Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 18

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 18

–**–**–

دوپہر کا وقت تھا لیکن دھوپ میں ایسی شدت نہیں تھی ۔۔
آتی سردیوں کی ہلکی ہلکی سی دھوپ بہت بھلی لگ رہی تھی ۔۔
جب ہی فضاء آنکھیں موندے بالکونی میں کرسی پر بیٹھ گئی تھی ۔۔
کھلے ہوئے دراز گیلے بال اس نے ٹاول میں لپیٹ کر اپنے ایک شانے پر ڈال رکھے تھے ۔۔
جبکہ زرد رنگ کے لباس میں وہ بہت کھل رہی تھی ۔۔
سامنے ٹیبل پر ڈھیروں کتابیں پڑی تھیں جن میں فضاء کو ذرا دلچسپی محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔۔
باریک لکھائی والی انگلش کی موٹی موٹی کتابیں یقیناً شزا کی تھیں ۔۔
جنہیں دیکھ کر ہی فضاء کا بی پی لو ہوجاتا تھا ۔۔
سو ایک عدد گھوری معصوم کتابوں پر ڈال کے فضاء نے ایک سرسری نظر نیچے لان میں ڈال کر آنکھیں مومد لی تھیں لیکن اگلے ہی پل پٹ سے آنکھیں کھول کر اس نے احتیاط سے نیچے جھانکا تھا ۔۔
یوں کہ وہ نیچے کھڑے شخص کی نظروں میں نہ آ سکے ۔۔
لبوں میں سگرٹ دبائے شاہان کار کا دروازہ بند کر رہا تھا ۔۔
پھر فضاء نے شاہان کو ٹھٹھکتے دیکھا اور اس سے پہلے کے شاہان سر اٹھا کر فضاء کو دیکھتا ۔۔
فضاء تمام تر احتیاط کے باوجود گھبراہٹ میں بالکونی سے اٹھ کر کمرے میں بھاگ گئی تھی ۔۔
دوسری طرف شاہان نے کسی احساس سے چونک کر سر اٹھایا تھا لیکن بالکونی یا چھت ۔۔
کہیں پر بھی اس دشمنِ جان کو نہ پا کر بےبسی سے مسکرا دیا ۔۔
گزشتہ چار سالوں میں شاہان اتنا رویا تھا ۔۔
اتنا تڑپا تھا ۔۔
اتنا غصہ کر چکا تھا ۔۔
کہ اب وہ ہر حال میں بس مسکرانے پر اکتفا کرتا تھا ۔۔
اس وقت بھی پھیکی سی مسکان سجائے شاہان قدآدم درازے کی طرف بڑھا اور بیل کا بٹن دبا دیا ۔۔
چند لمحوں بعد ہی دروازے کے پار کچھ آوازیں پیدا ہوئی تھیں ۔۔
پھر دروازہ کھل گیا اور سامنے شزا کا چہرہ برامد ہوا جس کے پیارے سے چہرے پر دن رات پڑھتے رہنے کی وجہ سے نازک سے نظر کے چشمے کا اضافہ ہو چکا تھا ۔۔
شاہان پر نظر پڑتے ہی وہ بھرپور انداز میں مسکرا دی ۔۔
“السلام علیکم شاہان بھائی ۔۔”
انداز بھرپور خوشی کا اظہار کر رہا تھا ۔۔
“وعلیکم سلام ۔۔”
شاہان نے مدھم سی آواز میں جواب دیا اور ہاتھ میں پکڑے شاپنگ بیگز شزا کو پکڑاتے ہوئے نظریں پورے گھر میں دوڑائی تھیں ۔۔
وہ جب جب یہاں آتا تھا ۔۔
یونہی ایک آس میں اِدھر اُدھر نظریں دوڑاتا رہتا تھا کہ شائد وہ چہرہ کہیں نظر آجائے جو اس کی فطرت بدلنے کا اختیار رکھتا تھا ۔۔
لیکن اپنے اس اختیار کا اس نے بروقت استعمال نہ کر کے دونوں کو مشکل میں ڈال دیا تھا ۔۔
صوفے پر بیٹھنے کے بعد شاہان عدم دلچسپی سے شزا کی باتیں سنتا ہوں ہاں میں جواب بھی دے رہا تھا ۔۔
لیکن نظروں کے بھٹکنے کا سلسلہ ہنوز جاری رکھا تھا ۔۔
دوسری طرف فضاء کمرے کا دروازہ بند کر کے احتیاطاً بالکونی کے دروازے کو بھی بند کر کے بیڈ پر سکڑ کر بیٹھ گئی تھی ۔۔
حالانکہ وہ جانتی تھی شاہان اندر تک ہارا ہوا ہے ۔۔
ٹوٹ چکا ہے ۔۔
وہ فیصلے کے تمام اختیارات اسے دے چکا ہے ۔۔
اس کی رضامندی کے بغیر وہ اس کی آواز بھی نہیں سننے والا تھا ۔۔
لیکن پھر بھی ۔۔
شاہان کے گھر آتے کے ساتھ ہی وہ پھر سے اس ہی خوف کا شکار ہوجاتی تھی ۔۔
دل پھر سے وحشت زدہ پنچھی کی طرح سینے میں پھڑپھڑانے لگتا تھا ۔۔
تین سال پہلے کی اپنی ہی چیخیں کان کے پردے پھاڑنے لگتی تھیں ۔۔
بیٹھے بیٹھے سے وہ بیڈ پر سکڑ کر لیٹ گئی تھی ۔۔
بالوں میں انگلیاں پھنسائے آنکھیں سختی سے میچے اسے جانے کتنی ہی دیر گزر گئی تھی ۔۔
جب کمرے کے دروازے پر دستک کے ساتھ ساتھ شزا کی بھی آوازیں آنے لگیں ۔۔
فضاء نے غور کیا تو شزا اسے شاہان کے جانے کی خبر دے رہی تھی ۔۔
“باہر آجائو اب یار ۔۔
چلے گئے ہیں بھائی بیچارے ۔۔”
اٹھ کر بیٹھتے ہوئے فضاء نے نم بالوں کو انگلیوں سے سلجھایا اور بیڈ پر پڑا تولیہ پھر سے بالوں میں لپیٹ کر چہرے کے تاثرات نارمل کرتی باہر نکل آئی ۔۔
باہر شزا سینے پر بازو لپیٹے اسے گھور رہی تھی ۔۔
فضاء ہر بار کی طرح اس کی گھوری نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی ۔۔
اس کا ارادہ کچن میں جا کر چائے بنانے کا تھا ۔۔
لیکن لائونج سے ملحقہ کچن میں جانے کے لیئے فضاء جیسے ہی لائونج میں داخل ہوئی ۔۔
شاہان کو وہاں صوفے پر بیٹھا دیکھ کر دنگ رہ گئی ۔۔
دوسری طرف تقریباً چار سال بعد اسے اچانک روبرو پا کر شاہان بھی اپنی جگہ ساکت رہ گیا تھا ۔۔
بےاختیاری میں انگلیوں میں دبی سگرٹ پر بھی گرفت ڈھیلی پڑ گئی جس سے سگرٹ زمین پر گر گئی تھی ۔۔
فضاء وہاں سے بھاگنا چاہتی تھی لیکن قدم من من بھر کے ہو رہے تھے ۔۔
شاہان کا انداز دیکھ کر اسے یقین ہوگیا تھا یہ صرف شزا ایک شرارت تھی ۔۔
شاہان خود بھی شزا کی اس شرارت سے نہ واقف تھا ۔۔
دیدارِ یار کے لیئے ترستی آنکھوں میں یارِ من کو اپنے روبرو پا کر عرصے بعد نمی چمکنے لگی ۔۔
جبکہ فضاء نے جیسے ہی شاہان کو بےقراری سے اپنی طرف بڑھتے دیکھا ۔۔
اس نے بھاری ہوتے دل اور قدموں کی پروہ نہ کرتے ہوئےتمام ہمت مجتمع کر کے اپنے کمرے کی طرف دوڑ لگادی ۔۔
کمرے میں پہنچی تو شزا کو بیڈ پر اطمینان سے کتاب لیئے بیٹھا دیکھ کر غصہ سوا ہوگیا ۔۔
شزا کو سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر فضاء نے بازو سے پکڑ کر شزا کو کمرے سے باہر دھکیلا اور دھماکے سے دروازہ حیران پریشان سی شزا کے منہ پر بند کر کے وہیں دروازے کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی ۔۔
اور منہ پر ہاتھ رکھے آہوں سسکیوں کا گلا گھونٹتی بےآواز رونے لگی ۔۔
وہ لاکھ خود کو نارمل ظاہر کرلیتی لیکن یہ وہ بھی جانتی تھی کہ زندگی کے اس خوفناک فیض سے وہ چاہنے کے باوجو کبھی باہر نہیں نکلنے والی تھی ۔۔
دروازے کے دوسری طرف غصے میں آستیں چڑھاتی شزا فضاء کی گھٹی گھٹی سسکیاں سن کر اپنی جگہ گم صم سی رہ گئی ۔۔
پھر گہری سانس بھر کر لائونج میں چلی آئی جہاں شاہان اب بھی بت بنا اپنی جگہ موجود تھا ۔۔
اس کی آس بھری نظریں لائونج کے دروازے پر ہی جمی تھیں جو شزا کو آتے دیکھ کر قدموں کے قریب پڑی ادھ جلی سگرٹ پر جم گئیں ۔۔
“کیا ہوا ۔۔؟
بات نہیں بنی ۔۔؟”
شزا کے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھنے پر بھی شاہان کے چہرے کے عجیب تاثرات میں کوئی فرق نہیں پڑا ۔۔
بلکہ یوں لگتا تھا اس نے شزا کی بات سنی ہی نہ ہو ۔۔
“میں نے تو آپ کی مدد کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔
پتہ نہیں کیوں اتنی اوور ہوگئی ہے وہ ۔۔”
شزا حقیقت سے بلکل ناواقف تھی جب ہی شاہان کا دل رکھنے کے لیئے طبیعت کے برعکس بے مقصد بولے جا رہی تھی ۔۔
اگر وہ سچائی جانتی ہوتی تو کبھی شاہان کو گھر میں قدم نہ رکھنے دیتی ۔۔
بلکہ یوں کہنا چاہیے ۔۔
شاہان کے فارم ہائوس میں رہنے پر تیار نہ ہوتی ۔۔!
اور شائد اپنے ہاتھوں سے اس کا قتل بھی کر دیتی ۔۔
“مجھے نہیں پتہ آپ لوگوں کے درمیان کس بات کو لے کر اتنی سرد خاموش ناراضگی چل رہی ہے ۔۔
لیکن آپ کو اسے سمجھانے کی اسے منانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔۔
ایسے اسے ناراض رہنے کی کھلی چھوٹ دیں گے تو معاملہ کبھی نہیں سمٹے گا ۔۔
آپ کو ایک ۔۔۔”
“یہ تم نے ٹھیک نہیں کیا شزا ۔۔”
شزا کی بولتی شاہان کے اچانک سر اٹھا کر کہنے پر بند ہوگئی ۔۔
کچھ لمحے توقف کے بعد اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتی ۔۔
شاہان لائونج کے دروازے پر نم نظریں ڈالتا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔
گاڑی میں بیٹھ کر شاہان نے پھر سے بھیگی نظریں اٹھا کر بالکونی پر ڈالی تھیں ۔۔
چار سال کا ضبط ایک نظر میں ایک چھناکے سے ٹوٹ گیا تھا ۔۔
اور اس وقت شاہان کا دل چاہ رہا تھا جائے اور فضاء کو جھنجوڑ کر پوچھے ۔۔
“کیا اتنے عرصے میں مجھے ایک بار بھی یاد نہیں کیا ۔۔؟
میں غلط تھا مجھے سزا دو ۔۔
لیکن یوں مجھے اندر ہی مارو تو مت ۔۔
میرا سکون مجھ سے مت چھینوں ۔۔
خود بھی تکلیف سہتی ہو ۔۔
مجھے بھی تکلیف دیتی ہو ۔۔
آئو ساتھ مل کر ایک دوسرے کے غم بانٹیں ۔۔
ایک دوسرے کی زخمی روح پر محبت کے مرہم لگائیں ۔۔
ٹوٹے بکھرے دلوں کو ایک دوسرے کے دل کا سہارا دیں اور پھر سے دھڑکنا سکھادیں ۔۔”
“لیکن نہیں ۔۔!”
شاہان نے اچانک ہار مان لی اور خود کو سیٹ پر ڈھیلا چھوڑ دیا ۔۔
جب ایک نظر نے اس کے اندر ادھم مچایا تھا تو فضاء کے احساسات پر جمی برف بھی یقیناً ذرا کی ذرا پگھلی تو ہوگی ۔۔
“مجھے صبر کرنا چاہیے ۔۔
میری خود غرضی نے ۔۔
میرے گناہوں نے اسے جیتے جی مار دیا ہے ۔۔
اب میں زبردستی نہیں کروں گا ۔۔
بلکل نہیں کروں گا ۔۔
اس کے فیصلے کا انتظار کروں گا ۔۔
اسے اپنی مرضی کا فیصلہ کرنے کا حق دوں گا ۔۔
انتظار کروں گا میں ۔۔
آخری سانس تک کروں گا ۔۔”
آنکھوں کی دھندلاہٹ رومال سے صاف کر کے جب شاہان نے چہرہ سیدھا کیا ۔۔
تب اس کے تاثرات روح ٹھٹھرا دینے کی حد تک کرخت تھے ۔۔
فضاء کے تصور سے چہرے پر آنے والی نرمی کا اب دور دور تک شائبہ نہ تھا ۔۔
ایک آخری نظر اس چھوٹے سے دو منزلہ خوبصورت فارم ہائوس پر ڈال کر اس نے گاڑی اسٹارٹ کردی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گردیزی ولا میں قدم رکھتے ہی اس کے چہرے کے سرد تاثرات میں کچھ تغیر نمایاں ہوا تھا ۔۔
لیکن اگلے ہی لمحے وہ خود پر کنٹرول کرتے ہوئے اپنے ملازمِ خاص کو ساتھ آنے کا اشارہ کرتے ہوئے اسٹور روم کی طرف بڑھا تھا ۔۔
اسٹرور روم میں داخل ہو کر شاہان نے ایک ناگوار نظر تہہ خانے کے دروازے پر ڈالی اور ملازم کو منع کرتے ہوئے خود ہی اس دروازے کو کھول کر سیڑھیاں اترنے لگا ۔۔
وہی گردیزی ولا تھا ۔۔
وہی اسٹور روم تھا ۔۔
وہی تہہ خانہ بھی تھا ۔۔
وہی نیم اندھیرے میں ڈوبی چھوٹی چھوٹی سیڑھیاں ۔۔
اور وہی بڑا سا ہال اور ہال کی چھت پر جلتا زرد بلب ۔۔
اطراف میں بنے جیل نما کمرے بھی موجود تھے ۔۔
لیکن ان کمروں کے مکین سالوں پہلے بدل چکے تھے ۔۔!
پشت پر ہاتھ باندھ کر شاہان نے چار میں سے تین کمروں کا جائزہ لیا ۔۔
تینوں آباد کمروں میں سے غلیظ ترین بدبو آ رہی تھی ۔۔
شاہان نے بےساختہ رومال نکال کر ناک ڈھانپ لی ۔۔
اس کی آنکھوں میں اس وقت درندگی اتری ہوئی تھی ۔۔
جسے دیکھ کر یامین گردیزی نے اپنی پہلے سے گندی پینٹ ایک بار پھر سے گیلی کردی تھی ۔۔
شاہان نے دائیں ابرو اچکائی اور زہریلا سا مسکرا دیا ۔۔
چاروں کمروں میں باتھروم موجود تھے لیکن ۔۔
کیونکہ ۔۔
یامین گردیزی ۔۔
اس کا غدارِ خاص سمیر ۔۔
اور مختار میمن الگ الگ کمروں میں زنجیروں کے زریعے لٹکے ہوئے تھے ۔۔
اس طرح سے کہ ان کے پیروں کے صرف انگوٹھے اور انگلیاں ہی زمین سے مس ہو رہے تھے ۔۔
سو وہ باتھروم استعمال کرنا تو دور ۔۔
اپنی مرضی سے ذرا سی جنبش کرنے سے بھی قاصر تھے ۔۔
ہاں جب کبھی شاہان کا موڈ ہوتا تو ہال میں ہی بنی ایک زنجیر کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ۔۔
وہ زنجیر ان تینوں کو جکڑی زنجیروں سے ملی ہوئی تھی ۔۔
ایسا کرنے سے ان سب کو زمین پر بیٹھنے کا اور اپنے ہاتھوں پیروں کو حرکت دینے کا موقع مل جاتا ۔۔
کھانا بھی شاہان انہیں تب ہی کھانے کو دیتا ۔۔
جب وہ لوگ بھوک سے بلکل ادھ مرے ہوجاتے ۔۔
شاہان کے اشارے پر اس کے ساتھ آئے ملازم نے فون کے زریعے خانساما کو کھانا لانے کا حکم دیا ۔۔
اور کھانا آنے پر اپنے جیل کے نیچے سے اندر کی طرف کھسکا دیا ۔۔
وہ تینوں جانوروں کی طرح کھانے پر ٹوٹ پڑے تھے ۔۔
شاہان جبڑے کسے ہال میں چہل قدمی کرتا وقتاً فوقتاً ان پر بھی نظر ڈال لیتا تھا ۔۔
اس کے چہرے کی کرختگی کے ساتھ لانبی پلکوں والی آنکھوں میں چمکتی دھند بلکل میل نہیں کھا رہی تھی ۔۔
وہ تینوں شاہان کی قید میں کیسے آئے تھے ۔۔؟
یہ کوئی اتنی انہونی بات نہیں تھی ۔۔!
تین سال پہلے کی اس سیاہ گھٹن زدہ رات میں ۔۔
شاہان تن تنہا حواس باختہ تھا ۔۔
مجبور و بےکس تھا ۔۔
اس کی رگِ جان دشمنوں کے قبضے میں تھی ۔۔
وقت بھی بہت کم تھا ۔۔
اور سوال اس کی کل کائنات کا تھا ۔۔
سو وہ ہار گیا تھا ۔۔
لیکن پھر اس جان لیوا رات کے بعد اس کے پاس وقت ہی وقت تھا ۔۔
وہ ان تینوں کو پاتال سے بھی نکال کر لا سکتا تھا ۔۔
پھر اس چھوٹی سی گول دنیا میں ڈھونڈنا اتنا بھی کوئی ناممکن نہیں تھا ۔۔
آخری بار شاہان نے اپنے نام نہاد “بزنس” کا استعمال ان تینوں کو ڈھونڈنے کے لیئے ہی کیا تھا ۔۔
اب وہ کیا تھا ۔۔؟
بس ایک عام سا بزنس مین ۔۔!
جسے چیریٹی کرنے کا جنون تھا ۔۔
اپنا تمام کالا پیسہ اس نے بےسہارا لوگوں کو سہارا دینے میں لگا دیا تھا ۔۔
بلکہ صرف کالا پیسہ ہی کیا ۔۔!
وہ اپنی عام کمائی کا بھی آدھا حصہ ان کاموں میں لگا دیتا تھا ۔۔
اور اس بات پر حیران بھی ہوتا تھا کہ اس کا وہ شفاف بزنس جو پہلے کوئی خاص پیسہ حاصل نہیں کر رہا تھا ۔۔
اس کے چیرٹی شروع کرنے کے بعد سے گویا خزانہ اگلنا شروع کر چکا تھا ۔۔
شاہان نہیں جانتا تھا کہ تہہ خانے میں موجود اس کے ظلم کی شکار لڑکیاں کیوں آزادی حاصل کرنے کے بعد پولیس کے پاس نہیں گئیں ۔۔؟
کیوں گردیزی ولا سے نکلتے وقت ان کی آنکھوں میں حیرت تو تھی ۔۔
لیکن لبوں پر کوئی بددعا کیوں نہیں تھی ۔۔؟
اور ستر مائوں سے بڑھ کر چاہنے والے ساری کائنات کے مالک نے اس کی توبہ قبول کی ہے یا نہیں ۔۔؟
وہ بس دل کی گہرائیوں سے اد رحیم و کریم سے اپنے لیئے معافی اور سکون مانگتا رہتا تھا ۔۔
ہاں سکون ۔۔
آج بھی سب کچھ اس کے حق میں ہونے کے باوجود اللہ نے اسے سکون جیسی نعمت سے محروم کردیا تھا ۔۔
ان چار سالوں کی ہر دوسری شب اس کا دل شدت سے مر جانے کو چاہتا تھا ۔۔
بےسکونی اپنی انتہائوں پر پہنچ جاتی تو وہ ایک کی جگہ نیند کی کئی گولیاں ہتھیلی پر نکال کر انہیں گھنٹوں تکتا رہتا ۔۔
لیکن پھر دل میں ایک آس جاگتی اور وہ جانماز بچھا کر سجدے میں گرجاتا ۔۔
لیکن ایک شب جب اس کے سر کی رگیں بلکل تن گئی تھیں ۔۔
دماغ میں دھماکے ہو رہے تھے ۔۔
جانماز کی طرف جاتے ہوئے قدم ڈگمگا رہے تھے ۔۔
تب اس نے نیند کی گولیوں کی ساری شیشی حلق میں انڈیل لی تھی ۔۔
لیکن اس کے باوجود اللہ نے اسے بچا لیا تھا ۔۔
اس وقت وہ حیران کم اور پریشان زیادہ تھا ۔۔
کیوں بچ گیا تھا وہ ۔۔؟
اس بےسکونی کے ساتھ جینا تو بلکل ناممکن ہے ۔۔
جب ادھیڑ عمر پرکشش ڈاکٹر نے ناک سے پھسلتا چشمہ سنبھال کر ملائم لہجے میں کہا تھا ۔۔
“تمہارا بچنا بلکل ناممکن تھا نوجوان ۔۔
تمہیں بہت دیر سے ہاسپٹل لایا گیا تھا ۔۔
ہم بلکل ناامید ہو گئے تھے ۔۔
لیکن اللہ نے تمہیں نئی زندگی دی ۔۔
اللہ نہیں چاہتا تھا تم حرام موت کو منہ لگائو ۔۔
وہ تمہیں معاف کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔۔
ایسا گناہ نہیں کروانا چاہتا جس کے بعد معافی کی گنجائش نہ رہ پائے ۔۔
اور اللہ ابھی تم سے بہت کام لینا چاہتا ہے ۔۔
سنا ہے تم نے بےسہارائوں کے لیئے ادارہ بنایا ہے ۔۔
کیا تم پھر سے انہیں بےسہارا کرنا چاہتے ہو ۔۔؟
جو تمہارے ادارے کے زیر سایہ نئے سرے سے جینا سیکھ رہے ہیں ۔۔؟”
اور اس وقت شاہان ساکن رہ گیا تھا ۔۔
ہاں ۔۔
ابھی اسے بہت کچھ کرنا تھا ۔۔
اپنے جیسے اور لوگوں کو جنم نہیں لینے دینا تھا ۔۔
کہ وہ لوگ ہمدردی کے نام پر کسی خودغرض کی خودغرضی کے بھینٹ چڑھ جائیں ۔۔
اور اس کی طرح معاشرے کا ناسور بن جائیں ۔۔!!
اس کے بعد سے شاہان نے خودکشی کا تصور بھی کرنا چھوڑ دیا تھا ۔۔
لیکن ۔۔
لیکن یہ بےسکونی جینے بھی تو نہیں دے رہی نا ۔۔!!
“اف ۔۔”
شاہان نے سر پر ہاتھوں کی مٹھی بنا کر ہتھوڑے کی طرح مارنی شروع کردی ۔۔
آج تو اذیت نہ قابل بیان تھی ۔۔
شاہان نے خود ہی تصور کر لیا تھا جب فضاء اسے معاف کر کے اس کی زندگی میں شامل ہوجائے گی ۔۔
اس کی بےسکونی خود ہی ختم ہوجائے گی ۔۔
اس کا سکون چرائے بیٹھی وہ لڑکی نہ جانے کب اس پر رحم کھائے گی ۔۔؟
پتہ تو اسے بھی ہوگا کہ اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے ۔۔!!
پھر بھی ۔۔
نہ جانے کب ۔۔؟؟
ان تینوں کی بھوک ختم تو نہیں ہوئی تھی ۔۔
بلکہ یہ تھوڑا سا کھا کر پیٹ کی آگ گھٹنے کی جگہ اور بھڑک گئی تھی ۔۔
لیکن وہ لوگ جانتے تھے کہ ان کے اور کھانا مانگنے پر لاتوں گھونسوں مکوں سمیت سب کچھ ملے گا بس کھانا نہیں ملے گا ۔۔
جب ہی خاموش نظروں سے اسے دیکھنے لگے ۔۔
جو اپنی ہی سوچوں میں گم نظر آ رہا تھا ۔۔
یامین گردیزی نے ہر بار کی طرح سوچا تھا ۔۔
“اس سے تو مختار میمن کے ہاتھوں مر ہی جاتا ۔۔
مرنے کے بعد معافی کی کوئی گنجائش تو ہوتی ہے ۔۔”
شائد کوئی غلطی سے کی گئی نیکی ان کی بخشش کا ذریعہ بن جاتی ۔۔
شاہان تو نہ مرنے دے رہا تھا ۔۔
نہ زندگی سے لگائو ہی رہنے دے رہا تھا ۔۔
جہنم کے تصور سے بدتر انہیں اس وقت اپنی ہی غلاظت سے بھرا یہ جیل لگ رہا تھا ۔۔
کچھ سوچ کر یامین گردیزی نے حلق تر کیا پھر مری مری آواز میں شاہان کو مخاطب کیا ۔۔
“میں نے تجھے پالا ہے شاہان ۔۔
کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی ۔۔
تیری ہر خواہش زبان پر آنے سے پہلے پوری کی ۔۔
اور ۔۔”
“اور اس سب کے بدلے آپ نے مجھ سے میری انسانیت چھین لی ۔۔
میرے احساسات چھین لیئے ۔۔
میرے اندر کا انسان مار دیا آپ نے ۔۔!”
یامین گردیزی کی بات کاٹ کر شاہان پلٹ کر حلق کے بل چیخ کر بولا ۔۔
آج اس کی آواز میں غصے کے ساتھ ساتھ غم بھی شامل تھا ۔۔
بھاری آواز کی لڑکھڑاہٹ ہر کسی نے محسوس کی تھی ۔۔
یامین گردیزی یہ ٹوٹا سا لہجہ سن کر یہ سمجھے کہ شائد شاہان اس وقت کمزور پڑ رہا ہے ۔۔
سو انہوں نے اس کا دل نرم کرنے کے لیئے مزید کوشش شروع کردی ۔۔
“دیکھ شاہان ۔۔
سمجھنے کی کوشش کر ۔۔
میں مجبور تھا ۔۔
میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا ۔۔
ایک طرف میری زندگی تھی ۔۔”
“اور دوسری طرف میری زندگی تھی ۔۔
میری عزت تھی ۔۔
میری محبت تھی ۔۔
میرا سکون تھا ۔۔”
ایک بار پھر یامین گریزی کی بات کاٹ کر شاہان اس طرح چلایا کہ پورے تہہ خانے میں اس کی شیر کی دہاڑ سی آواز گونج کر رہ گئی ۔۔
یامین گردیزی فوری طور پر کچھ بول نہیں سکے لیکن شاہان مزید گویا ہوا تھا ۔۔
“جب آپ نے میرا سب کچھ ختم کردیا تو مجھ سے نرمی کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں ۔۔؟
یہ بیوقوفی کے سوا اور کچھ نہیں یامین گردیزی ۔۔!
مختار اپنے بھائی کے بدلے کے لیئے پاگل تھا ۔۔
یہ سمیر دو ٹکے کا ملازم ۔۔
پیسے کے لیئے بک گیا ۔۔
جب ہم اتنا سب ہونے کے باوجود بھی پیسے کے پیچھے پاگل ہو رہے تھے ۔۔
تو اس غریب نے اگر پیسے کے لیئے غداری کر بھی لی تو یہ کوئی اتنا حیرت انگیز نہیں ۔۔
افسوس تو مجھے آپ پر ہوتا ہے اور بہت زیادہ ہوتا ہے ۔۔
اور آپ کے بعد خود پر ہوتا ہے ۔۔
آپ نے اپنی زندگی بچانے کے لیئے ہی مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا تھا نا یامین گردیزی ۔۔؟
تو پھر لیں ۔۔
میں نہیں چھین رہا آپ سے آپ کی زندگی ۔۔
اتنا تو میں کر ہی سکتا ہوں آپ کے لیئے ۔۔
آپ کو آپ کی زندگی مبارک ۔۔
دیکھیں تو ذرا میں کتنا رحم دل ہوں ۔۔”
زہرخند لہجے میں کہتے ہوئے شاہان مختار میمن اور سمیر پر ایک اچٹتی نظر ڈال کر وہاں سے جانے لگا ۔۔
جب پیچھے سے یامین گردیزی کے بھڑکنے پر رک گیا ۔۔
لیکن مڑا نہیں ۔۔
“ہم ہی کیوں ۔۔؟
تم کیوں نہیں ۔۔؟
ہمیں سزا دینے کا حق ہے تمہارے پاس ۔۔
لیکن تمہیں سزا کون دے گا ۔۔؟
مانا کہ تمہیں اس دھندے سے میں نے جوڑا تھا ۔۔
لیکن بعد میں تم یہ کام چھوڑ بھی سکتے تھے ۔۔
میں نے باندھا ہوا نہیں تھا تمہیں ۔۔
تم خود بھی پیسوں کی ہوس کا شکار تھے ۔۔
تم بھی سینکڑوں لوگوں کے گنہگار ہو ۔۔
تو پھر تم کیوں آزاد ہو ۔۔؟
یہ ایک کمرہ جو خالی پڑا ہے ۔۔
تمہیں یہاں ہونا چاہیے تھا ۔۔
سمجھے ۔۔
دودھ کے دھلے تم بھی نہیں ہو شاہان ۔۔”
یامین گردیزی کے چیخنے پر شاہان نے پلٹ کر پہلے انہیں ۔۔
پھر اس آخری خالی کمرے کو دیکھا ۔۔
اور سر کو ہلکے سے اثبات میں ہلا کر بڑبڑایا ۔۔
“جیسی دردناک بےسکونی میں سہہ رہا ہوں ۔۔
اگر کوئی مجھ سے میری وہ بےسکونی چھین کر مجھے اس جیل میں آپ والی حالت میں بند کردے ۔۔
تو میں اس انسان کا ساری زندگی احسان مند رہوں گا ۔۔”
مدھم آواز میں کہتا وہ سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے اچانک رکا اور پھر سے پلٹا ۔۔
“جن کا گنہگار میں ہوں ۔۔
میں ان سے بھاگ نہیں رہا ۔۔
میرا ٹھکانہ آج بھی وہی ہے جو پہلے تھا ۔۔
وہ آ کر مجھے جو سزا دینا چاہیں شوق سے دیں ۔۔
لیکن میرے گنہگار آپ لوگ ہیں ۔۔
اور میں آپ لوگوں کو ہر قسم کی سزا دینے میں حق بجانب ہوں ۔۔”
دائیں ابرو اچکا کر کہتے ہوئے شاہان نے خاموش کھڑے دیو قامت ملازم کو زنجیر کھینچنے کا اشارہ دیا تھا ۔۔
ایک بار پھر وہ تینوں ہوا میں معلق تھے ۔۔
تکلیف سے جوڑ جوڑ دکھ ریا تھا ۔۔
ان کی ہائے ہائے پر دھیان دیئے بغیر شاہان تہہ خانے سے نکل آیا ۔۔
اور پھر گردیزی ولا کے خوش رنگ لان میں آ کر دونوں بازو پھیلا کر گہری گہری سانسیں لینے لگا ۔۔
تہہ خانے میں جا کر اس کی سانسیں رک سی جایا کرتی تھیں ۔۔
اپنا گہرا نیلا کوٹ اتار کر گھاس پر پھینکتے ہوئے وہ خود بھی گھاس پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا ۔۔
نہیں دیکھ رہا تھا تو پھر بھی گزارہ ہو رہا تھا ۔۔
لیکن آج اچانک فضاء کا سامنے آنا اسے ڈسٹرب کرگیا تھا ۔۔
صبر کے خاموش ساگر میں بڑا زوردار پتھر گرا تھا ۔۔
ہر طرف ہلچل مچ گئی تھی ۔۔
وہیں بازئوں کا تکیہ بنا کر لیٹتے ہوئے شاہان نے آسمان پر جمع ہوتے سرمئی بادلوں کو دیکھا تھا ۔۔
اس رات کے بعد سے شاہان کو بادل اور بارش اپنے دوست لگنے لگے تھے ۔۔
دوست تو وہی ہوتا ہے نا جو آپ کے غم پر آپ کے ساتھ آنسو بہائے ۔۔
سو بس ۔۔
اب قدرت ہی شاہان کی دوست تھی ۔۔
انسانوں سے امیدیں رکھنی بلکل چھوڑ دی تھیں اس نے ۔۔
غیر واضع سی مسکان لبوں پر سجائے شاہان نے آنکھیں موند لی تھیں ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Dastan e Ishq by Sana Luqman – Episode 5

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: