جیسی ہوجائو ۔۔
تمہارے غصے سے یہ تلخ حقیقت بدل نہیں جانی ۔۔”
لیکن اس وقت جب وہ فضاء کو کمرے کے باہر کھڑا پکار رہا تھا ۔۔
تب اسے شزا کی کال آئی تھی کہ عظمی بیگم کا ایکسڈنٹ ہوگیا ہے ۔۔
ساتھ ہی فضاء کو بتانے سے منع بھی کردیا تھا کیونکہ فضاء اور کچھ تو نہیں کرے گی ۔۔
لیکن رو رو کر طبیعت ضرور بگاڑ لے گی ۔۔
شاہان نے خود بھی فضاء کو اس کی سالگرہ کے دن ایسی خبر دینا مناسب نہیں سمجھا ۔۔
جبکہ حالات کی مکمل معلومات بھی نہیں تھیں ۔۔
اور پھر وہ فضاء سے بات کیئے بغیر ہسپتال چل دیا ۔۔
شاہان کا خیال تو تھا کہ کوئی چھوٹا موٹا ایکسڈنٹ ہوگا ۔۔
لیکن جب تک وہ ہسپتال پہنچا عظمی بیگم کی روح پرواز کر چکی تھی ۔۔
اب وہ لوگ عظمی بیگم کے گھر میں موجود تھے ۔۔
ویسا ہی ماحول تھا جیسا میت والے گھر کا ہوتا ہے ۔۔
رونا ۔۔ پیٹنا ۔۔ آہیں ۔۔ سسکیاں ۔۔
شاہان کو اس ماحول سے وحشت ہونے لگی تھی ۔۔
اب فضاء کا بھی خیال ستا رہا تھا ۔۔
رات گہری ہوتی جا رہی تھی ۔۔
پتہ نہیں اکیلے گھر میں وہ کیسے رہ رہی ہوگی ۔۔؟
پھر ایک اور الجھن تھی ۔۔
فضاء کو اس کی سالگرہ کے دن عظمی بیگم کی موت کی خبر کیسے دے ۔۔؟
ابھی وہ ان ہی سوچوں میں تھا جب فضاء کے ماموں اس قریب چلے آئے اور فضاء کی بابت پوچھنے لگے ۔۔
“میں لے کر آتا ہوں اسے ۔۔
اسے انفارم کرنے کا وقت ہی نہیں ملا ۔۔”
سنجیدگی سے کہتے ہوئے وہ بالوں میں انگلیاں چلاتا باہر نکل آیا ۔۔
اور گاڑی میں بیٹھ کر گہری گہری سانسیں لینے لگا ۔۔
اپنے ماں باپ کے انتقال کے بعد اس نے آج جا کر یہ سوگ میں ڈوبے بین سنے تھے ۔۔
یہ آہیں فغاہیں اسے خوفزدہ کرگئی تھیں ۔۔
بیس سال پہلے کا اپنا رونا سسکنا شدت سے یاد آرہا تھا ۔۔
پتہ نہیں کیوں یاد آرہا تھا ۔۔
شاہان نے کچھ حیرت سے اپنے گل پر موجود نمی کو محسوس کیا تھا ۔۔
“مجھے کیا ہو رہا ہے ۔۔؟”
اس کا ذہن جھنجھنا رہا تھا ۔۔
ٹشو سے گال پیشانی اور تھوڑی تھپتھپا کر اس نے گاڑی اسٹارٹ کردی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلیٹ کا دروازہ کھولتے ہوئے شاہان یکدم ٹھٹھک کر مڑا تھا ۔۔
کسی کے خود پر نظر رکھنے کا احساس اسے کافی دیر سے ہورہا تھا ۔۔
اور فلیٹ کی عمارت کے اندر پہنچنے تک اس احساس نے شدت پکڑ لی تھی ۔۔
شاہان نے چوکننا اندازمیں آس پاس کا اچھی طرح جائزہ لیا ۔۔
لیکن کسی کو بھی موجود نہ پایا ۔۔
الجھا الجھا ذہن اب تکلیف دینے لگا تھا ۔۔
آج کی شب جتنی خاص بنانے کا ارادہ تھا اتنی ہی ناخوشگوار بنتی جا رہی تھی ۔۔
جھنجھلا کر شاہان نے پہلے سے ڈھیلی ٹائی اکتاہٹ کے ساتھ مکمل طور پر گردن سے نکال لی ۔۔
اور اسے ہاتھ میں بےپروائی سے پکڑے فلیٹ کے اندر داخل ہوگیا ۔۔
ہر چیز ویسی کی ویسی ہی تھی ۔۔
لیکن پھر بھی کچھ الگ سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔
ہر بڑھتے قدم کے ساتھ ناخوشگواری کا احساس زور پکڑتا جا رہا تھا ۔۔
“فضاء ۔۔”
شاہان کی پکار میں انجانا سا خوف تھا ۔۔
“فضاء تم یہاں ہو نا ۔۔؟”
اسی کمرے کے دروازے کو آہستہ سے تھپتھپا کر شاہان بہت آس سے پوچھ رہا تھا ۔۔
پھر شاہان نے کتنی ہی بار فضاء کو پکارا تھا اور دروازے پر دستکیں دی تھیں ۔۔
وہ چاہتا تو دروازے کا ہینڈل گھما سکتا تھا ۔۔
لیکن وہی ایک بےنام سا خوف تھا ۔۔
جس سے نظریں چراتے ہوئے وہ خود کو دھوکہ دینے کی کوشش میں جتا ہوا تھا ۔۔
بالآخر وہ دستک دیتے دیتے عاجز سا ہوگیا ۔۔
دھڑکتے دل کے ساتھ ہینڈل گھما کر وہ اگلے ہی پل مزید پریشان ہوا کیونکہ دروازہ کھل چکا تھا ۔۔
پھر وہ دیوانہ وار کمرے میں ہی نہیں پورے فلیٹ میں فضاء کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا ۔۔
لیکن وہ ہوتی تو نظر آتی نا ۔۔
یونہی باولوں کی طرف فلیٹ میں بھاگتے دوڑتے اچانک رک کر بالوں کو مٹھیوں میں جکڑے شاہان متوحش سا لائونج میں کچلے آدھے سگرٹ کو گھورنے لگا ۔۔
اسے کاد تھا اس نے فلیٹ میں کوئی سگرٹ نہیں پی تھی پھر یہ سگرٹ کہاں سے آئی تھی ۔۔؟
اور جب فلیٹ کا دروازہ بند تھا اور چابی اس کے پاس تھی ۔۔
ایسے میں فضاء کیسے چلی گئی تھی ۔۔؟
کہاں چلی گئی تھی ۔۔؟
اس کی غیر موجودگی میں یہاں کون آیا تھا ۔۔؟
سینکڑوں سوال سر میں اُدھم مچا رہے تھے ۔۔
شاہان کو لگنے لگا وہ ذہنی اذیت میں کھڑے کھڑے پاگل ہوجائے گا ۔۔
جب بجتے فون نے شاہان کو ایک پل کے لیئے مزید ہرانساں کر دیا ۔۔
لیکن اگلے ہی پل شاہان نے کال ریسیو کی تھی ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: