Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 7

0

خوفناک عمارت از ابن صفی قسط نمبر 07

”کیا کرنے لگے عمران ؟“اس نے دروازہ تھپتھپانا شروع کردیا ۔ لیکن جواب نہ ملا پھر اسے ایسا محسوس ہوا جیسے عمران خراٹے بھر رہا ہو اس نے دروازے سے کان لگادئیے ۔ حیقتاً وہ خراٹوں ہی کی آواز تھی ۔
پھر دوسرے لمحے میں وہ ایک کرسی پر کھڑی ہوکر دروازے کے اوپری شیشہ سے کمرے کے اندر جھانک رہی تھی ۔ اس نے دیکھا کہ عمران کپڑے جوتوں سمیت سرجہانگیر کے پلنگ پر خراٹے لے رہا ہے اور اس نے بجلی بھی نہیں بجھائی تھی ۔ وہ اپنے ہونٹوں کو دائرہ کی شکل میں سکوڑے عمران کو کسی بھوکی بلی کی طرح گھور رہی تھی ۔ پھر اس نے ہاتھ مار کر دروازے کا ایک شیشہ توڑ دیا ….نوکر شاگرد پیشے میں سوئے ہوئے تھے ۔ ورنہ شیشے کے چھناکے ان میں سے ایک آدھ کو ضرور جگادیتے ویسے یہ اور بات ہے کہ عمران کی نیند پر ان کاذرہ بھر اثر نہ پڑا ہو۔ لیڈی جہانگیر نے اندر ہاتھ ڈال کر چٹخنی نیچے گرادی ! نشے میں تو تھی ہی ! جسم کا پورا زوردروازے پر دے رکھا تھا !چٹخنی گرتے ہی دونوں پٹ کھل گئے اور وہ کرسی سمیت خواب گاہمیں جاگری….
عمران نے غنودہ آواز میں کر اہ کر کروٹ بدلی اور بڑبڑانے لگا ….”ہاں ہاں سنتھیلک گیس کی بوکچھ میٹھی میٹھی ہی ہوتی ہے ….؟“
پتہ نہیںوہ جاگ رہا تھا یا خواب میں بڑبڑایا تھا ۔ لیڈی جہانگیر فرش پر بیٹھ اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیر کربسوررہی تھی ! دو تین منٹ بعد وہ اٹھی اور عمران پر ٹوٹ پڑی ۔
”سور کمینے ….یہ تمہارے باپ کا گھر ہے ؟….اٹھو….نکلو یہاں سے ۔“وہ اسے بری طرح جھنجھوڑ رہی تھی ۔ عمران بوکھلا کر اٹھ بیٹھا ۔
”ہائیں !کیا سب بھاگ گئے “ ”دور ہوجاویہاں سے ۔“لیڈی جہانگیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا مارا ۔
”ہاں ۔ہاں ….سب ٹھیک ہے !“عمران اپنا گریبان چھڑا کر پھر لیٹ گیا ۔
اس بار لیڈی جہانگیر نے بالوں سے پکڑ کر اسے اٹھایا ۔ ”ہائیں ….کیا ابھی نہیں کیا !“عمران جھلا کر اٹھ بیٹھا ۔ سامنے ہی قد آدم آئینہ رکھا ہوا تھا ۔
”اوہ تو آپ ہیں ۔“وہ آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر بولا….پھر اس طرح مکابنا کراٹھا جیسے اس پر حملے کرے گا ….اس طرح آہستہ آہستہ آئینے کی طرف بڑھ رہا تھا جیسے کسی دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہو۔ پھر اچانک سامنے سے ہٹ کرایک کنارے پر چلنے لگا آئینے کے قریب پہنچ کر دیوارسے لگ کر کھڑا ہوگیا ….لیڈی جہانگیر کی طرف دیکھ اس طرح ہونٹوں پرانگلی رکھ لی جیسے وہ آئینے کے قریب نہیں بلکہ کسی دروازہ سے لگا کھڑا ہو اور اس بات کا منتظر ہوکہ جیسے ہی دشمن دروازے میںقدم رکھے گا وہ اس پر حملہ کربیٹھے گا ۔ لیڈی جہانگیر حیرت سے آنکھیں پھاڑے اس کی یہ حرکت دیکھ رہی تھی ….لیکن اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتی عمران نے پینترہ بدل کر آئینہ پر ایک گھونسہ رسید ہی کردیا ….ہاتھ میں جو چوٹ لگی تو ایسا معلوم ہوا جیسے وہ یک بیک ہوش میں آگیا ہو۔
”لاحول ولا قوة ۔“وہ آنکھیں ملا کر بولا اور کھسیانی ہنسی ہنسنے لگا! اور پھر لیڈی جہانگیر کو بھی ہنسی آگئی ….لیکن وہ جلد ہی سنجیدہ ہوگئی ۔
”تم یہاں کیوں آئے تھے ؟“
”اوہ!میں شائد بھول گیا….شائد اداس تھا ….لیڈی جہانگیر تم بہت اچھی ہو! میں رونا چاہتا ہوں۔ ”اپنے باپ کی قبر پر رونا ….نکل جاویہاں سے !“
”لیڈی جہانگیر ….کنفیوشس….!“
”شٹ اپ !“لیڈی جہانگیر اتنے زور سے چیخی کہ اس کی آواز بھراگئی۔ ”بہت بہتر!“عمران سعادت مندانہ اندازمیں سرہلاکر بولا !گویا لیڈی جہانگیر نے بہت سنجیدگی اور نرمی سے اسے کوئی نصیحت کی تھی ۔
”یہاں سے چلے جاو!“
”بہت اچھا ۔“عمران نے کہا اور اس کمرے سے لیڈی جہانگیر کی خواب گاہ میں چلا آیا ۔ وہ اس کی مسہری پر بیٹھنے ہی جارہا تھا کہ لیڈی جہانگیر طوفان کی طرح اس کے سرپر پہنچ گئی ۔
”اب مجبوراً مجھے نوکروں کو جگانا پڑے گا ؟“اس نے کہا ۔
”اوہو تم کہاں تکلیف کروگی ۔ میں جگائے دیتا ہوں ۔ کوئی خاص کام ہے کیا ۔“ ”عمران میں تمہیں مارڈالوں گی ؟“لیڈی جہانگیر دانت پیس کر بولی ۔
”مگر کسی سے اس کا تذکرہ مت کرنا ورنہ پولیس ….خیر میں مرنے کے لئے تیارہوں ؟اگر چھری تیز نہ ہوتو تیز کردوں ! ریوالور سے مارنے کا ارادہ ہے تو میں اس کی رائے نہ دوں گا !سناٹے میں آواز دور تک پھیلتی ہے ۔البتہ زہر ٹھیک رہے گا ۔“
”عمران خدا کے لئے !“لیڈی جہانگیر بے بسی سے بولی ۔ ”خدا کیا میں اس کے اونے غلاموں کے لےءبھی اپنی جان قربان کرسکتا ہوں ….جو مزاج یار میں آئے ۔“
”تم چاہتے کیا ہو !“لیڈی جہانگیر نے پوچھا ۔
”دو چیزوں میں سے ایک ….“ ”کیا ؟“
”موت یا صرف دو گھنٹے کی نیند!“
”کیا تم گدھے ہو۔“ ”مجھ سے پوچھتیں تو میں پہلے ہی بتادیتا کہ بالکل گدھا ہوں ۔“
”جہنم میں جاو “لیڈی جہانگیر کی خواب گاہ میںچلی گئی عمران نے اٹھ کر اندر سے دروازہ بند کیا جوتے اتارے اور کپڑوں سمیت بستر میں گھس گیا ۔
یہ سوچنا قطعی غلط ہوگا۔ عمران کے قدم یونہی بلامقصد ٹپ ٹاپ نائٹ کلب کی طرف اٹھ گئے تھے ۔ اسے پہلے ہی سے اطلاع تھی کہ سرجہانگیر آج کل شہر میں مقیم نہیں ہے اور وہ یہ بھی جانتا تھاکہ ایسے مواقع پرلیڈی جہانگیر اپنی راتیں کہاں گزارتی ہے ۔ یہ بھی حقیقت تھی کہ لیڈی جہانگیر کسی زمانے میں اس کی منگیتر رہ چکی تھی اور خود عمران کی حماقتوں کے نتیجے میں یہ شادی نہ ہوسکی ۔ سرجہانگیر کی عمر تقریباً ساٹھ سال ضرور ہی ہوگی لیکن قویٰ کی مضبوطی کی بناءپر بہت زیادہ بوڑھا نہیں معلوم ہوتا تھا ….!
عمران دم سادھے لیٹا رہا….آدھ گھنٹہ گزر گیا ! ….اس نے کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی دیکھی اور پھر اٹھ کر خواب گاہ کی روشنی بند کردی۔
پنجوں کے بل چلتا ہواسر جہانگیر کی خواب گاہ کے دروازے پر آیا جو اندر سے بند تھا اندر گہری نیلی روشنی تھی ! عمران نے دروازے کے شیشے سے اندر جھانکا لیڈی جہاگیر مسہری پر اوندھی پڑی بے خبر سورہی تھی اور اس کے ماتھے سے فاکس لیریئر کا سراس کی کمر پر رکھا ہواتھا اور وہ بھی سوررہاتھا ۔ عمران پہلے کی طرح احتیاط سے چلتا ہوا سر جہانگیر کی لائبریری میں داخل ہوا ۔
یہاں اندھیرا تھا! عمران نے جیب سے ٹارچ نکال کر روشن کی یہ ایک کافی طویل و عریض کمرہ تھا چاروںطرف بڑی بڑی الماریاں تھیں اور درمیان میں تین لمبی لمبی میزیں !بہر حال یہ ایک ذاتی اور نجی لائبریری سے زیادہ ایک پبلک ریڈنگ روم معلوم ہورہا تھا ۔
مشرقی سرے پر ایک لکھنے کی بھی میز تھی ۔ عمران سیدھا اسی کی طرف گیا جیب سے وہ پرچہ نکالا جو اسے اس خوفناک عمارت میں پراسرار طریقے پر مرنے والے کے پاس ملا تھا وہ اسے بغور دیکھتا رہا پھر میز پہ رکھے ہوئے کاغذات الٹنے پلٹنے لگا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے ایک رائننگ پیڈ کے لیٹرہیڈ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں دبے ہوئے کاغذ کے سرنامے اور اس میں کوئی فرق نہ تھا ۔ دونوں پر یکساں قسم کے نشانات تھے اور یہ نشانات سرجہانگیر کے آباو اجداد کے کارناموں کی یاد گا ر تھے جوانہوں نے مغلیہ دور حکومت میں سرانجام دیئے تھے سر جہانگیر ان نشانات کو اب تک استعمال کررہا تھا ! اس کے کاغذات پر اس کے نام کی بجائے عموماً یہی نشانات چھپے ہوئے تھے ۔
عمران نے میز پر رکھے کاغذات کو پہلی ہی ترتیب میں رکھ دیا اور چپ چاپ لائبریری سے نکل آیا ۔ لیڈی جہانگیر کے بیان کے مطابق سر جہانگیر ایک ماہ سے غائب تھے ….تو پھر!
عمران کا ذہن چوکڑیاں بھرنے لگا!….آخر ان معاملات سے جہانگیر کا کیاتعلق خواب گاہ میں واپس آنے سے پہلے اس نے ایک بار پھر اس کمرے میں جھانکا جہاں لیڈی جہانگیر سورہی تھی ….اور مسکراتا ہوا اس کمرے میں چلا آیا جہاں اسے خود سونا تھا ۔ صبح نو بجے لیڈی جہانگیر اسے بری طرح جھنجوڑ جھنجوڑ کرجگا رہی تھی ۔
”وےل ڈن ! وےل ڈن ۔“عمران ہڑبڑاکر اٹھ بیٹھا اور مسہری پر اکڑوں بیٹھ کر اس طرح تالی بجانے لگا جیسے کسی کھیل کے میدان میں بیٹھا ہوا کھلاڑیوں کو داددے رہا ہو!۔
”یہ کیا بے ہودگی !“لیڈی جہانگیر جھنجھلا کر بولی ۔ ”اوہ !ساری !“وہ چونک کر لیڈی جہانگیر کو متحیرانہ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا ۔
”ہےلو!لیڈی ….جہانگیر !فرمائیے صبح ہی صبح کیسے تکلیف کی۔“
”تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ؟“لیڈی جہانگیر نے تیز لہجے میں کہا ۔ ”ہوسکتا ہے !“عمران نے براسامنہ بنا کر کہا ۔ اور اپنے نوکروں کے نام لے لے کر انہیں پکارنے لگا ۔
لیڈی جہانگیر اسے چند لمحے گھورتی رہی پھر بولی۔
”براہ کرم اب تم یہاں سے چلے جاو ۔ورنہ ….“ ”ہائیں تم مجھے میرے گھر سے نکالنے والی کون ہو؟“عمران اچھل کر کھڑا ہوگیا ۔
”یہ تمہارے باپ کا گھر ہے ؟“لیڈی جہانگیر کی آواز بلند ہوگئی ۔
عمران چاروں طرف حیرانی سے دیکھنے لگا ۔ اس طرح اچھلا جیسے اچانک سر پر کوئی چیز گری ہو۔ ”ارے میں کہاں ہوں!کمرہ تو میرا نہیں معلوم ہوتا“۔
”اب جاو ۔ ورنہ مجھے نوکروں کو بلاناپڑے گا ۔“
”نوکروں کو بلا کر کیاکروگی ؟ میرے لائق کوئی خدمت ! ویسے تم غصے میں بہت حسین لگتی ہو۔“ ”شٹ اپ “
”اچھا کچھ نہیںکروں گا !“عمران بسور کر بولا اور پھر مسہری پربیٹھ گیا ۔
لیڈی جہانگیر اسے کھاجانے والی نظروں سے گھورتی رہی ۔ اس کی سانس پھول رہی تھی اور چہرہ سرخ ہوگیا تھا ۔ عمران نے جوتے پہنے ۔ کھونٹی سے کوٹ اتارا اور پھر بڑے اطمینان سے لیڈی جہانگیر کی سنگھار میز پر جم گیا اور پھر اپنے بال درست کرتے وقت اس طرح گنگنا رہا تھا جیسے سچ مچ اپنے کمرے ہی میں بیٹھا ہو۔ لیڈی جہانگیر دانت پیس رہی تھی لیکن ساتھ ہی بے بسی کی ساری علامتیں بھی اس کے چہرے پرامنڈآئی تھیں ۔ ”ٹاٹا!“عمران دروازے کے قریب پہنچ کرمڑا اور احمقوں کی طرح مسکراتا ہوا باہر نکل گیا اس کا ذہن اس وقت بالکل صاف ہوگیا تھا پچھلی رات کے معلومات ہی اس کی تشفی کے لئے کافی تھیں ۔سر جہانگیر کے لیٹر ہیڈ کا پراسرار طور پر مرے ہوئے آدمی کے ہاتھ میں پایا جانا اسپر دلالت کرتا تھا کہ اس معاملہ سے سر جہانگیر کا کچھ نہ کچھ تعلق ضرور ہے !۔اور شائد سر جہانگیر شہر ہی میں موجود تھا !ہوسکتا ہے کہ لیڈی جہانگیر اس سے لاعلم رہی ہو۔
اب عمران کو اس خوش رو آدمی کی فکر تھی ۔ جسے ان دنوں جج صاحب کی لڑکی کے ساتھ دیکھاجارہا تھا ۔
”دیکھ لیا جائے گا !“ وہ آہستہ سے بڑبڑایا ۔ اس کا ارادہ تو نہیں تھا کہ گھر کی طرف جائے مگر جانا ہی پڑا ۔ گھر گئے بغیر موٹر سائیکل کس طرح ملتی اسے یہ بھی تو معلوم کرنا تھا کہ وہ” خوفناک عمارت“ دراصل تھی کسی کی ؟اگر اس کا مالک گاوں والوں کے لئے اجنبی تھا تو ظاہر ہے کہ اس نے بھی اسے کسی سے خریدا ہی ہوگا۔
گھر پہنچ کر عمران کی شامت نے اسے پکارا ۔ بڑی بی شائد پہلے ہی سے بھری بیٹھی تھیں ۔عمران کی صورت دیکھتے ہی آگ بگولہ ہوگئیں !
”کہاں تھے رے….کمینے سور!“ ”اوہو !اماں بی۔ گڈ مار ننگ ….ڈیئر سٹ!“
”مارننگ کے بچے میں پوچھتی ہوں رات کہاں تھا ۔“
”وہ اماں بی کیا بتاوں ۔ وہ حضرت مولانا….بلکہ مرشدی و مولائی سید ناجگر مراد آبادی ہیں نا ….لاحول ولا قوة ….مطلب یہ کہ مولوی تفضل حسین قبلہ کی خدمت میں رات حاضر تھا ! اللہ اللہ ….کیا بزرگ ہیں ….اماں بی ….بس یہ سمجھ لیجئے کہ میں آج سے نماز شروع کردوں گا ۔“ ”ارے ….کمینے….کتے ….تو مجھے بے وقوف بنارہا ہے ۔ “بڑی بی جھنجھلائی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں ۔
”ارے توبہ اماں بی !“عمران زور سے اپنا منہ پیٹنے لگا ۔ ”آپ کے قدموں کے نیچے میری جنت ہے ۔“
اور پھر ثریا کو آتے دیکھ کر عمران نے جلد سے جلد وہاں سے کھسک جانا چاہا !بڑی بی برابربڑبڑائے جارہی تھیں ۔ ”اماں بی !آپ خواہ مخواہ اپنی طبیعت خراب کررہی ہیں !دماغ میں خشکی بڑھ جائے گی ۔ “ثریا نے آتے ہی کہا ۔”اور یہ بھائی جان ! ان کو تو خدا کے حوالے کیجئے ۔“
عمران کچھ نہ بولا !اماں بی کو بڑبڑاتا چھوڑ کر تو نہیں جاسکتا تھا ؟
”شرم تو نہیں آتی ۔ باپ کی پگڑی اچھالتے پھررہے ہیں ۔ “ ثریا نے اماں بی کے کسی مصرعہ پر گرہ لگائی! ”ہائیں تو کیا ابا جان نے پگڑی باندھنی شروع کردی ۔ “ عمران پرمسرت لہجے میں چیخا ۔
اماں بی اختلاج کی مریض تھیں ۔ اعصاب بھی کمزور تھے لہٰذا انہیں غصہ آگیا ایسی حالت میں ہمیشہ ان کا ہاتھ جوتی کی طرف جاتا تھا ۔
عمران اطمینان سے زمین پر بیٹھ گیا ….اور پھر تڑاتڑا کی آواز کے علاوہ اور کچھ نہیں سن سکا ۔ اماںبی جب اسے جی بھر کے پیٹ چکیں تو انہوں نے رونا شروع کردیا !….ثریا انہیں دوسرے کمرے میں گھسیٹ لے گئی ….عمران کی چچا زاد بہنوں نے اسے گھیر لیا ۔ کوئی اس کے کوٹ سے گر د جھاڑ رہی تھی اور کوئی ٹائی کی گر ہ درست کررہی تھی ۔ ایک نے سر پر چمپی شروع کردی ۔ عمران نے جیب سے سگریٹ نکال کر سلگائی اور اس طرح گھڑارہا جیسے وہ بالکل تنہا ہو ۔ دو چار کش لے کر اس نے اپنے کمرے کی راہ لی اور اس کی چچا زاد بہنیں زرینہ اور صوفیہ ایک دوسرے کا منہ ہی دیکھتی رہ گئیں ۔ عمران نے کمرے میں آکر فلٹ ہیٹ ایک طرف اچھال دی ۔ کوٹ مسہری پر پھینکا اور ایک آرام کرسی پر گرکر اونگھنے لگا ۔
رات والا کاغذ اب بھی اس کے ہاتھ میں دبا ہوا تھا ! س پر کچھ ہند سے لکھے ہوئے تھے ۔ کچھ پیمائش تھیں ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی بڑھئی نے کوئی چیز گھڑنے سے پہلے اس کے مختلف حصوں کی تناسب کا اندازہ لگایا ہو!بظاہر اس کاغذ کے ٹکڑے کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔ لیکن اس کاتعلق ایک نامعلوم لاش سے تھا۔ایسے آدمی کی لاش سے جس کاقتل بڑے پراسرار حالات میں ہوا تھا ۔ اور ان حالات میں یہ دوسرا قتل تھا !
عمران کو اس سلسلے میں پولیس یا محکمہ سراغرسانی کی مشغولیات کاکوئی علم نہیں تھا !اس نے فیاض سے یہ بھی معلوم کرنے ی زحمت گوارہ نہیں کی تھی ۔ کہ پولیس نے ان حادثات کے متعلق کیا رائے قائم کی ہے ۔ عمران نے کاغذ کا ٹکڑا اپنے سوٹ کیس میں ڈال دیا اور دوسرا سوٹ پہن کر دوبارہ باہر جانے کے لئے تیار ہوگیا ۔
تھوڑی دیر بعد اس کی موٹر سائیکل اسی قصبہ کی طرف جارہی تھی ۔ جہاں وہ ”خوفناک عمارت“ واقع تھی قصبے میں پہنچ کر اس بات کا پتہ لگانے میں دشواری نہ ہوئی کہ وہ عمارت پہلے کس کی ملکیت تھی ۔ عمران اس خاندان کے ایک ذمہ دار آدمی سے ملا جس نے عمارت جج صاحب کے ہاتھ فروخت کی تھی ۔
”اب سے آٹھ سال پہلے کی بات ہے ۔“اس نے بتایا ”ایاز صاحب نے وہ عمارت ہم سے خریدی تھی ۔ اس کے بعد مرنے سے پہلے وہ اسے شہر کے کسی جج صاحب کے نام قانونی طور پر منتقل کرگئے ۔“ ”ایاز صاحب کون تھے ۔ پہلے کہاں رہتے تھے ۔“عمران نے سوال کیا ۔
”ہمیں کچھ نہیں معلوم ۔ عمارت خریدنے کے بعد تین سال تک زندہ رہے لیکن کسی کو کچھ نہ معلوم ہوسکا کہ وہ کون تھے اور پہلے کہاں رہتے ًتھے ان کے ساتھ ایک نوکر تھا جو اب بھی عمارت کے سامنے ایک حصے میں مقیم ہے ۔“
”یعنی قبر کا وہ مجاور!“عمران نے کہا اور بوڑھے آدمی نے اثبات میں سر ہلادیا وہ تھوڑی دیر تک کچھ سوچتا رہا پھر بولا۔ ”وہ قبر بھی ایاز صاحب ہی نے دریافت کی تھی ۔ ہمارے خاندان والوں کو تو اس کا علم نہیں تھا۔ وہاں پہلے کبھی کوئی قبر نہیں تھی ۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے بھی اس کے بارے میں کچھ نہیںسنا۔“
”اوہ !“عمران گھورتا ہوا بولا۔ ”بھلا قبر کس طرح دریافت ہوئی تھی ۔“
”انہوں نے خواب میںدیکھا تھا کہ اس جگہ کوئی شہید مرد دفن ہیں ۔ دوسرے ہی دن قبر بنانی شروع کردی ۔“ ”خود ہی بنانی شروع کردی ۔ “عمران نے حیرت سے پوچھا ۔
”جی ہاں وہ اپنا سارا کام خود ہی کرتے تھے ۔ کافی دولت مند بھی تھے ! لیکن انہیں کنجوس نہیں کہا جاسکتا کیونکہ وہ دل کھول کرخیرات کرتے تھے ۔“
”جس کمرے میں لاش ملی تھی اس کی دیواروں پر پلاسٹر ہے ۔ لیکن دوسرے کمروں میں نہیں ۔ اس کی وجہ ہے“۔
”پلاسٹر بھی ایاز صاحب ہی نے کیا تھا ۔“
”خود ہی ۔“
”جی ہاں!“

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: