Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 3

0

خوفناک عمارت از ابن صفی قسط نمبر 03

”اس لڑکی کی ایک آنکھ نہیںہے ۔“
”اس لئے تو میں اسے سے شادی کرناچاہتا ہوں ۔ وہ مجھے اور میرے کتوں کو ایک نظر سے دیکھے گی۔“ ”یار خدا کے لئے سنجیدہ ہوجاو ¿“
”پہلے تم وعدہ کرو۔“عمران بولا۔
”اچھا بابا میں ان سے کہوں گا۔“ ”بہت بہت شکریہ! مجھے سچ مچ اس لڑکی سے کچھ ہوگیا ہے ….کیا کہتے ہیں اسے ….لویار بھول گیا….حالانکہ کچھ دیر پہلے اسی کا تذکرہ تھا۔“
”چلو چھوڑوکام کی باتیں کرو۔“
”نہیں اسے یادہی آجانے دو۔ورنہ مجھ پر ہسٹیر یاکادورہ پڑجائے گا۔“ ”عشق ۔“فیاض منہ بنا کر بولا۔
”جیو!شاباش!“عمران نے اس کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے کہا۔”خدا تمہاری مادہ کو سلامت رکھے۔اچھا اب یہ بتاو ¿ کہ لاش کی شناخت ہوگئی یا نہیں ۔“۔
”نہیں! نہ تو اس علاقہ کا باشندہ ہے اور نہ جج صاحب کے خاندان والے ہیں اس سے واقف ہیں۔“ ”یعنی کسی نے اسے پہچانا نہیں۔“
”نہیں!“
”اس کے پاس کوئی ایسی چیز ملی یا نہیں جس سے اس کی شخصیت پرروشنی پڑسکے۔“ ”کوئی نہیں….مگر ٹھہرو!“فیاض ایک میز کی طرف بڑھتا ہوا بولا۔واپسی پر اس کے ہاتھ میں چمڑے کا تھیلا تھا۔
”یہ تھیلا ہمیں لاش کے قریب پڑا ملا تھا۔“فیاض نے کہا۔
عمران تھیلا اس کے ہاتھ سے لے کر اندر کی چیزوں کا جائز لینے لگا۔ ”کسی بڑھئی کے اوزار۔“اس نے کہا ۔”اگر یہ مقتول ہی کے ہیں تو….ویسے اس شخص کی ظاہری حالت اچھی نہیں ….لیکن پھر بھی یہ بڑھئی نہیں معلوم ہوتا….!“
”کیوں!“
”اس کے ہاتھ بڑے ملائم ہیں اور….ہتھیلیوںمیں کھردراپن نہیں ہے ۔ یہ ہاتھ تو کسی مصوریارنگساز ہی کے ہوسکتے ہیں ۔“عمران بولا۔ ”ابھی تک تم نے کوئی کام کی بات نہیں بتائی۔“فیاض نے کہا۔
”ایک احمق آدمی سے اس سے زیادہ کی توقع رکھنا عقلمندی نہیں۔“عمران ہنس کر بولا۔
”اس کے زخموں نے مجھے الجھن میں ڈال دیا ہے ۔“فیاض نے کہا ”اگر تم نے میرے زخموں پر مرہم رکھا ….تو میں ان زخموں کو بھی دیکھ لوں گا۔“
”کیا مطلب۔“
”جج صاحب کی لڑکی !“عمران اس طرح بولا جیسے اسے کچھ یاد آگیا ہو!”اس مکان کی ایک کنجی جج صاحب کے پاس ضرور رہتی ہوگی۔“ ”ہاں ایک ان کے پاس بھی ہے ۔“
”ہے یاتھی“
”یہ تو میں نے نہ ´یں پوچھا!“ ”خیر پھر پوچھ لینا ۔ اب لاش کو اٹھواو ¿ ….پوسٹ مارٹم کے سلسلے میں زخموں کی گہرائیوں کا خاص خیال رکھا جائے ۔“
”کیوں !“
”اگر زخموں کی گہرائیاں بھی ایک دوسرے کے برابر ہوئیں تو سمجھ لینا کہ یہ شہید مرد صاحب کی حرکت ہے ۔“ ”کیوں فضول بکواس کررہے ہو۔“
”جو کہہ رہا ہوں ….اس پر عمل کرنے کا ارادہ ہوتو علی عمران ایم۔ایس ۔سی ۔پی ۔ایچ۔ڈی کی خدمات حاصل کرنا ۔ور نہ کوئی….کیا نہیں ….ذرابتاو ¿ تو میں کون سا لفظ بھول رہا ہوں“
”ضرورت!“فیاض براسامنہ بنا کربولا ۔ ”جیتے رہو ….ورنہ کوئی ضرورت نہیں۔“
”تمہاری ہدایت پر عمل کیا جائے گا !اور کچھ !۔
”اور یہ کہ میں پوری عمارت دیکھنا چاہتا ہوں ۔“عمران نے کہا۔ پوری عمارت کا چکر لگالینے کے بعد وہ پھراسی کمرے میں لوٹ آئے ۔
”ہاں بھئی جج صاحب سے ذرا یہ بھی پوچھ لینا کہ انہوں نے صرف اسی کمرے کی ہیئت بدلنے کی کوشش کیوں کرڈالی ہے جبکہ پوری عمارت اسی پرانے ڈھنگ پر رہنے دی گئی ہے ….کہیں بھی دیوار پر پلاسٹر نہیں دکھائی دیا ….لیکن یہاں ہے….“
”پوچھ لوں گا۔“ ”اور کنجی کے متعلق بھی پوچھ لینا !….اور ….اگروہ محبوبہ یک چشم مل جائے تو اس سے کہنا کہ تیرے نیم کش کو کوئی میرے دل سے پوچھے!….شائد غالب کی محبوبہ بھی ایک ہی آنکھ رکھتی تھی ….کیونکہ تیر نیم کش ا کلوتی ہی آنکھ کا ہوسکتا ہے ۔“
”تو اس وقت اور کچھ نہیں بتاو ¿ گے ۔“فیاض نے کہا ۔
”یار بڑے احسان فروش ہو ….فروش….شائد میں پھر بھول گیا ۔ کونسا لفظ ہے ۔“ ”فراموش “
”جینو ۔ ہاں تو بڑے احسان فراموش ہو ۔اتنی دیر سے بکواس کررہا ہوں اور تم کہتے ہو کچھ بتایا ہی نہیں۔“
دوسرے دن کیپٹن فیاض نے عمران کو اپنے گھر میں مدعو کیا ۔ حالانکہ کئی بار کے تجربات نے یہ بات ثابت کردی تھی کہ عمران وہ نہیں ہے جو ظاہر کرتا ہے نہ وہ احمق ہے اور نہ خبطی !لیکن پھر بھی فیاض نے اسے موڈ میں لانے کے لئے جج صاحب کی کانی لڑکی کو بھی مدعو کرلیا تھا !حالانکہ وہ عمران کی اس افتاد طبع کو بھی مذاق ہی سمجھا تھا لیکن پھر بھی س نے سوچا کہ تھوڑی تفریح ہی رہے گی ۔ فیاض کی بیوی بھی عمران سے اچھی طرح واقف تھی اور جب فیاض نے اس اس کے ”عشق “کی داستان سنائی تو ہنستے ہنستے اس کا برا حال ہوگیا ۔ فیاض اس وقت اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھا عمران کا انتظارکررہا تھا ۔ اس کی بیوی اور جج صاحب کی یک چشم لڑکی رابعہ بھی موجود تھیں ۔
”ابھی تک نہیں آئے عمران صاحب! “فیاض کی بیوی نے کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
”کیا وقت ہے ۔“فیاض نے پوچھا ۔ ”ساڑھے سات“
”بس دو منٹ بعد وہ اس کمرے میں ہوگا ۔ “فیاض مسکرا کر بولا ۔
”کیوں ۔ یہ کیسے؟“ ”بس اس کی ہر بات عجیب ہوتی ہے ! وہ اسی قسم کے اوقات مقرر کرتا ہے ۔ اس نے سات بج کر بیس منٹ پر آنے کا وعدہ کیا تھا ۔ لہٰذا میرا خیال ہے کہ وہ اس وقت ہمارے بنگلے کے قریب کھڑااپنی گھڑی دیکھ رہا ہوگا ۔“
”عجیب آدمی معلوم ہوتے ہیں ۔“رابعہ نے کہا۔
”عجیب ترین کہئے !انگلینڈ سے سائنس میں ڈاکٹریٹ لے کرآیا ہے ۔ لیکن اس کی حرکات وہ بھی دیکھ لیں گی ۔ اس صدی کا سب سے عجیب آدمی ….لیجئے شاہد وہی ہے ۔“ دروازے پر دستک ہوئی۔
فیاض اٹھ کرآگے بڑھا !….دوسرے لمحے میں عمران ڈرائنگ روم میں داخل ہورہا تھا ۔
عورتوں کو دیکھ کر وہ قدرے جھکا اور پھر فیاض سے مصافحہ کرنے لگا ۔ ”غالباً مجھے سب سے پہلے یہ کہنا چاہیے کہ آج موسم بڑا خوشگوار ہے ۔“عمران بیٹھتا ہوا بولا ۔
فیاض کی بیوی ہنسنے لگی اور رابعہ نے جلدی سے تاریک شیشوں والی عینک نکالی ۔
”آپ سے ملئے ،آپ مس رابعہ سلیم ہیں ۔ ہمارے پڑوسی جج صاحب کی صاحبزادی اور آپ مسٹر عمران میرے محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل رحمان صاحب کے صاحبزادے ۔“ ”بڑی خوشی ہوئی ۔ “عمران مسکر کر بولا پھر فیاض سے کہنے لگا تم ہمیشہ گفتگو میں غیر ضروری الفاظ ٹھونستے رہتے ہو۔ جو بہت گراں گزرتے ہیں ….رحمان صاحب کے صاحبزادے دونوں صاحبوں کا ٹکراو ¿ برا لگتا ہے ۔ اس کے بجائے رحمان صاحب کے زادے ….یا صرف رحمان زادے کہہ سکتے ہیں ۔
”میں لٹریری آدمی نہیں ہوں ۔ “فیاض مسکرا کر بولا ۔
دونوں خواتین بھی مسکرارہی تھیں ۔ پھر رابعہ نے جھک کر فیاض کی بیوی سے کچھ کہا اور وہ دونوں اٹھ کرڈرائنگ روم سے چلی گئیں ۔ ”بہت برا ہوا ۔“عمران براسامنہ بنا کر بولا ۔
”کیا ؟شائد وہ باورچی خانے کی طرف گئی ہیں ؟ فیاض نے کہا ۔”باورچی کی مدد کے لئے آج کوئی نہیں ہے ۔“
”تو کیا تم نے اسے بھی مدعو کیا ہے ۔“ ”ہاں بھئی کیوں نہ کرتا میں نے سوچا کہ اس بہانے سے تمہاری ملاقات بھی ہوجائے ۔“
”مگر مجھے بڑی کوفت ہورہی ہے ۔“عمران نے کہا ۔
”کیوں؟“ ”آخر اس نے دھوپ کا چشمہ کیوں لگایا ہے “
”اپنا نقص چھپانے کے لئے ۔“
”سنو میاں !دو آنکھوں والیاں مجھے بہتیری مل جائیں گی ۔ یہاں تو معاملہ صرف اس آنکھ کا ہے ۔ ہائے کیا چیز ہے ….کسی طرح اس کا چشمہ اترواو ¿ ۔ ورنہ میںکھانا کھائے بغیر واپس چلا جاو ¿ں گا ۔“ ”مت بکو۔“
”میں چلا !“عمران اٹھتا ہوا بولا ۔
”عجیب آدمی ہو….بیٹھو!“فیاض نے اسے دوبارہ بٹھادیا ۔ ”چشمہ اترواو ¿ میں اس کا قائل نہیں کہ محبوب سامنے ہو اور اچھی طرح دیدار بھی نصیب نہ ہو۔“
”ذرا آہستہ بولو۔“فیاض نے کہا ۔
”میں تو ابھی اسے کہوںگا ۔“ ”کیا کہو گے۔“فیاض بوکھلا کر بولا۔
”یہی جو تم سے کہہ رہا ہوں’’۔
”یار خدا کےلئے ….“ ”کیا برائی ہے ….اس میں ۔“
”میں نے سخت غلطی کی ۔“فیاض بڑبڑایا۔
”واہ….غلطی تم کرو اور بھکتوں میں !نہیں فیاض صاحب !میں اسے سے کہوں گا کہ براہ کرم چشمہ اتاردیجئے۔ مجھے آپ سے مرمت ہوگئی ہے ….مرمت ….مرمت….شائد میں نے غلط لفظ استعمال کیا ہے ۔ بولو بھئی کیا ہونا چاہیے ۔ “ ”محبت ….“فیاض براسا منہ بناکربولا۔
”جینو ! محبت ہوگئی ہے ….تو وہ اس پر کیا کہے گی ۔“
”چانٹا مار دے گی ۔“فیاض جھنجھلا کر بولا۔ ”فکر نہ کرو میں چانٹے کو چانٹے پر روک لینے کے آرٹ سے بخوبی واقف ہوں طریقہ وہی ہوتاہے جو تلوار پر تلوار روکنے کا ہوا کرتا تھا ۔“
”یار خدا کے لئے کوئی حماقت نہ کر بیٹھنا “
”عقل مندی کی بات کرنا ایک احمق کی کھلی ہوئی توہین ہے اب بلاو ¿نا ….دل کی جو حالت ہے بیان کر بھی سکتا ہوں اور نہیں بھی کرسکتا ….وہ کیا ہوتا ہے جدائی میں ….بولو نایار کون سا لفظ ہے ۔“ ”میں نہیں جانتا ۔ “فیاض جھنجھلا کر بولا ۔
”خیر ہوتا ہوگا ….ڈکشنری میں دیکھ لوں گا ….ویسے میرا دل دھڑک رہا ہے ہاتھ کانپ رہے ہیں لیکن ہم دونوں کے درمیان دھوپ کا چشمہ حائل ہے ۔ میں اسے نہیں برداشت کرسکتا ۔“
چند لمحے خاموشیررہی ! عمران میز پر رکھے ہوئے گلدان کو اس طرح گھوررہا تھا جیسے اس نے اسے کوئی سخت بات کہہ دی ہو۔ ”آج کچھ نئی باتیں معلوم ہوئی ہیں ۔“فیاض نے کہا۔
”ضرور معلوم ہوئی ہوں گی ۔“عمران احمقوں کی طرح سر ہلاکر بولا۔
”مگر نہیں !پہلے میں تمہیں ان زخموں کے متعلق بتاو ¿ں ۔تمہارا خیال درست نکلا ۔زخموں کی گہرائیاں بالکل برابر ہیں۔“ ”کیا تم خواب دیکھ رہے ہو۔ “عمران نے کہا۔
”کیوں؟“
”کن زخموں کی باتیں کررہے ہو؟

Read More:  Kabi Youn Bhi Ho Mere Robaro by Ayesha Jabeen – Episode 1

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: