Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 6

0

خوفناک عمارت از ابن صفی قسط نمبر 06

”فلیش !تو کیا اب فلیش بھی….؟“
”جی ہاں ! کبھی کبھی نشے میں دل چاہتا ہے ۔“ ”اوہ….تو شراب بھی پینے لگے ہو۔“
”وہ کیا عرض کروں ….قسم لے لیجئے جو کبھی تنہاپی ہو۔اکثر شرابی طوائفیں بھی مل جاتی ہیں جو پلائے بغیر مانتیں ہی نہیں….!“
”لا حول ولا قوة …. تو تم آج کل رحمن صاحب کا نام اچھال رہے ہو۔“ ”اب آپ ہی فرمائیے !“عمران مایوسی سے بولا ۔”جب کوئی شریف لڑکی نہ ملے تو کیا کیا جائے ….ویسے قسم لے لیجئے ۔ جب کوئی مل جاتی ہے تو میں طوائفوں پرلعنت بھیج کر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں ۔“
”شائدرحمن صاحب کو اس کی اطلاع نہیں….خیر….“
”اگر ان سے ملاقت ہوتو کنفیوشس کا یہ قول دہرادیجئے گا کہ جب کسی ایماندار کو اپنی ہی چھت کے نیچے پناہ نہیں ملتی تو وہ تاریک گلیوں میں بھونکنے والے کتوں سے سازباز کرلیتا ہے ۔ “ ڈپٹی ڈائریکٹر اسے گھوررتاہوا باہر چلا گیا ۔
عمران نے سیٹی بجانے والے انداز میں ہونٹ سکوڑ کر ہال کا جائزہ لیا ….اس کی نظریں ایک میز پر رک گئیں ۔ جہاں ایک خوبصورت عورت اپنے سامنے پورٹ کی بوتل رکھے بیٹھی سگریٹ پی رہی تھی ۔ گلاس آدھے سے زیادہ خالی تھا۔
عمران اس کے قریب پہنچ کر رک گیا ۔ ”کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں لیڈی جہانگیر !“وہ قدرے جھک کر بولا۔
”اوہ تم “لیڈی جہانگیر اپنی داہنی بھوں اٹھا کر بولی ”نہیں ….ہرگز نہیں۔“
”کوئی بات نہیں !“عمران معصومیت سے مسکراکر بولا۔”کنفیوشس نے کہا تھا ….!“ ”مجھے کنفیوشس سے کوئی دلچسپی نہیں ….“وہ جھنجھلا کر بولی ۔
”توڈی ایچ لارنس ہی کا ایک جملہ سن لیجئے۔“
”میںکچھ نہیں سننا چاہتی ….تم یہاں سے ہٹ جاو ۔“لیڈی جہانگیر گلاس اٹھاتی ہوئی بولی۔ ”اوہ اس کا خیال کیجئے کہ آپ میری منگیتر بھی رہ چکی ہیں ….“
”شٹ اپ“۔
”آپ کی مرضی میں تو صرف آپ کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ آج صبح سے موسم بہت خوشگوار تھا ۔ وہ مسکراپڑی ۔
”بیٹھ جاو “اس نے کہا اور ایک ہی سانس میں گلاس خالی کرگئی۔
وہ تھوڑی دیراپنی نشیلی آنکھیں عمران کے چہرے پر جمائے رہی پھر سگریٹ کا ایک طویل کش لے کرآگے جھکتی ہوئی آہستہ سے بولی۔ ”میں اب بھی تمہاری ہوں۔“
”مگر ….سر جہانگیر!“عمران گھبراکر کھڑا ہوگیا ۔
لیڈی جہانگیر ہنس پڑی ۔ ”تمہاری حماقتیں بڑی پیاری ہوتی ہیں ۔ “وہ اپنی بائیں آنکھ دباکر بولی اور عمران نے شرماکر سرجھکا لیا ۔
”کیا پیو گے !“لیڈی جہانگیر نے تھوڑی دیر بعد پوچھا ۔
”دہی کی لسی۔“ ”دہی کی لسی!….ہی….ہی….ہی….ہی….شائد تم نشے میں ہو!“
”ٹھہرئیے !“عمران بوکھلا کر بولا۔”میں ایک بجے کے بعد صرف کافی پیتاہوں ….چھ بجے شام سے بارہ بجے رات تک رم پیتا ہوں ۔“
”رم “!لیڈی جہانگیر منہ سکوڑ کر بولی۔”تم اپنے ٹیسٹ کے آدمی نہیں معلوم ہوتے رم تو صرف گنوارپیتے ہیں ۔“ ”نشے میں یہ بھول جاتا ہوں کہ میں گنوارنہیں ہوں۔“
”تم آج کل کیا کررہے ہو۔“
”صبر!“عمران نے طویل سانس لے کر کہا ۔ ”تم زندگی کے کسی حصے میں بھی سنجیدہ نہیں ہوسکتے ۔ “لیڈی جہانگیر مسکراکربولی۔
”اوہ آپ بھی یہی سمجھتی ہیں ۔“عمران کی آواز حددرجہ دردناک ہوگئی ۔
”آخر مجھ میں کون سے کیڑے پڑے ہوئے تھے کہ تم نے شادی سے انکار کردیاتھا ۔“لیڈی جہانگیر نے کہا ۔ ”میں نے کب انکار کیا تھا ۔“عمران رونی صورت بناکر بولا۔ ”میں نے تو آپ کے والد صاحب کو صرف دو تین شعر سنائے تھے ….مجھے کیا معلوم تھا کہ انہیں شعر و شاعری سے دلچسپی نہیں۔ ورنہ میں نثر میں گفتگو کرتا۔“
”والد صاحب کی رائے ہے کہ تم پر لے سرے کے احمق اور بدتمیز ہو ۔ “لیڈی جہانگیر نے کہا ۔
”اور چونکہ سرجہانگیر ان کے ہم عمر ہیں ….لہٰذا ….“ ”شٹ اپ ۔“لیڈی جہانگیر بھناکر بولی۔
”بہر حال میں یونہی آپ آپ کر مرجاوں گا ۔“عمران کی آواز پھر دردناک ہوگئی ۔
لیڈی جہانگیر بغوراس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ ”کیا واقعی تمہیں افسوس ہے ۔“اس نے آہستہ سے پوچھا ۔
”کیا تم پوچھ رہی ہو ؟….اور وہ بھی اس طرح جیسے تمہیں میرے بیان پرشبہ ہو ۔ “عمران کی آنکھوں میں نہ صرف آنسو چھلک آئے بلکہ بہنے بھی لگے۔
”ارر….نومائی ڈیئر ….عمران ڈارلنگ کیا کررہے ہوتم !“لیڈی جہانگیر نے اس کی طرف اپنا رومال بڑھایا ۔ ”میں اسی غم میں مرجاوں گا “وہ آنسو خشک کرتا ہوا بولا۔
”نہیں تمہیں شادی کرلینی چاہیے ۔ “لیڈی جہانگیر نے کہا ۔”اور میں ….میں تو ہمیشہ تمہاری ہی رہوں گی ۔“وہ دوسرا گلاس لبریز کررہی تھی ۔
”سب یہی کہتے ہیں ….کئی جگہ سے رشتے بھی آچکے ہیں ….کئی دن ہوئے جسٹس فاروق کی لڑکی کا رشتہ آیا تھا ….گھروالوں نے انکار کردیا ۔ لیکن مجھے وہ رشتہ کچھ کچھ پسند ہے ۔“ ”پسند ہے۔ لیڈی جہانگیر حیرت سے بولی ۔تم نے ان کی لڑکی کو دیکھا ہے ۔“
”ہاں !….وہی نا ریٹاہیورتھ اسٹائل کے بال بناتی ہے اور عموماً تاریک چشمہ لگاتے رہتی ہے ۔“
”جانتے ہو وہ تاریک چشمہ کیوں لگاتی ہے !“لیڈی جہانگیر نے پوچھا ۔ ”نہیں ! ….لیکن اچھی لگتی ہے ۔“
لیڈی جہانگیر نے قہقہ لگایا ۔
”وہ اس لئے تاریک چشمہ لگاتی ہے کہ اس کی ایک آنکھ غائب ہے ۔“ ”بائیں ….“عمران اچھل پڑا۔
”اور غالباً اسی بناءپر تمہارے گھر والوں نے یہ رشتہ منظور نہیں کیا ۔“
”تم اسے جانتی ہو !“عمران نے پوچھا ! ”اچھی طرح سے ! اور آج کل میںاسے بہت خوبصورت آدمی کے ساتھ دیکھتی ہوں ۔ غالباً وہ بھی تمہاری ہی طرح احمق ہوگا ۔“
”کون ہے وہ میں اس کی گردن توڑ دوں گا ۔ “عمران بھپر کربولا۔ پھر اچانک چونک کر خود ہی بڑبڑانے لگا ۔”لا حول ولا قوة ….بھلا مجھ سے کیا مطلب !“
”بڑی حیرت انگیز بات ہے کہ انتہائی خوبصورت نوجوان ایک کانی لڑکی سے شادی کرے ۔“ ”واقعی وہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہوگا۔ “ عمران نے کہا۔ ”کیا میں اسے جانتا ہوں ۔“
”پتہ نہیں ! کم ازکم میں تو نہیں جانتی ۔ اور جسے میں نہ جانتی ہوں وہ اس شہر کے کسی اعلیٰ خاندان کا فرد نہیں ہوسکتا ۔
”کب سے دیکھ رہی ہو اسے۔“ ”یہی کوئی پندرہ بیس دن سے۔“
”کیا وہ یہاں بھی آتے ہیں ۔“
”نہیں ….میں نے انہیں کیفے کا مینو میں اکثر دیکھا ہے ۔“ ”مرزا غالب نے ٹھیک ہی کہا ہے ۔“
نالہ سرمایہ یک عالم و عالم کف خاک
آسمان بیضہ قمری نظر آتا ہے مجھے ”مطلب کیا ہوا ۔“لیڈی جہانگیر نے پوچھا۔
”پتہ نہیں !“عمران نے بڑی معصومیت سے کہا اور پرخیال انداز میں میز پر طبلہ بجانے لگا ۔
”صبح تک بارش ضرور ہوگی ۔ “لیڈی جہانگیر انگڑائی لے کر بولی ۔ ”سر جہانگیر آج کل نظر نہیں آتے ۔“عمران نے کہا ۔
”ایک ماہ کے لئے باہر گئے ہوئے ہیں ۔“
”گڈ “عمران مسکرا کر بولا۔ ”کیوں ۔“لیڈی جہانگیر اسے معنی خیز نظروں سے دیکھنے لگی ۔
”کچھ نہیں ۔ کنفیوشس نے کہا ہے ….“
”مت بور کرو ۔“لیڈی جہانگیر چڑ کر بولی ۔ ”ویسے ہی ….بائی دی وے ….کیا تمہارا رات بھر کا پروگرام ہے ۔“
”نہیں ایسا تو نہیں ….کیوں ؟“
”میں کہیں تنہائی میں بیٹھ کر رونا چاہتا ہوں ۔“ ”تم بالکل گدھے ہو بلکہ گدھے سے بھی بدتر ۔
”میں بھی یہی محسوس کرتا ہوں ….کیا تم مجھے اپنی چھت کے نیچے رونے کا موقع دوگی ۔“کنفیوشس نے کہا ہے ۔
”عمران ….پلیز ….شٹ اپ۔“ ”لیڈی جہانگیر میں ایک لنڈورے مرغ کی طرح اداس ہوں ۔“
”چلو اٹھو! لیکن اپنے کنفیوشس کو یہیں چھوڑ چلو۔ بوریت مجھ سے برداشت نہیں ہوتی ۔“
تقریباً آدھ گھنٹے بعد عمران لیڈی جہانگیر کی خواب گاہ میں کھڑا اسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا ! لیڈی جہانگیر کے جسم پر صرف شب خوابی کا لباوہ تھا ۔ وہ انگڑائی لے کر مسکرانے لگی ۔ ”کیا سوچ رہے ہو۔ “اس نے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا ۔
”میں سوچ رہا تھا کہ آخر کسی مثلث کے تینوں زادیوں کا مجموعہ دو زاویہ قائمہ کے برابر کیوں ہوتا ہے ۔“
”پھر بکواس شروع کردی تم نے ۔“لیڈی جہانگیر کی نشیلی آنکھوں میں جھلاہٹ جھانکنے لگی ۔ ”مائی ڈیئرلیڈی جہانگیر اگر میں یہ ثابت کردوں کہ زاویہ قائمہ کوئی چیز ہی نہیں ہے تو دنیا کا بہت بڑا آدمی ہوسکتا ہوں ۔“
”جہنم میں جاسکتے ہو!“لیڈی جہانگیر براسامنہ بناکر بڑبڑائی ۔
”جہنم ! کیا تمہیں جہنم پر یقین ہے ۔“ ”عمران میں تمہیں دھکے دے کر نکال دوں گی ۔“
”لیڈی جہانگیر ! مجھے نیند آرہی ہے ۔“
”سر جہانگیر کی خواب گاہ میں ان کا سلیپنگ سوٹ ہوگا ….پہن لو ۔“
”شکریہ !….خواب گاہ کدھر ہے ۔“
”سامنے والا کمرہ!“لیڈی جہانگیر نے کہا اور بے چینی سے ٹہلنے لگی۔
”عمران نے سرجہانگیر کی خواب گاہ میں گھس کر اندر سے دروازہ بند کرلیا لیڈی جہانگیر ٹہلتی رہی ! دس منٹ گزر گئے ! آخر وہ جھنجھلا کر سرجہانگیر کی خواب گاہ کے دروازے پر آئی دھکا دیا ۔ لیکن اندر سے چٹخنی چڑھا دی گئی تھی ۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: