Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 9

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – قسط نمبر 9

–**–**–

“سر ۔۔
یامین سر ۔۔
سر آپ کے خاص گیسٹ آئے ہیں ۔۔
سر ۔۔
یامین سر بختیار میمن آئے ہیں ۔۔
سر بختیار میمن آئے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں ۔۔”
یامین گردیزی گہری نیند سو رہے تھے اور ان کے سرہانے کھڑا باوردی ملازم عاجز سا انہیں اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔
لیکن وہ بس نیند میں “اونہوں” کر کے رہ جاتے ۔۔
ملازم بےبس سا کمر پر ہاتھ ٹکا کر انہیں گھورنے لگا ۔۔
پھر حلق تر کر کے ہمت کرتے ہوئے ان کا شانہ ہلانے کی جسارت کر ڈالی ۔۔
یامین گردیزی نے سرخ آنکھیں کھول کر جب اسے گھورا تب وہ سپرنگ کی طرح اچھل کر پیچھے ہوگیا اور ایک ہی سانس میں انہیں بختیار میمن کے آنے کی اطلاع دی ۔۔
“کس کا اختیار آیا ہے ۔۔”
یامین گردیزی اب بھی نیند میں تھے ۔۔
جب ہی ملازم کی بات سمجھ نہیں سکے تھے ۔۔
“سر کسی کا اختیار نہیں بختیار میمن آئے ہیں ۔۔
آپ کے خاص والے مہمان ۔۔
نیچے آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔۔”
“ارے تو شاہان کو بولو یار ۔۔
میری نیند کیوں خراب کر رہے ہو ۔۔؟”
یامین گردیزی کروٹ بدل کر بڑبڑائے ۔۔
“شاہان سر گھر میں موجود نہیں ہیں ۔۔”
ملازم دانت کچکچا کر مسکراتے ہوئے ادب سے بولا ۔۔
اس وقت وہ خود کو دنیا کا سب سے بیچارہ شخص محسوس کر رہا تھا ۔۔
یامین گردیزی کچھ پل یونہی ان سنی کیئے لیٹے رہے پھر بیزاری سے کمبل سائڈ پھینک کر اٹھ بیٹھے ۔۔
“بختیار کو چائے پانی پیش کرو ۔۔
میں آتا ہوں ۔۔”
“یس سر ۔۔”
ملازم دل میں شکر بجا لاتا کمرے سے باہر نکل گیا پیچھے یامین گردیزی بھی اس بات کا شکر ادا کرتے کہ فضاء اور شاہان گھر میں موجود نہیں ۔۔
باتھروم میں گھس گئے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تہہ خانے کے بیچ کھڑے وہ دونوں اپنی شیطانی نظروں کو پورے کمرے میں گھما رہے تھے ۔۔
سلاخوں کے پیچھے بیٹھا وہ لٹا پٹا حسن خوفزدہ نظروں سے ان شکاریوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔
اس ذلت کی عادت ہوجانے کے باوجود ان نادان لڑکیوں کے دلوں سے خوف نہیں جاتا تھا ۔۔
ہاں وہ اپنے پیاروں کی عزت کو پیروں تلے روندتی اس شہزادے کے پیچھے یہاں تک چلی آئی تھیں ۔۔
لیکن ان کی رگوں میں دوڑنے والا خون تو عزت داران کا تھا نا ۔۔
جو اب بھی یہ سب قبول نہیں کر پا رہا تھا ۔۔!
“تو پھر بختیار صاحب ۔۔
کوئی دل کو لگی ۔۔؟”
یامین گردیزی بائیں آنکھ دبا کر کمینگی سے پوچھنے لگے ۔۔
“جو دل کو لگی تھی وہ تو نہ جانے اب کہاں ہے ۔۔”
بختیار میمن ٹھنڈی سانس بھر کر بولا ۔۔
اس کا اشارہ فضاء کی طرف تھا جس کے بارے میں یامین گردیزی نے کوئی الٹا سیدھا بہانہ بنا دیا تھا ۔۔
“ویسے یہ لڑکی کافی خوبصورت ہے ۔۔”
پچھلی بار جب میں آیا تھا تب سے میری نظروں میں بسی ہوئی ہے ۔۔”
بختیار میمن کے اشارے پر یامین گردیزی نے جھٹ آگے بڑھ کر اس جیل کا لاک کھولا تھا ۔۔
اور پھر اس لڑکی کی چیخیں ان سنی کرتے ہوئے اسے بختیار میمن کی طرف دھکیل دیا ۔۔
انداز ایسا تھا جیسے ضبع کرنے کے لیئے دڑبے سے مرغی نکالی ہو ۔۔
بختیار میمن اس لڑکی کو گھسیٹے ہوئے اس کمرے کی طرف بڑھ گیا جو جیلوں کے آخر میں بنا ہوا تھا ۔۔
وہ بڑا سا ہال نما کمرہ ہر قسم کی آسائشات سے پر تھا ۔۔
یامین گردیزی اپنی ہلکی ہلکی داڑھی کھجاتے ہوئے باقی نیند لینے اپنے کمرے کی طرف چل دیئے ۔۔
کیونکہ ان کی نیند اب بھی پوری نہیں ہوئی تھی ۔۔
اور بختیار میمن اب نہ جانے کب باہر آتا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“فضاء ۔۔
فضاء اٹھو ۔۔
گھر آگیا ہے ۔۔”
فضاء جو سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے سو رہی تھی شاہان کی پکار پر ذرا سی آنکھیں کھول کر اسے نہ سمجھی سے دیکھنے لگی ۔۔
“اٹھ جائو گھر آگیا ہے ۔۔”
شاہان ذرا آگے کو جھک کر اس کے چہرے کے آگے چٹکیاں بجاتے ہوئے بولا ۔۔
“تو گاڑی اندر لے چلیں نا ۔۔”
وہ غنودگی میں بڑبڑائی ۔۔
شاہان نے گاڑی گیٹ کے باہر جو کھڑی کی تھی ۔۔
“مجھے کچھ ضروری کام ہے ۔۔
ابھی آفس سے فون آیا تھا ۔۔
بس ایک گھنٹہ لگے گا ۔۔”
وہ رسان سے سمجھانے لگا ۔۔
چوکیدار گیٹ کھولے ان کا منتظر تھا ۔۔
“پھر مجھے کیوں اتنی جلدی لائے آپ ۔۔
امی کے گھر ہی رہنے دیتے ۔۔”
فضاء بڑبڑاتی ہوئی گاڑی سے اترنے لگی ۔۔
“وہاں رہنے دیتا تو ابھی تم سے یہ نہ کہہ سکتا کہ “اچھی سی تیار رہنا ۔۔”
شاہان مسکراہٹ دبا کر کہتا فضاء کے چہرے پر چھاتی ہوئی سرخی پر گہری نظر ڈال کر گاڑی بھگاتا لے گیا جبکہ فضاء ہینڈ بیگ جھلاتی اندر کی طرف بڑھ گئی ۔۔
اس کے چہرے پر ایک آسودہ سی مسکان تھی ۔۔
جس نے اس کے پیارے سے چہرے کو اور پیارا بنا دیا تھا ۔۔
آنکھیں ملتے ہوئے جب فضاء سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔
تب اس کی نظریں ایک ادھ کھلے دروازے پر جم سی گئی تھیں ۔۔
فضاء کو یاد آیا وہ جب سے گردیزی ولا میں تھی ۔۔
اس دروازے کو بند ہی پایا تھا ۔۔
تحجس بڑی بری چیز ہے ۔۔
وہ بھی اسی تحجس کے ہاتھوں مجبور اس دروازے کی طرف بڑھ گئی تھی ۔۔
“اوہ ۔۔
یہ تو اسٹور روم لگتا ہے ۔۔
ہمارے گھر میں بھی اتنا قیمتی سامان نہیں ہوگا جتنا ان کے اسٹور روم میں پڑا ہے ۔۔”
مسکرا کر سوچتے ہوئے فضاء پلٹنے لگی تھی جب اس کی نظریں اس دروازے پر پڑ گئیں جو زمین پر بنا ہوا تھا ۔۔
“وائو ۔۔
تہہ خانہ
اب یہاں کیا ہو سکتا ہے ۔۔”
بڑبڑاتے ہوئے اس نے بھاری بھرکم دروازہ بمشکل لیکن کھول ہی لیا تھا ۔۔
نیم اندھیرے میں نیچے جاتی سیڑھیاں دیکھ کر ایک پل کو اس کا دل رکا تھا ۔۔
لیکن پھر وہی تحجس ۔۔!
سو اللہ کا نام لے کر وہ سنبھل سنبھل کر سیڑھیاں اترنے لگی ۔۔
فضاء کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا تھا ۔۔
انسانی آواز کی بھنبھناہٹیں بہت واضع سنائی دے رہی تھیں ۔۔
آخری سیڑھی پر رک کر اس نے دیوار کے عقب سے جھانک کر دیکھا تھا ۔۔
اور وہاں کا منظر اس کے ہوش اڑا گیا تھا ۔۔
سلاخوں کے پیچھے لیٹی بیٹھی ٹہلتی ہوئی چہرے پر موت کی سی ویرانی رکھنے والی وہ لڑکیاں نہ جانے کون تھیں ۔۔؟
اتنی بڑی تعداد میں ۔۔
اور یہ شاہان کے گھر کے تہہ خانے میں کیا کر رہی تھیں ۔۔؟
کس جرم کی سزا کاٹ رہی تھیں ۔۔؟
ڈھیروں سوال دل میں لیئے فضاء وہ آخری سیڑھی بھی اتر کر ان جیلوں کے درمیان میں جا کھڑی ہوئی ۔۔
باتیں کرتے منہ بند اچانک بند ہوگئے تھے ۔۔
وہاں اب بلکل سناٹا تھا ۔۔
طوفان کے آنے سے پہلے کا سناٹا ۔۔
وہ سب لڑکیاں حیرت زدہ سی فضاء کو دیکھ رہی تھیں اور فضاء انہیں ۔۔
“یہ لڑکی کون ہے ۔۔؟”
فضاء کو کسی کی سرگوشیانہ آواز سنائی دی ۔۔
لیکن اتنے لوگوں میں سے یہ آواز کس کی تھی فضاء فیصلہ نہیں کر پائی ۔۔
“ہو گی شاہان صاحب کا نیا شکار بیچاری ۔۔”
ایک اور ترس میں ڈوبی آواز گونجی تھی ۔۔
“مجھے لگتا ہے یہ شاہان اور اس کے بڈھے چاچا کی ساتھی ہے ۔۔
اس کا شاہانہ حلیہ تو دیکھو ۔۔”
کہیں دور سے زہریلی طنزیہ آواز ابھری ۔۔
فضاء ٹکر ٹکر بس ان کو دیکھے جا رہی تھی ۔۔
وہ کیا بولے کیا پوچھے کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی بس غائب دماغی کی حالت میں انہیں تکے جا رہی تھی ۔۔
جب ٹھک کی آواز پر اپنی جگہ کھڑی کھڑے اچھل پڑی ۔۔
سامنے کا دروازہ جو اندھیرے میں ہونے کے باعث فوراً نظر نہیں آتا تھا ۔۔
وہ دروازہ کھول کر کوئی موٹا سا سرخ و سفید شخص باہر آیا تھا ۔۔
لیکن وہ کون تھا اور اس کمرے میں کیا تھا ۔۔؟
کچھ اور سوالوں نے فضاء کے ذہن میں جگہ بنائی تھی ۔۔
جبکہ بختیار میمن ٹکر ٹکر اسے دیکھے چلا جا رہا تھا ۔۔
جس کے عین سر پر زرد بلب جھول رہا تھا ۔۔
جس کی وجہ سے خوبصورت چہرے پر چھایا خوف و ہراس اتنی دور سے بھی واضع نظر آ رہا تھا ۔۔
“فضاء ۔۔
تم فضاء ہو نا ۔۔
مجھے یہی امید تھی یامین سے ۔۔
سرپرائز دینا چاہتا ہوگا مجھے ۔۔”
اپنی ترنگ میں بڑبڑاتا ہوا بختیار میمن فضاء کی طرف بڑھا تھا جبکہ فضاء کا خوف سے رنگ زرد پڑ گیا تھا ۔۔
بختیار میمن کی نظروں کی شیطانی چمک فضا نے دور سے ہی دیکھ لی تھی ۔۔
وہ الٹے قدموں پیچھے ہوتی اگلے ہی پل وہاں سے سرپٹ بھاگ نکلی تھی ۔۔
پیچھے بختیار میمن بےہودہ جملے کستا اس کے پیچھے ہی دوڑ پڑا تھا ۔۔
سیڑھیوں پر لہراتا فضاء کا دوپٹہ پکڑ کر بختیار میمن نے زور سے کھینچا تھا لیکن فضاء بروقت سنبھل کر دوپٹہ وہیں چھوڑتی آگے بھاگتی چلی گئی تھی ۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اسٹور روم سے باہر نکلتی بختیار میمن نے اسے جا لیا تھا ۔۔
“مجھے پہلے ہی پتہ تھا ۔۔
شاہان کے لیئے کوئی مشکل نہیں کسی چڑیا کو جال میں پھانسنا ۔۔”
بختیار میمن اسے واپس تہہ خانے کی سیڑھیوں کی طرف کھینچتے ہوئے بولا تھا ۔۔
صرف یہی نہیں ۔۔
اور بھی بہت سی ایسی باتیں تھیں جو فضاء کو شاہان اور یامین گردیزی کا شروع شروع کا رویئہ سمجھا گئی تھیں ۔۔
تہہ خانے کے بھی بہت سے راز وہ اپنی خوشی میں فاش کرتا چلا جا رہا تھا ۔۔
جب شور سن کر ایک ملازم وہاں دوڑا چلا آیا تھا اور اسٹور روم کا منظر دیکھ کر بری طرح گڑبڑا گیا تھا ۔۔
فضاء کی اہمیت کا اندازہ تو اسے بھی ہو چکا تھا ۔۔
لیکن دوسری طرف بختیار میمن تھا جو شاہان اور یامین گردیزی کے بہترین ساتھیوں میں سے ایک تھا ۔۔
گھبرایا گھبرایا وہ یامین گردیزی کے کمرے کی طرف دوڑ پڑا ۔۔
جو اپنے سائونڈ پروف کمرے میں مزے سے سوئے پڑے تھے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہان جو ایک ضروری فائل گھر بھول گیا تھا ۔۔
گردیزی ولا واپس لوٹ آیا تھا ۔۔
لیکن گھر پہنچتے کے ساتھ ہی کچھ غیر ضروری ہلچل محسوس کر کے وہ تیزی سے ہال میں داخل ہوا تھا ۔۔
اسٹور روم کا کھلا دروازہ اور اندر سے آتی فضاء کی چیخ و پکار پر وہ پوری رفتار سے اسٹور روم کی طرف بھاگا تھا ۔۔
سامنے کا منظر اسے ایک پل کو ساکن کر گیا تھا لیکن اگلے ہی پل وہ سرخ انگارہ آنکھیں لیئے بختیار میمن پر پل پڑا تھا ۔۔
وہ بختیار میمن کو مار نہیں رہا تھا ۔۔
بلکہ اٹھا اٹھا کر پٹخ رہا تھا ۔۔
کبھی دیوار پر ۔۔
کبھی کسی ٹیبل پر ۔۔
کبھی الماری پر ۔۔
بختیار میمن اپبی صفائیاں دینے کی کوشش میں ہلکان تھا لیکن شاہان اسے کچھ بھی بولنے نہیں دے رہا تھا ۔۔
اس پر تو گویا جنون سوار تھا ۔۔
فضاء الٹے قدموں پیچھے ہوتی اسٹور روم سے نکلنے کے لیئے جیسے ہی پلٹی دروازے پر کھڑے یامین گردیزی کو دیکھ کر خوفزدہ سی پیچھے ہوتی ہوئی کسی کرسی سے ٹکرا کر اس پر ہی سکڑ سمٹ کر بیٹھ گئی ۔۔
صرف بختیار میمن سے ہی نہیں ۔۔
اس وقت اسے یامین گردیزی اور شاہان سے بھی خوف آ رہا تھا ۔۔
وہ جتنا کچھ دیکھ چکی تھی ۔۔
جان چکی تھی ۔۔
ڈر تو اسے لگنا ہی تھا ۔۔
اچانک وہاں فضاء کی دلخراش چیخ گونجی تھی ۔۔
پھر وہ ہذیانی انداز میں مسلسل چیخنے لگی ۔۔
کیونکہ بختیار میمن نے اپنے بچائو کے لیئے جیب سے پستول نکالا تھا لیکن شاہان نے اس کی پستول چھین کر اس کے عین سر پر شوٹ کر دیا تھا ۔۔
اور پھر بختیار میمن کی ہی جیب سے جھانکتے چاقو کو نکال کر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا ۔۔
“چپ کر جائو ۔۔
بلکل چپ کرجائو ۔۔”
اچانک وہ رخ ذرا موڑ کر چیختی چلاتی فضاء پر دہاڑا تھا جس نے فوراً اپنے منہ کو دونوں ہاتھوں سے ڈھک لیا تھا ۔۔
اس وقت شاہان کہیں سے بھی نارمل نہیں لگ رہا تھا ۔۔
جو منظر وہ دیکھ چکا تھا ۔۔
اس نے شاہان کے حواس گم کر دیئے تھے ۔۔
حواس تو دروازے پر ساکت کھڑے یامین گردیزی کے بھی گم ہو چکے تھے ۔۔
ان کے لیئے یقین کرنا مشکل تھا کہ شاہان نے اپنے ایک پرانے ساتھی کی اس بےدردی سے جان لے لی تھی صرف ایک لڑکی کی وجہ سے ۔۔!
ان کی پھٹی پھٹی خوفزدہ نظریں فضاء کی طرف اٹھیں جو کرسی پر سکڑ کر بیٹھی گھٹی گھٹی سسکیاں لے رہی تھی ۔۔
چیخنے پر تو شاہان پابندی لگا چکا تھا ۔۔
کبھی وہ ہاتھوں سے اپنے منہ کو بند کرتی تو کبھی کانوں کو ڈھانپ لیتی ۔۔
اس وقت وہ جس ذہنی اذیت کا شکار تھی یہ وہ ہی جانتی تھی ۔۔
اسے حیرت ہو رہی تھی خود پر کہ وہ اب تک زندہ کیسے ہے ۔۔
اس کا دل یا دماغ پھٹ کیوں نہیں گیا ۔۔
اسٹور روم میں رکھی ہر چیز بکھر کر اِدھر اُدھر لڑھک رہی تھی ۔۔
پھر بھی شاہان کا جنون کم ہونے میں نہیں آ رہا تھا ۔۔
بختیار کی سانسیں تو کب کی پوری ہوچکی تھیں ۔۔
اس کی بے نور آنکھیں کھلی ہوئی تھیں جبکہ چہرہ ایک طرف کو لڑھکا ہوا تھا پھر بھی شاہان کا چاقو والا ہاتھ مشینی انداز میں بختیار کے وجود میں اتر کر باہر آ رہا تھا ۔۔
بختیار ہی نہیں شاہان خود بھی اس کے خون میں بھیگ چکا تھا ۔۔
فضاء اس قدر خوفزدہ ہو چکی تھی شاہان کا یہ روپ دیکھ کر کہ اب اس میں شاہان کو روکنے کی ہمت بھی نہیں رہی تھی ۔۔
اچانک شاہان کا ہاتھ رکا اور وہ جھٹکے سے اس کی طرف مڑا ۔۔
“تم ٹھیک ہو ۔۔؟”
فضاء اس سوال کا کیا جواب دیتی ۔۔
ہاں یہ سچ تھا کہ اس کی عزت محفوظ تھی ۔۔
لیکن کیا وہ واقعی “ٹھیک” تھی ۔۔؟
فضاء کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر شاہان نے پیشانی پر اپنا مخصوص بل سجا کر بغور اسے دیکھا ۔۔
کرسی پر سکڑ کر بیٹھی وہ اب سکتے میں لگ رہی تھی ۔۔
اور نظریں بختیار میمن کے خونم خون بے جان چہرے پر ٹکی تھیں ۔۔
جس کا رخ فضاء کی طرف ہی تھا ۔۔
اٹھ کر شاہان نے پہلے تو بوٹ سے بختیار میمن کا چہرہ دوسری طرف گھمایا پھر آگے بڑھ کر جھک کر فضاء کو اپنے سینے میں بھینچ لیا ۔۔
آہستہ آہستہ اس کا سر تھپک کر وہ اسے حوصلہ دینے کے ساتھ ساتھ خود پر ضبط کرنے کی کوشش بھی کر رہا تھا ۔۔
کیونکہ بختیار میمن کی جان لے کر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا ۔۔
وہ اس شخص کی ہڈی پسلی ایک کر دینا چاہتا تھا ۔۔
اس کی بوٹی بوٹی کر کے کتوں کے اگے ڈالنا چاہتا تھا ۔۔
جس نے اس کی محبت ۔۔
اس کی عزت پر داغ لگانے کی کوشش کی تھی ۔۔
فضاء پرسکون ہوئی تھی یا نہیں ہوئی تھی لیکن شاہان کے ہوش کچھ سنبھل گئے تھے ۔۔
جب ہی وہ فضاء سے دور ہو کر یامین گردیزی کی طرف مڑا تھا جو اسے اپنی بڑھتا دیکھ کر دہل گئے تھے ۔۔
“آپ نے ۔۔
آپ نے بلوایا تھا اس خبیث کو یہاں ۔۔
آپ کی ہمت بھی کیسے ہوئی ۔۔
میری باتیں کیسے بھول گئے آپ ۔۔؟”
یامین گردیزی کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی تھی ۔۔
شاہان کے ہاتھ اور کپڑے ہی نہیں آنکھوں میں بھی خون رنگا ہوا تھا ۔۔
“بھلے سے ہمارے رشتے پر یقین نہ کرو ۔۔
لیکن ایک بزنس پارٹنر کے طور پر ہی بھروسہ کرلو یار ۔۔
تمہارا نقصان میرا نقصان ہے ۔۔
میں تم سے کل اس ہی بارے میں بات کرنا چاہتا تھا لیکن تم ۔۔”
“آپ مجھے بیچنا چاہتے ہیں ۔۔؟”
یامین گردیزی پسینے سے تر اپنی صفائی دینے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔
جب پیچھے سے آتی فضاء کی خوف میں ڈوبی آواز نے انہیں چپ ہونے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔
جبکہ شاہان تڑپ کر فضاء کی طرف گھوما تھا ۔۔
“ایسی بکواس کیسے کی تم نے ۔۔
کوئی بھی آ کر کچھ بھی بول دے گا تم یقین کللو گی ۔۔؟”
اپنی پیشانی سے بال پیچھے کر کے شاہان جبراً مسکرا کر بولا تھا ۔۔
ایسی حالت میں شاہان کی مسکان بلکل اچھا تاثر نہیں چھوڑ رہی تھی ۔۔
“اور تہہ خانے میں جو ہے کیا وہ بھی جھوٹ ہے ۔۔؟”
فضاء حلق کے بل چیخی تھی ۔۔
شاہان چپ کا چپ رہ گیا تھا ۔۔
اسے اندازہ ہوا تھا اس نے آنے میں دیر نہیں بلکہ بہت دیر کردی تھی ۔۔
“میری بات سنو فضاء ۔۔”
“میں اب سمجھ رہی ہوں آپ لوگوں کے رویئوں کو ۔۔
مجھے اب سب سمجھ آرہا ہے ۔۔
وہ گندی نظریں وہ گریز ۔۔
سب سمجھ آ رہا ہے مجھے ۔۔”
فضاء خوفزدہ سی بولتی پیچھے ہوتی جا رہی تھی ۔۔
شاہان مٹھیاں بھینچے بےبس سا اسے دیکھنے لگا ۔۔
لیکن اگلے ہی پل وہ ہوا تھا جو اس کی روح کھینچ گیا تھا ۔۔
فضاء جو بہت وحشت زدہ ہو رہی تھی ۔۔
جذبات میں اپنا چہرہ ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں مار بیٹھی تھی ۔۔
“جب میرا چہرہ نہیں رہے گا تو کیسے بیچیں گے آپ لوگ مجھے ۔۔”
یہ اس کے منہ سے نکلنے والے آخری الفاظ تھے ۔۔
شاہان نے اس کے گرنے سے پہلے ہی اسے سنبھال لیا تھا ۔۔
لیکن اسے تکلیف سے یوں تڑپتا دیکھنا دردناک عمل تھا ۔۔
“آپ اس الو کے پٹھے کی لاش سنبھالیں ۔۔
اور تم ڈرائیور کو بلائو ۔۔
کہو میری گاڑی سنبھالے ۔۔”
یامین گردیزی اور ان کے پیچھے کھڑے ملازم پر چیخ کر شاہان نے فضاء کو بازئوں میں اٹھا لیا تھا ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: