Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 17

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 17

–**–**–

تیز ڈرائیونگ کے دوران وہ بہت مشکل سے اپنے آنسئوں پر ضبط کر رہا تھا ۔۔
ورنہ دل تو چاہ رہا تھا کہ ابھی سب چھوڑ کر پہلی فرصت میں دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دے ۔۔
فضاء بختیار میمن کی ہی حویلی میں موجود تھی ابھی تو یہ بھی کنفرم نہیں تھا ۔۔
پہلے تو یہ کنفرم کرنا تھا ۔۔
کنفرم کرنے کے لیئے ہی وہ بختیار میمن کی حویلی جا رہا تھا جو شہر کے اس علاقے سے کافی دور تھی ۔۔
کتنی دیر گزر چکی تھی اسے سفر میں ۔۔
اور فضاء کو غائب ہوئے اس سے بھی زیادہ وقت بیت چکا تھا ۔۔
کہیں اسے دیر نہ ہوجائے ۔۔
کہیں اس کا نقصان نہ ہوجائے ۔۔!
شاہان خود کو بےبسی کی انتہا پر محسوس کر رہا تھا ۔۔
دل اس قدر بوجھل ہو رہا تھا کہ سینے سے نکال کر پھینکنے کی خواہش ہو رہی تھی ۔۔
اس کا وہ فون مسلسل جگمگا رہا تھا جو وہ فضاء وغیرہ کے لیئے استعمال کیا کرتا تھا ۔۔
یقیناً فضاء کے ماموں خالو وغیرہ اسے کال کر رہے تھے لیکن اس وقت شاہان ان سے بات کرنے کے موڈ میں بلکل بھی نہیں تھا ۔۔
اس نے فون سائلنٹ پر لگا رکھا تھا ۔۔
پھر بھی جگمگاتی سکرین اسے دماغ میں چبھتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔
ڈیش بورڈ سے فون اٹھا کر شاہان نے برابر کی سیٹ پر پھینک دیا ۔۔
کم از کم فون اس طرح نظروں میں تو نہیں آتا ۔۔
گہری گہری سانسیں بھرتے ہوئے شاہان نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کھسکایا تھا کیونکہ اب اس کا دم گھٹ رہا تھا ۔۔
جب سامنے پڑا اس کا “بزنس” میں استعمال کیا جانے والا فون جگمگا اٹھا ۔۔
جھپٹنے کے انداز میں فون اٹھا کر شاہان نے کار کی رفتار تھوڑی سلو کر کے کانپتے ہاتھوں سے سینڈ کی جانے والی ویڈیو کھولی تھی ۔۔
اگلے ہی پل اس کی گاڑی سنسان راستے پر چکرا کر جھٹکے سے رکی تھی ۔۔
پھٹی پھٹی نظروں سے وہ بس دو منٹ ہی اس ویڈیو کو دیکھ سکا تھا ۔۔
پھر جھٹکے سے گاڑی سے باہر نکل کر پوری قوت سے موبائل زمین پر دے مارا تھا ۔۔
دھاڑیں مار کر رونے کی خواہش بھی اس نے پوری کر ڈالی تھی ۔۔
خوفزدہ نظروں سے موبائل کی باقیات کو دیکھتا وہ گاڑی سے پشت ٹکا کر بلند آواز میں روئے چلا جا رہا تھا ۔۔
اسے دیر ہوگئی تھی ۔۔
بہت زیادہ دیر ہوگئی تھی ۔۔
اس کی محبت لٹ چکی تھی ۔۔
اس کی زندگی لٹ چکی تھی ۔۔
وہ پوری طرح لٹا پٹا سا مٹھی بنائے زور زور سے زمین پر مارے جا رہا تھا ۔۔
وہ ہار گیا تھا ۔۔
وہ اپنی متاعِ حیات کی حفاظت نہیں کر سکا تھا ۔۔
وہ سب ہار چکا تھا ۔۔!
اسے خود سے نفرت ہو رہی تھی ۔۔
سب سے بڑا قصوروار تو وہ خود ہی تھا ۔۔
وہ خود عزتوں سے کھلواڑ کرتا تھا ۔۔
محبت کے نام پر سودے بازی کیا کرتا تھا ۔۔
پھر اسے کیا ضرورت تھی ایسے میں محبت کا روگ پالنے کی ۔۔؟
وہ ایک ناپاک دھندے اور پاکیزہ محبت کو ساتھ لے کر کیسے چل سکتا تھا ۔۔؟
وہ محبت کے نام پر دھوکے دیتا تھا پھر اس کی محبت کیوں نہ لٹتی ۔۔؟؟؟
اسے قدرت نے ایک موقع دیا تھا ۔۔
سنبھلنے کا ۔۔
سمجھنے کا ۔۔
ان نادان پریوں کے اپنوں کی تکلیف محسوس کرنے کا ۔۔
لیکن اس نے وہ موقع گنوا دیا ۔۔
اپنی ضد میں ۔۔
اپنی اثر رسوخ کے نشے میں ۔۔
اس تکلیف سے گزر کر بھی وہ اس تکلیف کو سمجھ نہیں سکا تھا ۔۔
پہلے قدرت نے اس پر مہربانی کی تھی ۔۔
فضاء کی عزت پامال ہونے سے رہ گئی تھی ۔۔
اور اس بات پر شکر کرنے کی جگہ وی اور اکڑ گیا تھا ۔۔
اپنی طاقت کا نشہ کچھ زیادہ ہی چڑھ گیا تھا ۔۔
قدرت نے اس کا سارا غرور خاک میں ملا کر رکھ دیا تھا ۔۔
اور اب وہ لاچار سا اپنا سب کچھ لٹا کر زمین پر بیٹھا آنسو بہا رہا تھا ۔۔
اچانک ہی شاہان کو اپنے سینے میں تکلیف محسوس ہونے لگی ۔۔
دل پر مضبوطی سے ہاتھ جمائے اٹھنے کی کوشش میں وہ لڑکھڑا کر پھر سے گر گیا ۔۔
دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی اور پھر سے گر پڑا ۔۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اڑ کر مختار میمن کی حویلی پہنچ جائے ۔۔
لیکن سارا جسم بےجان ہو رہا تھا ۔۔
بہت مشکل سے خود پر ضبط کرتے ہوئے وہ اٹھ پایا تھا ۔۔
اور گاڑی میں گرنے کے انداز میں بیٹھ کر کچھ پل گہری گہری سانسیں لے کر دماغ کو پرسکون کیا ۔۔
پھر بےدردی سے آنکھیں رگڑ کر گاڑی اسٹارٹ کردی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حویلی پہنچ کر اسے کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا ۔۔
ساری حویلی ویران تھی ۔۔
اور نیم اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی ۔۔
یوں لگتا تھا حویلی میں کوئی موجود ہی نہیں تھا ۔۔
لیکن شاہان کو یقین تھا فضاء وہیں کہیں موجود تھی ۔۔
کوٹ کی جیب سے ریوالور نکال کر وہ پوری رفتار سے دوڑتا ہوا اندر پہنچا تھا ۔۔
ساری حویلی سائیں سائیں کر رہی تھی ۔۔
کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کچھ دیر پہلے اس حویلی میں کسی قیامت مچی تھی ۔۔
مختار میمن کے ساتھی روپوش ہوچکے تھے جبکہ مختار میمن خود دوبئی روانہ ہوچکا تھا ۔۔
اور یامین گردیزی ۔۔؟؟؟
فلحال شاہان اس بارے میں نہیں سوچ رہا تھا ۔۔
اسے صرف فضاء کی تلاش تھی ۔۔
“فضاء ۔۔!”
حویلی کے وسیع و عریض ہال میں کھڑا وہ پوری قوت سے چلایا تھا ۔۔
“فضاء ۔۔!”
اس بار آواز میں نمی بھی گھل گئی تھی ۔۔
“فضاء کہاں ہو میری جان ۔۔؟”
اس بار تھکا تھکا سا سرگوشیانہ سا انداز تھا ۔۔
کچھ پکاروں کے بعد شاہان کو لگنے لگا کہ اس کی آواز چلی گئی ہے ۔۔
وہ بس جبڑے سختی سے بھینچے نمکین پانی کا گولا حلق میں پھنسائے پوری حویلی میں فضاء کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا ۔۔
ویڈیو میں نظر آنے والے چہروں میں اس کے تقریباً تمام ساتھی موجود تھے ۔۔
جن کے عہدوں اور اختیارات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھا ۔۔
سو ان میں سے کسی کو اعتماد میں لینا یا مدد کے لیئے کہنا فضول تھا ۔۔
ان سب کے عہدے اور اختیارات اب جب اس کی اپنی باری تھی گب بیکار ہوگئے تھے ۔۔
ان سب کا دین ایمان رشتے ناطے سب دولت تھی ۔۔
پھر شاہان ان سے انصاف کی امید کیسے لگا سکتا تھا ۔۔
وہ اس وقت بلکل بے یار و مددگار تھا ۔۔
اسے آج صحیح معنوں میں ان لوگوں کی بےبسی کا احساس ہو رہا تھا جو مارے مارے تھانوں میں گھومتے پھرتے تھے ۔۔
انصاف کے دشمنوں سے انصاف کی امید لگائے اس دنیا سے ہی چلے جاتے تھے ۔۔
شاہان کو بھی یہی لگ رہا تھا وہ یونہی دیوانوں کی طرح گھومتا اچانک مر جائے گا ۔۔
یونہی سختی سے جبڑے بھینچے بےآواز دیوانہ وار فضاء کو تلاشتے ہوئے اس کے قدم اچانک ایک کمرے کے سامنے رک گئے تھے ۔۔
اس کمرے میں اندھیرا تھا لیکن کھلی کھڑکی سے آتی چاند کی روشنی میں وہ بیڈ پر پڑا بےجان سا وجود شاہان سانس روکے دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ اس غیر واضع سے وجود کو لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا ۔۔
بہت زیادہ دیر بعد شاہان کا سکتا بادلوں کی گڑگڑاہٹ اور بجلی کی چمک سے ٹوٹا تھا ۔۔
شاہان نے اپنی پھیلی آنکھیں غائب دماغی سے کھڑکی کی طرف گھمائیں ۔۔
ابھی تو چاند نکلا ہوا تھا ۔۔
یہ اچانک اتنے گہرے بادل کہاں سے برسنے کو آگئے تھے ۔۔؟
تو آسمان بھی اس کے غم میں شریک ہوچکا تھا ۔۔!
شاہان نے ویران آنکھیں کھڑکی سے نظر آتی بارش سے ہٹا کر بدقت پھر سے اس وجود پر ٹکائی تھیں ۔۔
پھر شاہان کے قدم بجائے آگے بڑھنے کے پیچھے کو ہونے لگے ۔۔
اس کمرے پر ہی نظریں جمائے وہ بےآواز قدم اٹھاتا تب تک پیچھے ہوتا رہا جب تک سیڑھیوں سے الجھ کر گرنے کو نہیں ہوگیا ۔۔
لیکن بروقت خود کو سنبھال کر وہ کچھ دیر تک یونہی کمرے کے دروازے کو گھورتا رہا ۔۔
پھر سرپٹ دوڑتا ہوا کمرے کے اندر بھاگا اور فضاء کا نیم جان وجود سینے سے شدت سے لگا کر اتنا رویا کہ باہر برستی طوفانی بارش اندر برستی بارش کے آگے کچھ بھی نہیں رہی تھی ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Justajo Meri Akhri Ho Tum Novel by Yusra Shah – Last Episode 20

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: