Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 1

0

خوفناک عمارت از ابن صفی قسط نمبر 01

سوٹ پہن چکنے کے بعد عمران آئینے کے سامنے لچک لچک کر ٹائی باندھنے کی کوشش کررہا تھا ۔ ”اوہنہ ….پھر وہی ….چھوٹی بڑی ….میں کہتا ہوں ٹائیاں ہی غلط آنے لگی ہیں ۔ “ وہ بڑبڑاتا رہا ۔ ”اور پھر ٹائی ….لاحول والا قوة ….نہیں باندھتا !“
یہ کہہ کر اس نے جھٹکا جو مارا تو ریشمی ٹائی کی گرہ پھسلتی ہوئی نہ صرف گردن سے جالگی بلکہ اتنی تنگ ہوگئی کہ اس کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آنکھیںابل پڑیں ۔ ”بخ ….بخ ….خیں“….اس کے حلق سے گھٹی گھٹی سی آوازیں نکلنے لگیں اور وہ پھیپھڑوں کا پورا زور صرف کرکے چیخا۔”ارے مرا ….بچاو ¿ سلیمان“
ایک نوکر دوڑتا ہوا کمرے میں داخل ہوا ….پہلے تو وہ کچھ سمجھا ہی نہیں کیونکہ عمران سیدھا کھڑا ہوا دونوں ہاتھوں سے اپنی رانیں پیٹ رہا تھا !
”کیا ہوا سرکار۔ ”بھرائی ہوئی آواز میں بولا ! ” ارے ….لیکن ….مگر ….؟“
”لیکن ….مگر ….اگر ….”عمران دانت پیس کرناچتا ہوا بولا “ابے ڈھیلی کہ “
”کیا ڈھیلی کروں !“نوکر نے متحیر آمیز لہجے میں کہا ۔ ”اپنے باوا کے کفن کی ڈوری ….جلدی کر….ارے مرا۔“
” تو ٹھیک سے بتاتے کیوں نہیں؟“نوکر بھی جنجھلا گیا ۔
”اچھا بے تو کیا میں غلط بتا رہا ہوں ! میں یعنی عمران ایم ایس سی پی ، ایچ ڈی کیا غلط بتا رہا ہوں ابے کم بخت اسے اردو میں استعارہ اور انگریزی میں مٹیا فرکہتے ہیں ۔ اگر میں غلط کہہ رہا ہوں تو باقاعدہ بحث کر مرنے سے پہلے یہ ہی سہی ۔ نوکرنے غور سے دیکھا تو اس کی نظر ٹائی پر پڑی ۔ جس کی گرہ گردن میں بری طرح سے پھنسی ہوئی تھی اور رگیں ابھری ہوئی سی معلوم ہورہی تھیں اور یہ اس کے لئے کوئی نئی بات نہ تھی ! دن میں کئی بار اسے اس قسم کی حماقتوں ا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔
اس نے عمران کے گلے سے ٹائی کھولی۔
”اگر میں غلط کہہ رہا تھا تو یہ بات تیری سمجھ میں کیسے آئی !“ عمران گرج کر بولا ۔ ”غلطی ہوئی صاحب !“
”پھر وہی کہتا ہے ، کس سے غلطی ہوئی ؟“
” مجھ سے !“ ” ثابت کرو کہ تم سے غلطی ہوئی ۔ “عمران ایک صوفے میں گراکر اسے گھورتا ہوا بولا ۔ نوکر سرکھجانے لگا ۔
” جوئیں ہیں کیا تمہارے سر میں !“عمران نے ڈانٹ کر پوچھا ۔
” نہیں تو “ ” تو پھر کیوں کھجا رہے تھے ؟“
’ ’یونہی “
” جاہل …. گنوار ….خواہ مخواہ بے تکی حرکتیں کرکے اپنی انرجی برباد کرتے ہو ۔ ، نوکر خامو ش رہا ۔ ”یونگ کی سائیکالوجی پڑھی ہے تم نے ؟“عمران نے پوچھا ۔
نوکر نے نفی میں سر ہلادیا ۔
” یونگ کی ہجے جانتے ہو ۔“ ” نہیں صاحب !“نوکر اکتا کر بولا ۔
”اچھا یاد کراو….جے ….یو….این….جی ….یونگ ! بہت سے جاہل اسے جنگ پڑھتے ہیں اورکچھ جونگ ….!جنہیں قابلیت کا ہیضہ ہوجاتا ہے وہ ژونگ پڑھنے اور لکھنے لگ جاتے ہیں ….فرانسیی میں جے ”ژ“کی آواز دیتا ہے مگر یونگ فرانسیی نہیں تھا ۔“
”شام کو مرغ کھائیے گا ….یا تیتر۔“ نوکر نے پوچھا ۔ ”آدھا تیتر آدھا بٹیر ۔“عمران جھلا کربولا ۔ ” ہاں میں ابھی کیا کہہ رہا تھا ….“وہ خاموش ہوکرسوچنے لگا ۔
”آپ کہہ رہے تھے کہ مسالہ اتنا بھوناجائے کہ سرخ ہوجائے ۔ “ نوکر نے سنجیدگی سے کہا ۔ ”ہاں اور ہمیشہ نرم آنچ پر بھونو ! “عمران بولا ۔ ”کفگیر کو اس طرح دیگچی میں نہ ملاو ¿ کہ کھنک پیداہواور پڑوسیوں کی رال ٹپکنے لگے ۔ ویسے کیا تم مجھے بتا سکتے ہوکہ میں کہاں جانے کی تیاری کررہا تھا۔“
”آپ!“نوکر کچھ سوچتا ہوا بولا ۔ ”آپ میرے لئے ایک شلوار قمیض کا کپڑا خریدنے جارہے تھے ! بیس ہزار کا لٹھا اور قمیض کےلئے بوسکی ۔“ ”گڈ! تم بہت قابل اور نمک حلال ہو اگر تم مجھے یاد نہ دلاتے رہو تو میں سب کچھ بھول جاو ¿ں ۔“
” میں ٹائی باندھ دوں سرکار! نوکر نے بڑے پیار سے کہا ۔
”باندھ دو۔“ نوکر ٹائی باندھتے وقت بڑبڑاتا جارہا تھا ۔” بیس ہزار کا لٹھا اور قمیض کےلئے بوسکی ۔ کہئے تو لکھ دوں !“
” بہت زیادہ اچھا رہے گا !“ عمرا ن نے کہا ۔
ٹائی باندھ چکنے کے بعد نوکر نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر پنسل سے گھسیٹ کر اس کی طرح بڑھادیا ۔ ” یوں نہیں !“عمران اپنے سینے کی طرف اشارہ کرکے سنجیدگی سے بولا ” اسے یہاں پن کردو ۔“ نوکر نے ایک پن کی مدد سے اس کے سینے پر لگادیا ۔ ”اب یاد رہے گا ۔ ” عمران کہتے ہوئے کمرے سے نکل گیا !….راہداری طے کرکے وہ ڈرائنگ روم میں پہنچا ….یہاں تین لڑکیاں بیٹھی تھیں ۔
” واہ عمران بھائی ! “ ان میں سے ایک بولی ۔ ” خوب انتظار کرایا ! کپڑے پہننے میں اتنی دیر لگاتے ہیں ۔“
”اوہ تو کیا آپ لوگ میرا انتظار کررہی تھیں۔ ” کیوں ! کیا آپ نے ایک گھنٹہ قبل پکچر چلنے کا وعدہ نہیں کیا تھا ؟“
” پکچر چلنے کا ! مجھے تو یاد نہیں …. میں تو سلیمان کے لئے ….”عمران اپنے سینے کی طرف اشارہ کرکے بولا۔
” یہ کیا ؟“ وہ لڑکی قریب آکر آگے کی طرف جھکتی ہوئی بولی۔” بیس ہزار کا لٹھا ….اور بوسکی ! یہ کیا ہے ….اس کا مطلب؟ “ پھر وہ بے تحاشہ ہنسنے لگی ….عمران کی بہن ثریا نے بھی اٹھ کر دیکھا لیکن تیسری بیٹھ رہی ۔ وہ شاید ثریا کی کوئی نئی سہیلی تھی !
”یہ کیا ہے“ثریا نے پوچھا ۔
” سلیمان کے لئے شلوار قمیض کاکپڑا لینے جارہا ہوں ۔“ ” لیکن ہم سے کیوں وعدہ کیا تھا !“ وہ بگڑ کر بولی ۔
”بڑی مصیبت ہے ! “عمران گردن جھٹک کر بولا ۔” تمہیں سچا سمجھوں یا سلیمان کو ۔“
” اسی کمینے کو سچا سمجھئے ! میں کون ہوتی ہوں !“ثریا نے کہا ۔ پھراپنی سہیلیوں کی طرف مڑ کر بولی ۔”اکیلے ہی چلتے ہیں !آپ ساتھ گئے بھی تو شرمندگی ہی ہوگی….کربیٹھیںگے کوئی حماقت !“ ”ذرا دیکھئے آپ لوگ !“ عمران رونی صورت بنا کر درد بھری آواز میں بولا ۔”یہ میری چھوٹی بہن ہے مجھے احمق سمجھتی ہے ثریا میں بہت جلد مرجاو ¿ں گا! کسی وقت جب ٹائی غلط بندھ گئی ! اور بیچارے سلیمان کو کچھ نہ کہو !وہ میرا محسن ہے ! اس نے ابھی ابھی میری جان بچائی ہے !“
”کیا ہوا تھا ۔“ثریا کی سہیلی جمیلہ نے گھبرائی ہوئی آواز میں پوچھا ۔
”ٹائی غلط بندھ گئی تھی !“عمران انتہائی سنجیدگی سے بولا ۔ً جمیلہ ہنسنے لگی ۔ لیکن ثریا جلی کٹی بیٹھی رہی ۔ اس کی نئی سہیلی متحیر انہ انداز میں اس سنجیدہ احمق کو گھوررہی تھی۔
”تم کہتی ہو تو میں پکچر چلنے کو تیار ہوں ۔“عمران نے کہا ۔”لیکن واپسی پر مجھے یاد دلانا کہ میرے سینے پر ایک کاغذ پن کیا ہوا ہے ۔“
”تو کیا یہ اسی طرح لگا رہے گا ۔ “جمیلہ نے پوچھا ۔ ”اور کیا ۔“
”میں تو ہرگز نہ جاو ¿ں گی ۔ “ثریا نے کہا ۔
”نہیں عمران بھائی کے بغیر مزہ نہ آئے گا ۔ “ جمیلہ نے کہا ۔ ”جینو!“عمران خوش ہوکر بولا ۔ ” میرادل چاہتا ہے کہ تمہیں ثریا سے بدل لوں ! کاش تم میری بہن ہوتیں ۔ یہ نک چڑھی ثریا مجھے بالکل اچھی نہیں لگتی ۔“
”آپ خودنک چڑھے !آپ کب اچھے لگتے ہیں ۔ “ثریا بگڑکربولی ۔
”دیکھ رہی ہو ، یہ میری چھوٹی بہن ہے !“ ”میں بتاو ¿ں ! “جمیلہ سنجیدگی سے بولی !آپ یہ کاغذ نکال کر جیب میں رکھ لیجئے میں یاد دلادوں گی ۔“
’ ’ اور اگر بھول گئیں تو ….ویسے تو کوئی راہ گیرہی اسے دیکھ کر مجھے یاد دلادے گا ۔“
”میں وعدہ کرتی ہوں !“ عمران نے کاغذ نکال کر جیب میں رکھ لیا ….ثریا کچھ کھنچی کھنچی سی نظڑ آنے لگی تھی ۔
وہ جیسے ہی باہر نکلے تو ایک موٹر سائیکل پورٹیکومیں آکررکی جس پرایک باوقار اوربھاری بھرکم آدمی بیٹھا ہوا تھا۔
”ہیلو سو پر فیاض !“عمران دونوں ہاتھ بڑھا کر چیخا۔ ”ہیلو! عمران ….مالی لیڈ ….تم کہیں جارہے ہو ۔ “موٹر سائیکل سوار بولا ۔ پھر لڑکیوں کی طرف دیکھ کر کہنے لگا ۔ ”اوہ معاف کیجئے گا ….لیکن یہ کام ضروری ہے۔
عمران جلدی کرو۔“
عمران اچھل کر کیرئیر پربیٹھ گیا اور موٹر سائیکل فراٹے بھرتی ہوئی پھاٹک سے گزر گئی ۔ ”دیکھا تم نے ۔“ثریا اپنا نچلا ہونٹ چباکر بولی ۔
”یہ کون تھا ….!“جمیلہ نے پوچھا ۔
”محکمہ سراغرسانی کا سپرنٹنڈنٹ فیاض ….مگر ایک بات سمجھ نہیں آسکی کہ اسے بھائی جان جیسے خبطی آدمی سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے ۔ یہ اکثر انہیں اپنے ساتھ لے جایا کرتا ہے ۔“ ” عمران بھائی دلچسپ آدمی ہیں !“جمیلہ نے کہا ۔” بھئی کم از کم مجھے تو ان کی موجودگی میں بڑا لطف آتا ہے ۔“
ایک پاگل دوسرے پاگل کو عقل مند سمجھتا ہے !“ثریا منہ بگاڑ کر بولی ۔
”مگر مجھے تو پاگل نہیں معلوم ہوتے ۔“ثریا کی نئی سہیلی نے کہا ۔ اور اس نے قریب قریب ٹھیک ہی بات کہی تھی ۔ عمران صورت سے خبطی نہیں معلوم ہوتا تھا۔ خاصاً خوبرو اور دلکش نوجوان تھا عمر ستائیس کے لگ بھگ رہی ہوگی !خوش سلیقہ اور صفائی پسند تھا۔ تندرستی اچھی اور جسم ورزشی تھا ۔مقامی یونیورسٹی سے ایم ایس سی کی ڈگری لے کر انگلینڈ چلا گیا تھا اور وہاں سے سائنس میں ڈاکٹریٹ لے کر واپس آیا تھا ۔ اس کا باپ رحمان محکمہ سراغرسانی میں ڈائریکٹر جنرل تھا ۔ انگلینڈ سے واپسی پر اس کے باپ نے کوشش کی تھی کہ اسے کوئی اچھا سا عہدہ د لادے لیکن عمران نے پرواہ نہ کی ۔
کبھی وہ کہتا کہ میں سائنسی آلات کی تجارت کروں گا ! کبھی کہتا کہ اپنا ذاتی انسٹی ٹیوٹ قائم کرکے سائنس کی خدمت کروں گا ….بہر حال کچھ !گھربھر اس سے نالاں تھا اور انگلینڈ سے واپسی کے بعد تو اچھا خاصا احمق ہوگیا تھا ۔ اتنا احمق کہ گھر کے نوکر تک اسے الو بنایا کرتے تھے ۔ اسے اچھی طرح لوٹنے اس کی جیب سے دس دس روپے کے نوٹ غائب کردیتے اوراسے پتہ تک نہ چلتا ۔
باپ تو اس کی صورت تک دیکھنے کا بھی روادارنہیں تھا صرف ماں ایسی تھی کہ وہ اس کی بدولت وہ اس کوٹھی میں مقیم تھا ۔ ورنہ کبھی کا نکال دیا گیا ہوتا ۔اکلوتا لڑکا ہونے کے باوجود بھی رحمن صاحب اس سے عاجز آگئے تھے ! ”پاگل وہ اسی وقت نہیں معلوم ہوتے جب خاموش ہوں ۔ “ ثریا بولی ۔ ” دو چار گھنٹے بھی اگر ان حضرت کے ساتھ رہنا پڑے تو پتہ چلے ۔“
” کیا کاٹنے دوڑتے ہیں ۔ “جمیلہ نے مسکرا کرکہا ۔
”اگران میںاسی طرح دلچسپی لیتی رہیں تو کسی دن معلوم ہوجائے گا ۔ “ثریا منہ سکوڑ کر بولی۔ کیپٹن فیاض کی موٹرسائیکل فراٹے بھر رہی تھی اور عمران کیرٹیر پر بیٹھا بڑبڑاتا جارہا تھا ۔ ”شلوار کا لٹھا ۔بوسکی کی قمیض ….شلوار کا بوسکا….لٹھی ….لٹھی….کیا تھا لاحولولا قوة بھول گیا دیکھو۔ یار ….رکو….شاید “
فیاض نے موٹر سائیکل روک دی ۔
”بھول گیا !“عمران بولا ۔ ”کیا بھول گئے ۔“
”کچھ غلطی ہوگئی۔“
”کیا غلطی ہوگئی ۔“ فیاض جھنجھلا کر بولا ۔ ”یار کم از کم مجھے تو الو نہ بنایا کرو۔“ ”شاید میں غلط بیٹھا ہوا ہوں ۔“عمران کیریئر سے اترتا ہوا بولا ۔
”جلدی ہے یار!“ فیاض نے گردن جھٹک کر کہا ۔
عمران اس کی پیٹھ سے پیٹھ ملائے ہوئے دوسری طرف منہ کرکے بیٹھ گیا ۔ ”یہ کیا؟“فیاض نے حیرت سے کہا…. ”بس چلو ٹھیک ہے۔“
”خدا کی قسم تنگ کرڈالتے ہو۔“فیاض اکتا کر بولا۔
”کون سی مصیبت آگئی!“ عمران بھی جھنجھلانے لگا۔ ”مجھے بھی تماشابناو ¿گے۔ سیدھے بیٹھونا!“
”تو کیا میںسر کے بل بیٹھا ہوا ہوں!“
”مان جاو ¿ پیارے !“فیاض خوشامدانہ لہجے میں بولا ۔ ”لوگ ہنسیں گے ہم پر !“ ”یہ تو بڑی اچھی با ت ہے“

Read More:  Yeh Junoon e Manzil e Ishq Novel By Farhat Nishat Mustafa – Last Episode 22

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: