Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Last Episode 19

0
کیسی تیری پریت پیا از فلک کاظمی – آخری قسط نمبر 19

–**–**–

آنکھیں موندے وہ بظاہر تو سو رہی تھی ۔۔
لیکن کناروں سے نکلتے آنسوں اس کے رونے کی چغلی کھا رہے تھے ۔۔
شزا اس کے پہلو میں ہی سو رہی تھی ۔۔
سو وہ اپنی آہوں کا گلا بمشکل گھونٹ رہی تھی ۔۔
لیکن اکثر اس کا ضبط ختم ہوجاتا تھا ۔۔
کھل کر رونے کو دل کرلاتا تھا ۔۔
اس وقت بھی اس کے ساتھ یہی ہوا تھا ۔۔
سہرانے رکھا دوپٹا اٹھا کر آنکھیں اور چہراہ صاف کرتے ہوئے وہ بےآواز قدم اٹھاتی کمرے سے باہر نکل آئی ۔۔
ایک خالی خالی نگاہ اس کمرے پر ڈالی جہاں کبھی شاہان کے ساتھ روٹھا روٹھا مگر محبت بھرا وقت گزارا تھا ۔۔
اور ایک ایک سیڑھی رک رک کر اترتی بالآخر لائونج میں پہنچ گئی ۔۔
لائونج میں کھڑی وہ ویران نظروں سے نیم اندھیرے لائونج کو گھورنے لگی ۔۔
آنسئوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہوچکا تھا ۔۔
اور اس بار اس نے خود کو کھلی چھوٹ دی تھی رونے کی ۔۔
زمین پر گرنے کے انداز میں بیٹھ کر وہ ہاتھوں میں چھپا کر اپنے ہی غم میں رونے لگی ۔۔
اچانک اس نے چونک کر چہرہ ہاتھوں سے نکالا ۔۔
اپنے آس پاس بھیگی نظریں دوڑائیں ۔۔
یہ وہی جگہ تھی ۔۔
بلکل وہی جگہ تھی جہاں چار سال پہلے شاہان اس کا نیم جان وجود بانہوں میں لیئے پوری قوت سے چیختے ہوئے رو رہا تھا ۔۔
اس وقت وہ کوئی پاگل جنونی لگ رہا تھا ۔۔
فضاء کو اس وقت اپنا ہوش نہیں تھا ۔۔
لیکن شاہان کے رونے میں ایسی شدت تھی کہ فضاء کو بےہوشی میں بھی اس کا رونا بآسانی سنائی دے رہا تھا ۔۔
اس کے رونے میں چھپی فریاد اور شکستگی فضاء نے اچھی طرح محسوس کی تھی ۔۔
دھیرے دھیرے ہوش کی دنیا میں لوٹتے ہوئے شاہان کے سینے سے سر اٹھانے کی کوشش فضاء نے ضرور کی تھی ۔۔
لیکن سارا وجود جمود کا شکار تھا ۔۔
سو فضاء بس بھیگی ادھ کھلی نظریں غیر مرئی نقطے پر جمائے شاہان کی آہیں اور سسکیاں سنتی رہی ۔۔
اس کا دل چاہ رہا تھا شاہان کے سینے سے الگ ہوجائے ۔۔
اسے اپنا وجود تو گھنائونا لگ ہی رہا تھا ۔۔
ساتھ ہی شاہان کے وجود سے بھی گھن آ رہی تھی ۔۔
وہی تو تھا ۔۔
جس کے گناہوں کا گٹھڑا فضاء نے اپنے کاندھوں پر اٹھایا تھا ۔۔
اس سب کا قصور وار صرف اور صرف وہی تھا ۔۔
بہت کوشش کے باوجود فضاء خود میں اتنی ہمت جمع نہیں کر پائی کہ خود کو شاہان سے الگ کر لیتی ۔۔
اور یونہی شاہان کی بانہوں میں قید ۔۔
اسے معاف نہ کرنے کا عہد کرتے ہوئے وہ ہوش سے بیگانہ ہوگئی تھی ۔۔
۔
۔
۔
۔
۔
گہری سانس بھر کر فضاء ان اذیت ناک لمحات سے باہر نکلی اور زمین سے اٹھ کر مرے مرے قدم اٹھاتی چھوٹے سے خوش نما لان میں چلی آئی ۔۔
جہاں مختلف پھولوں کی خوشبو نے چاندنی میں بھیگے خنک ماحول کو اور فسوں خیز بنا رکھا تھا ۔۔
جھولے پر بیٹھ کر گردن پیچھے کی طرف لڑھکاتے ہوئے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک بار پھر سے ماضی کو سوچنے لگی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“السلام علیکم شاہان بھائی ۔۔”
کئی دنوں بعد شزا کی آواز سن کر فضاء کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔
روح پھڑپھڑا اٹھی تھی ۔۔
جو قیامت اس پر ٹوٹی تھی ۔۔
اس کے بعد وہ کسی اپنے کے سینے سے لگ کر دل ہلکا کرنا چاہتی تھی ۔۔
اس وقت اس کا دل چاہا شزا آئے اور اسے اپنے گلے سے لگا لے ۔۔
اس کٹھن وقت میں ۔۔
جبکہ جسم اور روح جل رہے تھے ۔۔
کسی اپنے کے خوش کن ٹھنڈے لمس کی کمی کا احساس اسے بہت بری طرح ستا رہا تھا ۔۔
اب بہن کی آواز سن کر جذبات میں آنکھیں بھل بھل بہہ نکلی تھیں ۔۔
“شزا یہاں آئو میرے پاس ۔۔
امی کو بھی بلائو ۔۔
مجھے تم لوگوں کی ضرورت ہے ۔۔
کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا میں کس حال میں ہوں ۔۔؟
یہاں آئو نا پلیز ۔۔
میرے گلے لگ جائو ۔۔
میں اندر ہی اندر جل گل کر مر جائوں گی ۔۔”
دل میں شزا کو مخاطب کرتے ہوئے فضاء کا دل چاہا کمبل سائڈ پھینکے اور اڑ کر بہن تک جا پہنچے ۔۔
جو شائد اس سے کافی فاصلے پر کھڑی تھی ۔۔
لیکن ہائے رے بےبسی ۔۔!
اس قیامت خیز رات کے بعد فضاء کی صرف حسیں جاگی تھیں ۔۔
وہ خود بظاہر سوئی رہتی تھی ۔۔
اسے زندہ مردہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔۔
وہ اندر ہی اندر سخت دل برداشتہ تھی ۔۔
جتنا فضاء شاہان سے دور ہونا چاہ رہی تھی ۔۔
قدرت اسے شاہان کے اتنا ہی قریب کر رہی تھی ۔۔
اس شب کو کتنا عرصہ بیت گیا تھا ۔۔
فضاء نہیں جانتی تھی ۔۔
لیکن وہ شاہان اور ڈاکٹرز کی باتیں سن کر سمجھ گئی تھی ۔۔
کہ وہ اب شائد ہی کبھی نارمل ہوسکے گی ۔۔
وہ اب صرف شاہان کے رحم و کرم پر تھی ۔۔
اسے کھلانا ۔۔
پلانا ۔۔
نہلانا ۔۔
ہر قسم کی ذمہ داری شاہان نے اپنے سر لے رکھی تھی ۔۔
اس کے سوئے وجود سے شاہان ڈھیروں لایعنی باتیں کرتا ۔۔
یہ جانے بغیر کہ فضاء جاگ رہی ہے یا نہیں ۔۔!
بعض اوقات جب ضبط ختم ہوتا تو شاہان بچوں کی طرح رونا شروع کر دیتا ۔۔
کیونکہ شاہان جانتا تھا کہ ۔۔
فضاء کی حسیں بیدار ہیں ۔۔
سو وہ اس سے ہر وہ بات کہتا جو کہنا چاہتا تھا ۔۔
معافیاں بھی ۔۔
محبت کا اظہار بھی ۔۔
گناہ کے راستے سے واپسی کا وعدہ بھی ۔۔
اس کے مجرموں کو سزا دینے کا عہد بھی ۔۔!
فضاء جب جب نیند لے کر اٹھتی شاہان کی آواز کانوں سے ٹکرا جاتی ۔۔
فضاء کو یوں لگنے لگا تھا کہ شاہان سارے کام دھندے چھوڑے بس ہر وقت اس ہی کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے ۔۔
لیکن یہ سب چیزیں فضاء کا دل نرم نہیں کر سکتی تھیں ۔۔
فضاء کی نفرت جوں کی توں تھی ۔۔
وہ بس دعا کرتی رہتی کہ وہ ٹھیک ہوجائے ۔۔
تاکہ اس شخص سے دور ۔۔
بہت دور چلی جائے ۔۔
اسے اپنی بےبسی پر اکثر رونا آجاتا تھا ۔۔
اور شاہان ہمیشہ نرمی سے اس کی آنکھوں کے گیلے گوشے صاف کر کے اس کی جلتی آنکھوں پر اپنے لبوں کا نرم مرہم رکھ دیا کرتا تھا ۔۔
اس وقت بھی شاہان نے یہی کیا تھا ۔۔
ہاں مرہم لگانے سے اجتناب برتا تھا ۔۔
شاید شزا کی موجودگی کی وجہ سے ۔۔
فضاء کے نقوش تن گئے تھے شاہان کہ لمس پر ۔۔
اس سے زیادہ اس کے بس میں نہیں تھا ۔۔
وہ مکمل شزا کی طرف متوجہ ہوگئی ۔۔
جو بہت پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھی ۔۔
فضاء کے نقوش یکدم نرم ہوئے تھے ۔۔
شاہان کی زیرک نگاہوں سے فضاء کے خاموش چہرے کا یہ بدلائو چھپا نہیں رہا تھا ۔۔
شاہان اندر ہی اندر پھر نادم ہوا تھا ۔۔
وہ اس کا لمس بھی نہ پسند کرتی تھی ۔۔
بااختیار ہو کر اسے معاف کیا خاک کرے گی ۔۔
“شاہان بھائی یہ رو کیسے رہی ہے ۔۔؟”
شزا کی آواز میں حیرت انگیز خوشی تھی ۔۔
“یہ صرف رو نہیں سو بھی سکتی ہے ۔۔
بند آنکھوں سے جاگ بھی سکتی ہے ۔۔
ہماری باتیں سن بھی سکتی ۔۔
سمجھ بھی سکتی ہے ۔۔
اور ہم کوشش کریں گے تو یہ جلد بلکل نارمل ہوجائے گی ۔۔”
شاہان نے نرمی سے شزا کو جواب دیا ۔۔
اس کی آواز میں غیر واضع سی لڑکھڑاہٹ بھی تھی ۔۔
وہ جانتا تھا کہ فضاء ٹھیک ہوجانے کے بعد کبھی اس کے ساتھ رہنے کے لیئے راضی نہیں ہوگی ۔۔
اور یہ بات شاہان کو اندر ہی اندر گھول رہی تھی ۔۔
شاہان کو لگتا کہ وہ فضاء کے ٹھیک ہونے کی دعائیں کھوکھلے دل سے کرتا ہے ۔۔
شائد اس لیئے کیونکہ اسے یقین تھا فضاء ٹھیک ہو کر اسے چھوڑ جائے گی ۔۔
اور معاف تو یقیناً کبھی نہیں کرے گی ۔۔
عجیب محبت تھی اس کی ۔۔
خود غرض سی ۔۔
“کیا سچ میں ۔۔؟”
شزا چہک اٹھی ۔۔
“یہ تو بہت اچھی بات بتائی ہے آپ نے مجھے ۔۔
ورنہ امی کو کھونے کے بعد فضاء کی اس حالت کا سن کر میں تو خود بھی مر جانا چاہتی تھی ۔۔”
شزا کی گلوگلیر آواز پر فضاء ٹھٹھکی ۔۔
“امی کو کھودینے کے بعد ۔۔
کیا مطلب ہے اس بات کا ۔۔؟”
فضاء کے کان سائیں سائیں کرنے لگے ۔۔
شاہان نے گھبرا کر فضاء کی طرف دیکھا ۔۔
پھر اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر شزا کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا تھا ۔۔
ابھی یہ تکلیف دہ حقیقت تو کھولی ہی نہیں تھی اس نے فضاء کے سامنے ۔۔
وہ فضاء سے صرف خوش کن باتیں کیا کرتا تھا جو اسے زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد دے سکتی تھیں ۔۔
درزیدہ سی نظر فضاء کے چہرے پر ڈال کو شاہان نے شزا کو اپنے ساتھ کمرے سے باہر آنے کا اشارہ کیا تھا ۔۔
پھر بعد میں ان دونوں کے درمیان کیا بات چیت ہوئی تھی ۔۔
یہ فضاء نہیں جانتی تھی ۔۔
لیکن ایک بات جو اس نے شدت سے نوٹ کی تھی وہ یہ تھی کہ شزا نے پھر عظمی بیگم کا ذکر کرنا چھوڑ دیا تھا ۔۔
شزا اسے صرف آنے والی زندگی کے حوالے سے امیدیں تھماتی تھی ۔۔
ایسی کوئی جھوٹی یا انہونی بات نہیں کرتی تھی جس پر بعد میں فضاء کو دھچکا لگے ۔۔
جو بھی تھا ۔۔
فضاء اس بات پر ہی بہت خوش تھی کہ شزا اب سارا دن اس کے ساتھ رہتی تھی ۔۔
کبھی ناول پڑھ کر سناتی تو کبھی کوئی مووی لگا کر اس کی منظر کشی کرنے لگتی ۔۔
فلحال فضاء کے لیئے یہی بہت تھا ۔۔
شزا کے ساتھ رہ کر فضاء کی حالت بہتر ہوتی جا رہی تھی ۔۔
یہ بات شاہان کو خوشی کے ساتھ خدشات کا بھی شکار کر رہی تھی ۔۔!
پھر ساڑھے چار مہینوں بعد بالآخر فضاء اپنے وجود کو جنبش دینے کے قابل ہوگئی تھی ۔۔
ابھی وہ اپنے ٹھیک ہوجانے پر شکر بھی ٹھیک سے ادا نہیں کر پائی تھی ۔۔
کہ عظمی بیگم کی موت نے اسے شکوے کرنے پر مجبور کردیا ۔۔
اور ساتھ ہی شاہان کے حصے میں ایک اور جرم لکھ دیا گیا ۔۔
شاہان جانتا تھا عظمی بیگم کی موت کو اس سے جوڑنا سراسر فضاء کا جذباتی پن ہے ۔۔
لیکن شاہان چپ کا چپ رہ گیا تھا ۔۔
ہاں مگر شزا نے فضاء کو سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی ۔۔
“بھلا شاہان بھائی ایسا کیوں کریں گے ۔۔؟
یہ کیسا بیہودہ اور انہونا سا الزام ہے شاہان بھائی پر ۔۔”
فضاء کے پاس اس “کیوں” کا جواب نہیں تھا ۔۔
یا پھر جواب تو تھا ۔۔
لیکن اس نے وہ جواب شزا کو نہیں دیا تھا ۔۔!
نہ جابے کیوں ۔۔
لیکن ۔۔
فضاء جو شزا کو خود پر گزری قیامت کے بارے میں بتانا چاہتی تھی ۔۔
اپنا دل اپنی بہن کے سامنے کھولنا چاہتی تھی ۔۔
کھول نہیں پائی تھی ۔۔
ہاں لیکن اس نے شاہان کو چھوڑ جانے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔
اتنا تو وہ کر سکتی تھی ۔۔
لیکن شزا نے اسے اس ایک ماہ کا حوالہ دے کر گم صم کردیا تھا ۔۔
جو شزا نے عظمی بیگم کے انتقال کے بعد در در کی ٹھوکریں کھاتے گزارا تھا ۔۔
کوئی بھی اس کی ذمہ داری ہمیشہ کے لیئے اٹھانے کو راضی نہیں تھا ۔۔
اگر فضاء بھی اس کے ساتھ ہو لیتی تو تب تو شائد وہ لوگ اپنے گھروں کے دروازے ان کے لیئے کھولنے کی بھی زحمت نہ کرتے ۔۔
ایک طلاق یافتہ عورت سے زیادہ نفرت انگیز شائد ہی اس معاشرے میں کچھ سمجھا جاتا ہو ۔۔
یعنی شاہان کا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑے رکھنا اس کی مجبوری تھا ۔۔
لیکن وہ شاہان کے ساتھ رہنے کے لیئے مر کر بھی نہیں راضی ہونے والی تھی ۔۔
سو اس نے اپنے گھر میں شزا کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ۔۔
لیکن تنہا عورتوں کے لیئے اس معاشرے میں سروائیو کرنا تقریباً ناممکن تھا ۔۔
ان دونوں بہنوں کے پاس ایسی کوئی جاب بھی نہیں تھی جو وہ گزر بسر کر پاتیں ۔۔
پھر محلے کے آوارہ لڑکوں نے اسے ایک بار پھر شاہان کے در لوٹنے پر مجبور کیا تھا ۔۔
مجبوری سی مجبوری تھی ۔۔
مگر شاہان نے فضاء کی اس مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش ہرگز نہیں کی تھی ۔۔
وہ اسے شزا کے ساتھ فارم ہائوس میں رہنے کی اجازت دے کر اس کی مرضی کے بغیر کبھی اپنی شکل نہ دکھانے کا عہد کرتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔
اور شاہان نے اپنا یہ عہد بخوبی نبھایا بھی تھا ۔۔
وہ کبھی کبھی یہاں آتا تھا وہ بھی اطلاع دے کر ۔۔!
تاکہ فضاء پہلے ہی گوشہ نشیں ہو سکے ۔۔
شزا کو بلکل اندازہ نہیں تھا کہ فضاء اتنی محبت کرنے والے شخص سے کیوں روٹھ کر بیٹھی ہے ۔۔
لیکن وہ اپنی طرف سے فضاء کو سمجھانے کی کوشش کرتی رہتی تھی ۔۔
جو کل تک تو بےاثر رہی تھی ۔۔
لیکن آج ۔۔
آج اتنے لمبے عرصے بعد اس پیارے سے چہرے کو روبرو پا کر فضاء کے دل کو کچھ ہوا تھا ۔۔
دل پر جمی نفرت کی موٹی سی تہہ پر جیسے کسی نے زوردار پھونک مار دی تھی ۔۔
دوپٹے سے آنسئوں سے تر چہرہ صاف کرتے ہوئے فضاء ماضی سے نکلتی آج صبح ہونے والی چند لمحوں کی اچانک ملاقات کے متعلق سوچنے لگی ۔۔
ایک بات تو گویا طے تھی ۔۔
آج رات فضاء کو سونا نہیں تھا ۔۔
سوچنا تھا یا پھر رونا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیند کی گولی نگل کر شاہان بستر پر دراز ہوا تھا ۔۔
نیند میں بھی اس کے ذہن کو سکون نہیں نصیب ہوتا تھا ۔۔
وہ سو تو جاتا تھا لیکن اندھیر نگریوں میں بھٹکاتے پریشان کن خواب اسے سخت تھکا دیتے تھے ۔۔
اور لمبی نیند لے کر بھی وہ یوں اٹھتا تھا ۔۔
جیسے لمبا سفر پیدل طے کر کے آیا ہو ۔۔!
شاہان کو اپنا آپ اکثر بہت بیچارہ لگتا تھا ۔۔
اس جیسا بدنصیب شائد ہی کوئی ہو ۔۔
جسے نیند بھی سکون نہیں دیتی تھی ۔۔
سرخ ڈوروں والی خوابناک آنکھیں چھت پر جمائے وہ گھورتا رہا ۔۔
گھورتا رہا ۔۔
یہاں تک کہ ذہن تاریکی میں ڈوب گیا ۔۔
اور پھر تاریکی میں ہلکی سی روشنی نمودار ہوئی ۔۔
اور اب وہ پھر سے وہی خواب دیکھ رہا تھا ۔۔
اندھیر گلیوں میں نہ جانے کس کے پیچھے بھاگتا رہتا تھا ۔۔
نہ جانے کیا ڈھونڈتا رہتا تھا ۔۔
شائد سکون ۔۔!
لیکن ہر بار کی طرح اس کی بھاگ دوڑ بیکار گئی تھی ۔۔
نہ اسے سکون ملنا تھا ۔۔
نہ ملا ۔۔
یہاں تک کہ سائڈ ٹیبل پر رکھی گھڑی نے چلانا شروع کر دیا ۔۔
فجر کی اذان میں کچھ ہی وقت باقی تھا ۔۔
شاہان یوں جاگا تھا جیسے کبھی سویا ہی نہ ہو ۔۔
ایک بار پھر سے چھت کو گھورنے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔۔
گھڑی اپنے وقت پر ہی بند ہونی تھی ۔۔
سو وہ جوں کا توں چت پڑا رہا ۔۔
چند لمحوں بعد گھڑی کی ناخوشگوار آواز بند ہوگئی اور مئوذن کی پرسوز آواز سماعتوں سے ٹکراتی اسے اٹھنے پر مجبور کر ہی گئی ۔۔
جانماز پر دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائے وہ ایک بار پھر سراپہ سوال بنا بیٹھا تھا ۔۔
“میں ہی کیوں ۔۔؟
صرف میں ہی کیوں ۔۔؟
گنہگار تو اور بھی بہت سے ہونگے ۔۔
کیا سب کو سکون کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے آپ نے ۔۔؟
لیکن مجھے تو سب لوگ خوش نظر آتے ہیں ۔۔
جسے بھی دیکھتا ہوں وہ ہنس رہا ہوتا ہے ۔۔
مسکرا رہا ہوتا ہے ۔۔
اب ایسا تو ممکن نہیںنا کہ کسی نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ۔۔
ہاں مانتا ہوں میرے گناہ بہت زیادہ ہیں ۔۔
لیکن آپ تو سمندر کے جھاگ برابر گناہ بھی معاف کردیتے ہیں نا ۔۔
پھر مجھے معافی کیوں نہیں ملتی ۔۔؟
مجھے معافی چاہیے ۔۔
مجھے میرا سکون چاہیے ۔۔
مجھے فضاء چاہیے ۔۔”
شاہان کی دعا ہمیشہ ان تین لائنوں پر اختتام پاتی تھی ۔۔
اس کے بعد بھی وہ بہت دیر تک جانماز سے اٹھنے کی ہمت نہیں کر پایا تھا ۔۔
بس خالی خالی سا ہاتھ پھیلائے بیٹھا رہا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج بےسہارا خواتین کے لیئے بنائے گئے ادارے کا رائونڈ لگانے کی غرض سے وہاں چلا آیا تھا ۔۔
اسے اچانک وہاں پا کر ادارے کی انتظامیہ حواس باختہ سی ہوگئی تھی ۔۔
شاہان ان سب کی اکسائٹمنٹ نظرانداز کرتے ہوئے خاموشی سے پینٹ کی جیبوں میں انگوٹھے پھنسائے وہاں بیٹھی خواتین سے خیریت دریافت کر رہا تھا جب پشت پر ہاتھ رکھے جانے پر چونک کر مڑا تھا ۔۔
اور اپنے سامنے نتاشہ کو دیکھ کر ساکن رہ گیا تھا ۔۔
نتاشہ وہ آخری لڑکی تھی جو اس کی شیطانیت کے بھینٹ چڑھی تھی ۔۔
ایک غریب گھرانے کی بےحد و حساب خوبصورت لڑکی ۔۔
جو اس وقت اس کے سامنے کالے لباس میں اجڑی سی کھڑی کسی فقیرنی سی مشابہ لگ رہی تھی ۔۔
شاہان ایک نظر کے بعد پھر اس کے چہرے کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکا ۔۔
نظریں ہی نہیں ۔۔
شاہان نے اپنا سر بھی جھکا لیا تھا ۔۔
شاہان کو لگا وہ بےلباس کھڑا ہے ۔۔
اس کے اوپر پڑا شریف اور شفیق شخص کا لباس نتاشہ نے تار تار کردیا ہے ۔۔
زمین پر نظریں گاڑے وہ خود بھی زمین میں گڑ جانے کا خواہش مند تھا ۔۔
جب نتاشہ سرد لہجے میں گویا ہوئی ۔۔
“میں کب سے دیکھ رہی ہوں لوگ تمہارے سامنے جھکے چلے جا رہے ہیں ۔۔
ان معصوم بےسہارا عورتوں کی تمہارے حق میں دعائیں مجھے سانپ کی طرح ڈس رہی ہیں ۔۔
دل کرتا ہے تمہاری ساری حقیقت سب کے سامنے کھول کر رکھ دوں ۔۔
لیکن پھر سوچتی ہوں کیا فائدہ ۔۔؟
میرا جو نقصان ہونا تھا وہ تو ہوگیا ۔۔
اور شائد تمہارا بھی ۔۔!”
اس کی حالت کے پیش نظر نتاشہ نے اندازہ لگا لیا تھا ۔۔
وہ وقت کا فرعون اپنا سب کچھ ہار چکا تھا ۔۔
جب ہی اس کے چہرے پر نظریں جمائے لفظوں کی مار مارنے لگی ۔۔
“صرف تم ہی نہیں شاہان گردیزی ۔۔
میں اور میرے جیسی ساری لڑکیاں بھی اپنی بربادی میں برابر کی قصوروار ہیں ۔۔
مجھے یاد یے ہمارے گھر میں باپ بھائی کے سامنے بھی دوپٹے سر پر لینے کا رواج تھا ۔۔
اور میں نے نام نہاد محبت کے لیئے اپنا جسم تمہارے سامنے ۔۔”
“پلیز شٹ یور مائوتھ نتاشہ ۔۔
پلیز ۔۔!”
یکدم سر اٹھا کر شاہان دونوں ہاتھ جوڑ کر منتی لہجے میں بولا تھا ۔۔
نتاشہ کچھ دیر تک چپ رہی ۔۔
پھر مزید گویا ہوئی ۔۔
“قصوروار ہم لڑکیوں سمیت تم بھی تھے ۔۔
پھر آج بھی تم دنیا کی نظر میں معتبر کیوں ہو ۔۔؟
اور ہم لڑکیاں آج بھی معاشرے کی نظر میں قابل نفرت کیوں ہیں ۔۔؟
مجھے اس سوال کا جواب دو شاہان ۔۔
مجھے یہ سوال پریشان رکھتا ہے ۔۔”
اکھڑے لہجے میں پوچھتے ہوئے نتاشہ نے شاہان کا بازو ہلکے سے پکڑ کر جھنجوڑا تھا ۔۔
شاہان کافی دیر تک کچھ بول نہیں پایا ۔۔
یہاں تک کہ نتاشہ سمجھی کہ وہ اسے کوئی جواب دے ہی نہیں سکتا ۔۔
استہزایہ انداز میں مسکراتے ہوئے نتاشہ پلٹنے لگی ۔۔
جب شاہان مدھم آواز میں بولا ۔۔
“دنیا کی نظروں میں معتبر بننے کی میری کوئی خواہش نہیں تھی ۔۔
بغیر کسی لالچ کے میں نے صرف اللہ سے معافی طلب کی تھی ۔۔
کرتا ہوں ۔۔
اور کرتا رہوں گا ۔۔
اور صرف اللہ کو راضی کرنے کے لیئے اللہ کے بندوں کی مدد شروع کردی ۔۔
میری ساری امیدیں ۔۔
ارادے ۔۔
صرف اللہ کے لیئے ہیں ۔۔
تم شائد اب بھی دنیا کی نظر میں معتبر بننے کی خواہش مند ہو ۔۔
اگر قدرت اپنا کرشمہ دکھا دے ۔۔
سب پہلے جیسا ہوجائے ۔۔
تم دنیا کی نظر میں ایک معصوم شرمیلی سی لڑکی بن جائو ۔۔
تو مجھے بتائو ۔۔
کیا پھر سے تم دنیا کی نظروں میں دھول جھونک کر میرے جیسے کسی شخص سے دل لگی نہیں کرو گی ۔۔؟
کرو گی نا ۔۔
تم یہی کروگی نتاشہ ۔۔
تمہارے لہجے میں سارا افسوس صرف اس بات کا ہے کہ دنیا تمہیں کس نظر سے دیکھ رہی ہے ۔۔
تمہیں افسوس ہے دنیا نے تمہارے اندر کی غلاظت کی حقیقت کیوں جان لی ۔۔؟
تمہیں اب بھی سب کو دھوکے میں رکھنا تھا ۔۔
رائٹ ۔۔؟
انسان کے گناہ دنیا میں ظاہر کر دینا یا آخرت میں سامنے لانا اللہ کا فیصلہ ہے ۔۔
وہ جس کو چاہے ہدایت دے ۔۔
جس کے چاہے دل پر مہر لگا دے ۔۔
میں خود کو بلکل صحیح نہیں کہتا ۔۔
لیکن تمہاری نیت غلط ہے ۔۔
دنیا تو کسی حال میں راضی نہیں ہوتی ۔۔
تم اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرو ۔۔
گھر والے شائد تمہاری غلطی پر تمہیں معاف نہ کریں ۔۔
لیکن وہ اللہ ستر مائوں سے زیادہ چاہنے والا ہے ۔۔
تم اللہ سے معافی مانگوگی تو وہ ضرور معاف کریگا ۔۔
اور تمہاری زندگی اور آخرت دونوں سنور جائیں گی ۔۔
تم مجھے جو سزا دینا چاہو شوق سے دو ۔۔
لیکن اپنے حالات کی بہتری ۔۔۔”
“جسٹ شٹ آپ ۔۔
خود کو زیادہ نیک پرہیزگار پوز کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
ذرا سی چیرٹی کر کے خود کو نہ جانے کیا سمجھنے لگے ہو ۔۔
ساری باتیں صرف کہنے کی ہیں ۔۔
میری زندگی برباد ہوئی ہے اور قصوروار تم ہو ۔۔
مجھے کچھ نہیں چاہیے ۔۔
اگر میں اللہ سے کچھ مانگوں گی تو صرف تمہاری موت ۔۔”
نتاشہ چٹخ کر بولتے ہوئے جانے لگی جب پیچھے سے شاہان پھر سے گویا ہوا ۔۔
“موت تو ہر زی روح کو آنی ہی ہے ۔۔
مجھے بھی آئے گی تمہیں بھی آئے گی ۔۔
تو تم اپنے لیئے معافی بھی مانگ لو ۔۔
میں اپنے گناہوں کی مانگتا ہوں ۔۔
تم اپنے گناہوں کی مانگ لو ۔۔”
شاہان اسے پھر سے سمجھانا چاہتا تھا ۔۔
لیکن وہ پیر پٹختی ہوئی وہاں سے چلتی چلی گئی تھی ۔۔
ٹھنڈی سانس خارج کر کے بوجھل دل لیئے شاہان اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔۔
اس وقت وہ صرف تنہائی چاہتا تھا ۔۔
“اگر واقعی اس کے ظلم کے شکار لوگوں کی بددعائیں اس کی دعائوں کے آگے جیت گئیں تو پھر ۔۔؟”
شاہان کا دل یہ سوچ کر رک سا گیا تھا ۔۔
آنکھوں سے آنسو صاف کر کے اس نے بجتا فون اٹھا کر کان سے لگا لیا ۔۔
“سر ۔۔
یہاں بڑا مسئلہ ہوگیا ہے ۔۔
مختار میمن نے نہ جانے کیسے اپنے ہاتھ کھول لیئے اور سرور (ملازم) سے گن چھین کر اسے شوٹ کرنے کی کوشش کی ۔۔
لیکن اپنا بچائو کرنے کے چکر میں سرور نے یا ۔۔ یامین سر کو آگے کردیا ۔۔
میں نے بھی گھبراہٹ میں مختار میمن پر فائر کردیا ۔۔
انہیں بچانے کی بہت تدبیریں کی سر ۔۔
لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔۔
سر ہمیں معاف کردیں ۔۔
ہم تو بس آپ کے حکم کے مطابق انہیں ٹارچر کر رہے تھے ۔۔
جو بھی ہوا وہ غیر ارای طور پر ہوا سر ۔۔
ہم نے صرف اپنی جان بچانے کی کوشش کی تھی سر ۔۔”
شاہان جو پہلے ہی اندر سے ٹوٹ رہا تھا ۔۔
اس خبر پر اپنا وجود کرچیوں میں بٹتا محسوس کرنے لگا ۔۔
یامین سے لاکھ نفرت سہی ۔۔
لیکن ایک لمبا عرصہ وہ یامین گردیزی کی شفقت کے زیر سایہ بھی رہا تھا ۔۔
شاہان کے سر میں دھماکے ہو رہے تھے ۔۔
سانس روکے دوسری طرف کی باتیں سنتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دھند کی دبیز تہہ جم گئی تھی ۔۔
جس کی وجہ سے وہ سامنے سے آتے ٹرک کو دیکھ نہیں سکا تھا ۔۔
اگر دیکھ بھی لیتا تو شائد خود کو بچانے کی کوشش نہ کرتا ۔۔
اس وقت اسے زندگی سے اکتاہٹ ہی اس قدر ہو رہی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں نے کیا کیا ہے آخر ۔۔؟
میرا کیا قصور ہے ۔۔
میں تو خود مظلوم ہوں ۔۔
ظلم اور ذلت کی انتہا سہی ہے میں نے ۔۔
پھر مجھے یہ بےسکونی کیوں رہتی ہے ۔۔؟
سونے کے بعد میں ساری ٹینشن بھول جاتی تھی ۔۔
لیکن اب تو مجھ سے سویا بھی نہیں ۔۔”
رات بھر جاگنے کی وجہ سے اس وقت فضاء سخت چڑچڑی ہو رہی تھی ۔۔
دھیمی آواز میں بڑبڑاتے ہوئے فضاء نے بےوجہ ہی اورنج جوس سے بھرے گلاس کو گھورنا شروع کردیا ۔۔
شزا نے اس کی کچھ بات سنی تھی کچھ نہیں سن سکی تھی ۔۔
لیکن کوئی تاثر نہ دیا نہ کچھ پوچھنا ضروری سمجھا تھا ۔۔
وہ جانتی تھی فضاء کی سوچیں اتنی ہی گونجدار ہوتی ہیں ۔۔
پوچھنے پر بھی وہ کچھ بتاتی نہیں تھی ۔۔
بس خود سے لڑتی رہتی تھی ۔۔
اس لیئے شزا نے اب اس سے کچھ پوچھنا ہی چھوڑ دیا تھا ۔۔
وہ بس انتظار میں تھی کہ کب فضاء باقاعدہ اسے مخاطب کر کے اپنی پریشانی شیئر کرے گی ۔۔!
اپنا ناشتہ ختم کر کے شزا ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔
ملازمہ کو کچھ ہدایات کرتی فضاء کے گلے لگی ۔۔
تو فضاء بھی چونک کر ہوش میں لوٹ آئی ۔۔
اور سر پر دوپٹا اوڑھ کر دعائوں کے حصار میں اسے رخصت کرنے گیٹ تک جا پہنچی ۔۔
جہاں گاڑی اس کی منتظر تھی ۔۔
شزا کو رخصت کر کے وہ لان میں ہی بیٹھ گئی ۔۔
آج بھی بادلوں نے آسمان پر ڈیرہ جما رکھا تھا ۔۔
بارش ہونی یقینی لگتی تھی ۔۔
اچٹتی سی نظر سرمئی بادلوں میں چھپے آسمان پر ڈال کر اس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لی تھیں ۔۔
بہت دیر تک وہ بوگن ویلیا کے نرم پھولوں کی برسات میں سوچوں میں گھری رہی ۔۔
جب آس پاس ہلچل محسوس کر کے چونک کر آنکھیں کھول بیٹھی ۔۔
شزا واپس لوٹ آئی تھی اور بھاگی بھاگی اسی کی طرف آ رہی تھی ۔۔
فضاء پریشان سی ہو کر کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔
اس کے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی شزا نے اسے شاہان کے ایکسڈنٹ کی خبر دی تھی ۔۔
اور اس خوفناک انداز میں دی تھی ۔۔
کہ فضاء کے لیئے اپنے قدموں پر کھڑا رہنا مشکل ہوگیا تھا ۔۔
اچھے خاصے موسم میں بھی اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے ۔۔
بےجان سی ہو کر کرسی پر گرتی وہ بری طرح سہم گئی تھی ۔۔
اپنے تئیں وہ شاہان سے تعلق ختم کر چکی تھی ۔۔
لیکن حقیقت تو وہ بھی جانتی تھی ۔۔
چاہے مانتی نہیں ۔۔!
اس جیسی بےاعتماد لڑکی شاہان کے ہی سہارے دنیا میں سروائیو کر رہی تھی ۔۔
اس شخص کا نام ہی کافی تھا اسے معاشرے میں معتبر بنانے کے لیئے ۔۔
پھر دل کل سے بولایا بولایا بھی تھا ۔۔
اب یہ خبر سن کر فضاء کی سانسیں رکنے لگیں ۔۔
وہ سینہ مسلتے ہوئے گہری گہری سانسیں بھرنے لگی ۔۔
اس کی حالت پر شزا کے ہاتھ پیر پھول گئے تھے ۔۔
وہ فوراً فضاء کے لیئے پانی لینے بھاگی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو مہینے بعد ۔۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
ذرا سی آنکھیں کھول کر شاہان نے اسے دیکھا تھا جو سوپ کا بائول لیئے کمرے میں چلی آ رہی تھی ۔۔
شاہان کے لبوں پر مسکان مچلی جسے اس نے فضاء کی سپاٹ نظروں سے چھپا لیا تھا ۔۔
وہ اپنی گاڑی ٹرک سے بچانے میں تو کامیاب ہوگیا تھا ۔۔
لیکن گاڑی دوسری طرف گھمانے پر ایک درخت سے جا ٹکرائی تھی ۔۔
ایکسڈنٹ تو تب بھی اچھا خاصہ ہوا تھا ۔۔
لیکن جان بچ گئی تھی ۔۔
شاہان حیران کم پریشان زیادہ تھا ۔۔
اسے زندگی سے چڑ ہو رہی تھی ۔۔
وہ خود کشی نہیں کر رہا تھا ۔۔
لیکن ڈاکٹرز کو عاجز ضرور کر رہا تھا ۔۔
کسی قسم کا تعاون نہ کر کے ۔۔
اس ضد کے پیچھے کوئی خاص ارادہ نہیں تھا ۔۔
وہ بس بیزار تھا ۔۔
اور سب کو خود سے بیزار کر رہا تھا ۔۔
اور نہ جانے کب تک کرتا رہتا ۔۔
اگر جو روتی بکھرتی فضاء اچانک آ کر اس کے سینے سے نہ لگ جاتی ۔۔
اس پل فضاء کے گرم آنسو اپنے سینے پر گرتے محسوس کر کے شاہان اندر تک شاد ہو گیا تھا ۔۔
اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ۔۔
فضاء اس کے ایکسڈنٹ کی خبر پر یوں دوڑی چلی آئے گی ۔۔
اگر پتہ ہوتا تو بہت پہلے ہی ایسا ایک ایکسڈنٹ کروا لیتا ۔۔
یا نیند کی گولیاں پھانک کر خودکشی کرنے والی خبر اس سے نہ چھپاتا ۔۔!
بعد میں فضاء نے اپنی بےساختگی پر خجل ہو کر درمیان میں فاصلہ قائم کر لیا تھا ۔۔
لیکن پھر وہ اس سے دور نہیں ہوئی تھی ۔۔
جیسے وہ خود بھی اندر سے تھک گئی تھی ۔۔
ایک حد سے زیادہ نفرت وہ نہیں کر سکتی تھی ۔۔
جبکہ مقابل وہ شخص تھا جو اس کے دل و روح میں بھی بس چکا تھا ۔۔
وہ ذہن سے اس کے خیالات جھٹک سکتی تھی ۔۔
لیکن دل سے اس کے نقش مٹانا ۔۔
روح سے جڑا رشتہ توڑنا نہ ممکن تھا ۔۔
وہ ہار گئی تھی ۔۔
لیکن ہار تسلیم کرنے سے ہچکچا رہی تھی ۔۔
شاہان ایسا چاہتا بھی نہیں تھا ۔۔
کہ وہ لبوں سے اپنی ہار کا اظہار کرے ۔۔
وہ بس اسے جیتنے پر خوش تھا ۔۔
فضاء اس کا خیال رکھتی تھی ۔۔
اس کے ساتھ نہیں رہتی تھی ۔۔
لیکن اس کے آس پاس تھی ۔۔
یہ کافی تھا ۔۔
اسے سوپ پلاتے ہوئے فضاء نے اس کی جگمگاتی آنکھوں میں دیکھنے سے اجتناب برتا تھا ۔۔
چہرے کے نقوش پتھریلے کیئے وہ شاہان کو کسی قسم کی خوش فہمی کا شکار نہیں رہنے دینا چاہتی تھی ۔۔
جبکہ شاہان اس کے نازک سے نقوش میں زبردستی پیدا کی گئی سختی دیکھ کر مسکرائے جا رہا تھا ۔۔
اس بار وہ اپنی مسکان چھپانے کی کوشش بھی نہیں کر رہا تھا ۔۔
اور اس کی یہ مسکراہٹ اب فضاء کو چڑانے لگی تھی ۔۔
جب ہی وہ جھاٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔
“میں نہیں پلا رہی ۔۔”
“نہ پلائو ۔۔
کیا ہوگا ۔۔؟
زیادہ سے زیادہ میں بھوکا پیاسا مرجائوں گا ۔۔”
شاہان کی بات پر فضاء کے پتنگے لگ گئے تھے ۔۔
وہ جبڑے کس کر ناک کے پھنگ پھلا کر اسے گھورنے لگی ۔۔
شاہان کی انگلیاں اب بھی پٹیوں میں قید تھیں ۔۔
اسی لیئے وہ اپنے ہر ضروری کام کے لیئے فضاء کی طرف دیکھتا تھا ۔۔
خاص طور پر کھانا پینا یا دوا لینا تو فضاء کے ہاتھ سے فرض تھا ۔۔
ورنہ وہ درحقیقت کھانا پینا تو دور دوا بھی نہیں لیتا تھا ۔۔
اور یہ بات فضاء کو سہی معنوں میں تلملا کر رکھ دیتی تھی ۔۔
اس وقت بھی وہ جھنجلا کر وہاں سے اٹھنے لگی تھی جب شاہان نے لمحے کی دیر کیئے بغیر اسے اپنے حصار میں لے کر رک جانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔
ہاتھ میں بائول لیئے شاہان کی طرف سے پشت کیئے وہ اپنی جگہ اسٹیچو بن بیٹھی رہ گئی تھی ۔۔
جبکہ شاہان نے ایک طویل سانس بھر کر اس کے بالوں کی بالوں کی بھینی بھینی خوشبو اپنی سانسوں میں اتاری تھی ۔۔
کتنی ہی دیر گزر گئی تھی ۔۔
دونوں نے نہ کچھ کہا تھا ۔۔
نہ کوئی جنبش کی تھی ۔۔
فضاء تو سانسیں بھی بہت احتاط سے لے رہی تھی ۔۔
چاہ کر بھی وہ شاہان کو پیچھے نہیں کر سکی تھی ۔۔
شائد وہ خود بھی اس کی پناہوں میں سمٹ کر اپنا دل ہلکا کرنا چاہتی تھی ۔۔
اس کا غم آشنا صرف ایک وہی تو تھا ۔۔
اس کی تکلیف کی وجہ بھی وہی تھی ۔۔
اور اس کا درد کشا بھی وہی تھا ۔۔!
فضاء نے اس کے بازو اپنے گرد سے ہٹانے کی ایک مری مری سی کوشش کی تھی ۔۔
لیکن شاہان نے گرفت اور سخت کردی تھی ۔۔
اور بس یہ فضاء کی دور جانے کی آخری کوشش تھی ۔۔
ہاری ہوئی سی وہ پیچھے ہوتی گئی ۔۔
اور اپنی پشت کو شاہان کو سینے سے لگا کر پھپھک کر رونا شروع ہوگئی ۔۔
سوپ کا پیالہ بےجان ہوتے ہاتھوں سے چھوٹ کر نیچے جا گرا تھا ۔۔
اور چھانکے کے آواز سے ٹوٹ گیا تھا ۔۔
سوپ زمین پر تو گرا ہی تھا ۔۔
ساتھ ہی اس کے پیروں پر بھی گرا تھا ۔۔
جس سے اس کے پیر جل گئے تھے ۔۔
لیکن فضاء کو اس وقت اس سے اتنی تکلیف محسوس نہیں ہوئی تھی ۔۔
شاہان کے سینے سے لگی وہ اس کے ہی جرم گنوا رہی تھی ۔۔
اور وہ ہر جرم کھلے دل سے قبول بھی کر رہا تھا ۔۔
شاہان کی آنکھوں میں نمی تھی ۔۔
لیکن وہ خوش تھا ۔۔!
فضاء کا جمود ٹوٹ گیا تھا ۔۔
وہ اپنے پٹی میں جکڑے ہاتھ سے اس کا سر تھپتھپا رہا تھا ۔۔
اور فضاء نان اسٹاپ اسے اس کی کوتاہیاں بتانے کے بعد اب اپنے احساسات بتا رہی تھی ۔۔
اور یہ باتیں زیادہ تکلیف دہ تھیں ۔۔
شاہان کے جامد لب فضاء کی کنپٹی پر گویا جم گئے تھے ۔۔
وہ کچھ نہیں بولنا چاہتا تھا ۔۔
صرف اسے سننا چاہتا تھا ۔۔
“آپ کو فیصلہ مجھ پر نہیں چھوڑنا چاہیے تھا ۔۔
میں تب تک معاف نہیں کرتی جب تک کوئی مجھے منانے کی کوشش نہ کرے ۔۔
میں نے کہا تھا نا اظہار ضروری ہے ۔۔
ہر چیز کا اظہار ضروری ہے ۔۔
محنت کا بھی ۔۔
شکوے کا بھی ۔۔
نفرت کا بھی ۔۔
اور شرمندگی کا بھی ۔۔
آپ کو بھی اظہار کرنا چاہیے تھا ۔۔!
آپ کو پتہ ہے دل پر اتنا بوجھ لیئے اتنے سالوں سے ۔۔
میں کتنی مشکل سے سانسیں لے رہی تھی ۔۔”
جھٹکے سے شاہان کے سینے سے سر اٹھا کر وہ ضبط کی شدت سے سرخ چہرہ لیئے بھیگی گلہ آمیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ۔۔
اپنے ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے شاہان کچھ کہہ نہیں سکا ۔۔
بس حلق میں جمع نمکین پانی کا گولہ اندر اتار کر سر نفی میں ہلا دیا ۔۔
اسے واقعی ذرا اندازہ نہیں تھا ۔۔
فضاء مان جانا چاہتی ہے ۔۔
بس اس کے منانے کی منتظر ہے ۔۔
وہ تو اپنی ہی بےسکونی کو روئے اس پر جبر نہ کرنے کا عہد دہراتا رہتا تھا ۔۔
“میں آپ کو معاف نہیں کرنا چاہتی ۔۔
لیکن میں آپ سے ناراض بھی نہیں رہ پاتی ۔۔”
شاہان کے حلق کی گٹھلی پر نظریں جمائے وہ بےبسی سے بول رہی تھی ۔۔
“کیونکہ تم مجھ سے محبت جو کرتی ہو ۔۔!
ہے نا ۔۔؟”
شاہان نے دھک دھک کرتے دل کے ساتھ کسی خدشے کے تحت پوچھا تھا ۔۔
فضاء نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن اپنا سر اس کے چوڑے شانے سے لگا دیا ۔۔
شاہان نے بھی اپنا چہرہ ترچھا کر کے فضاء کے سر پر ٹکا دیا ۔۔
بعض اوقات خاموشی بولتی ہے ۔۔
اور کچھ ایسا بولتی ہے ۔۔
جو زبان نہیں بول پاتی ۔۔
نہ سماعتیں سن پاتی ہیں ۔۔
لیکن دل سن لیتے ہیں ۔۔
ان دونوں کے بےسکون دلوں میں اترتا سکون بتا رہا تھا ۔۔
ان کا سکون ایک دوسرے کی سنگت میں تھا ۔۔
شاہان تو یہ بات ہمیشہ سے جانتا تھا ۔۔
وہ اس کا سکون تھی ۔۔
لیکن فضاء پر یہ بات آج کھلی تھی ۔۔
وہ حیران تھی ۔۔
اس شخص میں کیا کوئی جادو تھا ۔۔
جو سالوں کی بےسکونی اس کی ذرا سی قربت سے چھٹ گئی تھی ۔۔
دل میں نفرت کا بوجھ لیئے ۔۔
سکون ملنا ناممکن تھا ۔۔
اس نے دل کو تھوڑا وسیع کیا تھا ۔۔
اور اپنا کھویا سکون پا لیا تھا ۔۔
اور شاہان ۔۔
جو اپنی بےسکونی سے یہ اخذ کرتا تھا کہ اللہ اب بھی اس سے ناخوش ہے ۔۔
اور اسے کبھی معاف نہیں کرے گا ۔۔
فضاء سدا اس سر روٹھی رہے گی ۔۔
اور وہ خوابوں میں بھی سکون حاصل نہ سکے گا ۔۔
اب اپنی رگوں میں اترتی سکون کی لہروں سے جان گیا تھا اس کی توبہ قبول ہوئی تھی ۔۔
کیونکہ ایسے ہی ہر کسی کو سکون جیسی نعمت نہیں مل سکتی تھی ۔۔!
تشکر کے آنسو لیئے شاہان نے فضاء کی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکرا کر آنکھیں موند لی تھیں ۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 44

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: