Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 11

0

خوفناک عمارت از ابن صفی قسط نمبر 11

”اس گھر میں ٹھکانہ نہیں ہوا تمہارا….“فیاض بولا۔
”تمہارا گھر تو موجود ہی ہے ۔“عمران نے کہا۔ ”تو تم نہین بتاو گے ۔“
”ظاہر ہے ۔“
”اچھا! تو اب تم ان معاملات میں داخل نہیں ہوگے میں خود ہی دیکھ لوں گا ۔ “فیاض اٹھتا ہوا خشک لہجے میں بولا۔ ”اور اگر تم اس کے بعد بھی اپنی ٹانگ اڑائے رہے تو میں تمہیں قانونی گرفت میں لے لوں گا ۔“ ”یہ گرفت ٹانگوں میں ہوگی یا گردن میں !‘عمران نے سنجیدگی سے پوچھا۔ چند لمحے فیاض کو گھورتا ہوا پھر بولا۔ ”ٹھہرو !“فیاض رک کر اسے بے بسی سے دیکھنے لگا !….عمران نے الماری کھول کر وہی چرمی بیگ نکالا جسے وہ کچھ نامعلوم افراد کے درمیان سے پچھلی رات کو اڑا لایا تھا ۔ اس نے ہینڈ بیگ کھول کر چند کاغذات نکالے اور فیاض کی طرف بڑھادیئے ۔ فیاض نے جیسے ہی ایک کاغذ کی تہہ کھولی بے اختیار اچھل پڑا ….اب وہ تیزی سے دوسرے کاغذات پر بھی نظریں دوڑا رہا تھا۔
”یہ تمہیں کہاں سے ملے “فیاض تقریباً ہانپتا ہوا بولا۔ شدت جوش سے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
”ایک ردی فروش کی دوکان پر ….بڑی دشواریں سے ملے ہیں دوہآنہ سیر کے حساب سے۔“ ”عمران!….خدا کے لئے ۔“فیاض تھوک نگل کر بولا۔
”کیا کرسکتا ہے بے چارہ عمران !“عمران نے خشک لہجے میں کہا۔وہ اپنی ٹانگیں اڑانے لگا تو تم اسے قانونی گرفت میں لے لو گے ۔“
”پیارے عمران ! خدا کے لئے سنجیدہ ہوجاو۔“ ”اتنا سنجیدہ ہوں کہ تم مجھے بی پی کی ٹافیاںکھلا سکتے ہو۔ “
”یہ کاغذات تمہیں کہاں سے ملے ہیں؟“
”سڑک پر پڑے ہوئے ملے تھے !اوراب میں نے انہیں قانون کے ہاتھوں میں پہنچا دیا ۔اب قانونی کا کام ہے کہ وہ ایک ہاتھ تلاش کرے جن میں ہتھ کڑیاں لگاسکے ….عمران نے اپنی ٹانگ ہٹالی ۔ “ فیاض بے بسی سے اس کی طرف دیکھتا رہا !
”لیکن اسے سن لو ۔“عمران قہقہہ لگا کر بولا۔ ”قانون کے فرشتے بھی ان لوگوں تک نہیں پہنچ سکتے !“
”اچھا تو یہی بتادو کہ کہ ان معاملات سے ان کاغذات کا کیا تعلق ہے !“فیاض نے پوچھا ۔ ”یہ تمہیں معلوم ہوناچاہیے۔“عمران دفعتاً سنجیدہ ہوگیا ۔ ”اتنا میں جانتا ہوں کہ یہ کاغذات فارن آفس سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کا ان بدمعاشوں کے پاس ہونا کیا معنی رکھتا ہے ۔“ ”کن بدمعاشوں کے پاس !“فیاض چونک کر بولا۔
”وہی ! اس عمارت میں ….!“
”میرے خدا !“….فیاض منظربانہ انداز میں بڑبڑایا ۔ لیکن تمہارے ہاتھ کس طرح لگے !”عمران نے پچھلی رات کے واقعات دہردیئے! اس دوران میں فیاض بے چینی سے ٹہلتا رہا کبھی کبھی وہ رک کر عمران کو گھورنے لگتا! عمران اپنی بات ختم کرچکا تو اس نے کہا ۔“ ”افسوس ! تم نے بہت برا کیا….تم نے مجھے کل یہ اطلاع کیوں نہیں دی ۔“
”تو اب دے رہا ہوں اطلاع۔ اس مکان کاپتہ بھی بتادیا جوکچھ بن پڑے کرلو ۔ “عمران نے کہا ۔
”اب کیا وہاں خاک پھانکنے جاوں؟“ ”ہاں ہاں کیا حرج ہے ۔“
”جانتے ہو یہ کاغذات کیسے ہیں !“فیاض نے کہا ۔
”اچھے خاصے ہیں ! ردی کے بھاو بک سکتے ہیں۔“ ”اچھا تو میں چلا !“فیاض کاغذ سمیٹ کر چرمی بیگ میں رکھتا ہوا بولا۔
”کیا انہیں اسی طرح لے جاوگے !“عمران نے کہا ۔”نہیں ایسا نہ کرو مجھے تمہارے قاتلوں کا بھی سراغ لگانا پڑے ۔“
”کیوں؟“۔ ”فون کرکے پولیس کی گاڑی منگواو ۔“عمران ہنس کر بولا ۔ ”کل رات سے وہ لوگ میری تلاش میں ہیں ۔ میں رات بھر گھر سے باہر ہی رہا تھا ۔ میرا خیال ہے کہ اس وقت مکان کی نگرانی ضرور ہورہی ہوگی ! خیر اب تم مجھے بتا سکتے ہو کہ کاغذات کیسے ہیں ۔“
”فیاض پھر بیٹھ گیا ۔ وہ اپنی پیشانی سے پیسنہ پونچھ رہاتھا ۔ تھوڑی دیر بعد اس نے کہا ۔“
”سات سال پہلے ان کاغذات پر ڈاکہ پڑا تھا ؟ لیکن ان میں سب نہیں ہیں ۔ فارن آفس کا ایک ذمہ دار آفسیر انہیں لے کر سفر کررہا تھا ….یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ کہاں اور کس مقصد سے جارہا تھا کیونکہ ۔ یہ حکومت کا راز ہے ۔آفیسر ختم کردیا گیا تھا اس کی لاش مل گئی تھی ۔لیکن اس کے ساتھ سیکرٹ سروس کا ایک آدمی بھی تھا اس کے متعلق آج تک نہ معلوم ہوسکا ….!شائد وہ بھی مارڈالا گیا ہو….لیکن اس کی لاش نہیں ملی ۔“ ”آہا….تب تو یہ بہت بڑا کھیل ہے ۔“عمران کچھ سوچتا ہوا بولا!”لیکن میں جلد ہی اسے ختم کرنے کی کوشش کروں گا ۔“
”تم اب کیا کرو گے ۔“
”ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا !“عمران نے کہا ۔”اور سنوان کاغذات کو ابھی اپنے پاس ہی دبائے رہو اور ہینڈ بیگ میرے پاس رہنے دو۔ مگر نہیں اسے بھی لے جاو !….میرے ذہن میں کئی تدبیر ہیں! اورہاں ….اس عمارت کے گرددن رات پہرہ رہنا چاہیے !“ ”آخر کیوں ؟“
”وہاں میں تمہارا مقبرہ بنواوں گا ۔ “عمران جھنجھلا کر بولا۔
فیاض اٹھ کر پولیس کی کار منگوانے کے لئے فون کرنے لگا۔ ”اسی رات کو عمران بوکھلا یا ہوا فیاض کے گھر پہنچا! فیاض سونے کی تیاری کررہا تھا ۔ ایسے موقع پر اگرعمران کی بجائے کوئی اور ہوتا تووہ بڑی بداخلاقی سے پیش آتا ۔ مگر عمران کا معاملہ ہی کچھ اور تھا ۔ اس کی بدولت آج اس کے ہاتھ ایسے کاغذات لگے تھے جن کی تلاش میں عرصہ سے محکمہ سراغرسانی سرمار رہا تھا۔ فیاض نے اسے اپنے سونے کے کمرے میں بلوالیا ۔ “
”میں صرف ایک بات پوچھنے کے لئے آیا ہوں !“عمران نے کہا۔
”کیا بات ہے ….کہو!“ عمران ٹھنڈی سانس لے کر بولا۔’کیا تم کبھی کبھی میری قبر پر آیا کروگے ۔“
فیاض کا دل چاہا کہ اس کاسردیوار سے ٹکرا کر سچ مچاس کو قبر تک جانے کا موقع مہیا کرے ! وہ کچھ کہنے کی بجائے عمران کو گھورتا رہا ۔
”آہ! تم خاموش ہو!“عمران کسی ناکام عاشق کی طرح بولا۔”میں سمجھا! تمہیں شائد کسی اورسے پریم ہوگیا ہے ۔“ ”عمران کے بچے….!“۔
”رحمان کے بچے !“عمران نے جلدی سے تصحیح کی ۔
”تم کیوں میری زندگی تلخ کئے ہوئے ہو۔“ ”اوہو! کیا تمہاری مادہ دوسرے کمرے میں سوئی ہوئی ہے ۔“عمران چاروں طرف دیکھتا ہوا بولا۔
”بکواس مت کرو!….اس وقت کیوں آئے ہو۔“
”ایک عشقیہ خط دکھانے کے لئے ۔“عمران جیب سے لفافہ نکالتا ہوا بولا ۔”اس کے شوہر نہیں ہے صرف باپ ہے ۔“ ”فیاض نے اس کے ہاتھ سے لفافہ لے کرجھلاہٹ میں پھاڑنا چاہا ۔‘
”ہاں ہاں!“عمران نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا ۔ ”ارے پہلو پڑھو تو میری جان مزہ نہ آئے تو محصول ڈاک بذمہ خریدار؟“
فیاض نے طوہا و کررہا خط نکالا….اور پھر جیسے ہی اس کی نظریں اس پر پڑیں ۔ بیزاری کی ساری علامتیں چہرے سے غائب ہوگئیں اور اس کی جگہ استعجاب نے لے لی خط ٹائپ کیا ہوا تھا ۔ ”عمران!….اگر وہ چرمی ہینڈ بیگ یا اس کے اندر کی کوئی چیز پولیس تک پہنچی تو تمہاری شامت آجائے گی ! اسے واپس کردو….بہتری اسی میں ہے ورنہ کہیں ….کسی جگہ موت سے ملاقات ضرور ہوگی آج رات کو گیارہ بجے ریس کورس کے قریب ملو ہینڈ بیگ تمہارے ساتھ ہونا چاہئے ! اکیلے ہی آنا ! ورنہ اگر تم پانچ ہزارآدمی بھی ساتھ لاو گے تب بھی گولی تمہارے ہی سینے پر پڑے گی ۔“
فیاض خط پڑھ چکنے کے بعد عمران کی طرف دیکھنے لگا ۔
”لاو ….اسے واپس کرآوں !“عمران نے کہا ۔ ”پاگل ہوگئے ہو۔“
”ہاں “
”تم ڈر گئے ہو۔“فیاض ہنسنے لگا۔ ”ہارٹ فیل ہوتے ہوتے بچا ہے ۔“عمران ناک کے بل بولا۔
”ریوالور ہے تمہار ے پاس۔“
”ریوالور !“عمران اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونستے ہوئے بولا۔ ”ارے باپ رے۔“ ”اگر نہیں ہے تو میں تمہارے لئے لائسنس حاصل کرلوں گا ۔“
”بس کرم کرو!“عمران برا سا منہ بنا کر بولا۔ اس میں آواز بھی ہوتی ہے اوردھواں بھی نکلتا ہے ! میرا دل بہت کمزور ہے لاوہینڈ بیگ واپس کردو۔“
”کیا بچوں کی سی باتیں کررہے ہو ۔“ ”اچھاتو تم نہیں دوگے ۔ “عمران آنکھیں نکال کر بولا۔
”فضول مت بکو مجھے نیند آرہی ہے ۔“
”ارے او….فیاض صاحب!ابھی میری شادی نہیں ہوئی اور میںباپ بنے بغیر مرنا پسند نہیں کروں گا‘۔ ”ہینڈ بیگ تمہارے والد کے آفس میں بھیج دیا گیا ہے ۔“
”تب انہیں اپنے جوان بیٹے کی لاش پرآنسو بہانے پڑیں گے ! کنفیوشس نے کہا تھا“
”جاو یار خدا کے لئے سونے دو۔“ ”گیارہ بجنے میں صرف پانچ منٹ رہ گئے ہیں ۔“عمران گھڑی کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔
”اچھا چلو تم بھی یہیں سوجاو ۔“فیاض نے بے بسی سے کہا !
”کچھ دیر خاموشی رہی ۔ پھر عمران نے کہا ۔“کیااس عمارت کے گرد اب بھی پہرہ ہے ۔ ”ہاں!….کچھ اور آدمی بڑھا دیئے گئے ہیں لیکن آخر تم یہ سب کیوں کررہے ہوں ۔آفیسر مجھ سے اس کا سبب پوچھتے ہیں اور میں ٹالتا رہتا ہوں ۔“
”اچھا تو اٹھو !یہ کھیل بھی اسی وقت ختم کردیں ! تیس منٹ میں ہم وہاں پہنچیں گے باقی بچے بیس منٹ ! گیارہ بجے تک سب کچھ ہوجانا چاہیے ! “
”کیا ہونا چاہیے!“ ”ساڑھے گیارہ بجے بتاوں گا ….!اٹھو !….میں اس وقت عا لم تصور میں تمہارا عہدہ بڑھتا ہوا دیکھ رہا ہوں ۔“
” آخر کیوں ! کوئی خاص بات؟“
”علی عمران ایم ایس سی پی ایچ ڈی کبھی کوئی عام بات نہیں کرتا ۔ سمجھے ناوگٹ اپ!“فیاض نے طوہاً دکرہا لباس تبدیل کیا ۔ ”تھوڑی دیر بعد اس کی موٹر سائیکل بڑی تیزی سے اس دیہی علاقہ کی طرف جارہی تھی جہاں وہ عمارت تھی !….عمارت کے قریب پہنچ کر عمران نے فیاض سے کہا ۔
”تمہیں صرف اتنا کرنا ہے کہ تم اس وقت تک قبر کے مجاور کو باتوں میں الجھائے رکھو جب تک میں واپس نہ آجاوں ! سمجھے ۔ اس کے کمرے میں جاو ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس کا ساتھ نہ چھوڑنا !“
عمارت کے گرد مسلح پہرہ تھا !….دستے کے انچارج نے فیاض کو پہچان کر سےلوٹ کیا ۔ فیاض نے اس چند سرکاری قسم کی رسمی باتیں کیں اور سیدھا مجاور کے حجرے کی طرف چلا گیا جس کے دروازے کھلے ہوئے تھے اوراندر مجاور غالباً مراقبے میں بیٹھا تھا ۔ فیاض کی آہٹ پر اس نے آنکھیں کھول دیں جو انگاروں کی طرح دہک رہی تھی ۔ ”کیا ہے ؟“اس نے جھلائے ہوئے لہجہ میں کہا ۔
”کچھ نہیں ۔ میں دیکھنے آیا تھا سب ٹھیک ٹھا ک ہے یا نہیں !“فیاض بولا۔
”میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے ۔ ان ہی گدھوں کی طرح پولیس بھی دیوانی ہوگئی ہے ۔“ ”کن گدھوں کی طرح ۔“
”وہی جو سمجھتے ہیں کہ شہید مرد کی قبر میں خزانہ ہے“۔
”کچھ بھی ہو ۔ “فیاض نے کہا ۔ ”ہم نہیں چاہتے کہ یہاں سے روزانہ لاشیں برآمد ہوتی رہیں اگر ضرورت سمجھ توقبر کھدوائی جائے گی ۔“ ”بھسم ہوجاوگے ۔ “فیاض نے کہا ۔مجاور گرج کربولا۔”خون تھوکوگے ….مروگے!“
”کیا سچ مچ اس میں خزانہ ہے ۔“
اس پر مجاور پھر گرجتے برسنے لگا ! فیاض بار بارگھڑی کی طرف دیکھتا جارہا تھا ! عمران کو گئے ہوئے پندرہ منٹ ہوچکے تھے ! وہ مجاور کو باتوں میں الجھائے رہا ! ….اچانک ایک عجیب قسم کی آواز سنائی دی ! مجاوراچھل کرمڑا….اس کی پشت کی طرف دیوار میں ایک بڑا سا خلا نظر آرہا تھا ! فیاض بوکھلا کر کھڑا ہوگیا وہ سوچ رہا تھا کہ یک بیک دیوار کو کیا ہوگیا۔ وہ اس سے پہلے بھی کئی بار اس کمرے میں آچکا تھا لیکن اسے بھول کر بھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ یہاں کوئی چور دروازہ بھی ہوسکتا ہے !دفعتاً مجاورچیخ مار کر اس دروازے میں گھستا چلا گیا ! فیاض بری طرح بوکھلا گیا تھا ۔ اس نے جیب سے ٹارچ نکالی اور پھر وہ بھی اسی دروازہ میں داخل ہوگیا ! ….یہاں چاروں طرف اندھیرا تھا ! شائد وہ کسی تہہ خانے میں چل رہا تھا ! کچھ دور چلنے کے بعد سیڑھیاں نظر آئیں ….یہاں قبرستان کی سی خاموشی تھی ! فیاض سیڑھیوں پر چڑھنے لگا اور جب وہ اوپر پہنچا تو اس نے خود کو مرشدمرد کی قبر سے برآمدہوتے پایا جس کا تعویز کسی صندوق کے ڈھکن کی ’طرح سیدھا اٹھا ہوا تھا ۔ ٹارچ کی روشنی کا دائرہ صحن میں چاروں طرف گردش کررہا تھا پھر فیاض نے مجاور کو وارداتوں والے کمرے سے نکلتے دیکھا ۔
”تم لوگوں نے مجھے برباد کردیا !“وہ فیاض کو دیکھ کر چیخا ۔”آو اپنے کر توت دیکھ لوں ! “وہ پھر کمرے میں گھس گیا ۔ فیاض تیزی سے اس کی طرف جھپٹا ۔
ٹارچ کی روشنی دیوارپر پڑی ۔ یہاں کا بہت ساپلاسٹرادھڑا ہوا تھا اور اسی جگہ پانچ پانچ انچ کے فاصلے پر تین بڑی چھریاں نصب تھیں ۔ فیاض آگے بڑھا !….ادھڑے ہوئے پلاسٹر کے پیچھے ایک بڑا سا خانہ تھا اور ان چھریوں کے دوسرے سرے اسی میں غائب ہوگئے تھے ۔ ان چھریوں کے علاوہ اس خانے میں اورکچھ نہیں تھا ۔ مجاور قہرآلود نظروں سے فیاض کو گھوررہا تھا !
”یہ سب کیا ہے ؟“فیاض نے مجاور کو گھورتے ہوئے کہا ۔
مجاور نے اسطرح کھنکار کر گلا صاف کیا جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو لیکن خلاف توقع اسنے فیاض کے سینے پر ایک زوردار ٹکر ماری اور اچھل کر بھاگا ! فیاض چاروں خانے چت گرگیا ۔ سنبھلنے سے پہلے اس کا داہنا ہاتھ ہولسٹرسے ریوالور نکال چکا تھا ! مگر بے کار ، مجاور نے قبر میں چھلانگ لگادی تھی۔ فیاض اٹھ کر قبر کی طرف دوڑا …. لیکن مجاور کے کمرے میں پہنچ کر بھی اس کانشان نہ ملا ۔ فیاض عمارت کے باہر نکل آیاڈیوٹی کانسٹیبل بدستور اپنی جگہوں پر موجود تھے انہوں نے بھی کسی بھاگتے ہوئے آدمی کے متعلق لاعلمی ظاہر کی ان کا خیال تھا کہ عمارت سے کوئی باہر نکلا ہی نہیں ۔
اچانک اسے عمران کا خیال! آخر وہ کہاں گیا تھا کہیں یہ اسی کی حرکت نہ ہواس خفیہ خانے میں کیا چیز تھی !….اب سارے معاملات فیاض کے ذہن میں صاف ہوگئے تھے ! لاش کا راز، تین زخم ….جن کا درمیانی فاصلہ پانچ پانچ انچ تھا !….دفعتاً کسی نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا ۔فیاض چونک کر مڑا! عمران کھڑا بری طرح بسورہا تھا !
”تو یہ تم تھے !“فیاض اسے نیچے سے اوپر تک گھورتا ہوا بولا۔۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: