Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 5

0

خوفناک عمارت از ابن صفی قسط نمبر 05

”یار فضول بحث نہ کرو ۔ “عمران اکتا کر بولا۔”ورنہ میںواپس جارہا ہوں “
طوہاًو کر ہاً فیاض دیوارکی جڑ میں بیٹھ گیا ۔ ”اماں جوتے تو اتارلو۔ “فیاض نے کہا ۔۔
”لے کر بھاگنا مت ۔“عمران نے کہا اورجوتے اتارکر اس کے کاندھوں پر کھڑا ہوگیا ۔
”چلو اب اٹھو۔“ فیاض آہستہ آہستہ اٹھ رہا تھا ….عمران کا ہاتھ روشندان تک پہنچ گیا!….اور دوسرے ہی لمحے میں وہ بندروں کی طرح دیوار پر چڑھ رہا تھا ….فیاض منہ پھاڑے حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔ وہ سوچ رہا تھا کہ عمران آدمی ہے یا شیطان کیا یہ وہی احمق ہے جو بعض اوقات کسی کیچوے کی طرح بالکل بے ضرر معلوم ہوتا ہے ۔
جن روشندانوں کی مدد سے عمران اوپر پہنچا تھاانہیں کے ذریعہ دوسری طرف اتر گیا چند لمحے وہ دیوار سے لگا کھڑا رہا پھر آہستہ آہستہ اس طرف بڑھنے لگا جدھر سے کئی قدموں کی آ ہٹیں مل رہی تھیں ۔
اورپھر اسے یہ معلوم کرلینے میں دشواری نہ ہوئی کہ وہ نامعلوم آدمی اسی کمرے میں تھے جس میں اس نے لاش دیکھی تھی ۔ کمرے کا دروازہ اندر سے بند تھا لیکن دروازوں سے موم بتی کی ہلکی زرد روشنی چھن رہی تھی ۔ اس کے علاوہ دالان بالکل تاریک تھا ۔ عمران دیوار سے چپکا ہوا آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھنے لگا لیکن اچانک اس کی نظر شہید مرد کی قبر کی طرف اٹھ گئی ۔ جس کا تعویز اوپر اٹھ رہا تھا ۔ تعویز اور فرش کے درمیان خلامیں ہلکی سی روشنی تھی اوراس خلا سے دو خوفناک آنکھیں اندھیرے میں گھورہی تھیں ۔
عمران سہم کر رک گیا وہ آنکھیں پھاڑے قبر کی طرف دیکھ رہا تھا ….اچانک قبر سے ایک چیخ بلند ہوئی ۔ چیخ تھی یا کسی ایسی بندریا کی آواز جس کی گردن کسی کتے نے دبوچ لی ہو۔
عمران جھپٹ کر برابر والے کمرے میںگھس گیا ! وہ جانتا تھا کہ اس چیخ کا رد عمل دوسرے کمرے والوں پر کیا ہوگا ! وہ دروازے میں کھڑا قبر کی طرف دیکھ رہا تھا تعویز ابھی تک اٹھاہوا تھا اور وہ خوفناک آنکھیں اب بھی چنگاریاں برسا رہی تھیں ۔ دوسری چیخ کے ساتھ ہی برابر والے کمرے کا دروازہ کھلا ایک چیخ پھر سنائی دی جو پہلی سے مختلف تھی ۔ غالباً یہ انہیں نامعلوم آدمیوں میں سے کسی کی چیخ تھی ۔ ”بھوت بھوت !“کپکپاتی ہوئی آواز میں بولا اور پھر ایسا معلوم ہوا جیسے کئی آدمی صدر دروازے کی طرف بھاگ رہے ہوں۔
تھوڑی دیر بعد سناٹا ہوگیا ۔ قبر کا تعویز برابر ہوگیا تھا۔
عمران زمین پر لیٹ کر سینے کے بل رینگتا ہوا صدردروازے کی طرف بڑھا کبھی کبھی وہ پلٹ کر قبر کی طرف بھی دیکھ لیتا تھا لیکن پھر تعویز نہیں اٹھا ۔ صدر دروازہ باہر سے بند ہوچکا تھا ۔ عمران اچھی طرح اطمینان کرلینے کے بعد پھر لوٹ پڑا ۔
لاش والے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا ۔ لیکن اب وہاں اندھیرے کی حکومت تھی ۔ عمران نے آہستہ سے دروازہ بند کرکے ٹارچ نکالی ۔ لیکن روشنی ہوتے ہی ….
”انا اللہ وانا علیہ راجعون“وہ آہستہ سے بڑبڑایا ”خدا تمہاری بھی مغفرت کرے۔“ ٹھیک اسی جگہ جہاں وہ اس سے قبل بھی ایک لاش دیکھ چکا تھا ۔ دوسری پڑی ہوئی دکھائی دی ….اس کی پشت پر بھی تین زخم تھے جن سے خون بہہ بہہ کر فرش پر پھیل رہا تھا۔ عمران نے جھک کر اس دیکھا یہ ایک خوش وضع اورکافی خوبصورت جوان تھا۔ اور لباس سے کسی اونچی سوسائٹی کا فرد معلوم ہوتا تھا ۔
”آج ان کی کل اپنی باری ہے ۔“عمران درویشانہ انداز میں بڑبڑاتا ہوا سیدھا ہوگیا ۔ اس کے ساتھ میں کاغذ کا ایک ٹکڑا تھا جو اس نے مرنے والے کی مٹھی سے بدوقت تمام نکالا تھا۔۔
وہ چند لمحے اسے ٹارچ کی روشنی میں دیکھتارہا ۔ پھرمعنی خیز انداز میں سر ہلا کر کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھ لیا کمرے کے بقیہ حصوں کی حالت بعینہ وہی تھی ۔ جو اس نے پچھلی مرتبہ دیکھی تھی ۔ کوئی خاص فرق نہیں نظر آرہا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ پھر پچھلی دیوار سے نیچے اتر رہاتھا ۔ آخری روشندان پر پیر رکھ کر اس نے چھلانگ لگادی ۔
”تمہاری یہ خصوصیت بھی آ ±ج ہی معلوم ہوئی۔“فیاض آہستہ سے بولا ۔
”کیا اندر کسی بندریا سے ملاقات ہوگئی تھی ۔“ ”آواز پہنچی تھی یہاں تک ۔“عمران نے پوچھا ۔
”ہاں !لیکن میں نے ان اطراف میں بند نہیں دیکھے!“
”ان کے علاوہ کوئی دوسری آواز ؟“ ”ہاں ….شائد تم ڈرکر چیخے تھے۔“فیاض بولا۔
”لاش اسی وقت چاہئے یا صبح !“عمران نے پوچھا۔
”لاش !“فیاض اچھل پڑا۔”کیا کہتے ہو۔ کیسی لاش۔“ ”کسی شاعر نے دوغزلہ عرض کردیا ہے ۔“
”اے دنیا کے عقلمند ترین احمق صاف صاف کہو۔“فیاض جھنجھلا کر بولا۔
”ایک دوسری لاش ….تین زخم….زخموں کا فاصلہ پانچ انچ…. پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق ان کی گہرائی بھی یکساں نکلے گی۔“ ”یار بے وقوف مت بناو ۔“فیاض عاجزی سے بولا۔
”جج صاحب والی کنجی موجود ہے ۔عقلمند بن جاو ۔“عمران نے خشک لہجے میں کہا۔
”لیکن یہ ہوا کس طرح !“ ”اسی طرح جیسے شعر ہوتے ہیں ….لیکن مجھے بھرتی کا معلوم ہوتا ہے جیسے میر کا یہ شعر۔“
میر کے دین و مذہب کو کیا پوچھتے ہو اب اس نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا ”بھلا بتاو دیر میں کیوں بیٹھا جلدی کیوں نہیں بیٹھ گیا ۔“
”دَیر نہیں دِیرہے ۔ یعنی بت خانہ !“فیاض نے کہا پھر بڑبڑاکر بولا۔”لاحول ولا قوة میں بھی اسی لغویت میں پڑ گیا۔وہ لاش عمارت کے کس حصے میں ہے ۔“
”اسی کمرے میں اور ٹھیک اسی جگہ جہاں پہلی لاش ملی تھی ۔“ ”لیکن وہ آوازیں کیسی تھیں ۔“فیاض نے پوچھا۔
”اوہ نہ پوچھو تو بہتر ہے ۔ میں نے اتنا مضحکہ خیز منظر آج تک نہیں دیکھا ۔“
”یعنی ۔“ ”پہلے ایک گدھا دکھائی دیا ۔ جس پر ایک بندریا سوار تھی ….پھر ایک دوسرا سایہ نظر آیا جو یقیناً کسی آدمی کا تھا ۔ اندھیرے میں بھی گدھے اور آدمی میں فرق کیا جاسکتا ہے ۔ کیوں تمہارا کیاخیال ہے“۔
”مجھے افسوس ہے کہ تم ہر وقت غیر سنجیدہ رہتے ہو۔“
”یار فیاض سچ کہنا!اگر تم ایک آدمی کو کسی بندریا کا منہ چومتے دیکھوتو تمہیں غصہ آئے گا یا نہیں ۔“ ”فضول !….وقت برباد کررہے ہو تم ۔“
”اچھا چلو….“عمران اس کا شانہ تھپکتا ہوا بولا۔
وہ دونوں صدر دروازے کی طرف آئے ۔ ”کیوں خواہ مخواہ پریشان کررہے ہو۔“فیاض نے کہا ۔
”کنجی نکالو!“
دروازہ کھول کر دونوں لاش والے کمرے میں آئے ۔عمران نے ٹارچ روشن کی ۔ لیکن وہ دوسرے ہی لمحے میں اس طرح سرسہلا رہا تھا جیسے دماغ پر دفعتاً گرمی چڑھ گئی ہو ۔ لاش غائب تھی۔
”یہ کیا مذاق؟ “فیاض بھنا کر پلٹ پڑا ۔
”ہوں۔بعض عقلمند شاعر بھرتی کے شعر اپنی غزلوں سے نکال بھی دیا کرتے ہیں ۔“ ”یار عمران میں باز آیا تمہاری مدد سے ۔“
”مگر میری جان یہ لو دیکھو….نقش فریادی ہے کسی کی شوخی تحریر کا ….لاش غائب کرنے والے نے ابھی خون کے تازہ دھبوں کا کوئی انتظام نہیں کیا ۔ مرزا افتخار رفیع سودایا کوئی صاحب فرماتے ہیں ۔“
قاتل ہماری لاش کو تشہیر دے ضرور آئندہ تاکہ کوئی نہ کسی سے وفا کرے
فیاض جھک کر فرش پر پھیلے ہوئے خون کو دیکھنے لگا۔
”لیکن لاش کیا ہوئی ۔“وہ گھبرائے ہوئے لہجے میںبولا۔ ”فرشتے اٹھائے گئے ۔ مرنے والا بہشتی تھا ….مگر لاحول ولا ….بہشتی ….سقے کو بھی کہتے ہیں ….اوہوفردوسی تھا ….لیکن فردوسی ….تو محمود غزنوی کی زندگی ہی میں مرگیا تھا ….پھر کیا کہیں گے ….بھئی بولونا۔“
”یار بھیجامت چاٹو۔“
”الجھن ۔ بتاو جلدی ….کیا کہیں گے….سر چکرارہا ہے دورہ پڑجائے گا۔“ ”جنتی کہیں گے….عمران تم سے خد سمجھے ۔“
”جیوئ!….ہاں تو مرنے والا جنتی تھا….اور کیا کہہ رہا تھا میں ….“
”تم یہیں رکے کیوں نہیں رہے۔“فیاض بگڑ کر بولا ۔ ”مجھے آواز دے لی ہوتی “ ”سنویار!بندریا تو کیا میں نے آج تک کسی مکھی کا بھی بوسہ نہیں لیا ۔“عمران مایوسی سے بولا۔
”کیا معاملہ ہے ۔تم کئی بار بندریا کا حوالہ دے چکے ہو۔“
”جو کچھ ابھی تک بتایا ہے بالکل صحیح تھا ….اس آدمی نے گدھے پر سے بندریا اتاری اسے کمرے میں لے گیا ….۔ پھر بندریا دوبارہ چیخی اور وہ آدمی ایک بار ….اس کے بعد سناٹا چھا گیا ….پھر لاش دکھائی دی ۔ گدھا اور بندریا غائب تھے! “
”سچ کہہ رہے ہو ۔ “فیاض بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔
”مجھے جھوٹا سمجھنے والے پر قہر خداوندی کیوں نہیں ٹوٹتا ۔“ فیاض تھوڑی دیر تک خاموش رہا پھر تھوک نگل کر بولا۔
”تت….تو….پھر صبح پررکھو۔“
عمران کی نظریں پھر قبر کی طرف اٹھ گئیں ۔ قبر کا تعویز اٹھا ہوا تھا اور وہی خوفناک آنکھیں اندھیرے میں گھورہی تھیں ۔ عمران نے ٹارچ بجھادی اور فیاض کو دیوار کی اوٹ میں دھکیل لے گیا نہ جانے کیوں وہ چاہتا تھا کہ فیاضَ کی نظر اس پر نہ پڑنے پائے ۔ ”کک کیا ؟“فیاض کانپ کر بولا ۔
”بندریا !“عنران نے کہا ۔
وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا کہ وہی چیخ ایک بار پھر سناٹے میں لہراگئی ۔ ”ارے باپ….“فیاض کسی خوفزدہ بچے کی طرح بولا ۔
”آنکھیں بند کرلو ۔“عمران نے سنجیدگی سے کہا ۔”ایسی چیزوں پر نظر پڑنے سے ہارٹ فیل بھی ہوجایا کرتا ہے ۔ ریوالور لائے ہو۔“
”نہیں ….نہیں ….تم نے بتایا کب تھا۔“ ”خےر کوئی بات نہیں!….اچھا ٹھہرو“عمران آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھتا ہوا بولا ۔ قبر کا تعویز برابر ہوچکا تھا اور سناٹا پہلے سے بھی کچھ زیادہ گہرا معلوم ہونے لگاتھا۔
ایک بج گیا تھا ….فیاض عمران کو اس کی کوٹھی کے قریب اتار کر چلا گیا پائیں باغ کا دروزہ بند ہوچکا تھا !عمران پھاٹک ہلانے لگا ….اونگھتے ہوئے چوکیدار نے ہانک لگائی ۔
”پیارے چوکیدار….میں ہوں تمہارا خادم علی عمران ایم ایس سی پی ایچ ڈی لندن ۔ “ ”کون چھوٹے سرکار۔“چوکیدار پھاٹک کے قریب آکر بولا”حضور مشکل ہے ۔“
”دنیا کا ہر بڑا آدمی کہہ گیا ہے کہ وہ مشکل ہی نہیں جو آسان ہوجائے ۔“
”بڑے سرکار کا حکم ہے کہ پھاٹک نہ کھولا جائے ….اب بتائیے ۔“ ”بڑے سرکار تک کنفیوشس کا پیغام پہنچادو۔“
”جی سرکار !“چوکیدار بوکھلا کر بولا۔
”ان سے کہہ دو کنفیوشس نے کہا ہے کہ تاریک رات میں بھٹکنے والے ایمانداروں کے لئے اپنے دروازے کھول دو۔“ ”مگر بڑے سرکار نے کہا ہے ….“
”ہا….بڑے سرکار….انہیں چین میں پیدا ہونا تھا ۔خیر تم ان تک کنفیوشس کا یہ پیغام ضرور پہنچا دینا ۔“
”میں کیا بتاوں ۔“چوکیدار کپکپاتی ہوئی آواز میںبولا ۔ ”اب آپ کہاں جائیں گے“۔ ”فقیر یہ سہانی رات کسی قبرستان میں بسر کرے گا ۔ “
”میں آپ کے لئے کیاکروں ۔“
”دعائے مغفرت ….اچھا ٹاٹا!“عمران چل پڑا ۔ اور پھر آدھے گھنٹے بعد وہ ٹپ ٹاٹ نائٹ کلب میں داخل ہورہا تھا لیکن دروازے میں قدم رکھتے ہی محکمہ سرغرسانی کہ ایک ڈپٹی ڈائریکٹر سے مڈبھیڑ ہوگئی جو اس کے باپ کا کلاس فیلو بھی رہ چکا تھا ۔
”اوہو! صاحبزادے تو تم اب ادھر بھی دکھائی دینے لگے ہو؟‘
”جی ہاں اکثر فلیش کھیلنے کے لئے چلا آتا ہوں ۔ “عمران نے سرجھکا کر بڑی سعادتمندی سے کہا۔

Read More:  Dil Galti Kr Betha Hai Novel by Huma Waqas – Episode 13

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: