Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 7

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 7

–**–**–

سینے پر بازو لپیٹے یامین گردیزی سخت ناگوار نظروں سے شاہان کو دیکھ رہے تھے جو فضاء کی طرف کا دروازہ کھول رہا تھا ۔۔
جھینپی جھینپی سی فضاء کے چہرے پر بکھرے رنگ بہت کچھ کہہ رہے تھے ۔۔
جو یامین گردیزی ہرگز نہیں سننا چاہتے تھے ۔۔
جب ہی فضاء کے چہرے سے نظریں ہٹا کر انہوں نے پھر شاہان کو دیکھا تھا جو پیشانی پر بل سجائے فضاء کا ہاتھ تھامے ان کی طرف ہی بڑھ رہا تھا ۔۔
اپنی جھونک میں شاہان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھتی فضاء کی نظر جونہی یامین گردیزی پر پڑی ۔۔
اس کے قدموں کی رفتار کچھ سست ہوگئی ۔۔
اب وہ شاہان کے پہلو کی جگہ اس سے ایک قدم پیچھے چھپی چھپی سی آگے بڑھ رہی تھی ۔۔
شاہان نے اس کی یہ جھجک محسوس کر لی تھی ۔۔
ایک اچٹتی نظر فضاء پر ڈال کر اس نے پھر سے یامین گردیزی کی طرف دیکھا تھا ۔۔
چہرے کی سنجیدگی میں کافی اضافہ ہوگیا تھا ۔۔
“السلام علیکم چاچو ۔۔”
چاچو کہہ کر رشتے کا تقدس یاد دلانے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی تھی فضاء نے ۔۔
جواباً یامین گردیزی ہنکار بھر کر رہ گئے ۔۔
یہ شاہان کے تاثرات ہی تھے جن کی وجہ سے وہ فضاء کی طرف دیکھنے سے بھی گریز کر رہے تھے ۔۔
کوئی الٹی سیدھی ہانکنا تو دور کی بات تھی ۔۔
“تم کمرے میں جائو فضاء ۔۔”
شاہان کے کہنے پر وہ فوراً سر ہلاتی وہاں سے چلتی بنی ۔۔
پیچھے وہ دونوں ایک دوسرے کو سرد نظروں سے گھورتے ہوئے لان میں رکھی کرسیوں کی طرف بڑھ گئے تھے ۔۔
کچھ دیر تک درمیان میں خاموشی حائل رہی ۔۔
دونوں ہی الفاظ تول رہے تھے ۔۔
ایسی صوتحال کیونکہ دونوں ہی کے وہم و گمان میں نہیں تھی ۔۔
سو کیا بات کریں اور کیسے کریں کی الجھن دونوں ہی کو تھی ۔۔
“تو تم نے اس لڑکی کے ساتھ ساری زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔۔؟”
شروعات یامین گردیزی کی طرف سے ہوئی تھی ۔۔
“ہمم ۔۔”
“اور ہمارے “بزنس” کا کیا بنے گا ۔۔؟”
یامین گردیزی بمشکل اپنے اشتعال پر قابو پا کر بولے ۔۔
ورنہ ان کا دل چاہ رہا تھا ابھی جا کر فضاء کی گردن مروڑدیں ۔۔
“کیا مطلب بزنس کا کیا بنے گا ۔۔؟
جو جیسے چلتا آ رہا ہے چلتا رہے گا ۔۔
بس میری بیوی کو اس سب معاملات سے دور رکھیں ۔۔
وہ جس لاعلمی میں جی رہی ہے ۔۔
جیتے رہنے دیں ۔۔
آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
فضاء سے منسوب رشتے کو تسلیم کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں اپنے اصل کو اگنور کردوں گا ۔۔”
“ہنہہ ۔۔
سوچ لو ڈیئر بھتیجے ۔۔
باتیں تو اس وقت بھی بڑی بڑی کر رہے تھے ۔۔
کیا ہوا ۔۔؟
واپسی پر زن مرید بنے آئے ہو ۔۔”
“میں اس ٹاپک پر بات نہیں کرنا چاہتا ۔۔
انفیکٹ فضاء سے منسوب کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی آپ کے منہ سے نہیں سننا چاہتا ۔۔
آپ سمجھ رہے ہیں نا میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں ۔۔؟”
شاہان کی پیشانی کی ابھرتی رگ نے یامین گردیزی کی پیشانی تر کر دی تھی ۔۔
وہ سر ہلا کر رہ گئے ۔۔
“مجھے یقین ہے آئندہ مجھے اپنی یہ باتیں دہرانی نہیں پڑیں گی ۔۔
باقی ہر طرف سے آپ مطمئین رہیں ۔۔
جو جیسا ہے ویسا چلتا رہے گا ۔۔
اب میں چلتا ہوں ۔۔”
سخت تنبیہی نظر ان پر ڈال کر شاہان آگے بڑھ گیا تھا ۔۔
اور یامین گردیزی اشتعال اور بےبسی سے ہتھیلی پر مکّا مار کر رہ گئے ۔۔
کیونکہ اس سے زیادہ ان کے بس میں کچھ نہیں تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب شاہان کمرے میں داخل ہوا تب کمرے کو خالی پایا ۔۔
شائد فضاء باتھ لے رہی تھی ۔۔
اس نے ساتھ آئی ملازمہ کو فضاء کا سامان ڈریسنگ روم میں سیٹ کرنے کا حکم دیا اور خود گھڑی وغیرہ اتار کر بیڈ پر رکھتے ہوئے خود بھی بیڈ پر گرنے کے انداز میں چت لیٹ گیا ۔۔
دل مکمل طور پر راضی تھا ۔۔
لیکن دماغ کے بہت نخرے تھے ۔۔
یہ دل و دماغ کی جنگ جب تک جاری رہنی تھی ۔۔
اس کا سر یونہی درد کرتے رہنا تھا ۔۔
وہ آنکھوں پر بازو رکھ کر بےچینی سے پیر زور زور سے ہلانے لگا جب منہ پر پڑتے پانی کے شمار قطروں نے اسے بازو ہٹانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔
سامنے ہی فضاء موجود تھی اپنے گیلے بال سائڈ پر ڈالے ۔۔
شاہان کے متوجہ ہونے پر بڑی ادا سے بالوں کو شانے سے پشت پر ڈال دیا ۔۔
کہنی کے بل اٹھتے ہوئے شاہان نے عادتاً ابرو اچکائی ۔۔
“میں نے ڈراموں میں دیکھا ہے یہ سین ۔۔”
پورے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے فضاء فخریہ بولی تھی ۔۔
“بڑے واہیات ڈرامے دیکھے ہیں یعنی ۔۔”
شاہان اس پر نظریں جمائے بولا تھا جو بالوں کو تولیے سے جھٹک رہی تھی ۔۔
“آپ سے کم ہی واہیات تھے وہ ڈرامے ۔۔”
بےساختگی میں منہ توڑ جواب دینے کے چکر میں وہ کچھ زیادہ ہی بول گئی تھی ۔۔
اور اب شاہان کے قہقہ لگانے پر جھینپی ہوئی سی اپنی ناک کھجا رہی تھی ۔۔
شرمانے کا یہ انداز بھی دلچسپ تھا ۔۔
شاہان کو اپنا سر درد کچھ کم ہوتا محسوس ہوا تھا ۔۔
فضاء سے بات کر لینا ہی طبیعت پر خوشگوار اثر ڈالتا تھا ۔۔
وہ فضاء کی دعا تھا تو فضاء اس کی دوا بن گئی تھی ۔۔
“فضاء ۔۔”
“جی ۔۔”
شاہان کی پکار پر وہ بالوں میں تولیہ لپیٹتے ہوئے فوراً اس کی طرف بڑھی تھی ۔۔
انداز تشویش زدہ تھا ۔۔
کیونکہ شاہان کا انداز بہت تھکا تھکا سا تھا ۔۔
“میرا سر دبا دو گی ۔۔؟”
“جی کیوں نہیں ۔۔
چائے۔۔ پین کلر۔۔ کچھ ۔۔؟”
شاہان کے اشارے پر فضاء اس کے پاس ہی بیٹھ گئی ۔۔
“صرف تم ۔۔”
مختصر ترین الفاظ ۔۔
لیکن جواب مکمل تھا ۔۔
جھینپتے ہوئے فضاء نے اس کا سر دبانا شروع کردیا تھا ۔۔
دوسری طرف شاہان کو فضاء کے ٹھنڈے ٹھنڈے ہاتھوں کی تاثیر اندر رگوں تک اترتی محسوس ہوئی تھی ۔۔
آنکھیں موندے موندے ہی اس نے اپنا سر فضاء کی گود میں رکھ دیا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یامین گردیزی کی خونخوار نظریں دیدہ زیب اسٹیج پر بیٹھے شاہان اور اس کے پہلو میں بیٹھی پریوں کو مات دیتی فضاء پر کافی دیر سے جمی تھیں ۔۔
شاہان نے ان کی نظریں محسوس ضرور کی تھیں لیکن کوئی رسپانس نہیں دیا تھا ۔۔
وہ جانتا تھا یامین گردیزی کے لیئے یہ حقیقت ہضم کرنی مشکل تھی ۔۔
خود اس نے بہت دیر سے اس حقیقت کو جانا تھا ۔۔
ان کی کنڈیشن کیا ہوگی ۔۔
شاہان کو اندازہ تھا ۔۔
لب بھینچ کر یامین گردیزی صوفے پر دھپ سے بیٹھ گئے ۔۔
آج شاہان اور فضاء کا ولیمہ تھا ۔۔
شاہان نے اپنے حقیقی بزنس پارٹنرز اور بھی بہت سے ایسے جاننے والوں کو مدعو کیا تھا جو اس کی “حقیقت” سے ناواقف تھے اور اسے صرف ایک کامیاب بزنس مین کے طور پر جانتے تھے ۔۔
اتنے بڑے بڑے لوگوں کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت سے عظمی بیگم اور ان کے دیگر رشتے داروں کے دل میں اٹھتے خدشوں نے دم توڑ دیا تھا ۔۔
اور اب وہ سب رشک و حسد سے ولیمے کی یہ مثالی تقریب دیکھ رہے تھے ۔۔
دوسری طرف یامین گردیزی کو بھی اب کوئی شک نہیں رہ گیا تھا کہ شاہان فضاء کے لیئے کتنا سیریس ہوچکا تھا ۔۔
شاہان اس وقت گیارہ سال کا تھا جب اس کے ماں اور باپ ایک کار ایکسڈنٹ میں خالق حقیقی سے جا ملے تھے ۔۔
وہ دونوں ہی بہت شریف النفس تھے ۔۔
اور یامین گردیزی کے “بزنس” کی حقیقت جاننے کے بعد ان سے تمام تعلقات توڑ چکے تھے ۔۔
ان کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد یامین گردیزی نے پوری نیک نیتی سے شاہان کی ذمہ داری قبول کر لی تھی ۔۔
لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ان پر شاہان کی شاندار بظاہری شخصیت کھلنے لگی تھی ۔۔
دوسری طرف ان کی ڈھلتی عمر کی وجہ سے ان کا کام بھی ٹھپ ہو رہا تھا ۔۔
جب ہی انہوں نے سترہ سالہ شاہان کی ذہن بندی شروع کر دی تھی ۔۔
تاکہ وہ ان کے کام کو آگے بڑھا سکے ۔۔
اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ شاہان فرنٹ پر آگیا اور یامین گردیزی پیچھے چلے گئے ۔۔
لیکن انہیں کوئی افسوس نہیں تھا ۔۔
کیونکہ شاہان بخوبی اپنے کام کو سرانجام دے رہا تھا ۔۔
پھر انہوں نے خود اپنے پیرو پر کلہاڑی مار لی ۔۔
شاہان کا نکاح کروا کر ۔۔
شاہان لاکھ ان کے رنگ میں رنگ چکا تھا ۔۔
لیکن کچھ اثر اس پر ماں باپ کی نیک سیرتی کا بھی آنا ہی تھا ۔۔
جو وہ نکاح کے تقدس کو پامال نہیں کر سکا تھا ۔۔
“آہ ۔۔
ساری غلطی میری اپنی ہے ۔۔”
انگلیاں چٹخاتے ہوئے یامین گردیزی بڑبڑائے تھے ۔۔
جب ان کی نظریں اپنے فون کے روشن سکرین پر پڑیں ۔۔
انہیں یاد آیا انہوں نے اپنا فون سائلنٹ پر کر دیا تھا ۔۔
جتنی بیزاری سے انہوں نے فون اٹھایا تھا ۔۔
اتنی ہی چمک کال کرنے والے کا نام پڑھ کر ان کی آنکھوں میں در آئی تھی ۔۔
“بختیار میمن ۔۔”
نام دہراتے ہوئے وہ اٹھ کر کسی خاموش گوشے کی طرف بڑھ گئے ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: