Urdu Novels Wajiha Saher

Khajoor Ka Darakht by Wajiha Saher – Episode 4

Khajoor Ka Darakht by Wajiha Saher
Written by Peerzada M Mohin

کھجور کا درخت از وجیہہ سحر – قسط نمبر 4

–**–**–

کوئی عورت حجاب سے ملنے آئی۔ حجاب کپڑے استری کر رہی تھی۔ صباحت اور اس عورت کی آواز حجاب کے کانوں سے ٹکرائی ۔عورت کہہ رہی تھی۔
’’بہت اچھا رشتہ لے کر آئی ہوں حجاب بیٹی کے لئے۔ لڑکا بینک میں ملازم ہے۔ ماں کا اکلوتا بیٹا ہے۔ اپنا گھر گاڑی خدا کا دیا ہوا سب کچھ ہے۔‘‘
“رشتہ تو واقعی اچھا تم ایسا کرو کہ ان لوگوں کو پرسوں لے آؤ‘‘ صباحت نے کہا۔ ”میں تو کہتی ہوں کہ کل ہی سے لے آتی ہوں۔‘‘ عورت جھٹ سے بولی ۔
“کل مجھے کچھ کام ہے۔“ صباحت نے سمجھایا۔
عورت اپنی چادر درست کر تے ہوئے اٹھ بیٹھی “اب مجھے اجازت دو…”
“میں تو تمہارے لیئے چائی بنوانے لگی تھی‘‘ صباحت نے اسے روکنا چاہا لیکن وہ جلدی میں تھی ۔
استری کرنے کے بعد حجاب صباحت کر بیٹھ گئی۔ اس کا چہرہ یک لخت اتر گیا۔صباحت نے اس کا لٹکا ہوا منہ دیکھا تو پوچھنے لگی۔
’’یہ چہرے پر بارہ کیوں بج رہے ہیں؟‘‘ حجاب نے شکوہ بھری نظروں سے ماں کی طرف دیکھا۔
’’اماں ! میں نے کہا تھا نہ کہ ابھی میں نے شادی نہیں کرنی ‘‘
“اچھا تم نے میری اور فاخرہ کی باتیں سن لی ہیں میں نے خود تم سے اس موضوع پر بات کرنی۔ میں تمہاری شادی نہ کرنے کی وجہ جانتی ہوں لیکن میں ایسا ہر گز نہیں ہونے دوں گی پہلے بھی کئی رشتے تماپنی ضد کی وجہ سے ٹھکرا چکی ہو۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ صباحت نے حکم سنانے کے انداز میں کہا۔
’’میں تو صرف یہ چاہتی ہوں کہ ثانیہ اورتحریم کی تعلیم مکمل ہو جائے۔ اس کے بعد آپ سوچیں۔‘‘ حجاب نے ماں سے التجا کی لیکن صباحت نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔
”میں تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں ۔تم نے اپنے بارے میں کبھی نہیں سوچنا۔ ثانی اور تحریم کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد تمہیں ان کی شادیوں کی فکر ہو جاۓ گی۔ یہی عمر ہے شادی کی۔ اگر تمہاری عمر ڈھل گئی تو بہت مشکل ہو جاۓ گی ۔‘‘
حجاب ماں کو کوئی جواب نہ دے سکی لیکن اس کی آنکھوں سے اشک بہہ کر اس کے چہرے کو بھگور ہے تھے۔ ثانیہ نے حجاب کو اس طرح روتے دیکھا تو صباحت کے قریب بیٹھتے ہوۓ کہنے لگی۔
“آپک کہا ہوا؟”
حجاب آنسو پونچھتے ہوئے کمرے میں چلی گئی ثانیہ بھی اسکے پیچھے پیچھے کمرے میں چلی گئی
رات کو ثانیہ نے کھانا لگایا اذہاد نے لونگ روم کا دروازہ کھٹکھٹایا
“آنٹی میں دکان پر جار ہا ہوں.”
جاتے جاتے ثانیہ کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
’’اماں ! میں نے آپی کو کھانے کے لیئے بلایا لیکن وہ کہتی ہے انہیں بھوک نہیں ہے۔ ’’
“جب زیادہ بھوک لگے گی تو خود ہی کھا لے گی ۔” صباحت نے سالن کا برتن تحریم کے نزدیک رکھتے ہوئے کہا۔
اذہاد گیٹ کے نزدیک گیا تو حجاب جھولے پر بیٹھی کسی سوچ میں گم تھی اذہاد کو خیال آیا کہ حجاب سے پوچھے کہ کیا معاملہ ہے مگر اسے خیال آیا کہ منیر دکان بند کر دے گا اس لیئے وہ تیزی سے نکل گیا۔ دکان سے واپس ۔ آیا تو حجاب اپنے کمرے میں جا چکی تھی ۔
اذہاد بستر پر لیٹ گیا لیکن ثانیہ کی بات بار بار اس کے دل میں کھٹکتی رہی اور اس نے حجاب کو بھی پریشان دیکھا تھا
رات کا ایک بج رہا تھا۔ حجاب بھی بے چین تھی۔اپنی بے خوابی سے تنگ آ کر وہ باہر لان میں چلی گئی۔ وہ جھولے کی زنجیر پر سر رکھ کے بیٹھ گئی اور خود سے باتیں کرنے لگی کہ اماں کیوں نہیں سمجھتی، مجھے ابا جی کے خواب پورے کرنے ہیں، ان کا خواب تھا کہ ثانی اور تحریم تعلیم مکمل کر کے اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائیں۔ اگر میں نے شادی کر لی تو کون ذمہ داری اٹھاۓ گا ؟ اماں بالکل اکیلی ہو جائیں گی، دکان کی آمدن زیادہ نہیں ہے کہ اس میں گھر کے اخراجات کے ساتھ ساتھ چھوٹی بہنوں کی تعلیم بھی پوری ہو سکے ۔‘‘
اذہاد کو بھی نیند نہیں آ رہی تھی ۔ وہ بھی باہر لان میں آ گیا۔ اس نے حجاب کو اس طرح بیٹھے دیکھا تو اس سے رہا نہیں گیا۔ وہ حجاب کے قریب آ گیا۔حجاب ایک لمحہ کے لئے تو گھبرا گئی۔
’’آپ یہاں اس وقت؟‘‘
“یہی سوال میں آپ سے کروں تو…” اذہاد جھولے کے قریب بینچ پر بیٹھ گیا۔
“میں نے سوچا تھوڑی دیر ٹہل کر آتی ہوں۔‘’ حجاب جھولے سے اتر کر اذہاد کے ساتھ بیچ پر بیٹھی۔
“اس دن جب آپ نے میری ڈریسنگ کی تھی، میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن کہہ نہ پایا” اذہاد نے سر جھکالیا۔
حجاب نے مسکراتے ہوئے پوچھا “کیوں ہچکچا رہے تھے ہم لوگوں نے کبھی آپ کو غیر نہیں سجھا، جو کہنا ہے بلا جھجک کہہ دو‘‘
اذباد نے حجاب کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ’’آپ مجھ سے دوستی کریں گی؟‘‘
کچھ دیر حجاب خاموشی سے اذہد کی طرف دیکھتی رہی پھر اس نے اپنا ہاتھ ازہاد کے ہاتھ میں دے دیا۔
“مجھ سے دوستی کر کے آپکو کیا ملے گا میں تو کسی کو خوشی کا ایک لمحہ بھی نہیں دے سکتی”
اذہاد نے حجاب کی معصوم آنکھوں میں جھانکا اور بولا ۔
“آپ کو کیا پتہ کون کب آپکی کس بات سے خوش ہو جاتا ہے خوشیاں نہ تو بانٹی جاتی ہیں، نہ چھینی جاتی ہیں یہ تو محسوسات میں کھل کر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہیں۔ چلیں ، آج سے ہم کے دوست ہوۓ۔”
“ہاں……‘‘ حجاب نے دھیرے سے کہا
”تو پھر دوستی کا سب سے پہلاحق ہوتا ہے کہ اپنے دوست سے کوئی بات نہ چھپائی جائے۔” یہ کہہ کر اذہاد نے اپنے پیچھے رکھی ہوئی کھانے کی پلیٹ حجاب کے سامنے رکھ دی۔
”آپ نے کھانا نہیں کھایا تھا شاید آپ آنٹی صباحت سے ناراض تھیں۔‘‘
اذہاد نے روٹی کا لقمہ لیا اور اپنے ہاتھ سے حجاب کی طرف بڑھایا۔
حجاب اس کا خلوص ٹھکرا نہ سکی اور اس نے اذہاد کے ہاتھ سے لقمہ لیا۔
’’آپ ھانا کھائیں میں چلتا ہوں۔” اذہاد اپنے کمرے میں چلا گیا۔
“ٹھہریئے ۔‘‘ حجاب نے اسے روکا ۔
وہ دوبارہ حجاب کے پاس بیٹھ گیا۔
”نہیں پوچھیں گے کہ میں امی سے کس بات ناراض تھی؟”
‘کس بات پر…؟” اذہاد نے پوچھا۔
’’پرسوں کچھ لوگ مجھے دیکھنے کے لئے آرہے ہیں، پر میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میں چاہتی ہوں کہ ثانیہ اور تحریم کی تعلیم مکملل ہونے پر میں اپنے ہاتھوں سے انکی شادی کروں۔ میں نے امی سے یہ نہیں کہا کہ میں شادی کبھی نہیں کروں گی مگر امی کہتی ہیں کہ ثانیہ اور تحریم کی تعلیم مکمل ہونے تک میری شادی کی عمر گزر جاۓ گی۔“
“اذہاد ایک لمحے کو جیسے پتھر کا بن گیا اسکے ہونٹ سلب ہو گئے وہ کچھ بول نہ پایا”
حجاب کے دوبارہ بلانے پر اس نے جھرجھری سی لی ۔
“آنٹی ٹھیک کہتی ہیں آپکو اس طرح ضد نہیں کرنی چاہیئے آپ کو اپنی بہنوں کے لئے اپنی زندگی پر باد نہیں کرنی چاہئے ۔ آپ کو آنٹی کی بات مان لینی چاہئے ۔‘‘
“یہ میرے لیئے بہت مشکل ہے” حجاب یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی
اذہاد کی حالت بہت عجیب ہو رہی تھی اشتعال میں اس نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ رکھی تھیں اس کے اندرایک لا واسا ابل رہا تھا۔ وہ خود کوانتہائی بے بس اور لاچار محسوس کر رہا تھا کہ وہ صباحت سے حجاب کا ہاتھ نہیں مانگ سکتا۔ جس لڑکی کے لئے اس نے اپناسب کچھ چھوڑ دیا جو لڑ کی اسے اپنی زندگی سے زیادہ پیاری ہے اس لڑکی سے وہ اظہار محبت بھی نہیں کر سکتا۔ اس کی پیشانی کی رگیں ابھر آئیں اور آنکھیں دہک کر انگارہ ہونے لگیں۔
وہ اپنے بازو پھیلا کر گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا اور کسی بھیڑیئے کی مانند چیخنے لگا۔ حجاب جو اپنے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی تھی سہم کر لان کی طرف دیکھنے لگی۔ صباحت تو ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی اور سورۃ اخلاص کا ورد کرتے ہوۓ لان کی طرف گئی ۔
بہت عجیب سی آواز آئی تھی، یہی لان سے ہی آئی تھی۔ اس نے لان کے چاروں طرف نظر دوڑائی مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔۔صباحت نے تسبیح پڑھتے ہوۓ اذہاد کے کمرے کی کھڑکی کی طرف دیکھا۔اذہاد بے خودسویا پڑا تھا۔ صباحت دوبارہ اپنے کمرے میں جا کر سوگئی ۔
“شاید یہ میرا وہم ہو۔ وہ آواز میں نے خواب میں سنی ہو۔”
اگلے روز بھی حجاب سب گھر والوں سے کھچی کھچی سی رہی۔ زیادہ وقت اس نے اپنے کمرے میں گزارا۔
صباحت بھی حجاب کے رویے کی وجہ سے پریشان تھی لیکن وہ اپنی بیٹی کو جانتی تھی وہ جانتی تھی کہ جب لڑکے والے آئیں گے تو خاموشی سے تیار ہو جائے گی وہ اپنی ماں کی نہ تو نافرمانی کرے گی اور نہ ہی مہمانوں کے سامنے کوئی غلط رویہ اختیار کرے گی۔
مہمانوں کے آنے کا دن بھی آ گیا
حجاب کے ساتھ ثانیہ بھی کچن میں مصروف تھی
“آج تو چائے کے ساتھ ساتھ بڑے مزے کی چیزیں بن رہی ہیں، کون آنے والا ہے؟‘‘
ثانیہ نے حجاب کو چھیڑا تو حجاب نے غصے سےکہا
”مجھے اس طرح کا مذاق بالکل پسند نہیں ہے۔“
تحریم دوڑتی ہوئی کچن میں آئی۔
”آپی وہ لوگ آ گئے ہیں ۔‘‘
تھوڑی دیر کے بعد صباحت نے حجاب سے چاۓ لانے کے لئے کہا تحریم اورثانیہ ان سے پہلے ہی مل چکی تھی۔ حجاب اندر چاۓ لے کر گئی تو اندر دوخواتین بیٹھی تھیں۔ ان میں سے ایک لڑکے کی ماں اور دوسری پھوپھی تھی۔ حجاب نے انہیں چاۓ پیش کی، بہت خوشگوار ماحول رہا۔صباحت بھی خوش تھی، خواتین کے انداز سے لگ رہا تھا کہ انہیں حجاب پسند آ گئی ہے ۔ جب جانے کا وقت قریب آیا تولڑ کے کی ماں نے ہچکچاتے ہوۓ صباحت سے کہا۔
’’آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ اس نے ترچھی نظر سے حجاب کی طرف دیکھا۔
“حجاب بیٹی، یہ برتن لے جاؤ ۔‘‘ صباحت نے کہا۔
حجاب برتن اٹھا کے کچن میں لے گئی تو صباحت س عورت سے مخاطب ہوئی
“کیا کہہ رہی تھیں آپ…..؟”
“بات دراصل یہ ہے ہمیں آپ کے گھر کا ماحول بہت پسند آیا ہے۔ ہمیں خوشی ہوگی جب ہمارے بیٹے کی شدی اس گھر میں ہو”
صباحت کی باچھیں کھل گئی وہ منہ میٹھا کرانے کے لئے مٹھائی منگوانے لگی تو لڑکے کی پھوپھی نے کہا۔
“لیکن…”
اس کے خاموش ہوتے ہی صباحت نے کہا ’’آپ کیا کہنا چاہتی ہیں؟‘‘
“ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے بیٹے کی عمر کے حساب سے ثانیہ ٹھیک رہے گی”
لڑکے کی ماں خدیجہ کہ بات سن کر صباحت جیسے سن ہو گئی دونوں خواتین نے اٹھتے ہوئے کہا
“آپ بیٹیوں سے مشورہ کر لیں اور پھر بتا دیجیئے گا ہمیں مایوس مت کیجئے گا ہمیں آپ کے فون کا انتظار رہے گا۔”
ان کے جانے کے بعد صباحت کی ساری خوشی ہوا ہوگئی
ثانیہ اورتحریم صباحت کے پیچھے پڑ گئیں ۔
’’اماں! کیا بات کی لڑ کے والوں نے انہیں آپی پسند تو آ گئی ہے؟‘‘
صباحت برتن اٹھاتے ہوۓ چڑ کر بولی ۔
’’جب تینوں بہنیں جوان ہوں تو لوگ رشتہ مانگتے ہوۓ چھوٹی بڑی نہیں دیکھتے‘‘
”کیا مطلب۔‘‘ ثا نیہ اورتحریم ایک دوسرے کی طرف پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگیں۔
“تم دونوں بہنیں یہ برتن سمیٹو‘‘ صباحت یہ کہہ کر کچن سے باہر جا کر حجاب کو ڈھونڈنے لگی۔
اس کا دل غم کے بوجھ سے چور چور تھا۔ دعا مانگنے لگی تو اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
“اے میرے رب تیرے سوا میرا کوئی پرسان حال نہیں مجھے صحیح راہ دکھا اور درست فیصلہ کرنے کی قوت دے مجھے سرخرو کر دے۔“
صباحت نے حجاب سے رشتے کے موضوع پر کوئی بات نہیں کی
جب تک اس کے ذہن نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اس نے بیٹیوں سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ رات ہوئی تو حجاب صباحت کے قریب آ کر بیٹھی تو صباحت نے حجاب کی طرف دیکھا جو کسی پری کی مانند خوبصورت دکھائی دے رہی تھی۔
’’میری بیٹی تو شہزادی ہے، پتہ نہیں لوگوں کی آنکھوں کو کیا ہو گیا ہےاس وقت سے ڈرتی تھی میں لڑکی کی عمر کے آگے اس کی خوبصورتی کی اہمیت نہیں رہتی”
”آپ کیا کہنا چاہتی ہیں۔۔۔” حجاب نے ماں کے ہاتھ پر دھیرے سے ہاتھ رکھا
صباحت نے حجاب کی طرف دیکھا۔ ’’جولوگ رشتے کے لئے آئے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تمہاری عمر انکے بیٹے کی عمر سے زیادہ ہے۔ وہ اپنے بیٹے کے لئے ثانیہ کا ہاتھ مانگ رہے تھے۔”
حجاب نے سر جھکاتے ہوۓ پوچھا “تو آپ نے کیا کہا۔‘‘
”میں نے فی الحال ان سے کچھ نہیں کہا۔البتہ سوچنے کے لئے وقت مانگا ہے ۔‘’ صباحت نے حجاب سے جیسے آنکھیں چرالیں۔
’’اماں ٹھیک ہے۔ انہیں اپنے بیٹے کے لئے ثانیہ پسند آئی۔ مجھے یہ بات بری نہیں لگی لیکن جب تک ثانیہ کی تعلیم مکمل نہیں ہو جاتی ہم اس کی شادی کے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں ۔‘‘
حجاب نے کہا۔
صباحت کسی ٹوٹے برتن کی طرح کھنکی۔
”میں جن حالات سے دوچار ہوں ۔ اس میں اگر ثانیہ کا اچھا رشتہ آتا ہے تو میں قطعا نہیں سوچوں گی کہ اس کی تعلیم مکمل ہوئی ہے یا نہیں۔ میں ثانیہ کے لئے رشتہ قبول کر رہی ہوں اور یہ رشتہ بہت اچھا ہے۔ تم نے ہمیشہ اپنی ضد کی وجہ سے اچھے رشتے ٹھکراۓ۔ ورنہ پہلے بڑی بہن کی شادی ہونی چاہیے۔ میں چاہتی ہوں کہ تم فیصلہ کرنے میں میری مدد کرو‘‘
حجاب جو سر جھکائے اداس بیٹھی تھی شکستہ اداس لہجے میں بولی
“اماں اگر آپ نے فیصلہ حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے تو پھر ہمیں خواب دیکھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ جو آپ بہتر سمجھیں فیصلہ کر لیں۔” حجاب نہ جانے من میں کتنی باتیں چھپاۓ وہاں سے اٹھ گئی۔
ثانیہ اورتحریم کے لئے یہ خبرکسی بم پھٹنے سے کم نہ تھی۔
حجاب نے انہیں یہ باتیں امی کے فیصلہ سنانے سے پہلے اس لیئے بتائیں کہ ثانیہ کا ذہن بن جاۓ۔ اگلے روز دو پہر کے کھانے کے بعد صباحت نے ثانیہ سے بات کی
اس نے ثانیہ کے آگے اپنے دکھوں کا تار تار دامن پھیلا دیا ماں کی مجبوریاں سمجھتے ہوۓ ثانیہ نے رشتے کے لئے ہاں کہہ دی۔
صباحت نے آگے بڑھ کر ثانیہ کو اپنے سینے سے لگالیا ’’سدا خوش رہو ۔‘‘
دو پہر کے ساڑھے تین بج رہے تھے۔ ثانیہ اور تحریم حسب معمول سو گئیں حجاب قالین پر بیٹھی دیوار سے پشت لگاۓ کسی گہری سوچ میں گم تھی ۔
دل پرغم کے بادل چھائے تھے۔ آنکھیں بار بار بھیگ جاتی تھیں ۔ اس کے اندرایک جنگ جاری تھی ۔اس کا دل چاہ رہا تھا کہ اس کی کوئی قریبی دوست ہو جس سے وہ اپناد کھ بانٹے شاید اس کی کوئی ایسی دوست بھی نہ تھی۔ وہ اپنے کمرے سے نکلی تو اس کے قدم اسے اذہاد کے کمرے تک لے گئے۔ اس نے اذہاد کے کمرے کے دروازے دروازے پر دستک بھی نہ دی۔ وہ کھوئی کھوئی سی دروازے کے باہر ہی کھڑی رہی ۔
اذہاد کو جیسے اس کے آنے کی خبر ہو گئی وہ کمرے سے باہر آ گیا۔
“آپ….”
حجاب نے اداسی سے اسکی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔ وہ لان میں جا کر گھاس پر بیٹھ گئی اذہاد بھی اسکے پاس بیٹھ گیا
نے جیسے اذہاد کی بات ہی نہ سنی۔ وہ ایک دم سے مسکرانے لگی ۔ ندنی دوا یا
“کیا بات ہے آج بہت اداس لگ رہی ہیں”
اذہاد نے حجاب کے سپاٹ چہرے کی طرف دیکھا حجاب نے جیسے اذہاد کی بات ہی نہ سنی وہ ایک دم سے مسکرانے لگی
“تمہیں معلوم ہے اذہاد کچھ ہی دن میں ہمارے گھر خوشیوں کے شادیانے بجیں گے۔‘‘
اذ بادمنہ بسور کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ “آپ کا رشتہ پکا ہو گیا ۔”
’’میرا نہیں ثانیہ کارشتہ پکا ہوگیا۔”
حجاب نے اذہادکو چونکا دیا۔
“ثانیہ وہ تو آپ سے چھوٹی ہے اور پڑھ رہی ہے”
حجاب نے اذہاد کی آنکھوں میں دیکھا تو اسکی آنکھوں میں ایک عجیب سی اپنائیت تھی وہ بولنا شروع ہوئی تو محسوسات کے کسی سمندر میں جیسے غرق ہوگئی ہو۔
“دیکھو کسی نے ایک لمحے کو بھی یہ نہ سوچا کی ثانیہ اور تحریم کی تعلیم مکملل کرنے کے لیئے میں نے اپنی خوشیاں داؤ پرلگادیں۔ اتنا بڑا فیصلہ لیتے ہوۓ اماں نے صرف یہی کہا کہ تم نے اپنی ضد سے اچھے اچھے رشتے ٹھکرائے اور اب وقت آگیا ہے کہ لوگ تمہاری عمر کا سن کر پیچھے ہٹنے لگے ہیں۔ میرے ارمانوں کا ثانیہ نے بھی نہ سوچا” جاب کی آنکھوں سے آنسو چھلک گئے اس کے رخسار بھگو گئے ۔
اذہاد نے حجاب کے چہرے کو خفیف سا چھوا۔
’’تم انسانوں کا یہی پرابلم ہے..”
”کیوں! کیا تم انسان نہیں ہو؟‘‘
’’اوہ سوری میرا مطلب ہے کہ ہم انسانوں کا یہی پرابلم ہے کہ ہم صرف اپنے ارمانوں کے بارے میں سوچتے ہیں ۔اگر تم خود کو اماں کی جگہ یا ثانیہ کی جگہ رکھ کے سوچو تو تمہیں معلوم ہو جاۓ گا کہ وہ دونوں اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔”
“اور میں۔۔۔۔۔۔۔”
حجاب نے اذہاد کی طرف اپنائیت سے دیکھ کر اذہاد کا ہاتھ تھام لیا
اذہاد نے اپنے ہاتھوں سے حجاب کے آنسو پونچھے
“آپ اچھی ہیں اپنی جگہ ٹھیک بھی ہیں لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ والدین کے سوا دنیا کا ہر رشتہ کھوکھلا ہے ۔ اگر کوئی آپ کی طرح مخلص ہو جائے تو اسے غم اور ٹھوکروں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔
حجاب نے اذہاد کی طرف دیکھا۔
”مجھے بھلے ٹھوکریں ملیں لیکن میں اماں اور بہنوں کے لیئے جو ہو سکا کروں گی۔ آج مجھے اپنے دوست سے کچھ اور بھی چاہئے۔”
’’مجھ سے. ”
“ہاں تم سے…”
’’ آپ مانگیں تو سہی ۔‘‘اذہاد نے کہا۔
’’مجھے ہرمشکل میں تمہارا ساتھ چاہئے ، دو گے نا۔”
اذہاد نے مسکراتے ہوۓ معنی خیز لہجے میں کہا۔
’’زندگی کے ہرموڑ پر تمہیں جب بھی میری ضرورت ہوگی میں پہنچ جاؤں گا کسی بھی مشکل میں تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
اذہاد کا لہجہ اس قدر گہر تھا کہ حجاب اس کی باتوں میں کھوئی گئی۔
اذہاد نے اسے دلاسہ دیا اور کہا۔
’’رات بہت ہوگئی ہے اب تمہیں اپنے کمرے میں جا کر سو جانا چاہیے۔ ”
“مجھے نیند نہیں آۓ گی۔‘‘ حجاب نے بے دلی سے ہاتھوں کو جھٹکا تو اذہاد نے اس کے داہنے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
’’میں دم کر دیتا ہوں۔”
حجاب نے بھنوؤں کو سکیٹر کرا ذہاد کی طرف دیکھا۔
’’اپنی آنکھیں بند کر لو۔” یہ کہہ کر اذہاد نے ہونٹوں کی تیز جنبش کے ساتھ کچھ ورد کرنا شروع کر دیا۔ وہ دھیرے دھیرے اپنا ہاتھ حجاب کی پیشانی تک لے گیا۔ اس نے اپنا انگوٹھا حجاب کی بھنوؤں کے درمیان میں رکھا اور باقی انگلیوں کو اس کی پیشانی پر خفیف سے انداز سے حرکت دینے لگا۔ ساتھ ساتھ وہ پڑھتا بھی رہا۔
کچھ دیر بعد جب حجاب نے آنکھیں کھولیں تو اسکی آنکھیں نیند سے بوجھل ہورہی تھیں ۔ وہ جا کر اپنے کمرے میں سوگئی
صباحت نے لڑکے والوں سے رشتے کے لیئے ہاں کہہ دی۔ جلد ہی ان کے گھر میں ثانیہ کی منگنی کی تیاریاں ہونے لگیں۔
حجاب نے خود کو اس طرح سنبھالا کہ ساری منگنی کی تیاری اپنے ہاتھوں سے کی
منگنی سے ایک دن پہلے جب ساری تیاری مکمل ہوئی لڑکے سبحان کی والدہ کا فون آیا کہ جتنے لوگ ان کے ساتھ آئیں گے ان سب کو سوٹ دیتے ہیں ۔
صباحت نے سبحان کی والدہ کو سمجھایا کہ انہوں نے سبحان کے کپڑے خریدے ہیں۔ ابھی ان کا ہاتھ تنگ ہے۔
انشاء اللہ شادی میں یہ رسم پوری کر دیں گے لیکن لڑ کے کی ماں رضامند نہ ہوئی۔
حجاب نے صباحت سے فون لے لیا۔ ’’آنٹی بے فکرر ہیں، جیسا آپ چاہتی ہیں ایسا ہی ہوگا۔‘‘
حجاب کے کانوں میں سونے کے چھوٹے چھوٹے بندے تھے، وہ بندے بیچ کر کپڑے خرید لائی۔
صباحت کو علم ہوا تو وہ حجاب پر خفا ہوئی ۔
’’اماں ،ایک بارمنگنی ہو جاۓ ۔ میں اور بنالوں گی۔‘‘
حجاب نے صباحت کو منالیا۔
آج ثانیہ کی منگنی کے روز صباحت کے گھر خوشیاں محو رقص تھیں۔ صباحت نے تھوڑے لوگوں کو مدعو کیا تھا لیکن ثانیہ کی کزنز اور سہیلیوں نے اچھی بھلی رونق لگا رکھی تھی۔
سب لڑکیاں جو ایک دوسرے سے بڑھ کر تیار ہوئی تھیں کچن میں گھسی پھولوں کی پلیٹیں تیار کر رہی ہوں
“جلدی کرو، بس لڑکے والے آتے ہی ہونگے سبحان بھائی کا فون آیا ہے وہ گھر سے چل پڑے ہیں۔ تحریم اپنا دو پٹھیک کرتے ہوۓ اذہاد سے ٹکرا گئی
“اذہاد بھائی آپ یہاں لڑکیوں میں کیا کر رہے ہیں” تحریم نے شرارت بھرے انداز میں اذ باد کی طرف دیکھا۔
اذہاد نے بادامی رنگ کا کرتہ شلوار پہنا ہوا تھا قمیص پر براؤن کلر کے دھاگے کا نفیس کام تھا ، وہ بہت وجیہہ دکھائی دے رہا تھا۔
تحریم کی سہیلی نے تحریم کوا پنا کندھا مارا اور سرگوشی کے انداز میں بولی
“یہ تمہارے گھر شہزادہ کون ہے؟‘‘
تحریم نے گلا گھنگھارتے ہوۓ اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا
’’ہاں بھائی آپ نے بتایا نہیں کہ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔”
اذہاد اتنی لڑکیوں میں گھبرا سا گیا۔
“وہ….. میں پوچھنے آیا تھا کہ کوئی کام تو نہیں ہے۔”
’’آپ ایسا کریں آپی حجاب سے پوچھ لیں جو ابھی تک خود تیار نہیں ہوئیں‘‘ تحریم نے ہنسی روکتے ہوۓ کہا ؟
اس کی سہیلی نے ایک بار پھر کندھے اچکاۓ ۔
”تحریم ! جا کے اپنی آپی کو تیار ہونے میں مددتو دو، انہیں تو میک اپ بھی کر نا نہیں آ تا ہوگا ۔‘‘
’’خبر دارتو میری آپی کا مذاق اڑایا۔ وہ سادی بھی بہت پیاری لگتی ہیں۔ یہ کہہ کر تحریم نے پھولوں کی پلیٹیں اٹھائیں اور سہیلیوں کے ساتھ لان کی طرف بڑھیں۔”
اذہاد کی متلاشی نگاہیں ہر طرف حجاب کو ڈھونڈ رہی تھیں اتنے میں لڑکیا شور مچاتی ہوئیں گیٹ کی طرف بھاگیں
“لڑکے والے آگئے ہیں۔”
بڑے ہال میں بیٹھے تمام لوگ باہر لان میں چلے گئے۔
اذہاد وہاں اکیلا کھڑا تھا۔ پازیب کی جھنکار کی آواز پر اس نے دروازے کی طرف دیکھا۔ حجاب سرخ اور فیروزی لہنگے میں اس کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے فیروزی کلر کے لہنگے کے اوپر سرخ کرتی پہنی ہوئی تھی۔ وہ بلا کی خوبصورت دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے لمبے سیاہ بال کمر سے نیچے تک تھے۔ سرخ نگوں کے لاکٹ سیٹ نے اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر دیا تھا سادہ سے میک اپ میں بھی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ حسن تو ایسا اذہاد بے اختیار کہہ اٹھا۔
“بہت پیاری لگ رہی ہو۔‘‘
حجاب نے مسکراتے ہوۓ اذہادکو سرتا پا دیکھا۔
‘تم تو بہت چھپے رستم نکلے ۔ تمہارا سوٹ تو بہت زبردست لگ تو رہا ہے”
حجاب نے ہاتھوں میں پھولوں کی پلیٹ تھامی ہوئی تھی اذہاد کی نظریں اسکے چہرے پر ہی ٹھہر گئی تھیں ۔
اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وقت یہیں تھم جاۓ وہ بس حجاب کو یوں ہی تکتار ہے ۔ وہ اپنی اردگرد کی ہر چیز سے غافل ہو گیا تھا کہ حجاب نے پلیٹ سے پھولوں کی چند پتیاں اٹھائیں اور اس کے چہرے پر مارد ہیں۔
“تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ لڑکے والے آ گئے ہیں ۔آؤ ان کا استقبال کرتے ہیں۔”
وہ دونوں بھی باہر چلے گئے ۔
لڑکے والوں کے استقبال کے بعد لڑ کے والوں کو کھانا کھلایا گیا۔ اس کے بعد منگنی کی رسم ہوئی ۔فنکشن رات گئے تک جاری رہا۔ اذہاد نے سارا کام ایسے سنبھالا کہ صباحت کو اپنے بیٹے کی کمی محسوس نہیں ہوئی ۔
مہمانوں میں سے جس نے بھی اذہاد کے بارے میں پوچھا تو صباحت نے یہی کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ فنکشن ختم ہونے کے بعد جب سب مہمان چلے گئے تو اذہاد اور حجاب صباحت کے ساتھ مل کر رات ایک بجے تک چیز میں سمیٹتے رہے۔ کام ختم ہو گیا تو اذہاد نے صباحت سے کہا۔
”آنٹی میں اپنے کمرے میں جارہا ہوں۔‘‘ ” بیٹا تم نے تو کچھ ٹھیک سے کھایا بھی نہیں ہے میں سالن اور چاول گرم کرتی ہوں تم کچھ کھا لو۔” صباحت نے کہا۔
“نہیں مجھے بھوک نہیں ہے..اگر چائے مل جائے تو……..‘‘ اذہاد نے کہا۔
صباحت نے حجاب کو بلایا ۔ “حجاب اذہاد کے لیئے چائے بنا دو”
تھوڑی دیر کے بعد حجاب چاۓ کے دو کپ لے کر اذہاد کے پاس آ گئی۔
“میرے ہاتھ کی چائے پیو کے تو ساری تھکان دور ہو جائے گی”
حجاب نے کپڑے تبدیل کر لئے تھے اس نے بالوں کو کلپ کی مدد سے پیک کر لیا تھا وہ سادی بھی پیاری لگ رہی تھی۔
اذہاد نے مسکراتے ہوئے حجاب کی طرف دیکھا۔
“تم اگر مجھ سے کچھ روز مسلسل کام کراؤ تو بھی میں نہیں تھکوں گا۔‘‘
“کیوں تم کوئی جن زادے ہو جو تھک نہیں سکتے‘‘ حجاب نے تمسخرانہ انداز میں اذہاد کی طرف دیکھا۔
اذہاد کی آنکھیں فضا میں بھٹکنے لگیں جیسے وہ کسی گہری سوچ میں کھو گیا ہو۔ حجاب کی اس کو آواز بہت دور سے
آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
’’ہاں! میں جن ہی تو ہوں کبھی خواب کبھی اذہاد اور کبھی اچا نک دھویں کی طرح تمہاری زندگی سے غائب ہو جاؤں گا۔”
“لیکن تم نے تو ہر مشکل وقت میں میرا ساتھ نبھانے کا وعدہ کیا ہے۔‘‘حجاب نے کہا۔
اذہاد کی آنکھیں حجاب کی آنکھوں میں کھو گئیں ۔ “میں نظر آؤں یا نہ آؤں ، میں ہر لمحے ہر وقت تمہارے پاس ہوں گا۔‘‘
حجاب نظریں جھکا کر تیز تیز سانس لینے لگی ۔ بس کرو اذہاد ۔ مجھے ڈر لگنے لگا ہے۔ میرے ساتھ ایسا مذاق مت کرو۔”
’’سوری حجاب، آئندہ ایسا مذاق نہیں کروں گا۔‘‘ اذہاد کا لہجہ معنی خیز ہو گیا۔
وہ چائے پی کر کمرے میں چلا گیا حجاب بھی صباحت کی مدد کرانے کچن میں چلی گئی
” آج فنکشن میں سب لوگ ازہاد کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔” صباحت نے برتن سمیٹتے ہوۓ حجاب سے کہا۔
’’ آپ نے کیا بتایا کہ کون ہے اذہاد”
“میں نے کیا کہنا تھا۔ میں نے تو کہہ دیا کہ اذہاد میرا بیٹا ہے اگر آج میرا بیٹا ہوتا تو اذہاد جیسا ہی ہوتا۔” صباحت کے اس مان نے حجاب کو پریشان کر دیا۔
’’اماں کیا پتا وہ کب ہمیں چھوڑ کر چلا جاۓ‘‘ حجاب نے صباحت کو دبے الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کی کہ کسی غیر کو ہم اتنا اپنا نہیں سمجھ سکتے۔
صباحت کی نظر ایک ہی جگہ ٹھہر گئی ۔
’’جب بھی جاۓ گا، ڈھیروں دعائیں لے کر جاۓ گا میری‘‘ حجاب صباحت سے کچھ مزید نہ کہہ سکی۔ صباحت نے پانی کا جگ حجاب کو پکڑایا۔
“یہ پانی کمرے میں رکھ لینا کل تو تم نے سکول سے چھٹی لی ہے نا۔“
’’ہاں” ۔
’’اچھی بات ہے۔ میں نے منت مانی تھی کہ میری بیٹی کی منگنی خیریت سے ہو جاۓ تو میں شاہ جی کے مزار پر چادر چڑھاؤں گی۔ سوچ رہی ہوں کہ کل ہی جا کر چادر چڑھادوں۔ میں چاہتی ہوں کہ تم میرے ساتھ جاؤ۔‘‘
’’ٹھیک ہے اماں!‘‘ یہ کہہ کر حجاب پانی لے کر کمرے میں چلی گئی۔
صبح ثانیہ اورتحریم کے جانے کے بعد صباحت اور حجاب نے جلد ہی گھر کا کام ختم کر لیا۔ وہ نکلنے لگیں تو اذہاد انہیں گیٹ پر ہی مل گیا۔
“آج تم کام پر نہیں گئے” صباحت نے اذہاد سے پوچھا۔
“آج دل نہیں چاہ رہا تھا سو میں نے چھٹی کر لی”
چلو پھر تم بھی چلو ہمارے ساتھ” صباحت بے تکان بولی
“کہاں……‘‘
”تم آؤ تو سہی، راستے میں میں بتا دوں گی” صباحت اس کا ہاتھ کھینچتی ہوئی ٹیکسی تک لے گئی
اذہاد کچھ بول نہ پایا۔
راستے میں اذہاد نے پھر پوچھا۔
’’اب تو بتادیں کہ کہاں جارہے ہیں۔”
“شاہ جی کے مزار پر جا رہے ہیں میں نے چادر چڑھانے کی منت مانی تھی”
صباحت کی بات سن کر اذہاد کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ پورے سفر میں کچھ بول نہ پایا جب مزار کے قریب پہنچ گئے تو حجاب نے صرف اتنا کہا۔
”کیا تمہیں مزار پر جانا پسند نہیں ‘‘
اذہاد نے مسکراتے ہوۓ حجاب کی طرف دیکھا۔
“نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ خدا کے کسی پیارے بزرگ کے آستانے پر جانا تو مجھے اس قدر پسند ہے کہ وہاں جاکے میں اپنے ہوش کھو بیٹھتا ہوں۔ ڈر ہاتھا کہ آج میں کہیں خود کو کھو نہ دوں‘‘
حجاب انجانی سی کیفیت میں اپنی آنکھیں ادھر ادھر گھمانے لگی۔اسے اذہاد کی بات سمجھ نہیں آئی۔
مزار کے قریب ٹیکسی رکی تو وہ تینوں لوگوں کے ہجوم سے گزرتے ہوۓ مزار کے اندرونی حصے میں داخل ہو گئے
مزار کے باہر ہہ صباحت اور حجاب نے گلاب کے پھولوں کی چادر لے لی تھی
مزار کے صحن میں شیشم کا پرانا درخت تھا جس کی جڑوں کے قریب بہت سے دیئے پڑے تھے۔
درخت کے ایک حصے میں صباحت دیئے جلانے لگی اور دوسرے حصے کے قریب حجاب اور اذہاد بیٹھ گئے انہوں نے ایک ساتھ دیئے جلائے تو ایک انجانے سے رشتے کے احساس نے حجاب کے دل کی دھڑکنوں میں ہلچل مچادی۔
خاص ہی کشش اسے اپنی طرف کھینچے لگی۔ اذہاد کے لب تو خاموش تھے تو پھر اس کے دل میں ایسا کیا تھا کہ جس کا بھید اس کی آنکھیں کھول رہی تھیں۔
صباحت کی آواز نے ان دونوں کا سکوت توڑ ڈالا
“آجاؤ، اندر جا کر شاہ جی کی قبر پر چادر چڑھا دیں”
صباحت کے ساتھ وہ دونوں وہاں سے اٹھے۔ بہت بڑے صحن کے بعد ایک برآمدہ تھا جس کے ساتھ ہی شاہ صاحب کی قبر تھی ۔
وہ تینوں صحن عبور کر کے برآمدے کی طرف بڑھنے لگے۔ تو قوالی کے دل کو چھو لینے والے بول ان کے کانوں سے ٹکرائے۔
قوال برآمدے کے قریب براجمان مخصوص دھن کے ساتھ رب کریم سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے تھے۔
اذہاد کے قدم بے اختیار قوالوں کی طرف بڑھنے لگے۔
حجاب نے اسے پیچھے سے پکارا۔
“اذہاد… ”
لیکن اذہاد کو جیسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ قوالوں کے سامنے خاموشی سے کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔
صباحت نے اسے پکارا۔ ’’اذہادادھر آؤ بیٹا۔‘‘
لیکن وہ تو قوالی کے سروں پر مست آنکھیں بند کئے کھڑا تھا۔
پھر اچانک اس نے دھمال ڈالنا شروع کر دیا مزار پر آئے ہوئے کچھ لڑکے بھی دھمال میں اسکا ساتھ دینے لگے
حجاب اور صباحت آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اس کے قریب آ گئی
صباحت کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی ۔
“میں تو جانتی تھی کہ اذہاد من کا فقیر ہے دیکھو کس طرح مست ہوکر دھمال ڈال رہاہے۔”
اذہاد نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیا کھڑی کر لی اور اپنے سر کو اپنے کندھوں پر گھمانے لگا کہ اچانک اسکے ساتھ دھمال ڈالنے والے لڑکے چیخ کر پیچھے ہٹ گئے ۔ اذہاد کی شکل بدل چکی تھی اوراس کے بال کندھوں تک لمبے ہو چکے تھے
حجاب کے پسینے چھوٹ گئے اسکی آنکھیں باہر کو ابل پڑیی جو خواب آج تک وہ بند آنکھوں سے دیکھتی تھی آج وہ سب کچھ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
اذ باد کی جگہ وہی لڑ کا اس کے سامنے تھا جو اسے بار بارخواب میں سحر زدہ کر دیتا تھا اس کی محسوسات پر قابض ہو جا تا تھا۔ پر ہیبت زدہ ماحول میں حجاب کی چیخ گونجی ہی نہیں تھی کہ اس کی اصلیت کھل گئی۔ اس نے اپنے چہرے کو چھوا پھر ایک دم اس کا جسم روشنی کی شعاع میں تحلیل ہو گیا جو آسمان کی طرف بڑھتی ہوئی غائب ہوگئی۔
کچھ دیر تو حجاب پر سکتہ طاری رہا پھر وہ بے ہوش ہوگئی۔ مزار میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ بھگدڑ میں زخمی ہو کر گرنے لگے۔
بہت مشکل سے صباحت حجاب کو ہاسپٹل پہنچا سکی ۔حجاب کے ہوش میں آنے کے بعد وہ اسے گھر لے آئی ۔ حجاب کو اس کے کمرے میں لانے کے بعد صباحت صحن میں آ گئی ۔ اس کے ہاتھ ابھی تک کانپ رہے تھے ۔ دل کی دھڑکنیں بار بار بے قابو ہورہی تھیں ۔
’’اومیرے خدا ، اذہاد آسیب تھا جو انسان بن کر ہمارے ساتھ رہتا رہا، مجھے بی بی بختاور نے بتایا بھی تھا جو آسیب حجاب کو خواب میں دکھائی دیتا تھا وہ حجاب کے حسن کا اسیر ہو چکا ہے ۔اس نے تو اس آسیب کو حجاب سے دور کردیا تھا لیکن میں نے اس کی یہ بات نظر انداز کر دی کہ وہ آسیب حجاب کو اتنی آسانی سے نہیں چھوڑے گا، وہ دوسال کے بعد پھر آۓ گا ۔‘‘
صباحت لمبے لمبے سانس لینے لگی۔
“وہ آسیب اذہاد کے روپ میں لوٹا”
“اماں ذرا پانی تو لا دیں” حجاب کی آواز کمرے سے آئی
صباحت حجاب کے لیئے پانی لے کر گئی تھوڑی دیر کی بے ہوشی نے بھی حجاب کو نڈھال کر کے رکھ دیا تھا۔
اس نے اپنی بھاری بھاری پلکیں بہت دھیرے سے اوپر اٹھائی تو ماں کے چہرے پر لکھی دہشت کو اس نے صاف صاف پڑھ لیا۔
صباحت نے اسے پانی دیا اور پھر وضو کرنے کے لیئے صحن میں چلی گئی
اسے اذہاد کے کمرے سے کچھ آوازیں سنائی دیں جیسے کوئی اندر ہو اس نے ترچھی نظر سے اذہاد کے کمرے کی طرف دیکھا، کمرے کی لائٹ بھی جلی ہوئی تھی ۔
اس نے جلدی جلدی وضو کیا اور تیز تیز چلتی کمرے میں جا کر اندر سے چٹخنی چڑھا دی
وہ قرآن پاک کھول کے بیٹھ گئی اور سورۃ یسین پڑھنے لگی۔ سورۃ پڑھنے کے بعد اس نے پانی پر دم کیا اور حجاب کو بلایا۔ حجاب صباحت کی حالت دیکھ کر بہت پریشان ہورہی تھی۔ ثانیہ اور تحریم بھی آنے والی تھیں۔
حجاب نے چولہے پر ہنڈیا چڑھائیوہ خود بھی مزار میں ہونے والے واقعے کے اثر سے نہیں نکل پا رہی تھی گھر میں صباحت اور حجاب کے ہونے کے باوجود سناٹا چھایا ہوا تھا جس میں اندیشوں اور وسوسوں کی سرسراہٹیں تھیں۔ برتنوں کی کھڑکھڑاہٹ کی آوازیں سن کر صباحت کچن میں آئی۔
“تم چھوڑو بیٹی، میں خود کھانا بنالوں گی۔‘‘
’’اماں، میں بیمار تو نہیں ہوں ۔ آپ آرام کریں ، میں فارغ بیٹھ کر کیا کروں گی ۔‘‘ حجاب نے صباحت کو سمجھا کر بھیج دیا وہ ہنڈیا کا سامان تیار کرتی رہی اور اپنے دماغ میں والے سوچوں کے غبار میں الجھی رہی۔ –
اذہاد کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے ایک ایک کر کے اسے یادآ رہے تھے ۔ اذہاد کی کہی ہوئی باتیں من میں ہلچل سی مچا رہی تھیں اس کے دونوں روپ بار بار اسکی آنکھوں کے سامنے آ رہے تھے
کبھی اسکا تصور من میں خوف بھر دیتا اور کبھی دلفریب احساس کی طرح سانوں میں گھلنے لگتا
سوچوں میں گم حجاب کو احسا ہی نہ ہو کب اس کے دوپٹے کو آگ لگ گئی، اس نے چیخ کر دو پٹہ زمین پر پھینک دیا مگر آگ اسکی قمیص تک پہنچ چکی تھی
اس سے پہلے کہ آگ اس کے جسم کو جھلساتی کسی نے اس کے جسم پر کمبل ڈال کر اسے بانہوں کے حصار میں لے لیا۔
حجاب نے سر اوپر اٹھایا تو وہ اذہاد کی دسترس میں تھی حجاب نے اسے پیچھے کی طرف دھکیلا اور دیوار کے ساتھ جا لگی۔
”کون ہوتم …‘‘ اذہاد دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کے قریب آ گیا اس نے اپنی نم دار آنکھوں سے حجاب کی آنکھوں میں جھانکا!
حجاب نے اپنی آنکھیں جھکالیں۔
“مت دیکھو مجھے اس طرح، میں جانتی ہوں کہ تم کوئی ساحر ہو تم مجھے اپنی آنکھوں سے سحر زدہ کر دو گے اور میں تمہاری ان خوبصورت آنکھوں میں کھو کے تمہارے اصل روپ کو بھول جاؤں گی۔” ”ٹھیک ہے تم میری طرف مت دیکھو۔ لیکن میں نے تم پر کبھی کوئی جادو نیں کیا ……اپنے دل سے پوچھو کیا میں تمہیں خطر ناک لگتا ہوں ۔ کیا میں تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکتا ہوں؟‘‘
حجاب نے اذہاد کے طرف دیکھا۔
” تمہارا اصل روپ کیا ہے تم جن ہو، روح ہو یا کوئی جادوگر…. ”
میں وہ ہوں جوتمہارے لئے چھوٹی چھوٹی چیز لے کر ہوا تک ، جانور سے لے کر انسان تک ہر روپ لے ؟ سکتا ہوں۔ تم مجھے ظاہر میں نہ دیکھنا چاہو تو باطن میں دیکھ لو مجھے اپنے شعور سے نکال دوتو لاشعور میں پالو۔ میں ہر لمحے ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں حجاب، میرا اصل نام اذہاد ہی ہے لیکن میں ایک جن زادہ ہوں۔”
یہ کہہ کر اذ بادا ایک ہی ساعت میں غائب ہو گیا۔ شاید اس لئے وہ صباحت کی آمد کا پتہ چل چکا تھا۔ جونہی صباحت کچن میں داخل ہوئی تو حجاب نے اپنادو پٹہ زمین سے اٹھا کراپنے کاندھے پر گرایا تو یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گئی کہ اس کا دو پٹہ کہیں سے نہیں جلا تھا۔
’’جھلسا ہوا دوپٹہ کیسے ٹھیک ہو گیا۔۔” وہ سہمی سہمی دیوار سے جا لگی
صباحت اس کے قریب آئی تو وہ ماں سے لپٹ گئی ۔
’’اماں بہت ڈرلگ رہا ہے ۔‘‘
“ڈرومت! میں اس مسئلے کا حل جلد نکال لوں گی تم جس قدر ہو سکے قرآن پاک پڑھا کرو
حجاب اس کے پیچھے ہٹ گئی اور دھیرے سے بولی۔
“اذہاد خود بہت اچھی تلاوت کرتا تھا وہ کوئی شیطانی روح نہیں جس سے بچنے کے لئے ہم قرآن پاک پڑھیں وہ تو خود نیک راہوں کا مسافر ہے۔‘‘
’’تم اس کے بارے میں اتنا کیسے جان سکتی ہو۔ میرے لئے یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ وہ اچھا ہے یا برا۔ ؟ مجھے تو یہ بات پر یشان کیے ہوئے ہے کہ ایک ماورائی مخلوق تمہارے آس پاس رہتی ہے۔ میں کل ہی تمہیں پیرسبحان کے پاس لے جاؤں گی۔‘‘
حجاب مزید کچھ نہ کہہ سکی اور خاموشی سے اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: