Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 5

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 5

–**–**–

ایک پورا دن آرام کرنے میں گزر چکا تھا ۔۔
یہ اگلی صبح کی شروعات کا وقت تھا ۔۔
فضاء گہری نیند سو رہی تھی جبکہ شاہان بیڈ بیڈ کے نزدیک ہی رکھے صوفے پر بیٹھا کافی کے سپ لیتے ہوئے لیپ ٹاپ پر کچھ کام کرنے میں مصروف تھا ۔۔
جب فون کی گنگناہٹ نے اسے اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا ۔۔
یامین گردیزی کا نام پڑھ کر شاہان کی پیشانی پر شکن نمودار ہوئے تھے ۔۔
کیونکہ اس وقت کال کرنے کی وجہ چھوٹی موٹی نہیں ہوسکتی تھی ۔۔
“جی ۔۔؟”
سوئی ہوئی فضاء پر ایک نظر ڈال کر وہ دھیمی آواز میں بولا تھا ۔۔
“مسئلہ ہوگیا ہے یار ۔۔”
یامین کی آواز میں بیزاری ہی بیزاری تھی ۔۔
“اب کیا ہوا ۔۔؟”
فضاء کو کروٹ لیتا دیکھ کر شاہان اس کے پاس سے اٹھ کر گیلری میں جا کھڑا ہوا ۔۔
“وہ نئی لڑکی تھی نا گوہر ۔۔
اس نے سوسائڈ کر لی ہے ۔۔”
“واٹ ۔۔؟
لیکن تہہ خانے میں ایسا کچھ موجود نہیں جس سے کوئی خود کو نقصان پہنچا سکتا ۔۔”
شاہان کی نظروں کے آگے گوہر کا کومل روپ لہرایا تھا ۔۔
وہ اچھا خاصہ ڈسٹرب ہوگیا تھا ۔۔
گوہر واقعی گوہر نایاب تھی ۔۔
ویسا حسن بہت مشکل سے ملتا تھا ۔۔
مہینوں کی محنت ضائع گئی تھی اس کی ۔۔
افسوس تو ہونا تھا ۔۔
“اے سی پی صاحب آئے تھے ۔۔
اس لڑکی کو دیکھا تو دل ہار بیٹھے ۔۔
اچھی قیمت دے کر اپنے ساتھ ہی لے جانا چاہتے تھے ۔۔
پہلے تو بکری کی طرح معصوم بن کر پاس کھڑی رہی ۔۔
پھر اچانک ہی اے سی پی کی گن چھین کر خود کو شوٹ کر لیا ۔۔
اب ایک دو دن تو اسی کی ٹینشن میں گزر جائیں گے ۔۔
اور ہاں شیخ کا فون آیا تھا کچھ دیر پہلے ۔۔
اس کے گھر کچھ مہمان آئے ٹھہرے ہیں ۔۔
ابھی تم اس سے کوئی رابطہ مت کرنا ۔۔
وہ خود کرے گا تم سے رابطہ کچھ دنوں تک مہمانوں کو نمٹانے کے بعد ۔۔
ویسے ہماری شہزادی کیسی ہے ۔۔؟”
کوفت سے تفصیل بتاتے بتاتے وہ آخر میں کمینگی سے پوچھنے لگے ۔۔
جبکہ سنجیدگی سے وہاں کی صورتحال سنتے ہوئے شاہان کا آخر میں موڈ کچھ بگڑ گیا تھا ۔۔
“بی سیریس چاچو ۔۔
ہر وقت مذاق اچھا نہیں لگتا ۔۔”
“ہر وقت سیریس رہنا بھی اچھا نہیں ہوتا پیارے ۔۔
اور میں دیکھ رہا ہوں نکاح کے بعد سے تمہاری سنجیدگی میں کافی اضافہ ہوگیا ہے ۔۔
ہاہاہاہا ۔۔”
یامین گردیزی کا انداز تو چھیڑنے والا تھا لیکن ان کے لہجے میں ایک تنبیہہ بھی تھی ۔۔
جسے محسوس کر کے شاہان ہنکار بھر کر رہ گیا ۔۔
یہ اس کی ناگواری کا واضع اظہار تھا ۔۔
“اچھا بھتیجے صاحب ۔۔
آپ اپنا ہنی مون انجوائے کریں ۔۔
ہم یہاں اس مصیبت سے نمٹتے ہیں ۔۔”
“اوکے ۔۔”
فون کان سے ہٹا کر وہ جیسے ہی پلٹا نظریں اپنے پیچھے کھڑی فضاء سے جا ٹکرائی تھیں ۔۔
ایک لمحے کو اس کا رنگ اڑا تھا لیکن فضاء کے چہرے پر ایسا کچھ نہیں تھا جس سے یہ لگتا کہ وہ ان کی باتیں سن چکی ہے ۔۔
جب ہی شاہان پرسکون سا ہوگیا تھا ۔۔
“اٹھ کیوں گئیں ۔۔؟”
“سو سو کر تھک گئی تھی اسی لیئے ۔۔”
سلکی بال سمیٹ کر جوڑا بناتے ہوئے فضاء کسلمندی سے بولی تھی ۔۔
“تم شائد واحد ہو جو سو سو کر تھک گئی ہو ۔۔”
صوفے پر واپس بیٹھتے ہوئے شاہان بڑبڑایا ۔۔
“نہیں ۔۔
میری بہن بھی ایسی ہی ہے ۔۔”
فضاء کے فخریہ انداز میں بولنے پر شاہان کی نظروں کے آگے شزا کا سراپہ چھب دکھاتا چلا گیا تھا ۔۔
“ویسے آپ ہر ۔۔”
“اب تم شروع مت ہوجانا پلیز ۔۔
واپس سوجائو اگر چپ نہیں رہ سکتیں ۔۔
مجھے بہت کام ہے ڈسٹرب مت کرو ۔۔”
فضاء کی بات شروع ہونے سے پہلے ہی شاہان نے اسے گھرک کر رکھ دیا تھا ۔۔
فضاء کا چہرہ لٹک گیا ۔۔
“یہاں بھی آپ کو یہ کام کرنا ہے تو ہم یہاں آئے ہی کیوں ہیں ۔۔
ہنی مون کا مطلب پتہ ہے آپ کو ۔۔
مجھے وہاں چھوڑ کر لیپ ٹاپ کے ساتھ ہنی مون منا لیتے ۔۔
ایویں زحمت کی”
بےساختگی میں کہی گئی اپنی بات پر فضاء خود ہی سٹپٹا گئی تھی ۔۔
چہرہ بھی گویا تمتما اٹھا تھا ۔۔
شاہان نے لیپ ٹاپ کے سکرین سے نظریں ہٹا کر ابرو اٹھا کر اسے دیکھا تھا جو وضو کرنے کا کہہ کر نظریں چراتی ہوئی واشروم بھاگ گئی تھی ۔۔
“بیوقوف لڑکی ۔۔”
ہلکی سی مسکان نے شاہان کے لبوں کا احاطہ کیا تھا ۔۔
پھر سر جھٹک کر وہ لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گیا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز سے فارغ ہو کر اس نے دعا شروع کر دی تھی ۔۔
نہ جانے کیا کیا مانگ رہی تھی ۔۔
کہ سیاہ آسمان میں نیل گھلنے لگا تھا ۔۔
لیکن اس کی دعائیں تھیں کہ پوری ہو کر نہیں دے رہی تھیں ۔۔
شاہان کو پھر سے اس کی طرف متوجہ ہونا پڑا تھا ۔۔
“سب کچھ تم مانگ لو گی ۔۔؟
کچھ باقی دنیا والوں کے لیئے بھی چھوڑ دو ۔۔”
شانے پر گال ٹکا کر وہ کچھ سنجیدگی کچھ شرارت سے گویا ہوا تھا ۔۔
“مجھے آپ کے سوا اور کچھ نہیں چاہیے ۔۔
آپ پر کوئی کمپرومائز نہیں کروں گی ۔۔
آپ ہی کو مانگ رہی ہوں ۔۔”
وہ ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ چھپائے بولی تھی ۔۔
اور شاہان ۔۔
وہ کچھ بولنے کے قابل نہیں رہا تھا ۔۔
بس اجنبی نظروں سے اسے دیکھے چلا جا رہا تھا ۔۔
جو اس کی طرف سے ذرا ترچھا رخ کیئے جاءنماز پر ہاتھوں میں چہرہ چھپائے بیٹھی تھی ۔۔
“تم شائد اس دنیا کی پہلی وائف ہو فضاء ۔۔
جو اپنے ہزبینڈ پر لائن پر مارتی ہو ۔۔”
بہت دیر بعد شاہان پھنسی پھنسی آواز میں بولا تھا ۔۔
اس بار فضاء نے اپنا چہرہ ہاتھوں سے نکال کر شاہان کو گھورا اور پھر عادتاً ایک طرف کو گرتی کھلکھلا کر ہنستی چلی گئی تھی ۔۔
ایک بار پھر شاہان کو اس کے ہنسنے کے انداز نے مسکرانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔
“یہ لائن مارنا کیا ہوتا ہے مسٹر شاہان گردیزی ۔۔
آپ میرے شوہر ہیں ۔۔
مجھے ساری زندگی آپ کے ساتھ گزارنی ہے ۔۔
تو آپ سے محبت کر کے زندگی زیادہ آسانی سے گزرے گی ۔۔
اور یہ اظہار وغیرہ کرتے رہنے چاہئیں ۔۔
یہ محبت کو تازہ رکھتے ہیں ۔۔
یو نو ۔۔
محبت پھول جیسی ہے ۔۔
اور اظہار اس پر پانی کے چھڑکائو جیسا ۔۔”
جاءنماز طے کر کے بیڈ پر رکھتے ہوئے فضاء نے پورے بتیس دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔
“اینڈ واٹ ابائوٹ ہوا اور دھوپ ۔۔؟”
ان لمحوں کے سحر سے خود کو جھٹکے سے نکال کر شاہان پر مزح انداز میں پوچھنے لگا ۔۔
فضاء کو فوری طور پر کوئی جواب نہیں سوجھا تھا ۔۔
لیکن وہ کافی سنجیدگی سے محبت کے پھول کو سینچنے والے “ہوا اور دھوپ” کے متعلق سوچنے لگی تھی ۔۔
اور اس کے چہرے کی یہ عظیم سنجیدگی دیکھ کر شاہان نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی تھی ۔۔
“میں بتائوں اس “ہوا اور دھوپ” کو محبت کی زبان میں کیا کہتے ہیں ۔۔؟”
فضاء کا ہاتھ غیر ارادی طور پر تھام کر شاہان نے اس کی حیران حیران آنکھوں میں جھانک کر پوچھا تھا ۔۔
“نن نہیں ۔۔
مجھے نہیں جاننا ۔۔”
فضاء اس کی آنکھوں کے بدلتے رنگ دیکھ کر جھینپ کر بولی تھی ۔۔
ساتھ ہی اپنا ہاتھ بھی اس کی نرم گرفت سے نکال لیا تھا ۔۔
“یہ کیا بات ہوئی فضاء ڈارلنگ ۔۔؟
خود اظہار پر یقین رکھتی ہو ۔۔
میری باری میں بھاگ رہی ہو ۔۔
آئو ساتھ اس محبت کے پھول کو سینچتے ہیں ۔۔
تم اس پھول کو پانی دو ۔۔
میں باقی چیزوں کا بندوبست کرتا ہوں ۔۔
کیسا ۔۔؟”
شریر لہجے میں کہتا وہ بہت الگ لیکن بہت اپنا لگ رہا تھا ۔۔
بیڈ پر بیٹھی فضاء چہرہ ترچھا کیئے اسے دیکھے چلی جا رہی تھی ۔۔
ماحول کے فسوں نے دونوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا ہی تھا جب شاہان کا فون گنگنا اٹھا ۔۔
شاہان پھر سے اپنے خول میں سمٹتے ہوئے فون کان سے لگائے بغیر فضاء پر ایک بھی نظر ڈالے کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔
اور پیچھے فضاء اس کے اچانک بدل جانے پر خالی خالی سی بیٹھی رہ گئی ۔۔
ان دونوں کے رشتے کے حوالے سے بہت سے سوال تھے جو اسے پریشان رکھتے تھے ۔۔
وہ کوئی دودھ ہیتی نادان بچی نہیں تھی ۔۔
دل میں وسوسے تو سر اٹھانے ہی تھے ۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ ہو چکا تھا اس جنت نظیر وادی کی سیر کرتے ہوئے ۔۔
دل تھا کہ بھرنے میں نہیں آ رہا تھا ۔۔
فضاء کا بس چلتا تو دنیا کے سارے جھمیلے بھول کر ہمیشہ کے لیئے یہاں بس جاتی ۔۔
اور اپنی اس خواہش کا اظہار وہ ہزاروں بار شاہان سے بھی کر چکی تھی ۔۔
جس کا رویہ اس ایک ہفتے میں فضاء کے ساتھ کافی بہتر ہوگیا تھا ۔۔
اور شاہان گردیزی بھی فضاء کی سنگت کو شائد اب انجوائے کرنے لگا تھا ۔۔
وجہ شائد یہ رہی ہو کہ وہ فضاء کے ساتھ کسی مصنوعی محبت کے مظاہرے نہیں کر رہا تھا ۔۔
نہ دل پھینک جملے سوچ سوچ کر بولنے پڑتے تھے ۔۔
وہ جیسا تھا ۔۔
سنجیدہ سنجیدہ بیزار بیزار سا ۔۔
وہ ویسا ہی خود کو ظاہر کر رہا تھا ۔۔
فضاء کو اس کا یہ روڈ روپ پسند تھا یا نہیں ۔۔
لیکن وہ کوئی شکوہ نہیں کرتی تھی ۔۔
اور یہ بات شاہان کے لیئے کافی تھی ۔۔
سارا دن گھوم پھر کر وہ لوگ شام گئے گھر لوٹے تھے ۔۔
شاہان باتھ لے رہا تھا اور فضاء جوتوں سمیت بیڈ پر اوندھی پڑی تھی ۔۔
جب شاہان کے فون کی گنگناہٹ پر فضاء نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا تھا ۔۔
“خاور شیخ ۔۔”
زیرلب سکرین پر جگمگاتا نام دوہرا کر فضاء فون واپس اس کی جگہ رکھنے والی تھی لیکن اس سے پہلے ہی باتھ گائون لپیٹے شاہان نے فون اس کے ہاتھ سے جھپٹنے کے انداز میں چھین لیا تھا ۔۔
اور فضاء کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے گال پر رسید کر کے بنا کسی معذرت کے کمرے سے نکل گیا تھا ۔۔
بیڈ پر کہنی کے بل لیٹی فضاء کا سارا چہرہ تھپڑ کے جھٹکے کی وجہ سے اس کے بالوں سے چھپ گیا تھا ۔۔
آنسو بغیر کسی کوشش کے تواتر سے نکلے چلے جا رہے تھے ۔۔
ذرا سی دیر میں اس کا سارا چہرہ آنسئوں سے بھیگ گیا تھا ۔۔
فضاء کے لیئے یقین کرنا مشکل تھا کہ شاہان نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا ۔۔
ابھی وقت ہی کتنا گزرا تھا ان کی شادی کو ۔۔؟
اور شاہان نے اس پر ہاتھ اٹھا دیا تھا ۔۔!
ایک شاک کی کیفیت میں اٹھ کر وہ شاہان سے اور شائد خود سے بھی چھپ کر گیلری میں چلی گئی تھی اور دروازہ بھیڑ کر وہیں زمین پر بیٹھ کر گھٹنوں میں منہ چھپا کر سسک اٹھی تھی ۔۔
یہ رونا صرف ایک تھپڑ کی وجہ سے نہیں تھا ۔۔
اور بھی بہت سی وجوہات تھیں ۔۔
بہت بوجھ جمع تھا اس کے دل میں ۔۔
رہ رہ کر شاہان کی ایک ایک کج ادائی یاد آ رہی تھی اور اس کے رونے میں شدت لا رہی تھی ۔۔
کبھی کبھی ہوتا ہے نا ۔۔
ایک چھوٹی سی بات ضبط توڑ دیتی ہے ۔۔
پھر یہ بات چھوٹی تو نہیں تھی ۔۔
ہاں وجہ چھوٹی ضرور تھی ۔۔
رات مکمل طور پر اپنے پر پھیلا چکی تھی ۔۔
اس نے گیلری کی لائٹ بھی نہیں کھولی تھی اور یونہی اندھیرے میں بیٹھی ہچکیوں کے ساتھ روتی جا رہی تھی ۔۔
دوسری طرف کمرے میں داخل ہوتا شاہان کمرہ خالی دیکھ کر حیران ہوا تھا ۔۔
لیکن گیلری سے آتی رونے کی آواز نے اس کی حیرت دور کر دی تھی ۔۔
اپنے گیلے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے وہ فضاء کو منانے کے خیال سے گیلری کی طرف بڑھ گیا تھا کیونکہ کل اسے لے کر شیخ کے گھر بھی جانا تھا ۔۔
یونہی روٹھی رہی تو چلنے سے انکار ہی نہ کر دے ۔۔
اور شاہان کل کسی بدمزگی کے بغیر تمام کام نمٹا کر یہاں سے چلے جانا چاہتا تھا ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: