Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 4

0

خوفناک عمارت از ابن صفی قسط نمبر 04

”کیوں ؟“
”کن زخموں کی باتیں کررہے ہو؟“ ”دیکھو عمران میں احمق نہیں ہوں ۔“
”پتہ نہیں جب تک تین گواہ نہ پیش کرو یقین نہیں کرسکتا۔“
”کیاتم کل والی لاش بھول گئے۔“ ”لاش ….ارے….ہاں یاد آگیا ۔اور وہ تین زخم برابر نکلے ….رہا….“
”اب کیا کہتے ہو ۔ “فیاض نے پوچھا ۔
”سنگ وآہن بے نیاز غم نہیں ….دیکھ کر ہر دیوار دور سے سرنہ ملا ۔“عمران نے گنگنا کر تان ماری اور میز پر طبلہ بجانے لگا ۔ ”تم سنجیدہ نہیں ہوسکتے ۔ “فیاض اکتا کر بے دلی سے بولا۔
”اس کا چشمہ اتروادینے کا وعدہ کرو تو میں سنجیدگی سے گفتگو کرنے پر تیار ہوں ۔“
”کوشش کروں گا بابا:میں نے اسے ناحق مدعو کیا ۔“ ”دوسری بات یہ کہ کھانے میں کتنی دیر ہے !“
”شائد آدھا گھنٹہ ….وہ ایک نوکر بیمار ہوگیا ہے ۔“
”خیر ….وہاں جج صاحب کیا باتیں ہوئیں ؟“ ”وہی بتانے جارہا تھا !کنجی اس کے پاس موجود ہے اور دوسری بات یہ کہ وہ عمارت انہیں اپنے خاندانی ترکے میں نہیں ملی تھی۔“
”پھر “عمران توجہ اور دلچسپی سے سن رہا تھا ۔
”وہ دراصل ان کے ایک دوست کی ملکیت تھی اور اس دوست نے ہی اسے خریدا تھا ان کی دوستی بہت پرانی تھی لیکن فکر معاش نے انہیں ایک دوسرے سے جدا کردیا ۔آج سے پانچ سال قبل اچانک جج صاحب کو اس کا ایک خط ملاجو اسی عمارت سے لکھا گیا تھا اس نے لکھا تھا کہ اس کی حالت بہت خراب ہے اور شائد وہ زندہ نہ رہ سکے لہٰذا وہ مرنے سے پہلے ان سے بہت اہم بات کہنا چاہتا ہے !تقریباً پندرہ سال بعد جج صاحب کو اس دوست کے متعلق کچھ معلوم ہوا تھا ! ان کا وہاں پہنچنا ضروری تھا بہرحال وہ وقت پر نہ پہنچ سکے ان کے دوست کا انتقال ہوچکا تھا ۔ معلوم ہوا کہ وہاں تنہاہی رہتا تھا ….ہاں تو جج صاحب کو بعد میں معلوم ہوا کہ مرنے والے نے وہ عمارت قانونی طور پر جج صاحب کی طرف منتقل کردی تھی ۔ لیکن یہ نہ معلوم ہوسکا کہ وہ ان سے کیا کہنا چاہتا تھا ۔ عمران تھوڑی دیر تک کچھ سوچتا رہا پھر بولا۔
”ہاں !….اور اس کمرے کے پلاسٹر کے متعلق پوچھا تھا ۔“
”جج صاحب نے اس سے لاعلمی ظاہر کی ۔ البتہ انہوں نے یہ بتایا کہ ان کے دوست کی موت اسی کمرے میں واقع ہوئی تھی۔“ ”قتل ۔“عمران نے پوچھا ۔
”نہیں قدرتی موت گاو ¿ںوالوں کے بیان کے مطابق وہ عرصہ سے بیمار تھا ۔“
”اس نے اس عمارت کو کسی سے خریدا تھا ۔“عمران نے پوچھا ۔ ”آخراس سے کیا بحث ! تم عمارت کے پیچھے کیوں پڑگئے ہو۔“
”محبوبہ یک چشم کے والد بزرگوار سے یہ بھی پوچھو۔“
”ذرا آہستہ !عجیب آدمی ہواگر اس نے سن لیا تو!“ ”سننے دو!۔۔ابھی میں ا سے اپنے دل کی حالت بیان کروں گا ۔“
”یار عمران خدا کے لئے ….کیسے آدمی ہوتم !“
”فضول باتیں مت کرو۔“عمران بولا ۔”ذرا جج صاحب سے وہ کنجی مانگ لاو ¿۔“ ”اوہ کیا ابھی ….!“
”ابھی اوراسی وقت“۔
فیاض اٹھ کر چلا گیا ! اس کے جاتے ہی وہ دونوں خواتین ڈرائنگ روم میں داخل ہوئیں ۔ ”کہاں گئے !“فیاض کی بیوی نے پوچھا۔
”شراب پینے۔“عمران نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
”کیا؟“فیاض کی بیوی منہ پھاڑ کر بولی۔پھر ہنسنے لگی۔ ”کھانا کھانے سے پہلے ہمیشہ تھوڑی پیتے ہیں ۔“ عمران نے کہا ۔
”آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ….وہ ایک ٹانک ہے ۔“
”ٹانک کی خالی بوتل میں شراب رکھنا مشکل نہیں !“ ”لڑانا چاہتے ہیں آپ۔“فیاض کی بیوی ہنس پڑی۔
”کیا آپ کی آنکھوں میں کچھ تکلیف ہے ۔“عمران نے رابعہ کو مخاطب کیا۔
”جی ….جی….جی نہیں ۔“رابعہ نروس نظر آنے لگی۔ ”کچھ نہیں ۔“فیاض کی بیوی جلدی سے بولی۔”عادت ہے تیز روشنی نہیں ہوتی اسی لئے یہ چشمہ ….“
”اوہ اچھا ؟“عمران بڑبڑایا ۔”میں ابھی کیا سوچ رہا تھا۔“
”آپ غالباً یہ سوچ رہے تھے کہ فیاض کی بیوی بڑی پھوہڑ ہے ۔ ابھی تک کھانا بھی نہیں تیار ہوسکا ۔“ ”نہیں یہ بات نہیں ہے میرے ساتھ بہت بڑی مصیبت یہ ہے کہ میں بڑی جلدی بھول جاتا ہوں ! سوچتے سوچتے بھول جاتا ہوں کہ کیا سوچ رہا تھا ۔ ہوسکتا ہے میں ابھی یہ بھول جاو ¿ں کہ آپ کون ہیں اور میں کہاں ہوں ؟ میرے گھر والے مجھے ہر وقت ٹوکتے رہتے ہیں ۔“
”مجھے معلوم ہے ۔“فیاض کی بیوی مسکرائی۔
”مطلب یہ کہ اگر مجھ سے کوئی حماقت سرزدہوتو بلا تکلف ٹوک دیجئے گا۔“ ابھی یہ گفتگو ہورہی تھی کہ فیاض واپس آگیا۔
”کھانے میں کتنی دیر ہے ۔“اس نے اپنی بیوی سے پوچھا۔
”بس ذراسی۔“ فیاض نے کنجی کا کوئی تذکرہ نہیں کیا اور عمران کے انداز سے بھی ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے وہ بھول ہی گیا ہوکہ اسنے فیاض کو کہاں بھیجا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد کھانا آگیا ۔
کھانے کے دوران میں عمران کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ سب نے دیکھا لیکن کسی نے پوچھا نہیں خود فیاض جو عمران کی رگ رگ سے واقف ہونے کا دعوی رکھتا تھا کچھ نہ سمجھ سکا ۔ فیاض کی بیوی اور رابعہ توبار بارکن انکھیوں سے اسے دیکھ رہی تھیں ۔ آنسو کسی طرح رکنے کا نام ہی لیتے تھے ۔ خود عمران کے انداز سے ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے اسے بھی ان آنسوو ¿ں کا علم نہ ہو۔ آخر فیاض کی بیوی سے ضبط نہ ہوسک اور وہ پوچھ ہی بیٹھی۔ ”کیا کسی چیز میں مرچیں زیادہ ہیں۔“
”جی نہیں ….نہیں تو۔“
”تو پھر یہ آنسو کیوں بہہ رہے ہیں “۔ ”آنسو ….کہاں ۔“عمران اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا”لل….لاحوں ولا قوة۔ شائد وہی بات ہو….مجھے قطعی احساس نہیں ہوا۔“
”کیا بات؟“فیاض نے پوچھا ۔
”دراصل مرغ مسلم دیکھ کر مجھے اپنے ایک عزیز کی موت یاد آگئی تھی۔“ ”کےاا ؟ مرغ مسلم دیکھ کر ۔“فیاض کی بیوی حیرت سے بولی۔ ©
”جی ہاں ….“
”بھلا مرغ مسلم دیکھ کر کیوں؟“ ”دراصل ذہن میں دوزخ کا تصور تھا ؟ مرغ مسلم دیکھ کر آدمی مسلم کا خیال آگیا ۔ میرے ان عزیز کا نام اسلم ہے مسلم پر اسلم آگیا ….پھر ان کی موت کا خیال آیا ۔ پھر سوچا کہ اگر وہ دوزخ میں پھینکے گئے توا سلم مسلم ….معاذ اللہ….!“
”عجیب آدمی ہو۔“فیاض جھنجھلا کر بولا۔
جج صاحب کی لڑکی رابعہ بے تحاشہ ہنس رہی تھی ۔ ”کب انتقال ہوا ان کا ۔“فیاض کی بیوی نے پوچھا ۔
”ابھی تو نہیں ہوا ۔“ عمران نے سادگی سے کہا اور کھانے میں مشغول ہوگیا ۔
”یار مجھے ڈرہے کہ کہیں تم سچ مچ پاگل نہ ہوجاو۔“ ”نہیں جب تک کوکا کولا بازار میں موجود ہے پاگل نہیں ہوسکتا ۔“
”کیوں !“فیاض کی بیوی نے پوچھا ۔
”پتہ نہیں !بہرحال محسوس یہی کرتا ہوں۔“ کھانا ختم ہوجانے کے بعدبھی شائد جج صاحب کی لڑکی وہاں بیٹھنا چاہتی تھی ۔ لیکن فیاض کی بیوی اسے کسی بہانے سے اٹھالے گئی شائد فیاض نے اسے اشارہ کردیا تھا ۔ ان کے جاتے ہی فیاض نے عمران کو کنجی پکڑادی اور عمران تھوڑی دیرتک اس کا جائزہ لیتے رہنے کے بعد بولا ۔
”ابھی حال ہی میں اس کی ایک نقل تیار کی گئی ہے ۔ اس کے سوراخ کے اندر موم کے ذرات ہیں ! ۔موم کا سانچہ ….سمجھتے ہونا!“
رات کی تاریک تھی ….اور آسمان میں سیاہ بادلوں کے مرغولے چکراتے پھررہے تھے ۔ کیپٹن فیاض کی موٹر سائیکل اندھیرے کا سینہ چیرتی ہوئی چکنی سڑک پر پھسلتی جارہی تھی کیریئر پر عمران الووں کی طرح دیدے پھرارہا تھا۔ اس کے ہونٹ بھنچے ہوئے تھے اور نتھنے پھڑک رہے تھے ۔ دفعتاً فیاض کا شانہ تھپتھپا کر بولا۔
”یہ تو طے شدہ بات ہے کہ کسی نے والد یک چشم کی کنجی کی نقل تیار کروائی ہے “
”پوچھ کر بتاوں گا۔“ ”کس سے ؟“
”بیکراں نیلے آسمان سے تاروں بھری رات سے ہولے ہولے چلنے والی ٹھنڈی ہواوں لاحول ولا قوة ….ہواوں سے ….!“۔
فیاض کچھ نہ بولا ! عمران بڑبڑاتا رہا ۔ ”لیکن شہید میاں کی قبرکی جاروب کشی کرنے والے کی کنجی!….اس کا حاصل کرنا نسبتاً آسان رہا ہوگا ….بہر حال ہمیں اس عمارت کی تاریخ معلوم کرنی ہے ۔ شائد ہم اس کے نواح میں پہنچ گئے ہیں ۔ موٹر سائیکل روک دو۔“ فیاض نے موٹر سائیکل روک دی۔
”انجن بند کردو۔“
فیاض نے انجن بند کردیا ۔عمران نے اس کے ہاتھ سے موٹر سائیکل لے کر ایک جگہ جھاڑی میں چھپادی ۔ ”آخر کرنا کیا چاہتے ہو۔ “فیاض نے پوچھا
”میں پوچھتا ہوں تم مجھے کیوں ساتھ لئے پھرتے ہو۔“عمران بولا۔
”وہ قتل ….جو اس عمارت میں ہوا تھا۔“ ”قتل نہیں حادثہ کہو۔“
”حادثہ !….کیا مطلب ؟“فیاض حیرت سے بولا۔
”مطلب کے لئے دیکھو غیاث اللغات صفحہ ایک سو بارہ ….ویسے ایک سوبارہ بیگم پارہ یاد آرہی ہے ۔ بیگم پارہ کے ساتھ امرت دھار ضروری ہے ورنہ ڈیوڈ کی طرح چندیا صاف ۔“ فیاض جھنجھلا کر خاموش ہوگیا
دونوں آہستہ آہستہ اس عمارت کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ انہوں نے پہلے پوری عمارت کا چکر لگایا پھر صدر دروازے کے قریب پہنچ کر رک گئے ۔
”اوہ ۔“عمران آہستہ سے بڑبڑایا ”تالا بند نہیں ہے ۔“ ”کیسے دیکھ لیا تم نے ….مجھے تو دیکھائی نہیں دیتا ۔ “فیاض نے کہا۔
”تم الو نہیں ہو۔“عمران بولا۔”چلو ادھر سے ہٹ جاو۔“
دونوں وہاں سے ہٹ کر پھر مکان کی پشت پر آئے ۔ عمران اوپر کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ دیوار کافی اونچی تھی ….اس نے جیب سے ٹارچ نکالی اور دیوار پرروشنی ڈالنے لگا۔ ”میرا بوجھ سنبھال سکو گے ۔“اس نے فیاض سے پوچھا ۔
”میں نہیں سمجھا ۔“
”تمہیں سمجھانے کے لئے تو باقاعدہ بلیک بورڈ اور چاک اسٹک چاہیے مطلب یہ کہ میں اوپر جانا چاہتا ہوں۔“ ”کیوں ؟کیا یہ سمجھتے ہو کہ کوئی اندر موجود ہے ۔“فیاض نے کہا ۔
”انہیں یوں ہی جھک مارنے کا ارادہ ہے ۔ چلو بیٹھ جاو ۔ میں تمہارے کاندھوں پر کھڑا ہوکر….“
”پھر بھی دیوار بہت اونچی ہے ۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: