Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 8

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 8

–**–**–

بختیار میمن پاکستان آ چکا تھا اور ان سے ملنا بھی چاہتا تھا ۔۔
یامین گردیزی نے بخوشی اسے گردیزی ولا آنے کی دعوت دے دی تھی ۔۔
لیکن فون بند کرنے کے بعد ان کے ذہن میں جھماکہ ہوا تھا ۔۔
“کہیں بختیار فضاء کا ذکر نہ چھیڑ دے ۔۔”
وہ جانتے تھے شاہان خود سے جڑی معمولی سے معمولی چیز کے لیئے بھی کتنا حساس تھا ۔۔
پھر فضاء نہ تو معمولی تھی ۔۔
نہ کوئی چیز تھی ۔۔
یامین گردیزی کو کوفت ہونے لگی ۔۔
زیادہ وقت نہیں گزرا تھا فضاء کو شاہان کی زندگی میں آئے ۔۔
اور وہ ان کے لیئے زحمت بن رہی تھی ۔۔
“شاہان سے بات کرنی پڑے گی ۔۔
تہہ خانہ گردیزی ولا میں ہی بنا ہے ۔۔
فضاء وہاں رہی تو مصیبت ہوجائے گی ۔۔”
یامین گردیزی کو ایک اور پریشانی نے گھیر لیا ۔۔
وہ بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے ایک ناگوار نظر اسٹیج کی طرف ڈالتے کونے میں رکھی ایک کرسی پر بیٹھ گئے ۔۔
اس وقت انہیں یہ ہلہ گلہ زہر لگ رہا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم جانا چاہتی ہو ۔۔؟”
شاہان نے دھیمی آواز میں اس کے کان میں منہ دے کر پوچھا تھا ۔۔
فضاء سب کے سامنے قربت کے اس مظاہرے پر سرخ ہوگئی اور ذرا پیچھے کھسک کر اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔
عظمی بیگم کی خواہش تھی فضاء رسم کے مطابق ولیمے کے بعد ان کے ساتھ گھر چلے ۔۔
شاہان نے فضاء سے اس کی مرضی پوچھنے کو ترجیح دی تھی ۔۔
اور اس ک طرف سے “ہاں” کا جواب ملنے پر کچھ بدمزہ ہوا تھا ۔۔
جب ہی پیشانی پر ایک گہرا بل ڈال کر عظمی بیگم کو فضاء کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی تھی ۔۔
“آپ نہیں چاہتے میں جائوں ۔۔”
فضاء کو اس کی پیشانی کے بل نے ڈرانے یا تلملانے کی جگہ مسکرانے پر مجبور کردیا تھا ۔۔
جب ہی کھنکتی آواز میں پوچھنے لگی ۔۔
انداز میں ایک ناز تھا ۔۔
“اگر میں کہوں ہاں تو ۔۔؟”
شاہان کو اس کی یہ اتراہٹ اچھی لگی تھی ۔۔
پیشانی کا بل غائب ہوگیا تھا اور لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی ۔۔
“تو میں تب بھی جائوں گی ۔۔”
عادتاً پورے دانت نکال کر کہا گیا ۔۔
“پھر پوچھنے کی وجہ ۔۔؟”
فضاء کے موتیوں کی قطار جیسے دانتوں پر گہری نظر ڈال کر شاہان نے دائیں ابرو ٹھاتے ہوئے پوچھا ۔۔
“ایسے ہی ۔۔
سن کر خوشی ہوئی ۔۔
ہاہاہاہاہا ۔۔”
وہ آخر میں عادتاً ایک طرف کو جھکتے ہوئے ہنسی تھی ۔۔
“بیوقوف لڑکی تم دلہن ہو ۔۔”
شاہان کی ڈپٹ میں غصے کا شائبہ تک نہ تھا ۔۔
“تو کیا ہوا ۔۔
ولیمے کی دلہن ہوں ۔۔
ہمارے ہاں ایسے ہی ہوتا ہے ۔۔
شادی پر دلہن کے آنسو نہیں رکتے ۔۔
اور ولیمے پر ہنسی کو بریک نہیں لگتے ۔۔
بلکہ آج کل کی دلہنیں تو ڈانس بھی کرتی ہیں ۔۔
آپ کو کیا پتہ ۔۔”
“تم بھی تو آج کل کی دلہن ہو ۔۔
پھر ڈانس کیوں نہیں کرتیں ۔۔؟”
شاہان کے ذہن میں نہ جانے کیا چل رہا تھا ۔۔
فضاء گھبرا گئی ۔۔
“بھئی میں ایک پیور مشرقی دلہن ہوں ۔۔
اتنا زیادہ بھی اب ۔۔”
فضاء کی بات ادھوری رہ گئی کیونکہ شاہان اس کے ہاتھ پر ہلکا سا دبائو ڈال کر چیلنج کرتی نظروں سے دیکھتے ہوئے اسٹیج سے نیچے اتر گیا تھا ۔۔
فضاء ہونق سی بیٹھی رہ گئی تھی جب اچانک ہال میں اندھیرہ چھا گیا ۔۔
اور ایک تیز روشنی کی موٹی سی دھاری اسٹیج کے عین سامنے ہال کے آخری سرے پر کھڑے شاہان کے وجود کو منور کر رہی تھی ۔۔
ہال میں شرکت کے وقت بھی سب کچھ ایسے ہی اندھیرے میں ڈوبا تھا اور شاہان اور اس کے پہلو میں کھڑی فضاء اس روشنی کی ضد میں تھے ۔۔
لیکن اُس وقت کی بات اور تھی ۔۔
اِس وقت شاہان کے ارادے اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر رہے تھے ۔۔
انگلیاں چٹخاتے ہوئے فضاء پہلو میں بیٹھی شزا کی شیریر سرگوشیاں سنتے ہوئے اور بھی زیادہ نروس ہو رہی تھی ۔۔
شاہان چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے نزدیک پہنچ گیا اور پھر جھک کر اس کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلا دیا ۔۔
اب ظاہر تھا فضاء اتنے لوگوں کی موجودگی میں شاہان کا ہاتھ جھٹک نہیں سکتی تھی ۔۔
سو ناچار شاہان کی ہتھیلی پر اپنا چھوٹا سا حنائی ہاتھ رکھ کے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔
بیک گرائونڈ میں کون سا گانا چل رہا تھا ۔۔
فضاء نے اس پر دھیان نہیں دیا تھا ۔۔
وہ بس گھبرائی گھبرائی سی روشنی کی شدت کی وجہ سے پلکیں جھپک جھپک کر اِدھر اُدھر دیکھے جا رہی تھی ۔۔
“تم میری طرف کیوں نہیں دیکھ رہیں ۔۔؟”
شاہان اس کے کان کے قریب منہ کر کے خفگی سے گویا ہوا ۔۔
“جتنا شوخاپن ہم کر رہے ہیں اتنا کافی ہے سرتاج ۔۔
آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر میں مزید ڈرامہ نہیں بنانا چاہتی ۔۔
میرے تایا پھپھا ماموں خالو سب یہیں ہیں ۔۔
اف اف اف ۔۔
کیا سوچ رہے ہوں گے وہ سب ۔۔
میں سب کے فیشل ایکسپریشنز امیجن کر سکتی ہوں ۔۔
میری بینش پھپھو تو اس وقت گال پیٹ رہی ہونگی باقاعدہ ۔۔
ہائے اللہ ۔۔”
تصور کی آنکھ سے سب کے تاثرات دیکھتی فضاء سچ مچ شرمندہ ہوگئی ۔۔
شاہان اسے گھور کر رہ گیا ۔۔
“تم ایسے موقعے پر اپنے ان بیکار ریلٹوز کے بارے میں کیسے سوچ سکتی ہو فضاء ۔۔؟
میں کہتا ہوں میری طرف دیکھو ۔۔”
شاہان کی آواز میں بڑھتی خفگی محسوس کر کے فضاء نے سر اٹھایا تھا لیکن پھر اگلے ہی پل جھکا بھی دیا ۔۔
“ایک تو آپ لمبے بہت ہیں ۔۔
میرا چہرہ اتنا اوپر نہیں اٹھ رہا ۔۔
قسم سے بہت تیز روشنی ہے ۔۔”
روشنی اتنی بھی تیز نہیں تھی جتنی فضاء کو اپنی گھبراہٹ میں محسوس ہو رہی تھی ۔۔
شاہان کو جیسے اس کی حالت پر ترس آگیا تھا ۔۔
سر اٹھا کر شاہان نے قریب ہی کھڑے ویٹر کو کوئی اشارہ دیا تھا ۔۔
ویٹر سر ہلاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا ۔۔
اور کچھ لمحوں بعد روشنیاں جل اٹھی تھیں اور گانا بند ہوگیا تھا ۔۔
فضاء دل میں شکر ادا کرتی جیسے ہی شاہان سے کچھ دور ہوئی ۔۔
تالیوں اور سیٹیوں نے اس کے دل کی دھڑکن روک دی ۔۔
اصل حیرت اسے اپنے دیسی رشتے داروں کے شور و غل پر ہوئی تھی ۔۔
بینش پھپھو منہ کے اطراف ہاتھ رکھے “اوہوو” کرتی پائی گئی تھیں ۔۔
حیا اور خوشی سے فضاء کا چہرہ لال پڑ گیا تھا ۔۔
سنہرے دیدہ زیب لباس میں سرخی مائل سفید ہنستا ہوا چہرہ نظر لگ جانے کی حد تک پیارا لگ رہا تھا ۔۔
شاہان کی مسکان سمٹتی چلی گئی اور وہ کسی طلسم میں گھرا ایک ٹک فضاء کو دیکھے گیا ۔۔
ہنستی ہوئی فضاء نے جب شاہان کی نظریں خود پر جمی محسوس کیں تب پہلے تو شرما گئی پھر یونہی ہنستے ہوئے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر اس کے بازو سے ٹکا دیا ۔۔
شاہان لب بھینچے نافہم سے تاثرات کے ساتھ فضاء کے سجے سنورے سراپے کو دیکھے چلا جا رہا تھا ۔۔
وہ لوگ اسٹیج کی طرف واپس جا رہے تھے ۔۔
سب ہنس رہے تھے ۔۔
خوشی سے نعرے لگا رہے تھے ۔۔
فضاء مسکرا رہی تھی ۔۔
ساتھ شرما بھی رہی تھی ۔۔
اور شاہان ۔۔؟
اس کی آنکھوں میں نمی سی اتر آئی تھی ۔۔
وہ دل کے آگے سر نہ جھکا دیتا ۔۔
پلاننگ کے مطابق فضاء کو اس ہی جنت نظیر وادی کے جہنم میں چھوڑ آتا تو ۔۔؟
“تو ۔۔؟”
اس احساس کے ہوتے ہی شاہان کے رگ و پے میں سرد لہر دوڑ گئی ۔۔
جہاتھ پائوں ٹھنڈے پڑ گئے تھے ۔۔
اور پھر وہ دوبارہ مسکرا نہیں سکا تھا ۔۔
یہاں تک کہ فضاء عظمی بیگم کے ساتھ اپنے گھر چلی گئی تھی ۔۔
اور وہ خود خالی خالی سا یامین گردیزی کے ساتھ گردیزی ولا چلا آیا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی اور نے اس کا اچانک سنجیدہ ہوجانا محسوس کیا تھا یا نہیں کیا تھا ۔۔
یامین گردیزی نے اچھی طرح کر لیا تھا ۔۔
لیکن سفر کے دوران انہوں نے کچھ نہیں پوچھا تھا ۔۔
مگر گردیزی ولا پہنچتے کے ساتھ ہی شاہان کو مخاطب کر بیٹھے تھے ۔۔
بہت سارے مسائل نے فضاء کی آمد کے ساتھ ہی سر اٹھا لیا تھا جس کا وہ شاہان کے ساتھ مل کر حل نکالنا چاہتے تھے ۔۔
لیکن اس وقت شاہان کا موڈ شدید آف تھا ۔۔
وہ کسی بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔
“صبح بات کریں گے ۔۔”
کچھ تلخی سے کہتے ہوئے شاہان سیڑھیوں کی طرف بڑھا تھا ۔۔
جب یامین گردیزی نے پھر سے پکارا تھا ۔۔
“لیکن شاہان مجھے تم سے ۔۔”
“میں نے کہا نا صبح بات کریں گے ۔۔
اس وقت میرا کسی بارے میں بات کرنے کا دل نہیں چاہ رہا ۔۔
گڈ نائٹ ۔۔”
بھنا کر کہتا وہ دھپ دھپ سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا اور پیچھے یامین گردیزی تشویش بھری نظروں سے اسے جاتا دیکھتے رہ گئے ۔۔
“اب اسے کیا ہوگیا ہے ۔۔”
زیر لب بڑبڑاتے ہوئے یامین گردیزی بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم پیاری ہو لیکن شاہان بھائی تم سے زیادہ پیارے ہیں ۔۔”
فضاء شزا کے ساتھ چھت پر ایک ہی پلنگ پر ٹانگیں لٹکائے لیٹی باتیں کر رہی تھی جب شزا اچانک بولی تھی ۔۔
“سو تو ہیں ۔۔”
پرانے زمانے کی ہیروئینوں کی طرح فضاء نے اپنے دوپٹے کا کونا انگلی پر مروڑتے ہوئے کہا ۔۔
“اور شادی کے دن وہ جتنے روڈ ہو رہے تھے ۔۔
سیریسلی ۔۔
امی اور میں بہت پریشان بھی ہوگئے تھے ۔۔
لیکن آج دل بہت ہلکا پھلکا ہوگیا ہے ۔۔
میں تمہارے لیئے بہت خوش ہوں سچی ۔۔”
شزا کا لہجہ بہن کی محبت سے پر تھا ۔۔
“میں بھی تمہارے لیئے خوش ہونا چاہتی ہوں ۔۔”
اپنی جھینپ مٹانے کے لیئے فضاء نے اسے بیچ میں گھسیٹ لیا ۔۔
“اوہ پلیز ۔۔
ابھی بہت وقت ہے ۔۔
ویسے بھی میں نے کبھی کسی پرنس چارمنگ کے سپنے نہیں سجائے ۔۔
میں زندگی میں جو بھی حاصل کرنا چاہتی ہوں ۔۔
اپنے بل بوتے پر حاصل کرنا چاہتی ہوں ۔۔
خوشی بھی ۔۔!”
شزا کا لہجہ گمبھیر ہوگیا تھا ۔۔
“تو کیا مطلب تم کبھی شادی نہیں کروگی ۔۔؟”
فضاء کے ذہن میں جتنی بات سما سکتی تھی سما گئی ۔۔
“کروں گی کروں گی ضرور کروں گی ۔۔
شادی تو نصف ایمان ہے ۔۔
لیکن کسی شہزادے کا انتظار نہیں کروں گی ۔۔
جیسے تم کیا کرتی تھیں ۔۔”
“شٹ آپ ۔۔”
فضاء شزا کی بات کے درمیان جھینپ کر بڑبڑائی تھی ۔۔
“کہ کوئی شہزادہ آئے گا اور تمہیں اس کچی پکی گلیوں سے نکال کر اپنے محل لے جائے گا ۔۔
میں خود اپنا محل بنائوں گی ۔۔
پھر ایک محل سے دوسرے محل جائوں گی ۔۔
سمجھی ۔۔؟”
شزا نے پہلی بار اپنے ارادے اس پر آشکار کیئے تھے ۔۔
فضاء دل میں اس کی کامیابی کی دعائیں کرتے ہوئے کچھ کچھ حیران سی اسے سن رہی تھی ۔۔
“حیران ہو رہی ہو میرے ارادوں پر ۔۔؟”
شزا فضاء کے تاثرات دیکھ کر پوچھنے لگی ۔۔
“ہاں ۔۔
کافی زیادہ ۔۔”
“میں بچپن سے یہ سب سوچا کرتی تھی فضاء ۔۔
لیکن کبھی اظہار اس لیئے نہیں کیا کیونکہ مجھے لگتا تھا سننے والے مجھ پر ہنسیں گے ۔۔
جیسے میں تمہارے خیالات سن کر تم پر ہنستی تھی ۔۔
کہ جن کے گھر کے دائیں بائیں اور سامنے گٹر کھلے ہوں ۔۔
جنہیں ایک وقت کھانا نصیب ہوتا تو دوسرے وقت کھانے کی گارنٹی تک نہ ہوتی ۔۔
وہ محلوں کی باتیں کرتے عجیب لگتے ہیں ۔۔
لیکن جب تمہارے خوابوں کو حقیقت ہوتے دیکھا تو امید کی ایک کرن پھر دل میں جاگی ہے ۔۔
ناممکن کچھ بھی نہیں ۔۔
ایک حوصلہ ہوا ہے ۔۔”
چاند پر نظریں جمائے شزا خوابناک لہجے میں بولتی چلی جا رہی تھی ۔۔
اور فضاء پلکیں جھپکے بغیر اسے سنتی جا رہی تھی ۔۔
جب سائڈ پر رکھے فون کی چنگھاڑ نے دونوں کو ہوش کی دنیا میں لا پٹخا تھا ۔۔
یہ فون اسے شاہان نے کل ہی تو لا کر دیا تھا ۔۔
اس کا نمبر بھی فلحال شاہان کے سوا کسی اور کے پاس نہیں تھا ۔۔
تو کال یقیناً شاہان کی ہی تھی ۔۔
مسکراتے ہوئے فضاء نے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا لیکن فضاء کے فون اٹھانے سے پہلے ہی شزا نے جھپٹ کر اٹھا لیا تھا ۔۔
ساتھ ہی ایک زبردست سی گھوری فضاء پر بھی ڈالی تھی ۔۔
جواباً وہ ہونٹ لٹکا کر رہ گئی ۔۔
مسکراہٹ دباتے ہوئے جب شزا نے کل ریسیو کی تب دوسری طرف سے شاہان کی مدھم آواز ابھری تھی ۔۔
“سو رہی تھیں ۔۔؟”
“جی ۔۔”
گلا کھنکھار کر شزا نے آواز کچھ بدلی تھی ۔۔
دوسری طرف کچھ لمحوں کی خاموشی چھا گئی پھر شاہان کی سخت ناگواری میں ڈوبی آواز گونجی ۔۔
“مجھے یہ مذاق پسند نہیں ۔۔
فون فضاء کو دو ۔۔”
“ہائو روڈ ۔۔”
منہ بنا کر بڑبڑاتے ہوئے فون فضاء کو تھما کر شزا فضاء کو یوں گھورنے لگی جیسے اس میں فضاء کا کوئی قصور ہو ۔۔
فضاء بیچاری سمجھی نہ سمجھی میں گھری بےوجہ شرمندہ ہوتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی ۔۔
اور شزا سوچنے لگی ۔۔
“شاہان بھائی کا بدلائو شائد صرف فضاء کے لیئے ہے ۔۔
چلو خیر ہے ۔۔
وہ فضاء پر مہربان رہیں ۔۔
اس کے سوا ہمیں اور چاہیے بھی کیا ۔۔”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: