Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 3

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 3

–**–**–

ناشتہ کرتے ہوئے فضاء وقتاً فوقتاً اس مغرور شخص کو بھی دیکھ رہی تھی جس پر غرور سج بھی رہا تھا ۔۔
لیکن کیا اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ وہ اپنے رویئے کو کچھ بہتر نہیں کر سکتا تھا ۔۔؟
زیادہ نہیں ۔۔
بس تھوڑا سا ۔۔
فضاء کا ناشتہ اس کے حلق میں اٹکنے لگا اور آنکھوں میں جمع پانی ٹپا ٹپ دامن پر گرنے لگا ۔۔
موبائل پر میسجز میں مگن شاہان نے سوں سوں کی آواز پر چونک کر سر اٹھایا تھا ۔۔
اور قریب ہی صوفے پر بیٹھی آنسو بہاتی فضاء کو دیکھ کر اس کا منہ بن گیا ۔۔
“ہنہہ ۔۔
ڈرامے ۔۔”
بےآواز بڑبڑاتے ہوئے شاہان نے ایک طویل سانس خارج کی اور اٹھ کر فضاء کے پہلو میں جا بیٹھا ۔۔
شاہان کے رویئے اور ڈانٹ سے ہرٹ فضاء کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اس کے آنسئوں سے پگھل کر اسے منانے آ بیٹھے گا ۔۔
“جبکہ دوسری طرف شاہان کا خیال تھا کہ وہ بےوجہ ہی اس سے روڈ ہو رہا ہے ۔۔
“کچھ دن کا ساتھ ہے ۔۔
اٹھا لیتے ہیں بیچاری کے نخرے ۔۔”
“کیوں رو رہی ہو ۔۔؟”
اس کے ہاتھ سے توس لے کر ٹرے میں رکھتے ہوئے شاہان نے اس کا وہ ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر نرمی سے دبایا تھا ۔۔
جبکہ دوسرے ہاتھ سے فضاء کے آنسو صاف کیئے تھے ۔۔
شاہان کی قربت اور لمس پر فضاء بری طرح سے جھینپ گئی تھی ۔۔
اس نے کچھ دور سرک کر درمیان میں فاصلہ پیدا کیا تھا ۔۔
شاہان نے عادتاً دائیں ابرو اٹھا کر فضاء کی یہ جھجک نوٹ کی تھی ۔۔
“بتائو نا کیوں رو رہی ہو ۔۔؟”
فیضان نے لہجے میں دنیا جہان کی پروہ سمو کر پوچھا تھا ۔۔
فضاء کچھ دیر تک خاموش نم نظروں سے اسے دیکھتی جیسے اس کے موڈ کا اندازہ کر رہی تھی ۔۔
پھر جب اندازہ لگا لیا کہ وہ روڈ شخص واقعی اس کے نخرے اٹھانے کے موڈ میں ہے ۔۔
تب فضاء نے جھٹ دل کی بھڑاس نکالنی شروع کر دی ۔۔
“آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ۔۔؟
صرف کوٹ ہی تو پہنی تھی ۔۔
کون سا آگ لگا دی تھی آپ کی پیاری کوٹ کو ۔۔
جو مجھے اتنا ڈانٹا آپ نے ۔۔
آپ کو پسند نہیں آئی میری حرکت ۔۔
تو آپ نرمی سے بھی تو کہہ سکتے تھے ۔۔
ڈانٹ کر رکھ دیا مجھے اتنی بری طرح ۔۔
میں نے کوئی گن پوائنٹ پر تو شادی نہیں کی آپ سے ۔۔
آپ خود مجھے اپنی مرضی سے بیاہ کر لائے ہیں ۔۔
اور اب اگنور ایسے کر رہے ہیں جیسے آپ کی میری پچھلے جنم کی دشمنی ہے ۔۔
اور یہی نہیں ۔۔
کل میں نے گاڑی میں آپ سے پانی مانگا ۔۔
آپ نے وہ بھی نہیں دیا ۔۔
پانی دینا تو دور ۔۔
جواب تک نہیں دیا ۔۔
جواب دینا تو دور دیکھا تک نہیں ۔۔
کیا میں ۔۔”
“ششش ۔۔”
فضاء کو چپ ہونا پڑا تھا کیونکہ حیرت سے اس کے چلتی زبان کو دیکھتا شاہان ہاتھ اٹھا کر اسے روک چکا تھا ۔۔
انداز اتنا قطعی تھا کہ فضاء آگے سے مزید ایک لفظ نہیں بول سکی تھی ۔۔
“کتنا بولتی ہو تم ۔۔
وہ بھی فضول ۔۔”
“آپ ہی نے تو پوچھا تھا ۔۔”
“میں نے رونے کی وجہ پوچھی تھی ۔۔
اپنی شکائتیں نہیں ۔۔”
“جن باتوں پر شکائتیں ہیں ۔۔
ان ہی کی وجہ سے رو رہی ہوں ۔۔”
بھرائی آواز میں کہہ کر فضاء پھر رونے کی تیاری میں لگ گئی تھی ۔۔
ایک پل کو شاہان کا دل چاہا چار حرف بھیج کر اٹھ کر چلا جائے ۔۔
لیکن پھر سر جھٹک کر اپنے اندر کے “جھوٹے محبوب” کو جگا کر اس نے فضاء کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔
ابھی فضاء اس افتاد پر سنبھل بھی نہیں سکی تھی جب کمرے کا دروازہ کھول کر یامین گردیزی اندر داخل ہوئے تھے ۔۔
فضاء اچھل کر شاہان سے ہی نہیں بلکہ اس صوفے سے بھی دور کھڑی ہوگئی تھی ۔۔
جس پر وہ دونوں بیٹھے تھے ۔۔
شاہان بیزاری سے سر جھٹک کر پھیل کر بیٹھ گیا اور سر کی جنبش سے یامین گردیزی کے “گڈ مارننگ” کا جواب دیا ۔۔
جبکہ یامین گردیزی بانہیں پھیلائے فضاء کی طرف بڑھے تھے ۔۔
“گڈ مارننگ مائے ڈارلنگ ۔۔
گردیزی ولا میں پہلی صبح کیسی گزری ۔۔؟
آثار تو بتا رہے ہیں بڑی خوبصورت گزری ۔۔”
شوخی سے کہتے ہوئے انہوں نے فضاء کو اپنے ساتھ لگایا تھا ۔۔
یہ “لگانا” ایسا بھی کوئی تعجب خیز نہیں تھا ۔۔
بڑے بزرگ ایسے محبتیں جتا دیتے ہیں ۔۔
لیکن عورت کی چھٹی حس ان معاملات میں بہت تیز ہوتی ہے ۔۔
وہ نظر بھی پہچان جاتی ہے ۔۔
پھر لمس کیسے نہ پہچانتی ۔۔
بےبسی سے فضاء کی آنکھوں میں نمی چمکنے لگی ۔۔
اور وہ کچھ سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یامین گردیزی سے دور ہوگئی ۔۔
جہاں فضاء کے اس گریز نے یامین گردیزی کو مسکرانے پر مجبور کیا تھا ۔۔
وہیں شاہان بھی کچھ چونک گیا تھا ۔۔
“کیا بات ہے فضاء بیٹی ۔۔؟
ہم سے کوئی شکایت ہے کیا ہماری بیٹی کو ۔۔؟”
یامین گردیزی نے اپنا کھردرا ہاتھ فضاء کے گال پر رکھا تھا ۔۔
فضاء نے فوراً ہی پیچھے ہو کر ان کا ہاتھ جھٹک دیا تھا ۔۔
اور گھبرائی ہوئی مدد طلب نظروں سے شاہان کو دیکھا تھا ۔۔
جو اجنبی بنا بیٹھا سگرٹ سلگا رہا تھا ۔۔
“کچھ کھایا پیا ہے بیٹا آپ نے ۔۔؟
دیکھو تو سہی کتنی کمزور لگ رہی ہو ۔۔
آئو دونوں ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں ۔۔
میں نے بھی رات سے کچھ نہیں کھایا ہے ۔۔
آجائو شاباش ۔۔
ارے آئو نا فضاء بیٹا ۔۔”
یامین گردیزی وہیں صوفے پر بیٹھ گئے اور فضاء کی کلائی پکڑ کر کھینچنے لگے ۔۔
فضاء کا چہرہ ضبط سے سرخ پڑگیا تھا ۔۔
اس کی چھٹی حس کچھ زیادہ ہی سخت اشارے دے رہی تھی ۔۔
لیکن وہ بےبس تھی ۔۔
ایسی صورتحال سے اس کا پہلی بار پالا پڑا تھا ۔۔
جو وہ سوچ رہی تھی ۔۔
کیا وہ صحیح تھا ۔۔
یا اس کا ذہن ہی گند سے بھرا تھا ۔۔
ہمیشہ سے گھر کی چار دیواری میں رہنے والی فضاء کے لیئے یہ لہجے یہ لمس سمجھنا مشکل تھا ۔۔
دماغ خطرے کی گھنٹی بجا رہا تھا جبکہ دل کہہ رہا تھا ۔۔
تمہارے اپنے دماغ کا فتور ہے سب ۔۔
کچھ غلط ہوتا تو تمہارا شوہر ۔۔
تمہارا سائبان ۔۔
تمہارا لباس ۔۔
تمہارا محافظ ۔۔
کیا یونہی بےفکر بیٹھا سگرٹ پھونکتا رہتا ۔۔؟
اس خیال کے آتے ہی فضاء نے شاہان کو دیکھا تھا ۔۔
اسی وقت شاہان کی نظریں بھی اس کی طرف اٹھی تھیں ۔۔
اور پھر نظریں فضاء کے چہرے سے ہوتی ہوئی یامین گردیزی کے ہاتھ میں قید اس کے حنائی ہاتھ پر چلی گئیں ۔۔
پھر جانے کیا ہوا تھا جو وہ سگرٹ ایش ٹرے میں مسل کر اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔
اور فضاء کا ہاتھ یامین گردیزی کے ہاتھ سے نکال کر فضاء کو اپنے پیچھے کر لیا تھا ۔۔
یہ سب بلکل اچانک ہوا تھا ۔۔
یامین گردیزی نے تعجب سے اسے دیکھا تھا ۔۔
جبکہ فضاء نے محبت بھری ممنون نظروں سے ۔۔
اور وہ جو دونوں کی نظروں کا مرکز تھا ۔۔
اس نے اپنے ہی بےساختگی میں کیئے عمل پر ٹھٹھک کر گردن موڑ کر فضاء کی طرف دیکھا تھا ۔۔
جیسے اپنی حرکت پر یقین نہ آیا ہو ۔۔
“شاہان بیٹا تم تو شائد ناشتہ کیئے بیٹھے ہو ۔۔
ہمیں تو کرنے دو ۔۔”
یامین گردیزی نے شاہان کو گھورتے ہوئے ہاتھ پھر فضاء کی طرف بڑھایا تھا ۔۔
لیکن اس بار فضاء خود بدک کر پیچھے ہوئی تھی ۔۔
شاہان کے سپورٹ نے اس میں جیسے اینرجی بھر دی تھی ۔۔
اس کے دل و دماغ کی کشمکش ختم ہو چکی تھی ۔۔
اپنی الجھن کا جواب مل گیا تھا اسے ۔۔
“محرم کے سوا کوئی یہ حق نہیں رکھتا کہ آپ کو چھوے ۔۔
چاہے جتنی بھی “شفقت” کا مظاہرہ کر لے ۔۔”
یامین گردیزی نے پیشانی پر بل سجا کر ایک اچٹتی نظر سے فضاء کو دیکھا ۔۔
پھر ضروری کال کا بہانہ کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے ۔۔
اس سے پہلے کہ فضاء شاہان سے کچھ کہتی ۔۔
شاہان کا فون گنگنانے لگا ۔۔
شاہان بھی فون اٹھا کر کمرے سے نکل گیا ۔۔
اور پیچھے کھڑی فضاء سوچنے لگی ۔۔
“زندگی شائد امید سے بڑھ کر مشکل ثابت ہونے والی ہے ۔۔”
صوفے پر دھپ سے گرتے ہوئے پھر اس سے شدید بھوک کے باوجود ناشتہ نہیں کیا گیا ۔۔
اور وہ ٹانگیں اوپر کر کے سمیٹ کر ان پر چہرا ٹکاتے ہوئے عظمی بیگم اور شزا کو یاد کرنے لگی ۔۔
“کتنا اچھا ہوتا اگر یہ لوگ امی کو ناشتہ لانے سے منع نہ کرتے ۔۔
اس وقت وہ میرے ساتھ ہوتیں ۔۔
امی ۔۔ شزا ۔۔
آئی مس یو ۔۔”
آنسئوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو چکا تھا ۔۔
لیکن وہاں اس کے آنسئوں پر تڑپنے والا کوئی نہیں تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون پر شیخ سے بات کرنے کے بعد شاہان جب پلٹا ۔۔
تب یامین گردیزی کو تیوری چڑھائے اپنے پیچھے پایا ۔۔
“یہ کیا حرکت کی تھی تم نے ۔۔؟”
“آپ کیا حرکت کر رہے تھے ذرا اس پر بھی بات کرلیں ۔۔”
شاہان ان سے زیادہ سرد لہجے میں بولا تھا ۔۔
“تو اس میں ایسا عجیب کیا ہے ۔۔”
یامین گردیزی کی تیوری ہنوز چڑھی رہی ۔۔
“عجیب یہ ہے کہ وہ میرے نکاح میں ہے ۔۔”
شاہان کی بات پر پہلے تو یامین گردیزی اسے دیکھتے رہ گئے ۔۔
پھر منہ پھاڑ کر ہنسنا شروع کر دیا ۔۔
شاہان لب بھینچے انہیں اگنور کر کے فوارے کی طرف بڑھ گیا ۔۔
یامین گردیزی بھی ہنسی روکتے اس کے پیچھے ہو لیئے ۔۔
ڈونٹ ٹیل کہ تم جیلس ہو رہے تھے ۔۔
یا وہ کیا کہتے ہیں ۔۔ ؟
ہاں ۔۔
نکاح کے چند بولوں کی تاثیر اور بلابلابلابلا ۔۔
ایسا کچھ ہوا ہے ۔۔؟”
“پلیز چاچو ۔۔
میرا مذاق کا کوئی موڈ نہیں ۔۔
آپ کو پتا ہے میں نکاح وکاح کے ہمیشہ خلاف رہا ہوں ۔۔
کیونکہ ظاہر ہے مجھے اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے ۔۔
آخر اس نکاح کی اتنی ضرورت کیا تھی ۔۔؟
مجھے فضاء کا ایڈریس دیتے ۔۔
کسی شادی ڈرامے کے بغیر ۔۔
مہینے بھر کے اندر وہ تہہ خانے میں ہوتی ۔۔”
شاہان کے سرد رویئے نے یامین گردیزی کو بھی کافی سنجیدہ کر دیا تھا ۔۔
“میں نے اپنے بال دھوپ میں سفید نہیں کیئے بیٹا جی ۔۔
برسوں سے اس فیلڈ میں ہیں ۔۔
عورتوں کے انداز اچھی طرح پہچانتے ہیں ۔۔
فضاء کو دیکھ کر میں نے فوراً جان لیا تھا ۔۔
یہ دل لگی کرنے والی چیز نہیں ہے ۔۔
تم لاکھ سر پھوڑتے ۔۔
کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونا تھا ۔۔
یہی وجہ تھی کہ بات شادی تک لے جانی پڑی ۔۔”
“لیکن فضاء دنیا کی آخری خوبصورت لڑکی تو نہیں تھی ۔۔
اتنا ضروری تو نہیں تھا یہ سب ۔۔”
ناگواری سے کہتے ہوئے شاہان کی نظریں اپنے کمرے کی گیلری کی طرف اٹھی تھیں ۔۔
وہاں فضاء موجود تھی اور شائد ان ہی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔
یا شائد فوارے کی طرف ۔۔
“بختیار میمن کا دل اس پر آگیا تھا ۔۔
پندرہ لاکھ تک دینے کو تیار تھا ۔۔
جب ہی میں نے بھی جلدی مچائی اور رشتہ طے کر دیا ۔۔
لیکن شادی میں کچھ دن باقی تھے جب بختیار پر کسی قتل کا الزام لگا اور وہ ملک سے بھاگ گیا ۔۔
تب سے اس سے کوئی رابطہ نہیں ہے ۔۔
بختیار نہ سہی ۔۔
شیخ سہی ۔۔
اب ہاتھ آئی مچھلی کو کون گوائے ۔۔
فائدہ تو ہمیں ہوگا نا ۔۔”
شاہان کو تفصیل بتاتے ہوئے یامین گردیزی نے بھی مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے گیلری کی طرف دیکھا تھا ۔۔
جہاں سے فضاء اب واپس جا رہی تھی ۔۔
شائد اتنی دور سے بھی اس نے نظروں کی ناپاکی محسوس کر لی تھی ۔۔
“جو بھی ہے ۔۔
بس کل ہم “ہنی مون” کے لیئے نکل جائیں گے ۔۔
شیخ کو کہہ دیا ہے ۔۔
اس کی طرف سے تمام تیاری مکمل ہے ۔۔”
شاہان کے کہنے پر یامین گردیزی نے سر اثبات میں ہلا دیا تھا ۔۔
اب وہ لوگ آپس میں اس معاملے پر پلاننگ کر رہے تھے ۔۔
اس بات سے انجان کے قدرت نے کیا پلاننگ کر رکھی ہے ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: