Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 6

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 6

–**–**–

روتے روتے فضاء اچانک رک گئی تھی جب شاہان نے گیلری کا دروازہ ذرا سا کھول کر گیلری میں جھانکا تھا ۔۔
موٹی سی روشنی کی لکیر فضاء کے چہرے پر پڑ رہی تھی جس سے فضاء کے چہرے پر چھائی درد کی پرچھائیاں واضع ہوگئی تھیں ۔۔
پورا چہرہ آنسئوں سے تر تھا جبکہ ہچکیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا ۔۔
لب بھینچ کر شاہان کچھ دیر تک اس کا زرد پڑتا بھیگا چہرہ دیکھتا رہا ۔۔
پھر اس کے پہلو میں ہی بیٹھ گیا ۔۔
کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہوئے تھے ۔۔
ہاں وقتاً فوقتاً فضاء کی سسکیاں اور ہچکیاں خاموشی میں خلل ڈال دیتی تھیں ۔۔
چہرہ موڑ کر شاہان نے پھر اس کی طرف دیکھ تھا جو پیر کے انگوٹھے پر نظریں جمائے شائد ضبط کے کڑے مراحل سے گزر رہی تھی ۔۔
“آئی ایم سوری ۔۔”
شاہان کی گمبھیر آواز سن کر بھی فضاء نے ان سنی کر دی تھی ۔۔
اس کی بےنیازی پر شاہان نے دائیں ابرو اٹھا کر اسے گھورا تھا ۔۔
لیکن فضاء گویا اس وقت اپنی تمام حسیں مردہ کیئے بیٹھی تھی ۔۔
وہ کوئی نازوں میں پلی نہیں تھی ۔۔
زمانے کے سرد و گرم سے واقف تھی ۔۔
لیکن ایک ہی انسان کے مزاج کے مختلف رنگ اس نے پہلی بار دیکھے تھے ۔۔
اور جو رنگ حال ہی میں اس نے اس شخص کا دیکھا تھا وہ زمانے کے تمام گرم رنگوں سے زیادہ پرتپش تھا ۔۔
شائد اس لیئے کہ وہ اس شخص سے امیدیں بہت لگا بیٹھی تھی ۔۔
امیدوں پر اچانک پانی پھر گیا تھا ۔۔
شائد اس لیئے بھی فضاء کے دل سے یہ بوجھ سرک نہیں رہا تھا ۔۔
“کم آن فضاء ۔۔
انسان ہوں غلطی ہوجاتی ہے ۔۔
سوری کر رہا ہوں نا ۔۔”
فضاء کے کندھے سے اپنا مضبوط کندھا جوڑ کر شاہان کافی جھک کر بول رہا تھا ۔۔
کان کی لئوں سے ٹکراتی شاہان کی سانسیں فضاء کے بےنیاز بننے میں رکاوٹ بن رہی تھیں ۔۔
شاہان سے تھوڑا دور کھسک کر فضاء نے ایک برہم نگاہ اس پر ڈالی تھی ۔۔
جواباً شاہان شانے اچکا کر دھیما سا مسکرا دیا ۔۔
اور اسے مسکراتے دیکھ کر فضاء کو پھر سے رونا آنے لگا اور اگلے ہی پل وہ گھٹنوں میں منہ دے کر چہکوں پہکوں رونا شروع ہوگئی ۔۔
گویا اصل سٹارٹ تو اب لیا تھا ۔۔
شاہان کی مسکراہٹ اپنے آپ سمٹ گئی تھی ۔۔
وہ جبڑے کسے بڑی سنجیدگی سے اسے روتا دیکھ رہا تھا ۔۔
گھبراہٹ میں وہ کچھ زیادہ ہی بدلحاظی کا مظاہرہ کر گیا تھا ۔۔
اگر فضاء ابھی خاور شیخ کا فون اٹھا لیتی تو ۔۔؟
اگر اٹھا لیتی تو ۔۔؟
تو کیا ہوجاتا ۔۔؟
شائد وہ اس کی حقیقت جان جاتی ۔۔
پھر شاہان اسے کل چھوڑ آج رات چھوڑ آتا ۔۔
پھر ۔۔؟
وہ اتنا جذباتی کیوں ہوگیا تھا ۔۔؟
“گردیزی صاحب مزاج اتنے برہم کیوں ہیں ۔۔؟
سودا تو بہت پہلے پکا ہو چکا تھا نا ۔۔؟
کہیں آپ کا اپنا دل تو نہیں آگیا اس اپسرا پر ۔۔؟”
شاہان کے کان میں خاور شیخ کے کچھ دیر پہلے کہے گئے جملے گونجنے لگے ۔۔
خاور شیخ نے یہ بات کیوں کہی تھی ۔۔؟
ایسا کیا محسوس کر لیا تھا شیخ نے اس کے لہجے میں ۔۔
برہمی ۔۔؟
ناگواری ۔۔؟
یا لہجے میں چھپی الجھن تھی ۔۔
آخر کیا محسوس کر کے خاور شیخ نے یہ بات کہی تھی ۔۔؟
کیوں کہی تھی ۔۔؟
دماغ خاور شیخ کی باتوں میں الجھا تھا ۔۔
اور نظریں اس روٹھی روٹھی لڑکی پر جمی تھیں ۔۔
جو اس تلخ حقیقت سے قطعی لاعلم اسے دعائوں میں مانگتی رہتی تھی ۔۔
شاہان جو خود کو ناقابل تسخیر سمجھتا تھا ۔۔
فضا کے آنسئوں سے ہار رہا تھا ۔۔
کسی کے آنسئوں پر دل کا بوجھل ہونا ہار جانا ہی ہوتا ہے نا ۔۔
اسے انداہ نہیں ہوا تھا کہ کب اس کا ہاتھ بڑھا اور کب اس نے فضا کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔
وہ جیسے کسی خواب کے زیر اثر فضا کے سر پر لب جمائے اس کی پشت تھپک رہا تھا ۔۔
جبکہ فضاء کے آنسو ہی نہیں سانسیں بھی رک سی گئی تھیں ۔۔
وہ بے یقینی سے شاہان کے سینے کو تک رہی تھی ۔۔
اس پتھر دل شخص کی اچانک مہربانی حیران کن تھی ۔۔
سسکیوں اور ہچکیوں نے دم توڑ دیا تھا ۔۔
جبکہ دل پوری رفتار سے دھڑک رہا تھا ۔۔
کیا وقت مہربان ہو چکا تھا ۔۔؟
دعائیں قبولیت کی سند پا چکی تھیں ۔۔؟
ایک پرسکون سانس خارج کر کے فضاء نے خود سپردگی کا خومش اظہار کرتے ہوئے آنکھیں موند کر سر شاہان کے سینے پر رکھ دیا تھا ۔۔
لیکن دوسری طرف شاہان ماحول کے بہائو سے خود کو نکال چکا تھا ۔۔
آہستگی سے فضاء کو پیچھے کر کے وہ اٹھنے لگا تھا جب فضاء نے اس کا بازو تھام کر رکنے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔
شاہان نے پہلے اپنے بازو پر رکھے فضاء کے ہاتھوں کو دیکھا ۔۔
پھر فضاء کے چہرے کی طرف دیکھا ۔۔
جہاں صرف ایک ہی سوال تھا ۔۔
“کیوں ۔۔؟”
اس سے پہلے شاہان کوئی لولا لنگڑا بہانہ پیش کرتا فضاء جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔
“جب آپ کو میں پسند نہیں تھی ۔۔
تو مجھ سے شادی کیوں کی آپ نے ۔۔
میں سمجھ نہیں پا رہی آپ کے دماغ میں چل کیا رہا ہے شاہان ۔۔
میں نہیں پسند تو ایک بار بتا دیں ۔۔
میں خود کو سمجھا لوں گی ۔۔
یہ بار بار امید دے کر دامن چھڑا لینے کا کیا طلب ہے شاہان ۔۔؟
بچہ سمجھا ہے ۔۔؟
بےوفقوف سمجھتے ہیں آپ مجھے ۔۔؟
میں آپ کی بےنیازی پر کچھ کہتی نہیں تو یہ مت سمجھیں میں کچھ سمجھتی بھی نہیں ۔۔
مجھے بتائیں آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں ۔۔؟
میں آپ کا کوٹ پہن لوں وہ تک آپ کو برداشت نہیں ۔۔
فون کو چھو لینے پر آپ نے مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا ۔۔
کیوں شاہان ۔۔؟
آپ مجھے خود کے قابل نہیں سمجھتے تو بےجھجک بتادیں ۔۔
لیکن کچھ بتائیں تو ۔۔
آپ کا رویہ میرے جیسی عام سی لڑکی کے سمجھ سے باہر ہے ۔۔”
بولتے بولتے فضاء کی آواز بیٹھ گئی تھی ۔۔
تھکن اور روتے رہنے کی وجہ سے سر بھی بھاری ہو رہا تھا ۔۔
وہ سر پکڑ کر گیلری کی ریلنگ سے پشت لگا کر کھڑی ہوگئی ۔۔
“ہوگیا ۔۔؟”
شاہان کی سرد آواز پر فضاء نے تاسف سے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔
پھر لب بھینچ کر اس کے نزدیک سے گزر کر کمرے میں چلی گئی ۔۔
پیچھے زوردار انداز میں گیلری کا دروازہ بند کرنا نہیں بھولی تھی ۔۔
کافی دیر تک ان عجیب و غریب لمحات کو سوچتے رہنے کے بعد گہری سانس بھرتے ہوئے شاہان جب کمرے میں جانے کے خیال سے پلٹا اور دروازے کے ہینڈل کو گھمایا تب اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا ۔۔
دروازہ اندر سے لاکڈ تھا ۔۔
“فضاء ۔۔
تم نے شائد غلطی سے دروازہ لاک کر دیا ہے ۔۔”
دروازہ کھٹکھٹا کر شاہان اونچی آواز میں بولا تھا ۔۔
“دروازے غلطی سے بند نہیں ہوتے ۔۔
انہیں سوچ سمجھ کر بند کیا جاتا ہے ۔۔”
فضاء کی طرف سے فوراً ہی جواب آیا تھا ۔۔
کیونکہ اندر وہ منتظر بیٹھی تھی کہ کب شاہان اس کی یہ حرکت نوٹ کرتا ہے ۔۔
“واٹ دا ہیل فضاء ۔۔
یہ دانشوری جھاڑنے کا وقت نہیں ہے ۔۔
میں تھکا ہوا ہوں آرام کرنا چاہتا ہوں ۔۔
دروازہ کھولو ۔۔”
شاہان کے انداز میں غصہ کم حیرت زیادہ تھی ۔۔
یعنی فضاء نے اسے گیلری میں بند کردیا تھا ۔۔
اس کے گھر میں ۔۔
اس ہی کے کمرے کی گیلری میں ۔۔
واہ ۔۔
“ابھی نہیں ۔۔
ابھی میرا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا ہے ۔۔”
فضاء کے لہجے میں کچھ شرمندگی جھلک رہی تھی ۔۔
لیکن دروازہ کھولنے کو دل اب بھی نہیں مان رہا تھا ۔۔
وہ ایسی ہی تھی ۔۔
اس کی سزائیں بھی ایسی ہی تھیں ۔۔
بچگانہ سی ۔۔
عظمی بیگم اکثر کہا کرتیں ۔۔
“یہ میری چھوٹی بیٹی ہے ۔۔
بس پیدا پہلے ہوگئی ہے ۔۔”
“تمہارا غصہ مائے فٹ ۔۔
میں تین تک گن رہا ہوں ۔۔
دروازہ نہ کھولا تو انجام کی ذمہ دار تم ہونگی ۔۔
پھر مجھ سے گلہ مت کرنا ۔۔
ایک ۔۔
دو ۔۔
تین ۔۔”
“ٹھک”
فضاء نے فوراً ہی دروازہ کھول دیا تھا اور پوری رفتار سے باتھروم کی طرف بھاگی تھی ۔۔
اندر داخل ہوتا شاہان اس کی رفتار پر اپنا امڈتا قہقہ روک نہیں سکا تھا ۔۔
“کیا بنے گا اس بیوقوف لڑکی کا ۔۔”
لائٹس آف کر کے بیڈ پر لیٹتے ہوئے شاہان کی نظریں کئی بار باتھروم کے دروازے کی طرف اٹھی تھیں ۔۔
چت لیٹا وہ چھت کو گھورے جا رہا تھا ۔۔
نیند کی وجہ سے دماغ بھاری ہو رہا تھا ۔۔
لیکن سوچوں کا ایک ڈھیر تھا جو اسے سکون سے سونے نہیں دے رہا تھا ۔۔
کافی دیر یونہی گزر گئی تھی جب باتھروم کا دروازہ کھلنے کی آواز پر شاہان نے مندی مندی آنکھوں سے باہر نکلتی فضاء کو دیکھا تھا ۔۔
وہ احتیاط سے آگے بڑھتی شائد اس کے سوجانے کی گارنٹی چاہتی تھی ۔۔
شاہان کو شرارت سوجھی ۔۔
وہ آنکھیں موند کر سوتا بن گیا ۔۔
دوسری طرف فضاء نیم اندھیرے میں شاہان کا چہرہ بغور دیکھتی کبھی اس کے چہرے کے آگے ہاتھ ہلاتی تو کبھی چٹکیاں بجاتی آخر کار مطمئین ہو کر جیسے ہی پیچھے ہوئی شاہان اونچی آواز میں “ہائو” کرتا اٹھ بیٹھا ۔۔
فضاء کا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا ۔۔
ایک دلخراش چیخ مار کر وہ پیچھے ہوئی تھی ۔۔
اور اگلے ہی پل ان دونوں کے قہقوں نے کچھ دیر پہلے کے بوجھل ماحول کو بلکل بدل دیا تھا ۔۔
شاہان تو کچھ پل ہنس کر اب بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے سگرٹ سلگا چکا تھا لیکن نظروں کا مرکز وہی تھی جس کی ہنسی رکنے میں نہیں آ رہی ۔۔
بیڈ کی پائنتی پر بیٹھی وہ ہنسی کے دوران کچھ کچھ شرمندہ سی صفائی دینے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
“نہیں میں نہیں ڈری تھی ۔۔
مجھے پتہ تھا آپ جاگ رہے ہیں ۔۔
وہ تو ایسے ہی میں بس ۔۔”
شاہان کی مسکراتی نظروں میں اترتے رنگ فضاء اس نیم اندھیرے میں دیکھنے سے قاصر تھی ۔۔
سو عادتاً ہاتھ زور شور سے ہلاتے ہوئے اپنی بولنے میں لگی رہی ۔۔
چونکی وہ تب جب شاہان نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا ۔۔
“آئو محبت کے پھول کو سینچتے ہیں ۔۔”
فضاء کی حیران سوالیا نظروں میں جھانکتے شاہان بہکے بہکے لہجے میں سرگوشیانہ بولا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہان کی آنکھوں میں گدلاہٹ چھائی تھی ۔۔
اور ذہن پر اس وقت بھی نیند سوار تھی لیکن کوئی نافہم سا احساس تھا جو اسے نیند کی پیاری وادی سے کھینچ لایا تھا ۔۔
گیلری سے آتی زردی مائل روشنی پورے کمرے میں چھائی تھی ۔۔
جبکہ فضاء کے روشن چہرے سے ٹکراتی کچھ زیادہ ہی فسوں خیز لگ رہی تھی ۔۔
شاہان ایک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا جو نماز کے انداز میں دوپٹہ لپیٹے نہ جانے کیا کر رہی تھی جو مسکرا رہی تھی ۔۔
شاہان نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تھا ۔۔
اس کا ہاتھ فضاء نے تھام رکھا تھا اور پین دوسرے ہاتھ میں پکڑے نہ جانے کیا لکھ رہی تھی ۔۔
تو یہی وجہ تھی جو وہ کچھ بےسکون ہو کر اٹھ گیا تھا ۔۔
لیکن سامنے نظر آنے والا منظر اتنا فرحت بخش تھا کہ وہ اپنا ہاتھ چھڑوائے بغیر فضاء کے چہرے پر نظریں جمائے ہی پھر سے دھیرے دھیرے نیند کی وادی میں اتر گیا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورج پوری آب و تاب سے جگمگا رہا تھا ۔۔
پورا کمرہ روشنی سے منور تھا ۔۔
شاہان کے سہرانے پڑا اس کا فون بھی مسلسل بج رہا تھا لیکن شاہان کا جاگنے کا کوئی ارادہ نہیں لگ رہا تھا ۔۔
فضاء پھر سے اس کا فون اٹھانے کی غلطی نہیں کر سکتی تھی جب ہی شاہان کو اٹھانے کو ترجیح دی تھی ۔۔
“شاہان اٹھ بھی جائیں ۔۔
آپ کا فون کب سے بجے جا رہا ہے ۔۔
شاہان ۔۔
دوپہر کے دو بج رہے ہیں ۔۔
اٹھ بھی جائیں اب ۔۔
ایک تو ان شیخ صاحب کی بھی سمجھ نہیں آرہی ۔۔
جب بندہ فون نہیں اٹھا رہا ہے تو اس کا مطلب کچھ دیر بعد ٹرائے کر لے ابھی ممکن نہیں ۔۔
لیکن نہیں ۔۔”
شاہان جو اس کی پکار پر مدھم سا مسکراتا دوسری طرف کروٹ لے رہا تھا ۔۔
شیخ کے ذکر پر جھٹکے سے آنکھیں کھولی تھیں ۔۔
پھر فضاء کو حق دق چھوڑ کر فون اٹھاتا ایک ہی جست میں بیڈ سے اتر کر کمرے سے نکل گیا ۔۔
“ہوگی کوئی بہت ضروری کال ۔۔”
کچھ دیر حیران رہنے کے بعد وہ سر جھٹکتی لحاف طے کرنے لگی ۔۔
لیکن پھر باہر سے آتی شاہان کی اونچی آواز پر گھبرا کر باہر نکل آئی تھی ۔۔
فون کان سے لگائے شاہان بری طرح بھڑک رہا تھا ۔۔
فضاء پر نظر پڑتے کے ساتھ ہی زبردست سی گھوری سے اسے نوازتے ہوئے واپس کمرے میں جانے کا اشارہ کیا تھا ۔۔
مرتی کیا نہ کرتی کی مصداق وہ کمرے میں واپس چلی آئی ۔۔
اسے چھپ کر باتیں سننے کی عادت نہیں تھی لیکن شاہان کے انداز میں کچھ ایسا تھا جو وہ یہ نہ پسند عمل سر انجام دینے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
لیکن دوسری طرف شاہان اب محتاط ہوگیا تھا ۔۔
فضاء کچھ بھی نہ سن سکی اور ناچار کام میں واپس مگن ہوگئی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے پتہ تھا کچھ الٹا سیدھا ہو کر رہے گا ۔۔
تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں میں ۔۔
اس وقت کیسے جھٹلا رہے تھے ۔۔
اب کیا ۔۔؟
ہاں ۔۔؟
اب کیا کریں گے ہم ۔۔؟
لاکھوں ہاتھ سے نکل گئے ۔۔
وہ شیخ کسی کے جھوٹے گلاس میں پانی نہیں پیتا ۔۔
اور تم ۔۔”
انگلیوں میں دبی سلگتی سگرٹ کو گھورتے ہوئے شاہان سختی سے جبڑے بھینچے یامین گردیزی کی بھڑاس آدھے گھنٹے سے سن رہا تھا ۔۔
ان کی آخری بت پر سگرٹ جھٹکے سے زمین پر پھینک کر پھنکارا تھا ۔۔
“میں کل واپس آ رہا ہوں ۔۔
پھر بات کریں گے ۔۔
اس سے پہلے مجھے کال کرنے کی غلطی مت کیجیئے گا ۔۔”
فون بند کر کے وہ سر پر ہلکے ہلکے مکے مارنے لگا ۔۔
بیس منٹ تک شیخ سے بحث کر کے اب یامین گردیزی کی بھڑاس سننے کے بعد وہ سخت اپ سیٹ ہوگیا تھا ۔۔
اپنی رات کی بےساختگی نے اسے خود سے خوفزدہ کر دیا تھا ۔۔
وہ ایسے کسی رشتے میں خود کو الجھا نہیں سکتا تھا ۔۔
اس کی زندگی میں کسی ایسے رشتے کی جگہ نہیں تھی جو اس کی کمزوری بن جاتا ۔۔
لیکن ۔۔
ماننے نہ ماننے سے کیا ہونا تھا ۔۔
حقیقت یہی تھی کہ وہ ایک ایسا رشتہ قائم کر چکا تھا ۔۔
“اور کیا مجھے کوئی پچھتاوا ہے ۔۔؟”
شاہان نے دل کو کنگھالا تھا ۔۔
وہاں سکون ہی سکون تھا ۔۔
گویا دل نے یہ حقیقت قبول کر لی تھی ۔۔
اب بس دماغ کو سمجھانا تھا ۔۔
ہتھیلی پر پین سے بنے دل کے اندر اپنا اور فضاء کا نام بغور دیکھتے ہوئے وہ سوچوں کے گرداب میں الجھا کسی کی موجودگی محسوس کر کے مڑا تھا ۔۔
کافی کے دو مگ ہاتھ میں پکڑے فضاء کچھ جھجھکی گھبرائی سی کھڑی تشویش ناک نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔
شاہان سر اٹھائے کچھ دیر تک خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتا رہا ۔۔
پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا ایک بازو وا کر کے اسے اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ دیا ۔۔
شاہان کے اس پیارے سے انداز نے فضاء کی کب سے اٹکی سانس بحال کی تھی ۔۔
بڑا بوجھ تھا جو وہ رات سے اپنے سر پر سوار کیئے ہوئے تھی ۔۔
“کیا شاہان اس رشتے سے واقعی ناخوش ہے ۔۔
کیا اسے کوئی پچھتاوا ہے ۔۔
کیا وہ اس بندھن کو مضبوط کربے کا خواہش مند نہیں تھا ۔۔؟”
لیکن شاہان کے رویئے کو دیکھ کر اچانک ہی وہ بہت ہلکی پھلکی ہو کر جھینپ کر مسکراتے ہوئے اس کے پہلو سے لگ کر بیٹھ گئی تھی ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: