Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 2

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 2

–**–**–

دھیرے سے اپنی آنکھیں کھول کر فضاء نے کچھ الجھ کر اس اجنبی ماحول کو دیکھا تھا ۔۔
پھر جیسے جیسے اس کا ذہن بیدار ہوتا جا رہا تھا اس کی آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں ۔۔
اگلے ہی پل وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی ۔۔
وسیع و عریض کمرہ اےسی کی کولنگ سے بھرا ہوا تھا ۔۔
فرنیچر وغیرہ بھی اپنی مثال آپ تھا ۔۔
لیکن پھر بھی ۔۔
اس کمرے میں ایسی کوئی “خاص” تیاری نہیں تھی جو نئے نئے شادی شدہ شخص کے کمرے میں ہونی چاہیے تھے ۔۔
کوئی پھولوں موم بتیوں کی ڈیکوریٹنگ ۔۔
کچھ الگ سا ۔۔
کچھ نیا سا ۔۔
کچھ بھی نہیں تھا ۔۔!
“لگتا ہے محترم ضرورت سے زیادہ ہی “سنجیدہ” ہیں ۔۔
بلکہ کہنا چاہیے روڈ ہیں ۔۔
میرا گزارہ کیسے ہوگا ایسے آدم بیزار بندے کے ساتھ ۔۔
اللہ جی میری مدد کیجیئے ۔۔
مجھے ہمت دیجیئے ۔۔
پتہ نہیں ابھی کیسا موڈ ہو جناب کا ۔۔
میں آخر اتنی گہری نیند سو کیسے گئی اتنی ٹینشن کے باوجود ۔۔؟”
الجھے ذہن کے ساتھ بیڈ سے اترتے ہوئے فضا نے پھر سے اس سفید سیاہ اور سرمئی رنگ سے سجے اس عالیشان کمرے کا جائزہ لیا تھا ۔۔
ہر چیز کی قیمت اس کی بناوٹ اور چمک دمک سے واضع تھی ۔۔
اپنے لہنگے کو سنبھال کر وہ سہج سہج گیلری تک گئی تھی ۔۔
پھول پودوں سے ہرا بھرا لان نظروں کو تراوت بخش رہا تھا ۔۔
درمیان میں بنا وہ فوارہ اس لان کی شان میں چاند چاند لگا رہا تھا ۔۔
آسمان سے گویا کوئی پری اتر آئی تھی اور ساتھ میں قوس و قزح کے رنگ بکھیرتا پانی بھی ہاتھوں کے کٹورے میں لیئے آئی تھی ۔۔
فضا جیسے کسی جادو کے زیر اثر یہ منظر دیکھ رہی تھی جب کسی کی موجودگی محسوس کر کے چونک کر مڑی تھی ۔۔
خود سے دو قدم کے فاصلے پر کھڑے شاہان کو دیکھ کر اس کی لانبی پلکیں خود بہ خود عارضوں پر گرتی چلی گئی تھیں ۔۔
شاہان نے دائیں ابرو اٹھا کر اس کا سر سے پیر تک گہری نظروں سے جائزہ لیا تھا ۔۔
اس کے زیورات وہ رات کو اتار چکا تھا ۔۔
لیکن عروسی لباس اب بھی فضا کے متناسب سراپے پر غضب ڈھا رہا تھا ۔۔
اور مٹا مٹا سا میک اپ اس گہرے میک اپ کی نسبت زیادہ اچھا لگ رہا تھا ۔۔
“لڑکیاں میک اپ کر کے اچھی لگتی ہیں ۔۔
اس کی سادگی میں قیامت ہے ۔۔”
دل میں بڑبڑاتے ہوئے شاہان نے گلا کھنکھارا تھا ۔۔
“بریک فاسٹ یہیں کرنا پسند کروگی یا نیچے ڈائننگ ٹیبل پر ۔۔؟”
“جہاں آپ کو ٹھیک لگے ۔۔”
فضا شاہان کے ہنوز سرد انداز پر ٹوٹ سی گئی تھی ۔۔
“ہنہہ ۔۔
ٹیپکل مشرقی دلہنیا ۔۔”
زیر لب کوفت سے کہتے ہوئے شاہان اسے ناشتہ کمرے میں بھجوانے کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔
پیچھے فضاء نے اپنی رکی سانس بحال کی تھی ۔۔
“جس شخص کے سامنے کھل کر سانس نہیں لی جا رہی ۔۔
اس کے ساتھ ساری زندگی کیسے گزرے گی ۔۔”
فضاء کو یہی خوف ستائے جا رہا تھا ۔۔
شاہان خود سے بلکل الٹ لگا تھا اسے ۔۔
وہ جھلی سی تھی ۔۔
اس کی خواہش تھی اس کا ہمسفر بھی تھوڑا دیوانہ سا ہو ۔۔
لیکن شاہان گردیزی ۔۔!
“میرے کپڑے کہاں رکھے ہیں ۔۔؟
یہاں کوئی الماری تو نظر نہیں آ رہی ۔۔”
خود سے پوچھتے ہوئے فضاء کے ذہن میں اچانک کچھ کلک ہوا ۔۔
“ڈریسنگ روم ۔۔”
تالی مار کر کہتی وہ کمرے سے ملحقہ دروازے کی طرف بڑھی ۔۔
توقع کے مطابق وہ ڈریسنگ روم ہی تھا لیکن وہاں تو ہر طرف صرف مردانہ کپڑے وغیرہ موجود تھے ۔۔
نفاست سے سیٹ ہر چیز قیمتی لگتی تھی ۔۔
ظاہر ہے قیمتی ہی ہونی تھی ۔۔
شاہان گردیزی ایک جانا مانا نام تھا ۔۔
اس کی دولت کی ڈنکے پورے ملک میں بجتے تھے ۔۔
اس کا ڈریسنگ روم ایسا ہی ہونا تھا ۔۔
اپنے کپڑوں کا مسئلہ بھول کر وہ بہت احتیاط سے چھو چھو کر شاہان کے سامان کو دیکھنے لگی ۔۔
اپنا زرق برق دوپٹا اتار کر سائڈ رکھ کر اس نے شاہان کی بلیک کوٹ پہن لی تھی جو اس پر کافی مزاحقہ خیز لگ رہی تھی ۔۔
ابھی وہ ٹائی سلیکٹ کر رہی تھی جب گلا کھنکھارے جانے کی آواز پر سٹپٹا کر قدرے شرمندہ ہو کر مڑی تھی ۔۔
شاہان نے سنجیدگی سے اس کا حلیہ ملاحظہ کیا تھا پھر اپنی بےساختہ امڈتی مسکراہٹ کو روک نہیں سکا تھا ۔۔
اور بس ۔۔
اس کی یہ لمحہ بھر کی مسکراہٹ فضاء کو اینرجی دینے لے لیئے کافی تھی ۔۔
“شکر ہے آپ مسکراتے بھی ہیں ۔۔
میں تو بہت ڈر گئی تھی بائے گوڈ ۔۔
بندہ غصے والا ہو لیکن “خشک” نہ ہو ۔۔
یو نو ۔۔
کبھی کبھی کا غصہ برداشت ہوجاتا ہے ۔۔
لیکن ہر وقت کی تیوری ۔۔
اللہ معاف کرے ۔۔
میں تو اکثر یہ سوچتی ہوں کہ جو لوگ مسکراتے نہیں ہیں ۔۔
انہیں سانس کیسے آتی ہے آخر ۔۔؟
انہیں اپنی زندگی پر افسوس نہیں ہوتا ۔۔؟
مجھے تو بہت ہوتا ہے ۔۔
یو نو میرا کل سے بی پی لو ہو رہا تھا آپ کے رویئے کے وجہ سے ۔۔
آپ کو مسکراتے دیکھ کر میں بتا نہیں سکتی مجھے کتنا اچھا لگا ہے ۔۔
ایسا لگ رہا ہے جیسے مردہ دل میں پھر سے جان پڑ گئی ہو ۔۔
کل رات تو سفر ۔۔۔۔۔۔۔”
“سٹاپ ۔۔”
فضاء کی فراٹے بھرتی زبان کو حیرت سے دیکھتے ہوئے شاہان اچانک بگڑ کر اسے ٹوک بیٹھا تھا ۔۔
آواز اتنی اونچی اور سخت تھی کہ فضا کھڑے کھڑے اپنی جگہ اچھل پڑی ۔۔
“کس کی اجازت سے تم یہاں آئیں ۔۔؟
اور اگر غلطی سے آ بھی گئی تھیں تو تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کوٹ کو پہننے کی ۔۔؟
اتارو اسے ایک سیکنڈ کے اندر ۔۔”
شاہان اپنی چیزوں کے معاملے میں درحقیقت بہت حساس تھا ۔۔
کسی کو چھونے بھی نہیں دیتا تھا ۔۔
اور یہ محترمہ بغیر اجازت اس کا فیورٹ کوٹ پہنے کھڑی تھیں ۔۔
فضا کی بڑی بڑی آنکھوں نے لمحہ لگایا تھا آنسئوں سے بھرنے میں ۔۔
اتنی بےعزتی اسے شائد ہی کبھی محسوس ہوئی ہو ۔۔
مرے مرے ہاتھوں سے کوٹ اتار کر واپس ٹنگاتے ہوئے اس کی آنکھوں سے کتنے ہی موتی ٹوٹ کر گر گئے تھے ۔۔
لیکن شاہان ہنوز کڑے تیور لیئے اسے گھورتا رہا جو دوپٹا اٹھا کر اپنے گرد پھیلا رہی تھی ۔۔
سڈول دودھیا بازو مہرون رنگ میں اور بھی جگمگا رہے تھے ۔۔
شاہان کو کچھ دقت ہوئی تھی نظریں ہٹانے میں ۔۔
اس کے نزدیک سے گزر کر کمرے میں جاتے جاتے فضاء نے ایک گلہ آمیز نگاہ اس پر ڈالی تھی ۔۔
اسی وقت شاہان نے بھی چہرہ ترچھا کر کے اس کی طرف دیکھا تھا ۔۔
فضاء مزید شرمندہ ہوتے ہوئے ڈریسنگ روم سے نکل گئی جبکہ پیچھے شاہان اپنے اس کوٹ کو بغور دیکھتے ہوئے اس بیگ کی طرف بڑھ گیا جس میں فضاء کے کپڑے وغیرہ موجود تھے ۔۔
فضاء کچھ دن کی تو مہمان تھی گردیزی ولا میں ۔۔
پھر وہ کیوں اس کے کپڑے اپنے کپڑوں کے ساتھ سیٹ کرتا ۔۔؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: