Urdu Novels Wajiha Saher

Khajoor Ka Darakht by Wajiha Saher – Episode 5

Khajoor Ka Darakht by Wajiha Saher
Written by Peerzada M Mohin

کھجور کا درخت از وجیہہ سحر – قسط نمبر 5

–**–**–

ثانیہ اورتحریم کو جب اذہاد کے بارے معلوم ہوا تو انہوں نے پورے گھر میں شورو غل مچا دیا
ثانیہ اور تحریم حجاب اور صباحت سے طرح طرح کے سوال کرنے لگیں ۔
ثانیہ تو کسی بھی طرح ماننے کو تیار نہیں تھی ۔
’’ایک شخص پینگیسٹ بن کے ہمارے ساتھ رہتا ہے اور آپ کہتی ہیں کہ وہ ایک آسیب تھا جو انسانی شکل میں ہمارے ساتھ رہتارہا۔‘‘
تحریم نے بھی ثانیہ کی بات کی تردید کی ۔
’’ہاں اماں! ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ مزار میں جو کچھ بھی ہوا وہ سب آپی کا Imagenation ہو شاید حجاب جاگتے میں خواب دیکھنے لگی ہو۔‘‘
صباحت سختی سے بولی ۔
”حجاب جاگتے میں خواب دیکھ سکتی ہے۔ میں تو جاگتے میں خواب نہیں دیکھ سکتی، جو کچھ تمہیں اذہاد کے بارے میں معلوم ہوا ہے وہ سب ٹھیک ہے جب تک میں اس مسئلے کا توڑ نہیں کر لیتی کوئی اس موضوع پر دوبارہ بات نہیں کرے گا اور سنو میں اذہاد کے کمرے پر تالا چڑھا رہی ہوں کوئی اس کمرے کے آس پاس بھی نہ بھٹکنا تم تینوں بہنیں ایک ہی کمرے میں رہنا”
تحریم کی سانس اٹٹک گئی اسکی آنکھیں خوف سے پھیلنے لگیں ۔
’’اماں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔
صباحت نے تحریم کے بالوں کو سہلایا۔
’’حوصلہ رکھو، کچھ نہیں ہوتا ۔‘‘
رات کو صباحت بیٹیوں کے ساتھ ہی لیٹ گئی۔ آج رات کے سناٹے میں خوف و دہشت کے اوہام سمٹ آئے تھے اس رات کا ہر پل آنے والے اگلے پل سے زیادہ خوفزدہ تھا نہ جانے کب کیا ہو جائے
صباحت خدا کے کلام کی ڈوری مضبوطی سے تھامے تسبیح کا ورد کر رہی تھی۔
بظاہر تو تینوں بیٹیوں نے آنکھیں موندی ہوئی تھیں لیکن نیند ان کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
نصف رات میں صباحت اور ثانیہ تحریم سوگئیں۔ حجاب ٹکٹکی باندھے چھت کو گھور رہی تھی۔ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ سب کچھ بھول نہیں پارہی تھی۔
اذہاد کا تصور اس کی دوسری ساری سوچوں پر محیط تھا۔ اس کی دوستی کے پل یا دآ تے تو اس خوبصورت تصور میں وہ مسکرانے لگتی، اپنے خیالوں کے اس شہزادے کو جب فقیروں کے روپ میں مزار پر دیکھتی تو دل میں آتا کہ زمانے بھر کی خوشیاں اس کے کشکول میں ڈال دوں۔پھر اچانک اسکے آسیب ہونے کے خیال سے حجاب ہڑبڑا کو خوف سے اٹھ بیٹھی اسکا چہرہ پسینے سے تر تھا اس نے اٹھ کر پانی پیا تو دیکھا صباحت اور اس کی بہنیں گہری نیند سو رہی تھیں ۔ وہ دوبارہ بستر پر دراز ہونے لگی تو بلی کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔
“کہیں کچن کا دروازہ کھلا تو نہیں رہ گیا۔‘‘ وہ بستر سے اٹھ کر کچن کی طرف بڑھی۔
کچن کا دروازہ بند تھا۔ اس نے کچن کی کھڑکی کھول کے باہر جھانکا تو ایک بار اس کا دل زور سے دھڑ کا ۔ ایک سیاہ بلا اذہاد کے کمرے کے دروازے کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔
وہ کمرے کی کھڑکی کی طرف گیا تو کھڑکی خود بخود کھل گئی وہ اندر کود پڑا حجاب نے جھٹ سے کچن کی کھڑکی بند کر دی اور بھاگ کے بستر میں گھس گئی ۔
اگلی صبح جونہی ثانیہ اور تحریم کالج گئیں صباحت حجاب کو لے کر پیر سبحان کے پاس چلی گئی۔ پیر سبحان کا گھر ڈھونڈتے ڈھونڈتے صباحت انتہائی پرانے طرز کے گھروں کی گلی میں داخل ہو گئی ہر گھر دیکھنے میں کھنڈر معلوم ہو رہا تھا۔ صباحت ایسے ہی کھنڈ رنما گھر کے آگے کھڑی ہوگئی۔
سامنے ہی صحن میں زمین پر بچھی دریوں پر بہت سی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ صباحت اور حجاب تنگ سی گلی سے گزر کر صحن میں داخل ہوگئیں۔سامنے دیوان پر پیرسبحان براجمان تھے۔
پیر سبحان نے صباحت کی طرف دیکھا تو اسے آگے اپنے قریب بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
دونوں پیرسبحان کے قریب بیٹھ گئیں اور پیر صاحب کو سلام کیا۔ پیر سبحان نے گہری نظر سے صباحت کے پریشان چہرے کی طرف دیکھا۔
“کیا پریشانی ہے….‘‘
صباحت نے اپنے ہاتھ آپس میں جوڑ لئے۔ ’’سائیں ہم ناسمجھ لوگوں کو معاف کر دیں۔ اس دن قبرستان میں ہم آپ کی بات نہیں سمجھ پاۓ، آپ بہت پہنچے ہوۓ ہیں، آپ ہمیں بتا دیتے کہ اذہادا یک آسیب ہے۔‘‘ پیرسبحان نے تسبیح گھماتے ہوئے تحمل سے کہا۔ .
’’جب آپ کو اس کی طرف سے کوئی پریشانی نہیں تھی تو ہم نے بھی بتانا مناسب نہیں سمجھا۔ یہ مخلوق بھی ہماری طرح اپنے اپنے کاموں میں سرگرم رہتی ہے۔ جب تک ہمیں ان کی طرف سے کوئی خطرہ نہ ہو، ہم انہیں نہیں چھیڑتے ۔اب بتاؤ کیا مسئلہ ہے۔”
“صباحت نے پیر سبحان کو سب کچھ تفصیل سے بتایا حجاب سر جھکائے خومش بیٹھی رہی”
“اچھا تو یہ معاملہ ہے پیر سبحان نے گہری نظر سے حجاب کی طرف دیکھا۔ ادھر آؤ بیٹی میرے پاس”
حجاب پیر سبحان کے قریب بیٹھ گئی پیر سبحان نے اس کی رنگت کا معائنہ کیا۔ اس کی آنکھیں دیکھی اور ناخنوں کی رنگت کا معائنہ کیا
“جاؤ اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ”
پیر سبحان نے حجاب سے کہا اور حجاب صباحت کے پاس آ کر بیٹھ گئی پھر پیر سبحان گویا ہوۓ ۔’’صباحت ! تمہاری بیٹی بالکل تندرست ہے ۔آسیب زدہ انسان تو ایسا ہوتا ہے جیسے کسی نے اس کا خون نچوڑ لیا ہو۔ تمہاری بیٹی آسیب زدہ نہیں ہے بلکہ وہ آسیب اس کے حسن کے قفس میں گرفتار ہے۔ اس نے اس کو ذرا سی بھی اذیت نہیں دی اور خود اس کے لئے اذیتیں لے رہا ہے۔”
بابا کی اس بات پر حجاب کی خاموشی ٹوٹ گئی ۔
“بابا! آپ کو کیسے پتا کہ وہ اذیتیں اٹھا رہا ہے۔”
’’اگر کوئی آسیب کسی آدم زادی کی زلف کا اسیر ہو جاۓ تو وہ اکثر اس کے جسم پر قابض ہو جا تا ہے اس سے آسیب کی طاقت بحال رہتی ہے لیکن وہ لڑکی دن بدن کمزور ہوتی جاتی ہے جب کہ اذہاد ایک عفریت ہونے کے باوجود ایک انسان کے روپ میں تمہارے آس پاس رہتا ہے۔ اس کا یہ مادی وجود ہماری آب و ہوا میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے زخمی ہو جاتا ہے جیسے اس دن وہ تمہارے ساتھ قبرستان آیا تو میرے چلے کی وجہ سے اسکا وجود جگہ جگہ سے جھلس گیا”
حجاب کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی ۔ ۔ “لیکن وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے ۔‘‘
پیر صاحب کی آنکھیں جیسے فضا میں ٹھہر گئیں۔
”میرا خیال ہے کہ وہ تمہاری اور تمہارے خاندان کی حفاظت کر رہا ہے۔”
صباحت نے روتے ہوئے پیرسبحان کی بات کاٹ دی۔ ”بابا جی! گستاخی معاف کریں، ہم کمزور انسان ہیں۔ آپ جیسا حوصلہ نہیں ہے ہمارے اندر….”
“تو کیا چاہتی ہے۔” پیر نے صباحت سے پوچھا۔
“میں چاہتی ہوں کہ آپ اسے حجاب کی زندگی سے دور کر دیں۔ آپ اسے کوئی نقصان نہ پہنچائیں پر ہماری زندگیسے دور کر دیں ہم اس سے چھٹکارا چاہتے ہیں”
“پیرسبحان نے ٹھنڈی آہ بھر کر کہا۔”
“ٹھیک ہے میں کل تمہارے گھر آؤں گا”
گھر آنے کے بعد صباحت کچن میں مصروف ہوگئی مگر حجاب کھوئی کھوئی سی کمرے کے ایک کونے میں بیٹھ گئی پیر سبحان سے ملنے کے بعد اسکے دل کا بوجھ مزید بڑھ گیا اسے پیر سبحان کا گھر میں آنا قدرے ناپسند تھا، مگر وہ صباحت کی مرضی کے آگے کیا کہہ سکتی تھی۔
اگلے روز بھی اس کے من کو کھٹکا لگا رہا کہ نہ جانے کیا ہونے والا ہے
پیرسبحان رات کے وقت آۓ۔ ان کے ساتھ ان کے دومرید بھی تھے ۔مہمان خانے میں حجاب نے انہیں چاۓ پیش کی اس کے بعد اماں نے تینوں بیٹیوں کو اپنے کمرے میں رہنے کی ہدایت کی۔ چائے پینے کے بعد پیر سبحان نے پورے گھر کا جائزہ لیا
آخر میں وہ اذہاد کے کمرے پاس کھڑے ہو گئے۔ دھیمی سی آواز میں صباحت سے گویا ہوۓ ۔
’’اس کمرے کا تالا کھولو ۔ ہم آج رات اس کمرے میں گزاریں گے۔‘‘
’’جیسا آپ کا حکم‘‘ صباحت نے کمرے کا تالا کھول دیا۔
’’ایک بات آپ سے اور کہنی ہے ۔‘‘
پیرسبحان نے اردگرد دیکھا اور پھر اپنے مریدوں سے اذہاد کے کمرے میں ٹھہرنے کے لئے کہا۔
مہمان خانے میں جانے کے بعد صباحت نے تشویش بھرے انداز میں پوچھا۔
”کیا بات ہے سائیں۔”
پیر سبحان نے بھاری سی آواز میں کہا
“رات کے کسی پہر ہمیں اذہاد کی آمد کا علم ہوا تو ہمارا عمل ہمیں جس کمرے کی طرف اشارہ کرے ہمیں اس کمرے میں جانا ہوگا۔”
“جیسا آپکا حکم سائیں، میں بھی رات بھر جاگوں گی آپ بس میرے کمرے کے دروازے پر دستک دے دینا، میں خود آپ کواس کمرے تک لے جاؤں گی ۔”
تینوں بہنیں ایک کمرے میں سو گئیں اور صباحت اپنے کمرے میں عبادت میں مشغول ہوگئی۔ پیر سبحان ازہاد کے کمرے میں اپنے مریدوں کے ساتھ کسی خاص عمل میں مصروف ہو گئے رات کے دو بجے صباحت کے دروازے پر دستک ہوئی ۔
صباحت نے درواز کھولا۔
پیر سبحان کے مرید نے اسے سرگوشی کے انداز میں اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا
وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چل دی صحن میں پیر سبحان آنکھیں بند کئے کچھ پڑھ رہے تھے۔ وہ صحن کے وسط میں کھڑے تھے، ان کے ہاتھ میں لوہے کا چمٹا نما چیز تھی ۔ پیرسبحان نے صباحت کی طرف دیکھا۔
’’اذہاد آ گیا ہے۔ یہ لو ہے کی چمٹی ہمیں جس طرف اشارہ کرے گی ہمیں اس طرف ہی جانا ہوگا۔‘‘
پھر وہ کچھ پڑھنے لگے جس کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چمٹی دائیں طرف کو مڑ گئی۔
پیرسبحان اس چمٹی کے تعین کی ہوئی سمت کی طرف چلنے لگے۔ ان کے قدموں میں خوف کی سرسراہٹیں تھیں۔ پیر کے علاوہ سب کے رنگ اڑے ہوئے تھے۔
چلتے چلتے پیر سبحان کے قدم حجاب کے کمرے میں رک گئے۔ انہیں آگے جانے کا اشارہ نہیں ملا۔ چمٹی کے اشارے کے مطابق اذہاد اسی کمرے میں تھا۔
پیر سبحان نے پورے کمرے کا جائزہ لیا تینوں بہنیں الگ الگ پلنگوں پر سوئی ہوئی تھیں ۔
صباحت نے پیر سبحان کواشارہ کیا۔
’’ حجاب کو دیکھیں۔”
حجاب بے چینی سے سر کو ادھر ادھر پٹخ رہی تھی اس کا چہرہ پسینے سے تر تھا۔ وہ سخت نیند میں تھی لیکن شاید خواب اسے نہ جاگنے دے رہا تھا نہ سونے دے رہا تھا۔
پیرسبحان نے ایک بار پھر کچھ پڑھنا شروع کر دیا۔ اس بار چمٹی کارخ حجاب کی طرف تھا۔
پیرسبحان نے خفیف سے انداز میں سرگوشی کی۔
’’اذہاد حجاب کے لاشعور پر قابض ہے۔ وہ اس وقت اذہاد کو خواب میں دیکھ رہی ہے وہ کوئی تصور نہیں اصل میں تمہاری بیٹی سے مل رہا ہے”
یہ کہہ کر پیر نے لوہے کی چمٹی حجاب کی پیشانی پر رکھ دی۔
حجاب کریہہ آواز کے ساتھ چلائی اور ایک جھٹکے میں پلنگ سے نیچے گر گئی۔
صباحت نے دھک سے اپنے سینے پر ہاتھ مارا ۔ ’’سائیں جی، یہ حجاب کو کیا ہو گیا ہے؟‘‘
سائیں نے اپنے ہونٹوں پر انگشت رکھتے ہوۓ اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا حجاب پیر سبحان کی طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ سائیں بھی زمین پر حجاب کے قریب بیٹھ گیا۔
حجاب کے چہرے کا تاثر ایک دم بدل گیا تھا اس کی سانس کی آواز کافی بلند تھی جس پر دوطرح کی آوازیں تھیں۔ پیرسبحان نے اس کے قریب جا کر پوچھا۔
’’کون ہو تم؟‘‘
حجاب پیر سبحان کو گھورے جارہی تھی۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔
پیرسبحان ایک بار پھر گرج دار آواز میں چلائے۔
’’میں پوچھ رہا ہوں کہ کون ہو تم ….؟ حجاب مردانہ آواز میں بولی۔
“اذہاد”
“میں تمہیں کسی قسم کی اذیت دینا نہیں چاہتا۔”
ابھی بات سائیں کے منہ میں ہی تھی کہ حجاب چلائی ۔
“تم مجھے حجاب کے بدن میں کیوں لاۓ، کیسے عامل ہو، کیا نہیں جانتے کہ حجاب گھائل ہو جاۓ گی۔‘‘
’’گھائل ہوتی ہے تو ہو جاۓ تم تو میری گرفت میں ہو۔‘‘ سائیں نے یہ کہہ کر کپڑے کی پوٹلی میں تھوڑی سی راکھ نکالی اور حجاب پر چھڑک دی۔
اذہاد کی خوفناک غرغراہٹوں سے کئی آوازیں فضا میں گونج اٹھیں۔ کمرے میں جیسے بھونچال سا آ گیا ہو۔
چیزیں اس طرح ہلنے لگیں جیسے خوفناک زلزلے میں پل بھر میں سب کچھ مسخ ہو جا تا ہے۔
حجاب لکڑی کے تخت کی طرح اکڑ کر بیٹھ گئی۔ وہ خوفناک غرغراہٹوں کے ساتھ اذہاد کی آواز میں چلائی۔
”میرے اور حجاب کے بیچ میں مت آؤ تمہیں میری طاقت کا انداز نہیں ہے۔”
حجاب نے انگشت سے پیر سبحان کی طرف اشارہ کیا تو وہ روئی بھرے پتلے کی طرح ہوا میں اچھل کر چھت سے ٹکرائے اور جب واپس زمین پر گرے تو انکی چیخ نکل گئی جسکے ساتھ ہی بھونچال ختم ہو گیا اور حجاب بے ہوش ہو گئی پیر سبحان کے مرید انہیں اٹھا کر ہسپتال لے گئے کچھ دیر بعد حجاب کو ہوش آیا تو وہ بلکل ٹھیک تھی
حجاب کے ٹھیک ہونے کے بعد صباحت یہی سمجھی تھی کہ اذہاد حجاب کی زندگی سے نکل چکا ہے
پیرسبحان کے زخمی ہونے پر وہ یہی سمجھی کہ اذہاد نے حجاب کو چھوڑ تے ہوۓ اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔
پیرسبحان کی ٹانگ کی ہڈی میں فریکچر ہوا تھا ان کی تیمار داری کے لئے صباحت چار روز تک ہسپتال جاتی رہی
پیرسبحان نے اذہاد کے بارے میں صباحت سے کوئی بات نہیں کی بس یہی کہا کہ نماز، قرآن پاک باقاعدگی سے پڑھا کرو۔ کوئی شیطانی طاقت تمہیں تنگ نہیں کرے گی نیک انسان ہو یا نیک جن لوگوں کو تنگ نہیں کرتے ان سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔
حجاب اپنا پیریڈ لینے کے بعد سکول کی کینٹین میں بیٹھ گئی اس نے اپنے لئے چائے منگوائی جو گزشتہ تین دن میں ہوا تھا وہ سب اس کے مزاج کے خلاف تھا۔ وہ سب حجاب نہیں چاہتی تھی وہ انہیں سوچوں میں گم تھی کہ اسے پیغام پہنچا کہ پرنسپل صاحبہ اسے بلا رہی ہیں وہ آفس گئی۔ پرنسپل صاحبہ نے اسے خوشخبری سنائی وہ ایک عام ٹیچر سے وائس پرنسپل بن گئی تھی تنخواہ بھی اچھی بھلی بڑھ گئی تھی۔ یہ خبر سنتے ہی حجاب اپنی ساری پریشانی بھول گئی ۔
“تمہیں یہ ترقی مبارک ہو لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ہم ایک اچھی ٹیچر سے محروم ہو گئے ہیں۔ تمہاری ٹرانسفر بھلوال ہوگئی ہے۔ سکول کے ہاسٹل میں تمہاری رہائش کا بندوبست بھی ہے۔” پرنسپل نے ٹرانسفر لیٹر حجاب کی طرف بڑھایا۔
حجاب نے ٹرانسفر لیٹر لیا اور پھر سے سوچوں میں ڈوب گئی
چہرے پر پھیلی مسکان ایک ہی ساعت میں غائب ہو گئی
پرنسپل نے گہری نظر سے حجاب کی طرف دیکھا۔
“مس حجاب آپ کس سوچ میں پڑ گئیں آپ چاہیں تو وہاں کوئی کرائے کا گھر لے کر اپنی فیملی کے ساتھ رہ سکتی ہیں اور اگر آپ ہاسٹل میں ہی رہیں تو اپنی تنخواہ سے آپ اپنی فیملی کے لئے بہت کچھ کر سکتی ہیں”
لیکن حجاب کو اپنی فیملی سے دور جانے کا دکھ ترقی کی خوشی سے کہیں زیا تھا وہ خاموشی سے آفس سے چلی گئی۔
دو پہر کھانے پر اپنے گھر والوں کو جب حجاب نے اپنی ترقی اور ٹرانسفر کے بارے میں بتایا تو ثانیہ اور تحریم مارے خوشی سے جھوم اٹھیں تحریم نے بمشکل نوالہ اندر کیا ۔
’’ واہ آپی اب تو چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے تر سنا نہیں پڑے گا۔
ثانیہ بلا تامل بولی۔
”میں تو آپی سے گولڈ کا سیٹ لوں گی۔‘‘
صباحت کا تو دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی ۔ ”تم دونوں کیا پاگل ہوگئی ہو۔ یہ خیال نہیں آیا کہ تم دونوں کو کہ حجاب ہم سب سے کتنی دور چلی جاۓ گی بس کوئی ضرورت نہیں ہے ہمیں ایسے پیسوں کی۔”
حجاب نے صباحت کا ہاتھ تھاما۔ ’’اماں میری خوشی کے لئے مان جائیں ایسا موقع بار بارنہیں ملتا۔ ثانیہ کی شادی بھی تو کرنی ہے‘‘
“لیکن…..”
صباحت کے منہ میں ہی بات رہ گئی۔حجاب نے صباحت کے گلے میں بانہیں حائل کر لیں۔
حجاب نے اپنا فیصلہ نہیں بدلا اور وہ بھلوال کے گرلز ہاسٹل میں شفٹ ہوگئی ۔
ان تین مہینوں میں جیسے بہت کچھ بدل گیا
اس کے مزاج کی سنجیدگی زندگی کے ہر پہلو پر چھا گئی زندگی کی رعنائیوں اور خوشیوں سے جیسے اسکا واسطہ ٹوٹ گیا وہ خاموشی سے کسی مشین کی طرح کام میں لگی رہتی گھر والوں سے رابطے کے لئے اس نے سستا سا موبائل بھی خرید لیا۔
گھر والوں سے دور جانے کے بعد اسے احساس ہوا صرف صباحت ہی تھی جسے اس کی فکر تھی ۔ثانیہ اور تحریم تو شاذ و نادر ہی اسے فون کرتیں ۔
حجاب اپنی بے رونق اور مصروف زندگی سے نکل کر چھٹی پر گھر جاتی تو ثانیہ اور تحریم اسے کسی نہ کسی بات پر ناراض ہی ملتی۔
یہ سوچ کسی ناسور کی طرح اسے اندر ہی اندر کھا رہی تھی کہ دکان کی آمدن اور اسکی تنخواہ میں بھی گھر کا گزار نہیں ہورہا۔ گھر والے مطمئن نہیں ہیں تو انہیں خوش کرنے کے لئے کیا کرے۔
صباحت نے ساتھ ساتھ ثانیہ کی شادی کی تیاری بھی شروع کر دی تھی۔ وہ اپنے گھر سے غموں کا ڈھیر سارا بوجھ لئے واپس آ جاتی۔
رات کے دس بج رہے تھے پورے ہاسٹل میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔
حجاب اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر لان کا نظارہ کر رہی تھی ۔ بہار کے مہینے کے دلفریب ہواؤں کے جھونکے اس کے چہرے کو چھو کے گزرتے وہ آنکھیں بند کر کے کھو جاتی۔ آخراس سے رہا نہ گیا، اس نے اپنے ساتھ والے کمرے میں رہنے والی ٹیچر کو SMS کیا کہ واک کرتے ہیں SMS پڑھ کو وہ ٹیچر باہر آ گئی۔
“بہت اچھا کیا میں خود سوچ رہی تھی کہ واک کروں اتنے میں تمہارا میسیج آ گیا” ربینہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
حجاب نے ایک لمبا سانس کھینچا
”مجھے یہ موسم بہت پسند ہے ۔”
دونوں سہیلیاں واک کرنے لگیں۔ بہت اچھا لگ رہا تھا۔ روبینہ تھوڑا اور چل پائی تھی اس کا فون آ گیا تھا۔ وہ فون سننے کے لئے رکی۔
حجاب روبینہ سے باتیں کرتی رہی پھر اس نے جواب نہ پا کر پیچھے پلٹ کر دیکھا روبینہ اس سے چند قدم پیچھے تھی حجاب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے آگے کی طرف کھینچا تو وہ دونوں ہم قدم ہو گئیں دور دور تک ان دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا حشرات کی سیٹی نما آوازوں نے خاموشی کا احساس بڑھا دیا تھا چنبیلی کے پھولوں کے پاس پہنچ کر حجاب کے قدم بے اختیار رک گئے ۔
“لگتا ہے تمہیں چنبیلی کے پھول بہت پسند ہیں ۔ روبینہ نے پھولوں کو چھوا
حجاب کی کمان دار بھنویں ایک لحظہ کے لئے سکڑ گئیں، تیکھی گہری آنکھیں کسی یاد کے جھروکوں میں جیسے کھونے لگیں ۔
’’ہمارے پرانے گھر میں چنبیلی کے پھولوں کے بہت سے پودے تھے۔”
’’اورایسا کیا تھا تمہارے پرانے گھر میں جو تم بھول نہیں سکی۔‘‘
روبینہ نے پرانی یادوں کو پھر سے کریدا۔
’’اس گھر میں ڈھیر ساراسکون اور بہت ہی خوشیاں تھیں جو شاید اس گھر میں ہی رہ گئیں۔‘‘
حجاب کا بے خیالی میں لوہے کی تار پر ہاتھ لگ گیا۔ اس کے منہ سے سی کی آواز نکلی ۔
’’ حجاب،ادھر سامنے جاتے ہیں۔” روبینہ نے سامنے وسیع وعریض کھلے میدان کی طرف اشارہ کیا۔
حجاب نے تعجب سے روبینہ کی طرف دیکھا۔
’’وہاں تو خار دار جھاڑیاں ہیں، ایسی بیابان جگہ پر مجھے تو خوف آتا ہے ۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے جھرجھری لی
روبینہ نے حجاب کی خاموش آنکھوں میں جھانکا
“جس کے اندر سناٹے ہوں اسے باہر کے سناٹوں کا کیا خوف ۔”
“کیا مطلب” حجاب کو روبینہ کا لہجہ قدرے بدلا بدلا لگا
“آؤ چلتے ہیں”
حجاب کو روبینہ کا ہاتھ کسی مرد جیسا ہاتھ لگا
وہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی روبینہ کے ساتھ خار دار جھاڑیوں کی طرف چلی گئی وہ دونو خاردار جھاڑیوں پر پاؤں رکھ کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ رہی تھی ۔حجاں چھوٹی چھوٹی چیخیں مارتی آگے بڑھ رہی تھی اس کا دو پٹی کسی کانٹے سے اٹک گیا۔
بس روبینہ یہیں ٹھہرتے ہیں ۔ حجاب نے اپنا دوپٹہ کانٹوں سے نکالتے ہوئے کہا
حجاب نے روبینہ کی طرف گہری نظر سے دیکھا۔
“اور یہ تمہیں خاردار جھاڑیاں اور کانٹے کیوں بھانے لگے تم تو سطحی سوچ کی چنچل لڑکی ہو”
تیز تیز بولنے والی روبینہ انتہائی ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی ۔
’’خار دار جھاڑیوں سے بھری اندھیروں میں ڈوبی ہوئی اس کھلی زمین کی طرف دیکھتے ہوۓ ستاروں کے جگمگاتے ہوۓ آسمان کی طرف دیکھو۔ اپنی نظروں کی وسعتوں سے تم چند لمحوں میں زمین اور آسمان کا فاصلہ ختم کر دو گی اور پھر تمہیں محسوس ہوگا جیسے تمہارا جسم کسی ہیولے کی طرح آسمان کی طرف پرواز کرنے لگا ہے۔ اپنی لاشعوری قوتوں کو تیز کرنے کی ایک مشق ہے، کروگی؟‘‘
“ہاں….” یہ کہہ کر حجاب نے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ویران جگہ کی طرف دیکھتے ہوئے آسمان پر نظریں مرکوز کر دیں ۔
چند لمحوں کے بعد اس کی آنکھوں کے پردوں کے پردہ بصارت سے زمین کا عکس ختم ہو گیا اور وہ آسمان کے اندھیروں میں کھوگئی۔ پھر جیسے اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور وہ خود کو ہوا میں معلق محسوس کرنے لگی۔ ان لمحوں میں اس کے ذہن پر اپنا پورا کنٹرول تھا۔ وہ جب چاہے یہ مشق ختم کرسکتی تھی مگر جب اس کا جسم کسی ہیولے کی طرح آسمان کی طرف پرواز کرنے لگا تو اس کا ذہن اس کے کنٹرول میں نہیں رہا۔ کوئی غیبی طاقت اسے اپنی طرف کھینچے لے جارہی تھی کسی نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔ اس کی چیخ نکل گئی جب اس ہوائی جسم نے اس کا دوسراہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ وہ خوف سے چلائی ۔ “کون ہو تم”
وہ ہوائی جسم اپنے مادی وجود میں آ گیا
’’اذہاد!‘‘
حجاب کھل اٹھی۔ جیسے کوئی اپنے پیار کو دیکھ کر خوش ہو جاتا ہے
اذہاد نے خفیف سا اس کے چہرے کو چھوا۔ ’’ میں جانتا تھا کہ اس پیارے موسم میں تم باہر ضرور آؤ گی ‘‘
حجاب کی آنکھوں میں نمی تیر نے لگی، اس نے شکوہ بھری نگاہوں سے کہا۔ ” مجھے چھوڑ کے کیوں چلے گئے…. تم نے تو مجھے دوست کہا تھا نہ، دوست تو اس طرح نہیں چھوڑ تے‘‘
”میں نے کب چھوڑ ا تم نے مجھے محسوس کرنا چھوڑ دیا۔ میں تو ہمیشہ تمہارے آس پاس ہی تھا۔‘‘
اذہاد نے انگلی سے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔ “تم تو مجھ سے خوفزہ تھی تو یہ لہجے میں اپنائیت کیسی۔‘‘
حجاب نے اپنی زبان کو دل کی ترجمانی کرنے سے نہیں روکا ، وہ بے اختیار بول اٹھی ۔
“پتہ نہیں اذہاد! تمہارے جانے کے بعد مجھے یوں محسوس ہونے لگا کہ کوئی غمگسار عزیز دوست مجھ سے جدا ہو گیا ہے۔ تم یقین کرو میں پیرسبحان کو بلانا نہیں چاہتی تھی ۔‘‘
اذہاد نے حجاب کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’میں سب جانتا ہوں ۔ میری اصلیت ظاہر ہونے سے تمہیں کس قد راذیت سے گزرنا پڑا۔ کوئی مجھے تم سے دور کرنے کے لئے تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ مجھے بہت محتاط رہنا ہوگا تمہیں جب بھی میری ضرورت ہو بس دل میں یا دکرنا، میں آجاؤں گا، جیسے تم نے اپنے پرانے گھر کے ساتھ مجھے بھی یاد کیا تھا..” حجاب کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
اذہاد نے چند ساعتوں کے لئے اپنی آنکھیں بند کیں اور پھر کھول لیں۔
“تمہیں اب واپس جانا چاہیے، تمہاری سہیلی روبینہ تمہیں ڈھونڈ رہی ہے تمہیں ترقی مبارک ہو تمہار لئے تحفہ لایا ہوں۔” یہ کہہ کر اذہاد نے نگینوں سے جڑا ہوا سونے کا کڑا حجاب کے بازو پر پہنا دیا۔۔
حجاب پر ایکدم خوشی طاری ہوگئی، وہ کب نیند کی آغوش میں چلی گئی اسے علم ہی نہ ہوا۔ روبینہ کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ بمشکل گہری نیند سے جا گی۔ نجاب نے مبہوت نظروں سے روبینہ کی طرف دیکھا اور ارد گرد نظر دوڑائی خار دار جھاڑیوں والی اسی ویران جگہ پر تھی جہاں سے اس نے زمین و آسمان کی وسعتوں کو اپنی نظروں میں سمونے کی کوشش کی تھی۔
“میں تمہیں پورے ہاسٹل میں ڈھونڈتی رہی اور تم یہاں ان جنگلی جھاڑویوں میں میں سوئی پڑی ہو تم ہاسٹل کے اس ویران حصے میں کیوں آئی ہو، وہ بھی اس اندھیرے میں…” روبینہ سوال پر سوال کیئے جا رہی تھی اور حجاب حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے روبینہ کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
“روبینہ تم خود تو مجھے یہاں لے کر آئی تھی۔”
“میں…….میں تمہیں یہاں لائی تھی؟” روبینہ پریشان سی ہو گئی پھر اس نے حجاب کو سہارا دیتے ہوئے اٹھایا ۔
“تم اٹھو، میں تمہیں تمہارے کمرے تک لے جاتی ہوں۔”
روبینہ حجاب کو اس کے کمرے میں لے آئی۔ اس نے اسے چاۓ بنا کے دی اور اپنا چاۓ کا کپ لے کر اس کے پاس بیٹھ گئی۔
“تو تم یہ کیوں کہہ رہی تھی کہ میں تمہیں اس جگہ لے گئی تھی۔ ہم دونوں تو تھوڑا سا ہی ساتھ چلے تھے کہ میرا فون آ گیا۔ میں موبائل لے کر جھمکا بیل کے پاس کھڑی ہوگئی تم واک کرتے ہوۓ آگے چلی گئی ۔امی کا فون تھا مجھے کافی دیر لگ گئی ۔فون سننے کے بعد میں تمہیں ڈھونڈتی رہی۔‘‘
“اگر تم میرے ساتھ نہیں تھی تو میرے ساتھ کون۔۔۔۔۔۔؟” اس ادھورے سوال کے ساتھ ہی حجاب کے ذہن میں اذہاد کا خیال آیا۔
“کیا اذہادر و بینہ کے روپ میں اس کے ساتھ تھا۔” وہ خود سے سوال کرنے لگی ۔
“لگتا ہے تم نے کوئی خواب دیکھا ہے جسے تم سچ سمجھ رہی ہو ۔‘‘ روبینہ نے کہا
’’شاید میں نے کوئی خواب دیکھا تھا۔” حجاب نے یہ کہہ کر روبینہ کے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کو ختم کر دیا
اس نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے روبینہ کی طرف دیکھا
“تم اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو سوری میں نے تمہیں اتنی تکلیف دی”
روبینہ کی نظر حجاب کے بازو پر پڑی
“اتنا پیارا کڑا یہ تم نے کب لیا حیرت ہے میں نے پہلے کبھی تمہارے بازو پر نہیں دیکھا اسے”
حجاب بوکھلا سی گئی “یہ تو میں نے بہت پہلے سے پہن رکھا ہے تمہاری نظر نہیں پڑی ہوگی”
روبینہ نے کڑا چھو کر دیکھا
“اس میں تو قیمتی نگینے جڑے ہیں”
“روبینہ مجھے نیند آ رہی ہے ” حجاں نے کہا
روبینہ کے جانے کے بعد حجاب بستر پر براجماں ہوگئی ۔ اس نے کلائی اپنے چہرے کے قریب رکھتے ہوۓ کنگن کو ہاتھ سے چھوا تو ایک اچھوتا احساس اس کی سانسوں میں گھل گیا۔ یہ کنگن اذہاد کے مادی وجود کا ثبوت ہے کہ وہ کوئی خیالی وجود نہیں یا میرے تخیل کا کوئی پراسرار تصور نہیں۔
دروازے کی دستک سے وہ اپنے خیال سے چونک گئی۔ اس نے دروازہ کھولا تو دروازے پر روبینہ تھی ۔
“وہ میرا موبائل یہاں رہ گیا۔” روبینہ نے کہا۔
حجاب بھی اس کے ساتھ موبائل ڈھونڈ نے لگی۔
’’اوہ مل گیا۔‘‘ کچن سے روبینہ کی آواز آئی۔
روبینہ کے جانے کے بعد حجاب نے چٹخنی لگالی پھر زیرو وولٹ کی مدھم سی روشنی جلالی اور ٹیوب لائٹ بند کر دی۔ ابھی وہ نیند کی آغوش میں نہیں گئی تھی کہ اسے یوں محسوس ہوا کہ کنگن کے بجائے اس کی کلائی کسی کے ہاتھ کی گرفت میں ہے۔ اس کے پورے وجود میں تھر تھراہٹ دوڑ گئی، وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ اس کے دل کی دھڑکن بہت تیز تھی۔ خوف کے سپید ساۓ جیسے کمرے میں منڈلا رہے تھے۔اس نے جلدی سے کنگن اتارکر الماری میں سنبھال دیا اور آیت الکرسی کا ورد کرتے ہوۓ سونے کی کوشش کرنے لگی۔
کبھی اذہاد کی موجودگی میں حجاب اپنا دوست ڈھونڈتی اور کبھی انتہائی خوفزدہ ہو جاتی، شاید وہ جن وانس کا وجود تھا جس میں کوئی جزبہ پروان نہیں چڑھ سکتا تھا
کلاس میں پیریڈ کے دوران حجاب کا موبائل سائلینٹ تھا وائبریٹر کی خفیف سی آواز پر اس نے موبائل چیک کیا ، صباحت کافون بار بار آ رہا تھا۔
پیریڈ ختم ہونے پر اس نے صباحت کو فون کیا۔
“جی اماں! کیا حال ہے آپ کا .. ’’
“میں ٹھیک ہوں بیٹی تم سناؤ ۔‘‘
’’خدا کا شکر ہے، میں ٹھیک ہوں۔ ثانیہ اورتحریم کیسی ہیں ‘‘
“تم سے ثانیہ کے متعلق بات کرنی تھی ثانیہ کے سسرال والے شافی کی تاریخ مانگ رہے ہیں اس اتوارکوتم گھر آ جاؤ….” صباحت نے کہا۔
’’اماں! بچوں کے پیپرز ہور ہے ہیں ۔ کام بہت زیادہ ہیں ۔ اگر اگلے اتوار کو یہ پروگرام رکھ لیں ۔‘‘حجاب نے کہا
صباحت شش و پنج میں بولی۔
“وہ اس اتوارکو آ نا چاہ رہے ہیں ۔”
’’آپ ایسا کریں کہ اس اتوار کو اپنی مرضی سے تاریخ دے دیں، میری طرف سے معذرت کر لینا۔ میں فون پر ان سے بات کر لوں گی۔‘‘ حجاب نے کہا۔
صباحت نے حجاب کی مجبوری کو سمجھ لیا۔ “تم نہیں آ سکتی تو چلو میں ثانیہ کوسمجھا دوں گی ۔ اس اتوار کو ہی تاریخ دوں گی ۔تم اپنا دھیان کرنا ، دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہو صحت کا دھیان نہیں کرتی ‘‘
اماں کی باتیں سن کر حجاب مسکرادی لیکن ساتھ ہی اس کی آنکھیں بھی بھر آئیں ۔
’’اچھا اماں میں نے کلاس لینی ہے میں فون رکھ رہی ہوں خدا حافظ ۔”
حجاب ٹہلتی ہوئی بالکونی میں لگی جالی کے قریب آ گئی۔ آج اس کی آنکھوں کی نمی سے پھولوں کا رنگ بھی مدہم سا ہو گیا۔
اس نے اپنی پیشانی کو چھوا
’’میرے ماتھے پر کون سا بند یا چمکتی ہے جو کسی کی آنکھوں کے نور میں کھو جائے ان کلائیوں پر کونسا چوڑیاں کھنکتی ہیں جن کی کھنک میں کوئی اپنی خوشیاں ڈھونڈے میری زندگی کے سناٹے شاید کبھی خوشیوں میں نہیں بدلیں گے” حجاب نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا اس کے اگلے پیریڈ کا وقت ہو گیا تھا وہ تیز تیز چلتی ہوئی کلاس روم میں چلی گئی ۔
حجاب جس سکول میں پڑھاتی تھی وہاں ہاسٹل میں ٹیچرز کو چھو ٹے چھوٹے کوراٹرز دیئے گئے تھے جو ایک کمرے، ایک کچن اور ایک باتھ روم پر مشتمل تھا۔ اس لئے حجاب کو وہاں کوئی پریشانی نہیں تھی۔ رات کے دس بجے حجاب نے اپنے لئے چاۓ بنائی، وہ چاۓ لے کر باہر لان میں بیٹھ گئی۔ چار کرسیوں اور ایک میز کے علاوہ یہاں گارڈن لائٹ بھی لگی تھی۔ اسے اذہاد کی بات یاد آئی ۔
’’جب بھی دل سے پکارو گی میں آ جاؤں گا۔” اس نے آنکھیں بند کی اور اذہادکو دل سے پکارا۔ دوسری ہی ساعت میں اذہاد اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ اس نے مبہوت نظروں سے اذہاد کی طرف دیکھا۔
’’تم واقعی آ گئے ہو یا میرا وہم ہے۔”
ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ تم بلاؤ اور میں نہ آؤں۔‘‘ حجاب اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کے سرگوشی کے انداز میں بولی ۔
“آہستہ بولو۔ کوئی تمہاری آواز نہ سن لے۔‘‘
اذہاد مسکرایا۔ ”تمہارے علاوہ نہ تو کوئی میری آواز سن سکتا ہے اور نہ مجھے دیکھ سکتا ہے۔ ہاں البتہ تم آہستہ بولنا ورنہ لوگ سوچیں گے حجاب پاگل ہوگئی ہے اکیلے ہی بول رہی ہے۔”
“آج دل چاہ رہا ہے کہ تم سے ڈھیر ساری باتیں کروں‘‘ حجاب نے اپنائیت سے اذہاد کی طرف دیکھا۔
ازہاد نے اپنی کرسی حجاب کی کرسی کے قریب کر لی “اس اتوار کو ثانیہ کی شادی طے ہو رہی ہے”
“تمہیں کیسے معلوم …. ؟
“مجھے کیسے معلوم ہوا یہ چھوڑو یہ بتاؤ تم کیوں نہیں جا رہی” اذہاد نے پوچھا اور اذہاد کے سوال پر حجاب سوچ میں پڑ گئی اس کے سپاٹ چہرے پر کسی چھپے ہوئے غم کے تاثرات عیاں ہونے لگے
”میرے جانے یا نہ جانے سے کیا فرق پڑتا ہے بس میں فنکشن میں ہونے والے خرچے کا بندوبست کر دوں۔ مجھے تسکین مل جاۓ گی۔ میرے اندر کے سناٹے یہ خوشیوں بھری روایتیں سہہ نہیں سکتے ‘‘
“تم بھی اپنے یہ سناٹے ختم کر دو اور خوشیوں کی راہ ڈھونڈ لو۔‘‘ اذہاد حجاب کی اداسی میں خود بھی کھو گیا۔
حجاب اذہاد کی اس بات پر پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی ۔
”میرے لئے ممکن نہیں۔ میں آج کل سوچ کے ایک عجیب کرب سے گزر رہی ہوں۔ مجھے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ میری بہنوں کو صرف اپنی خوشیاں عزیز ہیں۔اب وہ میرے بارے میں نہیں سوچتیں، وہ اب صرف اپنے بارے میں سوچنے لگی ہیں۔ بس اماں ہیں جن کے لیے میری ذات سے جڑی ہر بات قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ اذہاد میں بہت کوشش کرتی ہوں کہ ان دونوں کی جہاں تک ہو سکے خواہش پوری کروں مگر جب بھی گھر جاتی ہوں وہ محرومیت کی تصویر بن کے میرے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں، ہمارے پاس یہ نہیں ہے، وہ نہیں ہے۔”
اذہاد، حجاب کو اس طرح اداس نہیں دیکھ سکتا تھا، وہ خاصا پریشان ہو گیا ، وہ حجاب کی کرسی کے قریب کھڑا ہو گیا۔اس نے کرسی کے پشت پر ہاتھ رکھ لئے۔
”میں خوداس وقت کا انتظار کر رہا تھا کہ کب تم یہ بات اپنے منہ سے کہتی ہو۔ میں نے تو انسانوں میں یہ چیز زیادہ دیکھی ہے کہ وہ چیزوں کی ہوس میں خونی رشتوں کو پامال کرتے ہیں۔ خواہشات کی غلامی ان سے بڑے سے بڑے گناہ کراتی ہے۔ والدین جو اپنی اولاد کو کامیاب کرنے کے لئے بڑے بڑے مصائب کا سامنا کرتے ہیں وہی اولاد انہیں بڑھاپے میں لاوارث چھوڑ دیتی ہے”
’’انسانوں کے بارے میں تمہارا اتنا مشاہدہ کیسے ہے حجاب کے لہجے میں حیرت تھی۔ اذہاد ایک بار پھر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
“میں تین سو سالوں سے مختلف لوگوں کے ساتھ رہ رہا ہوں”
“ک۔۔۔کی۔۔۔کیا۔۔۔۔۔۔۔تین سو سال” الفاظ حجاب کے حلق میں اٹک گئے اذہاد مسکرا دیا
“ہماری عمر کئی سو سالوں پر محیط ہوتی ہے اور میں ابھی نوجوانی کے دور میں ہوں آج سے 35 برس پہلے میں ایک گھر کے چوبارے پر رہتا تھا۔ ایک بوڑھی عورت اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ گھر کے نچلے حصے میں رہتی تھی ۔اوپر کا چو بارہ ویران تھا اس لئے میں نے وہاں بسیرا کرلیا۔ جب تک وہ بوڑھی عورت گھر کے کام کاج میں بہو کا ہاتھ بٹاتی رہی ، بہو ان کے ساتھ ہی رہی۔ جب و لاغر ہوئی تو گھر کے پرانے سامان کی طرح ان لوگوں نے اسے چو بارے میں چھوڑ دیا۔
بہو ملازمہ کے ہاتھ کھانے پینے کی اشیاء اوپر بھجوا کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتی۔ بوڑھی عورت سیڑھی اتر نے کے قابل نہیں تھی ۔ بچے تو فرشتے ہوتے ہیں، دادی سے ملنے بھی آجاتے تو ماں ڈانٹ کر بلا لیتی کہ دادی سے باتیں کرنے سے بچوں کا لب ولہجہ خراب ہو جا تا ہے ۔
رفتہ رفتہ بوڑھی عورت کی بیماری بڑھتی گئی۔ ڈاکٹر بھی آ تا، چیک اپ بھی ہو جاتا ، دوا بھی دے دی جاتی مگر خونی رشتوں سے دوری اس کی بیماری کا موجب تھی۔ اسے دوا کی ضرورت نہیں ان پیار بھرے دلاسوں کی ضرورت تھی جس سے وہ میٹھی نیند سو جاۓ ۔
دو بیٹیاں اور ایک بیٹا اس کی آل اولاد تھی ۔ بیٹیاں اپنے گھروں کے جھنجھٹ میں الجھی رہتیں اور بیٹا پندرہ یا سولہ دنوں کے بعد ماں سے ملنے آتا، جب بھی آتا اپنی مصروفیت کے قصے سناتا رہتا، پھر ایک روز میں اس کے سامنے آگیا، پہلے تو وہ انتہائی خوفزدہ ہوگئی، پھر دھیرے دھیرے میں نے ان کی تنہائی بانٹ لی۔ مگر ہمارا ساتھ ایک ماہ بھی نہ رہ سکا اور وہ بوڑھی عورت فوت ہوگئی۔ پھر میرا دل اچاٹ ہو گیا اور میں نے وہ مسکن چھوڑ دیا۔ میں مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف جگہوں پر رہتا رہا۔۔ کہیں عورتوں پرظلم کہیں بچوں پر ظلم کہیں جائیداد کے پیچھے خون خرابہ، نہ جانے کیسے کیسے کرب ناک واقعات میں نے دیکھے ہیں اور جو پیار کر نے والا ہوتا ہے ، وہ تنہا رہ جاتا ہے۔ اس دنیا میں اچھے لوگ بھی ہوں گے مگر کوئی کوئی ایسا خوش نصیب ہوتا ہے جسے ایسے لوگوں کا ساتھ ملے۔‘‘
اذہاد کی باتیں سن کر حجاب سن ہو کر رہ گئی وہ خاموشی سے اس کی طرف دیکھتی رہی۔
اذہاد نے اس کی آنکھوں کے آگے اپنا ہاتھ لہرادیا۔ ” تم کن سوچوں میں پڑ گئی ہو ۔‘‘
حجاب نے گہری نظر سے اذہاد کی طرف دیکھا۔ ”میں یہ سوچ رہی ہوں کہ آسیب ہونے کے باوجود تمہارے اندر احساس اور پیار کرنے والا دل ہے مجھے بتاؤ کہ تم میری زندگی میں کس طرح آۓ ؟‘‘
قدموں کی ٹک ٹک کی آواز باڑ کے عقب سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ’’ لگتا ہے کوئی آ رہا ہے۔ مجھے اب جانا چاہیے۔” اذہاد نے کہا
’’پہلے میری بات کا جواب دو ۔“
’’اگلی ملاقات میں بتاؤں گا ۔‘‘
’’اچھا! بس اتنا بتادو کہیں مجھے چھوڑ کر تو نہیں چلے جاؤ گے۔‘‘ حجاب نے پوچھا۔
”جب تک اس جسم میں سانس ہے میں تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔“ یہ کہہ کر پلک جھپکتے ہی اذہاد غائب ہو گیا۔
“اوہ حجاب تم اتنے رات گئے یہاں کیا کر رہی ہو؟” ہیڈ آف ہاسٹل کی کڑک دار آواز حجاب کے کانوں سے ٹکرائی ۔
حجاب کھڑی ہوگئی۔
’’وہ میڈم اندرگھٹن ہورہی تھی‘‘
“اپنی کسی سہیلی کو ساتھ بٹھا لیا کرو اس طرح اکیلے مت بیٹھا کرو حالات ٹھیک نہیں ہیں” ہیڈ آف آفس نے ایمرجنسی لائٹ گھماتے ہوۓ کہا تو حجاب اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ اپنے کمرے میں چلی گئی ۔
☆☆☆☆☆☆☆
اتوار کے روز صباحت نے ثانیہ کی شادی کی تاریخ دے دی اور اگلے ماہ کی 26 تاریخ طے پائی منگنی کے فورا بعد ہی صباحت نے شادی کی تیاری شروع کر دی تھی، اس لئے اس کے لئے اب شادی کی تیاری مسئلہ نہیں تھی ۔ شام کے چار بجے ٹیوشن پڑھنے والے بچے آ گئے تو حجاب نے حسب معمول صحن میں اپنی کرسی رکھ لی اس وقت اکثر روبینہ بھی اس کے ساتھ بیٹھ جاتی اور بچوں کو پڑھانے میں اس کی مددکر دیتی۔
دس بچے ٹیوشن پڑھتے تھے، وہ ہر بچے سے دو ہزار روپے لیتی تھی اور انہیں مختلف Subject پڑھاتی تھی ۔ جس وقت صباحت کا فون آیا روبینہ بھی حجاب کے قریب بیٹھی تھی ۔ ’’مبارک ہو آپ کو، اگلے ماہ کی چھبیس تاریخ یعنی 26 اپریل طے پائی ہے۔ بس اب آپ شادی کی تیاریوں میں مصروف ہو جائیں ۔ثانیہ کوفون دیں۔‘‘ حجاب نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
ثانیہ کی اداس اداس آواز فون پر آئی ۔
”مجھے پرایا کر کے تم سب بہت خوش ہور ہے ہو۔‘‘
پگلی تجھے کیا معلوم سہاگن بننا کتنی بڑی خوش نصیبی ہے قسمت والیاں ہوتی ہیں جن کے ہاتھوں میں مہندی لگتی ہے”
’’ذرا اماں کوفون دو ‘‘
صباحت نے فون لیا تو حجاب بولی ۔ ’’اماں آپ بتارہی تھیں کہ آپ نے شادی کی تیاری تقریبآ کر رکھی ہےفرنیچر اور شیور کے پیسے بھی آپ نے رکھے ہوۓ ہیں ۔
’’ہاں میری بیٹی، جس ماں کے تیرے جیسی محنتی بیٹی ہو اسے کوئی پریشانی کیسے ہوسکتی ہے، تیرے بھیجے ہوۓ پیسوں میں سے میں نے دوکمیٹیاں ڈالی تھیں، ان سے انشاءاللہ زیور اور فرنیچر دونوں بن جائیں گے۔‘‘ صباحت کی خوشی سے بھر پور آواز فون سے باہر تک آ رہی تھی ۔
“اچھا اماں خدا حافظ….” حجاب نے موبائل بند کر دیا۔
روبینہ نے مسکراتے ہوۓ حجاب کی طرف دیکھا۔’’مبارک ہو…. بہن کی شادی کی تاریخ طے ہوگئی ہے۔‘‘
’’خیر مبارک‘‘ حجاب نے کہا۔
روبینہ نے ترچھی نظر سے حجاب کی طرف دیکھا۔
’’ویسے عجیب لگتا ہے کہ بڑی بہن بیٹھی ہو اور چھوٹی کی شادی ہو جاۓ ۔‘‘
حجاب نے بے اعتنائی سے سر کو جھٹکا۔ “چھوڑ وا زندگی کے فیصلے ہمارے اختیار میں نہیں ہوتے ۔ ویسے بھی خوشی ہے کہ اماں نے ساری تیاری کرلی ہے۔اب مجھے کوئی فکر نہیں ۔‘‘
روبینہ جو حجاب کی ساری باتیں بہت دلچسپی سے سن رہی تھی مسکراتے ہوۓ بولی۔ ” پھر تم ایسا کرو، کچھ پیسے جمع کر کے اپنے لئے چھوٹا سا سونے کا سیٹ بنوالو ‘‘
’’ہاں ! میں نے ایک چھوٹی سی کمیٹی اسی لئے ڈالی تھی کہ ثانیہ کی شادی میں سونے کا چھوٹا سا سیٹ بناؤں گی” حجاب اپنی دمکتی آنکھوں میں جیسے اپنا عکس دیکھنے لگی کہ وہ سونے کے سیٹ میں کیسی لگے گی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: