Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 4

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 4

–**–**–

فضاء کو یہ سوچ سوچ کر نیند نہیں آ رہی تھی کہ وہ کل ہنی مون پر جا رہی تھی ۔۔
اور شائد ہنی مون پر جانے کے خیال سے زیادہ اسے یہ بات خوش کر رہی تھی کہ وہ ان برف پوش علاقوں کی سیر کو جا رہی ہے ۔۔
جن کی ٹیوی پر جھلک دیکھ کر ہی وہ احساس محرومی کا شکار ہوجاتی تھی ۔۔
خوبصورت وادی کے خوبصورت خیالات کو جھٹک کر فضاء نے چہرہ موڑ کر شاہان کو دیکھا تھا جو جہازی سائز بیڈ کے بلکل آخری سرے پر لیٹا گہری نیند میں گم لگتا تھا ۔۔
کمرے کی نیلی روشنی کا فسوں تھا یا اس خوبصورت رشتے کا ہی کچھ احساس جاگا تھا ۔۔
جو فضاء کھسک کر شاہان کے نزدیک ہوئی تھی لیکن درمیان میں اب بھی ایک فاصلہ چھوڑ رکھا تھا ۔۔
یہ اس کی فطری جھجھک تھی جو آڑے آ رہی تھی ۔۔
اور اسے حد میں رہنے کی تلقین کر رہی تھی ۔۔
مکمل طور پر شاہان کی طرف کروٹ لے کر فضاء بغور اس کے چہرے کے مغرور نقش دیکھنے لگی ۔۔
اس نے پہلی بار نوٹ کیا تھا کہ شاہان کے دائیں کان میں ایک چھوٹی سی بالی تھی ۔۔
جبکہ ناک کے اوپر بائیں طرف ایک ننھا سا تل بھی موجود تھا ۔۔
پلکوں کی بناوٹ بھی دلچسپ تھی ۔۔
غلافی آنکھوں کی پلکیں درمیان سے کافی لمبی تھیں ۔۔
بلاشبہ وہ مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا ۔۔
لیکن ۔۔
“کیا میں خوش قسمت ہوں ۔۔؟”
شاہان کے وجیہہ چہرے سے نظریں ہٹا کر فضاء نے اپنی نظریں بیش قیمت سامان سے سجے کمرے میں دوڑائی تھیں ۔۔
“ایک دولت مند خوبصورت شریک حیات کا ملنا میرے جیسی عام سی لڑکی کی خوش نصیبی ہی تصور کیا جاتا ہے ۔۔
پھر کیا وجہ ہے کہ میرا دل خوش نہیں ہو پا رہا ۔۔
شائد مجھے امی اور شزا یاد آ رہی ہیں ۔۔
ہاں یہی وجہ ہوگی ۔۔
مجھے کہاں عادت ہے ان سے دور رہنے کی ۔۔
سارا دن گزر گیا ان سے بات نہیں ہوئی ۔۔
ہاں اسی وجہ سے دل اداس ہے میرا ۔۔
اور شائد یامین چاچو کی وجہ سے بھی ۔۔
وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں ۔۔؟
کیسے کر سکتے ہیں وہ ایسا ۔۔؟
شاہان نے کہا ہے کل ہم میرے گھر جائیں گے ۔۔
کیا مجھے امی سے یہ سب شیئر کرنا چاہیے ۔۔؟
نہیں ۔۔
کہیں وہ پریشان نہ ہوجائیں ۔۔
پہلے ہی وہ اتنی پریشانیاں جھیل چکی ہیں ۔۔
اب میری شادی ہوگئی ہے ۔۔
میری پریشانیاں مجھے خود تک رکھنی چاہئیں ۔۔
مجھے کچھ نہیں کہنا امی سے ۔۔
پھر میں اکیلی تھوڑی ہوں ۔۔
شاہان ہیں میرے ساتھ ۔۔”
شاہان کا صبح ڈھال بن جانے والا روپ ذہن کے پردے پر لہرایا تب ایک پیاری سی مسکان نے فضاء کے لبوں کا احاطہ کر لیا ۔۔
سیدھا لیٹے لیٹے ہی اس نے پھر گردن موڑ کر شاہان کر دیکھا اور شاہان کو اپنی طرف ہی دیکھتا پا کر پہلے تو یقین نہیں آیا ۔۔
جب ہی کہنی کے بل ذرا اٹھ کر شاہان کے چہرے کو نزدیک سے غور سے دیکھا ۔۔
اور اگلے ہی پل شرمندہ ہو کر وہ پیچھے ہوئی تھی ۔۔
اور پھر کھسک کھسک کر بیڈ کے دوسرے سرے تک جا کر ہی رکی تھی ۔۔
“کیا سوچ کر مسکرایا جا رہا تھا ۔۔؟”
شاہان کی گمبھیر آواز پورے کمرے میں گونجتی محسوس ہوئی تھی ۔۔
اےسی کی اچھی خاصی کولنگ کے باوجود فضاء کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئی تھیں ۔۔
دوسری طوف کروٹ لیتے ہوئے اس کے حلق سے “کچھ نہیں” کی مری مری آواز نکلی تھی ۔۔
“مجھے نہیں سوچ رہی تھیں ۔۔؟”
شاہان کا انداز چھیڑنے والا تھا ۔۔
“آپ میرے پاس ہیں ۔۔
میں آپ کو کیوں سوچنے لگی ۔۔؟”
فضاء نے بمشکل اپنا اعتماد بحال کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
“کل کو اگر نہ ہوا ۔۔
تو یاد کروگی ۔۔؟”
شاہان ذرا سا اٹھا تھا اور بیڈ کرائون سے ٹیک لگا کر سائڈ ٹیبل سے سگرٹ اور لائٹر اٹھاتے ہوئے نہ جانے کیوں پوچھنے لگا ۔۔
“آپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں ۔۔؟”
فضاء کی آنکھوں میں اچانک نمی چمکنے لگی تھی ۔۔
عجیب تھا نا ۔۔
جس شخص کو کل تک وہ ٹھیک سے جانتی نہیں تھی ۔۔
(بلکہ جانتی تو شائد اب بھی نہیں تھی ۔۔)
اس کے سرسری سے “مزاق” پر جذباتی ہوگئی تھی ۔۔
دل کی دھڑکن بھی جیسے رک سی گئی تھی ۔۔
“بس ایک بات پوچھ رہا ہوں ۔۔
بتائو نا ۔۔
کل کو میں نہ ہوا تو یاد کروگی ۔۔؟”
“آپ کریں گے ۔۔؟”
فضاء سے اس اچانک سوال کی امید نہیں تھی شاہان کو ۔۔
جب ہی چپ سا رہ گیا تھا ۔۔
“بتائیں نا آپ کریں گے مجھے یاد ۔۔؟
اگر میں آپ سے دور چلی جائوں تو ۔۔؟”
فضاء کا لہجہ اسرار سے پر تھا ۔۔
وہ سوال نہیں پوچھ رہی تھی ۔۔
جیسے التجا کر رہی تھی ۔۔
“کریں گے نا یاد ۔۔
اقرار کر لیں پلیز ۔۔”
“میں اپنی چیزوں کو خود سے دور نہیں جانے دیتا ۔۔
اور جب دور جانے دوں تو مطلب ان چیزوں کو میں نے کبھی اپنا سمجھا ہی نہیں ۔۔”
کافی طویل خاموشی کے بعد شاہان کی سرد آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی ۔۔
پھر فضاء نے محسوس کیا کہ وہ سگرٹ ایش ٹرے میں مسل کر سونے کے لیئے لیٹ گیا ہے ۔۔
تب فضاء نے چہرہ موڑ کر اس شخص کو دیکھا تھا جس نے اسے کوئی جھوٹا دلاسہ دینا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا ۔۔
وہ نہ جانے کب تک شاہان کی چوڑی پشت یونہی دیکھتی رہتی ۔۔
جب آنکھ کے کنارے سے تواتر سے گرتے آنسئوں نے اسے چونکا دیا تھا ۔۔
“میں رو کیوں رہی ہوں ۔۔
کون سا وہ مجھے خود سے دور کر رہے ہیں ۔۔
میں ان کے ساتھ ہوں یعنی یہ مجھے اپنا سمجھتے ہیں ۔۔”
اس نے جیسے خود کو بہلایا تھا ۔۔
“لیکن ابھی تو یہ سفر شروع ہوا ہے ۔۔
کیا واقعی زندگی کا تمام سفر ہم ساتھ طے کریں گے ۔۔؟”
دماغ میں اٹھتے استہزایہ سوال نے اسے دہلا دیا تھا ۔۔
جب ہی لبوں سے بےساختہ نکلا تھا ۔۔
“انشااللہ ۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھڑکی کے اس پار نظر آتے ۔۔
بھاگتے دوڑتے ایک جیسے مناظر میں کھوئی فضاء اب بوریت محسوس کرنے لگی تھی ۔۔
چار گھنٹے گزر چکے تھے اس سفر کو ۔۔
ان چار گھنٹوں میں وہ اچھی خاصی اکتا گئی تھی ۔۔
ٹرین چلتے کے ساتھ ہی فضاء کی زبان نے بھی چلنا شروع کردیا تھا ۔۔
لیکن شاہان نے زبان کے رفتار پکڑنے سے پہلے ہی سختی سے چپ رہنے کی تلقین کر کے بریک لگا دیئے تھے ۔۔
فضاء کے پاس وقت گزاری کے لیئے ان ایک جیسے مناظر کے سوا اور کچھ نہیں تھا ۔۔
جبکہ شاہان خود کانوں میں ہینڈ فری ٹھونسے آنکھیں موندے بیٹھا تھا ۔۔
“شاہان ۔۔”
فضاء کی مدھم پکار پر جب کوئی جواب نہ ملا تب فضاء کا دل بھر آیا ۔۔
لیکن اگلے ہی پل اس نے اپنی عقل پر ماتم کیا تھا ۔۔
ہینڈ فری لگائے وہ اس کی پکار کیسے سن سکتا تھا ۔۔
“تم کچھ زیادہ ہی حساس ہو رہی ہو فضاء ۔۔
اتنی ننھی کاکی بھی مت بنو ۔۔
زیادہ روندو لڑکیاں بھی بیزار کر دیتی ہیں ۔۔
اور یہ محترم تو پہلے ہی تمہیں بھائو نہیں دیتے ۔۔”
خود کو گھرک کر فضاء نے کچھ جھجک کر شاہان کے ایک کان سے ہینڈ فری نکالا تھا ۔۔
دائیں آنکھ کھول کر شاہان نے عادتاً دایاں ابرو اوپر کو اٹھایا تھا ۔۔
“وہ ۔۔
میں بور ہو رہی ہوں ۔۔”
“اچھا ۔۔
تو کیا کروں میں مادام ۔۔؟
ایک ٹانگ پر ناچنا شروع کردوں آپ کی بوریت دور کرنے کے لیئے ۔۔؟”
بڑی نرمی سے طنز کر کے شاہان نے پھر سے ہینڈ فری کان میں لگا لیا تھا ۔۔
فضاء بےبسی کی تصویر بنی اسے گھورنے لگی ۔۔
اور مسلسل گھورنے کا نتیجہ یہ تھا کہ شاہان ہینڈ فری کانوں سے نکال کر سائڈ پھینکتے ہوئے مکمل اس کی طرف متوجہ ہوگیا تھا ۔۔
انداز ایسا جارحانہ تھاکہ فضاء کے دل کی دھڑکن ایک پل کو بڑھ گئی تھی ۔۔
“کیا چاہیے ۔۔؟
کیوں گھورے جا رہی ہو ۔۔؟
میں کیا کر سکتا ہوں اگر تم بور ہو رہی ہو تو ۔۔؟”
“باتیں کرلیں مجھ سے ۔۔”
“تمہاری بورنگ باتوں میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔۔”
“جب سنی ہی نہیں تو بورنگ کیسے کہہ سکتے ہیں ۔۔”
“جتنی سن لی ہیں اتنی کافی ہیں ۔۔
مزید سننے کی تمنا نہیں ہے ۔۔”
“ہنہہ ۔۔
جس دن میں چپ ہوئی اس دن آپ ترسیں گے میری باتیں سننے کے لیئے ۔۔”
فضاء کی اس بات پر شاہان نے کچھ حیرت سے پہلے اس کی اٹھی انگلی اور پھر اس کے سنجیدہ تاثرات لیئے چہرے کو دیکھا ۔۔
اگلے ہی پل اس کا جاندار قہقہ ٹرین کے اس ڈبے میں گونجا تھا ۔۔
“تم ۔۔
بہت زیادہ خوش فہم ہو ۔۔
کچھ زیادہ ہی ۔۔”
“آگے آنے والے وقت کی کسی کو خبر نہیں مسٹر شاہان گردیزی ۔۔
انسان صرف امیدیں لگا سکتا ہے ۔۔
تو کیوں نہ اچھی امیدیں لگائے ۔۔”
“خالی خولی امیدیں لگانے والے خالی ہاتھ ہی رہ جاتے ہیں مسز شاہان گردیزی ۔۔
انسان کی قسمت اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔۔
خود بناتا ہے انسان اپنی قسمت ۔۔
قدرت تب ہی ساتھ دیتی ہے جب انسان کچھ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔۔
خالی امیدیں لگانے سے قدرت مہربان نہیں ہوتی ۔۔”
شاہان پیشانی پر بل سجا کر کچھ ناگواری سے جتا رہا تھا لیکن فضاء کے دل و دماغ “مسز شاہان گردیزی” سے آگے کچھ سن ہی نہیں پائے تھے ۔۔
فضاء کی خاموشی پر شاہان نے بغور اس کے چہرے کو چانچا تھا ۔۔
اور وہاں پھیلے قوس و قزح کے رنگ دیکھ کر بیزاری سے سر جھٹک کر اپنی جیب سے دوسرا فون نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا ۔۔
“اس میں کچھ مویز ہیں ۔۔
تم دیکھ کر ٹائم پاس کر سکتی ہو ۔۔”
“تھینک یو ۔۔”
کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر تھا ۔۔
پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ فضا نے اس سے فون لے لیا تھا ۔۔
شاہان نے اس کے ڈمپل سے نظریں چراتے ہوئے پانی کی بوتل اٹھا لی تھی ۔۔
ایک اچٹتی نظر اپنے ہینڈز فری کانوں میں لگائے فلم میں مکمل گم فضاء پر ڈال کر شاہان خود گہری سوچوں میں گم ہوگیا تھا ۔۔
جب کل کل کرتی ہنسی پر چونک کر اسے دیکھا تھا جو ایک طرف کو گرتی پاگلوں کی طرح ہنس رہی تھی ۔۔
شاہان نے کوفت سے اپنی نظریں اس پر سے ہٹا لی تھیں لیکن فضاء کی ہنسی ہر گزرت لمحے کے ساتھ اونچی ہوتی جا رہی تھی ۔۔
وہ پیٹ پکڑے اب موبائل کا اسکرین شاہان کے چہرے کے آگے کر کے اس ڈائلوگ کو دوہرا رہی تھی جس پر وہ پاگلوں کی طرح ہنس رہی تھی ۔۔
شاہان کو ڈائلاگ پر تو نہیں لیکن سرخ کپا چہرے کے ساتھ ہنستی فضاء کو دیکھ کر ضرور ہنسی آئی تھی ۔۔
جسے سمیٹ کر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ مسکرا اٹھا تھا ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: