Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 16

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 16

–**–**–

“ہیلو ۔۔؟”
شاہان کا انداز بیتابانہ تھا ۔۔
اس کی آواز کی کپکپی دوسری طرف بآسانی محسوس کرلی گئی تھی ۔۔
“اوئے بھتیجے ۔۔
سب ٹھیک تو ہے ۔۔؟”
یامین گردیزی نے پریشانی سے پوچھا ۔۔
“کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے چاچو ۔۔
کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے ۔۔
فف فضاء پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے ۔۔
میں فلیٹ لاک کر کے گیا تھا ۔۔
آیا تو وہ کہیں نہیں ملی ۔۔
اور آثار بتا رہے ہیں یہاں کوئی آیا بھی تھا ۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا چاچو ۔۔
آپ پلیز یہاں آجائیں ۔۔”
شاہان کو اپنی ہی گھٹی گھٹی آواز اجنبی لگ رہی تھی ۔۔
لیکن اس وقت وہ جس حالت میں تھا ۔۔
خود پر کنٹرول رکھنا ناممکن تھا ۔۔
“لیکن تم نے کہا تھا میں یہاں فضاء کے گھر کا ۔۔”
“فضاء کے گھر کو دفع کریں چاچو ۔۔
آپ اکیلے تو نہیں ہیں وہاں ۔۔
اور بھی بہت سے لوگ ہیں ۔۔
آنٹی کے سگے بھائی موجود ہیں ۔۔
وہ سب سنبھال لیں گے ۔۔
آپ بس یہاں آئیں ۔۔
ابھی اور اسی وقت ۔۔”
یامین گردیزی کی بات کاٹ کر شاہان بھڑک اٹھا تھا ۔۔
یامین گردیزی نے سٹپٹا کر آنے کی حامی بھری اور فضاء کے گھر میں افسوس کے لیئے جمع لوگوں سے نظریں بچا کر گھر سے نکل گئے ۔۔
“مصیبت ہے وہ لڑکی مصیبت ۔۔
جب سے شاہان کی زندگی میں آئی ہے روز ایک نیا مسئلہ کھڑا ملتا ہے ۔۔”
گاڑی میں بیٹھ کر اونچی آواز میں بڑبڑاتے ہوئے یامین گردیزی شائد خود سے مخاطب تھے جب کنپٹی پر ٹکتی گن کی نال نے انہیں اندر تک لرزا دیا تھا ۔۔
ایک پل کو ساکت رہنے کے بعد اس سے پہلے کہ یامین گردیزی جیب میں موجود اپنا ریوالور نکالتے ۔۔
پچھلی طرف بیٹھے نقاب پوش شخص نے ان کی کنپٹی سے ٹکائی گن زور سے کر ان کے سر پر ماری اور وہ ایک تکلیف دہ آہ کے ساتھ ہوش سے بیگانہ ہوگئے ۔۔
پیچھے بیٹھا شخص گلی میں موجود اندھیرے کی وجہ سے باآسانی اپنی کاروائیاں کر رہا تھا ۔۔
یامین گردیزی کو پیچھے لٹا کر احتیاطاً ان کے ہاتھ پیر باندھ کر وہ ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے ایک انجانے سفر پر نکل چکا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہان بار بار یامین گردیزی کا نمبر ملا رہا تھا ۔۔
لیکن فون مستقل بند جا رہا تھا ۔۔
پریشانی اس قدر تھی کہ شاہان نے منہ ہی منہ میں بڑبڑا کر یامین گردیزی کی بھی مٹی پلید کر کے رکھ دی تھی ۔۔
“واٹ دی ہیل ۔۔
ہو کیا رہا ہے یہ آخر ۔۔
ہو کیا رہا ہے آج ۔۔
فضاء تم چلی کہاں گئی ہو ۔۔؟
تمہیں کچھ خبر ہے ۔۔
ماں مر گئی ہے تمہاری ۔۔
میرے لیئے نہ سہی اپنی ماں کے لیئے آجائو یار کہاں چھپی ہو ۔۔؟؟”
خالی فلیٹ میں حلق کے بل چلاتے ہوئے شاہان پر کسی دیوانے کا ہی گمان ہو رہا تھا ۔۔
وہ اب بھی ایک آس پر فلیٹ میں فضاء کو تلاش رہا تھا ۔۔
اگر چہ وہ اچھی طرح فلیٹ کا جائزہ لے چکا تھا ۔۔
پھر بھی دل کو کسی پل چین نہیں آرہا تھا ۔۔
یکدم اسے کچھ خیال آیا تھا جس سے اس کی پریشانی میں رائی برابر کمی ہوگئی تھی ۔۔
“سی سی ٹیوی کیمرہ ۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہان کی نم آنکھیں دھیرے دھیرے سلگنے لگی تھیں ۔۔
اس کی غیر موجودگی میں فلیٹ میں آنے والا اور فضاء کو ساتھ لیجانے والا وہ شخص گردیزی ولا کا خاص الخاص ملازم تھا ۔۔
بہت کم وقت میں سمیر نامی اس ملازم نے شاہان اور یامین گردیزی کا اعتبار جیتا تھا ۔۔
اور اتنی ہی جلدی اعتبار توڑ بھی دیا تھا ۔۔
شاہان کو اپنا یہ فلسفہ بلکل ٹھیک لگا کہ کوئی اعتبار کے قابل نہیں ہوتا ۔۔
کوئی دوست نہیں ہوتا ۔۔
مطلب مطلب کی بات ہوتی ہے ۔۔”
اگر چہ شاہان بختیار کے قتل کے حوالے سے گردیزی ولا کے تمام ملازمین کو اچھی طرح سمجھا اور دھمکا چکا تھا ۔۔
لیکن پیسے کی اہمیت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ۔۔
اور دولت کے نشے سے شاہان سے بڑھ کر کون واقف ہوسکتا تھا ۔۔
شاہان جانتا تھا مختار میمن بختیار میمن کے قتل کی حقیقت جان کر ہی رہے گا ۔۔
چاہے وہ کتنی بھی احتیاط کرلے ۔۔
کیونکہ کم بآاختیار مختار میمن بھی نہیں تھا ۔۔!
فلیٹ کی چابی کی ڈوپلیکیٹس وہ فارم ہائوس میں رکھتا تھا ۔۔
یقیناً سمیر نے وہیں سے چابی لی تھی ۔۔
اور فضاء کے سامنے شاہان کا نام لے کر فضاء کا اعتماد جیت کر اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا ۔۔
وہ صاف دیکھ سکتا تھا فضاء سمیر کی آمد پر پہلے تو گھبرائی تھی ۔۔
لیکن کچھ دیر بات چیت کے بعد مطمئین سی ہو کر اس کے ساتھ چلی گئی تھی ۔۔
مٹھیاں سختی سے بھینچے شاہان کچھ دیر تک اسکرین پر نظریں جمائے رہا ۔۔
پھر اگلے ہی پل اس نے اٹھ کر دیوار پر زوردار مکا رسید کیا تھا جس سے شاہان کی کے ہاتھ پر چوٹ بھی آئی تھی ۔۔
لیکن وہ بےپروہ تھا ۔۔
“مختار میمن اگر اس کے پیچھے واقعی تیرا ہاتھ ہوا تو تُو سوچ بھی نہیں سکتا کتنی بھیانک موت دوں گا میں تجھے ۔۔!”
شعلہ جوالہ بنا وہ تیزی سے فلیٹ سے نکلا تھا ۔۔
وہ یامین گردیزی کے انتظار میں وقت برباد نہیں کر سکتا تھا ۔۔
اس کی جان ویسے ہی سولی پر اٹکی ہوئی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے سامنے بیٹھے اس بھاری بھرکم جسامت والے شخص کی باتیں سن سن کر فضاء کا تمام خون خشک ہو چکا تھا ۔۔
کونسی گالی تھی تھی جو اس شخص نے اسے نہیں دی تھی ۔۔
اتنی اس شخص نے باتیں نہیں کی تھیں جتنی گالیاں دی تھیں ۔۔
صرف اسے ہی نہیں بلکہ یامین گردیزی اور شاہان کو بھی ۔۔
وہ گالیاں اتنی غلیظ تھیں کہ اہانت کے احساس سے فضاء کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے ۔۔
جسم سے جیسے جان نکل گئی تھی ۔۔
اسے باندھا نہیں گیا تھا لیکن پھر بھی وہ سکڑی سمٹی کب سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی تھی ۔۔
ذرا جنبش کی ہمت بھی نہیں تھی اس میں ۔۔
دل تھا کہ اللہ سے اپنی عزت اور جان کی حفاظت کی دعائوں کے ساتھ ساتھ شاہان سے گلے شکوے میں بھی مگن تھا ۔۔
“اتنی جلدی مکافات عمل کا شکار ہو رہے ہیں آپ ۔۔
آپ کے گناہوں کا بوجھ مجھے ڈھونا پڑے گا شاہان ۔۔”
بھیگی نظریں ہتھیلیوں پر جمائے فضاء سسکی تھی ۔۔
“ارے ارے تم پھر رونے لگی ہو ۔۔
منع کیا نا میں نے ۔۔
رونے کا فائدہ نہیں ۔۔
اور ہاں ۔۔
تم مجھ سے ڈرو بھی مت ۔۔”
اچانک مختار میمن نے بڑے انسانیت بھرے انداز میں کہا تھا ۔۔
فضاء نے سہمی ہوئی نظریں ذرا کی ذرا اٹھا کر پھر سے گرالی تھیں ۔۔
مختار میمن کا یہ انداز حیران کن ضرور تھا لیکن خوش کن بلکل نہیں ۔۔
“میں تم کو چھونے کا ارادہ بھی نہیں رکھتا ۔۔
حالانکہ دل بےایمان ہو رہا ہے ۔۔
لیکن ایسے پھر زیادہ مزہ نہیں آئے گا شاہ کو سزا دینے میں ۔۔”
آدھی ادھوری سی بات کر کے مختار میمن نے سگرٹ کا ایک طویل کش لیا تھا ۔۔
فضاء نے اس کی باتیں سن کر دل کو کسی خوش گمانی کا شکار نہیں ہونے دیا تھا ۔۔
جانتی تھی کہ اگر اسے یہاں لایا گیا ہے تو کوئی نہ کوئی تکلیف تو ضرور دی جائے گی ۔۔!
کچھ دیر یونہی خاموشی میں گزر گئی ۔۔
مختار میمن فون پر کسی سے بات کرتا ہوا کمرے سے چلا گیا تھا ۔۔
تب بھی فضاء کے جامد وجود میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔۔
وہ بس منتظر تھی کہ کب اسے شاہان کے گناہوں کی بھاری بھرکم پوٹلی تھمائی جائے گی ۔۔
یا اللہ اس کی دعائیں قبول فرمائے گا اور اس کی حفاظت کا انتظام فرمائے گا ۔۔
کچھ دیر بعد اسے جانی پہچانی سی آواز آئی تھی جس نے اسے صوفے سے اٹھنے پر مجبور کردیا تھا ۔۔
پیچھے مختار میمن کے آدمیوں میں گھرے معافی تلافی کرتے یامین گردیزی کو دیکھ کر فضاء کو نہ جانے کیوں ایک گونا اطمینان ہوا تھا ۔۔
فضاء نے یامین گردیزی کے پیچھے نظریں دوڑائی تھیں لیکن شاہان کو کہیں نہ پا کر دل میں دھڑکتی امید نے فوراً ہی دم توڑ دیا تھا ۔۔
دوسری طرف یامین گردیزی فضاء کو وہاں دیکھ کر ٹھٹھک گئے تھے ۔۔
نہ جانے کیا کرنے والا تھا مختار میمن ۔۔؟
“اوئے مختار ۔۔
میری بات سن ۔۔
تجھے غلط فہمی ہوئی ہوئی ہوگی ۔۔
ہم تو پرانے ساتھی ۔۔”
“بکواس بند کر ۔۔”
یامین گردیزی جو ہاتھ جوڑے مختار سے بڑی لجاجت سے مخاطب تھے ۔۔
مختار کی دہاڑ پر اچھل پڑے ۔۔
مختار کی آواز اس کی بھاری جسامت کے حساب سے بلکل پرفیکٹ تھی ۔۔
گرجدار ۔۔
خون خشک کردینے والی ۔۔
“پرانے ساتھی ۔۔؟
پرانے ساتھی ایسے ہوتے ہیں ۔۔؟
ایک دو ٹکے کی لڑکی کے لیئے تم لوگوں نے میرے بھائی کی جان لی ۔۔؟
اولاد کی طرح تھا وہ میرے لیئے ۔۔
اس کی جان لیتے ہوئے خیال آیا اس پرانی یاری کا ۔۔؟
ارے ایسی ہزاروں لڑکیاں قدموں میں پڑی رہتی ہیں ۔۔
ایک لڑکی کے لیئے آخر کیسے تم لوگوں نے میرے بھائی کی جان لی ۔۔؟”
مختار میمن کی دہاڑ سے فضاء کا دل بیٹھ رہا تھا ۔۔
اسے اپنی ٹانگیں بےجان ہوتی محسوس ہوئیں ۔۔
“یہ لڑکی بیوی ہے شاہان کی مختار ۔۔
شاہان پسند کرتا ہے اسے ۔۔
اس لیئے جذباتی ہوگیا تھا ۔۔”
یامین گردیزی نے ایک گھوری فضاء پر ڈال کر مختار میمن کو سمجھانے کی کوشش کی ۔۔
آواز بہت دھیمی تھی ۔۔
یامین گردیزی کو مختار میمن سے زیادہ فضاء پر غصہ آ رہا تھا ۔۔
ان کا دل چاہ رہا تھا آگے بڑھیں اور تھپڑوں سے فضاء کا منہ توڑ کر رکھ دیں ۔۔
ایک تو ویسے ہی انہیں فضاء سے چڑ تھی ۔۔
اوپر سے فضاء کی وجہ سے ان کو جان کے لالے پڑ گئے تھے ۔۔
“جذباتی ہوگیا تھا ۔۔؟
ہاہاہا ۔۔
میں بھی کم جذباتی نہیں ہوں یامین ۔۔”
مختار میمن نے گن یامین گردیزی کی پیشانی پر تان دی ۔۔
یامین گردیزی نے تھوک نگل کر التجائیا نظروں سے مختار میمن کی طرف دیکھا ۔۔
آواز تو اندر ہی اندر کہیں مر گئی تھی ۔۔
سو اس کے سوا ان کے بس میں اور کچھ نہیں تھا ۔۔
وہ لوگ مختار میمن کی حویلی میں تھے ۔۔
جہاں ہر طرف مختار میمن کے آدمی موجود تھے ۔۔
اور یامین گردیزی کو اپنی جان بہت پیاری تھی ۔۔
وہ فضاء کے لیئے اپنی جان خطرے میں ہرگز نہیں ڈالنے والے تھے ۔۔
جب ہی ان کے ذہن نے انہیں نئی راہ دکھائی ۔۔
اور وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنی بات کہنے کی اجازت مختار میمن سے مانگنے لگے ۔۔
مختار میمن کا مقصد یوں بھی کچھ اور تھا ۔۔
وہ یامین گردیزی کو مارنا نہیں چاہتا تھا ۔۔
جب ہی انہیں بولنے کا اشارہ دیا ۔۔
“اس لڑکی کو اپنے پاس رکھ لو ۔۔
میں بلکل کسی کے آگے کبھی منہ نہیں کھولوں گا ۔۔
قسم سے ۔۔
مجھے جانے دے یار ۔۔
شاہان کے حصے کی سزا مجھے کیوں دے رہا ہے ۔۔؟”
مختار میمن کو یہ احساس شدت سے ہوا تھا کہ یامین گردیزی بہت ہی کوئی گھٹیا انسان ہے ۔۔
لیکن مختار میمن جانتا تھا اس جتنا گھٹیا کوئی نہیں ہو سکتا تھا ۔۔
“چل ٹھیک ہے ۔۔
شاہ کے کیئے کی سزا اسے ہی دیتے ہیں ۔۔
اور شاہ کو سزا دینے میں تجھے میرا ساتھ دینا ہوگا ۔۔
منظور ۔۔؟”
“سو بار منظور ۔۔!”
یامین گردیزی بانچھیں پھیلا کر بولے ۔۔
ان کا پسینے سے تر چہرہ منٹ میں خشک ہوگیا تھا ۔۔
موت کا خوف ہر خوف سے سوا تھا ۔۔
یامین گردیزی کے لیئے دولت سے اگر کچھ زیادہ بڑھ کر تھا تو وہ زندگی ہی تھی ۔۔
“لیکن مجھے کرنا کیا ہوگا مختار ۔۔؟”
یامین گردیزی اتنا تو جانتے تھے مختار میمن انہیں کوئی چھوٹا موٹا ٹاس نہیں دینے والا تھا ۔۔
جب ہی انداز محتاط ہوگیا تھا ۔۔
مختار میمن نے کافی فاصلے پر خالی الذہنی کی کیفیت میں بیٹھی فضاء پر ایک گہری نظر ڈالی اور یامین گردیزی کے کان کی طرف جھکا ۔۔
اور اس کی بات سن کر یامین گردیزی تیزی سے چند قدم دور ہوئے تھے ۔۔
متوحش نظروں سے فضاء کی طرف دیکھ کر انہوں نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا ۔۔
“مختار ۔۔!
شاہان مجھے جان سے ماردے گا ۔۔
اسی کے لیئے تو اس نے بختیار کی جان لی تھی ۔۔
مجھے بھی مار دے گا یار وہ ۔۔
مار دے گا ۔۔!
وہ بھی مارے گا ہی ۔۔
اس سے تو تم ہی مار دو ۔۔”
یامین گردیزی نروٹھے پن سے بڑبڑائے ۔۔
آگے کنواں تھا ۔۔
پیچھے کھائی ۔۔
ساری خوشی غارت ہوگئی ۔۔
“شاہ کو بتائے گا کون ۔۔؟”
مختار میمن بےپرائی سے بولا تھا ۔۔
“اگر کوئی نہیں بتائے گا تو میں ہی کیوں ۔۔؟
تم یا تمہارا کوئی بندہ کیوں نہیں ۔۔؟”
یامین گردیزی اب ایسے بھی بیوقوف نہیں تھے ۔۔
جو بھی کچھ بھی کرنے کو کہہ دیتا وہ کر ڈالتے ۔۔
ایک عمر دی تھی اس دھندے کو ۔۔!
“ٹھیک ہے پھر میں ہی تمہارا کام تمام کرتا ہوں دوست ۔۔
شاہان کو خبر ہونے تک کم از کم تمہیں جان بچانے کے لیئے بھاگنے کا وقت تو ملے گا ۔۔”
مختار میمن کی بات پر یامین گردیزی بیچارگی سے اسے دیکھنے لگے ۔۔
پھر پرسوچ نظریں غیر مرئی نقطے پر ٹکادیں ۔۔
جب انہیں سوچنے میں کچھ زیادہ ہی وقت لگ گیا تب مختار میمن نے ایک کے اوپر ایک دو فائر ان کے پیروں کے نزدیک کیئے ۔۔
یامین گردیزی اپنی جگہ ناچ کر رہ گئے ۔۔
جبکہ فضاء کے منہ سے چیخیں بےساختہ نکلی تھیں ۔۔
وہ فاصلہ ہونے کے باعث یامین گردیزی اور مختار میمن کی باتیں نہیں سن سکی تھی ۔۔
ورنہ بہت پہلے ہی چیخ پڑتی ۔۔
“ہاں یا ناں ۔۔؟”
مختار میمن دہاڑا ۔۔
“مجھے کچھ دیر ۔۔”
یامین گردیزی نے بولنا چاہا ۔۔
“ہاں یا ناں ۔۔؟
میری فلائٹ کا ٹائم ہو رہا ہے یامین ۔۔
تیری نخرے اٹھانے کا ٹائم نہیں ہے میرے پاس ۔۔”
مختار میمن کی یہ دہاڑ سب سے زیادہ اونچی تھی ۔۔
یامین گردیزی نے خوفزدہ انداز میں ہاتھ اٹھا کر ہار مان لی ۔۔
پھر مختار میمن کے اشارے پر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے فضاء کی طرف بڑھنے لگے ۔۔
فضاء کی چھٹی حس اسے کچھ غلط ہونے کا احساس دلا رہی تھی ۔۔
وہ بےساختہ صوفے سے اٹھ کر دو قدم پیچھے ہوئی تھی ۔۔
اور پھر یامین گردیزی کے ہر بڑھتے قدم کے ساتھ فضاء اپنے قدم پیچھے کرتی رہی ۔۔
یہاں تک کے وہ دیوار سے ٹکرا گئی ۔۔
خوفزدہ ہو کر چیختے چلاتے ہوئے اس نے شاہان کا نام لے کر بھی یامین گردیزی کو ڈرایا تھا ۔۔
لیکن یامین گردیزی اس وقت سب سے زیادہ موت سے خوفزدہ تھے ۔۔
دونوں صورتوں میں مرنا تو تھا ۔۔
لیکن اس صورت میں زندگی کے کچھ چانسز باقی تھے ۔۔
جبڑے کس کر دل مضبوط کرتے ہوئے انہوں نے ہاتھوں کی کپکپی پر کنٹرول کرتے ہوئے فضاء کے ہاتھ سے وہ گلدان چھین کر سائڈ پھینکا جو فضاء نے قریب ہی ٹیبل سے اپنے بچائو کے لیئے اٹھایا تھا ۔۔
پھر جھٹکے سے فضاء کا دوپٹہ کھینچ کر دور پھینک دیا ۔۔
کمرے میں موجود تمام انسان نما شیطانوں کے اونچے قہقہوں نے اسے اندر لرزا دیا تھا ۔۔
فضاء کو لگا وہ بس مرنے والی ہے ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Mullan Pur Ka Sain Novel By Zafar Iqbal – Episode 2

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: