Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Last Episode 13

0

خوفناک عمارت از ابن صفی آخری قسط نمبر 13

”شٹ اپ “بوڑھا حلق کے بل چیخا۔ ”تم گدھے ہو۔ تمہاری بدولت….“
”جناب میں کیا کرتا میں اسے وہاں کیسے کھول سکتا تھا اس کا بھی تو خیال تھا کہ کہیں پولیس نہ لگی ہو ۔“ ”بکواس مت کرو پہلے ہی اطمےنان کر چکا تھا وہاں پولیس کا کوئی آدمی نہیں تھا کیا تم مجھے معمولی آدمی سمجھتے ہو ۔ اب اس لونڈے کی موت آگئی ہے ۔ارے تم گاڑی روک دو۔ “کاررک گئی ۔
بوڑھا تھوڑی دیر تک سوچتا رہا پھر بولا۔
”کلب میں اس کے ساتھ اور کون تھا۔“ ”ایک خوبصورت سی عورت اور دونوں شراب پی رہے تھے ۔“
”غلط ہے !عمران شراب نہیں پیتا۔“
”پی رہا تھا جناب۔“ بوڑھا پھرکسی سوچ میں پڑ گیا۔
” چلو! واپس چلو ۔ “وہ کچھ دیر بعد بولا ۔ ”میں اسے وہیں کلب میں مارڈالوں گا ۔“کارپھر شہر کی طرف مڑی۔
”میرا ‘خیال ہے کہ وہ اب تک مر چکا ہوگا ۔‘بوڑھے کے قریب بیٹھے ہوئے آدمی نے کہا ۔ ”نہیں !وہ تمہاری طرح احمق نہیں ہے !“بوڑھا جھنجھلا کر بولا۔”اس نے ہمیں دھوکا دیا ہے تو خود بھی غافل نہ ہوگا۔“
”تب تو وہ کلب ہی سے چلا گیا ہوگا۔“
”بحث مت کرو۔“بوڑھے نے گرج کر کہا ۔”میں اسے ڈھونڈ کرماروں گا ۔ خواہ وہ اپنے گھر ہی میں کیوں نہ ہو۔“ عمران چند لمحے بیٹھا رہا پھر اٹھ کر تیزی سے وہ بھی باہر نکلا اور اس نے کمپاونڈ کے باہر ایک کار کے اسٹارٹ ہونے کی آواز سنی ! وہ پھر اندر واپس آگیا ۔
”کہاں بھاگتے پھررہے ہو ۔“لیڈی جہانگیر نے پوچھا اس کی آنکھیں نشے سے بوجھل ہورہی تھیں۔
”ذرا کھانا ہضم کررہا ہوں ۔“عمران نے اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا….لیڈی جہانگیر منہ بند کرکے ہنسنے لگی عمران کی نظریں بدستور گھڑی پر جمی رہیں ….وہ پھر اٹھا اب وہ ٹیلیفون بوتھ کی طرف جارہا تھا۔ اس نے ریسیور اٹھا کر نمبر ڈائل کئے اور ماوتھ پیس میں بولا۔
”ہیلو سو پرفیاض ….میں عمران بو ل رہا ہوں ….بس اب روانہ ہوجاو ۔“
ریسیور رکھ کر وہ پھر ہال میں چلا آیا لیکن وہ اس بار لیڈی جہانگیر کے پاس نہیں بیٹھا تھا ۔ چندلمحے کھڑا ادھر ادھر دیکھتا رہا پھر ایک ایسی میز پر جابیٹھا جہاں تین آدمی پہلے ہی سے بیٹھے تھے اور یہ تینوں اس کے شناسا تھے اس لئے انہوں نے برا نہیں مانا ۔ شائد پندرہ منٹ تک عمران ان کے ساتھ قہقہے لگاتا رہا لیکن اس دوران بار بار ا س کی نظر داخلے کے دروازے کی طرف اٹھ جاتی تھیں ۔
اچانک اسے دروازے میں وہ بوڑھا دکھائی دیا جس سے اس نے چند روز قبل کاغذات والا ہینڈ بیگ چھینا تھا ۔ عمران اورزیادہ انہماک سے گفتگو کرنے لگالیکن تھوڑی دہی دیر بعد اس نے اپنے داہنے شانے میں کسی چیز کی چبھن محسوس کی اس نے کنکھیوں سے داہنی طرف دیکھا ! بوڑھا اس سے لگا ہوا کھڑا تھا اور اس کا بایاں ہاتھ کوٹ کی جیب میں تھا اور اسی جیب میں رکھی ہوئی کوئی سخت چیز عمران کے شانے میں چبھ رہی تھی ! عمران کو یہ سمجھنے میں دشواری نہ ہوئی کہ وہ ریوالور کی نالی ہی ہوسکتی ہے ۔
”عمران صاحب !“بوڑھا بڑی خوش اخلاقی سے بولا۔”کیا آپ چند منٹ کے لئے باہر تشریف لے چلیں گے ۔“ ”آہا! چچا جان !“عمران چہک کر بولا۔”ضرور ضرور ! مگر مجھے آپ سے شکایت ہے اس نے آپ کو بھی شکایت نہ ہونی چاہیے ۔“
”آپ چلئے تو“بوڑھے نے مسکرا کر کہا ۔”مجھے اس گدھے کی حرکت پر افسوس ہے ۔“
عمران کھڑا ہوگیا ! لیکن اب ریوالور کی نال اس کے پہلو میں چبھ رہی تھی ۔ وہ دونوں باہر آئے ….پھر جیسے ہی وہ پارک میں پہنچے بوڑھے کے دونوں ساتھی بھی پہنچ گئے ۔ ”کاغذات کہاں ہیں ۔ “بوڑھے نے عمران کا کالر پکڑ کرجھنجھوڑتے ہوئے کہا ۔ پارک میں سناٹا تھا ۔ دفعتاً عمران نے بوڑھے کا بایاں ہاتھ پکڑ کر ٹھوڑی کے نیچے ایک زوردار گھونسا رسید کیا ۔ بوڑھے کا ریوالور عمران کے ہاتھ میں تھا اور بوڑھا لڑکھڑا کر گرنے ہی والا تھا کہ اس کے ساتھیوں نے اسے سنبھال لیا ۔ ”میں کہتا ہوں وہ دس ہزارکہاں ہیں ۔“عمران نے چیخ کر کہا۔
اچانک مہندی کی باڑھ کے پیچھے آٹھ دس آدمی اچھل کر ان تینوں پر آپڑے اورپھر ایک خطرناک جدوجہد کا آغاز ہوگیا ۔ وہ تینوں بڑی بے جگری سے لڑرہے تھے ۔
”سو پر فیاض ۔“عمران نے چیخ کر کہا ”ڈاڑھی والا۔“ لیکن ڈاڑھی والااچھل کر بھاگا ۔وہ مہندی کی باڑھ پھلانگنے ہی والا تھا کہ عمران کے ریوالور سے شعلہ نکلا گولی ٹانگ میں لگی اور بوڑھا مہندی کی باڑھ میں پھنس کررہ گیا ۔
”ارے با پ رے باپ “عمران ریوالور پھینک کر اپنا منہ پیٹنے لگا ۔
وہ دونوں پکڑے جاچکے تھے ! فیاض زخمی بوڑھے کی طرف جھپٹا جو اب بھی بھاگ نکلنے کے لئے جدوجہد کررہا تھا ….فیاض نے ٹانگ پکڑ کر مہندی کی باڑھ سے گھسیٹ لیا۔ ”یہ کون ؟“فیاض نے اس کے چہرے پر روشنی ڈالی ۔ فائر کی آو از سن کر پارک میں بہت سے لوگ اکٹھے ہوگئے تھے ۔
بوڑھا بے ہوش نہیں ہوا تھا وہ کسی زخمی سانپ کی طرح بل کھارہاتھا ۔ عمران نے جھک کر اس کی مصنوعی ڈاڑھی نوچ ڈالی ۔
”ہائیں!“فیاض تقریباً چچیخ پڑا ۔ ”سر جہانگیر !“ ”جہانگیر نے پھراٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی لیکن عمران کی ٹھوکرنے اسے باز رکھا ۔“
”ہاں سر جہانگیر !“عمران بڑبڑایا ۔ ”ایک غیر ملک کا جاسوس …. قوم فروش غدار….“
دوسرے دن کیپٹن فیاض عمران کے کمرے میں بیٹھا اسے تحیر آمیز نظروں سے گھورہا تھا اور عمران بڑی سنجیدگی سے کہہ رہا تھا ۔”مجھے خوشی ہے کہ ایک بڑا غدار اور وطن فروش میرے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا ۔ بھلا کون سوچ سکتا تھا کہ سر جہانگیر جیسا معزز اور نیک نام آدمی بھی کسی غیر ملک کا جاسوس ہوسکتا ہے ۔“ ”مگر وہ قبر کا مجاور کون تھا ۔“فیاض نے بے صبری سے پوچھا۔
”میں بتاتا ہوں ۔ لیکن درمیان میں ٹوکنا مت….وہ بے چارہ اکیلے ہی یہ مرحَلہ طے کرنا چاہتا تھا لیکن میں نے اس کا کھیل بگاڑ دیا ….پچھلی رات وہ مجھے ملا تھا …. اس نے پوری داستان دہرائی….اور اب شائد ہمیشہ کے لئے روپوش ہوگیا ہے ۔اسے بڑی زبردست شکست ہوئی ہے ۔ اب وہ کسی کو منہ نہیں دکھانا چاہتا ۔“
”مگر وہ ہے کون؟“ ”ایاز !….چونکو نہیں میں بتا تا ہوں !….یہی ایاز وہ آدمی تھا جو فارن آفس کے سیکرٹری کے ساتھ کاغذات سمیت سفر کررہا تھا ! آدھے کاغذات اس کے پاس تھے اور آدھے سیکرٹری کے پاس ! ان پر ڈاکہ پڑا ۔ سیکرٹری مارا گیا اورایاز کسی طرح بچ گیا ۔ مجرموں کے ہاتھ صرف آدھے کاغذات لگے ! ایاز فارن آفس کی سیکرٹ سروس کا آدمی تھا ۔ وہ بچ گیا ۔ لیکن اس نے آفس کو رپورٹ نہیں دی ! وہ دراصل اپنے زمانے کا مانا ہوا آدمی تھا اس لئے اس شکست نے اسے مجبور کردیا کہ وہ مجرموں سے آدھے کاغذات وصول کئے بغیر آفس میں نہ پیش ہو ۔ وہ جانتا تھا کہ آدھے کاغذات مجرموں کے کسی کام کے نہیں ! وہ بقیہ آدھے کاغذات کے لئے اسے ضرور تلاش کریں گے ۔ کچھ دنوں کے بعد اس نے مجرموں کا پتہ لگالیا ۔ لیکن ان کے سرغنہ کا سراغ نہ مل سکا ! وہ حقیقتاً سرغنہ ہی کو پکڑنا چاہتا تھا !….دن گزرتے گئے لیکن ایاز کو کامیابی نہ ہوئی پھر اس نے ایک نیاجال بچھایا!۔
اس نے وہ عمارت خریدلی اور اس میں اپنے ایک وفادار نوکر کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگا ۔ اس دوران میں اس نے اپنی سکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک قبر دریافت کی اور وہ سارا میکنزم ترتیب دیا ۔ اچانک اسی زمانے میں اس کا نوکر بیمار ہوکر مرگیا ۔ ایاز کوایک دوسری ترکیب سوجھ گئی اس نے نوکر پر میک اپ کرکے اسے دفن کردیا اور اس کے بھیس میں رہنے لگا ! اس کارروائی سے پہلے اس نے وہ عمارت قانونی طور پر جج صاحب کے نام منتقل کردی اور صرف ایک کمرہ رہنے دیا !….اس کے بعد ہی اس نے مجرموں کو اس عمارت کی طرف متوجہ کرنا شروع کردیا ۔ کچھ ایسے طریقے اختیار کئے کہ مجرموں کو یقین ہوگیا کہ مرنے والا سیکرٹ سروس ہی کا آدمی تھا اور بقیہ کاغذات وہ اسی عمارت میں کہیں چھپا کر رکھ گیا ہے ۔ ابھی حال ہی میں ان لوگوں کی رسائی اس کمرے تک ہوئی جہاں ہم نے لاشیں پائیں ! دیوار والے خفیہ خانے میں سچ مچ کاغذات تھے !….اس کا اشارہ بھی انہیں ایاز قبر کے تعویذ کے نیچے سے ڈراﺅنی آوازیں نکالنے لگتا تھا اور دیوار کے قریب پہنچاہوا آدمی سہم کر دیوار سے چپک جاتا !….ادھر ایاز قبر کے اندر سے میکنزم کو حرکت میں لاتا اور دیوار سے تین چھریاں نکل کر اس کی پشت میں پیوست ہوجاتیں ….یہ سب اس نے محض سرغنہ کو پکڑنے کے لئے کیا تھا ….لیکن سرغنہ میرے ہاتھ لگا….اب ایاز شائد زندگی بھر اپنے متعلق کسی کو کوئی اطلاع نہ دے !اور کیپٹن فیاض ….میں نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ اس کا نام کیس کے دوران میں کہیں نہ آنے پائے گا ! سمجھے ! اور تمہیں میرے وعدے کا پاس کرنا پڑے گا !اور تم اپنی رپورٹ اس طرح مرتب کرو کہ اس میں ہیں محبوبہ یک چشم کا نام بھی نہ آنے پائے ۔
”وہ ٹھیک ہے ۔“فیاض جلدی سے بولا!”وہ دس ہزار روپے کہاں ہیں جو تم نے سرجہانگیر سے وصول کئے تھے۔“ ”ہاں ٹھیک ہے ۔“عمران اپنے دیدے پھر اکر بولا۔ ”آدھا آدھا بانٹ لیں کیوں !“
”بکواس ہے اسے میں سرکاری تحویل میں دوں گا “فیاض نے کہا ۔
”ہرگز نہیں !“عمران نے جھپٹ کر وہ چرمی ہینڈ بیگ میز سے اٹھا لیا جو اسے پچھلی رات سرجہانگیر کے ایک آدمی سے ملا تھا ۔ فیاض نے اس سے ہینڈ بیگ چھین لیا ….اور پھر وہ اسے کھولنے لگا ۔
”خبردار ہوشیار….“عمران نے چوکیداروں کی طرح ہانک لگائی لیکن فیاض ہینڈ بیگ کھول چکا تھا….اور پھر جو اس نے ”ارے باپ رے “کہہ کر چھلانگ لگائی ہے توایک صوفے ہی پر جاکر پناہ لی ۔ ہینڈ بیگ سے ایک سیاہ رنگ کا سانپ نکل کر فرش پر رینگ رہا تھا ۔
”ارے خدا تجھے غارت کرے عمران کے بچے ….کمینے!“فیاض صوفے پر کھڑا ہوکر دھاڑا ۔ سانپ پھن کاڑھ کر صوفے کی طرف لپکا فیاض نے چیخ مار کر دوسری کرسی پر چھلانگ لگائی ….کرسی الٹ گئی اور وہ منہ کے بل فرش پر گرا …. اس بار اگر عمران نے پھرتی سے اپنے جوتے کی ایڑی سانپ کے سرپ ر نہ رکھ دی ہوتی تو اس نے فیاض کو ڈس ہی لیا ہوتا ۔ سانپ کا بقیہ جسم عمران کی پنڈلی سے لپٹ گیا اور اسے ایسا محسوس ہونے لگا جیے پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ جائے گی ۔ اوپرسے فیاض اس پر گھونسوں اورتھپڑوں کی بارش کررہا تھا ۔ بڑی مشکل سے اس نے دونوں سے اپنا پیچھا چھڑایا ۔ ”تم ؒبالکل پاگل ہو….دیوانے….وحشی۔“فیاض ہانپتا ہوا بولا۔
”میں کیا کروں جان من ….خیر اب تم اسے سرکاری تحویل میں دے دو اگر کہیں میں رات کو ذرا سا بھی چوک گیا ہوتا تو اس نے مجھے اللہ میاں کی تحویل میں پہنچا دیا تھا !“
”کیا سرجہانگیر….؟ “
”ہاں ….ہم دونوں میں مینڈکوں اور سانپوں کا تبادلہ ہوا تھا !“عمران نے کہا اور مغموم انداز میں چیونگم چبانے لگا اورپھر اس کے چہرے پر وہی پرانی حماقت طاری ہوگئی ….!۔

Read More:  Jinnat Ka Ghulam Novel By Shahid Nazir Chaudhry Read Online – Episode 1

ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: