Urdu Novels Wajiha Saher

Khajoor Ka Darakht by Wajiha Saher – Last Episode 11

Khajoor Ka Darakht by Wajiha Saher
Written by Peerzada M Mohin

کھجور کا درخت از وجیہہ سحر – آخری قسط نمبر 11

–**–**–

”ٹھیک ہے بیگم صاحبہ میں کچن کا سامان سمیٹ لوں پھر سودا لے آتا ہوں۔”
ویسے تو شاہ جی دو پہر کا کھانا تیار کرتے تھے وہی کھانا رات کو بھی استعمال ہو جا تا تھا لیکن شام کو حجاب نے خود ہی بنالیا تھا۔ وہ سالن بچ گیا تھا اس لیے شاہ جی نے آج شام کو کھانا تیار کرنا تھا اس لیے وہ پودوں کے کام میں مصروف ہو گئے۔ حجاب گھر کی صفائی بھی کر گئی تھی۔ صباحت اپنے کمرے میں لیٹی ہوئی تھی۔ پودوں کے کام میں شاہ جی دو گھنٹے میں مصروف رہے۔ پھر سودا لینے کے لیے بازار چلے گئے ۔
بازار سے سوداخریدنے سے پہلے شاہ جی نے بل جمع کرائے، اس کے بعد بازار سے سوداخریدا۔ جمعہ کا دن تھا، حجاب کے سکول کا بھی ہاف ڈے تھا تقریبا بارہ بجے حجاب کے سکول میں چھٹی ہوگئی۔ حجاب جلدی گھر آ گئی، حجاب جب گھر پہنچی تو شاہ اس سے ایک سڑک کے فاصلے پر تھے۔
حجاب دروازے پر کھڑی بیل بجاتی رہی مگر صباحت نے درواز نہیں کھولا
“شاید اماں کی آنکھ لگ گئی ہو۔” حجاب نے موبائل سے گھر پر فون کیا تو صباحت نے فون بھی نہیں اٹھایا۔
“لگتا ہے شاہ جی بھی گھر پر نہیں ہیں۔” ساتھ ہی اس کے عقب سے شاہ جی کی آواز ابھری۔
“لگتا ہے بیگم صاحبہ ہلسو گئیں ہیں میں گیٹ پھلانگ کے دروازہ کھولتا ہوں”
حجاب شاہ جی سے کچھ کہنے لگی کہ وہ ان بوڑھی ہڈیوں کے ساتھ گیٹ کیسے پھلانگیں گے مگر اس کے سوچتے شاہ جی کسی جوان لڑکے کی طرح گیٹ پھلانگ کر اندر چلے گئے۔ شاہ جی نے دروازہ کھولا تو حجاب مسکراتے ہوۓ گھر میں داخل ہوئی ۔
’’واہ شاہ جی آپ تو بہت پھر تیلے ہیں“ شاہ بجی سبزی لے کر اندر چلے گئے ۔
’’اماں کہاں ہیں آپ…” حجاب ماں کو پکارتی ہوئی ان کے کمرے میں چلی گئی ۔ صباحت آنکھیں بند کیے ہوۓ اپنے بستر پر بے سدھ لیٹی ہوئی تھی ۔
”یہ کیا اماں! آپ تو پہلے کبھی بھی اس وقت نہیں سوئیں، آپ کو تو میرا انتظار ہوتا ہے کہ آج آپ کی بیٹی جلدی آۓ گی ‘‘
حجاب نے ماں کے چہرے کو چھوا تو اس کے جسم نے جھر جھری لی ۔صباحت کا چہرہ ٹھنڈا تھا۔ حجاب نے ماں کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا صباحت کے ہاتھ سرد تھے۔
’’اماں کیا ہوا، اس طرح ٹھنڈی کیوں ہوگئی ہو۔‘‘ حجاب ماں کے ہاتھ ملنے لگی ۔ صباحت ٹس سے مس نہ ہوئی، اس کے جسم میں خفیف سی حرکت بھی نہ ہوئی ۔
حجاب نے ماں کے چہرے پر ہلکی ہلکی سی تھپکی دی ۔ ’’اماں آنکھیں کھولو، آنکھیں کیوں نہیں کھول رہی۔”
حجاب نے صباحت کو شانوں سے پکڑ کر اٹھانا چاہا تو صباحت کی گردن بے جان ہو کر ایک طرف کو لڑھک گئی حجاب کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا صباحت کی حالت کا اشارہ جس طرف تھا حجاب کا دل اسے ماننے کو تیار نہ
حجاب کی آواز سن کر شاہ جی بھی کمرے میں آ گئے
“کیا بات ہے بیگم صاحبہ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا”
پتا نہیں اماں کو کیا ہو گیا ہے اماں نیند سے جاگنے کو تیار ہی نہیں ہیں؟ ‘‘ حجاب نے روتے ہوۓ ماں کے سینے پر سر رکھا تو اس کے سینے میں دھڑ کن نہیں تھی۔ حجاب پچھٹی پھٹی آنکھوں سے ماں کو دیکھتے ہوئے پیچھے ہٹ گئی۔ اس کے چہرے پر اکڑاؤ سا آ گیا۔ ہونٹ سلب ہو گئے ۔
شاہ جی نے حجاب کی یہ حالت دیکھی تو وہ صباحت کے قریب بیٹھ گئے صباحت کی نبض دیکھی تو پتہ چلا صباحت زندگی کا دامن چھوڑ کر اجل کی آغوش میں جا چکی تھی ۔
شاہ جی نے حجاب کی طرف دیکھا۔ حجاب یہ تلخ حقیقت جان چکی تھی مگر اس کی سرد آنکھوں میں آنسو جیسے جم گئے تھے
شاہ بی حجاب کے پاس بیٹھ گئے ۔
’’حجاب خود کو سنبھالو تمہاری اماں اب اس دنیا میں نہیں ہے ۔‘‘
حجاب کو جیسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ پتھر کی مورتی کی طرح ساکت تھی، شاہ جی وہاں سے اٹھ گئے
اور پڑوس کے گھروں میں جا کر ساری صورتحال بتائی۔ پڑوس سے کچھ عورتیں اپنے سارے کام کاج چھوڑ کر حجاب کے پاس آ گئیں ۔
عورتوں نے صحن میں دریاں بچھائیں انہوں نے صباحت کی چارپائی باہر بچھائیدو عورتیں حجاب کو باہر
لے آئیں۔ ایک عورت نے صباحت کے اوپر سفید چادر ڈال دی۔ حجاب کے ہونٹ کانپنے لگے۔ وہ دوڑتی ہوئی چارپائی کی پائنتی پر جا گری۔۔
“میری ماں کے اوپر چادر کیوں ڈال دی ہے”
ایک بوڑھی عورت نے حجاب کے سر پر ہاتھ رکھا “صبر کر بیٹی، تیری ماں اب اس دنیا میں نہیں تجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلی گئی ہے ۔۔”
حجاب چیخ چیخ کے رونے لگی ۔ شاہ جی ستون کے پاس کھڑے حجاب کو دیکھ رہے تھے انکی بھی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں
شاہ جی نے صباحت کی تدفین و تکفین کا سرا کام سنبھال لیا۔ صباحت کے کہنے کے مطابق حجاب نے اس کے مرنے کی خبر کسی کونہیں دی ۔
اپنوں کی بے وفائی اور ان سے دوری کے غم نے بالآخر صباحت کی جان ہی لے لی۔ صباحت کے قل ہونے تک رفعت اس کے پاس ہی رہی ۔ حجاب تو اپنی سوچوں میں گم جیسے پتھر کی ہوگئی تھی۔ نہ اسے کسی کے آنے کی خبر ہوئی اور نہ جانے کی۔
بس پتھرائی پتھرائی سی آنکھوں کے ساتھ تسبیح پڑھتی رہی۔
شام کا وقت تھا۔ گھر سے سب مہمان جاچکے تھے۔ بس رفعت اور حجاب باہر صحن میں بچھی دری پر بیٹھی ہوئی تھیں ۔
رفعت نے حجاب کا ہاتھ انتہائی خلوص سے تھاما۔
“حجاب، میں جانتی ہوں کوئی تمہارا دکھ کوئی شیئر نہیں کر سکتا مگر تمہیں ہمت سے کام لینا ہوگا کیونکہ اب تم اکیلی رہ گئی ہو اور اب تمہیں اپنے بارے میں سوچنا ہے۔ ماں کے بغیر تم اس دنیا میں اکیلی نہیں رہ سکتی۔ تمہاری اماں میری زمہ داری پو للر اس شہر میں آئیں تھی میں تمہیں اس طرح تنہا نہیں چھوڑ سکتی تم ایسا کرو میرے ساتھ میرے گھر چلو
حجاب دھیمے لہجے میں بولی ۔ “آپ میرے فکر نہ کریں میں دو روز کے بعد ہاسٹل چلی جاؤں گی۔ آپ اس طرح اپنا گھر چھوڑ کر یہاں رہ رہی ہیں آپ کی مہربانی کیا کم ہے لیکن آنٹی ہم تو لٹے ہوۓ آپ کے شہر میں سہارا لینے آئے تھے، آپ کے شہر نے ہمیں ایک بار پھر لوٹ لیا ‘‘
حجاب، رفعت کے گلے لگ کر پھر سے رونے لگی آنسؤں سے اس کی آنکھوں کے نیچے زخم ے بن گئے تھے مگر اس کے آنسو تھے کہ رکتے ہی نہیں تھے۔
رفعت نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ”ٹھیک ہے جب تک ہاسٹل شفٹ نہیں ہو جاتی میں یہی رہوں گی اٹھو کچھ دیر آرام کر لو‘‘
حجاب اٹھی اور خاموشی سے بستر پر براجمان ہوگئی ۔
“تم آرام کرو میرے دو پارے رہتے ہیں میں وہ پڑھ لوں” یہ کہہ کر رفعت وہاں سے چلی گئی ۔
تھوڑی دیر بعد شاہ جی حجاب کے لیئے چائے بنا کر لے آئے اس نے دروازے پر دستک دی۔۔
حجاب دو پٹہ درست کر کے اٹھ بیٹھی ۔
شاہ جی نے چاۓ میز پر رکھی اور خاموشی سے جانے لگے۔
’’شاہ جی رکیے۔’’
“جی حجاب بی بی، کوئی کام ہے ۔‘‘ شاہ جی نے انتہائی عاجزی سے کہا۔
’’آپ کچھ دیر میرے پاس بیٹھیں‘‘
شاہ جی زمین پر آلتی پالتی مار کے بیٹھ گئے ۔ ’’انسان جانتا بھی ہے کہ ایک دن سب کو جانا ہے۔ پھر بھی ایک دوسرے کا سہارا لیتے ہیں، ایک دوسرے کے عادی ہو جاتے ہیں ، پھر کسی اپنے کے اچانک بچھڑ نے پرٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں ۔‘‘ شاہ جی تاسف بھرے لہجے میں بولے۔
“شاہ جی یا تو آپ کا پتھر کی طرح ہے سخت ہے یا پھر اس قدر گھائل کہ اس میں احساس کی رو نہیں موت کی حقیقت برحق ہے مگر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اپنوں سے محبت نہ کریں۔‘‘
شاہ جی نے اپنی نورانی آنکھوں سے حجاب کی طرف دیکھا۔ ’’ابدی نیند اس دنیا کی نیند سے بہت بہتر ہے۔ اس زندگی میں تو قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ،عمر کے ہر حصے میں ایک نئے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ آپ کی والدہ تو ان سارے امتحانات سے بری الذمہ ہوگئی ہیں۔” حجاب آنکھیں جھکاۓ کھوۓ کھوۓ سے بولی ۔
“مگر میرے لیے میری زندگی مسلسل سرائے ہے۔ میری اماں کی پیار بھری آنکھیں میرے لیے کٹھن راہوں پر مشعل راہ تھیں۔ وہ آنکھیں بجھ گئیں تو میرے لیے جینے کی کوئی وجہ ہی نہیں رہ گئی۔”
“ڈائری لکھا کرو کاغذ پر دل کا غبار نکال لینے سے دل کو کافی ڈھارس ملتی ہے ۔‘‘
“شاہ جی کی بات سنتے ہی حجاب کے جسم میں جھرجھری دوڑ گئی اسے اپنے عقب سے جیسے اذہاد کی آواز سنائی دی۔ یہ بات اکثر اس سے اذہاد کہتا تھا۔
حجاب اپنی سوچ میں اس طرح کھو گئی کہ اسے علم نہ ہوا کہ کب شاہ جی اسکے کمرے سے چلے گئے
شاہ جی کے جانے کے بعد حجاب ہوا سے باتیں کرنے لگی ۔ ”کیسے دوست ہواذ ہاد، دکھ کی اس گھڑی میں بھی اپنی دوست کو دلاسہ نہیں دو گے کوئی کسی سے ایسے بھی خفا ہوتا ہے۔
حجاب کے خشک اکڑے ہوۓ کھلے بال اس طرح لگ رہے تھے جیسے مٹی سے اٹکے ہوں۔ چہرے کی جلد کھردری ہو کے جگہ جگہ سے پھٹ گئی تھی۔
وہ سیدھی کھڑی ہوگئی اس نے اپنے دونوں بازو سیدھے اکڑا لیے۔ ’’دیکھواذہاد، میرا کیا حال ہو گیا ہے۔ اپنوں پر وفائیں لوٹانے کے بدلے میں مجھے یہ تنہائی ملی ہے۔ دوسرے لوگوں کی طرح تم بھی بے مروت نکلے۔ بے شک میں نے تمہاری بات نہ مان کر تمہیں خفا کیا مگر کیا کوئی اپنی دوست کو اس طرح تڑپنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ دوسری لڑکیوں کی طرح میں بھی لڑکی ہوں ۔اتنے غم سہنے کا حوصلہ نہیں مجھ میں”
حجاب نڈھال وجود کے ساتھ زمین پر بیٹھ گئی اس نے اپنا ایک ہاتھ زمین پر رکھ لیا اور پلنگ سے ٹیک لگاتے ہوۓ آنکھیں موند لیں۔
رفعت کو ساتھ والے کمرے میں حجاب کی باتیں کرنے کی آواز مسلسل آ رہی تھی وہ پارہ پڑھ رہی تھی۔ اس کا دھیان بار بار حجاب کی طرف جارہا تھا۔
”یہ حجاب کس سے باتیں کر رہی ہے ، شاہ جی تو کچن میں ہیں۔‘‘
حجاب آنکھیں موندے پلنگ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی اسے اپنے بوزوؤں سے کسی نرم جسم کے خفیف سے چھونے کا احساس ہو رہا تھا اس نے اپنا وہم سمجھ کر اس پر دھیان نہ دیا مگر رفتہ رفتہ اسکے جسم کر کسی موٹی رسی نے اپنی گرفت میں لے لیا۔
حجاب نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں تو اس کے دائیں بازو پر سیاہ سانپ لپٹا ہوا تھا حجاب کی اندر کی سانس اندر باہر کی باہر رہ گئی اسکی زبان پر جیسے بل آ گیا نہ وہ چیخ سکی نہ کوئی آواز نکال سکی وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سانپ کی طرف دیکھتی رہی اپنے ہاتھوں کو اس نے ذرا بھر نہ ہلایا کہ یہ سانپ اسے ڈس نہ لے
رفعت کمرے میں داخل ہوئی تو کر یہہ آمیز چخیں اس کے حلق سے نکلیں ۔
“سانپ، حجاب خود کو بچاؤ….”
رفعت کے چیختے ہی وہ سیاہ سانپ ایک ساعت میں غائب ہو گیا۔ حجاب اٹھ کر رفعت سے لپٹ گئی ۔ ۔
” شاہ جی ،جلدی آئیں یہاں کمرے میں سانپ ہے ۔”
شاہ جی نے کمرے کی ساری جگہیں دیکھیں مگر وہ سانپ کہیں نظر نہ آیا۔
’’ حجاب بی بی ،لگتا ہے سانپ پچھلے دروازے سے باہر نکل گیا ہے۔”
” لیکن دروازہ تو بند ہے ۔‘‘
’’حجاب بی بی، سانپ اپنے جسم کو زمین پر پھیلا کر تھوڑی سی جگہ سے بھی باہر نکل جاتے ہیں۔‘‘
“مگر اتنی جلدی….” حجاب مبہوت نظروں سے اردگرد دیکھنے لگی ۔
”چھوڑ میں حجاب بی بی ، آپ کی جان بچ گئی۔ آپ بے فکر ہو کر آرام کر لیں، کمرے کے اندر سانپ نہیں ہے”
رفعت حجاب کے پاس بیٹھ گئی۔
“میں ادھر تمہارے پاس ہی لیٹ جاتی ہوں‘‘
شاہ جی باہر چلے گئے ۔ حجاب بیڈ پر براجمان ہوگئی ۔ رفعت اس کے ساتھ ہی بیڈ پر لیٹ گئی ۔ سانپ نظر آنے سے پہلے حجاب کے سر میں شدید دردتھا۔ پٹھوں میں کھچاؤ تھا مگر اب اسے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے کسی نے اس پر دم کر دیا ہو پل پلبجر میں اسکی ساری تکالیف رفع ہو گئی وہ پر سکون نیند کی آغوش میں چلی گئی”
شام کے پانچ بج رہے تھے حجاب الماری میں سے اپنے کپڑے نکال کر پیکینگ کر رہی تھی
شاہ جی نے دروازے پر دستک دی۔ حجاب نے دروازے کی طرف دیکھا۔
’’ آپ پیکینگ کر رہی ہیں۔‘‘ شاہ جی نے اندر داخل ہوتے ہی اٹیچی کیس کی طرف دیکھا
’’جی شاہ جی بکل صبح میں ہاسٹل شفٹ ہو جاؤں گی ۔‘‘
’’ تو پھر میرے لیے کیا حکم ہے ۔‘‘ شاہ جی نے اداس بھرے لہجے میں پوچھا۔
حجاب نے دروازے سے چابی نکالی اور شاہ جی کے ہاتھ میں تھما دی۔
“یہ گھر آپ کے حوالے ہے۔ آپ اپنا سامان ادھر لے آئیں، جس طرح اماں نے گھر سیٹ کیا تھا، یہ اس طرح رہنا چاہیے۔ آپ نے اس گھر کی صفائی کا بھی خیال رکھنا ہے۔ میں چھٹی کا دن ادھر گزارا کروں گی۔ اس دن آپ کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھایا کروں گی۔ ہاسٹل میں نہ تو آپ کے ہاتھ جیسا کھانا ملے گا اور نہ ہی چاۓ‘‘
شاہ جی ہاتھ میں چابی تھامے کھڑے تھے۔ان کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں ۔
’’جہاں بھی رہیں خدا آپ کی حفاظت کرے۔‘‘ شاہ جی نے گلوگیر آواز میں کہا اور وہاں سے چلے گئے۔ سامان پیک کرنے کے بعد حجاب رفعت کے پاس جا کے بیٹھ گئی۔
رفعت گم سم اکیلے بیٹھی تھی ۔ اس نے لمبا سانس کھینچا۔
“بس اتنے تھوڑے دنوں کے لیے ہی میری سہیلی میرے قریب آئی تھی کسی کو کیا پتہ تھا وہ اتنی جلدی ہم سب کو چھوڑ کے چلی جائے گی۔‘‘
حجاب نے رفعت کے کندھے پر سر ٹکا دیا
“شاید میری ماں کے دکھ بہت بڑھ گئے تھے اس لیئے خدا نے انہیں سارے دکھوں سے سبکدوش کر دیا مگر میں یہ زندگی کیسے گزاروں گی میرا تو سب کچھ لٹ گیا”
رفعت نے حجاب کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“بچوں کو پڑھانے میں دل لگا لینا اگر اس طرح پریشان رہو گی تو تمہاری ماں کی روح کو تکلیف ہوگی جتنا صبر سے کام لو گی تمہاری ماں کے لیئے اتنی آسانی ہو جائے گی اس لیئے کچھ نہ کچھ پڑھتی رہو اس سے انکو ثواب جائے گا اور خدا کی طرف سے تمہیں بھی سکون مل جائے گا۔ موت برحق ہے، مرنے والوں کے ساتھ مرتا کوئی نہیں ہے ۔ان کے بغیر جینا پڑ تا ہے ۔ تم نے پیکنگ کر لی ہے اگر تمہیں میری مدد چاہیئے تو بتا دو….”
” نہیں میں نے پیکنگ کر لی ہے۔ میں نے شاہ جی کو سمجھا دیا ہے۔ وہ ادھر اس گھر میں رہیں گے۔”
“مگر بیٹی اس کی ضرورت کیا ہے تم اس گھر کو قفل لگوادو اور جب تمہارا دل چاہے تم میرے گھر رہ سکتی ہو۔” رفعت نے کہا۔
حجاب نے اپنی ماں کی ہینگنگ چیئر کو ہاتھ سے چھوا۔ ’’اس گھر میں میری اماں کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ جیسا اماں یہ گھر چھوڑ کر گئی ہیں، یہ گھر ایسا ہی رہے ۔ میری اماں کی چیزوں پر دھول مٹی نہ جمے۔
رفعت نے ٹھنڈی آہ بھری۔ “جیسی تمہاری مرضی ‘‘
” آپ کو کرایہ بر وقت ملتا رہے گا …” حجاب کی بات سن کر رفعت نے اس کی طرف خفگی سے دیکھا۔
“تم مجھے غیر سمجھتی ہو اس لئے ایسی باتیں کرتی ہو ‘‘
“پلیز آنٹی! اگر آپ مجھے اپنا سمجھتی ہیں تو مجھے اصول کے ساتھ چلنے دیں، اگر یہ زندگی میں اصول نہ ہوں تو زندگی کا کھوکھلا پن ہمارے وجود کو بھی کھوکھلا کر دیتا ہے۔ میں آپ کا کرایہ با آسانی دیتی رہوں گی ۔اگر میرے لئے کچھ تکلیف دہ ہے تو میری تنہائی ہے جو میں اپنے ساتھ لیئے جا رہی ہوں”
حجاب نے بھیگی آنکھیں چرانے کے لیئے رخ دوسری طرف کر لیا۔ گھر شاہ جی کے حوالے کر کے حجاب سکول کے ہاسٹل میں شفٹ ہوگئی۔
صباحت کے بیسویں پر حجاب گھر آئی رفعت حجاب کے فون کر سے پہلے ہی گھر پہنچ گئی تھی ۔حجاب نے گھر میں قرآن خوانی رکھی تھی ۔
حجاب نے شاہ جی کے ساتھ مل کر ختم دلوانے کے لئے پلاؤاور قورمہ تیار کیا۔
قرآن پاک کے پورا ہونے کے بعد ایک بزرگ خاتون نے ختم القرآن کی دعا پڑھی اور اس کے بعد اپنے درس کے ذریعے تمام خواتین کو بدی زندگی کے حقائق سے روشناس کرایا۔ حجاب اس بزرگ خاتون کے پاس آ بیٹھی۔ اس بوڑھی عورت نے حجاب کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ’’ تم صباحت کی بیٹی حجاب ہو ۔‘‘
حجاب نے اپنی بھیگی ہوئی آنکھوں سے بوڑھی عورت کی طرف دیکھا۔ ’’ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں ہی حجاب ہوں ‘‘
بوڑھی عورت گلوگیر لہجے میں بولی ۔
”بیٹیوں کے آنسوں ہوتے ہیں وہ کسی سے نہیں چھپتے ۔ مجھے علم ہوا ہے کہ یہاں قرآن خوانی ہے تو بغیر بلاۓ چلی آئی تم نے مجھ سے کچھ پوچھنا ہے۔‘‘
“آنٹی مجھے کوئی ایسی دعا بتائیں جس سے میری اماں کی روح کو سکون ملے‘‘ حجاب نے بے چینی سے پوچھا۔ ۔ ”تمہاراصبر! تمہارا صبر ہی تمہاری ماں کی روح کو سکون دے سکتا ہے۔ تمہاری بے چینی بتارہی ہے کہ تمہاری اماں کی روح کو بھی سکون نہیں ہوگا۔ جتنا ہو سکے قرآن پاک پڑھو، پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرو اور ہر نماز میں اپنی والدہ کے لیئے دعا مانگو”
یہ کہہ کر بوڑھی عورت نے صحن میں نظر دوڑائی ’’آخری وقت میں میت کو کہاں رکھا تھا۔”
حجاب نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوۓ بوڑھی عورت کو بتایا۔ ” وہ جو دروازے کے ساتھ گلی سی ہے وہاں”
’’اس جگہ چالیسویں تک ایک دیا جلانا” اس بوڑھی عورت نے کہا۔
“جی بہتر” حجاب نے کہا۔ آپ مجھے اپنا ایڈریس دیں میں اماں کے چالیسویں پر آپ کو بلاؤں گی۔
’’میں خودآ جاؤں گی بیٹی ۔اب چلتی ہوں… اتنے میں شاہ جی نے خواتین کے سامنے پلاؤ اور قورمہ رکھ دیا۔
’’ آپ کچھ کھالیں! پھر بے شک چلی جانا۔‘‘ یہ کہہ کر حجاب خواتین کوکھا نا۔ مغرب کا وقت ہونے والا تھا۔ تمام خواتین جا چکی تھیں، رفعت بھی چلی گئی تھی۔ حجاب تھکی تھکی شاہ جی کے ساتھ برتن سمیٹنے لگی تو شاہ جی نے آگے بڑھ کر برتن اس کے ہاتھوں سے لے لیئے
”بی بی جی ! یہ آپ کا کام نہیں ہے ۔ آپ آرام کریں میں سب سنبھال لوں گا۔‘‘
’’شاہ جی یہ کام بہت زیادہ ہے آپ تھک جائیں گے، میں آپ کی مددکروں گی تو کام جلدی ختم ہو جاۓ گا۔‘‘حجاب نے شاہ جی کے ساتھ مل کر سارے برتن دھلوا دیئے اتنی دیر میں مغرب کی اذان ہوگئی ۔
حجاب کو اچانک بوڑھی عورت کی بات یاد آئی۔ اس نے شاہ جی سے بلا تامل پوچھا۔ ” مجھے کہیں سے دیا مل سکتا ہے ۔”
”گھر میں تو دیا نہیں ہے پھر بھی کہیں دیکھتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر شاہ جی کچن سے چلے گئے ۔ غالبا وہ اپنے کمرے میں گئے تھے۔ واپس آۓ تو ان کے ہاتھ میں دیا تھا۔ جس میں تیل تھا۔
حجاب نے جلدی سے شاہ جی کے ہاتھ سے دیا لے لیا۔ ”شکریہ شاہ جی۔”
وہ ایک ہی ساعت میں دوڑتی ہوئی صحن میں آگئی، ڈیوڑھی کے قریب جہاں آخری وقت میں صباحت کی میت رکھی تھی، وہاں اس نے ایک گملا رکھا اور اس کے اوپر دیا رکھ کے اسے جلا دیا۔ ابھی خاصی روشنی تھی۔ ابھی اندھیرا نہیں ہوا تھا ۔ حجاب نے وضو کر کے نماز ادا کی اور پھر اسی بڑی سی چادر میں لپٹی ہوئی وہ سیڑھیوں کے قریب کھڑی ہوگئی۔
سیڑھیوں سے تھوڑے ہی فاصلے پر دیا جل رہا تھا دن کا اجالا سیاہ لبادہ اوڑھ چکا تھا دن کی گہما گہمی تاریک راہوں کے سناٹے میں بدل چکی تھی۔
“زندگی سے موت کی مسافت میں اماں غم ہی سینچتی رہی جب بھی کسی بیٹی کی خوشی دیکھتیں تو کچھ وقت کے لیئے غم کو بھول جاتیں مگر میں بد نصیب اپنی اماں کے لیئے ناسور بن گئی” حجاب کی بھیگتی آنکھوں میں دیے کی لو دھندلا رہی تھی کہ اچا ک دیئے کے قریب حجاب کو سفید غبار دکھائی دیا۔
حجاب نے سیڑھیوں کی گرل پر سے سر پیچھے کیا اور غبار میں جیسے کچھ دیکھنے کی کوشش کرنے لگی تھوڑی دیر میں اس غبار میں دھندلا ڈا صباحت کا سراپا دکھائی دینے لگا اس نے فید شلوار قمیص کے ساتھ بڑا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا۔
حجاب کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی ، اس کے لب کانپنے لگے۔
”میں شاید لاشعوری طور پر جاگتے ہوۓ خواب دیکھ رہی ہوں۔ مگر جو کچھ بھی ہے وہ تصور میری آنکھوں سے اوجھل نہ ہو ‘‘ مگر صباحت جس طرح حجاب کی طرف دیکھ رہی تھی، حجاب کے ذہن نے اس بات کو تسلیم کر لیا کہ وہ اس کا تصور نہیں اس کی ماں ہی ہے۔
اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی اور وہ بے ساختہ ماں کی طرف بڑھنے لگی ۔
“اماں….” حجاب ماں کے اس دھند کے عکس کے قریب ہی جانے والی تھی کہ صباحت نے اپنے سفید دوپٹے کی لو سے آگ لگا دی۔ جونہی اس کے دوپٹے کوآگ لگی، حجاب چیختی ہوئی ماں کی طرف بڑھی۔
صباحت نے عقبی دروازے کی طرف دوڑنا شروع کر دیا، اس کا آگ میں جلتا ہوا دوپٹہ ہوا میں لہرا تا رہا۔ حجاب چیختی ہوئی ماں کے پیچھے دوڑتی رہی۔ اس نے جونہی صباحت کو چھوا ۔ ایک ہی ساعت میں اس کا جسم سفید غبار میں بدل گیا اور پھر سفید غبار بھی ختم ہو گیا۔
حجاب اونچی اونچی آواز میں چلانے لگی
“اماں کہاں ہو…….”
شاہ جی حجاب کی آواز سن کر وہاں پہنچ گئے حجاب کا چہرہ پسینے سے تر تھا وہ گھبرائی ہوئی اردگرد دیکھ رہی تھی۔
”کیا بات ہے حجاب بی بی ….؟”
“شاہ جی میں نے اماں کو دیکھا”
شاہ جی نے حجاب کی بات سن کر سر جھکا لیا اور تاسف بھرے لہجے میں بولے
“مرنے والے واپس نہیں آتے”
“میں سچ کہہ رہی ہوں میں نے اماں کو دیکھا ہے” حجاب پھٹی پھٹی آنکھوں سے شاہ جی کو دیکھ رہی تھی
’’آپ اندرآ جائیں‘‘ شاہ جی نے کہا۔
حجاب منہ میں بڑ بڑاتے ہوئے کمرے میں آگئی۔ وہ صوفے پر بیٹھی تو شاہ جی اس کے قریب بیٹھ گئے ۔
“حجاب بی بی۔ آپ نے اپنا کیا حل بنالیا ہے۔ آپ ہر وقت اپنی امی کے بارے میں سوچتی، اس لئے اپنے تصور میں اس قدرکھو گئیں کہ آپ کو سب کچھ سچ لگ رہا ہے۔‘‘
’’آپ یقین کر میں شاہ جی یہ سب میرا تصور نہیں تھا مگر یہ بھی سچ ہے کہ جب میں نے اماں کو چھونا چاہا تو ان
کا جسم سفید غبار میں بدل گیا۔‘‘
’’آپ نے وہاں باہر دیا کیوں جلایا۔‘‘
’’آج دوپہر کو جوعورت درس دے رہی تھی اس نے کہا تھا۔‘‘
’’اس طرح ہر کسی کی بات نہیں مانتے جو ہدایات قرآن پاک میں ہیں بس وہی ماننی چاہیے۔ جتنا ہو سکے قرآن پاک پڑھیں، اپنے لئے اور اپنی والدہ کے لئے، ویسے بھی جب تک چالیسواں نہ ہو گھر میں روح کی موجودگی کا احساس رہتا ہے۔”
حجاب نے گہری نظر سے شاہ جی کی طرف دیکھا
“آپ نے کبھی اپنے بارے میں نہیں بتایا۔ آپ کا تو کوئی رشتہ دار ہوگا۔‘‘
شاہ جی نے لمباسانس کھینچا۔
“میں بھی آپکی طرح تنہا ہوں فرق صرف اتنا ہے کہ میرا کوئی ہے نہیں اور آپکے قریبی رشتے دار آپ کے لئے جیتے جی مر گئے ہیں ۔”
حجاب چونک گئی ۔
”آ …. آپ کو کیسے پتہ چلا اس بات کا ہم نے تو کبھی نہیں بتایا آپ کو اپنے رشتے داروں کے بارے میں”
شاہ جی ایک دم سے بوکھلا سے گئے پھر انہوں نے اپنے لہجے میں پختگی لاتے ہوئے کہا
“بزرگ ہوں دنیا دیکھی ہے میں نے صباحت بی بی اور آپکی باتوں سے اندازہ لگا لیا تھا آپ کے سر میں درد ہو رہا ہوگا ، میں آپ کے لئے چائے بنا کے لاتا ہوں ۔”
شاہ جی کے جانے کے بعد حجاب سوچتی رہی کہ شاہ جی نے اس بات کا اندازہ کیسے لگا لیا مگر حجاب اس بات کو تسلیم کرتی تھی کہ شاہ جی بہت اچھے انسان ہیں۔
تھوڑی دیر بعد شاہ جی دو چائے کے کپ لے کے حجاب کے پاس آ گئے ۔انہوں نے ایک کپ حجاب کے سامنے رکھا اور دوسرا کپ لے کر زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے ۔
’’ شاہ جی! آپ پھر بات گول کر گئے ۔ آپ نے بتایا نہیں کہ آپ کا کوئی ہے یا نہیں ، کوئی تو رشتہ دار ہوگا۔‘‘ حجاب نے پوچھا۔
’’حجاب بی بی ! سچ کہہ رہا ہوں، میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے، اسی لئے تو میں زنجیروں میں نہیں جکڑا ہوا‘‘ حجاب نے شاہ کی طرف حیرت سے دیکھا۔
“کونسی زنجیریں….”
“رشتوں کی زنجیریں۔۔۔۔۔نہ ہی ان رشتوں کی زنجیروں میں جکڑا اور نہ ہی ان کے محبتوں کے قفس میں خود فریبی کے دکھ اٹھا ئے میں تو من موجی آزاد پنچھی ہوں‘‘
حجاب شاہ جی کی باتوں پر مسکرادی۔
“آپ کی باتیں اتنی اچھی ہوتی ہیں کہ دل کرتا ہے آپکی باتیں سنتی رہوں۔”
شاہ جی نے اپنے تسبیح میں لپٹے ہاتھ کر ہوا میں اکڑا لیا ۔
” آپ کی پڑھائی تو ٹھیک چل رہی ہے نا ۔‘‘
”بس پڑھانے میں بھی اب پہلے کی طرح دل نہیں لگتا۔‘‘
’’استانی کا جو درجہ خدا نے آپ کو دیا ہے ، یہ بہت بڑا درجہ ہے بچوں کو آپ تعلیم کی روشنی سے روشناس کراتی ہیں کوشش کیا کریں کہ ان کے ساتھ اپنا دل لگا لیں ان کی پریشانی کو اپنی پریشانی اور ان کی خوشیوں کو اپنی خوشی بنالیں۔ اس طرح آپ اپنی زندگی کے غم کافی حد تک بھول جائیں گی ‘‘
“شاہ جی یہ غم تو میری رگوں میں سرایت کر گیا ہے اس نے تو میری روح کو اس قدر گھائل کر لیا ہے کہ اب تو یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ اپنے غم بھول کر دوسروں کی خوشی میں کیسے خوش ہوتے ہیں۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ اگر میں کسی کی خوشی میں شامل ہوگئی تو اس کی خوشیوں کو میری نظر لگ جاۓ گی ۔حسرت ، اماں،خواہش ، اب ان لفظوں کے معنی بھی میرے لئے معدوم ہو گئے ہیں۔ زندگی سزائے مسلسل لگتی ہے، نہ موسموں کا اختیار ہا اور نہ دن اور رات کا…”
حجاب نے اپنے گھٹنوں پر سر رکھ لیا۔ شاہ جی خاموشی سے اسے اسی طرح دیکھتے رہے پھر وہاں سے اٹھ گئے ۔
و”تمہیں خدا کی عبادت سے سکون ملے گا، اوران زخموں کے احساس سے بچنے کا راستہ بھی“
حجاب اپنے تنہائیاں سمیٹے ہاسٹل چلی گئی ۔ وہ چاہ کر بھی ان اذیت ناک سوچوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتی تھی ۔حالات کی ستم ظریفی نے اس کی ذات کو بکھیر کے رکھ دیا تھا۔
وہ بچوں کو صحیح توجہ نہیں دے پا رہی تھی لیکچر دیتے ہوئے کئی بار کھو جاتی کئی دفعہ تو وہ تھکی تھکی ہی کافی دیر تک کلاس روم میں خاموش بیٹھی رہتی۔ سٹاف کی دوسری ٹیچرز نے حجاب کی یہ حالت دیکھ کر پرنسپل صاحبہ سے بات کی ۔ پرنسپل صاحبہ نے حجاب کو اپنے آفس بلالیا۔
“مجھے آپ نے بلایا تھا میڈم‘‘ حجاب نے اندر داخل ہوتے ہی کہا۔
’’ آؤ مس حجاب بیٹھیں!”
حجاب پرنسپل کے سامنے بیٹھ گئی
’’ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ۔‘‘
’’جی میڈم میں ٹھیک ہوں ۔‘‘حجاب اپنے چہرے پر بکھرتی ہوئی لٹوں کو کان کے پیچھے لے گئی۔
دیکھئے مس حجاب، چند دن پہلے آپ کے ساتھ جو سانحہ ہوا، اس کا ہم سب کو بہت افسوس ہے ۔ آپ ابھی تک خود کوغم کی اس کیفیت سے باہر نہیں نکال پا رہی آپ اس ذہنی دباؤ کی وجہ سے نہ صرف اپنی صحت خراب کر رہی ہیں بلکہ اپنے بچوں پر بھی توجہ نہیں دے پا رہیں ۔ آپ ایک محنتی اور لائق ٹیچر ہیں اس لئے میں چاہتی ہوں کہ آپ کچھ روز کے لئے چھٹیاں لے لیں اگر گھر نہیں جانا چاہتیں تو ہاسٹل میں ہی رہ لیں۔ آپ میرا تو یہ مشورہ ہے کہ آپ اپنا با قاعدہ چیک اپ کروالیں۔‘‘ پرنسپل صاحبہ نے کہا
حجاب نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پرنسپل کی طرف دیکھا۔ ”میری طبیعت کی آپ فکر نہ کریں ۔ مجھے خود سمجھ نہیں آ رہا کہ میں پہلے جیسی روٹین میں کیسے آؤں۔ شاید آپ کا مشورہ ٹھیک ہے۔ مجھے کچھ دن کے لئے تعطیل لینی چاہیے۔‘‘
پرنسپل نے ٹیبل پر رکھی ہوئی فائلز کو ترتیب سے رکھنا شروع کر دیا۔
” ٹھیک ہے آپ چار روز کے لئے آرام کر لیں، مجھے امید ہے کہ آپ کی طبیعت ٹھیک ہو جائیں گی اور آپ اپنی ڈیوٹی پوری توجہ سے سرانجام دے سکیں گی ۔‘‘
حجاب خاموشی سے کرسی سے اٹھ گئی۔
’’میں ہاسٹل میں ہی رہوں گی ۔”
“جیسی آپ کی مرضی ! آپ کوکسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے اپنا سمجھ کر بتاد بنا‘‘
پرنسپل کے اس طرح پوچھنے پر حجاب مسکرا دی “آپ نے پوچھا میرے لیئے یہی بہت ہے اگر مجھے کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو میں گھر سے منگوا سکتی ہوں ۔”
حجاب آفس سے سیدھی ہاسٹل آ گئی اس نے کتابوں کو ٹیبل پر پھینکا اور دھڑام سے بیڈ پر گری تناؤ نے اس کے پورے جسم کونڈھال کر دیا تھا۔
“میں کیا کروں، میں کیوں خود کو نہیں سنبھال پارہی، دل تو چاہتا ہے کہ دنیا تیاگ کر کسی کمرے میں بند ہو جاؤں مگر مجھے جینا ہے لیکن میرے جینے کا کوئی مقصد ہو، بچوں کا کیا ہے اگر میں نہ پڑھاؤں تو دوسری ٹیچر آ جائے گی۔ کوئی تو ہو جسے میری ضرورت ہو جومیری زندگی کے لئے دعا مانگے۔ اماں ہی میرے لئے جینے کا آخری سہارا تھیں۔ وہ بھی مجھے چھوڑ کے چلی گئیں اب کون ہے میرا، اب تنہائی کا یہ عذاب مجھ سے کیوں نہیں سہا جا تا ۔‘‘
سوچوں کے اس سلسلے میں اس کا دل وہ لمحے یاد کرنے لگا جو اس نے اذہاد کے ساتھ گزارے۔ وہ فقیر کے بھیس میں شہزادہ جو ذانوں بیٹھ کر اس کے آگے کشکول پھیلاتا اسکا کشکول سکوں کے لیئے نہیں تھا اسکی ویران آنکھوں میں چاہے جانے کی حسرت تھی
اس کی قرآن پاک کی تلاوت کی دل سوز آواز وجد اور سرور کی کیفیت پیدا کر دیتی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سچا عاشق ہے اپنے حقیقی خدا اور مجازی خدا کا ‘‘
جس پر عشق مجازی لاگے ،سوئی سیوے نہ بن دھاگے
عشق مجازی داتا ہے، جس پیچھے مست ہو جاتا ہے
جس فکر پیارے گھر دا ہے، رب ملدا او ہر ادا ہے
من اندر ہویا جاتا ہے جس پیچھے مست ہو جاتا ہے
خودغرض رشتوں کی وفا میں وہ خودکوگھائل کرتی رہی اور اذہاد اس کے زخموں پر مرہم لگا تا رہا اس کے آنسووہ اس کی پلکوں سے چن لیتا تھا۔ حجاب کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔
’’اب تو کوئی نہیں ہے جو میرے آنسو پونچھے تم تو کہتے تھے اذہاد! کہ اس دنیا میں انسانوں سے وفا کے بدلے جفا اور خوشی کے بدلے غم ملتے ہیں تو تم تو انسان نہیں ہو تم مجھے کیوں چھوڑ کر چلے گئے تم تو کہتے تھے تم میری پرچھائی ہو تم میری زندگی سے کبھی نہیں جاؤ گے تو یہ کیسی ناراضگی ہے کہ ایک باربھی تم نے میری خبرنہیں لی ۔تم تو میرے سب سے پیارے ساتھی تھے تم نے یہ کیسی دوستی نبھائی”
حجاب اپنی سوچوں میں گم تھی کہ موبائل کی رنگ بجی اس نے موبائل رسیو کیا تو رفعت کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
’’کیا حال ہے حجاب…”
“ٹھیک ہوں آپ بتائیں کیسے فون کیا”
“حجاب بیٹی میں نے آج شام گھر پر قرآن خوانی رکھی ہے یہ قرآن خوانی میں صباحت کے لئے کرا رہی ہوں اگر تمہارے پاس وقت ہوتو آ جانا ‘‘ رفعت نے کہا۔
حجاب نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔
“جی میں ضرور آوں گی ویسے بھی میں نے سکول سے چار چھٹیاں لی ہیں”
”کیوں ! خیریت ہے نا۔“
آج کل میری طبیعت ٹھیک نہیں رہتی ۔ پرنسپل صاحبہ نے مجھے خود ہی چار چھٹیاں دی ہیں۔”
’’اگر ایسی بات ہے تو تم میرے گھر آ جاؤ تمہاری طبیعت بہل جاۓ گی آ تو رہی ہوا اپنا سامان بھی لیتی آؤ ۔‘‘
’’آنٹی میں ان دنوں ہاسٹل میں ہی رہنا چاہتی ہوں باہر کی رونق اور خوشیوں میں دل کی اداسی کا احساس
بڑھ جاتا ہے میں شام کو آ جاؤں گی ۔“
’’میں ڈرائیور بھیج دوں گی ۔‘‘
’’اس کی ضرورت نہیں ہے میں خود ہی آجاؤں گی ‘‘
حجاب شام کے پانچ بجے تک رفعت کے گھر پہنچ گئی ۔
قرآن خوانی سے اس کے دل کو بہت تسکین ملی ان دنوں حجاب کو بیڈ ریسٹ کی نہیں، ذہنی سکون کی ضرورت تھی ۔ جب بھی وہ کسی درس میں شامل ہوتی تو خدا وند کریم کے کلام میں محو ہو جاتی۔ ان دنوں اس کا دھیان دنیاداری سے ہٹ کر دین کی طرف ہو گیا تھا۔ جب دل میں گہرے بادل امڈ آتے اور آنکھیں اشکبار ہو جاتیں تو وہ جائے نماز بچھا کر سجدے میں گر کر اپنے دل کا حال کہنے لگتی اسے یقین ہو گیا تھا اس دنیا میں اسکا کوئی پرسان حال نہیں
قرآن خوانی سے فارغ ہونے کے بعد رفعت کے گھر سے اپنے گھر کے لئے روانہ ہوگئی ۔ گھر پہنچی تو شاہ جی اسے دیکھ کر خوش ہوئے
“حجاب بی بی آپ……”
“ہاں انٹی رفعت کے گھر قرآن خوانی پر آئی تھی سوچا آپ سے بھی ملتی جاؤں”
’’بہت اچھا کیا آپ نے… آپ بیٹھیں میں آپ کے لیئے جوس لاتا ہوں”
حجاب نے اپنا ںرقعہ اتار کر صوفے پر رکھا اور بیگ سے دوپٹہ نکال کر اوڑھ لیا
“نہیں شاہ جی! جوس نہ لائیں، بس میرے لئے چائے لائیں، چاۓ پی ہے مگر سر درد ہے کہ ٹھیک ہی نہیں ہوتا ۔‘‘
حجاب کی بات سن کر شاہ جی رک گئے اور پریشانی سے حجاب کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
“بی بی جی! آپ نے اپنا چہرہ دیکھا ہے، اس طرح پیلا پڑ گیا ہے ۔ آپ چاۓ کم پیا کر یں۔ آپ کے سر میں درد ہے اس لئے میں چاۓ بنادیتا ہوں لیکن کوشش کیا کریں کہ پھل کھایا کریں ۔‘‘
حجاب مسکرادی۔
’’شاہ جی اس جسم ناتواں کو تو میں کسی بوجھ کی طرح گھسیٹتی پھر رہی ہوں ۔‘‘
”حجاب بی بی کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ خدا آپ کو صحت دے ۔” یہ کہہ کر شاہ جی حجاب کے لئے چاۓ بنانے چلے گئے ۔ کچھ دیر بعد شاہ جی دوبارہ کمرے میں آۓ ۔
’’حجاب بی بی ۔ ہوا بہت تیز چل رہی ہے۔ میں نے بیڈشیٹ اور کور دھو کر چھت پر پھیلا دیے تھے۔ میں چھت سے وہ کپڑے اتارکر لاؤں، پھر آپ کے لئے چاۓ بناتا ہوں ۔‘‘
شاہ جی کے جانے کے بعد حجاب اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔ اس نے سوچا وہ خود ہی چاۓ بناۓ۔
دیا سلائی چولہے کے نزیک پڑی تھی اس نے چولہے کی گیس چلائی اور ڈبیہ اٹھائی تو وہ خالی تھی
حجاب کچن کے کیبنٹ میں دیا سلائی ڈھونڈنے لگی۔ حجاب کا ذہن پر یشانی کے باعث ایسا ہو گیا تھا کہ ایک ہی پل میں بات بھول جاتی تھی ۔ دیا سلائی ڈھونڈ تے وقت یہ بات اس کے دماغ سے نکل گئی کہ اس نے چولہا آن کر رکھا ہے۔اس کی بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ اسے گیس کی بدبو تک نہ آئی
شکر ہے دیا سلائیتو ملی اس نے جونہی دیا سلائی جلائی ، آگ اسں کے گرد بھڑک اٹھی
حجاب چیخی “شاہ جی…..بچاؤ”
حجاب کی چیخیں سن کر شاہ جی دوڑے ہوئے کچن کے قریب آئے تو پورا کچن آگ کی لپیٹ میں تھا۔
حجاب کے چاروں طرف آگ تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس طرح بچ کر نکلے۔
شاہ جی برقی سرعت سے آگ کی طرف بڑھے اور حجاب کو گود میں اٹھا کر کچن کے باہر کی طرف اچھال دیا۔ حجاب کچن سے دور جا گری ، آگ نے شاہ جی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حجاب نے یہ منظر دیکھا تو اس کی آنکھیں باہر کو ابل پڑیں جسم تھر تھر کانپنے لگا۔ وہ چیچنے لگی۔
حجاب چیخی۔
’’ کوئی بچاۓ شاہ جی کو… وہ بالٹی اٹھا کر نلکے کی طرف بڑھی، پانی لے کر وہ کچن کی طرف بڑھی تو وہ ساکت ہوکر رہ گئی شاہ جی اس کی آنکھوں کے سامنے آگ میں سے جیسے غائب ہو گئے ، اس بھڑکتی ہوئی آگ میں سے ایک کبوتر پھڑ پھڑا تا ہوا نکلا جس کے پرکو آگ لگی ہوئی تھی ، وہ آگ سے بچتا ہواںاذیت سے ادھر ادھر اڑ رہا تھا۔ کچن کے دروازے پر بھی آگ بھڑکی ہوئی تھی نہ کوئی باہر آ سکتا تھا اور نہ ہی کوئی اندر جا سکتا تھا۔ مگر باہر سے کچن کے اندر ہونے والی حرکات صاف دکھائی دے رہی تھی ۔ آگ میں پھنسا کبوتر فقیر کا روپ دھار گیا جو حجاب کو اکثر خواب میں دکھائی دیتا تھا، جو فقیر کے بھیس میں شہزادہ لگتا تھا۔
پھر وہ فقیر اس نو جوان میں بدل گیا جو صباحت کے گھر کرائے دار بن کر رہتارہا۔ پھر وہ نو جوان ایک بونا نما۔آدمی کی شکل اختیار کر کے آگ کی لپیٹوں میں ادھر ادھر پھرنے لگا۔ پھر وہ بونا اس شکاری بھیانک کتے کا روپ دھار گیا جس نے فیضان کے جسم کی چیر پھاڑ کر دی تھی۔ حجاب سراسیمہ نگاہوں سے یہ سب دیکھ رہی تھی ۔ فضاء میں خوف۔و ہراس پھیل گیا تھا۔ ایک ہی وقت میں بہت ساری آوازیں یکجا گونج رہی تھیں ۔اس کی زندگی میں آنے والے یہ سب کردار یکے بعد دیگرے اس کی آنکھوں کے سا کے ساتھ اس کا ذہن اس کی زندگی کے پچھلے واقعات بھی دہر ارہا تھا۔
اس کے پاؤں جیسے زمین میں گڑ گئے تھے
اسے سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی ۔ خوفناک شکاری کتا اس سیاہ سانپ میں بدل گیا، جسے حجاب نے اپنے والدہ کے انتقال کے بعد دیکھا تھا
ایک ہی ساعت میں وہ سیاہ سانپ شاہ جی کے روپ میں بدل گیا۔ حجاب کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی ، وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔
شاہ جی اس آگ میں سے گزرتے ہوۓ حجاب کی طرف اس طرح بڑھنے لگے جیسے اس آگ میں خفیف سی حرارت نہ ہو۔
شاہ جی جوں جوں حجاب کی طرف بڑھ رہے تھے ان کے چہرے کے نقوش بدلتے جارہے تھے۔تھوڑی ہی
دیر میں ان کا سرا پا اذہاد کے روپ میں بدل گیا۔ وہی اذہاد جو فقیر کے روپ میں خواب میں دکھائی دیتا تھا۔ اذہاد، حجاب کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اس نے آنکھیں بند کر کے منہ میں کچھ پڑھا آگ خود بخود بجھ گئی۔ حجاب نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے اذہاد کی طرف دیکھا اس کی آنکھیں اشکبار تھیں مگر لبوں پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی، اس احساس سے اس کے وجود میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی کہ کوئی ہے جو اس کا دم بھرتا ہے۔ کسی نے اپنی زندگی اسکے نام کر دی ہے اور اسے علم ہی نہ ہوا کوئی دبے پاؤں اس کے ہر دکھ سکھ میں شامل رہا اور وہ خود کو تنہا سمجھتی رہی
آگ کا دھواں حجاب کے جسم کو نقصان پہنچا چکا تھا۔ اس کے دل کی دھڑکنیں ڈوب رہی تھیں وہ اذہاد کی بانہوں میں ڈھیر ہو چکی تھی
اسکی بوجھل آنکھیں بند ہو چکی تھیں
اذہاد اس کا چہرہ تھپتھپانے لگا
“حجاب! آنکھیں کھولو ..” ذہاد اسے اٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لے جانے لگا مگر اسے احساس ہوا کہ حجاب سانس نہیں لے رہی ہو اس نے حجاب کو چیک کیا تو اسکی دھڑکن بند ہو چکی تھی وہ اس سنگدل دنیا کو چھوڑ کے جا چکی تھی ۔ وہ روح فرساغموں کی دسترس سے بری الذمہ ہو چکی تھی ۔
حجاب کی قبر کے قریب کھجور کا گھنا درخت تھا جو اس کی قبر کو تیز دھوپ اور بارش سے بچاتا تھا۔
گورکن کا کہنا تھا کہ حجاب کو دفنانے کے بعد یہ درخت ایک دم سے نمودار ہو گیا ہے اس سے پہلے یہ درخت یہاں نہیں تھا حجاب کی قبر پر گلاب کی پتیاں پھیلاتا اور چراغ جلاتا ۔ یہ سب کون کرتا تھا کبھی گورکن کو کوئی دکھائی نہیں دیا
اس کھجور کے درخت کا آسیب اذہاد تھا جو اب بھی اس کے ساتھ تھا۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Episode 10 Episode 11

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: