Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 8

0

خوفناک عمارت از ابن صفی قسط نمبر 08

”اس پر یہاں قصبے میں تو بڑی چہ میگوئیاں ہوئی ہوں گی ۔“
”قطعی نہیں جناب!….اب بھی یہاں لوگوں کا یہی خیال ہے کہ ایاز صاحب کوئی پہنچے ہوئے بزرگ تھے اور میرا خیال ہے کہ ان کا نوکر بھی ….بزرگی سے خالی نہیں ۔“ ”کبھی ایسے لوگ بھی ایاز صاحب سے ملنے کے لئے آئے تھے جو یہاں والوں کے لئے اجنبی رہے ہوں۔“
”جی نہیں ….مجھے تو یاد نہیں ۔ میراخیال ہے کہ ان سے کبھی کوئی ملنے کے لئے نہیں آیا ۔“
”اچھا بہت بہت شکریہ !“عمران بوڑھے سے مصافحہ کرکے اپنی موٹر سائیکل کی طرف بڑھ گیا ۔ اب وہ اسی عمارت کی طرف جارہا تھا اوراس کے ذہن میں بیک وقت کئی خیال تھے !ایاز نے وہ قبر خود ہی بنائی تھی اورکمرے میں پلاسٹر بھی خود ہی کیا تھا ۔ کیاوہ ایک اچھا معمار بھی تھا ؟قبر وہاں پہلے نہیں تھی ۔ وہ ایاز ہی کی دریافت تھی ۔ اس کا نوکر آ ± بھی قبر سے چمٹا ہوا ہے ۔ آخر کیوں؟اسی ایک کمرے میں پلاسٹر کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔
عمران عمارت کے قریب پہنچ گیا ۔ بیرونی بیٹھک جس مین قبر کا مجاور رہتا تھا کھلی ہوئی تھی اور وہ خود بھی موجود تھا۔عمران نے اس پر ایک چٹتی سی نظر ڈالی ۔ یہ متوسط عمر کا ایک قومی ہیکل آدمی تھا چہرے پر گھنی داڑھی اور آنکھیں سرخ تھیں ۔ شائد وہ ہمیشہ ایسی ہی رہتی تھیں۔
عمران نے دو تین بار جلدی جلدی پلکیں جھپکائیں اور پھر اس کے چہرے پر اس پرانے احمق پن کے آثار بھر آئے ۔ ”کیا بات ہے ۔“اسے دیکھتے ہی نوکر نے للکارا ۔
”مجھے آپ کی دعاسے نوکری مل گئی ہے ۔“عمران سعادت مندانہ لہجے میں بولا ۔”سوچا کچھ آپ کی خدمت کرتا چلوں ۔“
”بھاگ جاو ۔“قبر کا مجاور سرخ سرخ آنکھیں نکالنے لگا ۔ ”اب اتنا نہ تڑپائیے !“عمران ہاتھ جوڑ کر بولا۔”بس آخری درخواست کروں گا ۔“
”کون ہو تم ….کیا چاہتے ہو ۔“مجاور یک بیک نرم پڑگیا ۔
”لڑکا ۔ بس ایک لڑکا بغیر بچے کے گھر سونا لگتا ہے یا حضرت تیس سال سے بچے کی آرزد ہے ۔“ ”تیس سال! تمہاری عمر کیا ہے !“مجاور اسے گھورنے لگا !
”پچیس سال !“
”بھاگو! مجھے لونڈا بناتے ہو ! ابھی بھسم کردوں گا ….“ ”آپ غلط سمجھے یا حضرت !میں اپنے باپ کے لئے کہہ رہا تھا ….“دوسری شادی کرنے لگے ہےں !“
”جاتے ہویا ….“مجاور اٹھتا ہوا بولا۔
”سرکار ….“عمران ہاتھ جوڑ کرسعادت مندانہ لہجے میں بولا ۔”پولیس آپ کو بے حد پریشان کرنے والی ہے ۔“ ”بھاگ جاو پولیس والے گدھے ہیں !وہ فقیر کی بگاڑیں گے !“
”فقیر کے زیر سایہ دو خون ہوئے ہیں“۔
”ہوئے ہوں گے ! پولیس جج صاحب کی لڑکی سے کیوں نہیں پوچھتی کہ وہ ایک مسٹنڈے کو لے کر یہاں کیوں آئی تھی ۔“ ”یا حضرت پولیس واقعی گدھی ہے !آپ ہی کچھ رہنمائی فرمائیے ۔“
”تم خفیہ پولیس مین ہو۔“
”نہیں سرکار میں ایک اخبار کانامہ نگار ہوں ۔ کوئی نئی خبر مل جائے گی تو پیٹ بھرے گا۔“ ”ہاں اچھا بیٹھ جاو ۔ میں اسے برداشت نہیں کرسکتا کہ وہ مکان جہاں ایک بزرگ کا مزار ہے ۔ بدکاری کا اڈہ بنے پولیس کو چاہیے کہ اس کی روک تھام کرے۔“
”یا حضرت میں بالکل نہیں سمجھا ۔“عمران مایوسی سے بولا ۔
”میں سمجھتا ہوں ۔“مجاور اپنی سرخ سرخ آنکھیں پھاڑ کر بولا۔”چودہ تاریخ کو جج صاحب کی لونڈیا اپنے ایک یار کو لے کر یہاں آئی تھی ….اور گھنٹوں اندر رہی !“ ”آپ نے اعتراض نہیں کیا ….میں ہوتا تو دونوں کے سر پھاڑ دیتا ۔ توبہ توبہ اتنے بڑے بزرگ کے مزار پر ….“عمران اپنا منہ پیٹنے لگا !
”بس خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا تھا ….کیا کروں ! میرے مرشد یہ مکان ان لوگوں کو دے گئے ہیں ورنہ بتا دیتا ۔“
”آپ کے مرشد ؟“ ”ہاں ….حضرت ایاز رحمة اللہ علیہ ! وہ میرے پیر تھے اس مکان کا یہ کمرہ مجھے دے گئے ہیں ۔تاکہ مزار شریف کی دیکھ بھال کرتارہوں ۔
”ایاز صاحب کامزار شریف کہاں ہے ۔“عمران نے پوچھا۔
”قبرستان میں….ان کی تووصیت تھی کہ میری قبر برابر کردیجائے ۔ کوئی نشان نہ رکھا جائے ۔“ ”تو جج صاحب کی لڑکی کو پہچانتے ہیں آپ!“
”ہاں پہچانتا ہوں ! وہ کانی ہے ۔“
”ہائے !“عمران نے سینے پر ہاتھ مارا ….اور مجاور اسے گھورنے لگا ۔ ”اچھا حضرت !چودہ کی رات کو وہ یہاں آئی تھی اور سولہ کی صبح کو لاش پائی گئی ۔“
”ایک نہیں ابھی ہزروں ملیں گی ۔“مجاور کو جلال آگیا ”مزار شریف کی بے حرمتی ہے !“
”مگر سرکار !ممکن ہے کہ وہ اس کا بھائی رہا ہو!“ ”ہرگز نہیں جج صاحب کے کوئی لڑکا نہیں ہے ۔“
”تب تو پھر معاملہ ….ہپ !“عمران اپنا داہنا کان کھجانے لگا !
عمران وہاں سے بھی چل پڑا وہ پھر قصبے کے اندر واپس جارہاتھا ۔ دو تین گھنٹہ تک وہ مختلف لوگوں سے پوچھ گچھ کرتارہا اور پھر شہر کی طرف روانہ ہوگیا ۔ کیپٹن فیاض کام میں مشغول تھا کہ اس کے پاس عمران کا پیغام پہنچا اس نے اس کے آفس کے قریب ہی ریستوران میں بلوابھیجا تھا ۔ فیاض نے وہا ںتک پہنچنے میں دیر نہیں لگائی عمران ایک خالی میز پر طبلہ بجا رہا تھا ۔ فیاض کو دیکھ کر احمقوں کی طرح مسکرایا۔
”کوئی نئی بات ؟“فیاض نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔
”میر تقر میرغالب تخلص کرتے تھے !“ ”یہ اطلاع تم بذریعہ ڈاک بھی دے سکتے تھے ۔“فیاض چڑ کر بولا۔
”چودہ تاریخ کی رات کو وہ محبوبہ یک چشم کہاںتھی ؟“
”تم آخر اس کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو ۔“ ”پتہ لگا کر بتاو ….اگر وہ کہے کہ اس نے اپنی وہ رات اپنی کسی خالہ کے ساتھ بسر کی تو تمہارافرض ہے کہ اس خالہ سے اس بات کی تحقیق کرکے ہمدرددواخانہ کو فوراً مطلع کردو ، ورنہ خط و کتابت صیغہ راز میں نہ رکھی جائے گی ۔ “
”عمران میں بہت مشغول ہوں!“
”میں بھی دیکھ رہا ہوں ! کیا آج کل تمہارے آفس میں مکھیوں کی کثرت ہوگئی ہے !کثرت سے یہ مراد نہیں کہ مکھیاں ڈنڈ پیلتی ہیں ۔“ ”میں جارہا ہوں ۔“فیاض جھنجھلا کر اٹھتا ہوا بولا۔
”ارے کیاتمہاری ناک پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں ۔“عمران نے اس کا ہاتھ پکڑکر بٹھاتے ہوئے کہا۔
فیاض اسے گھورتا ہوا بیٹھ گیا ! وہ سچ مچ جھنجھلا گیا تھا ۔ ”تم آئے کیوں تھے ۔“اس نے پوچھا ۔
”اوہ ! یہ مجھے بھی یاد نہیں رہا! ….میرا خیال ہے شائد میں تم سے چاول کا بھاو پوچھنے آیا تھا ….مگر تم کہو گے کہ میں کوئی ناچنے والی تو ہو ںنہیں کہ بھاو بتاوں ….ویسے تمہیں یہ اطلاع دے سکتا ہوں کہ ان لاشوں کے سلسلے میں کہیں نہ کہیں محبوب یک چشم کاقدم ضرور ہے ….میں نے کوئی غلط لفظ تو نہیں بولا….ہاں!“
”اس کا قدم کس طرح !“فیاض یک بیک چونک پڑا ۔ ”انسائیکلو پیڈیا میں یہی لکھا ہے ۔“عمران سرہلا کر بولا ۔ ”بس یہ معلوم کرو کہ اس نے چودہ کی رات کہاںبسر کی !“
”کیا تم سنجیدہ ہو۔“
”اف فوہ! بے وقوف آدمی ہمیشہ سنجیدہ رہتے ہیں !“ ”اچھا میں معلوم کروں گا ۔“
”خدا تمہاری مادہ کو سلامت رکھے ۔ دوسری بات یہ کہ مجھے جج صاحب کے دوست ایاز کے مکمل حالات درکار ہیں وہ کون تھا کہاں پیدا ہوا تھا کس خاندان سے تعلق رکھتا تھا ۔ اس کے علاوہ دوسرے اعزہ کہاں رہتے ہیں ! سب مرگئے یا ابھی کچھ زندہ ہیں ۔“
”تو ایسا کرو !آج شام کی چائے میرے گھر پر پیﺅ ۔“فیاض بولا۔ ”اور اس وقت کی چائے ۔“عمران نے بڑے بھولے پن سے پوچھا
فیاض نے ہنس کر ویٹر کو چائے کا آرڈر دیا ….عمران الووں کی طرح دیدے پھر رہا تھا!وہ کچھ دیر بعد بولا۔
”کیا تم مجھے جج صاحب سے ملاو گے ۔“ ”ہاں میں تمہاری موجودگی میں ہی ان سے اس کے متعلق گفتگو کروں گا ۔“
”ہی….ہی….مجھے تو بڑی شرم آئے گی ۔ “عمران دانتوں تلے انگلی دبا کر دہرا ہوگیا۔
”کیوں ….کیوں بور کررہے ہو ….شرم کی کیا بات ہے ۔“ ”نہیں میں والد صاحب کو بھیج دوںگا ۔“
”کیا بک رہے ہو۔“
”میں براہ راست خود شادی نہیں طے کرنا چاہتا “ ”خدا مجھے سمجھے !ارے میں ایاز والی بات کررہا تھا۔“
”لاحول ولا قوة ۔“عمران نے جھینپ جانے کی ایکٹنگ کی ۔
”عمران آدمی بنو۔“ ”اچھا !“عمران نے بڑی سعادت مندی سے سرہلایا
چائے آگئی تھی ….فیاض کچھ سوچ رہا تھا ! کبھی بھی وہ عمران کی طرف بھی دیکھ لیتا تھا جو اپنے سامنے والی دیوار پرلگے ہوئے آئینے میں دیکھ دیکھ کر منہ بنا رہا تھا ۔ فیاض نے چائے بنا کر پیالی اس کے آگے کھسکا دی ۔
”یار فیاض !….وہ شہید مرد کی قبر والا مجاور بڑا گریٹ آدمی معلوم ہوتا ہے “عمران بولا ۔ ”کیوں؟“
”اس نے ایک بڑی گریٹ بات کہی تھی ۔“
”کیا….!“ ”یہی کہ پولیس والے گدھے ہیں ۔“
”کیوں کہا تھا اس نے۔“فیاض چونک کر بولا
”پتا نہیں ، لیکن اس نے بات بڑے پتے کی کہی تھی۔“ ”تم خواہ مخواہ گالیاں دینے پر تلے ہوئے ہو۔“
”نہیں پیارے !اچھا تم یہ بتاو وہاں قبرکس نے بنائی تھی اور اس کمرے کے پلاسٹر کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ۔“
”میں فضولیات میں سر نہیں کھپاتا !“فیاض چڑ کر بولا۔”اس معاملہ سے ان کا کیا تعلق ۔“ ”تب تو کسی اجنبی کی لاش کا وہاں پایا جانا بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا “عمران نے کہا ۔
”آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو ۔ “فیاض جھنجھلا کر بولا۔
”یہ کہ نیک بچے صبح اٹھ کر اپنے بڑوں کو سلام کرتے ہیں ۔ پھر ہاتھ منہ دھو کر ناشتہ کرتے ہیں….پھر سکول چلے جاتے ہیں کتاب کھول کر الف سے الو!ب سے بندر ….پے سے پتنگ ….!“ ”عمران خدا کے لئے! “فیاض ہاتھ اٹھا کر بولا۔
”اور خدا کو ہر وقت یاد رکھتے ہیں ۔“
”بکے جاو۔“ ”چلوخاموش ہوگیا ۔ ایک خاموشی ہزار بلائیں ٹالتی ہے ….ہائیں کیا ٹلائیں ….لاحول ولا قوة ….میں نے ابھی کیا کہا تھا ؟“
”اپنا سر“۔
” ہے!“ ”بھئی یہ بات تو کسی طرح میرے حلق سے نہیں اترتی ! سنا میں نے بھی ہے “جج صاحب بولے !“اس کی موت کے بعد قصبے کے کچھ معزز لوگوں سے ملا بھی تھا انہوں نے بھی یہی خیال ظاہر کیا تھا کہ وہ کوئی پہنچا ہوا آدمی تھا ۔ لیکن میں نہیں سمجھتا ۔ اس کی شخصیت پراسرار ضرور تھی ….مگر ان معنوں میں نہیں !“
”اس کے نوکر کے متعلق کیا خیال ہے جو قبر کی مجاوری کرتا ہے ۔“فیاض نے پوچھا ۔
”وہ بھی ایک پہنچے ہوئے بزرگ ہیں ۔ “عمران تڑ سے بولا۔اور جج صاحب پھر اسے گھورنے لگے لیکن اس بار بھی انہوں نے اس کے متعلق کچھ نہیں پوچھا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: