Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 2

0

خوفناک عمارت از ابن صفی قسط نمبر 02

”منہ کے بل گروگے سڑک پر !“
”اگر تقدیر میں یہی ہے ! تو بندہ بے بس و ناچار ۔“عمران نے دریشانہ انداز میں کہا ۔ ”خدا سمجھے تم سے ۔“فیاض نے دانت پیس کر موٹر سائیکل اسٹارٹ کردی اس کا منہ مغرب کی طرف تھا اور عمران کا مشرق کی طرف ! اورعمران اس طرح آگے کی طرف جھکا ہوا تھا جیسے وہ خودہی موٹر سائیکل ڈرائیور کررہا ہو! راہ گیر انہیں دیکھ دیکھ کرہنس رہے تھے ۔
”دیکھا یاد آگیا نا !“عمران چہک کر بولا شلوار کا لٹھا اور قمیض کی بوسکی ….میں پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ کوئی غلطی ہوگئی ہے ۔“
”عمران!تم مجھے احمق کیوں سمجھتے ہو!“ فیاض نے جھنجھلا کر کہا ۔ ”کم از کم میرے سامنے تو خبطی پن سے باز آجایا کرو ۔“ ”تم خود ہو گے خبطی!“برا مان کر بولا۔
”آخر اس ڈھونگ سے کیافائدہ۔“
”ڈھونگ !کمال کردیا ۔ اف فوہ ! اس لفظ ڈھونگ پرمجھے وہ بات یاد آ ¿ذ ہے جسے اب سے ایک سال پہلے یاد آنا چاہیے تھا ۔“ فیاض کچھ نہ بولا ۔ موٹر سائیکل ہوا سے باتیں کرتی رہی ۔
”ہائیں!“عمران تھوڑی دیر بعد بولا۔ ”یہ موٹر سائیکل پیچھے کی طرف کیوں بھاگ رہی ہے ۔ارے اس کا ہینڈل کیا ہوا ….پھر اس نے بے تحاشہ چیخنا شروع کردیا ۔”ہٹو ….بچو….میں پیچھے کی طرف نہیں دیکھ سکتا۔“
فیاض نے موٹر سائیکل روک دی اور جھینپے ہوئے انداز میں راہ گیروں کی طرف دیکھنے لگا ۔ ”شکر ہے خدا کا کہ خود بخود رک گئی !“عمران اترتا ہوا بڑبڑایا ….پھر جلدی سے بولا ۔”لاحول ولاقوة اس کا ہینڈل پیچھے ہے ! اب موٹر سائیکلیں بھی الٹی بننے لگیں ۔“
”کیا مطلب ہے تمہارا؟ کیوں تنگ کررہے ہو؟ “فیاض نے بے بسی سے کہا ۔
”تنگ تم کررہے ہو یا میں !….الٹی موٹر سائیکل پر لئے پھرتے ہو! اگر کوئی ایکسیڈنٹ ہو جائے تو!“ ”چلو بیٹھو ۔“فیاض اسے کھینچتا ہوا بولا ۔
موٹر سائیکل پھر چل پڑی ۔
”اب تو ٹھیک چل رہی ہے ۔“عمران بڑبڑایا۔ موٹر سائیکل شہر سے نکل کر ویرانے کی طرف جارہی تھی اور عمران نے ابھی تک فیاض سے یہ بھی پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی کہ وہ اسے کہاں لے جارہاہے ۔
”آج مجھے پھر تمہاری مدد کی ضرورت محسوس ہوئی ہے “فیاض بولا۔
”لیکن میں آج کل بالکل مفلس ہوں ۔ “عمران نے کہا ۔ ”اچھاتو کیا میں تم سے ادھارمانگنے جارہا تھا“
”پتہ نہیں ۔ میں یہی سمجھ رہا تھا ! ارے باپ رے پھر بھول گیا! ….لٹھ مار کا….پانجامہ ….اور قمیض ….لاحول ولاقوة …. بوسکا….“
”پلیز شٹ اپ….عمران….یوفول!“فیاض جھنجھلا اٹھا۔ ”عمران….“کیپٹن فیاض نے ٹھنڈی سانس لے کر پھر اسے مخاطب کیا۔
”اوں….ہا۔“
”تم آخر دوسروں کو بےوقوف کیوں سمجھتے ہو۔“ ”کیونگہ ….ہا….ارے باپ رے یہ جھٹکے ….یار ذرا چکنی زمین پر چلاو ¿!“
”میں کہتا ہوں کہ اب یہ ساری حماقتیں ختم کرکے کوئی ڈھنگ کا کام کرو۔“
”ڈھنگ ….لویار….اس ڈھنگ پر بھی کوئی بات یاد آنے کی کوشش کررہی ہے۔“ ”جہنم میں جاو ¿۔“فیاض جھلا کر بولا۔
”اچھا ۔“ عمران نے بڑی سعادت سے گردن ہلائی۔
موٹر سائیکل ایک کافی طویل و عریض عمارت کے سامنے رک گئی جس کے پھاٹک پر تین چار باوردی کانسٹیبل نظرآرہے تھے۔ ”اب اترو بھی ۔ “فیاض نے کہا۔
”میں سمجھا شائد اب تم مجھے ہینڈل پر بٹھاو ¿ گے ۔“عمران اترتا ہوا بولا ۔
وہ اس وقت ایک دیہی علاقہ میں کھڑے ہوئے تھے جو شہر سے زیادہ دور نہ تھا یہاں بس یہی ایک عمارت اتنی بڑی تھی ورنہ یہ بستی معمولی قسم کے کچے پکے مکانوں پر مشتمل تھی اس عمارت کی بناوٹ طرز قدیم سے تعلق رکھتی تھی !چاروں طرف سرخ رنگ کی لکھوری اینٹوں کی کافی بلنددیواریں تھیں اور سامنے ایک بہت بڑا پھاٹک تھا جو غالباً صدر دروازے کے طورپر استعمال کیا جاتا رہا ہوگا۔ کیپٹن فیاض عمران کا ہاتھ پکڑے ہوئے عمارت میں داخل ہوگیا ….اب بھی عمران نے اس سے یہ نہ پوچھا کہ وہ اسے کہاں اور کس مقصد کے تحت لایا ہے ۔
دونوں ایک طویل دالان سے گزرتے ہوئے ایک کمرے میں آئے اچانک عمران نے اپنی آنکھوں پر دونوں ہاتھ رکھ لئے اور منہ پھیر کر کھڑا ہوگیا ۔ اس نے ایک لاش دیکھ لی تھی جو فرش پراوندھی پڑی تھی اور اس کے گرد خون پھیلا ہوا تھا ۔
”انا للہ وانا الیہ راجعون“وہ کپکپاتی آواز میں بڑبڑارہا تھا ۔ ”خدا اس کے متعلقین کو جوار رحمت میں جگہ دے اور اسے صبر کی توفیق عطا فرمائے“
”میں تمہیں دعائے خیر کرنے کے لئے نہیں لایا۔“جھنجھلا کر بولا۔
”تجہیز و تکفےن کے لئے چندہ وہاں بھی مانگ سکتے تھے آخر اتنی دور کیوں گھسیٹ لائے۔“ ”یار عمران خدا کے لئے بور نہ کرو! میں تمہیں اپنا ایک بہترین دوست سمجھتا ہوں ۔“فیاض نے کہا۔
”میں بھی یہی سمجھتا ہوں ۔مگر پیارے پانچ روپے سے زیادہ نہ دے سکوں گا ۔ ابھی مجھے….لٹھی کا بوسکا خریدنا ہے !….کیا لٹھی ….لویار پھر بھول گیا !کیا مصیبت ہے۔“
فیاض چند لمحے کھڑا اسے گھورتا رہا پھر بولا۔ ”یہ عمارت پچھلے پانچ برسوں سے بند رہی ہے ۔ کیا ایسی حالت میں یہاں ایک لاش کی موجودگی حیرت انگیز نہیں ہے ۔“
”بالکل نہیں۔“عمران سرہلاکر بولا۔ ”اگر یہ لاش کسی امرود کے درخت پر پائی جاتی تو میں اسے عجوبہ تسلیم کرلیتا۔“
”یار تھوڑی دیر کے لئے سنجیدہ ہوجاو ¿۔“ ”میں شروع ہی سے رنجیدہ ہوں ۔ “عمران نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا
”رنجیدہ نہیں سنجیدہ “فیاض نے اسے مخاطب کیا ۔
عمران خاموشی سے لاش کی طرف دیکھ رہا تھا ….وہ آہستہ سے بڑبڑایا ۔ ”تین زخم۔“ فیاض اسے موڈ میں آتے دیکھ کر کچھ مسرور سا نظر آنے لگا ۔
”پہلے پوری بات سن لو !“فیاض نے اسے مخاطب کیا ۔
”ٹھہرو ۔“عمران جھکتا ہوا بولا ۔ وہ تھوڑی دیر تک زخموں کو غورسے دیکھتا رہا پھر سراٹھا کر بولا ”پوری بات سنانے سے پہلے یہ بتاو ¿ کہ اس لاش کے متعلق تم کیا بتاسکتے ہو“ ”آج بارہ بجے دن کو یہ ۔دیکھی گئی :!“فیاض نے کہا ۔
”او نہہ!میںزیادہ عقل مندانہ جواب نہیں چاہتا ۔ “ عمران ناک سکوڑ کر بولا۔
”میں یہ جانتا ہوں کہ کسی نے اس پر تین وار کئے ہیں “ ”اور کچھ !“ عمران اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
”اور کہا!“ فیاض بولا۔
”مگر ….شیخ چلی دوئم….یعنی علی عمران ایم ایسی ۔سی۔پی ۔ایچ۔ڈی کا خیال کچھ اور ہے۔“ ”کیا؟“
”سن کر مجھے الو سہی احمق بنادو سمجھنے لگوگے۔“
”ارے یار کچھ بتاو ¿ بھی تو سہی ۔“ ”اچھا سنو ! قاتل نے پہلا وار کیا!….پھر پہلے زخم سے پانچ پانچ انچ کا فاصلہ ناپ کر دوسرا اور تیسرا وار کیا ور اس بات کا خاص خیال رکھا کہ زخم بالکل سیدھ میں رہیں ۔ نہ ایک سوت ادھر نہ ایک سوت ادھر ۔“
”کیابکتے ہو !“فیاض بڑبڑایا۔
”ناپ کر دیکھ لو میری جان اگر غلط نکلے تو میرا قلم سر کر دینا ….آں….شائد میں غلط بول گیا ….میرے قلم پہ سر رکھ دینا ….“عمران نے کہا اورادھر ادھر دیکھنے لگا اس نے ایک طرف پڑا ہوا ایک تنکا اٹھایا اور پھرجھک کر زخموں کادرمیانی فاصلہ ناپنے لگا فیاض اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔ ”لو“عمران اسے تنکا پکڑاتا ہوا بولا ۔ ”اگر یہ تنکا پانچ انچ کا نہ نکلے تو کسی کی ڈاڑھی تلاش کرنا۔
”مگر اس کا مطلب !“ فیاض کچھ سوچتا ہوا بولا۔
”اس کا مطلب یہ کہ قاتل و مقتول دراصل عاشق و معشوق تھے ۔“ ”عمران پیارے ذرا سنجیدگی سے ۔“
”یہ تنگا بتاتا ہے کہ یہی بات ہے ۔“عمران نے کہا ”اور اردو کے پرانے شعراءکا بھی یہی خیال ہے ۔ کسی کا بھی دیوان ٹھا کر دیکھ لو ! دو چار شعر اس قسم کے ضرور مل جائیں گے جن سے میرے خیال کی تائید ہوجائے گی ۔ چلو ایک شعر سن ہی لو۔
موچ آئے نہ کلائی میں کہیں سخت جاں ہم بھی بہت پیارے ”مت بکواس کرو ۔ اگر میری مدد نہیں کرنا چاہتے تو صاف صاف کہہ دو۔“فیاض بگڑ کر بولا ۔
”فاصلہ تم نے ناپ لیا !اب تم ہی بتاو ¿ کہ کیا بات ہوسکتی ہے “عمران نے کہا ۔
فیاض کچھ نہ بولا۔ ”ذرا سوچو تو ۔“عمران پھر بولا ۔ ”ایک عاشق ہی اردو شاعری کے مطابق اپنے محبوب کو اس بات کی اجازت دے سکتا ہے کہ وہ جس طرح چاہے اسے قتل کرے۔ قیمہ بناکر رکھ دے یا ناپ ناپ کر سلیقے سے زخم لگائے یہ زخم بد حواسی کا نتیجہ بھی نہیں ۔ لاش کی حالت بھی یہ نہیں بتاتی کہ مرنے سے پہلے مقتول کو کسی سے جدوجہد کرنی پڑی ہو۔ بس ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے چپ چاپ لیٹ کر اس نے کہا جومزاج یار میںآئے…. “
”پرانی شاعری اورحقیقت میں کیا لگاو ¿ ہے ؟“فیاض نے پوچھا ۔
”پتہ نہیں ۔ “عمران پر خیال انداز میں سرہلا کربولا ۔ ”ویسے اب تم پوری غزل سناسکتے ہو۔ مقطع میں عرض کردوں گا۔“ فیاض تھوڑی دیر خاموش رہا پھربولا۔ ”یہ عمارت تقریباً پانچ سال سے خالی رہی ہے!….ویسے ہر جمعرات کو صرف چند گھنٹوں کے لئے اسے کھولا جاتا ہے“
”کیوں ؟“
”یہاں دراصل ایک قبر ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کسی شہید کی ہے چنانچہ ہر جمعرات کو ایک شخص اسے کھول کر قبر کی جاروب کشی کرتا ہے ۔“ ”چڑھاوے وغیرہ چڑھتے ہوں گے۔“عمران نے پوچھا ۔
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔ جن لوگوں کا یہ مکان ہے وہ شہر میں رہتے ہیں اوران سے میرے قریبی تعلقات ہیں انہوں نے ایک آدمی اسی لئے رکھ چھوڑا ہے کہ وہ ہر جمعرات کوقبر کی دیکھ بھال کرلیا کرے!….یہاں معتقدین کی بھیڑ نہیں ہوتی ۔ بہر حال آدمی آج دوپہر کو جب وہ یہاں آیا تو اس نے یہ لاش دیکھی ۔“
”تالابند تھا !“عمران نے پوچھا ۔ ”ہاں ۔اوروہ یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ کنجی ایک لمحے کے لئے بھی نہیں کھوئی اور پھر یہاں ا س قسم کے نشانات نہیں مل سکے جن کی بناءپر کہا جاسکتا کہ کوئی دیوار پھلانگ کر اندر آیا ہو“۔
”تو پھر یہ لاش آسمان سے ٹپکی ہوگی!“عمران نے سنجیدگی سے کہا۔”بہتر تو یہ ہے کہ تم اسی شہید کی مدد طلب کروجس کی قبر….“
”پھر بہکنے لگے !“فیاض بولا۔ ”اس عمارت کے مالک کون ہیں اور کیسے ہیں !“عمران نے پوچھا۔
”وہی میرے پڑوس والے جج صاحب ۔“فیاض بولا۔
”ہائے وہی جج صاحب!“عمران اپنے سینے پر ہاتھ مار کر ہونٹ چاٹنے لگا۔ ”ہاں وہی ….یار سنجیدگی سے….خدا کے لے۔“
”تب میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا ۔‘ ‘عمران مایوسانہ انداز میں سرہلا کر بولا ۔
”کیوں“ ”تم نے میری مدد نہیں کی؟“
”میں نے ۔“فیاض نے حیرت سے کہا ۔”میں نہیں سمجھا۔“
”خود غرض ہونا ۔بھلا تم میرے کام کیوں آنے لگے۔“ ”ارے تو بتاو ¿نا۔میں واقعی نہیں سمجھا۔“
”کب سے کہہ رہا ہوں کہ اپنے پڑوسی جج صاحب کی لڑکی سے میری شادی کرادو۔“
”مت بکو….ہر وقت بے تکی باتیں۔ “ ”میں سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں ۔“عمران نے کہا ۔
”اگر سنجیدگی سے کہہ رہے ہو تو شائد تم اندھے ہو۔“
”کیوں ۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: