Urdu Novels Wajiha Saher

Khajoor Ka Darakht by Wajiha Saher – Episode 2

Khajoor Ka Darakht by Wajiha Saher
Written by Peerzada M Mohin

کھجور کا درخت از وجیہہ سحر – قسط نمبر 2

–**–**–

ڈریسنگ ٹیبل کا شیشہ جوں کا توں اپنی جگہ پر موجود تھا
حجاب ثانیہ کے قریب آئی ”کیا بات ہے؟ اس قدر گھبرائی ہوئی کیوں ہو‘‘
“ک………کمرے سے کسی شیشے کی چیز کے ٹوٹنے کی آواز آئی تھی، کیا ٹو ٹا ہے؟‘‘۔
حجاب نے تحمل سے کہا۔ “کمرے میں تو کچھ بھی نہیں ٹو ٹا ‘‘
حجاب نے اسے بازو سے پکڑ کر بیڈ پر بٹھالیا۔ ثانیہ تیز نظروں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔
“تم اونچی آواز میں کچھ بول رہی تھیں۔”
“کیا…..؟”
کیا تمہیں نہیں پتہ تم کیا بول رہی تھیں”
“میں تو آئینے کے سامنے کھڑی کچھ سوچ رہی تھی۔’’
“کیا سوچ رہی تھی”
“اپنے خواب میں نظر آنے والے اس نوجوان کے بارے میں سوچ رہی تھی جس کا تصور پر چھائی کی طرح میرے ساتھ رہتا ہے۔”
حجاب کی بات سن کر ثانیہ خوفزدہ ہو گئی ۔ اس نے حجاب سے کوئی اور سوال پوچھنا، مناسب نہ سمجھا بلکہ اس کا اپنا ذہن کئی سوالوں میں الجھ گیا۔ وہ حجاب سے بس اتنا کہہ پائی۔
’’اماں نے کہا تھا کہ تم اس طرح اپنے کمرے میں اکیلی نہ بیٹھا کرو۔ میرے اور تحریم کے کمرے میں ہی رہا کرو۔‘‘
حجاب نے اپنی کتابیں اٹھائیں اور ثانیہ کے ساتھ چلی گئی تحریم سوگئی حجاب کی بھی کتاب پڑھتے پڑھتے آنکھ لگ گئی۔ ثانیہ اپنی قمیص پرکڑھائی کرتی رہی کچھ دیر بعد اسے صباحت نے بلایا۔ اس نے اپنی فریم میں لگی قمیض شاپر میں ڈالی۔ثانیہ صباحت کے پاس گئی تو صباحت جلدی جلدی میں ٹی سیٹ نکال رہی تھی…
“اماں…..” ثانیہ صباحت کو کچھ بتانا چاہتی تھی لیکن صباحت تیزی سے بولی ۔ “اندر ڈرائنگ روم میں بیگم بختاور بیٹھی ہیں۔ تم ایسا کرو کہ یہ برتن سلیقے سے ٹی ٹرالی میں جوڑ دو اور فریج سے کباب نکال کر فرائی کر لو۔ سامنے ڈبے میں پیزا اور بسکٹ پڑے ہیں۔ وہ بھی پلیٹس میں سجادو۔ میں اندر جارہی ہوں تم چاۓ لے آنا ‘‘
صباحت کچن سے باہر نکلتے نکلتے ایک بار پھر پلٹی ’’حجاب اور تحریم کہاں ہیں۔‘‘
” وہ دونوں سوگئی ہیں۔” ثانیہ نے منہ بسورتے ہوئے ایک بار کچن میں پھیلے برتنوں پر نظر ڈالی۔
“کچھ دیر بعد حجاب کو جگا دینا، میں نے اسے بیگم بختاور سے ملوانا ہے۔” یہ کہہ کر صباحت ڈرائنگ روم سے چلی گئی۔
”مجھے آپ کا گھر دیکھنا ہے۔‘‘ بیگم بختاور نے صوفہ چھوڑتے ہوۓ کہا۔
اس کے ساتھ کوئی اکیس بائیس برس کے لگ بھگ لڑکی تھی وہ دونوں صباحت کے ساتھ انکے گھر کا گشت کرنے لگیں بختاور بیگم نے اپنے پرس میں سے خاکی رنگ کا رومال نکالا۔ اس نے رومال میں ایک مٹی کا ٹکڑا اپنی مٹھی میں لے لیا اور ہونٹوں کی تیز جنبش کے ساتھ کچھ پڑھتی ہوئی دھیرے دھیرے قدم اٹھانے لگیں ۔صباحت کچھ بات کرنے لگی تو بیگم بختاور کے ساتھ چلنے والی لڑ کی جس کا نام فاطمہ تھا نے اسے خاموش رہنے کو کہا۔
’’اس وقت میڈم کو آپ کی آواز نہیں سنائی دے گی۔ وہ اس ہوا میں موجود عجب الخلقت مخلوق کی آوازیں سننے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘‘
وہ اپنے ہاتھ میں مٹی کو اپنی انگلی سے ذرہ ذرہ تو ڑ رہی تھی ۔ وہ صباحت سے رستہ نہیں پوچھ رہیں تھی اس کے قدم کسی آواز کی سمت کا تعین کرتے ہوئے بڑھ رہے تھے کسی سروش کے پیچھے پیچھے وہ اس کے کمرے میں جا پہنچی جہاں حجاب اور ےحریم سوئی ہوئی تھیں بیگم بختاور حجاب کے قریب جا کر کھڑی ہو گئیں
’’یہی حجاب ہے۔”
”جی! یہی میری بڑی بیٹی حجاب ہے اور دوسری جو اس کے ساتھ سو رہی ہے چھوٹی بیٹی تحریم ہے۔”
“ماشاء اللہ بہت پیاری ہے حجاب ۔ اس کی خوبصورتی ہی اس کے لئے مسئلہ بن گئی ہے۔” بیگم بختاور نے گہری نظروں سے حجاب کی طرف دیکھا۔
’’اس کو جگا دو‘‘ بیگم بختاور نے صباحت سے کہا۔
صباحت نے حجاب کو جگانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہیں جا گی تحریم گھبرا کر اٹھ بیٹھی، وہ بھی حجاب کو جگانے لگی لیکن حجاب اس قدر گہری نیند میں تھی کہ اس پر کسی کی آواز کا اثر نہیں ہورہا تھا۔ بیگم بختاور نے اپنے ہاتھ میں تھامی ہوئی مٹی سے ایک چٹکی حجاب کی پیشانی سے رگڑی ۔حجاب نے ایک ہی ساعت میں آنکھیں کھول لیں۔ اس کی آنکھیں نیم غنودگی کی حالت میں
سرخ ہورہی تھیں۔ وہ بیگم بختاور کی طرف اجنبی سی نظروں سے دیکھتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔
’’حجاب کا کمرہ کون سا ہے ۔‘‘ بیگم بختاور نے صباحت سے پوچھا۔
صباحت انہیں حجاب کے کمرے میں لے گئیں۔ بیگم بختاور نے کمرے کے چاروں طرف نظر دوڑائی۔
“آپ کو کس طرح کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔”
“جس طرح کوئی ڈریسنگ ٹیبل کی دراز زور زور سے بند کرتا اور کھولتا ہو۔‘‘
بیگم بختاور ڈریسینگ ٹیبل کے قریب بیٹھ گئیں ۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے درازوں میں کچھ ڈھونڈنے لگیں ۔انہیں دراز سے حجاب کی نیلم کی انگوٹھی ملی۔ اس نے وہ انگوٹھی صباحت کو دکھائی ۔
“میں یہ انگوٹھی لے جانا چاہتی ہوں۔ مجھے اس کی مدد سے کچھ دیکھنا ہے، بعد میں واپس کر دوں گی۔‘‘
بیگم بختاور نے سارے گھر کا جائزہ لینے کے بعد کھجور کا درخت بھی دیکھا جس کے بارے میں لوگوں نے پراسرار قسم کی باتیں پھیلا رکھی تھیں۔ صباحت تجسس بھرے انداز میں بار بار بیگم بختاور کی طرف دیکھتی لیکن بیگم بختاور نے کوئی بات نہیں کی۔ جب انہوں نے جانے کی اجازت مانگی تو بس اتنا کہا۔
’’بات اتنی چھوٹی نہیں ہے۔ جتنی ہم سمجھ رہے تھے۔ کل میں آپ سے فون پر تفصیلاً بات کروں گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گئیں۔
بیگم بختاور کی باتوں نے صباحت کو رات بھر سونے نہ دیا۔ عجیب عجیب وسو سے اس کا دل دہلاتے رہے ۔ رات کھانے پر صباحت کو خلاف توقع خاموش دیکھ کر احسان الحق نے پوچھا۔
“بھئی کیا باتیں ہوئی بیگم بختاور سے”
”کوئی بات نہیں ہوسکی۔ یہی تو پریشانی ہے۔ ”
“بیگم خیال کرنا، وہ عجیب پراسرار قسم کی شخصیت ہیں۔ لوگوں نے انکی ذات سے بہت خوفناک باتیں منسوب کر رکھی ہیں۔ کہتے ہیں لوگوں کے گھمبیر مسائل حل کر نے کے لئے وہ جنات کا استعمال کرتی ہیں۔”
’’جنات ….‘‘ ثانیہ کانپتی ہوئی آواز میں بولی ۔
’’ہاں جنات … جنہیں خاص علوم کے ذریعے انہوں نے اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ روحانیت کی بلندی تک پہنچنے میں اس کا پورا خاندان ختم ہو گیا۔ ایک عاملہ کے روپ میں انہیں تنہائی کا تحفہ ملا ہے۔‘‘ احسان الحق نے پانی کے جگ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو صباحت ان کی طرف حیران کن نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“جس وقت میں نے بیگم بختاور کا ذکر کیا تو آپ نے لاعلمی کا اظہار کیا تھا جبکہ آپ اس کے بارے میں اتنا کچھ جانتے ہیں۔‘‘
”بیگم ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے۔ جس وقت تم نے بیگم بختاور کی بات کی، اس وقت میں سب بتانے کا وقت نہیں تھا۔ مجھے بختاور بی بی کی شخصیت پر کوئی شک نہیں ہے۔ وہ پہنچی ہوئی عاملہ ہیں۔ مجھے اپنے گھر میں ایسا کچھ نظر نہیں آتا کہ تمہیں بی بی کو گھر بلانا پڑا ہے‘‘
”میں نے جو کچھ کیا ہے، سوچ سمجھ کے کیا ہے ۔ یہ کہہ کر صباحت نے گفتگو کا موضوع بدل دیا۔
دوپہر ایک بجے صباحت کچن میں مصروف تھی بختاور بیگم کا فون آیا صباحت نے چولہا بند کر دیا اورفون لے کر بیٹھ گئی۔
’’آپ اتنی جلدی چلی گئیں، آپ نے تو ہمیں کسی خاطر کا موقع نہیں دیا” صباحت نے بختاور بی بی سے کہا
“میں اس قسم کے مسئلوں میں کسی کے گھر کچھ نہیں کھاتی خیر تمہارے لیئے اچھی خبر نہیں ہے”
“کیسی خبر…” صباحت کی سانس پھول گئی۔
تل”تمہارے گھر کے نزدیک جو کھجور کا درخت ہے اس پر ایک نوجوان آسیب کا سایہ ہے وہ درخت اس کی آماجگاہ ہے حجاب کی انگوٹھی کے نیلم میں اسکا لمس ہے وہ جب حجاب کے آس پاس ہوتا ہے تو اس کی سانسوں سے بھی قریب ہوتا ہے جب حجاب سوتی ہے تو اسکے لاشعور میں جا کر روحانی طور پر اس سے ملتا ہے ان کی اس قربت سے ان کے بیچ بے نام سا اک ربط بن گیا ہے حجاب اسے نہیں جانتی مگر حجاب کے احساسات میں وہ کہیں نہ کہیں ہوتا ہے۔‘‘ یہ سن کر صباحت کے تو ہوش اڑ گئے۔
“بختاور بی بی بی آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ اگر ایسا ہے ۔ تو وہ میری بیٹی سے کیا چاہتا ہے۔‘‘
’’اس کا کیا مقصد ہے یہ تو میں نہیں جانتی لیکن جہاں تک میرے گیان کا علم ہے ۔ وہ آسیب حجاب کے حسن کا اسیر ہو گیا ہے۔”
بختاور بی بی کی بات سن کے صباحت پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ بختاور بی بی نے اسے حوصلہ دیا۔
’’آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں سب سنبھال لوں گی۔ بس مجھے یہ پتہ لگانا ہے کہ وہ آسیب جنات کے کس گروہ سے تعلق رکھتا ہے، وہ کس قدر طاقتور ہے۔ یہ سب جاننے کے بعد ہی میں کچھ کروں گی۔ آپ ایک بات کا دھیان رکھنا حجاب کو ان باتوں کا علم نہ ہو۔”
یہ کہہ کر بختاور بی بی نے فون بند کر دیا۔
صباحت اپنا پسینے سے بھرا چہرہ صاف کرتے ہوۓ کچن میں چلی گئی۔ اسے عجیب سی گھبراہٹ ہورہی تھی۔
جیسے کسی نے اس کا دل پھینچ کے رکھ دیا ہو۔ اس نے کچن کا کام بہ مشکل کیا۔ دو پہر کو کھانے کے بعد جب ثانیہ حجاب
اور تحریم اپنے کمرے میں چلی گئی تو صباحت نے احسان الحق سے بختاور بی بی سے ہونے والی گفتگو کا تذکرہ کیا۔
احسان الحق تپ کر صباحت پر برس پڑے۔
“میں نے تمہیں اس لئے منع کیا تھا کہ ان عاملوں کے چکر میں مت پڑو۔ بے شک بختاور بی بی کی قابلیت کا اعتراف ہے مجھے لیکن یہ لوگ، لوگوں کو اس طرح کے چکروں میں ڈال کر خواہ خواہ پریشان کرتے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ اس طرح کے کیس ہوتے ہیں، لوگ تنگ آ کر عاملوں کے پاس جاتے ہیں لیکن ہمیں تو کوئی تنگ نہیں کرتا۔ میری بیٹی حجاب بالکل ٹھیک ہے۔ کوئی ضرورت نہیں ہے دوبارہ بختاور بی بی سے ملنے کی‘‘
احسان الحق کو غصے میں دیکھ کر صباحت خاموش ہوگئی لیکن احسان الحق سے بات کر کے اس کے دل کا بوجھ مزید بڑھ گیا رات کو اس نے مناسب موقع دیکھ کر احسان الحق سے بات کی۔
’’آپ کی بات اپنی جگہ درست ہے لیکن میں ایک ماں ہوں ، ماں کا دل بچوں کے سینوں میں دھڑکتا ہے بچوں کا دل گھبراۓ تو ماں کا دل بیٹھ جا تا ہے۔ اگر آپ مجھے حجاب کے علاج سے روکیں گے تو میری پریشانی بڑھ جائے گی میں حجاب کے ساتھ زیادہ وقت گزارتی ہوں بختاور بی بی کی باتوں میں مجھے سچائی نظر آ رہی ہے”
”لیکن میری بیٹی کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیئے اگر میں کوئی ایسی بات محسوس کروں گا تو تمہاری ایک نہیں سننی‘‘
’’ آپ بے فکر ر ہیں۔ بختاور بی بی ایسی عاملہ نہیں ہے جو اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرے۔ ان کے علاج کا طریقہ علیحدہ ہے۔ بس آپ وہم نہ کریں۔‘‘
صباحت نے احسان الحق کو قائل کر لیا۔ اس نے حجاب کی ہر حرکت پر نظر رکھنا شروع کر دی۔ اگلے روز صباحت نے بختاور بی بی کوفون کیا جو خبر اسے ملی اس سے وہ لرز کر رہ گئی۔
فون پر فاطمہ نے بتایا کہ بختاور بی بی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور وہ ہسپتال میں زندگی اور
موت کی کشمکش میں ہیں۔ خبر سنتے ہی صباحت ہسپتال پہنچی تو بختاور بی بی اپنے آخری سفر پر روانہ ہو چکی تھیں۔اس حادثے کے بعد صباحت ٹوٹ کے رہ گئی مگر احسان الحق کی باتوں سے اسے ڈھارس ملی۔
’’ہم خدا کی مرضی کے آگے کیا کر سکتے ہیں ۔ بختاور بی بی کیا، سالوں کے منصوبے بنانے والے لوگ ایک ساعت میں لقمہ اجل ہو جاتے ہیں۔ بختاور بی بی کے نصیب میں بس اتنا ہی وقت تھا، رہی بات ہماری حجاب کی، تو تم سن لو۔ میں کل بھی بھی اس حق میں نہیں تھا کہ حجاب کا علاج کرایا جائے اور آئندہ بھی تم نے اس معاملے کو لے کر کسی پیر کے پاس نہیں جانا۔ ہماری حجاب پر کوئی سایہ نہیں ہے اگر تمہیں وہم ہے تو میں خود فجر کی نماز کے بعد قرآن پاک کی سورۃ بقرہ پڑھ کر پانی پر دم کر کے وہ پانی گھر کے کونوں پر چھڑک دیا کروں گا۔‘‘
بختاور بی بی کی وفات کے بعد صباحت کے گھر میں ہونے والے پراسرار واقعات ایکدم سے ختم ہو گئے۔ حجاب کو وہ ڈراؤنا خواب بھی آنا بند ہو گیا اور وہ خوبصورت کبوتر جسے حجاب روزانہ دانہ ڈالتی تھی، جیسے اس سے روٹھ گیا۔ وہ کبھی بھی نہیں آیا۔ صباحت بھی خوش اور مطمئن رہنے لگی ۔ اب اس کا سارا دھیان اس طرف تھا کہ نیا گھر کیسے ڈیکوریٹ کرنا ہے۔ نئے گھر میں شفٹ ہونے میں اب دس دن رہ گئے تھے۔ ان دس دنوں میں حجاب، ثانیہ اورتحریم نے مل کر صباحت کے لیئے نئے گھر کی بہت ساری شاپنگ کی احسان الحق کا بھی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا ان کا اپنے گھر کا خواب، جو وہ کتنے سالوں سے دیکھ رہت تھے پورا ہونے جا رہا تھا شفٹ ہونے سے دو دن پہلے احسان الحق نے پورے گھر میں نت نئے ڈیزائنز کے پردے لگواۓ ۔ دوسری بھی کئی چیزوں میں انہوں نے ضرورت کے حساب سے تبدیلیاں کیں۔ اس روز احسان الحق کے جسم کا رواں رواں خوشی میں چور تھا، آنکھوں میں زندہ دلی کے ستارے جگمگا اٹھے تھے۔ آج وہ اپنی فیملی کے ساتھ نئے گھر میں شفٹ ہو گئے تھے۔ گھر میں فرنیچر کی سیلنگ انہوں نے ایک روز پہلے ہی کر دی تھی۔صباحت احسان الحق کے پاس آئی وہ پھولوں سے بھری کیاری کے قریب کھڑے تھے۔ صباحت نے ان کے شانے پر تھپکی دی۔
“آپ کن خیالوں میں گم ہیں۔” احسان الحق نے مسکراتے ہوۓ صباحت کی طرف دیکھا۔
’’آج میں بہت خوش ہوں، لگتا ہے وقت دس سال پیچھے چلا گیا ہے ۔ اپنے ارمان پورے ہونے کے بعد من میں زندگی جاگ اٹھی ہے۔”
اسی دوران ثانیہ، حجاب اور تحریم دوڑتی ہوئی باپ کے بازوؤں سے لپٹ گئیں۔
’’ابو ہمارا گھر بہت خوبصورت ہے۔‘‘
احسان الحق نے اپنی بیٹیوں کو اپنے بازوؤں کے ہالے میں لے لیا۔
“یہ گھر ہمیشہ محبت کی چاندنی سے روشن رہے گا۔‘‘ پھر احسان الحق نے آسماں کی طرف دیکھا۔
’’اے۔میرے رب اس گھر کی خوشیوں کو ہمیشہ قائم رکھنا۔ میری بیٹیوں کے چہروں کی مسکراہٹ میرے جیون کا سکون ہے۔ میری بیٹیاں ہمیشہ یونہی مسکراتی رہیں۔“
نیا گھر پرانے گھر کی نسبت کافی بڑا تھا۔ جدید تعمیراتی انداز کی قیمتی اشیاء نہیں تھیں۔ یہ گھر پرانے انداز کا بنا ہوا تھا۔ لیکن انتہائی خوبصورت، کشادہ اور ہوا دار تھا۔ گھر میں پانچ کمرے تھے جن میں ایک مہمان خانہ تھا۔ گھر کا سب سے خوبصورت حصہ طرح طرح کے پودوں سے بھرا لان تھا، جو گیراج کے ساتھ ہی تھا۔ مہمان خانہ اس لان کے ساتھ ہی تھا۔ حجاب کو پودوں کا سب سے زیادہ شوق تھا۔ اس نے احسان الحق سے کہہ کر پودوں کے اوپر سبز کپڑے کی چھت کی بنوا دی۔ تینوں بہنوں کو الگ الگ کمرے مل گئے۔ غروب آفتاب کا وقت تھا۔ ہر سو سورج کی سرخی مائل دھیمی دھیمی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ حجاب لان میں رسالہ لئے بیٹھی تھی۔ مغرب کی اذان کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو اس نے جلدی سے سر پر دوپٹہ لے لیا
“حجاب کہاں ہو بیٹا” صباحت اسے ڈھونڈتہ ہوئی لان میں آ گئی حجاب نے مسکراتے ہوئی ماں کی طرف دیکھا صباحت گھاس پر اسکے پاس بیٹھ گئی
“یوں اکیلی نہ بیٹھا کرو، وقت بھی دیکھو کیسا ہے‘‘
حجاب نے ایک لمبی سانس کھینچی ۔ “امی سارے وقت خدا کے ہوتے ہیں۔ کچھ نہیں ہوتا”
”بیٹا کبھی کبھی بڑوں کی بات مان لیتے ہیں۔‘‘
صباحت کی اس بات پر حجاب نے نکا ہاتھ پکڑ لیا
’’آپ کا حکم تو سر آنکھوں پر، مجھے ویسے ہی تنہائی میں بیٹھنا اچھا لگتا ہے۔ امی ایک عجیب سا احساس ہے…… مجھے وہ احساس لفظوں میں بیان کرنا مشکل لگتا ہے۔”
’’کیا احساس؟‘‘ صباحت نے پوچھا۔
“میں جب بھی تنہا ہوتی ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی میرے ساتھ ہے، میرے بہت قریب… لیکن جب یہ بات سوچتی ہوں جوا کثر کتابوں میں پڑھا ہے کہ جب بھی ہم تنہا ہوتے ہیں، ان لمحوں میں ہم اپنے آپ سے ملتے ہیں اور اپنے کسی کے قریب ہونے کا احساس ہماری اپنی ہی ذات کا کوئی روپ ہوتا ہے، جو ہم سے کلام کرنا چاہتا ہے۔ میرا بھی اپنے قریب کسی کو محسوس کرنا میر اوہم ہی ہو گا۔ میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا ‘‘
حجاب کی بات سن کے صباحت کہیں کھوگئی۔ حجاب کے دوبارہ بلانے پر وہ بوکھلاہٹ میں بولی۔
“ہاں۔۔۔ تمہارا وہم ہوگا۔ اپنی دونوں بہنوں کے ساتھ وقت گزارا کرو مجھے تمہاری فکر ہوتی ہے۔‘‘
”آپ میری فکر نہ کیا کریں” حجاب نے صباحت کی گود میں سر رکھ لیا صباحت حجاب کے بال سہلانے لگی
☆☆☆☆☆☆☆
“بیگم باہر آؤ تھوڑی چہل قدمی کر لیں” رات کے کھانے کے بعد احسان الحق نے صباحت سے کہا اس سے پہلے کہ صباحت جواب دیتی تینوں بیٹیاں دوڑتی ہوئی احسان الحق کے پاس آئیں
’’ابوہم چلتے ہیں آپ کے ساتھ واک کے لئے ‘‘
کچن سے صباحت نے کہا۔ “آپ لوگ چلین میں کچن کی چیزیں سمیٹ کر آتی ہوں”
احسان الحق بیٹیوں کے ساتھ چہل قدمی کے لئے چلے گئے۔ خنکی بھری ہلکی ہلکی ہوا ہر دور تک پھیلی تھی ان چاروں کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا۔ اردگرد کی کوٹھیوں کے مقیم کم ہی باہر نکلتے تھے۔
“ابو ہم اس نئے گھر کی خوشی میں عزیز و اقارب کو پارٹی دیتے ہیں بہت مزہ آئے گا۔ ثانیہ نے جھٹ سے اپنے دل کی بات کہہ دی حجاب اسے گھورتی رہ گئی احسان الحق نے مسکراتے ہوئے ثانیہ کے کندھے پر تھپکی دی۔
”کیوں نہیں! ہم نئے گھر کی خوشی میں اچھا سا فنکشن کریں گے سب رشتہ داروں کو بلائیں گے مگر تھوڑا سا کام جو میں کروانا چاہتا ہوں وہ کر لوں چند لائیٹس تبدیل کروانی ہیں اور دروازوں کا رنگ بھی تبدیل کروانا چاہتا ہوں۔اس کے بعد انشاءاللہ فنکشن کریں گے۔ تم تینوں ابھی سے کپڑے سلوانا شروع کر دو‘‘
”کون سے کپڑوں کی بات ہورہی ہے۔” صباحت تیز تیز قدم چلتی ہوئی ان کے ہم قدم ہوگئی۔
”بھئی! ہم نئے گھر کی خوشی میں فنکشن کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ احسان الحق نے کہا تو صباحت نے ہوا میں ہاتھ لہرادیا۔
’’کوئی ضرورت نہیں ہے، اس فضول خرچی کی۔ بس قرآن پاک کا ختم دلوائیں گے۔ کھانا میں گھر میں پکاؤں گی۔ ”
تحریم منہ بسور کے بولی۔
’’لو جی سارا پروگرام چوپٹ‘‘
“کوئی پروگرام چوپٹ نہیں ہوگا اس بار آپ کی کوئی کنجوسی نہیں چلے گی جیسا میری بیٹیاں چاہتی ہیں ۔ وہی ہوگا۔‘‘
صباحت بھی مسکرادی۔ ”ٹھیک ہے اگر آپ سب کی یہی مرضی ہے تو میں منع نہیں کروں گی لیکن پھر بھی کہوں گی کہ سادگی اچھی چیز ہے”
اس بار احسان الحق صباحت کے قریب آگئے “آپکی انہیں باتوں کی وجہ سے آج ہم اپنا گھر بنانے کے قابل ہوئے ہیں۔”
صباحت نے آسمان کی طرف دیکھا “یہ سب اس پروردگار کا کرم ہے۔ خدا ہماری ان خوشیوں کو قائم رکھے”
☆☆☆☆☆☆☆
صباحت حجاب کے دھلی ہوئے کپڑے اس کی وارڈ روب میں رکھنے کے لئے اس کے کمرے میں آئی حجاب اپنا جیولری بکس لے کر بیٹھی ہوئی تھی صباحت اس کے کپڑے الماری میں رکھنے لگی
“حجاب اتنی ںڑی ہوگئی ہو اپنے کپڑے خود الماری میں رکھا کرو”
حجاب کو جیسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا وہ جیولری بکس میں پاگلوں کی طرح جیسے کچھ ڈھونڈ رہی تھی صباحت نے اسے اس طرح پریشان دیکھا تو پوچھنےلگی
“کیا ڈھونڈ رہی ہو….؟”
حجاب نے بھنویں سیکڑتے ہوۓ ماں کی طرف دیکھا۔ ’’میری انگوٹھی نہیں مل رہی ، اس میں نیلم جڑا تھا۔‘‘
صباحت نے ہونٹوں کو کھینچتے ہوۓ دوسری طرف منہ کر لیا۔ وہ من ہی من میں سوچنے لگی۔ “وہ انگوٹھی تمہیں کیسے ملے گی وہ تو میں نے بی بی بختاور کو دے دی تھی۔”
اچانک حجاب کی خوشی سے جھومتی آواز صباحت کے کانوں سے ٹکرائی۔
“مل گئی میری انگوٹھی یہ تو میرے پاؤں کے پاس پڑی تھی شاید جیولری بکس سے گر گئی ہوگی”
صباحت کے پورے جسم میں جھرجھری کی لہر دوڑ گئی “یہ کیسے ہو سکتا ہے”
” یہ انگوٹھی تو بختاور بی بی کے پاس تھی۔ ان کی وفات کے بعد تو نہ میں ان کی کوٹھی گئی اور نہ ہی کوئی اور ان کی کوٹھی سے آیا۔ کہیں وہ آسیب اس گھر میں بھی……اچا نک ثانیہ کی آواز پر صباحت خیال سے چونک گئی…..شام کے وقت مطالعہ کے لئے تینوں بہنیں لان میں بیٹھ گئیں۔
حجاب چودھویں جماعت میں تھی ۔ اس لئے وہ ثانیہ اور تحریم کو خود ہی پڑھا لیتی تھی ثانیہ گیارھویں جماعت میں تھی اور تحریم نویں جماعت کی طالبہ تھی۔ تینوں نے ہی آرٹس کے مضامین کا انتخاب کیا تھا ان کا سائنس سبجیکٹ کی طرف رجحان نہیں تھا اس لئے حجاب کو انہیں پڑھانے میں دقت محسوس نہیں ہوتی تھی۔
ثانیہ کو نہ جانے اچانک کیا خیال آیا وہ خالی صفحہ پر اچانک پینسل گھماتے ہوئے حسرت سے بولی ” کاش ہمارا بھی کوئی بھائی ہوتا ابا جان کس قدر پر اعتماد ہوتے اگر ہم تینوں میں سے کوئی ایک بیٹی کے بجائے بیٹا ہوتا”
“ابھی بھی تو ابا جان پر اعتماد ہیں ۔‘‘حجاب نے ثانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ثانیہ انتہائی سنجیدہ ہوگئی۔
“انکی ذات میں ایک عجیب سا خلا ہے”
حجاب نے کتاب بند کر دی اور ثانیہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی ’’میری ایک بات ہمیشہ یادرکھنا۔ زندگی میں کسی بھی چیز کی کمی اس وقت محرومی نہیں بنتی جب تک ہم اسے محرومی نہ سمجھیں۔ وقت آنے پر ہم بھی بیٹوں کی طرح ابا جان کی ذمہ داریاں بانٹ سکتے ہیں۔‘‘
صباحت جوگل چیں کے پودے کے قریب کھڑی بیٹیوں کی باتیں سن رہی تھی مسکراتے ہوۓ حجاب کے پاس بیٹھ گئی۔ ’’حجاب تو میرا بڑا بیٹا ہے۔‘‘
حجاب نے ماں کے گلے میں بانہیں حائل کر دی۔ صباحت حجاب کے بال سہلانے لگی –
’’جس کی اتنی سمجھدار بیٹی ہو اسے حالات کے اتار چڑھاؤ کا کیسا غم ۔ بس اپنے والدین کی ایک خواہش تم تینوں بیٹیوں نے پوری کرنی ہے۔‘‘
“کون سی خواہش؟‘‘ ثانیہ اورتحریم بھی ماں کے قریب ہوکر بیٹھ گئیں۔ صباحت نے انتہائی پیار سے بیٹیوں طرف دیکھا۔
“دل لگا کر پڑھنا ہے۔ مجھے اور اپنے آپ کواپنے پیروں پر کھڑا ہوکر دکھانا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو کامیاب کرنے کے بعد بیاہیں۔
☆☆☆☆☆☆☆
صباحت صبح اٹھی، اس نے حسب معمول ناشتہ تیار کیا، بیٹیوں کو جگایا۔ اس نے احسان الحق کو دو تین مرتبہ جگایا لیکن وہ جیسے جاگنے پر آمادہ نہیں تھے صباحت سارے کام چھوڑ کر انکے پاس بیٹھ گئی
’’ آپ کی طبیعت ٹھیک۔”
احسان الحق نے صباحت کی طرف کروٹ لے لی۔ ’’سینے پر بوجھ سا ہے۔”
“آپ آرام کریں میں ملازم کو فون کر کے کہہ دیتی ہوں کہ وہ دکان کھول لے۔‘‘
صباحت اٹھنے لگی تو احسان الحق نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
”کیا کر رہی ہو بیگم یہ تو معمولی سا مسئلہ ہے رات کھانے کے بعد واک کیئے بغیر سوگیا تھا اس لئے ایسا محسوس ہو رہا ہے۔ میں دکان پر جاؤں گا تم آیسا کرو کہ چائے کے ساتھ بسکٹ لے آؤ میں فریش ہو جاتا ہوں‘‘
صباحت نے خفگی سے منہ پھیرلیا۔
”پہلے کب میری بات مانی ہے جواب مانیں گے۔
”بیگم آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن یہ کاروباری معاملے آپ نہیں سمجھ سکتیں ویسے طبیعت مزید خراب ہوئی تو دکان بند کر کے گھر چلے آئیں گے۔” احسان الحق نے بیگم کو منا ہی لیا۔
احسان الحق کے دکان پر جانے کے بعد صباحت گھر کے کام کاج میں مصروف ہوگئی بیٹیوں کے آنے سے پہلے اس نے دوپہر کا کھانا تیار کر دیا۔ احسان الحق بھی دو پہر کا کھانا گھر کھاتے تھے۔ بیٹیاں آئیں تو فریش ہو کے ماں کے ساتھ کچن میں مددکر نے لگیں ۔
صباحت نے دکان پرفون کیا۔ لیکن کسی نے بھی فون نہیں اٹھایا۔ تحریم صباحت کے پاس آئی۔
“اماں ابا جان کب آئیں گے مجھے بہت بھوک لگی ہے”
“بس میری بیٹی، آنے ہی والے ہیں ۔ پھر اکٹھے کھانا کھائیں گے۔ دکان پر فون کوئی نہیں اٹھا رہا۔” صباحت نے کہا۔
تحریم ماں کے پاس بیٹھ گئی۔
“رش ہوگا دکان پر۔ آپ کچھ دیر بعد فون کر نا شاید اٹھالیں۔”
صباحت نے کچھ دیر بعد تین چار مرتبہ فون کیا لیکن کسی نے فون نہیں اٹھایا وہ موبائل پر بھی کوشش کرتی رہی لیکن موبائل بھی آف تھا۔ حجاب اور ثانیہ بھی صباحت کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔
صباحت نے حجاب سے کہا۔ ”تم بہنوں کو کھانا کھلا دو۔ لگتا ہے کہ تمہارے ابا جان زیادہ مصروف ہیں ۔‘‘
“نہیں۔ انہیں ابھی بھوک نہیں ہے، ہم ابا جان کے ساتھ ہی کھانا کھائیں گے۔‘‘ حجاب نے کہا۔
صباحت نے تحریم کی طرف دیکھا۔
“تحریم کو بھوک لگی ہے اسے کھا نا ڈال دو‘‘
تحریم نے حجاب اور ثانیہ کی طرف دیکھا۔ ”اگر یہ دونوں کھانا نہیں کھار ہیں تو پھر مجھے بھی بھوک نہیں ہے۔‘‘ تحریم نے سر جھٹک دیا۔
“اگر کچھ دیر تک رابطہ نہ ہو تو میں خود جاؤں گی ۔” یہ کہہ کر صباحت ٹیلی فون کے پاس سے اٹھنے لگی تو ٹیلی فون کی بیل ہوئی ۔اس نے فون اٹھایا تو کسی کے پہلے فقرے نے ہی اسکی دنیا اجاڑ دی ایک ہی ساعت میں وہ بے سائباں ہوگئی۔
“احسان الحق صاحب کا انتقال ہو گیا ہے” اس فقرے کے بعد وہ باقی بات سن نہ سکیں اس کے حلق سے چیخ نکلی اور رسیور ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ حجاب نے جلدی سے رسیور اٹھایا تو کوئی کہہ رہا تھا۔ “ہم تھوڑی دیر میں ایمبولینس میں میت گھر لا رہے ہیں۔‘‘
جس کے ساتھ ہی فون بند ہو گیا۔ حجاب کا دل ڈوبنے لگا۔ اس نے ماں کی طرف دیکھا جو ایک کونے میں بیٹھی بلک بلک کر رو رہی تھی۔ حجاب صباحت کے پاس بیٹھ گئی۔
’’اماں! ٹیلی فون پر وہ شخص کس کی بات کر رہا تھا؟ کس کی میت وہ گھر لا رہے ہیں؟‘‘
حجاب کے سوال پر صباحت اور اونچااونچا رونے لگی ۔اس کی ٹھوڑی اور ہونٹ اس طرح کانپ رہے تھے کہ وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی۔ اتنی دیر میں ایمبولینس کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔ تینوں بہنیں گیٹ کی طرف دوڑیں۔ کچھ لوگوں نے ایمبولینس سے میت نکالی اور اسے لان میں رکھ دیا۔ لاش کے اوپر سر سے پاؤں تک سفید کپڑا تھا۔ صباحت بھی دوڑتی ہوئی چار پائی کے پاس آ گئی۔
احسان الحق کے کچھ قریبی دوست متاسفانہ انداز میں سر جھکائے چار پائی کے قریب کھڑے تھے۔ حجاب ان کے قریب آئی۔
“انکل! کس کی لاش ہے؟‘‘ اس شخص نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے حجاب کی طرف دیکھا اور پھر آگے بڑھ کر لاش کے چہرے سے کپڑا اٹھا دیا۔ ماں بیٹیوں کی درد سے بھری چینیں فضا میں گونج اٹھیں۔ احسان الحق نئے گھر کی خوشی میں رشتے داروں کو بلانا چاہتے تھے۔ اس کی برادری اکٹھی بھی ہوئی تو کس موقع پر ،سب رشتے دار فرضی رسومات ادا کر کے چلتے بنے۔ اس مطلب پرست دنیا میں صباحت اور اس کی بیٹیاں تنہارہ گئیں۔
بہت عرصہ ماں بیٹیاں غموں کے اندھیروں میں ڈوبی رہیں جن زخموں کو ڈھارس کا مرحم نہ ملے ان زخموں کو وقت ہی بھرتا ہے۔
انہیں بھی جینے کے ڈھنگ آگئے۔ ان کی آنکھوں میں چمکتے خواب نا امیدی کی بندگلی میں دم توڑ گئے۔
حجاب نے گریجویشن کے بعد ایک سرکاری سکول میں ٹیچر کی ملازمت کر لی ۔احسان الحق کا جنرل سٹور ایک سیلز میں چلا رہا تھا جس سے صباحت باقاعدہ حساب لے لیتی تھی دکان کی آمدنی بہت کم ہو گئی تھی سیلز مین اپنی جیب گرم کرنے کے چکر میں لگا رہتا اور صباحت کو یہی سننے کو ملتا تھا
“دکان گھاٹے میں جارہی ہے۔‘‘
صباحت نے دو سالوں میں دس سال کی مسافت طے کر لی تھی۔ وہ بہت جلدی بوڑھی ہوگئی تھی ۔
حجاب گھر آئی تو وہ کافی خوش تھی آج یکم تھی اسے سکول سے تنخواہ ملی تھی ہر یکم کو اسکا چہرہ ایسے ہی کھل اٹھتا تھا اور جب مہینے کا آخر ہوتا تو اخراجات کی پریشانی اسکا چہرہ افسردہ اور آنکھیں ویران کر جاتی وہ کھوئی کھوئی گھر کے کسی کونے میں کبھی کسی کونے میں بیٹھی رہتی ۔ثانیہ اورتحریم کالج سے کافی دیر پہلے کی آئی ہوئی تھیں۔
’’حجاب آپی! ہم تمہارا کب سے انتظار کر رہے ہیں، اتنی زور کی بھوک لگی ہوئی ہے ۔آج اتنی دیر سے کیوں آئی ہو؟‘‘ تحریم نے چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
حجاب بھی فریش ہو کے کھانے کے ٹیبل کے پاس بیٹھ گئی۔
’’آئندہ تم میرا انتظار مت کرنا، کھانا کھا لیا کرنا، میں نے چار ٹیوشنز لی ہیں جو میں اوور ٹائم میں سکول میں ہی پڑھایا کروں گی۔‘‘ پھر اس نے صباحت کی طرف دیکھا جو بیٹیوں کو کھا نا سر و کر رہی تھی ۔
’’اماں ! کل سے میں لنچ ساتھ لے جایا کروں گی۔‘‘ تحریم نے بے دلی سے لقمہ منہ میں ڈالا۔
’’ہاں لے جایا کرنا۔ یہ دال کا سوپ ،سکول والوں کو بھی پتہ چل جائے گا کہ ہم گھر میں کیا کھاتے ہیں۔”
حجاب نے غصے سے تحریم کی طرف دیکھا۔
“ہمیں لوگوں سے کیا لینا شکر کرو کہ بھوکے نہیں سوتے‘‘ تحریم نے کھانا چھوڑ دیا۔
“کھانے سے زیادہ میں روز کے ان لیکچروں سے تنگ آ گئی ہوں۔‘‘ حجاب نے صباحت کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر ایسی ہی خاموشی ٹھہر گئی تھی جیسی خاموشی خوفناک طوفان کے بعد سائیں سائیں کرتی ہوئی بربادی کی داستان سناتی ہے بر حجاب اپنے ہونٹوں کو بھینچتی ہوئی نہ جانے کتنی باتیں من میں دباۓ اپنے کمرے میں چلی گئی۔
صباحت حجاب کے پیچھے پیچھے اس کے کمرے میں آ گئی۔اس کے ہاتھ میں حجاب کے لئے کھانا تھا۔ وہ حجاب کے پاس بیٹھی تو حجاب سے آنسو بھری آنکھیں چھپانے کے لئے دوسری طرف منہ کر لیا صباحت نے حجاب کا چہرہ اپنی طرف موڑ لیا۔
“کھانا کھا لو میری بیٹی تمہاری ماں کے پاس اپنی بیٹیوں کے علاوہ اور کونسی خوشیاں ہیں اگر تم اسطرح آنسو بہاؤ گی تو تمہاری ماں کیسے جیئے گی تحریم کی باتوں کو دل پر مت لیا کرو حالات نے اسے چڑچڑا سا کر دیا ہے اپنی خواہشات مارتے مارتے انسان خوش رہنا ہی بھول جا تا ہے اور تم ہم سب کے مسئلوں میں یہ کیوں بھول جاتی ہوں کہ تم نے بھی ایک دنیا بسانی ہے تمہاری شادی کی عمر ہے” صباحت حجاب سے کچھ اور بھی کہنا چاہتی تھی لیکن حجاب نے اسے کچھ اور کہنے کا موقع ہی نہیں دیا
“اماں۔۔۔۔آپ میری شادی کے متعلق نہ سوچیں جب تک تحریم اور ثانیہ کی تعلیم مکمل نہیں ہو جاتی میں اپنے بارے میں نہیں سوچ سکتی ۔ میری دنیا تو میرے یہ رشتے ہیں۔ مجھے یہ رشتے چھوڑ کر نئی دنیا نہیں بسانی‘‘
یہ کہہ کر حجاب اپنے آنسو پونچھتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔صباحت نے حجاب کے بجھے ہوۓ چہرے کی طرف دیکھا۔
“یہ جو کچھ تم کہہ رہی ہو، اتنا سہل نہیں ہے……”
ثانیہ کمرے میں داخل ہوئی اس کے ہاتھ میں لیٹر تھا۔ وہ لیٹر صباحت کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی “یہ لیٹر آپ کے نام ہے”
صباحت نے لیٹر اس کے ہاتھ سے لے لیا دیکھا لیٹر پر اسی کا نام تھا صباحت نے لیٹر دیکھا اسمیں ایک رقعہ تھا اور ساتھ ایک بند لفافہ صباحت لیٹر پڑھنے لگی تو حجاب نے اسکے شانوں پر ہاتھ رکھ لیئے
’’آپ بھی میرے ساتھ کھانا کھائیں۔ یہ لیٹر بعد میں پڑھ لینا‘‘
حجاب نے صباحت کے ہاتھ سے لیٹر کا لفافہ لے کر میز پر رکھ دیا
کھانے کے بعد جب سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے چلے گئے تو صباحت نے وہ لیٹر پڑھنے کے لئے اٹھایا۔
اس وقت وہ اپنے کمرے میں اکیلی تھی لیٹر مینو بابا کا تھا جو بی بی بختاور کا پرانا وفادار ملازم تھا۔صباحت نے خط پڑھنا شروع کیا۔ ’’صباحت بیٹی! میری بیٹی بی بی بختاور کے کپڑوں کی الماری کی سیٹنگ کر رہی تھی تو اسے یہ لفافہ ملا جو آپ کے نام تھا غالبا بی بی بختاور یہ لفافہ آپ تک پہنچانا چاہتی تھیں لیکن زندگی نے انہیں وقت نہیں دیا۔ اس لئے ان کا یہ کام میں کر رہا ہوں‘‘
صباحت نے لفافہ کھولا تو اس کی ساری توجہ اس لیٹر کی طرف ہوگئی۔ وہ لیٹر پڑھنے لگی تو حجاب اور دونوں بہنیں صباحت کوکھانے کے لئے لے گئیں۔ صباحت کھانے کے دوران اس لفافے کے بارے سوچتی رہی اس نے جلدی جلدی کھانا کھایا اور لفافہ پڑھنے کے لیئے حجاب کے کمرے میں چلی گئی اس نے لفافہ اٹھایا اور حجاب کے کمرے میں کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی اس نے لفافہ کھولا تو اس میں چار سطریں لکھی ہوئی تھیں
“صباحت میں نے بہت کوشش کی کہ تمہیں اس آسیب سے چھٹکارا دلا دوں لیکن وہ آسیب جس گروہ سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس کی طاقت کے آگے میرا بڑے سے بڑا علوم بھی محدود ہو جا تا ہے ؟ لیکن اپنی جادوئی کرامات سے میں نے اس آسیب کو دوسال کے لئے قید کر دیا ہے۔ اگر زندگی رہی تو دوسال کے بعد پھر اس مسئلے کا حل نکالوں گی۔ لیکن زندگی کا کیا بھروسہ تمہیں خبر دار کرنا چاہتی ہو کہ وہ آسیب دوسال کے بعد حجاب کی زندگی میں واپس آ جاۓ گا ۔‘‘
“اللہ حافظ۔”
صباحت کے کانپتے ہاتھوں سے رقعہ چھوٹ گیا۔ اس کا چہرہ پسینے سے شرابور ہو گیا۔ مارے گھبراہٹ کے وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ دو سال کا عرصہ تو پورا ہو گیا ہے۔ حجاب کمرے میں داخل ہوئی تو صباحت نے رقعہ کو اپنے پیروں سے چھپالیا۔ حجاب ماں کے قریب آئی ۔
’’اماں ۔ کیا بات ہے، آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا اس قدر پسینہ کیوں آ رہا ہے۔”
“کچھ نہیں بیٹا! بس مجھے ذرا پانی پلا دو۔‘‘ صباحت نے کہا۔
حجاب پانی لینے کے لئے دوسری طرف پلٹی تو صباحت نے جلدی سے رقعہ اپنی مٹھی میں کس لیا۔
حجاب پانی کا گلاس لائی ،صباحت نے پانی پیا۔
“نماز کا وقت ہو گیا ہے میں جا کر نماز پڑھتی ہوں۔” یہ کہہ کر صباحت وہاں سے چلی گئی۔ حجاب بھی وضو کر کے نماز پڑھنے لگی ۔ نماز کے بعد وہ کوئی اچھی سی کتاب لے کر بیٹھ گئی۔ ثانیہ اور تحریم بھی اس کے کمرے میں آ گئیں ۔تحریم کی یہ عادت تھی ، پہلے ایسی بات کہہ دیتی جس سے کسی کو اذیت ہوتی بعد میں تحریم اپنی ہی کہی ہوئی بات پر پچھتاتی ۔ابھی بھی وہ خاموشی سے ترچھی نظر سے حجاب کو دیکھ رہی تھی جو کتاب پڑھنے میں مگن تھی تحریم حجاب کے قریب ہوکر بیٹھ گئی ۔
“آپی سوری مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیئے تھا پتہ نہیں مجھے اچانک کیسے شدید غصہ آجاتا ہے۔ کب تک ہم یہ مفلسی کی زندگی گزاریں گے”
حجاب نے کتاب بند کر دی اور تحریم کی آنکھوں میں جھانکا جس میں بے پناہ سوال تھے
’’شاید ہم نے اچھے وقتوں میں اپنے پروردگار کا کم شکر ادا کیا ہوگا لیکن انسان تو وہ ہے جو ہر حالات میں حوصلے سے کام لے۔ تم اس پر مطمئن نہیں ہو کہ ہمارے پاس اتنا ہے کہ ہمیں کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانے پڑتے ۔اپنی ذات کے اعتماد کے لئے یہ بات کافی نہیں۔”
تحریم حجاب سے لپٹ گئی۔ “کوش کروں گی کہ اس طرح خفا نہ کروں آپکو” پھر اس نے حجاب کے ہاتھوں میں تھامی ہوئی کتاب دیکھی ۔
“یہ تصوف والی کتابیں آپ کب سے پڑھنے لگی۔‘‘
“یہ کتاب چھوڑو۔ چلواٹھ کے نماز پڑھو۔‘‘ حجاب نے اس کے کندھے پر ہلکی سی تھپکی دی۔
حجاب فجر کی نماز کے لئے اٹھی تو اس نے دیکھا کہ صباحت کے ہاتھ میں پانی کا گلاس ہے اور وہ گھر کے کونوں میں پانی چھڑک رہی ہے۔
حجاب صباحت کے قریب گئی تو وہ ہڑ بڑا گئی۔
“اماں کیا بات ہے، اس قدر گھبرائی ہوئی کیوں ہیں اور یہ پانی”
صباحت نے حجاب کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں کے سیاہ حلقے بتارہے تھے کہ وہ رات بھر سوئی نہیں۔ اس نے حجاب سے نظریں چراتے ہوۓ پانی کا گلاس میز پر رکھ دیا.
“یہ دم کیا ہوا پانی ہے چاروں کونوں میں چھڑک رہی ہوں تا کہ برکت ہو ۔‘‘
“جیسی آپ کی مرضی ۔ لیکن مجھے آپ کی صحت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔آج میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں گی ‘‘حجاب نے ماں کے شانے پر سر رکھ لیا۔
صباحت نے حجاب کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ “مجھے کچھ نہیں ہو بس ذرا پریشانی ہے۔ میری اس بیماری کا حل دواؤں میں نہیں، دعا میں ہے۔ میں کسی بزرگ کے آستانے پر جانا چاہتی ہوں۔‘‘
حجاب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “بس اتنی سی بات، ہم کل ہی کسی بزرگ کی زیارت کے لئے جائیں گے۔” یہ کہہ کر جاب نماز کے لئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
حجاب تو اپنے کمرے میں چلی گئی لیکن صباحت کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی۔کسی بزرگ کے مزار پر جانے کی بات پر اسے اپنے مرحوم شوہر کی بات یا دآ گئی ۔ جو کہتے تھے کہ جب تک ہمیں کوئی ماورائی مخلوق نہیں ستاتی، ہماری بیٹی حجاب ٹھیک ہے تو کوئی ضرورت نہیں۔ اور خداوند کریم کے حضور سربسجود ہوگئی۔
“آپ ہی ہماری حفاظت کر نے والے ہیں۔‘‘ حسب معمول حجاب، ثانی اور تحریم ناشتے کے بعد کالج چلی گئیں ،حجاب اپنے سکول چلی گئی ۔ حجاب نے صباحت کی صحت کوملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ملازمہ کا بندوبست کر دیا تھا۔ صباحت گھر کی چیزیں سمیٹنے لگی اتنی دیر میں ملازمہ بھی آ گئی ۔
صباحت اپنے کام سے فارغ ہو کر ٹی وی لاؤنج میں صوفے پر براجمان ہوگئی۔ باہر بیل ہوئی تو صباحت نے اٹھ کر دروازہ کھولا ۔
’’جی آپ کون ہے ۔‘‘
جی آپ صباحت صاحبہ ہیں۔ باہر کھڑے ہوۓ وجیہہ نوجوان نے مودبانہ انداز میں کہا۔ ۔۔۔”
”جی ہاں ! میں ہی صباحت ہوں۔ کیا کام ہے آپ کو”
“اندر آنے کو نہیں کہیں گی، مجھے آپ سے جو کام ہے اس طرح نہیں بتایا جا سکتا۔‘‘
صباحت نے اسے سرتا پا دیکھا، وہ چھ فٹ کا خوبصورت جوان تھا، اس نے سفید قمیص شلوار پہن رکھی تھی۔ بال گھنے اور سیاہ تھے۔ ناک تیکھی، آنکھیں بڑی اور شفاف، چہرے کا رنگ صاف اور معصومیت ایسی بلا کی کہ صباحت کوا سے مہمان خانے میں بٹھاتے ہوۓ ایک بار بھی نہیں سوچنا پڑا۔ دونوں مہمان خانے میں بیٹھے تو صباحت نے ملازمہ سے چائے لانے کو کہا۔
” آپ چاۓ کا تکلف نہ کریں” نوجوان نے ہچکچاتے ہوۓ کہا۔
صباحت جلدی سے اصل بات کی طرف آگئی ۔
”دراصل! میں آج کل بہت پریشان ہوں اور آپ ہی میری مدد کر سکتی ہیں”
“کیسی مدد پہلے تم اپنا تعارف تو کراؤ میں تو تمہیں جانتی تک نہیں” صباحت نے بیگانی نظروں سے نوجوان کی طرف دیکھا۔
”میرا نام اذہاد ہے، میں اس شہر کے قریبی گاؤں کا رہنے والا ہوں کسی کام کے سلسلے میں اس شہر میں رہنے آیا ہوں پر رہائش نہیں مل رہی۔ اسی معاملے کے سلسلے میں، میں آپ کے پاس آیا ہوں۔”
“میں کچھ سمجھی نہیں ، اس معاملے میں، میں تمہاری کیا مدد کر سکتی ہوں ۔‘‘ صباحت نے چاۓ نو جوان کے آگے رکھتے ہوۓ کہا۔
نوجوان اپنی ہاتھوں کی بے جا حرکت سے کافی نروس لگ رہا تھا، اپنے خشک ہونٹوں کو بھینچتے ہوئے بولا
“وہ…وہ میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے گھر کا ایک کمرہ مجھے کرائے پر دے دیں۔‘‘ صباحت غصے سے کھڑی ہوگئی
“تمہیں کس نے کہا کہ میں کمرہ کرائے پر دینا چاہتی ہوں۔”
”آنٹی میں پریشان اور ضرورت مند ہوں اس لئے آپ کے پاس آیا ہوں۔ میں آپ کو چار ہزار روپے ماہانہ دوں گا، صرف چند ماہ کی بات ہے۔ جونہی میرا کام ہو گا، میں چلا جاؤں گا ۔‘‘ اذہاد نے التجا بھرے لہجے میں کہا۔
صباحت نے ایک بار پھر اس پر گہری نظر ڈالی۔ تم کسی ہوٹل میں بھی توٹھہر سکتے ہو۔‘‘
”آنٹی، مجھے ہوٹل میں رہنا پسند نہیں۔‘‘
صباحت اس کی بات سن کر دوبارہ بیٹھ گئی اور تحمل سے بولی۔
” دیکھو بیٹا! اگر میں تمہاری مجبوری سمجھ بھی لوں تو میں اپنی مجبوری کا کیا کروں گی۔‘‘
آنٹی میں آپ کے بیٹے جیسا ہوں آپ مجھ سے کھل کے بات کر لیں۔‘‘
اذہاد کے لہجے کی اپنائیت نے صباحت کو مجبور کر دیا کہ وہ اس سے اپنے من میں چھپی بات کہہ سکے۔ “میں تین جوان بیٹیوں کی ماں ہوں۔ وہ بیٹیاں ہی میری مجبوریاں ہیں۔ میرا کوئی بیٹا نہیں، نہ ہی خاوند کا سایہ ہے اگر میں تمہاری پریشانی سمجھ کر کمرہ کرائے پر دے بھی دوں تو لوگ کیا کہیں گے”
“آنٹی مجھے ایک بات بتائیں ان لوگوں نے جن لوگوں سے آپ ڈر رہی ہیں کبھی آپ کے دکھ بانٹے … کوئی بھی نہیں ہوتا ۔‘‘ اذہاد نے پوچھا تو صباحت کی آنکھیں بھر آئیں
“ان لوگوں نے ہمیشہ میرے غموں کا مزاق اڑایا ہے سکھ کے ساتھی تو بہت سوتے ہیں غموں کا ساتھی کوئی نہیں ہوتا”
“میں یہی تو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کریں آپ مجھے باہر والا کمرہ دے دیں جو گیٹ کے ساتھ ہے۔ آپ اپنی بیٹیوں سے مشورہ کر لیں، میں کل حاضر ہو جاؤں گا اور یہ میرا ایڈریس ہے۔ آپ چاہیں تو میرے گاؤں میں کسی کو بھیج کے میرے بارے میں پتا کراسکتی ہیں۔‘‘ صباحت نے اس کے ہاتھ سے کاغذ لے لیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: