Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 10

0

خوفناک عمارت از ابن صفی قسط نمبر 10

”جاو!“ عمران آنکھیں نکال کر بولا! رابعہ سہم گئی ! اس وقت احمق عمران کی آنکھیں اسے بڑی خوفناک معلوم ہوئیں ۔ اس نے چپ چاپ کار موڑلی ۔
عمران بار میں گھسا!….بتائے ہوئے آدمی کو تلاش کرنے مین دیر نہیں لگی ۔ وہ ایک میز پر تنہا بیٹھا تھا ۔ وہ گٹھیلے جسم کا ایک خوش نوجوان تھا۔ پیشانی کشادہ اور چوٹ کے نشانات سے داغدار تھی ۔ شاید وہ سرکو دائیں جانب تھوڑا سا جھکائے رکھنے کا عادی تھا ۔ عمران اس کے قریب ہی میز پر بیٹھ گیا ۔ ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے اسے کسی کا انتظار ہو ! کچھ مضطرب بھی تھا۔ عمران نے پھر ایک چیونگم نکال کر منہ میں ڈال لیا!
اس کا اندازہ غلط نہیں تھا ۔تھوڑی دیر بعد ایک آدمی چمڑے کی جیکٹ والے کے پاس آکر بیٹھ گیا ! اور پھر عمران نے اس کے چہرے سے اضطراب کے آثار غائب ہوتے دیکھے ۔
”سب چوپٹ ہورہا ہے !“چمڑے کی جیکٹ والا بولا ۔ ”اس بڈھے کو خبط ہوگیا ہے !“دوسرے آدمی نے کہا۔
عمران ان کی گفتگو صاف سن سکتا تھا ! جیکٹ والا چند لمحے پرخیال انداز میں اپنی ٹھوڑی کھجاتا رہا پھر بولا۔
”مجھے یقین ہے کہ اس کا خیال غلط نہیں ہے ! وہ سب کچھ وہیں ہے لیکن ہمارے ساتھی بودے ہیں ۔ آوازیں سنتے ہی ان کی روح فنا ہوجاتی ہے“۔ ”لیکن بھئی ….آخر وہ آوازیں ہیں کیسی !“
”کیسی ہی کیوں نہ ہوں ! ہمیں ان کی پرواہ نہ کرنی چاہیے ۔“
”اور دو دونوں کس طرح مرے ۔“ ”یہ چیز ! “جیکٹ والا کچھ سوچتے ہوئے بولا ۔ ابھی تک میری سمجھ میں نہ آسکی ! مرتا وہی ہے جو کام شروع کرتا ہے ۔ یہ ہم شروع ہی سے دیکھتے رہے ہیں ۔“
”پھر ایسی صورت میںہمیں کیا کرنا چاہیے ۔ “دوسرے آدمی نے کہا ۔
”ہمیں آج یہ معاملہ طے ہی کرلینا ہے !“جیکٹ والا بولا ۔”یہ بھی بڑی بات ہے کہ وہاں پولیس کا پہرہ نہیں ہے ۔“ ”لیکن اس رات کو ہمارے علاوہ اور کوئی بھی وہاں تھا مجھے تو اسی آدمی پر شبہ ہے جو باہر والے کمرے میں رہتا ہے ۔“
”اچھا اٹھو!ہمیں وقت نہ برباد کرنا چاہیے“
”کچھ پی تو میں !میں تھک گیا ہوں ….کیا پیوگے ….وہسکی یا کچھ اور“ پھروہ دونوں پیتے رہے اور عمران اٹھ کر قریب ہی کے ایک پبلک ٹیلیفون بوتھ میں چلا گیا دوسرے لمحے میں وہ فیاض کے نجی فون نمبر ڈائل کررہا تھا ۔
”ہیلو !سوپر….ہاں میں ہی خیریت کہاں….زکام ہوگیا ہے ۔ پوچھنا یہ ہے کہ میں جو شاندہ پی لوں ! ….ارے تو اس میں ناراض ہونے کی کیا بات ہے ….دیگر احوال یہ ہے کہ ایک گھنٹے کے اندر اندر اس عمارت کے گرد مسلح پہرہ لگ جانا چاہیے ….بس بس آگے مت پوچھو !اگراس کے خلاف ہوا توآئندہ شرلاک ہومزڈاکٹر وٹسن کی مدد نہیں کرے گا ۔ “
ٹیلی فون بوتھ سے واپس آکر عمران نے پھر اپنی جگہ سنبھال لی ۔ جیکٹ والا دوسرے آدمی سے کہہ رہا تھا ۔ ”بوڑھا پاگل نہیں ہے س کے اندازے غلط نہیں ہوتے ۔“
”اونہہ ہوگا ۔“دوسرا میز پر خالی گلاس پٹختا ہوا بولا۔”صحیح ہویا غلط سب جنہم میں جائے لیکن تم اپنی کہو ۔ اگر اس لڑکی سے پھر ملاقات ہوگئی تو کیا کروگے ۔“
”اوہ!“جیکٹ والا ہنسنے لگا ۔ ”معاف کیجئے گا میں نے آپ کو پہچانا نہیں ۔“ ”ٹھیک !لیکن اگر وہ پولیس تک پہنچ گئی تو ۔“
”وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکتی ….بیان دیتے وقت اسے اس کا اظہار بھی کرنا پڑےگا کہ وہ ایک رات میرے ساتھ اس مکان میں بسر کرچکی ہے اور پھر میرا خیال ہے کہ شائد اس کاذہن کنجی تک پہنچ ہی نہ سکے ۔“
”عمران کافی کاآرڈر دے کر دوسرے چیونگم سے شغلَ کرنے لگا اس کے چہرے سے ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے وہ سارے ماحول سے قطعی بے تعلق ہو ۔لیکن یہ حقیقت تھی کہ ان دونوں کی گفتگو کا ایک ایک لفظ اس کی یادداہشت ہضم کرتی جارہی تھی ۔“ ”تو کیا آج بوڑھا آئے گا ۔ “دوسرے آدمی نے پوچھا۔
”ہاں !آج فیصلہ ہوجائے ۔“جیکٹ والے نے کہا۔۔
دونوں اٹھ گئے ۔ عمران نے اپنے حلق میں بچی کھچی کافی انڈیل لی ۔ بل وہ پہلے ہی ادا کرچکا تھا ۔ وہ دونوں باہر نکل کر فٹ پاتھ پر کھڑے ہوگئے اور پھر انہوں نے ایک ٹیکسی رکوائی کچھ دیر بعدان کی ٹیکسی کے پیچھے ایک دوسری ٹیکسی بھی جارہی تھی جس کی پچھلی سیٹ پر عمران اکڑوں بیٹھا ہوا سرکھجا رہا تھا ۔ حماقت انگیز حرکتیں اس سے اکثر تنہائی میں بھی سرزد ہوجاتی تھیں ۔ ارکھیم لین میں پہنچ کر اگلی ٹیکسی رک گئی !وہ دونوں اترے اورایک گلی میں گھس گئے ۔ یہاں عمران ذرا ساک چوک گیا ! اس نے انہیں گلی میں گھستے ضرور دیکھا تھا ۔ لیکن جتنی دیر میں وہ ٹیکسی کاکرایہ چکاتا انہیں کھوچکا تھا!
گلی سنسان پڑی تھی ۔آگے بڑھا تو داہنے ہاتھ کو ایک دوسری گلی دکھائی دی ۔ اب اس دوسری گلی کو طے کرتے وقت اسے احساس ہوا کہ وہاں تو گلیوں کا جال بچھا ہوا تھا !لہٰذا سرمارنا فضول سمجھ کر وہ پھر سڑک پر آگیا ! وہ اس گلی کے سرے سے تھوڑے ہی فاصلہ پر رک کر ایک بک سٹال کے شوکیس میں لگی ہوئی کتابوں کے رنگارنگ گرد پوش دیکھنے لگا شائد پانچ ہی منٹ بعد ایک ٹیکسی ٹھیک اسی گلی کے دہانے پر رکی اور ایک معمر آدمی اتر کر کرایہ چکانے لگا ۔ اس کے چہرے پر بھورے رنگ کی ڈاڑھی تھی ۔لیکن عمران اس کی پیشانی کی بناوٹ دیکھ کر چونکا ۔ آنکھیں بھی جانی پہچانی سی معلوم ہورہی تھیں۔
جیسے ہی وہ گلی میں گھسا عمران نے بھی اپنے قدم بڑھائے ۔ کئی گلیوں سے گزرنے کے بعد بوڑھا ایک دروازے پر رک کر دستک دینے لگا! عمران کافی فاصلہ پر تھا ! اور تاریکی ہونے کی وجہ سے دیکھ لئے جانے کا بھی خدشہ نہیں تھا وہ ایک دیوار سے چپک کر کھڑاہوگیا ! ادھر دروازہ کھلا اور بوڑھا کچھ بڑبڑاتا ہوا اندر چلا گیا ۔ دروازہ پھربند ہوگیا تھا ….عمارت دومنزلہ تھی عمران سر کھجا کر رہ گیا۔ لیکن وہ آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔ اندر داخل ہونے کے امکانات پر غور کرتا ہوا دروازے تک پہنچ گیا ۔ اور پھر اس نے کچھ سوچے سمجھے بغیر دروازے سے کان لگاکر آہٹ لینی شروع کردی لیکن شائد اس کا ستارہ ہی گردش میں آگیا تھا دوسرے ہی لمحے میں دروازے کے دونوں پٹ کھلے اور دونوں آدمی اس کے سامنے کھڑے تھے ۔اندرمدھم سی روشنی میں ان کے چہرے تو نہ دکھائی دیے لیکن وہ کافی مضبوط ہاتھ پیر کے معلوم ہوتے تھے ۔ ”کون ہے !“ان میں سے ایک تحکمانہ لہجے میں بولا۔
”مجھے دیر تونہیں ہوئی ۔“عمران تڑ سے بولا۔
دوسری طرف سے فوراً ہی جواب نہیں ملا !غالباً یہ سکوت ہچکچاہٹ کا ایک وقفہ تھا! ”تم کون ہو!“دوسری طرف سے سوال پھر دہرایا گیا !
”تین سو تیرہ ۔“عمران نے احمقوں کی طرح بک دیا…. لیکن دوسرے لمحے اسے دھیان نہیں تھا !اچانک اسے گریبان سے پکڑ کر اندر کھینچ لیا گیا ۔ عمران نے مزاحمت نہیں کی ۔
”اب بتاو تم کون ہو ۔“ایک نے اسے دھکا دے کر کہا۔ ”اندر لے چلو۔“دوسرا بولا۔
وہ دونوں اسے دھکے دیتے ہوئے کمرے میں لے آئے یہاں سات آدمی ایک بڑی میز کے گرد بیٹھے ہوئے تھے اور وہ بوڑھا جس کا تعاقب کرتا ہوا عمران یہاں تک پہنچا تھا۔ شائد سرگروہ کی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ وہ میز کے آخری سرے پر تھا ۔
وہ سب عمران کو تحیر آمیز نظروں سے دیکھنے لگے ۔ لیکن عمران دونوں آدمیوں کے درمیان میں کھڑا چمڑے کی جیکٹ والے کو گھورہا تھا۔۔ ”آہا!“یکایک عمران نے قہقہہ لگایا اور اپنے گول گول دیدے پھراکر اس سے کہنے لگا ۔”میں تمہیں کبھی نہیں معاف کروں گا ۔ تم نے میری محبوبہ کی زندگی برباد کردی !“
”کون ہو تم میں تمہیں نہیں پہچانتا ۔“اس نے تحیر آمیز لہجے میں کہا ۔
”لیکن میں تمہیں اچھی طرح پہچانتا ہوں ! تم نے میری محبوبہ پرڈورے ڈالے ہیں ۔ میں کچھ نہیں بولا!تم نے ایک رات اس کے ساتھ بسر کی میں پھر بھی خاموش رہا لیکن میںاسے کسی طرح برداشت نہیں کرسکتا کہ تم اسے ملنا جلنا چھوڑ دو۔“ ”تم یہاں کیوں آئے ہو ۔“دفعة اب بوڑھے نے سوال کیا اوران دونوں کو گھورنے لگا جو عمران کو لائے تھے ! انہوں نے سب کچھ بتادیا ۔ اس دوران میں عمران برابر اپنے مخاطب کو گھورتا رہا۔ ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے دوسرے لوگوں سے اسے واقعی کوئی سروکار نہ ہو۔“
”پھر اچانک کسی کا گھونسہ عمران کے جبڑے پر پڑا اور وہ لڑکھڑاتا ہوا کئی قدم پیچھے کھسک گیا ! اس نے جھک کر اپنی فلٹ ہیٹ اٹھائی اور اسے اس طرح جھاڑنے لگا جیسے وہ اتفاقاًاس کے سر سے گرگئی ہو وہ اب بھی جیکٹ والے کو گھورے جارہا تھا۔
”میں کسی عشقیہ ناول کے سعادت مندرقیب کی طرح تمہارے حق میں دست بردار ہوسکتا ہوں!“عمران نے کہا ۔ ”بکواس مت کرو۔“بوڑھا چیخا۔”میں تمہیں اچھی طرح جانتاہوں ! کیا ا س رات کو تم بھی وہاں تھے ۔“
”عمران نے اس کی طرف دیکھنے کی زحمت گوارہ نہ کی ۔“
”یہ زندہ بچ کر نہ جانے پائے ۔“بوڑھا کھڑا ہوتا ہوا بولا۔ ”مگر شرط یہ ہے ۔“عمران مسکرا کر بولا۔ ”میت کی بے حرمتی نہ ہونے پائے ۔“
اس کے حماقت آمیز اطمینان میں ذرہ بھر بھی فرق نہ ہونے پایا تھا ….تین چار آدمی اس کی طرف لپکے ۔ عمران دوسرے ہی لمحے ڈپٹ کر بولا ۔”ہینڈزاپ ۔“ساتھ ہی اس کا ہاتھ جیب سے نکلا ۔اس کی طرف جھپٹنے والے پہلے تو ٹھٹکے لیکن پھر انہوں نے بے تحاشہ ہنسنا شروع کردیا ۔ عمران کے ہاتھ میں ریوالور کی بجائے ربڑ کی ایک گڑیا تھی ! پھر بوڑھے کی گرجدار آواز نے انہیں خاموش کردیا اور وہ پھر عمران کی طرف بڑھے ۔ جیسے ہی اس کے قریب پہنچے عمران نے گڑیا کا پیٹ دبادیا ۔ اس کا منہ کھلا اور پیلے رنگ کا گہراا غباراس میں سے نکل کرتین چار فٹ کے دائرے میںپھیل گیا ….وہ چاروں بے تحاشہ کھانستے ہوئے وہیں ڈھیر ہوگئے ۔
”جانے نہ پائے !“بوڑھا پھر چیخا۔ دوسرے لمحے میں عمران نے کافی وزنی چیز الیکٹرک لیمپ پر کھینچ ماری ….ایک زوردارآواز کے ساتھ بلب پھٹا اور کمرے میں اندھیرا پھیل گیا ۔
عمران اپنے ناک پر رومال رکھے ہوئے دیوار کے سہارے میز کے سرے کی طرف کھسک رہا تھا کمرے میں اچھا خاصا ہنگامہ برپاہوگیا تھا۔ شائد وہ سب اندھیرے میں ایک دوسرے پر گھونسہ کی مشق کرنے لگے تھے عمران کا ہاتھ آہستہ سے میز کے سرے پر رینگ گیا اور اسے ناکامی نہیں ہوئی جس چیز پر شروع ہی سے اس کی نظر رہی تھی ۔ اس کے ہاتھ آچکی تھی ۔ یہ بوڑھے کا چرمی ہینڈ بیگ تھا ۔
واپسی میں کسی نے کمرے کے دروازے پر اس کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش کی لیکن اب سامنے کے دو تین دانتوں کو روتا ہوا ڈھیرہوگیا۔ عمران جلد سے جلد کمرے سے نکل جانا چاہتا تھا کیونکہ اس کے حلق میں بھی جلن ہونے لگی تھی ۔ گڑیا کے منہ سے نکالا ہوا غبار اب پورے کمرے میں پھیل گیا تھا ۔
کھانسیوں اور گالیوں کا شور پیچھے چھوڑتا ہوا وہ بیرونی دروازے تک پہنچ گیا ۔ گلی میں نکلتے ہی وہ قریب ہی کی ایک دوسری گلی میں گھس گیا ۔ فی الحال سڑک پر نکلنا خطرناک تھا۔ وہ کافی دیر تک درپیچ گلیوں میں چکراتا ہوا ایک دوسری سڑک پر آگیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ ایک ٹیکسی میں بیٹھ ہوا اس طرح اپنے ہونٹ رگڑ رہا تھا جیسے سچ مچ اپنی کسی محبوبہ سے ملنے کے بعد لپ اسٹک کے دھبے چھڑ ارہا ہو۔
دوسری صبح کیپٹن فیاض کے لئے ایک نئی دردسری لے کر آئی ۔ حالات ہی ایسے تھے کہ براہ راست اسے ہی معاملہ میںالجھنا پڑا ۔ ورنہ پہلے تو معاملہ سول پولیس کے ہاتھ میں جاتا ۔ بات یہ تھی کہ اس خوفناک عمارت سے قریباً ایک یا ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلہ پر ایک نوجوان کی لاش پائی گئی ۔ جس کے جسم پر کتھئی پتلون اور چمڑے کی جیکٹ تھی ۔ کیپٹن فیاض نے عمران کی ہدایت کے مطابق پچھلی رات کو پھر عمارت کی نگرانی کے لئے کانسٹیبلوں کا ایک دستہ تعینات کرادیا تھا ۔ ! ان کی رپورٹ تھی کی رات کوکوئی عمارت کے قریب نہیں آیا اور نہ انہوں نے قرب و جوار میں کسی قسم کی کوئی آواز ہی سنی لیکن پھر بھی عمارت سے تھوڑے فاصلہ پر صبح کو ایک لاش پائی گئی ۔ جب کیپٹن فیاض کو لاش کی اطلاع ملی تو اس نے سوچنا شروع کیا کہ عمران نے عمارت کے گرد مسلح پہرابٹھانے کی تجویز کیوں پیش کی تھی ؟
ا س نے وہاں پہنچ کر لاش کا معائنہ کیا ۔ کسی نے مقتول کی داہنی کن پٹی پر گولی ماری تھی !کانسٹیبلوں نے بتایا کہ انہوں نے پچھلی رات فائر کی آواز بھی نہیں سنی تھی ۔
کیپٹن فیاض وہاں سے بوکھلایا ہوا عمران کی طرف چل دیا اس کی طبیعت بری طرح جھلائی ہوئی تھی۔ وہ سوچ رہا تھاکہ عمران نے کوئی ڈھنگ کی بات بتانے کی بجائے میرو غالب کے اوٹ پٹانگ شعرشروع کردیئے تو کیا ہوگا بعض اوقاتاس کی بے تکی باتوں پر ا س کا دل چاہتا تھا کہ اسے گولی مار دے مگر اس شہرت کا کیا ہوتا ۔ اس کی ساری شہرت عمران کے دم سے تھی وہ اس کے لئے اب تک کئی پیچیدہ مسائل سلجھا چکا تھا ۔ بہر حال کام عمران کرتا تھا اور اخبارات میں نام فیاض کاچھپتا تھا ! ….یہی وجہ تھی کہ اسے عمران کچھ برداشت کرنا پڑتا تھا ۔ عمران اسے گھر ہی پر مل گیا ! لیکن عجیب حالت میں ؟….وہ اپنے نوکر سلیمان کے سر میں کنگھا کررہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ کسی دور اندیش ماں کے سے انداز میں اسے نصیحتیں بھی کئے جارہا تھا جیسے ہی فیاض کمرے میں داخل ہوا ۔ عمران نے سلیمان کی پیٹھ پر گھونسہ جھاڑ کر کہا !”ابے تو نے بتایا نہیں کہ صبح ہوگئی۔“
سلیمان ہنستا ہوا بھاگ گیا ۔
”عمران تم آدمی کب بنو گے ۔ “فیاض ایک صوفے میں گرتا ہوا بولا۔ ”آدمی بننے میں مجھے کوئی فائدہ نظر نہیں آتا ….البتہ میں تھانیدار بننا ضرور پسند کروں گا“۔
”میری طرف سے جہنم میں جانا پسند کرو لیکن یہ بتاو کہ تم نے پچھلی رات اس عمارت پر پہرہ کیوں لگوایا تھا۔“
”مجھے کچھ یاد نہیں ۔“عمران مایوسی سے سر ہلا کربولا۔ ”کیا واقعی میں نے کوئی ایسی حرکت کی تھی۔“ ”عمران “فیاض نے بگڑ کر کہا ۔”اگر میں آئندہ تم سے کوئی مددلوں تو مجھ پر ہزار بار لعنت ۔“
”ہزار کم ہے “عمران سنجیدگی سے بولا ۔ ”کچھ اور بڑھو تو میں غور کرنے کی کوشش کروں گا ۔“فیاض کی قوت برداشت جوب دے گئی اور گرج کر بولا۔
”جانتے ہو ، آج صبح وہاںسے ایک فرلانگ کے فاصلہ پر ایک لاش ملی ہے “ ”ارے توبہ۔“عمران اپنا منہ پیٹنے لگا ۔
کیپٹن فیاض کہتا رہا ۔ ”تم مجھے اندھیرے میں رکھ کر نہ جانے کیا کرنا چاہتے ہو ۔ حالات اگر اور بگڑے تو مجھے ہی سنبھالنے پڑیں گے ۔ لیکن کتنی پریشانی ہوگی ۔ کسی نے اس کی داہنی کن پٹی پر گولی ماری ہے میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ حرکت کس کی ہے ۔“
”عمران کے علاوہ اور کس کی ہوسکتی ہے !“عمران بڑبڑایا پھر سنجیدگی سے پوچھا ۔ ”پہرہ تھا وہاں؟“ ”تھا….میں نے رات ہی یہ کام کیا تھا !“
”پہرے والوں کی رپورٹ؟“
”کچھ بھی نہیں ! انہوں نے فائر کی آواز بھی نہیں سنی ۔“ ”میں یہ نہیں پوچھ رہا ….کیا کل بھی کسی نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی ۔“
”نہیں ….لیکن میں اس لاش کی بات کررہا تھا ۔“
”کئے جاو!تمہیں نہیں روکتا ! لیکن میرے سوالات کے جوابات بھی دیے جاو ۔ قبر کے مجاور کی کیا خبر ہے !….وہ اب بھی وہیں موجودہے یا غائب ہوگیا!“ ”عمران خدا کے لئے تنگ مت کرو“
”اچھا تو علی ،عمران ایم ایس سی پی ڈی کوئی گفتگو نہیں کرنا چاہتا ۔“
”تم آخر اس خبطی کے پیچھے کیوں پڑگئے ہو۔“ ”خیر جانے دو! اب مجھے اس کے متعلق کچھ اور بتاو۔“
”کیا بتاوں !….بتا تو چکا….صورت سے برا آدمی نہیں معلوم ہوتا خوبصورت اور جوان جسم پر چمڑے کی جیکٹ اور کتھئی رنگ کی پتلون!“
”کیا ؟“عمران چونک پڑا! اور چند لمحے اپنے ہونٹ سیٹی بجانے والے انداز میں سکوڑے فیاض کی طرف دیکھتا رہا ۔ پھر ایک ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔ بے خطرکود پڑا آتش نمرود میں عشق
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
”کیا بکواس ہے !“فیاض جھنجھلا کر بولا۔”اول تو تمہیں اشعار ٹھیک یاد نہیں پھر یہاں اس کا موقع کب تھا….عمران میرا بس چلے تو تمہیں گولی ماردوں۔“۔ ”کیوں شعر میں کیا غلطی ہے ۔“
”مجھے شاعری سے دلچسپی نہیں لیکن مجھے دونوں مصرعے بے ربط معلوم ہوتے ہیں ….“لاحول ولا قوة میں بھی انہیں لغویات میں الجھ گیا ۔ خدا کے لئے کام کی باتیں کرو ۔ تم نہ جانے کیا کررہے ہو!“
”میں آج رات کو کام کی بات کروں گا اورتم میرے ساتھ ہوگے لیکن ایک سیکنڈ کے لئے بھی وہاں سے پہرہ نہ ہٹایا جائے….تمہارے ایک آدمی کو ہر وقت مجاور کے کمرے میں موجود رہنا چاہیے ! بس اب جاو ….میں چائے پی چکا ہوں ورنہ تمہاری کافی مدارات کرتا ۔ ہاں محبوبہ یک چشم کو میراپیغام پہنچا دینا کہ رقیب رو سیاہ کا صفایا ہوگیا ! باقی سب خیریت ہے ۔ “ ”عمران میںآسانی سے پیچھا نہیں چھوڑوں گا ! تمہیں ابھی اور اسی وقت سب کچھ بتانا پڑے گا۔ “
”اچھا تو سنو!لیڈی جہانگیر بیوہ ہونے والی ہے !….اس کے بعد تم کوشش کرو گے کہ میری شادی اس کے ساتھ ہوجائے ….کیا سمجھ؟“
”عمران !فیاض یک بیک مار بیٹھنے کی حد تک سنجیدہ ہوگیا ۔ ”یس باس۔“
”بکواس بند کرو ۔ میں اب تمہاری زندگی تلخ کردوں گا ۔‘
”بھلا وہ کس طرح سوپر فیاض !“ ”نہایت آسانی سے !“فیاض سگریٹ سلگا کر بولا۔”تمہارے گھر والوں کو شبہ ہے کہ تم اپناوقت آوارگی اورعیاشی میں گزارتے ہو ! لیکن کسی کے پاس اس کا ٹھوس ثبوت نہیں ….میں ثبوت مہیا کروں گا ۔ ایک ایسی عورت کا انتظام کرلینا میرے لئے مشکل نہ ہوگا جوبراہ راست تمہاری اماں بی کے پاس پہنچ کر انہےںلٹنے کی داستان بیان کردے ۔“
”اوہ !“عمران نے تشویش آمیز انداز میں اپنے ہونٹ سکوڑ لئے پھر آہستہ سے بولا۔
”اماں بی کی جوتیاں آل پروف ہیں ۔ خیر سوپرفیاض یہ بھی کرکے دیکھ لو تم مجھے ایک صابروشاکرفرزند پاو گے !….لوچیونگم سے شوق کرو ۔“

Read More:  Hijab Novel By Amina Khan – Episode 4

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: