Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 12

0

خوفناک عمارت از ابن صفی قسط نمبر 12

”میں تھا نہیں بلکہ ہوں ! ….توقع ہے کہ ابھی دو چار دن زندہ ہونگا ۔“
”وہاں سے کیا نکالا تم نے “ ”چوٹ ہوگئی پیارے فرماو۔“عمران بھرائی ہوئی آواز میں بولا ۔ ”وہ مجھ سے پہلے ہی ہاتھ صاف کرگئے ۔ میں نے تو بعد میں ذرا اس خفیہ خانے کے میکنزم پر غور کرنا چاہا تھا کہ ایک کھٹکے کو ہاتھ لگاتے ہی قور تڑخ گئی! “
”لیکن وہاں تھا کیا !“
”وہ بقیہ کاغذات جواس چرمی ہینڈ بیگ میں نہیں تھے ۔“ ”کیا ! ارے اواحمق پہلے ہی کیوں نہیں بتایا تھا !“فیاض اپنی پیشانی پر ہاتھ مار کر بولا۔”لیکن وہ اندر گھسے کس طرح ۔“
”آودکھاوں ۔“عمران ایک طرف بڑھتا ہوا بولا ….وہ فیاض کو عمارت کے مغربی گوشے کی سمت لایا! یہاں دیوار سے ملی ہوئی قدآدم جھاڑیاں تھیں ۔ عمران نے جھاڑیاں ہٹا کر ٹارچ روشن کی ور فیاض کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ دیوار میں اتنی بڑی نقب تھی کہ ایک آدمی بیٹھ کر باآسانی اس سے گزر سکتا تھا ۔
”یہ تو بہت برا ہوا ۔“فیاض بڑبڑایا۔ ”اوروہ پہنچا ہوا فقیر کہاں ہے !“عمران نے پوچھا ۔
”وہ بھی نکل گیا ! لیکن تم س طرح اندر پہنچے تھے ۔“
”اسی راستے سے آج ہی مجھے ان جھاڑیوں کا خیال آیا تھا ۔“ ”اب کیا کروگے بقیہ کاغذات!“فیاض نے بے بسی سے کہا۔
”بقیہ کاغذات بھی انہیں واپس کردوں گا ۔ بھلا آدھے کاغذات کس طرح کام کے ۔ جس کے پاس بھی رہیں پورے رہیں ۔اس کے بعد میں باقی زندگی گزارنے کے لئے قبر اپنے نام الاٹ کرلوں گا۔“
”عمران کے کمرے میں فون کی گھنٹی بڑی دیر سے بج رہی تھی !وہ قریب ہی بیٹھا ہوا کوئی کتاب پڑھ رہا تھا ۔ اس نے گھنٹی کی طرف دھیان تک نہ دیا پھر آخر گھنٹی جب بجتی ہی چلی گئی تو وہ کتاب میز پر پٹخ کر اپنے نوکر سلیمان کو پکارنے لگا ۔“ ”جی سرکار!“سلیمان کمرے میں داخل ہوکر بولا۔
”ابے دیکھ یہ کون الو کا پٹھا گھنٹی بجا رہا ہے ۔“
”سرکارفون ہے ۔“ ”فون!“عمران چونک کر فون کی طرف دیکھتا ہوا بولا ۔ ”اسے اٹھا کر سڑک پرپھینک دے۔“
سلیمان نے ریسیوراٹھا کر اس کی طرف بڑھا دیا۔
”ہیلو!“عمران ماوتھ پیس میں بولا۔”ہاں ہاں عمران نہیں تو کیا کتا بھونک رہا ہے ۔“ ”تم کل رات ریس کورس کے قریب کیوں نہیں ملے!“دوسری طرف سے آواز آئی ۔
”بھاگ جاو گدھے ۔“عمران نے ماوتھ پیس پر ہاتھ رکھے بغیر سلیمان سے کہا۔
”کیا کہا !“دوسری طرف سے غراہٹ سنائی دی ۔ ”اوہ۔ وہ تو میں نے سلیمان سے کہاتھا! ….میرانوکر ہے ….ہاں توکیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پچھلی رات کوریس کورس کیوں نہیں کیا ۔ “
”میں تم سے پوچھ رہا ہوں۔“
”تو سنو میرے دوست!“عمران نے کہا ۔”میں نے اتنی محنت مفت نہیں کی ۔ہینڈبیگ قیمت دس ہزار لگ چلی ہے ۔ اگر تم کچھ بڑھوتو میں سودا کرنے کو تیار ہوں۔“ ”شامت آگئی ہے تمہاری ۔“
”ہاں ملی تھی ! مجھے بہت پسند آئی ۔ عمران نے آنکھ مار کر کہا ۔“
”آج رات اور انتظا رکیا جائے گا ۔ اس کے بعد کل کسی وقت تمہاری لاش شہر کے کسی گٹر میں بہہ رہی ہوگی ۔ “ارے باپ ! تم نے اچھا کیا کہ بتادیا اب میں کفن ساتھ لئے بغیر گھر سے باہر نہ نکلوں گا ۔ ”میں پھر سمجھتا ہوں ۔“دوسری طرف سے آواز آئی ۔
”سمجھ گیا !عمران نے بڑی سعادت مندی سے کہا اور سلسلہ منقطع کردیا ۔ “
اس نے پھر کتاب اٹھالی اور اسی طرح مشغول ہوگیا جیسے کوئی بات ہی نہ ہو ۔ تھوڑی دیر بعد گھنٹی پھر بجی عمران نے ریسیور اٹھا لیا اور جھلائی ہوئی آواز میںبولا۔ ” اب میں یہ ٹیلیفون کسی یتیم خانے کو پریزنٹ کردوں گا سمجھے ….میں بہت سی مقبول آدمی ہوں….کیا میں نے مقبول کہا تھا مقبول نہیں مشغول آدمی ہوں۔“
”تم نے ابھی کسی رقم کی بات کی تھی ۔ “دوسری طرف سے آواز آئی ۔
”قلم نہیں فاوئنٹےں پن !“عمران نے کہا ۔ ”وقت مت برباد کرو ۔“دوسری طرف سے جھلائی ہوئی آواز آئی ۔ ”ہم بھی اس کی قیمت دس ہزار لگاتے ہیں ۔“
”ویری گڈ! “عمران بولا ۔”چلو تو یہ طے رہا! بیک ! بیگ تمہیں مل جائے گا۔“
”آج رات کو ۔“ ”کیا تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو ۔“عمران نے پوچھا ۔
”اسی طرح جیسے پہلی انگلی دوسری انگلی کو جانتی ہو ۔“
”گڈ“عمران چٹکی جا کر بولا۔”تو تم یہ ابھی جانتے ہوگے کہ میں ازلی احمق ہوں ۔“ ”تم !“
”ہاں میں ! ریس کورس بڑی سنسان جگہ ہے اگر بیگ لے کر تم نے مجھے ٹھائیں کردیا تو میں کس سے فریاد کروں گا ۔‘
”ایسانہیں ہوگا۔“دوسری طرف سے آواز آئی ۔ ”میں بتاوں ! تم اپنے کسی آدمی کو روپے دے کر ٹپ ٹاپ نائٹ کلب میں بھیج دو! میں مدہوبالا کی جوانی کی قسم کھاکر کہتاہوں کہ بیگ واپس کردوں گا“۔
”اگر کوئی شرارت ہوئی تو۔“
”مجھے مرغا بنا دینا۔“ ”اچھا! لیکن یہ یاد رہے کہ تم وہاں بھی ریوالورکی نال پر رہو گے ۔“
”فکر نہ کرو ۔ میں نے آج تک ریوالور کی شکل نہیں نہیں دیکھی ۔ “عمران نے ریسیور کریڈل پر رکھ دیا اور جیب سے چیونگم کا پیکٹ تلاش کرنے لگا ۔
ٹھیک آٹھ بجے کے قریب عمران اپنی بغل میں ایک چرمی ہینڈ بیگ دبائے ٹپ ٹاپ نائب کلب پہنچ گیا قریب قریب ساری میزیں بھری ہوئی تھیں ۔ عمران نے بار کے قریب کھڑے ہوکر مجمع کا جائزہ لیا آخر اس کی نظریں ایک میز پر رک گئیں جہاں لیڈی جہانگیر ایک نوجوان عورت کے ساتھ بیٹھی زرد رنگ کی شراب پی رہی تھی ۔ عمران آہستہ آہستہ چلتا ہوا میز کے قریب پہنچ گیا ۔ ”آہاے….مالی لیڈی ۔“وہ قدرے جھک کر بولا۔
لیڈی جہانگیر نے داہنی بھوں چڑھا کر اسے تیکھی نظروں سے دیکھا اورپھر مسکرانے لگی ۔
”ہل….لو….عمران….!“وہ اپنا داہنا ہاتھ اٹھا کر بولی ۔”تمہارے ساتھ وقت بڑا چھا گزرتا ہے ! یہ ہیں مس تسنیم !خان بہادر ظفر تسنیم کی صاحبزادی ! اور یہ علی عمران ۔“ ”ایم۔ ایس ۔ سی ۔ پی ۔ ایچ ۔ ڈی “عمران نے احمقوں کی طرح کہا۔
”بڑی خوشی ہوئی آ پ سے مل کر !“تسنیم بولی۔لہجہ بے وقوف بنانے کا ساتھا۔
”مجھے افسوس ہوا۔“ ”کیوں؟“لیڈی جہانگیر نے حیرت زدہ آواز سے کہا ۔
”میں سمجھتا تھا کہ شائد ان کا نام گلفام ہوگا ۔“
”ےہ کےا بہودگی ہے !“لیڈی جہانگیر جھنجھلا گئی ۔ ”سچ کہتا ہوں ! مجھے کچھ ایسا ہی معلوم ہوا تھا…. تسنیم ان کے لئے قطعی موزوں نہیں ….یہ تو کسی ایسی لڑکی کا نام ہوسکتا ہے جو تپ دق میں مبتلا ہو تسنیم ….بس نام کی طرح کمر جھکی ہوئی ۔“
”تم شائد نشے میں ہو۔“لیڈی جہانگیر نے بات بنائی ۔”لو اور پیو!“
”فالودہ ہے ؟“عمران نے پوچھا ”ڈیر تسنیم!لیڈی جہانگیر جلدی سے بولی۔“تم ان کی باتوں کا برامت ماننا یہ بہت پرمذاق آدمی ہیں ! اورعمران ….بیٹھونا ۔’“
”برا ماننے کی کیا بات ہے “عمران نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا ۔”میں انہیں گلفام کے نام سے یاد رکھوں گا۔“
”تسنیم بری طرح جھینپ رہی تھی اورشائد اب اسے اپنے رویہ پر افسوس بھی تھا۔“ ”اچھا میں چلی !“تسنیم اٹھتی ہوئی بولی۔۔
”میں خود چلا….“عمران نے اٹھنے کا ارادہ کرتے ہوئے کہا ۔
”مائی ڈیئرس ! تم دونوں بیٹھو۔“لیڈی جہانگیر دونوں کے ہاتھ پکڑ کر جھومتی ہوئی بولی۔ ”نہیں مجھے ایک ضروری کام یاد آگیا ہے ۔“تسنیم نے آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی ۔
”اور میں !“عمران سینے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔”تم پر ہزارکام قربان کرسکتا ہوں“
”بکومت ! جھوٹے ….تم مجھے خواہ مخواہ غصہ دلاتے ہو۔“ ”میں تمہیں پوجتا ہوں ! سوسائٹی ….مگر اس بڈھے کی زندگی میں….“
”تم پھرمذاق اڑانے لگے ۔“
نہیں ڈیئرسٹ ! میں تیرا چاند تو میری چاندنی ….نہیں دل کا لگا…. ”بس بس!….بعض اوقات تم بہت زیادہ چیپ ہوجاتے ہو!“
”آئی ایم سوری۔“عمران نے کہا اوراس کی نظریں قریب ہی کی ایک میز کی طرف اٹھ گئیں ۔ یہان ایک جانی پہچانی شکل کا آدمی اسے گھوررہا تھا ! عمران نے ہینڈ بیگ میز پر سے اٹھا کر بغل میں دبالیا پھر دفعتاً سامنے بیٹھا ہوا آدمی اسے آنکھ مار کر مسکرانے لگا۔ جواب میں عمران نے باری باری اسے دونوں آنکھیں ماردیں ! لیڈی جہانگیر اپنے گلاس کی طرف دیکھ رہی تھی اور شائد اس کے ذہن میں کوئی انتہائی رومان انگیز جملہ کلبلا رہا تھا۔
”میں ابھی آیا!“عمران نے لیڈی جہانگیر سے کہا اور اس آدمی کی میز پر چلا گیا ۔ ”لائے ہو ۔“اس نے آہستہ سے کہا۔
”یہ کیا رہا۔“عمران نے ہینڈ بیگ کی طرف اشارہ کیا پھر بولا۔”تم لائے ہو۔“
”ہاں آں!“اس آدمی نے لائے ہوئے ہینڈ بیگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔ ”تو ٹھیک ہے!“عمران نے کہا ۔”اسے سنبھالواورچپ چاپ کھسک جاو۔“
”کیوں ؟“وہ اسے گھورتا ہوا بولا۔
”کپتان فیاض کو مجھ پر شبہ ہوگیا ہے ہوسکتا ہے کہ اس نے کچھ آدمی میری نگرانی کے لئے مقرر کردیئے ہوں۔“ ”کوئی چال!“
”ہرگز نہیں!آج کل مجھے روپوں کی سخت ضرورت ہے ۔“
”اگر کوئی چال ہوئی تو تم بچوگے نہیں ۔ “آدمی ہینڈ بیگ لے کر کھڑا ہوگیا ۔ ”یارروپے مین نے اپنا مقبرہ تعمیر کرانے کے لئے نہیں حاصل کئے ۔ “عمران نے آہستہ سے کہا پھر وہ اس آدمی کو باہر جاتے دیکھتا رہا ۔ اس کے ہونٹوں پر شرارت آمیز مسکراہٹ تھی ۔ وہ اس آدمی کا دیا ہوا ہینڈ بیگ سنبھالتا ہوا پھر لیڈی جہانگیر کے پاس آبیٹھا ۔
وہ آدمی ہینڈ بیگ لئے ہوئے جیسے ہی باہر نکلا کلب کی کمپاونڈ کے پارک سے دو آدمی اس طرف بڑھے ۔
”کیا رہا ۔“ایک نے پوچھا۔ ”مل گیا۔“بیگ والے نے کہا۔
”کاغذات ہیںبھی یا نہیں ۔“
”میںنے کھول کرنہیںدیکھا ۔“ ”گدھے ہو۔“
”وہاں کیسے کھول کر دیکھتا۔“
”لاو….ادھر لاو ۔ “اس نے ہینڈ بیگ ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا!پھر وہ چونک کربولا ۔”اوہ !یہ اتنا وزنی کیوں ہے ۔“ اس نے بیگ کھولنا چاہا لیکن اس میں قفل لگاہوا تھا ۔
”چلو یہاں سے “تیسرا بولا”یہاں کھولنے کی ضرورت نہیں ۔“
کمپاونڈر کے باہر پہنچ کر وہ ایک کار میں بیٹھ گئے ۔ ان مین سے ایک کارڈرائیور کرنے لگا۔ شہر کی سڑکوں سے گزر کر کار ایک ویران راستے پر چل پڑی آبادی سے نکل آنے کے بعد انہوں نے کار کے اندر روشنی کردی ۔
ان میں سے ایک جو کافی معمر مگر اپنے دونوں ساتھیوں سے زیادہ طاقتور معلوم ہوتا تھا ایک پتلے سے تار کی مدد سے ہینڈ بیگ کا قفل کھولنے لگا اورپھرجیسے ہی ہینڈ بیگ کا فلیپ اٹھایا گیا پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے دونوں آدمی بے ساختہ اچھل پڑے ۔کوئی چیز بیگ سے اچھل کر ڈرائیور کی کھوپڑی سے ٹکرائی اور کار سڑک کے کنارے کے ایک درخت سے ٹکراتے ٹکراتے بچی ۔ رفتار زیادہ تیز نہیں تھی ورنہ کارکے آجانے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رہ گیا تھا ۔ تین بڑے بڑے مینڈک کار میں اچھل رہے تھے ۔
بوڑھے آدمی کے منہ سے ایک موٹی سی گالی نکلی اور دوسرا ہنسے لگا ۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: