Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 9

0

خوفناک عمارت از ابن صفی قسط نمبر 09

”کیا وصیت نامے میں یہ بات ظاہرکردی گئی ہے کہ قبر کا مجاور عمارت کے بیرونی کمرے پر قابض رہے گا ۔“فیاض نے جج صاحب سے پوچھا ۔
”جی ہاں ! قطعی !“جج صاحب نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا ۔بہتر ہوگا کہ ہم دوسری باتیں کریںاس عمارت سے میرا بس اتنا ہی تعلق ہے کہ میں قانونی طور پر اس کا مالک ہوں ۔ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ میرے گھر کے کسی فرد نے آج تک اس میں قیام نہیں کیا ۔“ ”کوئی بھی ادھر گیا بھی نہ ہوگا !“ فیاض نے کہا ۔
”بھئی کیوں نہیں !شروع میں تو سب ہی کو اسکو دیکھنے کا اشتیاق تھا ! ظاہر ہے کہ وہ ایک حیرت انگیز طریقے سے ہماری ملکیت میں آئی تھی “
”ایاز صاحب کے جنازے پر نور کی بارش ہوئی تھی ۔“عمران نے پھر ٹکڑا لگایا ۔ ”مجھے پتہ نہیں ۔“جج صاحب بیزاری سے بولے ۔”میں اس وقت وہاں پہنچا تھا جب وہ دفن کیا جاچکا تھا ۔“
”میرا خیال ہے کہ وہ عمارت آسیب زدہ ہے ۔“فیاض نے کہا ۔
”ہوسکتا ہے !کاش وہ میری ملکیت نہ ہوتی ! کیا اب آپ لوگ مجھے اجازت دیں گے ۔“ ”معاف کیجئے گا ۔ “فیاض اٹھتاہوا بولا ۔”آپ کو بہت تکلیف دی مگر معاملہ ہی ایسا ہے ۔“
فیاض اورعمران باہر نکلے !فیاض اس پر جھلایا ہوا تھا ۔باہر آتے ہی برس پڑا ۔
”تم ہر جگہ اپنے گدھے پن کا ثبوت دینے لگتے ہو۔“ ”اور میں یہ سوچ رہا ہوں کہ تمہیں گولی ماردوں۔ “عمران بولا۔
”کیوں میں نے کیا کیا ہے ؟“
”تم نے یہ کیوں نہیں پوچھا کہ محبوبہ یک چشم ،چودہ تاریخ کی رات کو کہاں تھی ۔ “ ”کیوں بور کرتے ہو!میرا موڈٹھیک نہیں ہے ۔“
”خیر مجھے کیا میں خود ہی پوچھ لوں گا ۔“عمران نے کہا ”سر جہانگیر کو جانتے ہو۔“
”ہاں کیوں ؟“ ”وہ میرا رقیب ہے ۔“
”ہوگا تو میں کیا کروں ۔“
”کسی طرح پتہ لگاو کہ وہ آج کل کہاں ہے“۔ ”میراوقت برباد نہ کرو۔“فیاض جھنجھلا گیا۔
’تب پھر تم نے بھی وہیں جاو جہاں شیطان قیامت کے دن جائے گا ۔“عمران نے کہا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا جج صاحب کے گیراج کی طرف چلا گیا ۔ یہاں سے رابعہ باہر جانے کے لئے کار نکال رہی تھی ۔
”مس سلیم “عمران کھنکار کر بولا۔ ”شائد ہمارا تعارف پہلے بھی ہوچکا ہے ۔“ ”اوہ جی ہاں جی ہاں۔“رابعہ جلدی سے بولی۔
”کیا آپ مجھے لفٹ دینا پسند کریں گی ۔“
”شوق سے آئیے ….!“ رابعہ خود ڈرائیور کررہی تھی !عمران شکریہ ادا کرکے اس کے برابر بیٹھ گیا ۔
”کہاں اترئیے گا ۔“رابعہ نے پوچھا ۔
”سچ پوچھئے تو میں اترنا ہی نہ چاہوں گا “ رابعہ صرف مسکرا کر رہ گئی ۔ اس وقت اس نے ایک مصنوعی آنکھ لگا رکھی تھی ۔ اس لئے آنکھوں پر عینک نہیں تھی ۔
فیاض کی بیوی نے اسے عمران کے متعلق بہت کچھ بتایا تھا ۔ اس لئے وہ اسے عاشق سمجھنے کے لئے تیار نہیں تھی….!
”کیا آپ کچھ ناراض ہیں ۔“عمران نے تھوڑی دیر بعد پوچھا ۔ ”جی !“رابعہ چونک پڑی ۔”نہیں تو۔“….پھر ہنسنے لگی ۔
”میں نے کہا شائد مجھ سے لوگ عموماً ناراض رہا کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ میں انہیں خواہ مخواہ غصہ دلادیتا ہوں۔“
”تب تو یہ میری خوش قسمتی ہے ۔“عمران نے کہا ۔ ویسے اگر میں کوشش کروں تو آپ کو غصہ دلاسکتا ہوں ۔“ رابعہ پھر ہنسنے لگی !”کیجئے کوشش!“اس نے کہا ۔
”اچھا تو آپ شاید یہ سمجھتی ہوں کہ یہ ناممکن ہے ۔ “عمران نے احمقوں کی طرح ہنس کرکہا ۔
”میں تو یہی سمجھتی ہوں ۔ مجھے غصہ کبھی نہیں آتا ۔“ ”اچھا تو سنبھلئے !“عمران نے اطرح کہا جیسے ایک شمشیر زن کسی دوسرے شمشیرزن کو للکارتا ہوا کسی گھٹیاسی فلم میں دیکھا جاسکتا ہے ۔
رابعہ کچھ نہ بولی ۔ وہ کچھ بورسی ہونے لگی تھی ۔
”آپ چودہ تاریخ کی رات کو کہاں تھیں ۔ “عمران نے اچانک پوچھا ۔ ”جی….“رابعہ بے اختیار چونک پڑی ۔
”اوہ !اسٹیرنگ سنبھالئے ! کہیں کوئی ایکسیڈنٹ نہ ہوجائے !“عمران بولا ”دیکھئے میں نے آپ کو غصہ دلادیا نا ۔ “پھر اس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور اپنی ران پیٹنے لگا ۔
رابعہ کی سانس پھولنے لگی تھی اور اس کے ہاتھ اسٹیرنگ پرکانپ رہے تھے ۔ ”دیکھئے ۔“اس نے بانپتے ہوئے کہا ۔”مجھے جلدی ہے ….واپس جانا ہوگا….آپ کہاں اتریںگے ۔“
”آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا ۔“عمران پر سکون لہجے میں بولا۔
”آپ سے مطلب !آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے“۔ ”دیکھا….آگیا غصہ ! ویسے یہ بات بہت اہم ہے اگر پولیس کے کانوں تک جاپہنچی تو زحمت ہوگی!ممکن ہے میں کوئی ایسی کارروائی کرسکوں جس کی بناءپر پولیس یہ سوال ہی نہ اٹھائے ۔“
”رابعہ کچھ نہ بولی وہ اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی ۔“
”میں یہ بھی نہ پوچھوں گا کہ آپ کہاں تھیں ۔“عمران نے پھر کہا ۔”کیونکہ مجھے معلوم ہے مجھے آپ صرف اتنا بتا دیجئے کہ آپ کے ساتھ کون تھا ؟“ ”مجھے پیاس لگ رہی ہے ۔“رابعہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی ۔
”اوہو! تو روکئے ….کیفے نبراس کا نزدیک ہی ہے ۔“
کچھ آگے چل کر رابعہ نے کار کھڑی کردی اور وہ دونوں اتر کر فٹ پاتھ سے گزرتے ہوئے کیفے نبر اس کا میں چلے گئے ۔ عمران نے ایک خالی گوشہ منتخب کیا ! اور وہ بیٹھ گئے !….چائے سے پہلے عمران نے ایک گلاس ٹھنڈے پانی کے لئے کہا ۔
”مجھے یقین ہے کہ واپسی میں کنجی اس کے پاس رہ گئی ہوگی ۔ “عمران نے کہا۔
”کس کے پاس ؟“رابعہ پھر چونک پڑی ۔ ”فکر نہ کیجئے ! مجھے یقین ہے کہ اسنے آپ کو اپنا صحیح نام اور پتہ ہرگز نہ بتایا ہوگا اور کنجی واپس کردینے کے بعد سے اب تک ملا بھی نہ ہوگا ۔“
رابعہ بالکل نڈھال ہوگئی اسنے مردہ سی آواز میں کہا ۔”پھر اب آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں ۔“
”آپ اس سے کب اور کن حالات میں ملی تھیں ۔“ ”اب سے وہ ماہ پیشتر!“
”کہاں ملا تھا ۔“
”ایک تقریب میں ! مجھے یہ یاد نہیں کہ کس نے تعارف کرایا تھا ۔“ ”تقریب کہاں تھی ۔“
”شائد سرجہانگیر کی سالگرہ کا موقع تھا ۔“
”اوہ!“….عمران کچھ سوچنے لگا ۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا ۔ ”کنجی آپ کو اس نے کب واپس کی تھی ۔“ ”پندرہ کی شام کو۔“
”اور سولہ کی صبح کو لاش پائی گئی ۔“عمران نے کہا
”رابعہ بری طرح ہانپنے لگی ۔ وہ چائے کی پیالی میز پر رکھ کر کرسی کی پشت سے ٹک گئی ۔ اس کی حالت باز کے پنجے میں پھنسی ہوئی کسی ننھی منی چڑیا سے مشابہ تھی ۔“ ”پندرہ کے دن بھر کنجی اس کے پاس رہی ! اس نے اس کی ایک نقل تیار کراکے کنجی آپ کو واپس کردی ! اس کے بعد پھر وہ آپ سے نہیں ملا ۔غلط کہہ رہا ہوں ؟“
”ٹھیک ہے ۔“وہ آہستہ سے بولی۔”وہ مجھ سے کہا کرتا تھا کہ وہ ایک سیاح ہے !“
”جعفر یہ ہوٹل میں قیام پذیر ہے ….لیکن پرسوں میں وہاں گئی تھی….“ وہ خاموش ہوگئی ۔ اس پر عمران نے سر ہلا کر کہا ۔”اور آپ کو وہاں معلوم ہوا کہ اس نام کا کوئی آدمی وہاں کبھی ٹھہر اہی نہیں“۔
”جی ہاں ۔“رابعہ سرجھکا کر بولی۔
”آپ سے اس کی دوستی کا مقصدمحض اتنا ہی تھا کہ وہ کسی طرح آپ سے اس عمارت کی کنجی ٹپ ٹاپ نائٹ کلب میں !“ ”لیڈی جہانگیر سے اس کے تعلقات کیسے تھے ۔“
”لیڈی جہانگیر ….“رابعہ چڑ کر بولی ۔”آخر ان معاملات میں آپ ان کا نام کیوں لے رہے ہیں ۔“
”کیا آپ میرے سوال کا جواب نہ دیں گی ؟“عمران نے بڑی شرافت سے پوچھا ۔ ”نہیں !میرا خیال ہے کہ میں نے ان دونوں کو کبھی نہیں ملتے دیکھا ۔“
”شکریہ !“اب میں اس کا نام نہیں پوچھوں گا !ظاہر ہے کہ اس نے نام بھی صحیح نہ بتایا ہوگا ….لیکن اگر آپ اس کا حلیہ بتا سکیں تو مشکور ہونگا ۔“
رابعہ کو بتانا ہی پڑا ۔ لیکن وہ بہت زیادہ مغموم تھی اور ساتھ ہی ساتھ خائف بھی۔ عمران فٹ پاتھ پر تنہا کھڑا تھا ! ….رابعہ کی کار جاچکی تھی ۔ اس نے جیب سے ایک چیونگم نکالی اور منہ میں ڈال کر دانتوں سے اسے کچلنے لگا ….غوروفکرکے عالم میں چیونگم اس کا بہترین رفیق ثابت ہوتا تھا ….جاسوسی ناولوں کے سراغر سانوں کی طرح نہ اسے سگار سے دلچسپی تھی اور نہ پائپ سے ! شراب بھی نہیں پیتا تھا ۔
اس کے ‘ذہن میں اس وقت کئی سوال تھے اور وہ فٹ پاتھ کے کنارے پر اس طرح کھڑا ہوا تھا جیسے سڑک پار کرنے کا ارادہ رکھتا ہو ….مگر یہ حقیقت تھی کہ اس کے ذہن میں اس قسم کا کوئی خیال نہیں تھا ۔
وہ سوچ رہا تھا کہ ان معاملات سے سرجہانگیر کا تعلق ہوسکتا ہے دوسری لاش کے قریب اسے کاغذ کا جو ٹکڑا ملا تھا وہ سرجہانگیر ہی کے رائٹنگ پیڈ کا تھا ۔ رابعہ سے پراسرار نوجوان کی ملاقت بھی سرجہانگیر ہی کے یہاں ہوئی تھی …. اور لیڈی جہانگیر نے جس خوبصورت نوجوان کا تذکرہ کیا تھا وہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوسکتا تھا ….لیکن لیڈی جہانگیر بھی اس سے واقف نہیں تھی ۔ لیڈی جہانگیر کی یہ بات بھی سچ تھی کہ اگر وہ شہر کے کسی ذی حیثیت خاندان کا فرد ہوتا تو لیڈی جہانگیر اس سے ضرور واقف ہوتی ! فرض کیا کہ اگر لیڈی جہانگیر بھی کسی سازش میں شریک تھی تو اس نے اس کا تذکرہ عمران سے کیوں کیا ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اس کی دوسری زندگی سے واقف نہ رہی ہو لیکن پھر بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے تذکرہ کیا ہی کیوں ؟وہ کوئی فایسی اہم بات تھی ! سینکڑوں نوجوان لڑکیوں کے چکر میں رہے ہوں گے ۔ چاہے وہ پانی بھرنے کے مشکیزے سے بھی بدتر کیوں نہ ہوں ! پھر ایک سوال اس کے ذہن میں اور ابھرا !آخر اس مجاور نے پولیس کو رابعہ کے متعلق کیوں نہیں بتایا تھا ….قبر اور لاش کے متعلق تو اس نے سوچنا ہی چھوڑ دیا تھا ۔فکر اس بات کی تھی کہ وہ لوگ کون ہیں اور اس مکان میں کیوں دلچسپی لے رہے ہیں اگر وہ سرجہانگیر ہی ہے تو اس کا اس عمارت سے کیا تعلق؟….سرجہانگیر سے وہ اچھی طرح واقف تھا لیکن یوں بھی نہیں کہ اس پر کسی قسم کا شبہ کرسکتا ۔سرجہانگیر شہر کے معززترین لوگوں میں تھا ۔ نہ صرف معزز بلکہ نیک نام بھی ! تھوڑی دیر بعد عمران سڑک پار کرنے کا ارادہ کرہی رہا تھا کہ رکتی ہوئی اکر اس کی راہ میں حائل ہوگئی ۔ یہ رابعہ ہی کی کارتھی ۔
”خدا کا شکر ہے کہ آپ مل گئے ۔“اس نے کھڑکی سے سرنکال کر کہا ۔
”میں جانتا تھا کہ آ پکو پھر میری ضرورت محسوس ہوگی !“عمران نے کہااور کار کادروازہ کھول کر رابعہ کے برابر بیٹھ گیا !….کار پھر چل پڑی ۔ ”خدا کے لئے مجھے بچھائیے ۔“رابعہ نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا ۔ ”میں ڈوب رہی ہوں!“
”تو کیا آپ مجھے تنکا سمجھتی ہیں ۔ “عمران نے قہقہہ لگایا ۔
”خدا کے لئے کچھ کیجئے ۔ اگر ڈیڈی کو اس کا علم ہوگیا تو….؟“ ”نہیں ہونے پائے گا۔“عمران نے سنجیدگی سے کہا ۔ ”آپ لوگ مردوں کے دوش بدوش جھک مارنے میدان میں نکلی ہیں ….مجھے خوشی ہے ….لیکن آپ نہیں جانتیں کہ مرد ہر میدان میں آ پکو الو بناتا ہے ….ویسے معاف کیجئے مجھے نہیں معلوم کہ الو کی مادہ کو کیا کہتے ہیں ۔“
رابعہ کچھ نہ بولی اورعمران کہتا رہا ۔ ”خیر بھول جائیے اس بات کو میں کوشش کروں گا کہ اس ڈرامے میں آپ کا نام نہ آنے پائے ! اب تو آپ مطمئن ہیں نا….گاڑی روکئے ….اچھا ٹاٹا….“
”ارے !“رابعہ کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی اور اس نے پورے بریک لگادیئے ۔ ”کیا ہوا!“عمران گھبرا کر چاروں طرف دیکھنے لگا ۔
”وہی ہے ۔“رابعہ بڑبڑائی ۔”اترئیے ….میں اسے بتاتی ہوں ۔“
”کون ہے ۔ کیا بات ہے ۔“ ”وہی جس نے مجھے اس مصیبت میں پھنسایا ہے ۔“
”کہاں ہے ۔“
”وہ …. اس بار میں ابھی ابھی گیا ہے وہی ، وہی تھا ….چمڑے کی جیکٹ اورکتھئی پتلون میں ….“ ”اچھا تو آپ جائیے ! میں دیکھ لوں گا !“
”نہیں میں بھی ….“

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: